| پاک۔نیٹ پراجیکٹس پاک۔نیٹ پراجیکٹس |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 7 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (05-10-09), shafresha (05-10-09), منتظمین (26-09-08), مرزا عامر (29-08-10), مظفر علي (17-10-09), احمد بلال (31-08-10), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#31 |
|
Senior Member
![]() |
پاکستان کی مجلس شوری بہترین بحثوں کے بعد قرآن کے ان اصولوں سے ہی بنی ہے۔ پاکستان کا قانون سازی کا نظام بھی قرآن کے ان اصولوں کے عین مطابق ہے۔ زکوۃ اور ٹیکسز کا ایک مکمل نظام، عدلیہ کا ایک مکمل نظام موجود ہے۔ ہمارے اصول، قوانین قرآن کے عین مطابق ہیں۔ اس لئے پاکستانی حکومت کو ایک غیر اسلامی حکومت قرار دینا کسی طور بھی سمجھ داری قرار نہیں دی جاسکتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے اکثریت ، جس اسلام کو درست سمجھتی ہے ، اس کو ایک چھوٹی سی اقلیت درست نہیں سمجھتی ہے۔ یہ لوگ آیات کو چھپاتے ہیں اور اسلام کے عظیم الشان جمہوری نظام کو دباتے ہیں۔ ان تھوڑے سے مولویوں کا یہ کہنا ہے کہ فرد واحد کی حکومت ہونی چاہئے ، باہمی مشاورت نہیں ہونی چاہئے۔ تاکہ من مانی کرنے میں آسانی رہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام کے تمام پاکستانی مسلمان ، حکومت کے عاملین، عوام، جج، وکلاء ، منتخب نمائندے۔ تمام اہم اداروں کے عالم، یونیورسٹیوں کے لیکچررز اور پروفیسرز سب کے سب اتنے بے وقوف ہوں کہ ان کو پاکستان کے یہ " غیر اسلامی " نظام نظر نہ آتا ہو۔ اور تھؤڑے سے مولویوں یا طالبان کو یہ سارا نظام غیر اسلامی نظر آتا ہو۔ شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور Last edited by فاروق سرورخان; 30-09-08 at 11:12 PM. |
|
|
|
|
|
#32 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم۔
آپ کے آرٹیکلز وقت ملتے ہی پڑھوں گا ان شاءاللہ۔ میںنے جو ریفرنسز پیش کیے ہیں ان کی بنیاد پر مجھے بتائیے کہ وطن عزیز میں اسلامی حکومت کس حد تک ہے۔ میری نگاہ میں یہ مسلمانوں کی حکومت تو ہے لیکن وہ نہیں جس کا نقشہ قرآن میں بتایا گیا ہے۔ برصغیر میں جلال پادشاہی کا دور دورہ تھا تب بھی لوٹ مار ہوتی تھی اور اب جمہوی تماشے میں یہ کام کچھ زیادہ تیزی اور ہمہ جہتی سے جاری ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#33 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
میرے اوپر بیان کردہ نکات کو ایک ایک کر کے لے لیجیے اور بتاتے جائیے کہ ان پر کتنا عمل ہو رہا ہے۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#34 |
|
Senior Member
![]() |
میں ، ہم دونوں کے پیش کردہ نکات پر ایک ایک کرکے انشاء اللہ تعالی روشنی ڈالوں گا۔ آپ جانتے ہیں کہ بنیادی اصولوں کی غیر موجودگی میں ایک اسلامی یا صحت مند معاشرہ کا قیام ناممکن ہے۔ تو جناب من، ان اصولوں میں یعنی پاکستان کے آئین میں اگر کوئی کمی ہے تو اس کی نشاندہی آپ اپنے منتخب نمائیندوں کو کیجئے۔ اب ان اصولوں کو نافذ کرنے کی بات آتی ہے۔ اس میں آپ کو بہت جگہ سقم ملے گا۔ لیکن نفاذ میں سقم کا مطلب یہ نہیں کہ ان اصولوں کو ہی ختم کردیا جائے۔ اس نفاذ میںتبدیلی اور کوئی نہیں لائے گا، آپ ہی لائیں گے۔ دولت کو مناسب گردش دے کر اور مجرموں کو سزائیں دے کر۔ اس پر جوں جوں بات بڑھے گی میں یہاںتجاویز اور حل پیش کرتا رہوں گا۔ وہ تجاویز اور حل جو دوسرے معاشروں میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
والسلام |
|
|
|
|
|
#35 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,165
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہمارے لیے اپ اور دوسرے تمام اشخاص ایک جیسی عزت و تکریم کے مستحق ہیں۔۔۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (07-10-09), فاروق سرورخان (27-09-08), پیاسا (27-09-08), میاں شاہد (27-09-08), مسٹر شیف (05-10-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#36 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
جماعت اسلامی یا دوسری جماعتیں جو جمہوری تماشے کا حصہ ہیں یقینا وہ اسے درست جان کر ہی شریک عمل ہیں۔ مودودی صاحب کا نظریہ جمہوریت کے حق میں سب کو معلوم ہے، اور موجودہ قیادت بھی اس میں پیچھے نہیںہے۔ رہ گئے فضل الرحمان تو ان کی بات چھوڑیے، جمہوریت ہو یا کوئی دوسرا نظام، ان کے لیے قابل قبول ہو گا بشرطیکہ ان کو حصہ ملتا رہے۔ ایک چھوٹی سی اقلیت کو چھوڑ کر باقی دینی طبقہ پاکستان کی حکومت کو کافر نہیں سمجھتا اس لیے اسے مسلمان ثابت کرنا تحصیل حاصل ہو گا۔ آپ براہ مہربانی وہ تجاویز سامنے لائیے جن پر عمل کر کے موجودہ سقم دور کیے جا سکتے ہیں۔
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-09-08), پیاسا (27-09-08), میاں شاہد (27-09-08), ابوشامل (14-11-08), تفسیر حیدر (27-09-08), عرفان حیدر (30-09-08) |
|
|
#37 |
|
Senior Member
![]() |
آپ کا بہت شکریہ۔
جس دھاگہ میں یہ مکالمہ شروع کیا گیا تھا، وہاں لوگوں کا اصرار تھا کہ پاکستان کا حکومتی نظام ایک غیر اسلامی نظام ہے۔ جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ |
|
|
|
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
"جبکہ آپ صرف قرآن سے اپنے فہم کے مطابق نظام اخذ کرنا چاہتے ہیں" جو نظام پاکستان میں چل رہا ہے وہ قطعاً میرا بنایا ہوا نہیں، یہ ان تمام منتخب نمائندوں کا فہم الاسلام اور فہم القرآن ہے، جنہوں نے یہ نظام ترتیب دیا۔ مجھے اس کا کریڈٹ دینا ایک سراسر ناانصافی ہے۔ میں نے تو اس ضمن میں کوئی کام نہیں کیا مزید: 1، ہمارا جوہری فرق یہ نہیں ہے کہ [COLOR="red" جناب ]آپکے نزدیک قرآن اور احادیث دونوں قانون کا ماخذ ہیں ۔[/COLOR] جوہری فرق یہ ہے کہ آپ کہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن اور موفق القرآن احادیث دونوں قانون کا ماخذ ہیں جبکہ جیسا کہ ہم طے کر چکے ہیں کہ بیشتر مولویوں کے نزدیک خلاف قرآن روایات بھی قابل قبول ہیں ۔ اس بنیادی نکتہ کو ذہن میں رکھئے اور خلاف قرآن روایات کی اصطلاح اس وقت تک اپنی دلیل میں استعمال کیجئیے جب تک آپ یہ تسلیم نہیں کرلیتے کہ خلاف قرآن روایات کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ استدعا ہے کہ یہ بحث اسی دھاگہ تک محدود رکھئے جو اس کے لئے مختصکیا جاچکا ہے، اس دھاگہ میں بحث کاموضوع میں نہیں بلکہ پاکستان کا سیاسی و حکومتی نظام ہے والسلام |
|
|
|
|
|
|
#39 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آپ نے اپنا موقف پیش کر دیا ہے۔ اب مجھے اجازت دیجیے کہ اسلامی نظام کے بارے کچھ مزید گزارشات عرض کر دوں۔ میرے مطالعے اور علم کے مطابق اسلام کا آئیڈیل نظام وہی ہے جو خلفائے راشدین نے قائم کیا تھا۔ لیکن قرآن کریم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ اگر دین پر چلنے والا ہو تو وہ بھی قابل قبول ہے۔ ملوکیت اسلام کی نظر میں اس قدر مبغوض نہیں ہے جتنی بعض لوگ پیش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اچھی بادشاہت کی تعریف کی گئی ہے۔ چند مثالیں دیکھیے:
داؤد علیہ السلام بادشاہ تھے فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ اللّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ [البقرة : 251] "پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) بادشاہت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (میں انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ داؤد علیہ السلام پر اپنا فضل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ [ص : 20] " اور ہم نے اُن کی بادشاہت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا" عربی متن میں لفظ "ملک" استعمال ہوا ہے جس کا مطلب اوپن برہان میں یوں لکھا ہے his ownership/his kingdom/his possession and free will ۔ ایک بادشاہ کا تقرر اللہ کی طرف سے: طالوت کا واقعہ دوسرے پارے کے آخر میں ہے جس میں صاف لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی فرمائش پر انہیں اپنی طرف سے بادشاہ مقرر کیا تھا: وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُواْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ البقرۃ 247 "اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی اور اللہ اپنا ملک جسے چاہ ے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے " بنی اسرائیل پر اللہ کی نعمت: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاء وَجَعَلَكُم مُّلُوكاً وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِينَ [المائدة : 20] "اور (وہ وقت بھی یاد کریں) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! تم اپنے اوپر (کیا گیا) اﷲ کا وہ انعام یاد کرو جب اس نے تم میں انبیاء پیدا فرمائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ (کچھ) عطا فرمایا جو (تمہارے زمانے میں) تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا تھا" آل ابراھیم پر اللہ کا انعام: أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكاً عَظِيماً [النساء : 54] "یا لوگو ں پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے؟ ہم نے تو ابراھیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت ادا کی ہے اور ان کوہم نے بڑی بادشاہی دی" یوسف علیہ السلام بادشاہت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں: رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنُيَا وَالآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِماً وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ [يوسف : 101] "اے میرے مالک! یقینا عطا کی تونے مجھے حکومت اور علم سکھایا تونے مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا۔ اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے تو ہی سرپرست ہے میرا دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، موت دینا مجھے اسلام پر اور شامل کرنا مجھے نیک لوگوں میں۔" سلیمان علیہ السلام کی دعا: قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكاً لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ [ص : 35] "عرض کیا: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو، بیشک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے" بادشاہت ہو یا کوئی دوسرا نظام، اگر وہ اللہ کےاحکام کو نافذ کرتا ہے تو اسے رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-09-08), پیاسا (28-09-08), ابن جلال (28-09-08), تفسیر حیدر (27-09-08), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#40 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن یقیناً نبیوں کی عطا کی گئی بادشاہت کا تذکرہ کرتا ہے اور یہ نکتہ بھی درست ہے کہ
1۔ بادشاہت 2۔ جمہوریت (شورائی نظام) دونوں قابل قبول ہیں ، اگر مناسب قرآنی (قرآن و سنت دونوں) قوانین 1۔ بنائے جائیں 2۔ نافذ کئے جائیں۔ پاکستان نے 1973 میں ایک شورائی نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس لئے کہ نبیوں جیسی بصیرت والا نیک دل انسان جس کو اللہ تعالی کی مشاورت حاصل ہو آج کے دور میں نہیںملتا۔ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ آج کل کا فرد واحد اگر بادشاہ بن جاتا ہے تو یہ مسئلے وجود میں آتے ہیں۔ 1۔ بادشاہت موروثی ہو جاتی ہے۔ 2۔ عوام کی دولت بادشاہ کو دولت بن جاتی ہے۔ 3۔ نام نہاد مذہبی رہنما ایک خاندان کو گھیر لیتے ہیں اور اس طرح من مانی شروع ہو جاتی ہے۔ اس لئے پاکستانیوں نے اسلامی نظام نافذ کرنے کا فیصلہ قرآن کے ان احکام کے مطابق کیا۔ 1۔ ایک قانون ساز مجلس شوری جو کہ نیک کام کو پروموٹ کرتی ہو اور برے کاموں سے روکتی ہو۔ یعنی مناسب قانون سازی کرتی ہو۔ 3:104 اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں 2۔ یہ قانون ساز مجلس شوری ان امور کا فیصلہ باہمی مشورے سے کرے گی جو عوام پر چھوڑ دئے گئے ہیں۔ 42:38 اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں 3۔ کسی ایک شخص کو خلیفہ یا پریذیڈنٹ بنانا، اس قانون ساز اسمبلی کے حوالے کیا گیا کیوں کہ 16 کروڑ عوام آج ایک ساتھ بیعت کرنے یا ووٹ ڈالنے نہیں جاسکتے ہیں۔ یہ ذمہ داری ان منتخب نمائیندوں کو سونپی گئی کہ وہ ایک ناکارہ پریزیڈنٹ کو ہٹا سکیں یا مناسب شخص کو پریزیڈنٹ بنا سکیں۔ یہ قرآن کی ان آیات کے مطابق ہے، جس میں اصحاب امر یعنی ذمہ دار افراد کا تعین کیا جاسکے۔ یعنی ایک مکمل انتظامیہ ترتیب دی جاسکے۔ 4:59 اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبانِ اقتدار و اختیار کی، جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑا ہوجائے تمہارے درمیان کسی معاملہ میں، تو پھیر دو اسے (فیصلے کے لیے) اللہ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تم (واقعیٰ ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور روز ااخرت پر۔ یہی طریقِ کار ہے بہتر اور بہت اچّھا انجام کے اعتبار سے۔ 4۔ ایک مناسب عدلیہ کا قیام 7:181 اور جنہیں ہم نے پیدا فرمایا ہے ان میں سے ایک جماعت (ایسے لوگوں کی بھی) ہے جو حق بات کی ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل پر مبنی فیصلے کرتے ہیں سورۃ المآئدۃ:5 , آیت:8 اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے 5۔ نمایندوں کا انتخاب یا ان کے ہاتھ پر بیعت : نمائندوں کے سپرد ذمہ داری کرنا ایک امانت ہے جو منتخب کرنے والوں کو لوٹانی ہے۔ سورۃ النسآء:4 , آیت:58 بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے اس طرح ایک قانون ساز مجلس شوری، ایک انتظامیہ ، ایک عدلیہ کا قیام، بیعت یا ووٹ کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ جس قانون کی مدد سے یہ انتخاب عمل میںآتا ہے وہ پاکستان کا آئین ہے اور مکمل طور پر قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق بنایا گیا ہے۔ کامل صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔ جب بھی کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، ہمارے منتخب نمائندے، نیا قانون بناتے ہیں، ان نمائیندوںکا کام اس قانون کو نافذ کرنا نہیں ہے۔ قانون نافذکرنے کا کام انتظامیہ کو دیا گیا ہے۔ 16 کروڑ عوام کے اس انتظام میں جب بھی کوئی دشواری آتی ہے تو وہ کسی ایک شخص کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ کیا یہ نظام اللہ تعالی کو قبول ہے؟ اس کا جواب ہم کو اس طرح ملے گا کہ ہم پچھلے 60 سال میں ہونے والی ترقی اور برکت دیکھیں۔ میدان تعلیم: آج سے ساٹھ سال پہلے ایک پنجاب یونیورسٹئ تھی۔ اور آج تقریبا 100 یونیورسٹیز اور بڑے کالج اور انسٹی ٹیوٹ ہیں۔ جو دینا کے تمام جدید و قدیم علوم میں تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ زراعت: پاکستان کے قیام کے وقت کے نہری نظام کو دیکھئے، اور آج کے نہری نظام کو دیکھئے۔ پاکستان کی زراعت کی پیداوار ، اناج کی پیداوار، پولٹری کی پیداوار۔ ان سب میں اللہ نے برکت دی ہے اور اضافہ فرمایا ہے۔ سائینس اور ٹیکنالوجی۔ ببول کے کانٹے سے ایٹم بم تک، الیکٹرنکس، الیکٹریکل ، کیمیکل، میکینیکل ، کونسا میدان ایسا ہے جس میںاللہ نے برکت اور ترقی نہیں دی؟ ٹیکسٹائیل۔ پاکستان آج کتنا کپڑا بناتا ہے ، کتنی کپاس اگاتا ہے اور کتنا ریشہ بناتا ہے ، اس کا موازنہ آپ 1951 سے کیجئے۔ اللہ نے بہت برکت اور ترقی دی ہے۔ کتنی برکت اور کتنی ترقی: اگر ہم پاکستان پر اللہ کا فضل اور اس کی ترقی دیکھیں تو ان 60 سالوں میں اس ملک نے جو ترقی کی ہے وہ کسی بھی اسلامی مملکت نے تاریخ میںنہیں کی۔ جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں ہے ان کو تھوڑی سی مزید تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مذہبی طور سے دیکھئے۔ مساجد۔ آج پاکستان میں 1951 سے زیادہ اور بہتر مساجد ہیں اور ان میںنماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ زکواۃ زکواۃ ذہن میں رکھئیے کہ آپ کی سالانہ سیونگز پر ٹیکس ہے۔ نہ کہ انکم پر۔ پاکستانی، زکواۃ بھی ادا کرتے ہیں اور ٹیکس بھی ۔ اور اجتماعی، سرکاری کوششوں کے علاوہ ، ذاتی طور پر بھی غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ: ہمارا اصل مسئلہ مذہبی تبدیلی نہیں مانگتا۔ بلکہ ایک معاشی تبدیلی چاہتا ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں دولت کے تصور کو درست کیا جائے اور دولت کو بہتر طریقے سے ریاست میں گردش دی جائے۔ معاشی تبدیلیوں کے بارے میں آئیندہ۔ جو کچھ لکھا ہے اس پر دل کھول کر تائید و تنقید فرمائیے۔ والسلام۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | nsa47 (31-10-08), عرفان حیدر (30-09-08) |
|
|
#41 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 1,847
کمائي: 16,093
شکریہ: 1,281
866 مراسلہ میں 1,527 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے پاس اس موحوع پر زبردست مواد ہے مگر وقت نہیں ہے۔
|
|
|
|
|
|
#42 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وقت نکالنے سے ملے گا۔ ہمیں انتظار رہے گا۔
|
|
|
|
|
|
#43 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,055
کمائي: 75,373
شکریہ: 50,030
10,114 مراسلہ میں 31,986 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (05-10-09) |
|
|
#44 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: Balochistan
عمر: 24
مراسلات: 2
کمائي: 333
شکریہ: 2
1 مراسلہ میں 1 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام میرے بھائی پاکستان کا نظام بالکل اسلامی ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات صرف نظام ہونے سے نہیں بنتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات تو تب ہے کہ اس نظام پر عمل کیا جائے۔
ہمارا سارا آئیں اسلام کے مطابق ہے لیکن اس آئیں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیسے ہوگا اس کے بارے میں سوچئے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
| مظفر علي کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (18-10-09) |
|
|
#45 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,262
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بالکل، اسللامی نظام تو تب بنے گا نا جب اس پر عمل ہوگا۔ لمبے مفروضات تو میں کسی چھٹی کے بچے سے بھی لکھوا سکتا ہوں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (18-10-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
![]() |
| Tags |
| .net, com, php, پاک, پسند, ویب, قرآن, قرآنی, لوگ, نماز, نظر, محبت, معذرت, آج, ایمان, اللہ, انتظامیہ, اردو, اسلامی, بہترین, جواب, خلاف, عزت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تاریخ کیسے بنتی ہے؟ | گلاب خان | اپکے کالم | 4 | 27-11-10 04:10 AM |
| دہشت گردی کیسے ختم کی جاسکتی ہے؟ اپنی رائے دیجئے | نعیم۔ | سیاسی رائے شماری | 16 | 03-08-10 04:07 PM |
| بدلتی ہے زندگی رنگ کیسےکیسے!!! | شیراز احمد | قہقہے ہی قہقے | 0 | 15-03-10 10:04 AM |
| Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ | Real_Light | شعبہ طب | 3 | 03-05-09 01:52 PM |
| FBI کیسے بندے کی شکل بناتی ہے | محمدخلیل | گپ شپ | 13 | 24-03-09 09:31 AM |