واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-11-09, 03:56 PM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا

سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا

سیدہ کائینات سردارخواتین جنت، سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحبزادی ہیں اور جنتی خواتین کی سردار ، ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اہلبیت کرام سے محبت کا حکم فرمایا ہے:
قل لا اسئلکم عليه اجرا الا المودۃ فی القربی۔ ترجمہ :ائے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے ! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے
(سورہ شوریٰ:23)

ونیزارشاد خدا وندی ہے:
انمايريدالله ليذهب عنکم الرجس اهل البيت ويطهرکم تطهيرا-
ترجمہ:یقینااللہ تعالیٰ تویہی چاہتا ہے ائے نبی کے گھروالوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے او رتمہیں پاک کرکے خوب ستھراکردے
(سورۃالاحزاب ۔33)

ولادت بابرکت:
آپ کی ولادتِ مبارکہ اعلانِ نبوت کے پہلے سال ہوئی، اور ایک روایت کے مطابق اعلان نبوت سے پانچ سال قبل آپ کی ولادت بابرکت ہوئي-
(سبل الھدی والرشاد،ج11،ص37)

القاب مبارکہ :

آپ کے القاب مبارکہ یہ ہیں ۔ سیدۃ نساء اھل الجنۃ ، زھراء، بتول،بضعۃ الرسول، سیدہ ، زاہدہ، طیبہ، طاہرہ وغیرہ۔


عقد نکاح :
ہجرت کے دو سال کے بعد آپ کا عقد نکاح حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے ہوا۔

معجم کبیر طبرانی میں حدیث پاک ہے :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.

ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ حضور نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا:بیشک اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا )کا نکاح علی (رضی اللہ عنہ ) سے کرواؤں- (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر: 10152)

اولاد امجاد:
آپ کے بطن مبارک سے تین صاحبزادے
(1)امام ہمام حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ،
(2) امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ
(3) حضرت سیدنا امام محسن رضی اللہ عنہ ہیں
اور تین صاحبزادیاں
(1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا ،
(2) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا،
(3) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔

وصالِ مبارک:
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصالِ مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصالِ اقدس کے چھ ماہ بعد رمضان المبارک اورایک روایت کے مطابق تین ماہ بعدماہ جمادی الاخری 11ہجری میں ہوا، اور آپ کا مزارمبارک جنت البقیع شریف میں ہے۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (18-11-09), کنعان (19-11-09), محمدخلیل (21-11-09), ابن جلال (24-11-09), اخترحسین (20-11-09), حیدر Rehan (18-11-09), راجہ اکرام (20-11-09), عادل سہیل (19-11-09)
پرانا 18-11-09, 07:03 PM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,747
شکریہ: 5,937
1,805 مراسلہ میں 4,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ اپ کو جنت کی خوشبو اور دیدار نصیب کریے ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (18-11-09), کنعان (19-11-09), اخترحسین (20-11-09), راجہ اکرام (20-11-09)
پرانا 18-11-09, 07:37 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سوال آپ محترمین سے:

یہ میں کئی جگہ پڑھ چکا ہوں کہ فاطمۃ‌الزہرۃ ، جنت کی عورتوں کی سردار ہوں‌گی۔ اس کا مستند حوالہ قرآن حکیم سے فراہم کرسکتے ہیں کوئی صاحب؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
sahj (19-11-09), کنعان (19-11-09), نورالدین (23-02-10)
پرانا 20-11-09, 06:10 AM   #4
Senior Member
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سوال آپ محترمین سے:

یہ میں کئی جگہ پڑھ چکا ہوں کہ فاطمۃ‌الزہرۃ ، جنت کی عورتوں کی سردار ہوں‌گی۔ اس کا مستند حوالہ قرآن حکیم سے فراہم کرسکتے ہیں کوئی صاحب؟

والسلام
-------------------------------------------
-------------------------------------------

السلام علیکم فاروق بھائی صاحب

چلیں فاروق بھائی صاحب ایک بار پھر آپ کے سامنے آتے ہیں تھوڑی دیر کے لئے،

آپ نے سوال کیا ھے کہ کوئی قرآن سے آپ کو دکھائے کہ فاطمۃالزاہرۃ رضی اللہ تعالی جنت کی سردار ہونگی۔

نیچے میں نے آپ کو پوسٹ نقل کر کے یہاں کوٹ کی ھے آپ اسے بھی ایک بار پھر غور سے دیکھ لیں اور سمجھ بھی لیں کیونکہ میں نے ایسے اور ویسے کرنے کا موقع نہیں دینا۔ ہا ہا ہا ہا۔

فاروق بھائی میں بھی جب قرآن سے حوالہ پیش کرتا ہوں تو پھر میں اس کے بعد اپنی طرف سے تشریح کے طور پر ایک لفظ بھی نہیں لکھتا۔ کیونکہ سب مسلمان ہیں پڑھے لکھے ہیں اور نٹ پر اسلامی سیکشن میں زیادہ تعداد اورر ایج بندوں کی ھے۔ سمجھ سکتے ہیں مگر نہیں‌ ان کو قرآن مجید کے ساتھ میری کی ہوئی تشریح سے بہتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہوئی تشریح جو احادیث مبارکہ کی شکل میں ہمارے پاس ھے اس کی اشد ضرورت ھے۔

فاروق بھائی آپ نے نیچے قربانی کے لئے قرآن کی واضع آیات نقل کی ہیں جس کو ہر مسلمان آسانی سے پڑھ بھی سکتا ھے اور سمجھ بھی سکتا ھے جتنی بھی اللہ نے اسے سمجھنے کی استطاعت عطا کی ہوئی ھے، مگر اس کو کوئی بھی غلط نہیں سمجھ سکتا۔

فاروق بھائی آپ دیکھیں کہ آپ نے کچھ سمجھا اور قرآن کی آیات لکھنے کے بعد آپ نے ان آیات پر مزید اپنی طرف سے تشریح پیش کی تاکہ جس جس کو قرآن کی آیات سے سمجھ نہ آ سکے وہ آپ کی تشریح سے سمجھنے کی کوشش کرے،

پھر آپ کی تشریح کے بعد آپ نے دو جگہوں پر خاص نقطوں پر بھی نشاندھی کروانے کی کوشش کی ھے کہ جس کو آپکی تشریح سے سمجھنے میں کوئی کسر باقی رہ جائے تو وہ ان خاص نقطوں پر غور کرے تو اسے مزید سمجھنے میں مدد ملے گی۔

فاروق بھائی یہاں تک تو آپکو میری بات سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ میں بھی آپ کی توجہ کہاں پر لے جانا چاہتا ہوں۔ آئیں آگے دیکھتے ہیں۔

فاروق بھائی جب قرآن مجید کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت قرآن میں جو حکم اللہ تعالی کی طرف سے جو بھی احکامات نازل ہو رہے تھے، وہ احکامات صحابہ رضی اللہ تعالی کو بتانے کے بعد ان کو وہ قرآنی آیات کو مطلب سمجھانے کے لئے جو تشریحات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں ، جو طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے ان کو احادیث مبارکہ کہتے ہیں۔

سب سے بہتر تشریح یہی ہو سکتی ھے جو سلسہ وار ہم تک پہنچتی ھے۔

فاروق بھائی اب آپ خود اندازہ کر لیں کہ ان ٹیکنیکل دور میں آپ نے قرآن کے ساتھ اپنی کی ہوئی تشریح کی ضرورت محسوس تاکہ ہر بندہ اسے آسانی سے سمجھ سکے۔

یہی ضرورت صحابہ کرام کو بھی تھی کہ وہ بھی تمام احکامات کو آسانی سے سمجھ سکیں اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالواسطہ اور بلاواسطہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچے۔

امید کرتا ہوں آپ کو میری بات آسانی سے سمجھ آ گئی ہو گی۔

شکریہ

والسلام







-----------------------------------------
-----------------------------------------

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

میں قرآن حکیم کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ صرف حوالہ فراہم کرسکتا ہوں۔ صاحب علم نہیں ہوں ۔ لہذا انتظار کرتا رہا کہ صاحب علم افراد اس سلسلے میں‌ رہنمائی فرمائیں گے ۔ معلوم نہیں کیوں، صاحب علم حضرات کسی مصلحت کے تحت چپ ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ عید الاضحی پر کی جانے والی قربانی آیا کہ فرض ہے، سنت ہے ، سنت مؤکدہ ہے ، سنت غیر مؤکدہ ہے یا سنت ابراہیمی ہے؟

عید الاضحی پر کسی جانور کی قربانی کے بارے میں اسلامی کتب میں بے تحاشہ معلومات موجود ہیں۔ اس میں جانور یا جانوروں کی اقسام سے لے کر جانور کی خصوصیات تک شامل ہیں۔ ان تمام معلومات میں جہاں جانور کی تمام خصوصیات، قربانی کرنے کے طریقہ اور قربانی کو بطور عبادت نہایت تفصیل سے پیش کیا جاتا ہے وہاں ہم یہ دیکھتے ہیں‌کہ عموماً یہ نہیں ‌بتایا جاتا کہ عید الاضحی پر قربانی آیا کہ فرض ہے، سنت ہے ، سنت مؤکدہ ہے ، سنت غیر مؤکدہ ہے یا پھر سنت ابراہیمی ہے؟

کیا عید الاضحی پر قربانی حج کرنے والوں‌ پر خانہ کعبہ کے نزدیک فرض ہے؟
کسی بھی امر یا عمل یا حکم کے فرض ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بارے میں‌ قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا فرمان موجود ہو جس سے معلوم ہوتا ہو کہ آیا کہ یہ عمل یا امر یا حکم مسلمان پر فرض‌ہے۔

تو ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قربانی کیجئے اور قربانی کے لئے وقت اور جگہ کا تعین بھی بہت ہی وضاحت سے کیا گیا ہے۔ ان آیات کے ان حصوں‌کو سرخ کردیا گیا ہے جو اہم ہیں۔ یہ آیات رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوئیں۔
سورۃ الحج آیات 27 سے 38 تک

22:27 اور اعلان کردو انسانوں میں حج کا، آئیں گے وہ تمہارے پاس پیدل چل کر اور دُبلے دُبلے اُونٹوں پر جو چلے آرہے ہوں گے تمام دور دراز راستوں سے۔
22:28 تاکہ دیکھیں وہ ان فوائد کو جو ان کے لیے ہیں (حج میں) اور لیں اللہ کا نام چند مقررہ دنوں میں اور ان (جانوروں) پر جو بخشے ہیں اللہ نے اُنہیں از قسمِ مویشی پھر کھاؤ تم خود بھی اس میں سے اور کھلاؤ بھُوک کے مارے محتاجوں کو بھی۔
22:29 پھر چاہیے کہ دُور کریں اپنا میل کچیل اور پُوری کریں اپنی نذریں اور طواف کریں اس قدیم گھر کا۔
22:30 یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد) اور جو احترام کرے اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا تو یہ بہتر ہوگا اس کے حق میں اس کے رب کے نزدیک اور حلال کیے گئے ہیں تمہارے لیے مویشی سوائے اُن کے جو بتائے جاچُکے ہیں تمہیں سو پرہیز کرو بتوں کی ناپاکی سے اور پرہیز کرو جھوٹی بات سے۔
22:31 یکسو ہو کر، ہو رہو اللہ کے اور نہ ٹھہراؤ شریک (کسی کو) اس کے ساتھ۔ اور جو شرک کرتا ہے اللہ کے ساتھ تو وہ ایسا ہے جیسے گِرگیا ہو آسمان سے اور اُچک لے جائیں اُسے پرندے یا جا پھینکے اُسے ہوا کسی دُور دراز مقام پر۔
22:32 یہ ہے اصل معاملہ اور جو تعظیم کرتا ہے اللہ کی نشانیوں کی سو یقینا یہ (تعظیم کرنا) دل کا تقویٰ ہے۔
22:33 تمہارے لیے ان جانوروں میں فائدے ہیں ایک وقت مقررہ پر پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ ہے اُس قدیم گھر (خانہء‌کعبہ) کے پاس۔
22:34 اور ہر اُمت کے لیے مقرر کیا ہے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ تاکہ لیں وہ نام اللہ کا اُن (جانوروں) پر جو دیے ہیں اُس نے اُن کو از قسم مویشی، اس لیے کہ تمہارا معبود اِلٰہِ واحد ہے سو اسی کے مطیع فرمان بنو۔ اور (اے نبی) بشارت دے دو عاجزی اختیار کرنے والوں کو۔
22:35 جن کا حال یہ ہے کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ کا تو کانپ اُٹھتے ہیں ان کے دل اور جو صبر کرتے ہیں اس (مصیبت) پر جو آتی ہے اُن پر اور قائم کرتے ہیں نماز اور اس میں سے جو دیا ہے ہم نے اُنہیں، خرچ کرتے ہیں۔
22:36 اور قربانی کے اُونٹ، شامل کیا ہے ہم نے ان کو تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں۔ تمہارے لیے اُن میں بھلائی ہے۔ سو لو نام اللہ کا اُن پر صف میں کھڑا کر کے۔ پھر جب گرجائیں وہ پہلو کے بل تو کھاؤ خود بھی اس میں سے اور کھلاؤ صبر سے بیٹھے ہوؤں کو اور سوال کرنے والوں کو بھی۔ اس طرح مسخر کیا ہے ہم نے اُنہیں تمہارے لیے تاکہ شکر ادا کرو۔
22:37 نہیں پہنچتے ہیں اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون لیکن پہنچتا ہے اسے تقویٰ تمہارا اس طرح مسخر کیا ہے اُنہیں تمہارے لیے تاکہ تم کبریائی بیان کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت بخشی ہے اس نے تمہیں اور بشارت دے دو نیکوکار لوگوں کو۔
22:38 یقینا اللہ مدافعت کرے گا ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں، یقینا اللہ نہیں پسند کرتا کسی خیانت کرنے والے ناشکرے کو۔

آپ ان آیات کو بغور پڑھئے ، خاص طور پر سرخ شدہ حصوں کو تو اس امر کی بہت واضح شہادت ملتی ہے کہ
1۔ قربانی کرنے کا وقت حج ہے۔ حوالہ: 22:27
2۔ قربانی کرنے کا مقام بیت العتیق یعنی سب سے پرانا اللہ کا گھر یعنی خانہء کعبہ ہے۔ حوالہ 22:33
3۔ اس حج کے موقع پر خانہء کعبہ کے پاس دی جانے والی قربانی کے دو مقاصد ہیں، 1۔ بھوکوں کا پیٹ بھرنا (حوالہ 22:36 ) 2۔ مسلمانوں میں‌تقوی پیدا کرنا ( حوالہ 22:37 )


ہم کو اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ :
کیا عید الاضحی پر قربانی حج کرنے والوں‌ پر خانہ کعبہ کے نزدیک فرض ہے؟

تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی اس میں ایک حکمت ہے کہ لوگوں کو حج کے فوائید، اور اس موقع پر کی جانے والی کعبہ کے نزدیک قربانی کے فوائید کا علم ہو۔

آب ہم دوسرا سوال کرتے ہیں کہ
جب قربانی حج کے موقع پر خانہء‌کعبہ کے پاس کی جارہی ہے تو کیا ایسی ہی قربانی مسلمان جہاں بھی ہوں وہاں‌ بھی کیا کریں ؟
آپ دیکھتے ہیں کہ حج کے موقع پر اللہ تعالی نے جس قربانی کا حکم دیا ہے وہ صرف اور صرف حج کے دوران اور خانہء کعبہ کے نزدیک ہے۔ ان آیات میں مسلمانوں‌ پر وضاحت اور صراحت سے یہ فرض نہیں کیا گیا کہ وہ جہاں بھی ہو وہاں پر قربانی دیں۔ آپ اس کے لئے مندرجہ بالاء حکم کی آیات کے مختلف تراجم اردو اور انگریزی میں دیکھ سکتے ہیں اور غور کرسکتے ہیں۔

قربانی کے اس حکم کا مزید مطالعہ ہم روزہ رکھنے کے حکم سے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آپ جہاں‌بھی رمضان پائیے ، روزہ رکھئے۔ یعنی اس کے لئے وقت تو مقرر کیا گیا لیکن اس حکم کا اطلاق ہر جگہ ہوگا کہ آپ جہاں بھی رمضان کو پائیں گے وہاں روزہ رکھیں گے۔ جبکہ قربانی کے لئے وقت اور جگہ دونوں کا تعین کیا گیا ہے کہ قربانی حج کے اوقات میں اور بیت العتیق یعنی خانہء کعبہ کے پاس ادا کی جانے کا حکم دیا گیا ہے۔


رمضان کے روزے:
2:185 رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا ئے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ

ہم یہ بھی دیکھتےہیں کہ لوگ قربانی کو سنت ابراہیمی قرار دیتے ہیں ۔ آئیے اس مضمون کی آیات کو دیکھتے ہیں،

سورۃ الصافات آیات 99 سے 113 تک

37:99 اور آگ سے نکلنے کے بعد) ابراہیم نے کہا میں جارہا ہوں اپنے رب کی طرف، وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔
37:100 اے میرے رب! عطا کر تو مجھے (بیٹا) جو صالحین میں سے ہو۔
37:101 سو بشارت دی ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی۔
37:102 چنانچہ جب پہنچ گیا وہ ان کے ساتھ دوڑ دھوپ (کی عمر) کو تو کہا ابراہیم نے اے بیٹھے! میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تو سوچ کر بتاؤ تمہارا کیا خیال ہے؟ بیٹے نے کہا: ابا جان! کرڈالیے وہ کام جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے ضرور پائیں گے آپ مجھے انشاء اللہ صابروں میں سے۔
37:103 پھر جب سرتسلیم خم کردیا ان دونوں نے اور لٹادیا اسے ابراہیم نے ماتھے کے بل۔
37:104 ندا دی ہم نے اسے اے ابراہیم!۔
37:105 بلاشبہ سچ کردکھایا تم نے اپنا خواب، بے شک ہم ایسی ہی جزا دیتے ہیں اچھا اور معیاری کام کرنے والوں کو۔
37:106 بلاشبہ یہی تھی ایک کھلی آزمائش۔
37:107 اور فدیہ میں دے کر اس کے ایک بڑی قربانی (ہم نے اسے چھڑالیا)۔
37:108 اور باقی رکھا ہم نے ان کے لیے پچھلی نسلوں میں۔
37:109 یہ کہ --سلام ہو ابراہیم پر -- ۔
37:110 ایسی ہی جزا دیتے ہیں ہم اچھا اور معیاری کام کرنے والوں کو۔
37:111 بلاشبہ وہ تھا ہمارے مومن بندوں میں سے۔
37:112 اور بشارت دی ہم نے اسے اسحٰق کی جو نبی ہوگا صالحین میں سے۔
37:113 اور برکت دی ہم نے اسے اور اسحٰق کو اور ان دونوں کی نسل میں ہے کوئی تو محسن اور کوئی اپنی جان پر کھلا ظلم کرنے والا۔

اللہ تعالی نے ہم کو ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کی مظبوطی کے بارے میں بتایا ہے کہ ان بزرگ نبی نے اللہ پر اس قدر یقین رکھا کہ صرف خواب دیکھنے پر اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے، لیکن اللہ تعالی نے فدیہ میں ایک عظیم قربانی ابراہیم علیہ السلام کو عطا کرکے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی جان بچائی۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد میں حج کے موقع پر خانہء کعبہ کے پاس قربانی کا اہتمام کیا۔ گویا ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم سنت کے وقت، جگہ اور عمل تینوں کو اس مسلمان امت کے لئے فرض کردیا۔ یہ تمام کلمات مبارکہ اور احکام مبارکہ رسول اکرم محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے گویا ایک اور عظیم و بزرگ نبی کی زبان مبارک سے اس عظیم سنت ابراہیمی کی توثیق کردی گئی۔


اس مقام پر ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ
1۔ قربانی ، سنت ابراہیمی ہے،
2۔ ہر امت کی طرح، مسلمانوں پر حج کے موقع پر بیت اللہ یعنی خانہء کعبہ کے پاس قربانی کا حکم دیا گیا یعنی فرض کی گئی ہے۔
3۔ حج کے علاوہ اور خانہء‌کعبہ سے دور قربانی کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا جس طرح رمضان کے روزوں‌کا صراحت سے حکم دیا گیا کہ وہ ہر اس جگہ فرض ہیں جہاں رمضان پایا جائے۔
4۔ کتب روایات میں حج بیت اللہ کے علاوہ اور خانہ کعبہ کے قریب مکہ کے علاوہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے، ایماء سے یا حکم سے قربانی کرنے کی سنت رسول اللہ کی کوئی روایت نہیں ملتی۔


اگر سنت رسول اللہ موجود نہ ہو یعنی رسول اکرم نے کعبہ سے دور ، حج کے دوران ایسا کوئی عمل انجام نہیں دیا ہو تو اس کی تاکید کیوں کر فرمائی۔ اس کے بارے میں کوئی مستند روایت میرے علم میں‌ نہیں ہے۔ لہذا کعبہ سے دور قربانی کرنا سنت مؤکدہ بھی نہیں ہے یعنی ایسی سنت جس کی تاکید کی گئی ہو -- نہیں ثابت ہوتی ہے۔

اب تک ہماری معلومات کے مطابق، قربانی کا مقام بیت العتیق کے نزدیک ہے۔ جس کا موقع حج ہے اور اس کی بنیاد سنت ابراہیمی ہے۔ اس جگہ اور اس وقت کے علاوہ قربانی کرنے کے احکام اب تک نہ تو اللہ کی کتاب سے ملتے ہیں اور نہ ہی سنت رسول اللہ سے۔

ان معلومات کے مطابق، بیت العتیق سے دور، حج کے موقع پر عید الاضحی کی قربانی ، غریبوں کو کھلانے کے لئے کئے جانے والا ایک ثواب تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ نہ فرض ہے ، نہ سنت موکدہ ہے اور نہ ہی اس کے واجب ہونے کا کوئی ثبوت کتب روایات سے ملتا ہے۔

سنت ابراہیمی کہہ کر کعبہ سے دور، بناء حج کے قربانی کرنا -- غریبوں‌ کو کھلا کر ثواب کمانے کے زمرہ میں‌آئے گا۔ لہذا اپنی بساط کے مطابق یہ عمل سر انجام دیا جاسکتا ہے لیکن اس قربانی کو بیت اللہ سے دور، بناء‌حج کی ادائیگی کے ، فرض ، سنت مؤکدہ یا واجب سمجھ کر قربانی کرنے کا کوئی ثبوت ہم کو قرآن حکیم یا کتب روایات سے نہیں‌ ملتا۔

کتب روایات سے ایسی روایات ضرور ملتی ہیں، جن میں‌ رسول اکرم نے قربانی کی اہمیت پر زور دیا ، لیکن چونکہ ایسی کسی سنت کی مثال نہیں‌ملتی کہ رسول اللہ نے کعبۃ اللہ سے دور دوران حج ایسی کوئی قربانی دی ہو تو ہم ان روایات سے صرف یہ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اکرم کا اشارہ اس قربانی کی طرف ہے جو کہ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ حج کے وقت، طواف کے بعد، بیت العتیق کے نزدیک دی جانے والی قربانی۔ یعنی رسول اللہ دوران حج ، کعبۃ‌ اللہ کے قریب دی جانے والی قربانی کی اہمیت کا احساس دلا رہے ہیں جو کہ یقینی طور پر قرآن میں موجود اللہ تعالی کے احکامات کے عین مطابق ہے۔

حج کے احکامات کے بارے میں مزید آیات جن کو دیکھنا ضروری ہے:

2:196 اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے لیے۔ پھر اگر کوئی رکاوٹ پیش آجائے تو جو میسّر آجائے کوئی قربانی کا جانور (پیش کرو اللہ کے حضور) اور نہ مونڈو اپنے سر جب تک کہ نہ پہنچ جائے قربانی اپنی جگہ پر پھر جو شخص ہو تم میں سے بیمار یا ہو اسے کوئی تکلیف سر میں تو وہ بطور فدیہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب تمہیں اطمینان نصیب ہو تو جو شخص فائدہ اُٹھائے عمرہ کرنے کا حج کے ساتھ تو (وہ ذبح کرے) جو میّسر آئے قربانی کا جانور پھر اگر کوئی نہ پائے (قربانی کا جانور) تو روزے رکھے، تین دن کے حج (کے دنوں) میں اور سات روزے جب (گھر) لوٹے۔ یہ ہوئے پورے دس، یہ (عمرہ کی اجازت) اس شخص کے لیے ہے، نہ ہو جس کا گھر بار مسجدِ حرام کے قریب۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خُوب جان لو کہ بیشک اللہ بہت سخت ہے عذاب دینے میں۔

5:95 اے ایمان والو! نہ مارو شکار جبکہ ہو تم احرام میں اور جو کوئی شکار مارے گا تم میں سے جان بُوجھ کر تو اس کا تاوان ہے مثل اس (شکار) کے جو مارا ہے اس نے کوئی مویشی، جس کا فیصلہ کریں گے دو منصف تم میں سے جو بطورِ نذرانہ پہنچایا جائے گا خانہ کعبہ تک یا کفارہ ہے کہ کھانا کھلائے مسکینوں کو یا ان کے برابر روزے رکھے تاکہ چکھے سزا اپنے کیے کی۔ معاف کیا اللہ نے وہ جو ہو چُکا پہلے اور جو کوئی دربارہ کرے گا تو بدلہ لے گا اللہ اس سے اور زبردست ہے، بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔

امید ہے کہ صاحب العلم حضرات مزید معلومات فراہم کرکے اس معاملہ کو بہتر سمجھنے میں‌ مدد دیں گے۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (20-11-09), حیدر Rehan (20-11-09), طاھر (21-11-09)
پرانا 20-11-09, 12:07 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کنعان صاحب، سلام علیکم۔

بہت شکریہ اتنی توجہ کا، (‌یہ خلوص سے کہہ رہا ہوں) آپ نے بہت ہی اچھا نکتہ اٹھایا ہے۔

آیات:
بھائی میں آیک معمولی طالب علم ہو اور صرف حوالے شئیر کرتا ہوں۔ جو کچھ میں نے لکھا ان میں صرف اور صرف حوالہ ہیں۔ کسی بھی آیت کی مزید تشریح میں نے قطعاً‌ اپنی طرف سے نہیں کی۔ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ملتے جلتے احکامات کو سامنے لایا گیا ہے۔ جو بات لکھی ہوئی تھی اس کو دہرا کر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اگر میں نے کوئی بھی معاملہ اس طرح لکھا ہے کہ اس سے قرآن کے اصل معانی پر اثر پڑتا ہے تو اس کی آپ نشاندہی کردیجئے تاکہ میں‌درستگی کرسکوں۔ میرا اپنا خیال اب تک یہ ہے کہ آپ اس مضمون کے انداز سے متفق ہیں۔ یہ میری تشریح نہیں بلکہ قرآن کریم کے اہم نکات کی طرف توجہ اور اس موضوع کی دوسری آیات کی طرف توجہ دلانا مقصد ہے۔ تمام کا تمام قرآن حکیم رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوا۔ اس کے سب گواہ ہیں اور جہاں یہ فرمان الہی ہے، یہ سب سے بڑی اور گارنٹیڈ حدیث بھی ہے کہ اس میں کوئی شبہ ہ نہیں کہ یہ قرآن حیم رسول اکرم کی زبان سے ادا ہو کر ہی ہم تک پہنچا۔

اقتباس:
فاروق بھائی جب قرآن مجید کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت قرآن میں جو حکم اللہ تعالی کی طرف سے جو بھی احکامات نازل ہو رہے تھے، وہ احکامات صحابہ رضی اللہ تعالی کو بتانے کے بعد ان کو وہ قرآنی آیات کو مطلب سمجھانے کے لئے جو تشریحات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں ، جو طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے ان کو احادیث مبارکہ کہتے ہیں۔

سب سے بہتر تشریح یہی ہو سکتی ھے جو سلسہ وار ہم تک پہنچتی ھے۔
روایات :

آپ کی بات درست ہے کہ رسول اکرم آیات کے ساتھ ساتھ فرمان الہی کی تعلیم بھی دیتے تھے اور اس کی تشریح بھی فرماتے تھے۔ اس تشریح میں یہ بھی فرمایا کہ رسول اکرم سے منسوب کوئی روایت خلاف قرآن نہیں ہوسکتی۔ بلکہ خلاف قرآن کا شائبہ تک نہیں ہوسکتا۔

اس سے پہلے کہ ہم کسی اور طرف نکلیں، مجھے یہ سمجھائیے کہ ان کتب روایات کی کامل درستگی کی کیا دلیل ہے آج موجود ہے اور اگر دلیل موجود نہیں نہیں ہے تو پھر کیا ان کتب روایات پر بھی آنکھ بند کرکے ایمان رکھنا ہے جیسا کہ ہم قرآن کریم پر رکھتے ہیں؟

میں آپ کو بہت ایمانداری سے بتاتا چلوں کہ میں صرف ان روایات کو درست تسلیم کرتا ہوں جو ہر طور پر قرآن کی تعلیم سے ہم آہنگ اور موافق ہیں۔
۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ بہت سادہ کہ نہ اللہ تعالی کا حکم ہے اور نہ ہی رسول اللہ کا حکم ہے کہ ہم قرآن کے بعد کسی بھی مکمل کتاب پر من و عن ایمان رکھیں۔ یہ کتب قرآن کی تشریح بھی نہیں ہیں۔ قرآن کریم کی بیشترسورتوں کا تو ان کتب روایات میں تذکرہ تک نہیں ہے۔

اس لئے ضروری ہے کہ ہر روایت کو اللہ کی کتاب کی روشنی میں دیکھا جائے نہ کہ ساری کی ساری روایات پر ایمان رکھ کر اس کو قرآن کی تشریح قرار دیا جائے جو روایت اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم کی روشنی میں درست ہے وہ درست ہے اور جو روایت قرآن کی روشنی میں درست نہیں وہ من گھڑت ہے یعنی موضوع ہے ۔ یہی رسول اللہ کا فرمان ہے تمام احادیث کے بارے میں۔

لوگوں نے قرآن سے فرار حاصل کرنے کے لئے ایک من گھڑت فلسفہ بنایا کہ جو روایات سلسلہ سے چلی آرہی ہیں وہ قرآن کی تشریح ‌ہیں اور یہ تشریح رسول اکرم نے کی تھی اس لئے اس کو من و عن مان لیجئے۔ اب چاہے وہ روایت قرآن کے مضمون میں کس قدر بھی اضافہ کرتی ہو، بس ایمان ہے کہ یہ روایت درست ہے۔

صاحب کسی بھی کتب روایات کی اصل دستیاب نہیں بلکہ اصل تو کیا 2 سو سال پرانی کتب بھی دستیاب نہیں۔ تو پھر سلسلہ کیسے قائم ہوتا ہے؟

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان کتب روایات کی روایات قرآن کے سامنے جھاگ کی طرح‌بیٹھ جاتی ہیں۔ جس طرح ان آیات کو دیکھنے سے وہ روایات اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں جو معاشرہ میں ہر شخص کو حج کے بعد مکہ سے باہر قربانی کا حکم دیتی ہیں۔ یہ روایات چلی تو آرہی ہیں لیکن ان کا سلسلہ اسرائیلیات میں‌ جاکر زیادہ جڑتا ہے اور اللہ تعالی کے قرآن میں بالکل نہیں۔ قرآن کی ایک بھی آیت ہر سال ہر شخص کو قربانی کا حکم نہیں دیتی نظر آتی ایسا کیوں؟ آپ کچھ روشنی ڈالئے ، بہت عنایت ہوگی۔

اب تک یہ صورت حال ہے کہ قرآن صرف اور صرف بیت العتیق کے پاس طوف کے بعد قربانی کا حکم دیتا ہے ، جبکہ روایات ہر جگہ قربانی کا حکم دیتی ہیں۔ اللہ کی سنت نہ تو تبدیل ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں تحویل ہوتی ہے۔ تو ایک انتہائی بزرگ نبی کیسے اللہ کے احکامات میں اس قدر تبدیلی لے آئے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔

آخر میں عرج یہ ہے کہ جن لوگوں کا ان کتب پر ایمان ہے میں ان اصحاب کی دل آزاری کرنا قطعی نہیں چاہتا کہ یہ ان کا مذہب ہے ان ک مبارک ہو۔ لیکن جو اصحاب ان روایات کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے قرآن کی آیات کے حوالے حاضر ہیں ، سوچنا اور غور کرنا آپ کا کام ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 12:34 PM   #6
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 36,971
شکریہ: 4,903
808 مراسلہ میں 1,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

یہ روایات چلی تو آرہی ہیں لیکن ان کا سلسلہ اسرائیلیات میں‌ جاکر زیادہ جڑتا ہے اور اللہ تعالی کے قرآن میں بالکل نہیں۔ قرآن کی ایک بھی آیت ہر سال ہر شخص کو قربانی کا حکم نہیں دیتی نظر آتی ایسا کیوں؟

اب تک یہ صورت حال ہے کہ قرآن صرف اور صرف بیت العتیق کے پاس طوف کے بعد قربانی کا حکم دیتا ہے ، جبکہ روایات ہر جگہ قربانی کا حکم دیتی ہیں۔ اللہ کی سنت نہ تو تبدیل ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں تحویل ہوتی ہے۔ تو ایک انتہائی بزرگ نبی کیسے اللہ کے احکامات میں اس قدر تبدیلی لے آئے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔
فاروق صاحب آپ حدیث کو نہیں مانتے تو نا مانیں آپ کی مرضی۔۔۔۔۔۔قرآن کو تو مانتے ہیں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ قرآن سے گدھے کا حرام ھونا دکھا۔۔اور ثابت کر سکتے ہیں ؟

شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخترحسین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
اخترحسین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-11-09, 12:38 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

صاحبو اور احبابو۔

میرا اصل سوال فاطمۃ الزہرۃ کی جنت کی سرداری کی روایت کے بارے میں تھا۔ رسول اللہ کی صاحبزادی ہونے کے ناطے ہم سب پر ان کی عزت و احترام واجب ہے۔ ان کی بزرگی دل سے قبول ہے اور عزت دل سے ہے۔ سلسہ وار روایات میں تواتر سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ان خوش نصیب افراد میں سے ایک ہیں جن کو باذن اللہ ، رسول اکرم نے جنت کی بشارت دی۔ ایسا ہونا عین ممکن ہے کہ رسول اللہ کو اللہ تعالی نے شفاعت کے مقام مھمود پر فائز کیا۔

ان بہترین کردار کی عظیم خاتون کے بارے میں‌یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ جنت کی سردار ہوں گی یعنی جنت کی بزرگ ترین خاتون ‌ہوں گی۔ مجھے اس امر کا حوالہ کبھی قرآن میں نہیں ملا۔

اس کے برعکس اللہ تعالی قرآن حکیم میں اس موضوع پر درج ذیل تفصیل عطا فرماتے ہیں۔

3:42 وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہانوں کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے۔

اگر ہم اپنے مذہبی جذباتی معاملہ ایک طرف ہٹا کر دیکھیں‌ تو حضرت فاطمہ الزہرۃ کا کم از کم جنت کی تمام عورتوں پر بزرگی رکھنے کی روایت، اس آیت کی روشنی میں کیا صورت اختیار کرتی ہے؟
کیا حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا درجہ اللہ تعالی نے بعد میں گھٹا دیا تھا اور اس منصب پر فاطمہ الزہرۃ کو فائز کردیا تھا؟

اگر ایسا مان لیا جائے کہ اللہ تعالی نے بعد میں ارادہ بدل دیا تو اس بدلے ہوئے حکم کو قرآن میں‌ پیش نیہں کیا لہذا کای یہ آیت 3:42 کس طور درست رہتی ہے؟
اگر یہ آیت درست نہیں رہتی تو پھر قرآن ---------- ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ -------- کیسے رہتا ہے؟

اس روایت کی بنیاد کیا ہے؟ اس کے راوی کون ہیں؟ یہ کب کتب روایات مں شامل ہوئی؟ اگر کوئی صاحب اس پر روشنی ڈالیں تو بہت ہی عنائت ہوگی۔

مجھے ایسے معاملات کو دیکھنے سے یہ آیت یاد آجاتی ہے:

3:23 أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوْتُواْ نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (علمِ) کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا وہ کتابِ الٰہی کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (کتاب) ان کے درمیان (نزاعات کا) فیصلہ کر دے تو پھر ان میں سے ایک طبقہ منہ پھیر لیتا ہے اور وہ روگردانی کرنے والے ہی ہیں

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (18-05-10)
پرانا 20-11-09, 12:45 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اخترحسین مراسلہ دیکھیں
فاروق صاحب آپ حدیث کو نہیں مانتے تو نا مانیں آپ کی مرضی۔۔۔۔۔۔قرآن کو تو مانتے ہیں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ قرآن سے گدھے کا حرام ھونا دکھا۔۔اور ثابت کر سکتے ہیں ؟

شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احادیث کے سلسلے میں آپ کا جملہ بہت مبہم ہے۔ میں‌ صرف ان احادیث کو مانتا ہوں جو قرآن کے مطابق ہیں۔ قرآن کے مخالف نہیں۔ اسلئے کہ ایمان قرآن پر ہے، جو نبی اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوا ہے۔

ایمان رکھنا ماننا ہی ہوتا ہے، بنا کسی دلیل کے۔ کسی روایت کے درست ہونے کی یہ دلیل ہونا کہ یہ فلاں کتاب میں شامل ہے، اس کتاب پر ایمان رکھنے کے مترادف ہے۔ کیا آپ کا قرآن کے بعد کی کتب پر ایمان ہے؟


اب آتے ہیں گدھے کی طرف۔ کیا آپ کا فرمانا یہ ہے کہ کتب روایات میں ملاوٹ نہ ہونے کا معیار گدھا ہے کہ اگر میں گدھے کو حرام ثابت نہیں کر پاتا تو تمام کی تمام کتب روایات درست قرار پاگئیں؟ ایسا سوچنا بہت ہی ابتدائی سوچ کی علامت ہے۔ ہم احادیث کے درست یا غلط ہونے پر بات نہیں‌کررہے ہیں۔ ہم کتب روایات میں ملاوٹ کی بات کررہے ہیں۔

جس کا بھی ایمان اس امر پر ہے کہ محمدالعربی، رسول اللہ ہیں وہ رسول اکرم کی سنت پر ایمان رکھتا ہے۔ میں محمد العربی کو اللہ کا رسول مانتا ہوں اور ان کی ہر سنت پر ایمان رکھتا ہوں۔

اگر روایت قرآن کی کسی آیت سے ٹکراتی ہے تو اس پر غور کرنے اور اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں‌ہے۔ صرف دل ہی تو خوش نہیں کرنا ہے اللہ ، اسکے رسول اور اسکی کتاب پر ایمان بھی تو رکھنا ہے صاحب؟

آپ یہ بتائیے کہ آپ کے اپنے ذاتی خیال میں گدھا پاک ہے یا ناپاک ہے؟ تو میں آپ کو اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ثبوت بھی فراہم کرسکتا ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کتب روایات میں احادیث نہیں پائی جاتی ہیں۔ جہاں‌جہاں گڑ بڑ ہے وہ قرآن کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ یہ دشمنان اسلام کی کاروائی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے کہ دشمنان اسلام نے کوئی کوشش نہیں کی اسلام کی کتب کو مسموم کرنے کی؟

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 20-11-09 at 12:59 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (18-05-10)
پرانا 20-11-09, 04:34 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق صاحب
سیدہ فاطمۃ زہراء رضی اللہ عنھا کا جنت کی خواتین کا سردار ہونا قرآن کریم کی کس آیت کریمہ کے مخالف ہے؟
اگر میرے علم میں اضافہ فرمادیں تو نوازش ہو گی۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-11-09, 04:46 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ

اس آیت مبارکہ میں اصطفی کا جو مطلب آپ نے اخذ کیا ہے کیا وہی مطلب مندرجہ ذیل آیات مبارکہ میں بھی لیا جا سکتا ہے؟

وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (32) إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آَدَمَ وَنُوحًا وَآَلَ إِبْرَاهِيمَ وَآَلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى آَللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ

مدلل جواب زیادہ مفید ہوگا۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-11-09, 08:22 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
فاروق صاحب
سیدہ فاطمۃ زہراء رضی اللہ عنھا کا جنت کی خواتین کا سردار ہونا قرآن کریم کی کس آیت کریمہ کے مخالف ہے؟
اگر میرے علم میں اضافہ فرمادیں تو نوازش ہو گی۔۔
شکریہ، اس کی تفصیل پہلے دی ہے۔ آپ نے دیکھ بھی لیا ہے۔

3:42 وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ

آپ کا خیال درست ہے کہ یہاں اصطفے کے معانی دوسرے درجہ کا اصطفے ہے۔۔ آپ پہلے درجہ کے اصطفے کی بارے میں قرآن کا ھوالہ عنایت فرمادیجئے یہی تو اصل سوال ہے۔ تاکہ معلومات میں اضافہ ہو۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 08:32 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ

اس آیت مبارکہ میں اصطفی کا جو مطلب آپ نے اخذ کیا ہے کیا وہی مطلب مندرجہ ذیل آیات مبارکہ میں بھی لیا جا سکتا ہے؟

وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (32) إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آَدَمَ وَنُوحًا وَآَلَ إِبْرَاهِيمَ وَآَلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى آَللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ


مدلل جواب زیادہ مفید ہوگا۔
صرف ان آیات کا ترجمہ ہی دیکھ لیجئے، مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔
و َلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
دنیا میں بزرگی دینے میں اور

اس آیت مبارکہ میں اصطفی کا جو مطلب آپ نے اخذ کیا ہے، بہتر یہ ہوگا کہ ہم وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ کے معانی دیکھیں۔

صرف اصطفاک یا َلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا اور وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ یعنی تمام ( یا دونوں) عالمین کی سب عورتوں پر بزرگی دینے میں نمایاں فرق ہے۔ ایک جگہ دنیا میں بزرگی عطا کرنا ہے اور دوسری جگہ دونوں جہانوں میں بزرگی عطا کرنا ہے۔

جن لوگوں‌کو بزرگی اور بڑائی اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوئی ان کا تذکرہ بہت ہی وضاحت سے قرآن حکیم میں موجود ہے۔

چونکہ کتب روایات آپ کے اپنے الفاظ میں‌اللہ کی آیات کی تشریح‌ہیں‌ تو ان کتب روایات کی روایات کی مذکورہ جنت کی رسداری کی روایت ، قرآن کی کس آیت کی تشریح ہے؟

یہ سوال ہے میرا۔

کیا ایسا ہے کہ یہ روایات، کبھی کبھی قرآن کی آیات کی تشریح ہیں بھی اور کبھی کبھی نہیں بھی ہیں؟ ان کتب میں کب کب اضافہ ہوئے کوئی لسٹ ہے؟ کوئی اصل کتاب بھی موجود ہے ان کتب روایات کی؟ کیا اللہ تعالی کی طرح دونوں جہانوں کی بزرگی عطا کرنا رسول اللہ کی بھی صفت ہے؟ کیا رسول اللہ کو اللہ تعالی کے مساوی ٹھیرانا شرک کا مقام نہیں؟

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 20-11-09 at 08:46 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 11:24 PM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بالکل جلیبی کی طرح سیدھا جواب دیا ہے آپ نے

جو سوال ہے اس کا جواب اسی مطابق مل جائے تو عنایت ہو گی ، اگر نہیں ہے تو میں کسی اور جگہ رجوع کر لوں گا۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 11:47 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

صاحب سوال میں پوچھ رہا ہوں۔ جناب سوال کا جواب سوال سے عطا فرمارہے ہیں۔

جو جواب آپ کو دیا اس سے تشفی ہوہی نیہں‌سکتی ہے آپ کی ۔ کیوں؟

دنیا میں اصطفی کیا ہوا؟ اس دنیا کا اصطفی جی؟
دونوں جہانوں میں تمام عورتوں پر اصطفی کیا ہوا؟ جی؟
ان دونوں میں تو بھائی میرے، اندھے کو بھی فرق نظر آتا ہے۔ اب اگر آپ کو یہ فرق نہ آئے تو پھر کوئی کیا کرسکتا ہے۔

آپ کا مؤقف ہے کہ دونں عالم کے اصطفی، پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ عطا کرنے کے بعد اس کو بعد میں کسی وقت محروم کردیا گیا اور دوسرے عالم میں جناب فاظمۃ الزہرۃ کو ان کی جگہ تمام عورتوںپر بزرگی عطا فرمادی گئی تو یہ حکم کس گزٹ مین شائع ہوا تھا۔ صرف حوالہ ہی تو مانگ رہا ہوں بھائی۔

Last edited by فاروق سرورخان; 20-11-09 at 11:54 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-11-09, 11:49 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پہلے سوال میں نے کیا ہے ، مجھے اس کا جواب نہیں ملا
تو میں آپ کے سوالات کا جواب کس طرح دوں گا
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, magenta, کلثوم, قرآن, قرآن حکیم, نماز, محبت, معاشرہ, آج, اللہ, المبارک, حکم, حدیث, حسن, خواتین, خدا, روزہ, رمضان, سال, سردار, عورتوں, عبادت, صاحبزادی, صاحبزادے, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹ‌میں ! جان جی ترجمہ و تفسیر 10 21-04-09 09:30 AM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:49 PM
وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا محمدعدنان خبریں 1 03-05-08 02:39 PM
تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام محمدعدنان پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 03-10-07 11:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger