واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم "ایک نظر میں"

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-09-09, 12:17 PM   #1
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 36,971
شکریہ: 4,903
808 مراسلہ میں 1,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم "ایک نظر میں"

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم "ایک نظر میں"

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک طائرانا نظر


لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ .... الخ ” البتہ تحقیق رسول کریم کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے ۔ “ ( الاحزاب : 21 )

مذکورہ فرمان ربانی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سید المرسلین ، رحمۃ للعالمین ، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہی ہے جو تمام نوع انسان کیلئے ایک مکمل لائحہ عمل اور ضابطہ حیات ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ فرد کامل ہیں جن میں اللہ رب العزت نے وہ تمام اوصاف جاگزیں کئے ہیں جو انسانی زندگی کیلئے مکمل لائحہ عمل بن سکتے ہیں ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں اپنے رفعت کردار ، فاضلانہ وشیریں اخلاق اور کریمانہ عادات کے سبب سب سے ممتاز تھے ۔ مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بامروت ، سب سے زیادہ خوش اخلاق ، سب سے زیادہ معزز ہمسائے ، سب سے بڑھ کر دور اندیش ، سب سے زیادہ راست گو ، سب سے زیادہ نرم پہلو ، سب سے زیادہ پاک نفس ، سب سے زیادہ خیر اندیش ، سب سے زیادہ کریم ، سب سے زیادہ نیک ، سب سے بڑھ کر پابند عہد اور سب سے بڑے امانتدار تھے ۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب ہی امین رکھ دیا تھا ۔ اور ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ رضی اللہ عنہ کی صداقت و دیانتداری کو دیکھ کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی تھی ۔

اسی مختصر سے مضمون میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کا احاطہ بہت مشکل ہے ،
چنانچہ چند ایک پہلو ہی پیش کرتے ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن ، جوانی اور بڑھاپا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے ۔ اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن ہی سے بری محفلوں اور مناہی منکرات کے کاموں سے بچائے رکھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچپن کے ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اہل جاہلیت جو کام کرتے تھے مجھے دو دفعہ کے علاوہ کبھی ان کا خیال نہیں گزرا ۔ لیکن ان دونوں موقعوں میں سے بھی ہر بار اللہ تعالیٰ نے میرے اور اس کے کام کے درمیان رکاوٹ ڈال دی ۔ اس کے بعد مجھے کبھی ان کا خیال نہیں گزرا ، یہاں تک کہ اللہ نے مجھے پیغمبری سے مشرف فرمایا ۔ ہوا یہ کہ جو لڑکا میرے ساتھ بالائی مکہ میں بکریاں چرایا کرتا تھا ایک رات اس سے میں نے کہا کیوں نہ تم میری بکریاں دیکھو اور میں مکہ جا کر دوسرے جوانوں کی طرح وہاں کی قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کر لوں ، اس نے کہا ٹھیک ہے ۔ اس کے بعد میں نکلا ! ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ باجے کی آواز سنائی پڑی ، میں نے پوچھا کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا فلاں کی فلاں سے شادی ہے ۔ میں سننے بیٹھ گیا اور اللہ نے میرے کان بند کر دئیے اور میں سو گیا ۔ پھر سورج کی تمازت سے میری آنکھ کھلی اور میں اپنے ساتھی کے پاس آیا ۔ اس کے پوچھنے پر میں نے ساری تفصیلات بتائیں ۔ اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور مکہ پہنچا تو پھر اسی طرح کا واقعہ پیش آیا ۔ اور اس کے بعد کبھی ایسا نہ ہوا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( الرحیق المختوم ص114, 15 )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کی اجمالی سیرت کا ایک پہلو دیکھئے اور اندازہ کیجئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت کیسی تھی ۔ لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک جب چالیس برس کی ہو چلی اور اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اب تک کے تاملات نے قوم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہنی اور فکری فاصلہ بہت وسیع کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی محبوب ہو گئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ستو اور پانی لے کر مکہ سے دو میل دور کوہ حرا کے ایک غار میں جا رہتے اور اللہ کی عبادت کرتے ، اور کائنات کے مشاھد اور اس کے پیچھے کار فرما قدرت نادرہ پر غور فرماتے ۔ اور پھر جب اللہ نے نبوت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے زیادہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو گئے ۔ صحیح بخاری میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کو تہجد کی نماز میں ) اس قدر قیام فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک متورم ہوجاتے ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کہا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : افلا اکون عبدا شکورا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زہد و تقویٰ کا عالم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ۔ اے اللہ میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن کھانے کو ملے ۔ بھوک میں تیرے سامنے گڑ گڑایا کروں ، اور تجھ سے مانگا کروں ۔ اور کھا کر تیری حمد و ثنا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( حلیۃ الاولیاءجلد 8 ص133 )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور اکثر فاقہ پر فاقہ کئے جاتے تھے ۔ ایک اور روایت میں اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے ایک ایک مہینہ اس طرح سے گزارتے کہ گھر میں آگ نہ سلگائی جاتی اور ہمارا کھانا یہی ہوتا کھجور اور پانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( ابن ماجہ )

اور بعض دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھوک سے کروٹیں بدلتے ، پیٹ کو الٹتے اور خراب کھجور بھی آپ کو نہ ملتی کہ اسی سے پیٹ بھر لیں ۔ ( ابن ماجہ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے ، تکبیر ہو چکی تھی ۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہ کو وہیں کھڑا چھوڑ کر گھر تشریف لے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے اور نماز پڑھائی ۔ کسی نے اس بے وقت گھر تشریف لے جانے کی وجہ دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں ایک سونے کا ٹکڑا پڑا رہ گیا تھا میں نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ گھر میں پڑا رہے اور وقت ایسے ہی گزر جائے ۔

اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے ہی اعلیٰ اخلاق سے نوازا تھا ۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارفع اخلاق ہی تھا کہ جس نے دشمن کو دوست ، بیگانے کو اپنا سخت دل کو نرم خو بنا دیا تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی بلند اخلاق کی تعریف اللہ رب العزت نے ان الفاظ میں فرمائی ہے کہ (( وانک لعلیٰ خلق عظیم )) ” اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق بہت بلند ہے ۔
( سورہ قلم )

موطا امام مالک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ” میں بہترین اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا گیا ہوں اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت گزار فرماتے ہیں کہ میں نے دس برس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی فما قال لی اف ولا لما صنعت ولا الا صنعت اس مدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہ کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا یہ کام کیوں نہیں کیا ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( مسلم )

یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہی تھا کہ جس نے لوگوں کے دلوں سے ظلمت و جہالت کو نکال کر نور صداقت اور معرفت الٰہی کو متمکن کر دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق اور نرم خو ہونے کی صفت کو بیان کرتے ہوئے فرما ! (( لو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک )) ” اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو لوگ کبھی بھی آپ کے پاس آ کر نہ بیٹھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
( آل عمران : 159 )

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
" لم یکن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سبابا ولا فحاشا ولا لعانا "
نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالی باز اور سخت گو لعنت کرنے والے نہ تھے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں سے کسی پر غصہ بھی آتا صرف اتنا فرماتے اس کو کیا ہو گیا ۔ اس کی پیشانی میں خاک لگے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شجاعت ، بہادری اور دلیری میں بھی مقام سب سے بلند اور معروف تھا ۔ آپ سب سے زیادہ دلیر تھے ۔ نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جبکہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پاؤں اکھڑ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ برقرار رہے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے ہی بڑھتے گئے ۔ پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی دشمن کے قریب نہ ہوتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( شفاءقاضی عیاض89/1 بحوالہ الرحیق المختوم )

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا لوگ شور کی طرف دوڑے تو راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے ہوئے ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پہلے ہی آواز کی جانب پہنچ کر ( خطرے کے مقام کا جائزہ لے ) چکے تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بغیر زین کے گھوڑے پر سوار تھے ۔ گردن میں تلوار حمائل کر رکھی تھی ۔ اور فرما رہے تھے ڈرو نہیں ، ڈرو نہیں ( کوئی خطرہ نہیں ہے )۔۔۔۔۔۔۔۔ ( مسلم ) اور کسی شاعر نے شائد آپ ہی کے بارہ میں کہا تھا کہ

ع

مائیں ایسے بچے جنتی ہیں بہادر خال خال

اور اگر آج آقائے کائنات کے غلام اپنے سینوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت بھر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ ان شاءاللہ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دریا دلی اور سخاوت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں جس نے بھی کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگی ، آپ نے انکار نہ کیا بلکہ دے دی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( بخاری )

ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی بکریاں دیں کہ جس سے دو پہاڑوں کے درمیان والی زمین بھر گئی ۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس جا کر کہنے لگا میری قوم کے لوگو ! مسلمان ہو جاؤ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کچھ دیتے ہیں پھر محتاجی کا ڈر نہیں رہتا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مسلم جلد 6 ص 31 )

اقرح بن حابس نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن کو پیار کر رہے ہیں تو ایک صحابی نے کہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے دس بچے ہیں میں نے کبھی ان کو پیار نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو رحم نہ کرے گا ۔ ( بچوں ، یتیموں ، عاجزوں اور ضعیفوں پر ) اللہ بھی رحم نہ کرے گا اس پر ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ متواضع اور تکبر سے دور تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے صحابہ کرام کو کھڑے ہونے سے منع فرماتے تھے ۔ مسکینوں کی عیادت کرتے تھے فقراءکے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے ، غلام کی دعوت منظور فرماتے تھے ۔ صحابہ کرام میں کسی امتیاز کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے ۔ اماں عائشہ صدیقہ عفیفہ کائنات رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے خود ٹانکتے تھے ، اپنے کپڑوں خود پیوند لگاتے تھے ، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر کے کام کاج کرتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے ۔ اپنی بکری کا دودھ خود دوہتے تھے اور اپنا کام خود کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( مشکوٰۃ 520/2 )

آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پرانور کا بھی تذکرہ کرتا جاؤں ۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سرخ جوڑا تھا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا اور چاند کو دیکھتا ۔ آخر ( اسی نتیجہ پر پہنچا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں ۔
ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف فرما تھے پسینہ آیا تو چہرے کی دھاریاں چمک اٹھیں یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ابوکبیر ہذلی کا یہ شعر پڑھا :
واذا نظرت الی اسرۃ وجھہ
برقت کبرق العارض المتھلل
( رحمۃ للعالمین جلد 2 ص172 )
” جب ان کے چہرے کی دھاریاں دیکھو تو وہ یوں چمکتی ہیں جیسے روشن بادل چمک رہا ہے ۔ “

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنے صورت کے حسین تھے اتنے ہی سیرت کے خوبصورت ۔ اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رحم مادر سے ( رضی اللہ عنہ ) کا لقب لے کر نہیں آئے تھے ۔ بلکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور سیرت کو اپنایا تھا ۔ اور اللہ نے ان کو جنت کے سرٹیفکیٹ دے دئے ۔ دنیا میں بھی کامیاب آخرت میں بھی کامیاب ۔

آج مسلمان ذلیل ہیں ، خوار ہیں ، بے کس ہیں ، بے بس ہیں مظلوم ہیں ، مجبور ہیں ، تو اس کا سب سے بڑا سبب قرآن و حدیث سے بیگانگی اور اسوہ رسول سے ” چشم پوشی “ ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہونے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسوہ پر چلنے کی توفیق دے ۔ آمین یا رب العالمین ۔
اخترحسین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پاک, قرآن, قصہ, نماز, نظر, مکہ, مکمل, مقابلہ, مشعل, آج, آدمی, اللہ, انسان, اسوہ رسول, اعلیٰ, بچوں, حدیث, دیکھو, دوست, دریافت, دعا, عبادت, غار, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 17 23-02-11 08:37 PM
موسم سرما میں "حیاتین۔ڈی" کی اہمیت سیپ شعبہ طب 2 24-01-11 12:16 AM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
مایا "ماں "کوسلا م ،اسی فیصدبھارتی کر پٹ ہیں جاویداسد خبریں 0 09-09-10 02:04 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger