واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-09-08, 05:18 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) :::

::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) :::



::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا ( 8 ) :::

::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم سے مُحبت اور اُن کی تابع فرمانی :::::
::::: ہم نبی صلی اللہ علیہ وعلی وسلم سے محبت کیوں کریں اور ان کی اتباع کیوں کریں؟ :::::

کیا آپ اپنے آپ سے یہ مندرجہ بالاسوال نہیں پوچھیں گے ؟ ، یا آپ اس کا جواب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ؟
یقینا آپ اِس سوال کا جواب جاننا پسند کریں گے ، لیجیئے شیخ الاسلام اِمام ابن تیمیہ رحمۃُ اللہ علیہ سے اِس کا جواب سُنیے ، کہتے ہیں """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے کسی بھی اور چیز سے زیادہ محبت کرنے اور ان کی کسی بھی اور شخص سے زیادہ تعظیم کرنے ، کا سبب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی خیر حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم پر ایمان لا کر اور ان کی اتباع کر کے ہی ہم دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی خیر حاصل کر سکتے ہیں ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کااور اللہ کی رحمت تک پہنچنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں ہے ،اور یہ یوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم پر ایمان لایا جائے ، ان سے ہر کسی سے بڑھ کر محبت کی جائے اور ان کی اتباع کی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ہی وہ ذات ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے عذاب سے ہمیں بچائے گا ، اور وہ ہی ایک راستہ ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت کی ہر خیر عطا فرمائے گا ، تو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے سب سے زیادہ فائدے والی نعمت ایمان ہے اور یہ نعمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے ذریعے کے علاوہ اور کسی ذریعے سے حاصل ہونے والی نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ہی وہ ہستی ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالی کِسی کوکفرو شرک کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل فرماتا ہے ، اور ایسا ہون جانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے علاوہ اور کوئی راستہ ( اللہ کی طرف سے مُقرر) نہیں ہے ،کسی کے لیے بھی اس کی ذات یا اس کے اہل و عیال (یا) کوئی بھی اس کو اللہ تعالی کو عذاب سے نہیں بچا سکتا (پس اللہ کے عذاب سے بچنے اور اللہ کی رھمت حاصل کر کے اُس کی جنّت میں داخل ہو سکنے کا )کوئی ذریعہ نہیں سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی ذات ِ مبارک پر ایمان لا کر ان کی مکمل اتباع کرنے کے """ ( مجموعہ الفتاوٰی)،
اگر کوئی بھی شخص اس چیز پر غور کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے ذریعے اللہ تعالی نے اس کو کتنا عظیم اور بڑا فائدہ دیا ہے ، کہ اللہ تعالی نے اس کو کفرو شرک کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں داخل فرمایا تو اس بات پر غور کرنے والا یہ جان لے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ہی وہ اکیلا سبب ہیں جس کی وجہ سے وہ شخص ان پر ایمان لانے کے بعد اور ان کی تابع فرمانی اختیار کرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے عیش و آرام میں داخل ہو سکتا ہے، اور دنیا اور آخرت کے ہر قسم کے فائدے حاصل کر سکتا ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی محبت اور کسی بھی اور چیز سے زیادہ ان کی توقیرو تعظیم اور ان سے محبت کرنا یہ ان کا حق ہے لیکن افسوس کہ آج لوگوں کی اکثریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے اس حق کو اپنی غفلت اور لا علمی کی وجہ سے جانتی نہیں ، اور ان کا یہ حق ادا نہیں کر پاتی ہر وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم پر ایمان لایا، صحیح مطلوب درجہ تک پہنچا ہواایمان ، وہ اپنے اندر یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی محبت پاتا ہے ، اب اِن اِیمان لانے والوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کو اللہ سبحانہُ وتعالیٰ نے یہ محبت بہت زیادہ عطاء فرمائی اور کچھ ایسے ہیں جن کو یہ محبت تھوڑی ملی، جیسے کہ ایسے لوگ جن کا زیادہ وقت غفلت میں گزرتا ہے اور وہ لوگ دنیا کی مشغولیات اور محبتوں اور لالچ میں مشغول رہتے ہیں لیکن جب اِن کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کو دیکھنے کے شوق میں بہت زیادہ آگے بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایسے کاموں پر فوراً راضی ہو جاتے ہیں کہ جن کے ذریعے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کا قرب حاصل کر سکےں ،اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا دیدار کر سکےں، لیکن ،یہ اُن کی یہ کیفیت ، یہ شوق ، یہ مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت تھوڑے وقت کے لیے ظاہرہوتی ہے ، وقتی طور پراُن کے اندر یہ جذبہ بیدار ہوتا ہے اور اُس کے بعد پھر سے دنیا کے مال ، بیوی، بچوں ، بہنوں ،بھائیوں ، رشتے داروں ، کاروبار ، تجارت کے شوق اُن پر حاوی ہو جاتے ہیں اور بات آئی گئی ہو جاتی ہے ۔ (فتح الباری ، بتصرف)
یا د رکھیے ، ایمان کی تکمیل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے محبت ضروری ہے ( اِس بات کی تفصیل '''اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیجیئے ''' نامی سلائیڈ شو میں بھی شامل کیا گیا ہے، اور اِس محبت کے فائدے اور تقاضا بھی بیان ہوا ہے )
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے (قُل إِن کَانَ آبَاؤُکُم وَأَبنَآؤُکُم وَإِخوَانُکُم و َأَزوَاجُکُم وَعَشِیرَتُکُم وَأَموَالٌ اقتَرَفتُمُوہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخشَونَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرضَونَہَا أَحَبَّ إِلَیکُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَأتِیَ اللّہُ بِأَمرِہِ وَاللّہُ لاَ یَہدِی القَومَ الفَاسِقِینَ ::: ( اے رسول ) کہہ دیجیئے اگر اپنے باپ دادا اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور خاندان اور مال جو تُم لوگ جمع کرتے ہو اور تجارت جِس کے خراب ہونے کا تُمہیں ڈر ہے اور گھر جو تُمہیں پسند ہیں ( اگر یہ سب کچھ ) تُم لوگوں کو اللہ اور اُسکے رسول اور اللہ کی راہ میں جِہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ( دُنیا اور آخرت میں تُماری ذلت و تباہی کے لیے ) اللہ کا حُکم آ جائے اور (اگر ایسا ہی کرتے رہو گے تو یاد رکھو ) اللہ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ) سورت التوبہ /آیت ٢٤ ،
غور فرمائیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اپنی ہر ایک چیز سے زیادہ مُحبت نہ کرنے والا اللہ کے ہاں فاسق ہے ، جی ہاں فاسق ہے ،
عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ''' ایک دِن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ تھے اور اُنہوں نے عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہُ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، تو عُمر رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: اے اللہ رسول آپ مجھے میری جان کے عِلاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((( لا وَالَّذِی نِفسِی بِیدہِ حَتٰی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیکَ مِن نَفْسِکَ :::نہیں اُسکی قسم جِس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک کہ میں تمہیں تُماری جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ))) تو عُمر رضی اللہ عنہُ نے عرض کیا ::: جی اچھا تو پھر اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((( الْآنَ یا عُمَرُ ::: اب اے عُمر)))) (یعنی اب تُمہارا اِیمان مکمل ہوا اے عُمر) صحیح البُخاری /کتاب الاَیمان و النذور /باب٢،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( لَا یُؤمِنُ أحدُکم حَتٰی أَکُونَ أَحَبَّ إلیہِ مِن وَلَدِہِ وَوَالِدِہِ وَالنَّاسِ أَجمَعِین ::: تُم سے کوئی بھی اُس وقت تک اِیمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے بیٹے ، باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ))) صحیح البُخاری / کتاب الاِیمان /باب٦
امام الخطابی کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ''' تم میری محبت میں اتنے سچے ہو جاو کہ اپنے آپ کو میری اطاعت میں فنا کر دو۔ اور اپنی خواہشات پر میری خوشی کو ہمیشہ مسلط رکھو ۔ خواہ تمہیں ایسے کرنے میں کتنی ہی تکلیف اور پریشانی برداشت کرنا پڑے '''
ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم نے فرمایا ((( إنما مَثَلِی وَمَثَلُ النَّاس کَمَثَلِ رَجُلٍ استَوقَدَ نَارًا فلما أَضَاء َت ما حَولَہُ جَعَلَ الفَرَاشُ وَہَذِہِ الدَّوَابُّ التی تَقَعُ فی النَّارِ یَقَعنَ فیہا فَجَعَلَ یَنزِعُہُنَّ وَیَغلِبنَہُ فَیَقتَحِمنَ فیہا فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِکُم عن النَّارِ وأنتُم تَقحَمُون فِیہا ::: میری اور لوگوں کی مثال ایسے ہے کہ جیسے ایک شخص نے آگ جلائی اور جب اُس آگ نے اپنے ارد گرد کی چیزوں کو روشن کر لیا تو پتنگے اور کیڑے جو آگ میں آ گرتے ہیں اُس آگ میں گرنے لگے اور وہ شخص ان کو آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آتے اور آگ میں جا گرتے ہیں ، تو میں تُم لوگوں کی کمر پکڑ کر تُم لوگوں کو آگ سے بچا رہا ہوں اور تُم لوگ اُس میں گرنا ہی چاہتے ہو ))) (صحیح البُخاری)
صحیح مُسلم کی روایت کے الفاظ ہیں ((( إنَّما مَثَلِی وَمَثَلُ أُمَّتِی ::: میری اور میری اُمت کی مِثال )))
دیکھا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنی اُمت سے جِس میں ہم بھی شامل ہیں کتنی مُحبت فرماتے ہیں کہ ہر اس چیز سے جو ہمیں تکلیف دے دور رکھنے کی بھر پور کوشش فرماتے ہوئے ہمیں سب کچھ بتا گئے ، اب آپ ہی بتائیے کیا جہنم کی آگ سے بڑھ تکلیف دہ چیز کوئی اور ہے ؟
یہ بھی سُنیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہم سے اتنی محبت فرماتے تھے کہ ہمیں دیکھنے کی خواہش کا اظہار فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا(وَدِدْتُ انی لَقِیتُ إخوانی) صحابہ رجی اللہ عنہم نے عرض کِیا ::: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ تو فرمایا ((( أَنْتُمْ أصحَابی وَلَکِنْ إخوانی الَّذِینَ آمَنُوا بی ولم یرونی ::: تُم لوگ میرے صحابی ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر اِیمان لائے اور مجھے دیکھا نہیں))) (مُسند أحمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم نے ہمیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال اِیمان کی روشنی میں داخل کرنے کے لیے، اور جہنم کے راستے سے اُٹھا کر جنّت کی راہ پر ڈالنے کے لیے کتنی تکلیفیں برداشت کیں،
کیا اب بھی ہم اُن سے سچی عملی مُحبت نہ کریں گے ؟
جبکہ اللہ اور خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم نے ہمیں اِس مُحبت کا حُکم دِیا ہے اور اِس مُحبت میں ہمارا ہی فائدہ ہے ، نہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا ، کیونکہ اگر ہم اُن سے محبت نہ کریں گے تو یہ ہمارا نقصان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی ذاتِ مبارک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تو آج ہم سوچیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی کتنی حیاء ہے ؟ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے کتنی محبت ہے؟ ہم آج اپنے اعمال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے مُحبت کے دعوے اور مُحبت کو سامنے رکھیں اور ذرا دیکھیں کہ ہم قیامت کے دن کس مُنہ سے اُن کو اُن کو حوض پر ملیں گے؟ اور کون سا عمل ہمارا ایسا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی شفاعت کی امید رکھیں ؟ اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی اطاعت ہم نے ایسی کی ہے یا کون سی اطاعت ہم ایسی کرتے ہیں جس کو لے کر ہم جنت میں داخل ہوسکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے سامنے پیش ہوسکیں اور اُنہیں دکھائیں کہ اے اللہ کے رسول ہم آپ کی یہ یہ اطاعت کرتے تھے ، سوچئے اور اپنے اعمال کا اپنے عقائد کا جائزہ لیجیے اور اپنے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی محبت اُس درجے پر پیدا کیجیے اور ان کی اطاعت اس درجے پر اختیار کیجیے جو درجہ مطلوب ہے ۔
میرا سب کچھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قُربان ہو جائے ۔
اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ عَلی آلِ إبراہیم وَبَارِک
عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ عَلی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پیاسا (07-09-08), تفسیر حیدر (07-09-08), حسنین ایوب (25-12-09), سیپ (10-09-08), طارق راحیل (15-08-09)
پرانا 06-09-08, 02:21 AM   #2
Senior Member
 
تفسیر حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) :::

جزاک اللہ خیرا چچا۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-09-08, 03:15 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) :::

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، و ایاک یا ابن اخی رقم 2 ، کیا خوش ہو کر اشتیاق احمد صاحب کے ناول پڑھنے کا مشورہ دے رہے ہیں والسلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
تفسیر حیدر (07-09-08)
پرانا 07-09-08, 03:20 AM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) :::

وعلیکم السلام!
چچا جان! یہ بھتیجا رقم 2 کیا ہوتا ہے؟ انسانوں کو رقموں میں بدلا جا سکتا ہے کیا؟
ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
تفسیر حیدر (07-09-08)
پرانا 10-09-08, 06:52 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,556
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مختصرا (8) :::

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام!
چچا جان! یہ بھتیجا رقم 2 کیا ہوتا ہے؟ انسانوں کو رقموں میں بدلا جا سکتا ہے کیا؟
ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے
والسلام علیکم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھتیجے ، یہ بھتیجا رقم دو وہ ہوتا ہے جو بھتیجا رقم ایک کے بعد بھتیجگی میں داخل ہوتا ہے ، کلاس بھتیجاں میں رول نمبر دو ، رقم ایک تو آپ ہیں ، اور تسیر رقم دو ہیں ، اللہ کا کرم جاری رہا تو ان ارقام میں اضافہ ہوتا رہے گا ، آپ کو کیا مسئلہ ہے اکیلے ہی بھتیجا رہنا چاہتے ہیں ،
آہو پتر ، تسی ہٹاں تے نئیں وکدے ، اسے لیے تے رقماں لانے پے آن ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, green, کمر, پسند, نظر, مکمل, محبت, آج, ایمان, اللہ, بچوں, جواب, خوش, راستہ, رشتے, شخص, صحیح, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) 2 عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 07-03-11 12:40 AM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) ::::: sahj پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 22-06-09 04:56 PM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصرا) طارق راحیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 7 28-02-09 10:28 PM
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) ( عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 3 27-07-08 03:10 AM
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سیرت مبارک (مختصرا) ::::(3) عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 13-07-08 11:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger