واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص)




سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-11-09, 03:56 PM  
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا

سیدہ کائینات سردارخواتین جنت، سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحبزادی ہیں اور جنتی خواتین کی سردار ، ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اہلبیت کرام سے محبت کا حکم فرمایا ہے:
قل لا اسئلکم عليه اجرا الا المودۃ فی القربی۔ ترجمہ :ائے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجئے ! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے
(سورہ شوریٰ:23)

ونیزارشاد خدا وندی ہے:
انمايريدالله ليذهب عنکم الرجس اهل البيت ويطهرکم تطهيرا-
ترجمہ:یقینااللہ تعالیٰ تویہی چاہتا ہے ائے نبی کے گھروالوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے او رتمہیں پاک کرکے خوب ستھراکردے
(سورۃالاحزاب ۔33)

ولادت بابرکت:
آپ کی ولادتِ مبارکہ اعلانِ نبوت کے پہلے سال ہوئی، اور ایک روایت کے مطابق اعلان نبوت سے پانچ سال قبل آپ کی ولادت بابرکت ہوئي-
(سبل الھدی والرشاد،ج11،ص37)

القاب مبارکہ :

آپ کے القاب مبارکہ یہ ہیں ۔ سیدۃ نساء اھل الجنۃ ، زھراء، بتول،بضعۃ الرسول، سیدہ ، زاہدہ، طیبہ، طاہرہ وغیرہ۔


عقد نکاح :
ہجرت کے دو سال کے بعد آپ کا عقد نکاح حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے ہوا۔

معجم کبیر طبرانی میں حدیث پاک ہے :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.

ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ حضور نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا:بیشک اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا )کا نکاح علی (رضی اللہ عنہ ) سے کرواؤں- (معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر: 10152)

اولاد امجاد:
آپ کے بطن مبارک سے تین صاحبزادے
(1)امام ہمام حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ،
(2) امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ
(3) حضرت سیدنا امام محسن رضی اللہ عنہ ہیں
اور تین صاحبزادیاں
(1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا ،
(2) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا،
(3) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔

وصالِ مبارک:
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصالِ مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصالِ اقدس کے چھ ماہ بعد رمضان المبارک اورایک روایت کے مطابق تین ماہ بعدماہ جمادی الاخری 11ہجری میں ہوا، اور آپ کا مزارمبارک جنت البقیع شریف میں ہے۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (18-11-09), کنعان (19-11-09), محمدخلیل (21-11-09), ابن جلال (24-11-09), اخترحسین (20-11-09), حیدر Rehan (18-11-09), راجہ اکرام (20-11-09), عادل سہیل (19-11-09)
پرانا 20-11-09, 11:58 PM   #16
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,098
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,388 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم فاروق بھائی

آپ کے مزید کراس سوالات پر میں آپ کو مزید مشاھدات کرواؤں گا مگر ایک بات کی درخواست ھے کہ اس میں میں آپ کو سمجھانے کے لئے کوشش کروں گا اور خدارا یہ نہیں سمجھا جائے کہ میں نے کسی کے درجہ کو کم یا زیادہ کرنے کی کوشش کی ھے۔ کیونکہ جو درجے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر ہو چکے ہیں وہ نہ کوئی کم کر سکتا ھے اور نہ کوئی زیادہ۔



يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً
4:59
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو
اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو
اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی،
پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو
تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو
اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو،
(تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے




فاروق بھائی آپ تو طالب علم ہیں اور میں تو طالب علم سے بھی بہت نیچے درجے کا ہو چلیں پھر آپ کے اسی سوال پر آگے بڑھتے ہیں آپ کے اسی سوال کے سیریل میں۔

صاحب قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمۃ الزاھرا رضی اللہ تعالی کو بھی جنت کی سردار کہا تو یہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ھے اس پر آپ کو اور مجھے یا کسی اور کو پریشان ہونی کی کوئی ضرورت ہی نہیں جو یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ یہ کلیم کر رہے ہیں کہ جو حدیث قرآن کے حکم کے خلاف ہو اسے نہیں مانا جائے گا بالکل ٹھیک ھے میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن اس پر آپ کے سمجھنے میں شائد تھوڑی غلطی ہو رہی ھے۔ آپ نے قرآن کی سورۃ نمبر3 کی آیت نمبر42 کوٹ کی ھے
اور آپ کے کہنے کے مطابق کہ شائد اس روایت کے فاطمۃ الزہرۃ رضی اللہ تعالی جنت کی سردار ہونگی کے بعد اللہ تعالی نے حضرت مریم علیہ السلام کا درجہ کم کر دیا تھا۔ تو فاروق بھائی یہ روایت تو اس وقت اللہ تعالی کے اس حکم کے خلاف ہو گی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہوتا کہ فاطمۃ الزاھرا جنت کی سردار ہونگی اور حضرت مریم علیہ السلام نہیں‌ ہونگی۔ 3:42 کی آیت کے مطابق بھی اللہ تعالی نے انہیں جنت کی سردار مقرر نہیں کیا جیسے آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کو اوپر تو اٹھا لیا تھا اور قرآن میں یہ نہیں لکھا کہ ان کو واپس بھی بھیجیں گے۔ آپ کے اس نظریہ کے مطابق بھی فاطمۃ الزاھر رضی اللہ تعالی کے سردار ہونے والی حدیث بھی اس قرآنی آیت سے نہیں ٹکراتی۔ اور آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی حکم اللہ کے حکم کے خلاف نہیں پورے قرآن میں اللہ تعالی نے اپنے نام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی لیا ھے۔ پھر کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ یہ سوچا بھی جائے۔



اقتباس:
وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
3:42
اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک ﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہانوں کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے۔
اس آیت میں مریم علیہ السلام کا ذکر ھے جنت کی سردار ہونے کا ذکر تو اس آیت میں کہیں بھی نہیں ھے چلیں اس پر ایک اور آیت پیش خدمت ھے اس پر بھی غور کریں اس میں بھی اللہ سبحان تعالی مثال پیش کر رہے ہیں فرعون کی بیوی آسیہ کے بارے میں جو انہوں نے دعا فرمائی تھی کہ جنت میں ان کے لئے بھی گھر بنا دے۔


وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
66:11
اور اللہ نے اُن لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں
زوجۂ فرعون (آسیہ بنت مزاحم) کی مثال بیان فرمائی ہے،
جب اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تو میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے
اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عملِ (بد) سے نجات دے دے
اور مجھے ظالم قوم سے (بھی) بچا لے



اب آگے کی دو آیات کا مطالعہ بھی کریں جس میں اللہ سبحان تعالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے محبت اور تمام اھل بیت کی پاکی بیان کر رہا ھے۔
درجے سب کے بلند ہیں کسی کے حصے میں کوئی کمی نہیں اگر کمی ہو سکتی ھے تو ہماری سوچ میں ہو سکتی ھے دینے والے نے تو سب کو اس کے حصے کا ہی دیا ھے۔


قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى
ائے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیجئے ! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے
(سورہ شوریٰ:23)

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
33:33
اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے


فاروق بھائی آپ کی خواہش کے مطابق میں نے آپ کو قرآن مجید سے ہی ہر بات ثابت کرنے کی کوشش کی ھے۔ سمجھنا والا کام ہر ایک کی سوچ ہر منحصر ھے میرا کام تھا آپ کو معلومات فراہم کرنا۔

والسلام



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
صاحبو اور احبابو۔

میرا اصل سوال فاطمۃ الزہرۃ کی جنت کی سرداری کی روایت کے بارے میں تھا۔ رسول اللہ کی صاحبزادی ہونے کے ناطے ہم سب پر ان کی عزت و احترام واجب ہے۔ ان کی بزرگی دل سے قبول ہے اور عزت دل سے ہے۔ سلسہ وار روایات میں تواتر سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ان خوش نصیب افراد میں سے ایک ہیں جن کو باذن اللہ ، رسول اکرم نے جنت کی بشارت دی۔ ایسا ہونا عین ممکن ہے کہ رسول اللہ کو اللہ تعالی نے شفاعت کے مقام مھمود پر فائز کیا۔

ان بہترین کردار کی عظیم خاتون کے بارے میں‌یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ جنت کی سردار ہوں گی یعنی جنت کی بزرگ ترین خاتون ‌ہوں گی۔ مجھے اس امر کا حوالہ کبھی قرآن میں نہیں ملا۔

اس کے برعکس اللہ تعالی قرآن حکیم میں اس موضوع پر درج ذیل تفصیل عطا فرماتے ہیں۔

3:42 وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہانوں کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے۔

اگر ہم اپنے مذہبی جذباتی معاملہ ایک طرف ہٹا کر دیکھیں‌ تو حضرت فاطمہ الزہرۃ کا کم از کم جنت کی تمام عورتوں پر بزرگی رکھنے کی روایت، اس آیت کی روشنی میں کیا صورت اختیار کرتی ہے؟
کیا حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا درجہ اللہ تعالی نے بعد میں گھٹا دیا تھا اور اس منصب پر فاطمہ الزہرۃ کو فائز کردیا تھا؟


اگر ایسا مان لیا جائے کہ اللہ تعالی نے بعد میں ارادہ بدل دیا تو اس بدلے ہوئے حکم کو قرآن میں‌ پیش نیہں کیا لہذا کای یہ آیت 3:42 کس طور درست رہتی ہے؟
اگر یہ آیت درست نہیں رہتی تو پھر قرآن ---------- ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ -------- کیسے رہتا ہے؟

اس روایت کی بنیاد کیا ہے؟ اس کے راوی کون ہیں؟ یہ کب کتب روایات مں شامل ہوئی؟ اگر کوئی صاحب اس پر روشنی ڈالیں تو بہت ہی عنائت ہوگی۔

مجھے ایسے معاملات کو دیکھنے سے یہ آیت یاد آجاتی ہے:

3:23 أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوْتُواْ نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (علمِ) کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا وہ کتابِ الٰہی کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (کتاب) ان کے درمیان (نزاعات کا) فیصلہ کر دے تو پھر ان میں سے ایک طبقہ منہ پھیر لیتا ہے اور وہ روگردانی کرنے والے ہی ہیں

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 21-11-09, 12:00 AM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پیچھے جا کر دیکھ لیجئے، میں نے یہ سوال کیا ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرۃ کو دو عالم کی عورتوں پر بزرگی اللہ تعالی نے کس آیت میں عطا فرمائی؟ جب کہ مریم علیہا السلام کی بزرگی کے بارے میں اعلان واضح موجود ہے۔

آپ نے جن آیات کو پیش کیا ہے آپ ان میں صرف اورصرف لفظ اصطفی پر غور کررہے ہیں۔ اصطفی کسی کو دینا میں ملا، یہی اصطفی کسی کو عبادت پرملا،

لیکن کیا دونوں‌ جہانوں‌کی عورتوں پر اصطفی حضرت مریم علیھا السلام کے علاوہ جنابہ فاظمۃ الزہرۃ کو کب اور کہاں ملا، اس کا کوئی‌حوالہ عنایت فرمائیے تو عین نوازش ہوگی۔ ان تمام آیات مین اصطفی کے معانوں مین کوئی فرق نہیں‌ہے۔ اگر فرق ہے تو

دونوں جہانوں کی تمام عورتوں پر بزرگی عطا کرنے کا۔ آپ اس آیت کے معانی کچھ اور سمجھتے ہیں تو ہم سب کے علم میں اضافہ فرمائیے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (21-11-09)
پرانا 21-11-09, 12:09 AM   #18
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,098
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,388 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم فاروق بھائی صاحب

پیچھے جانے کی ضرورت تو تب ہو گی جب میں آپ کی باتوں کے جواب غلط دے رہا ہوں

آپ خود اپنی ایک بات پر قائم رہیں اور سیریل میں چلیں میں آپ کو آپکی ہر بات کا جواب آپ کے سوال کے سیریل میں فراہم کروں گا۔

آپ کہتے ہیں عیسی علیہ السلام کو اوپر جانے کا قرآن میں ذکر ھے
اور دوسری طرف آپ مریم علیہ السلام کی بزورگی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کو اس قرآنی آیت کے خلاف کہہ رہے ہیں۔

اب آپ ثابت کریں کہ یہ کیسے خلاف ھے۔
اور یہ بھی فرما دیں کے آپکی نظر میں کسی بات کا خلاف ہونا آپ اسے کس معنی میں لیتے ہیں۔

بہتر ہوتا کہ آپ میری پوسٹ کو پڑھ کر جواب دیتے بغیر پڑھے جواب دینے کا مطلب یہی ہوتا ھے کہ اپنی بات پر اڑے رہنا۔
2منٹ میں آپ نے یہ پوسٹ لکھ دی مگر پڑھنے کا وقت یہاں کہیں نظر نہیں آ رہا۔
ہا ہا ہا ہا

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
طاھر (21-11-09)
پرانا 21-11-09, 12:30 AM   #19
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
اگر یہاں اصفطی سے مراد سرداری ہے دنیا و آخرت کی سرداری ہے۔( جو کہ درحقیقت نہیں ہے) اور آپ کے بقول یہ سرداری دی جا چکی ہے اور لی نہیں جا سکتی تو کیا
مندرجہ ذیل آیت میں بھی اس سے مراد سرداری ہی لیں

وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا
اس کا مطلب ہوا کہ دنیا میں ابراھیم علیہ السلام کا اصفطی ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پیغمبروں کے سردار وہ مقرر ہو گئے دنیا میں۔۔۔۔۔۔۔ تو محمد صلی اللہ علیہ و سلم پھر کیا ہوئے؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-11-09, 01:01 AM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی کنعان بات کو مزید واضح کرنے کا بہت ہی شکریہ۔

وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ کی بابت یہ عرض ہے کہ جو بھی رسول اکرم کی سنت، حدیث یا حکم ہے وہ یقینی طور پر قابل اطاعت ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہیں۔ اہل بیت سے بناء کسی تفریق کے مھبت، عزت اور احترام ، اللہ کا حکمیعنی قرآن کی آیات ہونے کے ناطے اللہ تعالی کا حکم ہے اور فرض ہے۔ بنیادی طور پر یہی صورت حال رسول اللہ کی سنت کی بھی ہے کہ یہ ہم سب پر فرض‌ہے کہ وہ کریں جس کی رسول اکرم نے تاکید کی یا خود عمل کیا یا حکم دیا۔

جہاں بھی ضروری ہوتا ہے ایسی احادیث، احکامات، اور سنت کا باقاعدہ تذکرہ کرتا ہوں، قائیل ہوں اور ترویج کرتا رہتا ہوں۔

یہاں بات صرف اتنی ہے کہ دونوں جہانوں کی تمام عورتوں‌پر بزرگی اعلان اللہ تعالی اپنے قرآن حیکم میں ایک محترم خاتون جنابہ مریم علیھا السلام کے لئے کررہا ہے۔ ایسی بزرگی کو آپ سرداری کہیں یا نہ کہیں یہ وہ درجہ ہے جس پر اللہ تعالی نے کسی اور کو فائز نہیں کیا۔ جنت کی سرداری دوسرے لفظوں میں اسی عظیم بزرگی کی طرف اشارہ ہے جو جناب مریم علیہا السلام کا حصہ ہے۔

ہم اپنی محبت اور مذہبی جذبات میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ ایسی روایات کو چیلنج بھی نہیں‌کرتے جس میں رسول اکرم کو اللہ کے ہم سر بتایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اللہ تعالی نے رسول اکرم کو شفاعت کی اجازت دے کر مومنین کو جنت میں داخل کرنے کا حق دیا۔ یہ کچھ اصحابہ کرام مع حضرت فاطمہ الزہرہ کو ان کی زندگی میں‌ہی نوید سنا دی گئی ۔ سبحان اللہ،

لیکن قرآن کی آیت کو رد کرنا اور ایک خاتون کو عطا کی گئی بزرگی کی جگہ دوسری خاتون کو دینا ۔ ایسی روایت گھڑنے کے پیچھے کیا وجہ ہے، میں اس سوال کا جواب آپ کے لئے چھوڑتا ہوں۔ اگر آپ لوگ پوچھیں گے تو بتاؤں گا کہ حضرت مریم علیھا السلام کا درجہ حضرت فاطمہ الزہرۃ سے تبدیل کرنے والی روایات کے پیچھے کیا دشمناں اسلام کی کہانی ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-11-09, 01:04 AM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
اگر یہاں اصفطی سے مراد سرداری ہے دنیا و آخرت کی سرداری ہے۔( جو کہ درحقیقت نہیں ہے) اور آپ کے بقول یہ سرداری دی جا چکی ہے اور لی نہیں جا سکتی تو کیا
مندرجہ ذیل آیت میں بھی اس سے مراد سرداری ہی لیں

وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا
اس کا مطلب ہوا کہ دنیا میں ابراھیم علیہ السلام کا اصفطی ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پیغمبروں کے سردار وہ مقرر ہو گئے دنیا میں۔۔۔۔۔۔۔ تو محمد صلی اللہ علیہ و سلم پھر کیا ہوئے؟
رسول اکرم کی بزرگی میں کوئی شبہ نہیں‌ہے۔ تمام رسولوں کو اللہ تعالی برابر قرآر دیتے ہیں۔ ان کو اس دنیا میں ان کے وقت میں بزرگی عطا کی۔ دنیا کا مطلب زمان و مکان ہے نہ کہ سارے زمانے ہیں۔ جبکہ دونوں عالم سے مراد سارے زمانے اور سارے عالم ہیں۔ جیسے رب العالمین، تمام زمان و مکاں کا رب، رحمت للعالمین، سارے زماں و مکاں کے لئے رحمت۔ اس دنیا کے لئے بھی اور دوسری دنیا کے لئے بھی۔

والسلام

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-11-09, 01:23 AM   #22
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق صاحب ۔۔۔۔ خود ہی اپنے جواب پر غور کریں
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (21-11-09), حیدر Rehan (23-11-09)
پرانا 21-11-09, 10:20 AM   #23
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
رسول اکرم کی بزرگی میں کوئی شبہ نہیں‌ہے۔ اور تمام رسولوں کو اللہ تعالی برابر قرار دیتے ہیں۔ ان کو اس دنیا میں ان کے وقت میں بزرگی عطا کی۔ دنیا کا مطلب زمان و مکان ہے نہ کہ سارے زمانے ہیں۔ جبکہ دونوں عالم سے مراد سارے زمانے اور سارے عالم ہیں۔ جیسے رب العالمین، تمام زمان و مکاں کا رب، رحمت للعالمین، سارے زماں و مکاں کے لئے رحمت۔ اس دنیا کے لئے بھی اور دوسری دنیا کے لئے بھی۔

والسلام

والسلام
دنیا میں‌ ان کے وقت میں بزرگی عطا کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر کوئی قرآنی دلیل ہے کہ ان کے وقت میں عطا کی ۔۔ یقینا نہیں ہو گی
تو جب سیدنا ابراھیم علیہ السلام کو دنیا میں سردار بنا دیا، ان کا اصطفی ہو گیا تو پھر ان کی سرداری کو ختم کیوں کیا گیا ۔۔۔کیوں سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کو سب کا سردار بنا دیا گیا

میرا خیال ہے آپ عربی زبان کی بلاغت و معانی سمجھنے کے لئے بھی انگریزی تراجم کا سہارا لیتے ہیں
عربی کو اہل لغت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے ان شاء اللہ فہم قرآن میں مدد ملے گی



اور تمام رسولوں کو برقرار دینے کے بارے میں قرانی تعلیمات بتا دیں،
لا نفرق بین الرسل یہاں آپ کی دلیل نہیں بنے گی اس کے علاوہ قرانی آیات کی روشنی میں جواب دیں تو عنایت ہو گی
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (21-11-09), حیدر Rehan (23-11-09)
پرانا 21-11-09, 11:41 AM   #24
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,478
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت افسوس ہے
اس پر بھی بحث؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (21-11-09), راجہ اکرام (21-11-09)
پرانا 21-11-09, 12:55 PM   #25
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اگر آپ لوگ پوچھیں گے تو بتاؤں گا کہ حضرت مریم علیھا السلام کا درجہ حضرت فاطمہ الزہرۃ سے تبدیل کرنے والی روایات کے پیچھے کیا دشمناں اسلام کی کہانی ہے۔

والسلام

جناب فاروق صاحب --

اس دشمنان اسلام کی کہانی میں مجھے دلچسپی ہے، براہ کرم واضح کریں۔

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
sahj (21-11-09), فاروق سرورخان (21-11-09), راجہ اکرام (21-11-09)
پرانا 21-11-09, 01:58 PM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
دنیا میں‌ ان کے وقت میں بزرگی عطا کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر کوئی قرآنی دلیل ہے کہ ان کے وقت میں عطا کی ۔۔ یقینا نہیں ہو گی
تو جب سیدنا ابراھیم علیہ السلام کو دنیا میں سردار بنا دیا، ان کا اصطفی ہو گیا تو پھر ان کی سرداری کو ختم کیوں کیا گیا ۔۔۔کیوں سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کو سب کا سردار بنا دیا گیا

میرا خیال ہے آپ عربی زبان کی بلاغت و معانی سمجھنے کے لئے بھی انگریزی تراجم کا سہارا لیتے ہیں
عربی کو اہل لغت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے ان شاء اللہ فہم قرآن میں مدد ملے گی



اور تمام رسولوں کو برقرار دینے کے بارے میں قرانی تعلیمات بتا دیں،
لا نفرق بین الرسل یہاں آپ کی دلیل نہیں بنے گی اس کے علاوہ قرانی آیات کی روشنی میں جواب دیں تو عنایت ہو گی
کیا بات ہے آپ کی عربی اور اس کی بلاغت کی۔

ایک سے زائید اشخاص کو بزرگی عطا کی جاسکتی ہے۔ یہ منطقی طور پر بھی ممکن ہے۔ جن نبیوں‌کی بزرگی عطا کی گئی ان کا نام قرآن میں‌موجود ہے۔

آپ یہ بتائیے ، حوالہ دے کر کہ رسول اللہ صلعم کے علاوہ کس کس کو سب عالمین کی بزرگی عطا فرمائی۔

دنیا کی بزرگی، آل اولاد کو بزرگی اور تمام عالمین کی بزرگی میں‌ آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے۔ رسول اکرم کو تمام عالمین میں بزرگی عطا فرمائی گئی۔ مزید کس نبی کو تمام عالمین میں بزرگی عطا فرمائی گئی؟ حوالہ فراہم کیجئے۔

اسی طرح جنابہ حضرت مریم علیھا السلام کو تمام عالمین کی عورتوں‌پر بزرگی عطا فرمائی‌گئی۔ اس کو حوالہ دے چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ کیا آپ کے پاس قرآن کا وہ حوالہ ہے جو کسی بھی دوسری خاتون کو اس درجہ پر فائز کرتا ہو؟

اگر ایسا حوالہ نہیں‌ہے تو پھر ایسا کہنا من گھڑت ہے۔ اور اگر آپ کے پاس ایسا حوالہ ہے تو پھر عنایت کیجئے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ آپ نا سمجھی ک بہانا کس طرح‌کرتے ہیں
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-11-09, 02:19 PM   #27
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
کیا بات ہے آپ کی عربی اور اس کی بلاغت کی۔

ایک سے زائید اشخاص کو بزرگی عطا کی جاسکتی ہے۔ یہ منطقی طور پر بھی ممکن ہے۔ جن نبیوں‌کی بزرگی عطا کی گئی ان کا نام قرآن میں‌موجود ہے۔

آپ یہ بتائیے ، حوالہ دے کر کہ رسول اللہ صلعم کے علاوہ کس کس کو سب عالمین کی بزرگی عطا فرمائی۔

دنیا کی بزرگی، آل اولاد کو بزرگی اور تمام عالمین کی بزرگی میں‌ آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے۔ رسول اکرم کو تمام عالمین میں بزرگی عطا فرمائی گئی۔ مزید کس نبی کو تمام عالمین میں بزرگی عطا فرمائی گئی؟ حوالہ فراہم کیجئے۔

اسی طرح جنابہ حضرت مریم علیھا السلام کو تمام عالمین کی عورتوں‌پر بزرگی عطا فرمائی‌گئی۔ اس کو حوالہ دے چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ کیا آپ کے پاس قرآن کا وہ حوالہ ہے جو کسی بھی دوسری خاتون کو اس درجہ پر فائز کرتا ہو؟

اگر ایسا حوالہ نہیں‌ہے تو پھر ایسا کہنا من گھڑت ہے۔ اور اگر آپ کے پاس ایسا حوالہ ہے تو پھر عنایت کیجئے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ آپ نا سمجھی ک بہانا کس طرح‌کرتے ہیں
نا سمجھی تو میری ہے اور میں اس کا بہانا ہر گز نہیں کرتا، بلکہ علی الاعلان اعتراف کرتا ہوں۔ مجھے اپنی علمی کم مائیگی کا پورا احساس ہے
آپ سے تو سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں
لیکن آپ نے بھی اب قران کا حوالہ دینا چھوڑ دیا ہے ۔۔

آپ ایک ہی لفظ سے اپنی مرضی کے معانی اخذ فرما کر اپنے ہی موقف کی تائید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میں کیہڑے پاسے جاواں
میں منجا کتھے ڈاواں
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 21-11-09, 03:07 PM   #28
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آج دیر ہوگئی ہے 3:27 ہورہے ہیں ، سونا ہے۔ قرآن کے حوالہ انشااللہ کل فراہم کروں گا۔ اچھا سوال جہالت نہیں ہوتا۔ قرآن پر غور کرنے کا حکم اللہ تعالی ہی کا ہے۔ اس حکم کی بجاآوری ہم پر فرض ہے۔

اس بات کو اس طرح سمجھئے کہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو بزرگی عطا کی اور اس بزرگی کے بارے میں کہا ---- میں نے ابراہیم کو دنیا میں بزرگی عطا گی۔ اس بزرگی کی نوعیت کیا ہے ابھی بعد کے لئے اٹھا رکھیں۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ کو ----- دونوں جہانوں‌ ، یعنی فانی دنیا جو اور غیر فانی جنت میں رحمت بنا کر بزرگی عطا کی ------ ایک ایسی بزرگی جو اس جہاں کے ختم ہونے کے بعد دوسرے جہاں میں بھی جاری رہے گی۔ (‌ابراہیم علیہ السلام کی آیت کا حوالہ آپ خود دے چکے ہیں)

اسی طرح‌اللہ تعالی نے مریم علیھا السلام کو قرآن میں دونوں جہانوں کی تمام عورتوں‌پر بزرگی عطا کی ۔ یہاں اس بزرگی کی تفصیل دیکھئے کہ 1۔ دونوں جہانوں ---- 2۔ کی تمام عورتوں پر 3۔ بزرگی عطا کی۔

درج ذیل نکات بائیبل سے ہیں۔ ان کا مسمانون کے ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔
عیسی علیہ السلام نے اپنے آخری خطبات میں سے ایک میں کسی آنے والے کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ اس آنے والے کی کیا خصوصیات ہوں گی۔ (‌یہ بات مسلمانوں کے لئے نہیں ، عیسائیوں کے لئے ہے، وجہ بعد میں)۔ آج بھی عیسائی اس ہولی سپرٹ کی راہ دیکھ رہے ہیں جو دنیا کا فیصلہ کردے گا کہ دنیا نے حضرت عیسی پر فیصلہ لگایا کہ وہ نعوذ باللہ جھوٹے نبی تھے ‌ - ، نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو جھوٹا نبی قرار دیا) ، وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام بلند کرے گا کہ وہ ایک پاکباز عورت تھی (یہودیوں‌نے ان محترم خاتون کو بدکار قرآر دیا تھا ) ۔ وہ ایک ایسا نظام اور ایک ایسا انصاف لائے گا کہ جس کے لئے عیسی علیہ السلام کی قوم کے لوگ تیار نہیں تھے۔ یہ تھے وہ چند نکات جو حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو بائیبل ( قرآن نہیں) کے مطابق پیش کئے۔

بعثت محمد رسول اللہ:
سرکار دوعالم محمد رسول اللہ صلعم کی بعثت پر یہ تمام باتیں درست ہوگئیں۔ آج دنیا کے تمام مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مریم علیھا السلام نہ صرف پاکباز خاتون تھیں۔ ان کی پاکیزگی کی گواہی خود اللہ تعالی نے دی۔ ان کو دنیا کی تمام عورتوں پر بزرگی عطا فرما کر ۔۔۔۔۔۔۔ ان پیشین گوئیوں میں سے ایک کو پورا کردیا۔۔ (‌یہ معلومات دنیا کو کس شخص نے دی؟)

باقی پیشین گوئیاں اس طرح پوری ہوئیں کہ رسول اکرم کے بعثت کے بعد اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق، قرآن میں حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی قرآر دیا گیا، اس طرح یہودیوں کے اس دعوی کو باطل کیا کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جھوٹا نبی قرآر دیا تھا ( یہودی ‌آج تک یہی کہتے ہیں، میں ذاتی طور پر گواہ ہوں ) نعوذ باللہ ۔ اس طرح جو فیصلہ دنیا نے حضرت عیسی پر لگایا تھا، اس کا فیصلہ جناب رسول اکرم نے لگ بھگ 6 صدی بعد کیا۔

تیسرا اہم نکتہ تھا کہ وہ قانون اور وہ انصاف کا نظام عطا کیا جائے گا جس کے لئے حضرت عیسی کی امت ، تیار نہیں تھی۔ وہ قانون قران حکیم کی شکل میں اللہ تعالی کے اذن و حکم سے رسول اللہ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ رسول اللہ کے زبان مبارک سے ادا ہوا فرمان الہی۔ ایک عظیم پیغام ، آج دنیا کے تمام ممالک کے آئین کو حصہ ہے۔ اللہ کے فرمان کے مطابق، یہ وہ نظام ہے جو دنیا کے ہر نظام پر غالب آ کر رہے گا۔ میں کسی خؤش فہمی کا شکار نہیں ۔ یہ منصفانہ نظام بہت تیزی سے سب نظاموں پر غالب آرہا ہے۔

یہ تھے وہ بنیادی نکات جن کی وضاحت ضروری تھی اور سمجھنا ضروری تھا۔

اس صورت میں ، عیسائی نبی اکرم کو آج بھی وہ نبی نہیں‌ سمجھتے جس کا کہ وعدہ کیا گیا تھا۔ ففتھ کالمی پراپیگنڈہ نے مسلمانوں میں ایک ایسا شوشہ چھوڑا جو مسلمانوں کوبہت اچھا لگتا ہے کہ "حضرت فاطمۃ الزہرۃ ۔۔۔۔ کو جنت کا سردار رسول اکرم نے مقرر کیا ۔۔۔۔۔ گویا دنیا کی تمام عورتوں پر دونوں جہانوں‌ میں بزرگی عطا فرما دی۔۔۔۔۔ جب مسلمان اس کو سنتے ہیں تو جنابہ فاطمۃ‌ الزہرۃ کی عزت و احترام کے باعث اس پر شک بھی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ کہ یہ تو ہماری روایات کی کتاب میں ہے۔ آپ کا سابقہ کسی عیسائی سے شائید ہی پڑا ہو اور پھر عیسائی پادری سے تو ایسا سابقہ پڑنے کی امید بہت کم ہے۔۔۔

آپ کسی عیسائی پادری کو کہئے کہ --- محمد وہی رسول ہیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔ کہ دیکھ لو 1۔ 2 ۔ 3 ۔ 4 یہ نشانیاں بتائی گئی تھیں جناب حضرت عیسی کی زبان سے ، اور یہ دیکھو ۔1۔ 2۔ 3 4۔ یہ دیکھو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکات قرآن حکیم میں اللہ کی طرف سے پیش کئے۔ آپ خود دیکھ لو۔۔۔ تو وہ پادری ہمممممم کہتا ہوا چپ ہوجاتا ہے۔ اپنے سے بڑے پادری سے پوچھتا ہے اور دوسرے دن یا تیسرے دن آ کر بتاتا ہے کہ برادر فاروق ۔۔۔ آپ نے مسلمانوں کی شائید یہ کتاب نہیں دیکھی، یہاں‌دیکھئے۔ جی یہ ۔۔۔۔ یہ دیکھئے کہ اسلام میں تو دونوں جہانوں کی عورتوں پر جن خاتوں کو بزرگی عطا کی گئی ہے وہ تو فاظمۃ الزہرۃ ہیں ۔۔۔۔ جی آپ نے یہ حدیث‌کی کتاب نہیں دیکھی؟ اس کے لئے بھی کوئی تاویل قابل قبول نہیں۔ وہ اس نبی پر ایمان نہیں لاسکتا۔ اب اس کے لئے قرآن کی آیت کی کوئی حیثیت نہیں۔ نعوذ باللہ

ہم قرآن دیکھتے ہیں تو چھ سو سال پرانی پیشین گوئی پوری ہوتی نظر آتی ہے۔ کہیں نشان بھی نہیں ملتا کہ کسی دوسری خاتون محترم کو ایسا اعزاز دیا گیا ہو؟ ایک نبی (حضرت عیسی علیہ السلام )‌ نے فرمایا اور دوسرے نبی (ص) نے چھ سو سال بعد اس کی گواہی فراہم کردی۔ ایسا بھی تو ہوسکتا تھا کہ قرآن حکیم ہندوؤں کے رام کی ماں‌ کو یہی رتبہ عنایت کردیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اتنی بڑی گواہی جس کے پورے ہونے کا انتظار لگ بھگ چھ سو سال سے تھا۔ پوری ہوئی ۔۔۔ اور یہ سب ہونے کے بعد پھر ایک ایسی روایت نے جنم لیا جو اس دلیل کو باطل قرآر دیتی ہے۔۔ آپ کہیں گے مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے یہ معانی ہیں اور اس کے یہ معانی ہیں۔۔ لیکن جب آپ عیسائی حضرات کے پاس جائیں گے تو وہ اپنی مرضی کے معانی نکالتے ہیں۔ قران کی گواہی جن لوگوں‌کے لئے ہے اس کو یہ روایت باطل کردیتی ہے۔

اب ہمارے پاس کیا حل رہ جاتا ہے؟ سوائے اس کے کے اپنے اللہ تعالی کی کتاب میں اس کا جواب ڈھونڈیں ۔۔۔ تو یہ جواب ہمیں نہیں‌ملتا۔ اس روایت کے تانے بانے کچھ اس طرح عقل مندی سے ففتھ کالمی بنائے گئے ہیں کہ اگر کوئی سوال بھی کردے تو واویلا مچ جائے اور جب عیسائی سنے تو یقین کرلے کہ یہ نبی وہ نبی نہیں ہے جس کا وعدہ جناب حضرت عیسی (ع) نے کیا تھا۔

کیا اس سے میرے کام پر فرق پڑتا ہے؟ جی نہیں۔۔۔۔ دراز نفسی نہیں چاہتا ہوں اس لئے یہیں رک جاتا ہوں۔ بس التجا یہ ہے کہ اس نکتہ کو درد مندی اور ہوش مندی کی نظر سے دیکھئے۔ کسی کا ایمان خراب کرکے میرا کیا حشر ہوگا ؟؟؟؟؟‌

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 21-11-09 at 03:17 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 23-11-09, 07:17 PM   #29
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,661
شکریہ: 5,937
1,803 مراسلہ میں 4,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔

فاروق بھائی آپ پہلے بتا دیتے کہ اپ عیسائیوں کے ستائے ہوئے ہیں تو شاید بات آسان ہوجاتی
مگر ایک بات ہے ۔آپ کو اکثر دیکھا ہے کہ اپ احادیث کی مخالفت یا صرف قران کی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔ کیا میں غلط ہوں ؟؟
اگر یہ سہی ہے تو کیا یہ موضوع جس پر اپ بحث کررہے ہیں بلکل ویسا نہی ہے ؟؟؟
اس بحث میں بھی اپ صرف قران قران کررہے ہیں ۔ اور احادیث کو ایک طرف رکھا ہے یہ کہتےہوئے کہ ہم اس کی قدر کرتے ہیں
پھر بلکل ویسا ہی موضوع اپ نے عیسائیوں سے بحث کے لیے چنا اور وہ بھی جانتے تھے کہ اپ صرف قران پر ہی بات کریں گئے اور احادیث پر بلکل نہی مانیں گئے ؟؟ کیا میں غلط ہوں انھیں کیسے پتا چلا ؟؟؟
کیا اپ نے انکو بتایا تھا ۔ ؟؟
ایسا تو نہی اپ نے کسی بھی بحث میں حصہ نہی لیا اور اپ صرف ہوائی باتیں کررہے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارہ واسطہ تو پڑتا ہے عیسائیوں سے اور اپ کا نہی تاکہ ہم کچھ ڈر کے ایک طرف ہوجائیں ۔ کیا میں غلط ہوں ؟؟

اتنی سی بات اپ کے نزیک اتنی اہم اور خطرناک صورت اخیتار کرگی ہے کہ اپ کو کچھ اور سمجھ نہی آہا کہ کیا کیا جائے۔

ایک سوال کا جواب دے دیں پھر شاید میں بھی کچھ لکھنا شروع کروں ۔
کیا اگر مسلمان آپ کی بات مان لیں اور پھر اپ کی بات وہ عیسائی مان لیں کہ مسلمانوں نے تمام جہانوں کی عورتوں پر جناب مریم علیہ سلام کو سردار مان لیا ہے
اور کبھی بھی کسی کو ان پر فوقیت نہی دیں گئے تو کیا وہ اسلام لے آئیں گئے ؟؟؟
ایمان ایک اللہ پر
ایمان حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم پر آخری نبی کی حیثیت سے اور یہ بھی کہ حضرت عیسی علیہ سلام بھی نبی تھے ناکہ خدا کے بیٹے ۔
اور ایمان قرآن پر ۔

اپ ایک بھی عیسائی یا غیر مسلم کو منالیں پھر ہم اپ کو یاد دلائیں گئے کہ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم اور اہلیبت علیہ سلام وہ شخصیات ہیں کہ وہ کسی بھی انسان اور اللہ کے لیے اپنے دل میں کتنی محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔
اور چاہتے ہیں کہ بس کوئی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریے اور ہر شخص دوزخ کی اگ سےمحفوظ رہے۔ اور عذاب سے بچ جائے ۔
کسی غیر مسلم کو بھی انھونے تب بھی کچھ نہی کہا جب ان پر کافروں نے پھتر پھینکے ، کوڑا پھینکا ، بری باتیں کہی اور اس گھرانے کے ایک ایک فرد کو شہید کردیا حضرت حمزہ علیہ سلام سے لیے کر اس گھرانے کہ چھ ماہ کے علی اصغر تک جب کہ وہ ریگستان کی گرم ریت میں دفن ہوگئے۔
تب بھی امام حسین نے کسی کو بددعا نہ دی ۔ صرف سمجھایا کہ دیکھو اپنے لیے عذاب مت خریدو، توبہ کرو اور ایسا نہ کرو کہ ال رسول کو اس طرح شہید کرتے ہو۔
ان کی نزدیک اس بات کی جو اپ چاہتے ہیں کچھ بھی حیثت نہی کہ وہ اس بات پر برا مانیں ۔ یا ناراض ہوں کہ اپ نے جناب سیدہ فاطمہ زہرہ کا رتبہ جناب مریم علیہ سلام سے کم کردیا۔
اپ کسی کو مسلمان تو کیجیے پھر وہ خود آپ کو بتائے گا کہ جناب سیدہ فاطمہ زہرہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔

Last edited by حیدر Rehan; 23-11-09 at 07:27 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 25-11-09, 12:13 PM   #30
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی طاہر،

اہل بیت کی عزت ، احترام اور محبت دل میں ہے ، آنکھوں میں ہے اور قلم میں‌ ہے۔

کوئی بھی ایک بھی دلیل پیش نہ کرسکا کہ یہ روایت درست ہے سوائے اس کے کہ یہ چند کتب میں موجود ہے۔ ایسی کتب جن پر کسی مسلمان کا ایمان ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ نہ رسول اکرم کا حکم نہ اللہ تعالی کا حکم کہ دوسو سال بعد کچھ کتب آئیں گی ان پر ایمان لے آنا۔

اب ایسی خلاف قرآن روایت کی کیا وجہ ہے؟ میرے علم میں‌اضافہ فرمائیے۔

جہاں‌تک مسلمان کرنے کا تعلق ہے۔ اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں‌بتاؤں‌گا۔ ماسوائے اس کے کہ وہ پادری جو یہ معلومات لے کر آیا تھا وہ آج الحمد للہ مسلمان ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, magenta, کلثوم, قرآن, قرآن حکیم, نماز, محبت, معاشرہ, آج, اللہ, المبارک, حکم, حدیث, حسن, خواتین, خدا, روزہ, رمضان, سال, سردار, عورتوں, عبادت, صاحبزادی, صاحبزادے, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹ‌میں ! جان جی ترجمہ و تفسیر 10 21-04-09 09:30 AM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:49 PM
وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا محمدعدنان خبریں 1 03-05-08 02:39 PM
تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام محمدعدنان پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 03-10-07 11:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger