واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) (

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-07-08, 02:12 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) (

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) (


::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) (٤) :::::
::::: (٤) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا غیر مسلموں سے رویہ :::::
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد جب اِسلامی ریاست قائم ہو گئی اور سیاسی معاملات واضح ہو کر سامنے آ گئے تو باقاعدہ طور پر مدینہ کے یہودیوں کے حقوق بارے میں قوانین لکھے گئے جِسے اُس پہلے اِسلامی ریاست کا پہلا دستور کہا جا سکتا ہے ، اُس میں لکھا گیا """ یہودیوں میں سے جو ہماری تابعداری کرے گا اُس کی مدد کی جائے گی لیکن اِس طرح کہ نہ اُن میں سے کِسی پر ظُلم ہو اور نہ ہی اُن کی آپس میں لڑائی میں کِسی ایک کی مدد ہو ،،،،، یہودیوں کے لیے اُن کا دِین ہے اور مسلمانوں کے لیے اُن کا دِین """ (البدایہ والنہایہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا مقرر کردہ یہ دستور اُس لوگوں کوبہت وضاحت سے جھوٹا ثابت کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مُحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اُن کے ساتھیوں (رضی اللہ عنہم ) نے اِسلام تلوار کے زور سے پھیلایا ، اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ مدینہ المنورہ میںاپنی اِس اِسلامی ریاست اور اپنی حُکمرانی میں یہودیوں کو اِس طرح اُن کے دِین پر رہنے کی اجازت نہ فرماتے بلکہ تلوار کے زور پر اُن یہودیوں کو اِسلام قُبُول کرواتے ،
::::: ایک دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا تو وہ کھڑے ہوگئے ،صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کِیا ::: اے اللہ کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے ::: تو فرمایا ((( أ لَیست نَفساً ::: کیا وہ انسان نہیں تھا))) ،،،مُتفقٌ علیہ
::::: اورذرا اِس واقعہ پر غور فرمائیے ، انس رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ، ایک یہودی بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، وہ بیمار ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اُس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور فرمایا ((( اِسلام قُبُول کر لو ))) اُس بچے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اُس کے باپ نے کہا ::: اطیع ابا القاسم ، ابو قاسم (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات مان لو ::: تو اُس بچے نے اِسلام قُبُول کر لِیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے وہاں سے واپس تشریف لائے کہ ((( الحَمدُ لِلَّہِ الذی أَنقَذَہُ من النَّارِ :::اللہ کی ہی تعریف ہے جِس نے اِسے آگ سے بچا لِیا ))) صحیح البُخاری/کتاب الجنائز /باب٧٨،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( إِنَّکُم سَتَفتَحُونَ مِصرَ وَہِیَ أَرضٌ یُسَمَّی فیہا القِیرَاطُ فإذا فَتَحتُمُوہَا فَأَحسِنُوا إلی أَہلِہَا فإن لہم ذِمَّۃً وَرَحِمًا ))) أو قال((( ذِمَّۃً وَصِہرًا ))) ((( تُم لوگ بہت جلد مصر فتح کرو گے اور وہ ایسی زمین ہے جِس میں القیراط کا نام لیا جاتا ہے پس جب تُم لوگ اُس جگہ کو فتح کر لو تو وہاں کے رہنے والوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ ( اُنکے لیے ایسا کرنا)اُن کا حق ہے اور رشتہ داری ہے ))) یا فرمایا ((( اُن کا حق ہے اور سُسرال داری ہے ))) ،،،صحیح مُسلم /کتاب فضائل الصحابہ/باب ٥٦
::: اور دوسری روایت میں مزید وضاحت کے ساتھ فرمایا ((( إذا افتَتحتُم مِصراً فاستَوصَوا بالقِبط خَیراً فَإنَّ لَہُم ذِمۃً ورَحِماً :::جب تُم لوگ مِصر فتح کر لو تو ایک دوسرے کو قِبط ( قوم کے لوگوں) سے خیر والا معاملہ کرنے کی نصیحت کرنا کیونکہ( اُنکے لیے ایسا کرنا ) اُن کا حق ہے اور رشتہ داری ہے ))) ،،، مستدرک الحاکم /حدیث ٤٠٣٢، السلسہ الصحیحہ /حدیث ١٣٧٤،
::::: یہ حدیث اِس بات کا ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مُسلموں کے ساتھ بہترین طور پر معاملات فرماتے تھے ، اور محض غیر مُسلم ہونے کی وجہ اُن کی حق تلفی نہ فرماتے تھے اور نہ ہی ایسی کوئی تعلیم دِی بلکہ اُن کے حقوق کی ادائیگی کا سبق سِکھایا ،
::: ایک اور مثال ::: اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ مُسلمان نہیں تِھیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا اور عرض کِیا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور وہ کچھ حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں کیا میں رشتہ داری نبھاؤں تو فرمایا (((نعم صِلِی أُمَّکِ ::: جی ہاں ، اپنی والدہ (کے رشتے )کا تعلق پورا کرو))) صحیح البُخاری /کتاب الآداب/باب٨،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس تعلیم پر عمل صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیوں مسلسل ملتا تھا بلکہ اُن سے تربیت پائے ہوئے تابعین کی زندگیوں میں بھی ، جیسا کہ """ ربعی بن عامر رحمہُ اللہ """ جو تابعین میں سے ہیں ، کو جب ایرانی سپہ سالار رُستم کے پاس بھیجا گیا اور اُس نے پوچھا کہ """ تُم لوگ کون ہو اور کیوں آئے ہو ؟ """ تو اُنہوں نے کہا """ ہم وہ لوگ ہیں جِنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے کہ جِسے اللہ چاہے اُسے ہم بندوں کی عِبادت سے نکال کر بندوں کے رب کی عِبادت کی طرف لے جائیں اور دُنیا کی تنگی سے وسعت کی طرف لے جائیں """،
::::: پس ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمیں اللہ نے اِس لیے بھیجا ہے کہ ہم لوگوں میں اپنے رب اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مُحبت اور آخرت میں اپنے بچاؤ کی فِکر بیدار کریں ، ،،،،
غیر مُسلم ہمارے معاملات اور اِخلاقیات کے ذریعے ہی اِسلام کو پہچانتے ہیں ، کہ ہم آپس میں اور اُن کے ساتھ کِس طرح معاملات طے کرتے ہیں اور کِس اِخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں ، اگر ہمارے معاملات اور اخلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مُطابق ہوں گے تو ہم اِسلام کے اچھے نمائندے ہیں ، اور اگر نہیں تو ہم نہ صِرف غیر مُسلموں میں اپنے دِین کی خوبصورتی اور حقانیت کو خراب کرنے کا سبب ہیں بلکہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مُبارک کے بارے میں منفی سوچ اور اُن کی شان میں گُستاخی کی جرات پیدا ہونے کا سبب ہیں ، ،،،،،
اور اِس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ معاملات اپنائیں اور ہر معاملے کو اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت کے مُطابق نمٹائیں، لہذا جو اپنے دِین اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مُحبت کرتا ہے اُسے چاہیئے کہ وہ اُس مُحبت کو عملی طور پر ثابت کرے ، صرف دعویِٰ مُحبت نہ کرے ۔

اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ علی آلِ إبراہیم وَبَارِک
علی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ علی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 24-07-08, 04:22 PM   #2
Senior Member
 
تفسیر حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) (

بہت اچھی لکھا ہے ۔
جزاک اللہ خیرا
تفسیر حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 25-07-08, 02:34 AM   #3
Senior Member
 
یحیٰی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 10,544
کمائي: 188,945
شکریہ: 9,539
7,566 مراسلہ میں 15,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) (

شکریہ
یحیٰی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 27-07-08, 03:10 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) (

السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ، جزاکما اللہ خیرا ، بھائی تفسیر اور بھائی جاوید دُعا بھی کیا کیجیے کہ اللہ ہم سب کو خیر اور نیکی میں سے جو کچھ پڑہنے لکھنے سننے کہنے کی توفیق دیتا ہے اُس پر عمل کی توفیق و ہمت بھی دے اور اُس عمل کو قبول بھی فرمائے، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, اللہ, اندازِ, انسان, بہترین, بھائی, تعلیم, جلد, حدیث, دُعا, دستور, رشتے, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) 2 عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 07-03-11 12:40 AM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) ::::: sahj پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 22-06-09 04:56 PM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصرا) طارق راحیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 7 28-02-09 10:28 PM
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) ::: عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 4 10-09-08 06:52 AM
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سیرت مبارک (مختصرا) ::::(3) عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 13-07-08 11:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger