واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




تاریخ؟ سیرت نبوی پر لکھی گئی چند کتابیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-09-08, 10:56 PM   #1
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,925
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Arrow تاریخ؟ سیرت نبوی پر لکھی گئی چند کتابیں

تاریخ؟ سیرت نبوی پر لکھی گئی چند کتابیں

سیرت نبوی پر لکھی گئی چند کتابیں

تاریخ، واقعات ماسبق کا بیان ہے جس کے قابل اعتماد ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ واقعہ کے مطابق ہو اور Axiological نقطہ نگاہ سے سازگار ہو۔ تاریخ قوموں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی توجیہ کا نام ہے۔

مگر تاریخ بکھرے ہوئے چند واقعات کا مجموعہ بھی نہیں اور نہ ہی چند بڑے آدمیوں کی سوانح حیات ہے بلکہ تاریخ وسیع معنوں میں انسانوں کی مادی کشمکش کا مرقع ہے۔ تاریخ مجموعی طور پر کہیں عوام و خواص کی جنگ کی شکل میں۔۔۔ کہیں سرمایہ دار و مزدور، حاکم ومحکوم کے حقوق کے تعین کی صورت میں۔۔۔ اور کہیں چند ایسے ہمہ صفت و ہمہ جہت انسانوں کے اعلیٰ کردار، معاملہ فہمی، فرض شناسی کو نمایاں کرتی نظر آتی ہے جن کے عزم وحوصلہ اور بروقت قوت فیصلہ کی وجہ سے حق کامیاب اور باطل شکست سے دوچار ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علم و تحقیق کے میدان میں انسانی تہذیب کے ابتدائی آثار سے لیکر آج کے ترقیاتی مسائل فلسفہ تک دنیائے انسانیت تحقیق کے سہارے ہی آگے بڑھی ہے۔ مذہب کا مطالعہ اور عقیدوں کا تضاد بھی تحقیق طلب ہے اور خصوصاً فی زمانہ اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے لیکن شرط یہ ہے کہ مفروضات اور اشتہابات سے پہلو تہی کرکے تدبر اور تفکر سے غیر جانبدارانہ محاکمہ کیا جائے۔

تاریخ اور مطالعہ مذہب کے باب میں دنیائے انسانیت مسلمانوں کے اس کارہائے نمایاں کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جس میں کسی مذہب کے پیروکاروں نے اپنی مقدس شخصیات یا ہمہ صفت اکابرین کے مشاغل روزو شب کی حفاظت اس طرح کی ہو جس طرح مسلمانوں نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بلکہ ان سے معمولی تعلق رکھنے والی شخصیات کے مشاغل روزو شب کو بھی محفوظ رکھا وہ تمام لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال و اقوال، ضروریات زندگی کی اشیاء، تحریر و تدوین کے فرائض سرانجام دیتے تھے ان تمام کے اسماء اور افعال تک اسلام کی تاریخ کے اندر محفوظ ہیں حتی کہ راویان حدیث، ان تمام لوگوں کے نام، تاریخ، زندگی، اخلاق، عادات، تعلیم و تعلم، تلامذہ و اساتذہ کے ذکر کو بھی کمال دیانتداری کے ساتھ احاطہ تحریر میں لائے جن کی تعداد لاکھوں تک جاپہنچتی ہے۔ ان سب کے مجموعہ احوال کو ’’اسماء الرجال‘‘ کہتے ہیں۔

جرمن ڈاکٹر اسپر نگر مسلمانوں کے اس عظیم الشان کارنامے کا اعتراف کرتے ہوئے رقمطراز ہے کہ ’’کوئی قوم دنیا میں ایسی نہیں گزری، نہ آج موجود ہے جس نے مسلمانوں کی طرح اسماء الرجال کا عظیم الشان فن ایجاد کیا ہو جس کی بدولت آج پانچ لاکھ شخصیات کا حال معلوم ہوسکتا ہے‘‘۔

غلط فہمیاں اور افواہیں پھیلا کر دین حق کی شمع بجھا دینے کی فکر خام رکھنے والوں نے عموماً یہ مشہور کررکھا ہے کہ اسلام میں لکھنے لکھانے کا کام تابعین نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے 100سال بعد شروع کیا۔ اس پراپیگنڈہ کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ درج ذیل سطور میں ہم قارئین کو مختصراً بتانے کی کوشش کریں گے کہ اس کام کا آغاز عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ذریعے ہوچکا تھا۔ بعد ازاں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہی کی زندگیوں میں تابعین نے دور دراز کے مشکل ترین سفر کرکے تحقیق و تدوین کی غرض سے ان واقعات، حالات اور روایات کو ایک ایک کے دروازے پر جاکر متعلقہ لوگوں سے اس بارے تصدیق کروانے کے بعد ہمیں فراہم کردیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ’’ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سوا مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنتے لکھتے جاتے تھے اور میں لکھتا نہ تھا‘‘ (بخاری باب کتابۃ العلم) سنن ابوداؤد اور مسند ابن حنبل میں ہے کہ بعض لوگوں نے عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی غصہ کی حالت میں ہوتے تو کبھی خوش اور تم سب کچھ لکھ لیتے ہو۔ عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس بنا پر لکھنا چھوڑ دیا آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دہن مبارکہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا تم لکھ لیا کرو اس سے جو نکلتا ہے حق نکلتا ہے (ابوداؤد) عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس مجموعے کا نام صادقہ رکھا تھا (ابن سعد جلد دوئم) اور کہا کرتے تھے کہ میرے اندر زندگی کی آرزو صرف دو چیزوں نے پیدا کردی ہے جن میں سے ایک صادقہ ہے اور صادقہ وہ صحیفہ جو میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر لکھا ہے (دارمی)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک صحیفہ تھا جو ان کی تلوار کی نیام میں پڑا رہتا تھا اس میں متعدد حدیثیں لکھی ہوئی تھیں انہوں نے لوگوں کی درخواست پر دکھایا (بخاری دوئم)

ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگو ں سے پوچھا کہ کسی کو معلوم ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر کی دیت میں سے بیوی کو کیا دلایا ضحاک ابن ابوسفیان نے کھڑے ہوکر کہا مجھے معلوم ہے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لکھوا کر بھیجا تھا (دار قطنی نمبر2)

مروان نے خطبہ میں بیان کیا مکہ حرم ہے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر پکارا اور مدینہ بھی حرم ہے اور یہ حکم میرے پاس لکھا ہوا موجود ہے اگر تم چاہو تو میں اس کو پڑھ کر سناؤں۔ (ابن حنبل ج 4)

اسی طرح سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ضمن میں خلفائے اسلام، اسلاف محدیثین نے قناعت نہیں کی بلکہ مساجد میں اس فن کے بڑے بڑے اماموں کے لئے علیحدہ حلقے قائم کئے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبھی گوشوں پر کام صحابہ و تابعین نے شروع کئے۔ یہ سب ایسے کارہائے نمایاں ہیں جن کا اپنوں اور غیروں سب نے برملا اعتراف کیا۔ ایورنڈ با سوروتھ اسمتھ نے 1874ء میں لیکچر دیئے جو بعد میں کتابی شکل میں چھپے اس نے کہا ’’ہم مسیح کی ماں، مسیح کی خانگی زندگی، ان کے ابتدائی احباب، ان کے ساتھ تعلقات، ان کے مشن کے طلوع یا بیک وقت ظہور کے متعلق کیا جانتے ہیں؟ ان کی نسبت کتنے سوالات ہیں جو ہمیشہ سوالات ہی رہیں گے لیکن اسلام میں ہر چیز ممتاز ہے، یہاں دھندلا پن اور راز نہیں۔ ہم تاریخ رکھتے ہیں، ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اس قدر جانتے ہیں جتنا لیوتھر اور ملٹن کے متعلق (Muhammad & Muhammdanism lecture in Royel Institutiion of great Britian )

پروفیسر D.S Margoliuth نے 1905ء میں Heros of the Nations سیرت پر ایک زہریلی کتاب لکھی جس کے مقدمہ میں اس حقیقت کو وہ بھی نہ چھپا سکا۔

The biographers of the Prophet Muhammad form a long series it is imposible to end but which would be honourable to find place.

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مسلمان اسکالرز نے لاکھوں کتابیں لکھیں اور لکھ رہے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں غلامان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ سر سید احمد خان کے خطبات احمدیہ۔۔۔ مولانا حالی کے ’’مولود نامے‘‘ کے علاوہ ’’معراج نامے‘‘، ’’شمائل نامے‘‘، ’’نورنامے‘‘ تحریر ہوئے۔۔۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں جب علمائے اسلام کو کالے پانی کی سزائیں دی جا رہی تھیں عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اظہار کا سلسلہ تب بھی نہ تھم سکا۔۔۔ مفتی محمد عنایت کاکوری نے ایام اسیری میں سیرت پر بہترین کتاب ’’تواریخ حبیب الہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ لکھی۔۔۔ برصغیر کے غیر مسلم بھی سیرت نگاری میں پیچھے نہ رہے۔ لکشمن پرشاد کی کتاب ’’عرب کا چاند‘‘۔۔۔ پنڈت سندر لال کی کتاب ’’حضرت محمد اور اسلام‘‘۔۔۔ شردھے پرکاش کی کتاب ’’حضرت محمد صاحب‘‘۔۔۔ جے ایس دارا کی تصنیف ’’رسول عربی‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔۔۔ اسی دوران مسلم مفکرین کی تصانیف سیرت سامنے آئیں جنہیں عوامی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔۔۔ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کی پانچ جلدوں پر مشتمل مشترکہ کتاب ’’سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ عوام و خواص میں مقبول ہوئی۔۔۔ مولانا اشرف علی تھانوی کی ’’نشتر الطیب‘‘۔۔۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کی ’’مقدس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘۔۔۔ مولانا ادریس کاندھلوی کی ’’سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘۔۔۔ ڈاکٹر حمیداللہ کی ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی زندگی‘‘۔۔۔ مفتی محمد شفیع کی ’’آداب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘۔۔۔ پیر کرم شاہ الازہری کی ’’ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘۔۔۔ حکیم سعید کی ’’دانائے سبل‘‘۔۔۔ صفی الرحمن مبارکپوری کی ’’رحیق المختوم‘‘ نے سیرت نگاری کی تاریخ و روایت کو عالمانہ شان کے ساتھ آگے بڑھایا۔

20 ویں صدی کی آخری دہائیوں اور اکیسویں صدی کا آغاز عظیم الشان تجربات سے ہوا۔ جہاں Informations کا ہر سطح پر Explosion ہو رہا ہو۔۔۔ سرحدوں کے خاتمے کی باتیں ہو رہی ہوں۔۔۔ دل والے گلے مل رہے ہوں۔۔۔ جنگ کے شعلے دبا کر امن کی راہیں ہموار ہو رہی ہوں۔۔۔ نئی جستجو نے آسمان پر کمند ڈالی ہو۔۔۔ خلاؤں میں مستور سورج تلاش کئے جارہے ہوں۔۔۔ دور جدید کا تعلیم یافتہ طبقہ روشن خیال بن چکا ہو۔۔۔ عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محض مذہبی جنوں سے تعبیر کیا جارہا ہو۔۔۔ نام نہاد روشن خیال، مغربی مفکرین کی دریوزہ گری تو گوارہ کرلی جائے مگر سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور نمونہ، آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و محبت پرانی باتیں، اندھی تقلید قرار پائے۔۔۔ نام نہاد دینی قوتیں مفادات کے حصول کے لئے شعوری یا لاشعوری طور پر ’’مخالف کیمپ‘‘ کا حصہ بن چکی ہوں۔۔۔ اس دور زوال اور ذہنی پستی کے ماحول میں اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہوئے عالمگیر سطح پر عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نغمے الاپنا، فکر قرآن اور تعلیمات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ڈنکے بجانا ہر ایک کی بس کی بات نہیں ہے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (02-01-09), ابن جلال (23-09-08)
جواب

Tags
فن, فرض, کمال, کارنامے, پاک, واقعات, قرآن, لوگ, نظر, مکہ, محبت, مسائل, معلوم, آج, اللہ, اسلام, اعلیٰ, بہترین, تلاش, تعلیم, حال, سیرت نبوی, عشق, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حمیدالدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر تحقیقی وتقابلی مطالعہ(پی ایچ ڈی مقالہ) مسلم کتاب گھر 0 18-01-11 09:56 PM
سانحہ سیالکوٹ:ہتھکڑی سے محفوظ ڈی پی او سمیت چھ ملزم جیل چلے گئے جاویداسد خبریں 0 01-09-10 05:59 PM
سانحہ سیالکوٹ: معطل ڈی پی اووقار چوہان سمیت 5 پولیس اہلکار گرفتار گلاب خان خبریں 0 01-09-10 03:33 AM
انٹرنیٹ ویڈیوز جلد ہی ٹی وی پر بھی دیکھی جا سکیں گی وجدان خبریں 0 28-01-08 09:39 AM
ایمرجنسی کے خلاف مختلف شہروں میں اے پی ڈی ایم،پیپلز پارٹی اور اے این پی کے مظاہرے خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 03:05 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger