|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
سیدہ کائینات سردارخواتین جنت، سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحبزادی ہیں اور جنتی خواتین کی سردار ، ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اہلبیت کرام سے محبت کا حکم فرمایا ہے: قل لا اسئلکم عليه اجرا الا المودۃ فی القربی۔ ترجمہ :ائے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے ! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے (سورہ شوریٰ:23) ونیزارشاد خدا وندی ہے: انمايريدالله ليذهب عنکم الرجس اهل البيت ويطهرکم تطهيرا- ترجمہ:یقینااللہ تعالیٰ تویہی چاہتا ہے ائے نبی کے گھروالوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے او رتمہیں پاک کرکے خوب ستھراکردے (سورۃالاحزاب ۔33) ولادت بابرکت: آپ کی ولادتِ مبارکہ اعلانِ نبوت کے پہلے سال ہوئی، اور ایک روایت کے مطابق اعلان نبوت سے پانچ سال قبل آپ کی ولادت بابرکت ہوئي- (سبل الھدی والرشاد،ج11،ص37) القاب مبارکہ : آپ کے القاب مبارکہ یہ ہیں ۔ سیدۃ نساء اھل الجنۃ ، زھراء، بتول،بضعۃ الرسول، سیدہ ، زاہدہ، طیبہ، طاہرہ وغیرہ۔ عقد نکاح : ہجرت کے دو سال کے بعد آپ کا عقد نکاح حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے ہوا۔ معجم کبیر طبرانی میں حدیث پاک ہے : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا. ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ حضور نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا:بیشک اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا )کا نکاح علی (رضی اللہ عنہ ) سے کرواؤں- (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر: 10152) اولاد امجاد: آپ کے بطن مبارک سے تین صاحبزادے (1)امام ہمام حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ، (2) امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ (3) حضرت سیدنا امام محسن رضی اللہ عنہ ہیں اور تین صاحبزادیاں (1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا ، (2) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا، (3) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ وصالِ مبارک: حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصالِ مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصالِ اقدس کے چھ ماہ بعد رمضان المبارک اورایک روایت کے مطابق تین ماہ بعدماہ جمادی الاخری 11ہجری میں ہوا، اور آپ کا مزارمبارک جنت البقیع شریف میں ہے۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (18-11-09), کنعان (19-11-09), محمدخلیل (21-11-09), ابن جلال (24-11-09), اخترحسین (20-11-09), حیدر Rehan (18-11-09), راجہ اکرام (20-11-09), عادل سہیل (19-11-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ اپ کو جنت کی خوشبو اور دیدار نصیب کریے ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سوال آپ محترمین سے:
یہ میں کئی جگہ پڑھ چکا ہوں کہ فاطمۃالزہرۃ ، جنت کی عورتوں کی سردار ہوںگی۔ اس کا مستند حوالہ قرآن حکیم سے فراہم کرسکتے ہیں کوئی صاحب؟ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#4 | ||
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,123
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
------------------------------------------- السلام علیکم فاروق بھائی صاحب چلیں فاروق بھائی صاحب ایک بار پھر آپ کے سامنے آتے ہیں تھوڑی دیر کے لئے، آپ نے سوال کیا ھے کہ کوئی قرآن سے آپ کو دکھائے کہ فاطمۃالزاہرۃ رضی اللہ تعالی جنت کی سردار ہونگی۔ نیچے میں نے آپ کو پوسٹ نقل کر کے یہاں کوٹ کی ھے آپ اسے بھی ایک بار پھر غور سے دیکھ لیں اور سمجھ بھی لیں کیونکہ میں نے ایسے اور ویسے کرنے کا موقع نہیں دینا۔ ہا ہا ہا ہا۔ فاروق بھائی میں بھی جب قرآن سے حوالہ پیش کرتا ہوں تو پھر میں اس کے بعد اپنی طرف سے تشریح کے طور پر ایک لفظ بھی نہیں لکھتا۔ کیونکہ سب مسلمان ہیں پڑھے لکھے ہیں اور نٹ پر اسلامی سیکشن میں زیادہ تعداد اورر ایج بندوں کی ھے۔ سمجھ سکتے ہیں مگر نہیں ان کو قرآن مجید کے ساتھ میری کی ہوئی تشریح سے بہتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہوئی تشریح جو احادیث مبارکہ کی شکل میں ہمارے پاس ھے اس کی اشد ضرورت ھے۔ فاروق بھائی آپ نے نیچے قربانی کے لئے قرآن کی واضع آیات نقل کی ہیں جس کو ہر مسلمان آسانی سے پڑھ بھی سکتا ھے اور سمجھ بھی سکتا ھے جتنی بھی اللہ نے اسے سمجھنے کی استطاعت عطا کی ہوئی ھے، مگر اس کو کوئی بھی غلط نہیں سمجھ سکتا۔ فاروق بھائی آپ دیکھیں کہ آپ نے کچھ سمجھا اور قرآن کی آیات لکھنے کے بعد آپ نے ان آیات پر مزید اپنی طرف سے تشریح پیش کی تاکہ جس جس کو قرآن کی آیات سے سمجھ نہ آ سکے وہ آپ کی تشریح سے سمجھنے کی کوشش کرے، پھر آپ کی تشریح کے بعد آپ نے دو جگہوں پر خاص نقطوں پر بھی نشاندھی کروانے کی کوشش کی ھے کہ جس کو آپکی تشریح سے سمجھنے میں کوئی کسر باقی رہ جائے تو وہ ان خاص نقطوں پر غور کرے تو اسے مزید سمجھنے میں مدد ملے گی۔ فاروق بھائی یہاں تک تو آپکو میری بات سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ میں بھی آپ کی توجہ کہاں پر لے جانا چاہتا ہوں۔ آئیں آگے دیکھتے ہیں۔ فاروق بھائی جب قرآن مجید کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت قرآن میں جو حکم اللہ تعالی کی طرف سے جو بھی احکامات نازل ہو رہے تھے، وہ احکامات صحابہ رضی اللہ تعالی کو بتانے کے بعد ان کو وہ قرآنی آیات کو مطلب سمجھانے کے لئے جو تشریحات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں ، جو طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے ان کو احادیث مبارکہ کہتے ہیں۔ سب سے بہتر تشریح یہی ہو سکتی ھے جو سلسہ وار ہم تک پہنچتی ھے۔ فاروق بھائی اب آپ خود اندازہ کر لیں کہ ان ٹیکنیکل دور میں آپ نے قرآن کے ساتھ اپنی کی ہوئی تشریح کی ضرورت محسوس تاکہ ہر بندہ اسے آسانی سے سمجھ سکے۔ یہی ضرورت صحابہ کرام کو بھی تھی کہ وہ بھی تمام احکامات کو آسانی سے سمجھ سکیں اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالواسطہ اور بلاواسطہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچے۔ امید کرتا ہوں آپ کو میری بات آسانی سے سمجھ آ گئی ہو گی۔ شکریہ والسلام ----------------------------------------- ----------------------------------------- اقتباس:
__________________
|
||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
کنعان صاحب، سلام علیکم۔
بہت شکریہ اتنی توجہ کا، (یہ خلوص سے کہہ رہا ہوں) آپ نے بہت ہی اچھا نکتہ اٹھایا ہے۔ آیات: بھائی میں آیک معمولی طالب علم ہو اور صرف حوالے شئیر کرتا ہوں۔ جو کچھ میں نے لکھا ان میں صرف اور صرف حوالہ ہیں۔ کسی بھی آیت کی مزید تشریح میں نے قطعاً اپنی طرف سے نہیں کی۔ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ملتے جلتے احکامات کو سامنے لایا گیا ہے۔ جو بات لکھی ہوئی تھی اس کو دہرا کر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اگر میں نے کوئی بھی معاملہ اس طرح لکھا ہے کہ اس سے قرآن کے اصل معانی پر اثر پڑتا ہے تو اس کی آپ نشاندہی کردیجئے تاکہ میںدرستگی کرسکوں۔ میرا اپنا خیال اب تک یہ ہے کہ آپ اس مضمون کے انداز سے متفق ہیں۔ یہ میری تشریح نہیں بلکہ قرآن کریم کے اہم نکات کی طرف توجہ اور اس موضوع کی دوسری آیات کی طرف توجہ دلانا مقصد ہے۔ تمام کا تمام قرآن حکیم رسول اکرم کی زبان مبارک سے ادا ہوا۔ اس کے سب گواہ ہیں اور جہاں یہ فرمان الہی ہے، یہ سب سے بڑی اور گارنٹیڈ حدیث بھی ہے کہ اس میں کوئی شبہ ہ نہیں کہ یہ قرآن حیم رسول اکرم کی زبان سے ادا ہو کر ہی ہم تک پہنچا۔ اقتباس:
آپ کی بات درست ہے کہ رسول اکرم آیات کے ساتھ ساتھ فرمان الہی کی تعلیم بھی دیتے تھے اور اس کی تشریح بھی فرماتے تھے۔ اس تشریح میں یہ بھی فرمایا کہ رسول اکرم سے منسوب کوئی روایت خلاف قرآن نہیں ہوسکتی۔ بلکہ خلاف قرآن کا شائبہ تک نہیں ہوسکتا۔ اس سے پہلے کہ ہم کسی اور طرف نکلیں، مجھے یہ سمجھائیے کہ ان کتب روایات کی کامل درستگی کی کیا دلیل ہے آج موجود ہے اور اگر دلیل موجود نہیں نہیں ہے تو پھر کیا ان کتب روایات پر بھی آنکھ بند کرکے ایمان رکھنا ہے جیسا کہ ہم قرآن کریم پر رکھتے ہیں؟ میں آپ کو بہت ایمانداری سے بتاتا چلوں کہ میں صرف ان روایات کو درست تسلیم کرتا ہوں جو ہر طور پر قرآن کی تعلیم سے ہم آہنگ اور موافق ہیں۔ ۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ بہت سادہ کہ نہ اللہ تعالی کا حکم ہے اور نہ ہی رسول اللہ کا حکم ہے کہ ہم قرآن کے بعد کسی بھی مکمل کتاب پر من و عن ایمان رکھیں۔ یہ کتب قرآن کی تشریح بھی نہیں ہیں۔ قرآن کریم کی بیشترسورتوں کا تو ان کتب روایات میں تذکرہ تک نہیں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر روایت کو اللہ کی کتاب کی روشنی میں دیکھا جائے نہ کہ ساری کی ساری روایات پر ایمان رکھ کر اس کو قرآن کی تشریح قرار دیا جائے جو روایت اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم کی روشنی میں درست ہے وہ درست ہے اور جو روایت قرآن کی روشنی میں درست نہیں وہ من گھڑت ہے یعنی موضوع ہے ۔ یہی رسول اللہ کا فرمان ہے تمام احادیث کے بارے میں۔ لوگوں نے قرآن سے فرار حاصل کرنے کے لئے ایک من گھڑت فلسفہ بنایا کہ جو روایات سلسلہ سے چلی آرہی ہیں وہ قرآن کی تشریح ہیں اور یہ تشریح رسول اکرم نے کی تھی اس لئے اس کو من و عن مان لیجئے۔ اب چاہے وہ روایت قرآن کے مضمون میں کس قدر بھی اضافہ کرتی ہو، بس ایمان ہے کہ یہ روایت درست ہے۔ صاحب کسی بھی کتب روایات کی اصل دستیاب نہیں بلکہ اصل تو کیا 2 سو سال پرانی کتب بھی دستیاب نہیں۔ تو پھر سلسلہ کیسے قائم ہوتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان کتب روایات کی روایات قرآن کے سامنے جھاگ کی طرحبیٹھ جاتی ہیں۔ جس طرح ان آیات کو دیکھنے سے وہ روایات اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں جو معاشرہ میں ہر شخص کو حج کے بعد مکہ سے باہر قربانی کا حکم دیتی ہیں۔ یہ روایات چلی تو آرہی ہیں لیکن ان کا سلسلہ اسرائیلیات میں جاکر زیادہ جڑتا ہے اور اللہ تعالی کے قرآن میں بالکل نہیں۔ قرآن کی ایک بھی آیت ہر سال ہر شخص کو قربانی کا حکم نہیں دیتی نظر آتی ایسا کیوں؟ آپ کچھ روشنی ڈالئے ، بہت عنایت ہوگی۔اب تک یہ صورت حال ہے کہ قرآن صرف اور صرف بیت العتیق کے پاس طوف کے بعد قربانی کا حکم دیتا ہے ، جبکہ روایات ہر جگہ قربانی کا حکم دیتی ہیں۔ اللہ کی سنت نہ تو تبدیل ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں تحویل ہوتی ہے۔ تو ایک انتہائی بزرگ نبی کیسے اللہ کے احکامات میں اس قدر تبدیلی لے آئے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔ آخر میں عرج یہ ہے کہ جن لوگوں کا ان کتب پر ایمان ہے میں ان اصحاب کی دل آزاری کرنا قطعی نہیں چاہتا کہ یہ ان کا مذہب ہے ان ک مبارک ہو۔ لیکن جو اصحاب ان روایات کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے قرآن کی آیات کے حوالے حاضر ہیں ، سوچنا اور غور کرنا آپ کا کام ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا آپ قرآن سے گدھے کا حرام ھونا دکھا۔۔اور ثابت کر سکتے ہیں ؟ شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
| اخترحسین کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (20-11-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
صاحبو اور احبابو۔
میرا اصل سوال فاطمۃ الزہرۃ کی جنت کی سرداری کی روایت کے بارے میں تھا۔ رسول اللہ کی صاحبزادی ہونے کے ناطے ہم سب پر ان کی عزت و احترام واجب ہے۔ ان کی بزرگی دل سے قبول ہے اور عزت دل سے ہے۔ سلسہ وار روایات میں تواتر سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ان خوش نصیب افراد میں سے ایک ہیں جن کو باذن اللہ ، رسول اکرم نے جنت کی بشارت دی۔ ایسا ہونا عین ممکن ہے کہ رسول اللہ کو اللہ تعالی نے شفاعت کے مقام مھمود پر فائز کیا۔ ان بہترین کردار کی عظیم خاتون کے بارے میںیہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ جنت کی سردار ہوں گی یعنی جنت کی بزرگ ترین خاتون ہوں گی۔ مجھے اس امر کا حوالہ کبھی قرآن میں نہیں ملا۔ اس کے برعکس اللہ تعالی قرآن حکیم میں اس موضوع پر درج ذیل تفصیل عطا فرماتے ہیں۔ 3:42 وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہانوں کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے۔ اگر ہم اپنے مذہبی جذباتی معاملہ ایک طرف ہٹا کر دیکھیں تو حضرت فاطمہ الزہرۃ کا کم از کم جنت کی تمام عورتوں پر بزرگی رکھنے کی روایت، اس آیت کی روشنی میں کیا صورت اختیار کرتی ہے؟ کیا حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا درجہ اللہ تعالی نے بعد میں گھٹا دیا تھا اور اس منصب پر فاطمہ الزہرۃ کو فائز کردیا تھا؟ اگر ایسا مان لیا جائے کہ اللہ تعالی نے بعد میں ارادہ بدل دیا تو اس بدلے ہوئے حکم کو قرآن میں پیش نیہں کیا لہذا کای یہ آیت 3:42 کس طور درست رہتی ہے؟ اگر یہ آیت درست نہیں رہتی تو پھر قرآن ---------- ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ -------- کیسے رہتا ہے؟ اس روایت کی بنیاد کیا ہے؟ اس کے راوی کون ہیں؟ یہ کب کتب روایات مں شامل ہوئی؟ اگر کوئی صاحب اس پر روشنی ڈالیں تو بہت ہی عنائت ہوگی۔ مجھے ایسے معاملات کو دیکھنے سے یہ آیت یاد آجاتی ہے: 3:23 أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوْتُواْ نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (علمِ) کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا وہ کتابِ الٰہی کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (کتاب) ان کے درمیان (نزاعات کا) فیصلہ کر دے تو پھر ان میں سے ایک طبقہ منہ پھیر لیتا ہے اور وہ روگردانی کرنے والے ہی ہیں والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (18-05-10) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ایمان رکھنا ماننا ہی ہوتا ہے، بنا کسی دلیل کے۔ کسی روایت کے درست ہونے کی یہ دلیل ہونا کہ یہ فلاں کتاب میں شامل ہے، اس کتاب پر ایمان رکھنے کے مترادف ہے۔ کیا آپ کا قرآن کے بعد کی کتب پر ایمان ہے؟ اب آتے ہیں گدھے کی طرف۔ کیا آپ کا فرمانا یہ ہے کہ کتب روایات میں ملاوٹ نہ ہونے کا معیار گدھا ہے کہ اگر میں گدھے کو حرام ثابت نہیں کر پاتا تو تمام کی تمام کتب روایات درست قرار پاگئیں؟ ایسا سوچنا بہت ہی ابتدائی سوچ کی علامت ہے۔ ہم احادیث کے درست یا غلط ہونے پر بات نہیںکررہے ہیں۔ ہم کتب روایات میں ملاوٹ کی بات کررہے ہیں۔ جس کا بھی ایمان اس امر پر ہے کہ محمدالعربی، رسول اللہ ہیں وہ رسول اکرم کی سنت پر ایمان رکھتا ہے۔ میں محمد العربی کو اللہ کا رسول مانتا ہوں اور ان کی ہر سنت پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر روایت قرآن کی کسی آیت سے ٹکراتی ہے تو اس پر غور کرنے اور اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوںہے۔ صرف دل ہی تو خوش نہیں کرنا ہے اللہ ، اسکے رسول اور اسکی کتاب پر ایمان بھی تو رکھنا ہے صاحب؟ آپ یہ بتائیے کہ آپ کے اپنے ذاتی خیال میں گدھا پاک ہے یا ناپاک ہے؟ تو میں آپ کو اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ثبوت بھی فراہم کرسکتا ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کتب روایات میں احادیث نہیں پائی جاتی ہیں۔ جہاںجہاں گڑ بڑ ہے وہ قرآن کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ یہ دشمنان اسلام کی کاروائی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ دشمنان اسلام نے کوئی کوشش نہیں کی اسلام کی کتب کو مسموم کرنے کی؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 20-11-09 at 12:59 PM. |
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (18-05-10) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق صاحب
سیدہ فاطمۃ زہراء رضی اللہ عنھا کا جنت کی خواتین کا سردار ہونا قرآن کریم کی کس آیت کریمہ کے مخالف ہے؟ اگر میرے علم میں اضافہ فرمادیں تو نوازش ہو گی۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (20-11-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
اس آیت مبارکہ میں اصطفی کا جو مطلب آپ نے اخذ کیا ہے کیا وہی مطلب مندرجہ ذیل آیات مبارکہ میں بھی لیا جا سکتا ہے؟ وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (32) إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آَدَمَ وَنُوحًا وَآَلَ إِبْرَاهِيمَ وَآَلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى آَللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ مدلل جواب زیادہ مفید ہوگا۔ |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (20-11-09) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
3:42 وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ آپ کا خیال درست ہے کہ یہاں اصطفے کے معانی دوسرے درجہ کا اصطفے ہے۔۔ آپ پہلے درجہ کے اصطفے کی بارے میں قرآن کا ھوالہ عنایت فرمادیجئے یہی تو اصل سوال ہے۔ تاکہ معلومات میں اضافہ ہو۔والسلام |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
و َلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ دنیا میں بزرگی دینے میں اور اس آیت مبارکہ میں اصطفی کا جو مطلب آپ نے اخذ کیا ہے، بہتر یہ ہوگا کہ ہم وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ کے معانی دیکھیں۔ صرف اصطفاک یا َلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا اور وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ یعنی تمام ( یا دونوں) عالمین کی سب عورتوں پر بزرگی دینے میں نمایاں فرق ہے۔ ایک جگہ دنیا میں بزرگی عطا کرنا ہے اور دوسری جگہ دونوں جہانوں میں بزرگی عطا کرنا ہے۔ جن لوگوںکو بزرگی اور بڑائی اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوئی ان کا تذکرہ بہت ہی وضاحت سے قرآن حکیم میں موجود ہے۔ چونکہ کتب روایات آپ کے اپنے الفاظ میںاللہ کی آیات کی تشریحہیں تو ان کتب روایات کی روایات کی مذکورہ جنت کی رسداری کی روایت ، قرآن کی کس آیت کی تشریح ہے؟ یہ سوال ہے میرا۔ کیا ایسا ہے کہ یہ روایات، کبھی کبھی قرآن کی آیات کی تشریح ہیں بھی اور کبھی کبھی نہیں بھی ہیں؟ ان کتب میں کب کب اضافہ ہوئے کوئی لسٹ ہے؟ کوئی اصل کتاب بھی موجود ہے ان کتب روایات کی؟ کیا اللہ تعالی کی طرح دونوں جہانوں کی بزرگی عطا کرنا رسول اللہ کی بھی صفت ہے؟ کیا رسول اللہ کو اللہ تعالی کے مساوی ٹھیرانا شرک کا مقام نہیں؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 20-11-09 at 08:46 PM. |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بالکل جلیبی کی طرح سیدھا جواب دیا ہے آپ نے
جو سوال ہے اس کا جواب اسی مطابق مل جائے تو عنایت ہو گی ، اگر نہیں ہے تو میں کسی اور جگہ رجوع کر لوں گا۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
صاحب سوال میں پوچھ رہا ہوں۔ جناب سوال کا جواب سوال سے عطا فرمارہے ہیں۔
جو جواب آپ کو دیا اس سے تشفی ہوہی نیہںسکتی ہے آپ کی ۔ کیوں؟ دنیا میں اصطفی کیا ہوا؟ اس دنیا کا اصطفی جی؟ دونوں جہانوں میں تمام عورتوں پر اصطفی کیا ہوا؟ جی؟ ان دونوں میں تو بھائی میرے، اندھے کو بھی فرق نظر آتا ہے۔ اب اگر آپ کو یہ فرق نہ آئے تو پھر کوئی کیا کرسکتا ہے۔ آپ کا مؤقف ہے کہ دونں عالم کے اصطفی، پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ عطا کرنے کے بعد اس کو بعد میں کسی وقت محروم کردیا گیا اور دوسرے عالم میں جناب فاظمۃ الزہرۃ کو ان کی جگہ تمام عورتوںپر بزرگی عطا فرمادی گئی تو یہ حکم کس گزٹ مین شائع ہوا تھا۔ صرف حوالہ ہی تو مانگ رہا ہوں بھائی۔ Last edited by فاروق سرورخان; 20-11-09 at 11:54 PM. |
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,263
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پہلے سوال میں نے کیا ہے ، مجھے اس کا جواب نہیں ملا
تو میں آپ کے سوالات کا جواب کس طرح دوں گا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, کلثوم, قرآن, قرآن حکیم, نماز, محبت, معاشرہ, آج, اللہ, المبارک, حکم, حدیث, حسن, خواتین, خدا, روزہ, رمضان, سال, سردار, عورتوں, عبادت, صاحبزادی, صاحبزادے, صدقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹمیں ! | جان جی | ترجمہ و تفسیر | 10 | 21-04-09 09:30 AM |
| سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 02-07-08 01:49 PM |
| وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا | محمدعدنان | خبریں | 1 | 03-05-08 02:39 PM |
| تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام | محمدعدنان | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 6 | 03-10-07 11:31 AM |