| 8 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (18-11-09), کنعان (19-11-09), محمدخلیل (21-11-09), ابن جلال (24-11-09), اخترحسین (20-11-09), حیدر Rehan (18-11-09), راجہ اکرام (20-11-09), عادل سہیل (19-11-09) |
|
|
#16 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,098
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,388 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم فاروق بھائی
آپ کے مزید کراس سوالات پر میں آپ کو مزید مشاھدات کرواؤں گا مگر ایک بات کی درخواست ھے کہ اس میں میں آپ کو سمجھانے کے لئے کوشش کروں گا اور خدارا یہ نہیں سمجھا جائے کہ میں نے کسی کے درجہ کو کم یا زیادہ کرنے کی کوشش کی ھے۔ کیونکہ جو درجے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر ہو چکے ہیں وہ نہ کوئی کم کر سکتا ھے اور نہ کوئی زیادہ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً 4:59 اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے فاروق بھائی آپ تو طالب علم ہیں اور میں تو طالب علم سے بھی بہت نیچے درجے کا ہو چلیں پھر آپ کے اسی سوال پر آگے بڑھتے ہیں آپ کے اسی سوال کے سیریل میں۔ صاحب قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمۃ الزاھرا رضی اللہ تعالی کو بھی جنت کی سردار کہا تو یہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ھے اس پر آپ کو اور مجھے یا کسی اور کو پریشان ہونی کی کوئی ضرورت ہی نہیں جو یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ یہ کلیم کر رہے ہیں کہ جو حدیث قرآن کے حکم کے خلاف ہو اسے نہیں مانا جائے گا بالکل ٹھیک ھے میں بھی یہی کہتا ہوں۔ لیکن اس پر آپ کے سمجھنے میں شائد تھوڑی غلطی ہو رہی ھے۔ آپ نے قرآن کی سورۃ نمبر3 کی آیت نمبر42 کوٹ کی ھے اور آپ کے کہنے کے مطابق کہ شائد اس روایت کے فاطمۃ الزہرۃ رضی اللہ تعالی جنت کی سردار ہونگی کے بعد اللہ تعالی نے حضرت مریم علیہ السلام کا درجہ کم کر دیا تھا۔ تو فاروق بھائی یہ روایت تو اس وقت اللہ تعالی کے اس حکم کے خلاف ہو گی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہوتا کہ فاطمۃ الزاھرا جنت کی سردار ہونگی اور حضرت مریم علیہ السلام نہیں ہونگی۔ 3:42 کی آیت کے مطابق بھی اللہ تعالی نے انہیں جنت کی سردار مقرر نہیں کیا جیسے آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کو اوپر تو اٹھا لیا تھا اور قرآن میں یہ نہیں لکھا کہ ان کو واپس بھی بھیجیں گے۔ آپ کے اس نظریہ کے مطابق بھی فاطمۃ الزاھر رضی اللہ تعالی کے سردار ہونے والی حدیث بھی اس قرآنی آیت سے نہیں ٹکراتی۔ اور آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی حکم اللہ کے حکم کے خلاف نہیں پورے قرآن میں اللہ تعالی نے اپنے نام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی لیا ھے۔ پھر کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ یہ سوچا بھی جائے۔ اقتباس:
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ 66:11 اور اللہ نے اُن لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں زوجۂ فرعون (آسیہ بنت مزاحم) کی مثال بیان فرمائی ہے، جب اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تو میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عملِ (بد) سے نجات دے دے اور مجھے ظالم قوم سے (بھی) بچا لے اب آگے کی دو آیات کا مطالعہ بھی کریں جس میں اللہ سبحان تعالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے محبت اور تمام اھل بیت کی پاکی بیان کر رہا ھے۔ درجے سب کے بلند ہیں کسی کے حصے میں کوئی کمی نہیں اگر کمی ہو سکتی ھے تو ہماری سوچ میں ہو سکتی ھے دینے والے نے تو سب کو اس کے حصے کا ہی دیا ھے۔ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ائے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیجئے ! میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا ہوں بجز قرابت داروں کی محبت کے (سورہ شوریٰ:23) إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا 33:33 اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے فاروق بھائی آپ کی خواہش کے مطابق میں نے آپ کو قرآن مجید سے ہی ہر بات ثابت کرنے کی کوشش کی ھے۔ سمجھنا والا کام ہر ایک کی سوچ ہر منحصر ھے میرا کام تھا آپ کو معلومات فراہم کرنا۔ والسلام اقتباس:
__________________
|
||
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-11-09) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
پیچھے جا کر دیکھ لیجئے، میں نے یہ سوال کیا ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرۃ کو دو عالم کی عورتوں پر بزرگی اللہ تعالی نے کس آیت میں عطا فرمائی؟ جب کہ مریم علیہا السلام کی بزرگی کے بارے میں اعلان واضح موجود ہے۔
آپ نے جن آیات کو پیش کیا ہے آپ ان میں صرف اورصرف لفظ اصطفی پر غور کررہے ہیں۔ اصطفی کسی کو دینا میں ملا، یہی اصطفی کسی کو عبادت پرملا، لیکن کیا دونوں جہانوںکی عورتوں پر اصطفی حضرت مریم علیھا السلام کے علاوہ جنابہ فاظمۃ الزہرۃ کو کب اور کہاں ملا، اس کا کوئیحوالہ عنایت فرمائیے تو عین نوازش ہوگی۔ ان تمام آیات مین اصطفی کے معانوں مین کوئی فرق نہیںہے۔ اگر فرق ہے تو دونوں جہانوں کی تمام عورتوں پر بزرگی عطا کرنے کا۔ آپ اس آیت کے معانی کچھ اور سمجھتے ہیں تو ہم سب کے علم میں اضافہ فرمائیے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (21-11-09) |
|
|
#18 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,098
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,388 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم فاروق بھائی صاحب
پیچھے جانے کی ضرورت تو تب ہو گی جب میں آپ کی باتوں کے جواب غلط دے رہا ہوں آپ خود اپنی ایک بات پر قائم رہیں اور سیریل میں چلیں میں آپ کو آپکی ہر بات کا جواب آپ کے سوال کے سیریل میں فراہم کروں گا۔ آپ کہتے ہیں عیسی علیہ السلام کو اوپر جانے کا قرآن میں ذکر ھے اور دوسری طرف آپ مریم علیہ السلام کی بزورگی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کو اس قرآنی آیت کے خلاف کہہ رہے ہیں۔ اب آپ ثابت کریں کہ یہ کیسے خلاف ھے۔ اور یہ بھی فرما دیں کے آپکی نظر میں کسی بات کا خلاف ہونا آپ اسے کس معنی میں لیتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ آپ میری پوسٹ کو پڑھ کر جواب دیتے بغیر پڑھے جواب دینے کا مطلب یہی ہوتا ھے کہ اپنی بات پر اڑے رہنا۔ 2منٹ میں آپ نے یہ پوسٹ لکھ دی مگر پڑھنے کا وقت یہاں کہیں نظر نہیں آ رہا۔ ہا ہا ہا ہا والسلام |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | طاھر (21-11-09) |
|
|
#19 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
اگر یہاں اصفطی سے مراد سرداری ہے دنیا و آخرت کی سرداری ہے۔( جو کہ درحقیقت نہیں ہے) اور آپ کے بقول یہ سرداری دی جا چکی ہے اور لی نہیں جا سکتی تو کیا مندرجہ ذیل آیت میں بھی اس سے مراد سرداری ہی لیں وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآَخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا اس کا مطلب ہوا کہ دنیا میں ابراھیم علیہ السلام کا اصفطی ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پیغمبروں کے سردار وہ مقرر ہو گئے دنیا میں۔۔۔۔۔۔۔ تو محمد صلی اللہ علیہ و سلم پھر کیا ہوئے؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی کنعان بات کو مزید واضح کرنے کا بہت ہی شکریہ۔
وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ کی بابت یہ عرض ہے کہ جو بھی رسول اکرم کی سنت، حدیث یا حکم ہے وہ یقینی طور پر قابل اطاعت ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہیں۔ اہل بیت سے بناء کسی تفریق کے مھبت، عزت اور احترام ، اللہ کا حکمیعنی قرآن کی آیات ہونے کے ناطے اللہ تعالی کا حکم ہے اور فرض ہے۔ بنیادی طور پر یہی صورت حال رسول اللہ کی سنت کی بھی ہے کہ یہ ہم سب پر فرضہے کہ وہ کریں جس کی رسول اکرم نے تاکید کی یا خود عمل کیا یا حکم دیا۔ جہاں بھی ضروری ہوتا ہے ایسی احادیث، احکامات، اور سنت کا باقاعدہ تذکرہ کرتا ہوں، قائیل ہوں اور ترویج کرتا رہتا ہوں۔ یہاں بات صرف اتنی ہے کہ دونوں جہانوں کی تمام عورتوںپر بزرگی اعلان اللہ تعالی اپنے قرآن حیکم میں ایک محترم خاتون جنابہ مریم علیھا السلام کے لئے کررہا ہے۔ ایسی بزرگی کو آپ سرداری کہیں یا نہ کہیں یہ وہ درجہ ہے جس پر اللہ تعالی نے کسی اور کو فائز نہیں کیا۔ جنت کی سرداری دوسرے لفظوں میں اسی عظیم بزرگی کی طرف اشارہ ہے جو جناب مریم علیہا السلام کا حصہ ہے۔ ہم اپنی محبت اور مذہبی جذبات میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ ایسی روایات کو چیلنج بھی نہیںکرتے جس میں رسول اکرم کو اللہ کے ہم سر بتایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اللہ تعالی نے رسول اکرم کو شفاعت کی اجازت دے کر مومنین کو جنت میں داخل کرنے کا حق دیا۔ یہ کچھ اصحابہ کرام مع حضرت فاطمہ الزہرہ کو ان کی زندگی میںہی نوید سنا دی گئی ۔ سبحان اللہ، لیکن قرآن کی آیت کو رد کرنا اور ایک خاتون کو عطا کی گئی بزرگی کی جگہ دوسری خاتون کو دینا ۔ ایسی روایت گھڑنے کے پیچھے کیا وجہ ہے، میں اس سوال کا جواب آپ کے لئے چھوڑتا ہوں۔ اگر آپ لوگ پوچھیں گے تو بتاؤں گا کہ حضرت مریم علیھا السلام کا درجہ حضرت فاطمہ الزہرۃ سے تبدیل کرنے والی روایات کے پیچھے کیا دشمناں اسلام کی کہانی ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#21 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
والسلام والسلام |
|
|
|
|
|
|
#22 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق صاحب ۔۔۔۔ خود ہی اپنے جواب پر غور کریں
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | sahj (21-11-09), حیدر Rehan (23-11-09) |
|
|
#23 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تو جب سیدنا ابراھیم علیہ السلام کو دنیا میں سردار بنا دیا، ان کا اصطفی ہو گیا تو پھر ان کی سرداری کو ختم کیوں کیا گیا ۔۔۔کیوں سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کو سب کا سردار بنا دیا گیا میرا خیال ہے آپ عربی زبان کی بلاغت و معانی سمجھنے کے لئے بھی انگریزی تراجم کا سہارا لیتے ہیں عربی کو اہل لغت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے ان شاء اللہ فہم قرآن میں مدد ملے گی اور تمام رسولوں کو برقرار دینے کے بارے میں قرانی تعلیمات بتا دیں، لا نفرق بین الرسل یہاں آپ کی دلیل نہیں بنے گی اس کے علاوہ قرانی آیات کی روشنی میں جواب دیں تو عنایت ہو گی |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | sahj (21-11-09), حیدر Rehan (23-11-09) |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() |
بہت افسوس ہے
اس پر بھی بحث؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (21-11-09), راجہ اکرام (21-11-09) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#26 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ایک سے زائید اشخاص کو بزرگی عطا کی جاسکتی ہے۔ یہ منطقی طور پر بھی ممکن ہے۔ جن نبیوںکی بزرگی عطا کی گئی ان کا نام قرآن میںموجود ہے۔ آپ یہ بتائیے ، حوالہ دے کر کہ رسول اللہ صلعم کے علاوہ کس کس کو سب عالمین کی بزرگی عطا فرمائی۔ دنیا کی بزرگی، آل اولاد کو بزرگی اور تمام عالمین کی بزرگی میں آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے۔ رسول اکرم کو تمام عالمین میں بزرگی عطا فرمائی گئی۔ مزید کس نبی کو تمام عالمین میں بزرگی عطا فرمائی گئی؟ حوالہ فراہم کیجئے۔ اسی طرح جنابہ حضرت مریم علیھا السلام کو تمام عالمین کی عورتوںپر بزرگی عطا فرمائیگئی۔ اس کو حوالہ دے چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ کیا آپ کے پاس قرآن کا وہ حوالہ ہے جو کسی بھی دوسری خاتون کو اس درجہ پر فائز کرتا ہو؟ اگر ایسا حوالہ نہیںہے تو پھر ایسا کہنا من گھڑت ہے۔ اور اگر آپ کے پاس ایسا حوالہ ہے تو پھر عنایت کیجئے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ آپ نا سمجھی ک بہانا کس طرحکرتے ہیں
|
|
|
|
|
|
|
#27 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ سے تو سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن آپ نے بھی اب قران کا حوالہ دینا چھوڑ دیا ہے ۔۔ آپ ایک ہی لفظ سے اپنی مرضی کے معانی اخذ فرما کر اپنے ہی موقف کی تائید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں کیہڑے پاسے جاواں میں منجا کتھے ڈاواں |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (21-11-09) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() |
آج دیر ہوگئی ہے 3:27 ہورہے ہیں ، سونا ہے۔ قرآن کے حوالہ انشااللہ کل فراہم کروں گا۔ اچھا سوال جہالت نہیں ہوتا۔ قرآن پر غور کرنے کا حکم اللہ تعالی ہی کا ہے۔ اس حکم کی بجاآوری ہم پر فرض ہے۔
اس بات کو اس طرح سمجھئے کہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو بزرگی عطا کی اور اس بزرگی کے بارے میں کہا ---- میں نے ابراہیم کو دنیا میں بزرگی عطا گی۔ اس بزرگی کی نوعیت کیا ہے ابھی بعد کے لئے اٹھا رکھیں۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ کو ----- دونوں جہانوں ، یعنی فانی دنیا جو اور غیر فانی جنت میں رحمت بنا کر بزرگی عطا کی ------ ایک ایسی بزرگی جو اس جہاں کے ختم ہونے کے بعد دوسرے جہاں میں بھی جاری رہے گی۔ (ابراہیم علیہ السلام کی آیت کا حوالہ آپ خود دے چکے ہیں) اسی طرحاللہ تعالی نے مریم علیھا السلام کو قرآن میں دونوں جہانوں کی تمام عورتوںپر بزرگی عطا کی ۔ یہاں اس بزرگی کی تفصیل دیکھئے کہ 1۔ دونوں جہانوں ---- 2۔ کی تمام عورتوں پر 3۔ بزرگی عطا کی۔ درج ذیل نکات بائیبل سے ہیں۔ ان کا مسمانون کے ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔ عیسی علیہ السلام نے اپنے آخری خطبات میں سے ایک میں کسی آنے والے کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ اس آنے والے کی کیا خصوصیات ہوں گی۔ (یہ بات مسلمانوں کے لئے نہیں ، عیسائیوں کے لئے ہے، وجہ بعد میں)۔ آج بھی عیسائی اس ہولی سپرٹ کی راہ دیکھ رہے ہیں جو دنیا کا فیصلہ کردے گا کہ دنیا نے حضرت عیسی پر فیصلہ لگایا کہ وہ نعوذ باللہ جھوٹے نبی تھے - ، نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو جھوٹا نبی قرار دیا) ، وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام بلند کرے گا کہ وہ ایک پاکباز عورت تھی (یہودیوںنے ان محترم خاتون کو بدکار قرآر دیا تھا ) ۔ وہ ایک ایسا نظام اور ایک ایسا انصاف لائے گا کہ جس کے لئے عیسی علیہ السلام کی قوم کے لوگ تیار نہیں تھے۔ یہ تھے وہ چند نکات جو حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو بائیبل ( قرآن نہیں) کے مطابق پیش کئے۔ بعثت محمد رسول اللہ: سرکار دوعالم محمد رسول اللہ صلعم کی بعثت پر یہ تمام باتیں درست ہوگئیں۔ آج دنیا کے تمام مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مریم علیھا السلام نہ صرف پاکباز خاتون تھیں۔ ان کی پاکیزگی کی گواہی خود اللہ تعالی نے دی۔ ان کو دنیا کی تمام عورتوں پر بزرگی عطا فرما کر ۔۔۔۔۔۔۔ ان پیشین گوئیوں میں سے ایک کو پورا کردیا۔۔ (یہ معلومات دنیا کو کس شخص نے دی؟) باقی پیشین گوئیاں اس طرح پوری ہوئیں کہ رسول اکرم کے بعثت کے بعد اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق، قرآن میں حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی قرآر دیا گیا، اس طرح یہودیوں کے اس دعوی کو باطل کیا کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جھوٹا نبی قرآر دیا تھا ( یہودی آج تک یہی کہتے ہیں، میں ذاتی طور پر گواہ ہوں ) نعوذ باللہ ۔ اس طرح جو فیصلہ دنیا نے حضرت عیسی پر لگایا تھا، اس کا فیصلہ جناب رسول اکرم نے لگ بھگ 6 صدی بعد کیا۔ تیسرا اہم نکتہ تھا کہ وہ قانون اور وہ انصاف کا نظام عطا کیا جائے گا جس کے لئے حضرت عیسی کی امت ، تیار نہیں تھی۔ وہ قانون قران حکیم کی شکل میں اللہ تعالی کے اذن و حکم سے رسول اللہ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ رسول اللہ کے زبان مبارک سے ادا ہوا فرمان الہی۔ ایک عظیم پیغام ، آج دنیا کے تمام ممالک کے آئین کو حصہ ہے۔ اللہ کے فرمان کے مطابق، یہ وہ نظام ہے جو دنیا کے ہر نظام پر غالب آ کر رہے گا۔ میں کسی خؤش فہمی کا شکار نہیں ۔ یہ منصفانہ نظام بہت تیزی سے سب نظاموں پر غالب آرہا ہے۔ یہ تھے وہ بنیادی نکات جن کی وضاحت ضروری تھی اور سمجھنا ضروری تھا۔ اس صورت میں ، عیسائی نبی اکرم کو آج بھی وہ نبی نہیں سمجھتے جس کا کہ وعدہ کیا گیا تھا۔ ففتھ کالمی پراپیگنڈہ نے مسلمانوں میں ایک ایسا شوشہ چھوڑا جو مسلمانوں کوبہت اچھا لگتا ہے کہ "حضرت فاطمۃ الزہرۃ ۔۔۔۔ کو جنت کا سردار رسول اکرم نے مقرر کیا ۔۔۔۔۔ گویا دنیا کی تمام عورتوں پر دونوں جہانوں میں بزرگی عطا فرما دی۔۔۔۔۔ جب مسلمان اس کو سنتے ہیں تو جنابہ فاطمۃ الزہرۃ کی عزت و احترام کے باعث اس پر شک بھی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ کہ یہ تو ہماری روایات کی کتاب میں ہے۔ آپ کا سابقہ کسی عیسائی سے شائید ہی پڑا ہو اور پھر عیسائی پادری سے تو ایسا سابقہ پڑنے کی امید بہت کم ہے۔۔۔ آپ کسی عیسائی پادری کو کہئے کہ --- محمد وہی رسول ہیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔ کہ دیکھ لو 1۔ 2 ۔ 3 ۔ 4 یہ نشانیاں بتائی گئی تھیں جناب حضرت عیسی کی زبان سے ، اور یہ دیکھو ۔1۔ 2۔ 3 4۔ یہ دیکھو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکات قرآن حکیم میں اللہ کی طرف سے پیش کئے۔ آپ خود دیکھ لو۔۔۔ تو وہ پادری ہمممممم کہتا ہوا چپ ہوجاتا ہے۔ اپنے سے بڑے پادری سے پوچھتا ہے اور دوسرے دن یا تیسرے دن آ کر بتاتا ہے کہ برادر فاروق ۔۔۔ آپ نے مسلمانوں کی شائید یہ کتاب نہیں دیکھی، یہاںدیکھئے۔ جی یہ ۔۔۔۔ یہ دیکھئے کہ اسلام میں تو دونوں جہانوں کی عورتوں پر جن خاتوں کو بزرگی عطا کی گئی ہے وہ تو فاظمۃ الزہرۃ ہیں ۔۔۔۔ جی آپ نے یہ حدیثکی کتاب نہیں دیکھی؟ اس کے لئے بھی کوئی تاویل قابل قبول نہیں۔ وہ اس نبی پر ایمان نہیں لاسکتا۔ اب اس کے لئے قرآن کی آیت کی کوئی حیثیت نہیں۔ نعوذ باللہ ہم قرآن دیکھتے ہیں تو چھ سو سال پرانی پیشین گوئی پوری ہوتی نظر آتی ہے۔ کہیں نشان بھی نہیں ملتا کہ کسی دوسری خاتون محترم کو ایسا اعزاز دیا گیا ہو؟ ایک نبی (حضرت عیسی علیہ السلام ) نے فرمایا اور دوسرے نبی (ص) نے چھ سو سال بعد اس کی گواہی فراہم کردی۔ ایسا بھی تو ہوسکتا تھا کہ قرآن حکیم ہندوؤں کے رام کی ماں کو یہی رتبہ عنایت کردیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اتنی بڑی گواہی جس کے پورے ہونے کا انتظار لگ بھگ چھ سو سال سے تھا۔ پوری ہوئی ۔۔۔ اور یہ سب ہونے کے بعد پھر ایک ایسی روایت نے جنم لیا جو اس دلیل کو باطل قرآر دیتی ہے۔۔ آپ کہیں گے مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے یہ معانی ہیں اور اس کے یہ معانی ہیں۔۔ لیکن جب آپ عیسائی حضرات کے پاس جائیں گے تو وہ اپنی مرضی کے معانی نکالتے ہیں۔ قران کی گواہی جن لوگوںکے لئے ہے اس کو یہ روایت باطل کردیتی ہے۔ اب ہمارے پاس کیا حل رہ جاتا ہے؟ سوائے اس کے کے اپنے اللہ تعالی کی کتاب میں اس کا جواب ڈھونڈیں ۔۔۔ تو یہ جواب ہمیں نہیںملتا۔ اس روایت کے تانے بانے کچھ اس طرح عقل مندی سے ففتھ کالمی بنائے گئے ہیں کہ اگر کوئی سوال بھی کردے تو واویلا مچ جائے اور جب عیسائی سنے تو یقین کرلے کہ یہ نبی وہ نبی نہیں ہے جس کا وعدہ جناب حضرت عیسی (ع) نے کیا تھا۔ کیا اس سے میرے کام پر فرق پڑتا ہے؟ جی نہیں۔۔۔۔ دراز نفسی نہیں چاہتا ہوں اس لئے یہیں رک جاتا ہوں۔ بس التجا یہ ہے کہ اس نکتہ کو درد مندی اور ہوش مندی کی نظر سے دیکھئے۔ کسی کا ایمان خراب کرکے میرا کیا حشر ہوگا ؟؟؟؟؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 21-11-09 at 03:17 PM. |
|
|
|
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
فاروق بھائی آپ پہلے بتا دیتے کہ اپ عیسائیوں کے ستائے ہوئے ہیں تو شاید بات آسان ہوجاتی مگر ایک بات ہے ۔آپ کو اکثر دیکھا ہے کہ اپ احادیث کی مخالفت یا صرف قران کی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔ کیا میں غلط ہوں ؟؟ اگر یہ سہی ہے تو کیا یہ موضوع جس پر اپ بحث کررہے ہیں بلکل ویسا نہی ہے ؟؟؟ اس بحث میں بھی اپ صرف قران قران کررہے ہیں ۔ اور احادیث کو ایک طرف رکھا ہے یہ کہتےہوئے کہ ہم اس کی قدر کرتے ہیں پھر بلکل ویسا ہی موضوع اپ نے عیسائیوں سے بحث کے لیے چنا اور وہ بھی جانتے تھے کہ اپ صرف قران پر ہی بات کریں گئے اور احادیث پر بلکل نہی مانیں گئے ؟؟ کیا میں غلط ہوں انھیں کیسے پتا چلا ؟؟؟ کیا اپ نے انکو بتایا تھا ۔ ؟؟ ایسا تو نہی اپ نے کسی بھی بحث میں حصہ نہی لیا اور اپ صرف ہوائی باتیں کررہے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارہ واسطہ تو پڑتا ہے عیسائیوں سے اور اپ کا نہی تاکہ ہم کچھ ڈر کے ایک طرف ہوجائیں ۔ کیا میں غلط ہوں ؟؟ اتنی سی بات اپ کے نزیک اتنی اہم اور خطرناک صورت اخیتار کرگی ہے کہ اپ کو کچھ اور سمجھ نہی آہا کہ کیا کیا جائے۔ ایک سوال کا جواب دے دیں پھر شاید میں بھی کچھ لکھنا شروع کروں ۔ کیا اگر مسلمان آپ کی بات مان لیں اور پھر اپ کی بات وہ عیسائی مان لیں کہ مسلمانوں نے تمام جہانوں کی عورتوں پر جناب مریم علیہ سلام کو سردار مان لیا ہے اور کبھی بھی کسی کو ان پر فوقیت نہی دیں گئے تو کیا وہ اسلام لے آئیں گئے ؟؟؟ ایمان ایک اللہ پر ایمان حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم پر آخری نبی کی حیثیت سے اور یہ بھی کہ حضرت عیسی علیہ سلام بھی نبی تھے ناکہ خدا کے بیٹے ۔ اور ایمان قرآن پر ۔ اپ ایک بھی عیسائی یا غیر مسلم کو منالیں پھر ہم اپ کو یاد دلائیں گئے کہ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم اور اہلیبت علیہ سلام وہ شخصیات ہیں کہ وہ کسی بھی انسان اور اللہ کے لیے اپنے دل میں کتنی محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ بس کوئی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریے اور ہر شخص دوزخ کی اگ سےمحفوظ رہے۔ اور عذاب سے بچ جائے ۔ کسی غیر مسلم کو بھی انھونے تب بھی کچھ نہی کہا جب ان پر کافروں نے پھتر پھینکے ، کوڑا پھینکا ، بری باتیں کہی اور اس گھرانے کے ایک ایک فرد کو شہید کردیا حضرت حمزہ علیہ سلام سے لیے کر اس گھرانے کہ چھ ماہ کے علی اصغر تک جب کہ وہ ریگستان کی گرم ریت میں دفن ہوگئے۔ تب بھی امام حسین نے کسی کو بددعا نہ دی ۔ صرف سمجھایا کہ دیکھو اپنے لیے عذاب مت خریدو، توبہ کرو اور ایسا نہ کرو کہ ال رسول کو اس طرح شہید کرتے ہو۔ ان کی نزدیک اس بات کی جو اپ چاہتے ہیں کچھ بھی حیثت نہی کہ وہ اس بات پر برا مانیں ۔ یا ناراض ہوں کہ اپ نے جناب سیدہ فاطمہ زہرہ کا رتبہ جناب مریم علیہ سلام سے کم کردیا۔ اپ کسی کو مسلمان تو کیجیے پھر وہ خود آپ کو بتائے گا کہ جناب سیدہ فاطمہ زہرہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔ Last edited by حیدر Rehan; 23-11-09 at 07:27 PM. |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (23-11-09) |
|
|
#30 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی طاہر،
اہل بیت کی عزت ، احترام اور محبت دل میں ہے ، آنکھوں میں ہے اور قلم میں ہے۔ کوئی بھی ایک بھی دلیل پیش نہ کرسکا کہ یہ روایت درست ہے سوائے اس کے کہ یہ چند کتب میں موجود ہے۔ ایسی کتب جن پر کسی مسلمان کا ایمان ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ نہ رسول اکرم کا حکم نہ اللہ تعالی کا حکم کہ دوسو سال بعد کچھ کتب آئیں گی ان پر ایمان لے آنا۔ اب ایسی خلاف قرآن روایت کی کیا وجہ ہے؟ میرے علم میںاضافہ فرمائیے۔ جہاںتک مسلمان کرنے کا تعلق ہے۔ اس سلسلے میں کچھ بھی نہیںبتاؤںگا۔ ماسوائے اس کے کہ وہ پادری جو یہ معلومات لے کر آیا تھا وہ آج الحمد للہ مسلمان ہے۔ والسلام |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, کلثوم, قرآن, قرآن حکیم, نماز, محبت, معاشرہ, آج, اللہ, المبارک, حکم, حدیث, حسن, خواتین, خدا, روزہ, رمضان, سال, سردار, عورتوں, عبادت, صاحبزادی, صاحبزادے, صدقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹمیں ! | جان جی | ترجمہ و تفسیر | 10 | 21-04-09 09:30 AM |
| سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 02-07-08 01:49 PM |
| وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا | محمدعدنان | خبریں | 1 | 03-05-08 02:39 PM |
| تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام | محمدعدنان | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 6 | 03-10-07 11:31 AM |