| 10 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (15-02-10), فرحان دانش (15-02-10), کنعان (16-02-10), نورالدین (09-03-10), مباح (19-02-10), محمدخلیل (15-02-10), ابو عمار (15-02-10), احمد بلال (16-02-10), راجہ اکرام (16-02-10), عبداللہ حیدر (15-02-10) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() |
۔
: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( راستے میں ) ملے اور میری سواری پانی کا ایک اونٹ تھا جو تھک چکا تھا اور بالکل نہ چل سکتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے اونٹ کو کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ بیمار ہے یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی ، تو پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں کے آگے ہی چلتا رہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تیرا اونٹ کیسا ہے ؟ میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے اچھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے ہاتھ بیچتا ہے ؟ مجھے شرم آئی اور ہمارے پاس پانی لانے کے لئے اور کوئی اونٹ بھی نہ تھا ، آخر میں نے کہا کہ ہاں بیچتا ہوں ۔ پھر میں نے اس اونٹ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اس شرط سے بیچ ڈالا کہ میں مدینے تک اس پر سواری کروں گا ۔ پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے ، مجھے ( لوگوں سے پہلے مدینہ جانے کی ) اجازت دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ۔ میں لوگوں سے آگے بڑھ کر مدینہ آپہنچا ۔ وہاں میرے ماموں ملے اور اونٹ کا حال پوچھا ، تو میں نے سب حال بیان کیا ۔ انہوں نے مجھے ملامت کی ( کہ تیرے پاس ایک ہی اونٹ تھا اور گھر والے بہت ہیں ، اس کو بھی تو نے بیچ ڈالا اور اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو سیدنا جابر کا فائدہ منظور ہے ) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کے جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے کنواری سے شادی کی ہے یا نکاحی سے ؟ میں نے کہا کہ نکاحی سے ۔ آپ نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ کی کہ وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا ۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ میری کئی چھوٹی چھوٹی بہنیں چھوڑ کر فوت ہو گیا یا شہید ہو گیا ہے تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں شادی کر کے ان کے برابر ایک اور لڑکی لاؤں جو نہ ان کو ادب سکھائے اور نہ ان کو دبائے ، اس لئے میں نے ایک نکاحی سے شادی کی تاکہ انکو دبائے اور تمیز سکھائے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں صبح ہی اونٹ آپ کی خدمت میں لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت مجھے دی اور اونٹ بھی لوٹا دیا صحیح مسلم خرید و فروخت کے مسائل باب : اونٹ بیچتے وقت اس پر سوار ہونے کا استثناء کرنا جائز ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | مباح (20-02-10), عبداللہ حیدر (19-02-10) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
صحیح مسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل Last edited by sahj; 21-02-10 at 10:07 AM. |
|
|
|
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() |
صحیح مسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل |
|
|
|
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() |
سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ( فاقہ وغیرہ کی ) تکلیف سے ہماری آنکھوں اور کانوں کی قوت جاتی رہی تھی ۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پیش کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں قبول نہ کرتا تھا ۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے ۔ وہاں تین بکریاں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا دودھ دوہو ، ہم تم سب پئیں گے پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہم میں سے ہر ایک اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ چھوڑتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے ، نماز پڑھتے ، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے ۔ ایک رات جب میں اپنا حصہ پی چکا تھا کہ شیطان نے مجھے بھڑکایا ۔ شیطان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت ہے ، مل جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہو گی ؟ آخر میں آیا اور وہ دودھ پی گیا ۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا تو اس وقت شیطان نے مجھے ندامت کی اور کہنے لگا کہ تیری خرابی ہو تو نے کیا کام کیا ؟ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور دودھ کو نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی ۔ میں ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور مجھے نیند بھی نہ آ رہی تھی جبکہ میرے ساتھی سو گئے اور انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا ، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی ، اس کے بعد دودھ کے پاس آئے ، برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور میں تباہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! کھلا اس کو جو مجھے کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے ۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا ، چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کرو۔ پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہےں ۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا ہے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے ( یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہیں کرتے تھے ) ۔ اس میں میں نے دودھ دوہا ، یہاں تک کہ اوپر جھاگ آ گیا ( اتنا بہت دودھ نکلا ) اور میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے حصے کا دودھ رات کو پیا یا نہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ دودھ پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر مجھے دیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اور پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا ۔ پھر مجھے دیا ، جب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے ، تب میں ہنسا ، یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر گر گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مقداد ! تو نے کوئی بری بات کی ؟ وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا حال ایسا ہوا اور میں نے ایسا قصور کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت کا دودھ ( جو خلاف معمول اترا ) اللہ کی رحمت تھی ۔ تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے کہ وہ بھی یہ دودھ پیتے ؟ میں نے عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا کلام دے کر بھیجا ہے کہ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں جب آپ نے اللہ کی رحمت حاصل کر لی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی تو کوئی بھی اس کو حاصل کرے
صحیح مسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل |
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | مباح (23-02-10) |
![]() |
| Tags |
| color, green, size, فرمایا, گے, پہلے, پیغمبر, وسلم, قرآن, لیکن, لائے, ملے, ملا, معجزہ, آدمی, ایمان, ایسا, اللہ, بھیجا, دوسرے, روایت, رسول, زیادہ, سیدنا, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ::::::: اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کیجیے ::::::: | عادل سہیل | عقیدہ رسالت | 16 | 23-08-11 01:39 AM |
| بھروسہ | فیصل ناصر | قہقہے ہی قہقے | 10 | 28-04-11 06:39 PM |
| ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین | آبی ٹوکول | عمومی بحث | 2 | 31-03-11 08:11 PM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |
| سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم | عبداللہ حیدر | عقیدہ رسالت | 6 | 11-03-09 12:35 AM |