|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,894
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 641 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی برس نہیں گیا
کہ اس کے قرب کی سزا میں شہر کے سہی قدراں نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے اُسے فقیہہِ شہر نے نجس قرار دے دیا تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں اگر بکارِ خسروی کبھی کسی کو اس کی راندئہ جہاں گلی سے ہوکے جاناہو تو سب کلاہ دار، اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں، کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں زنانِ مصر کی طرح سے اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں |
|
|
|
| Wahid Mahmood کا شکریہ ادا کیا گیا | عارف اقبال (28-01-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی شاعری پوسٹ کی ھے آپ نے جناب۔۔
|
|
|
|
| The Great کا شکریہ ادا کیا گیا | Wahid Mahmood (28-01-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کوئی, گلی, پہ, یوں, لگی, نہر, مرد, مصر, اُسے, اپنی, بال, تمام, جہاں, جیسے, جمال, جاتی, خوش, دھونے, دے, ساری, سحر, شہر, طرح, صلیب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|