| پاک۔نیٹ پراجیکٹس پاک۔نیٹ پراجیکٹس |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 7 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (05-10-09), shafresha (05-10-09), منتظمین (26-09-08), مرزا عامر (29-08-10), مظفر علي (17-10-09), احمد بلال (31-08-10), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(میرے پاس اسکینر کی سہولت نہیں تھی اس لیے خود ہی ٹائپنگ کرنی پڑی الفاظ کی غلطیاں ہوسکتی ہیں جس کے لیے معافی چاہتا ہوں)
کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے؟ (پاکستان کے قائم ہوتے ہی یہ بحثیں شروع کردی گئی تھیں کہ اس مملکت کو ایک اسلامی مملکت بنانے میں کیا مشکلات اور قباحتیں درپیش ہیں ، اور اس غرض کے لیے دلائل فراہم کیے جانے لگے تھے کہ اس کو ایک لادینی ریاست ہونا چاہیے۔ اس کا اندازہ اس مباحثہ سے ہوسکتا ہے جومئی1948کو ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوا تھا۔ اس مباحثہ میں سائل کی حیثیت سے وجہیہ الدین صاحب بول رہے تھے اور مجیب کی حیثیت سے سید ابو اعلی مودودی) س۔ اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے غالباً یہ جان لینا ضروری ہے کہ آپ کے ذہن میں مذہبی ریاست کا کیا تصور ہے ۔ م۔ظاہر بات ہے کہ ایک مسلمان جب مذہب کا لفظ بولے گا تو اس کے ذہب میں اسلام ہی مراد ہوگا۔ میں جب کہتا ہوں کہ پاکستان کو ایک مذہب ریات ہونا چاہیے تو اس سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے، یعنی ایک ایسی ریاست جو اخلاق، تہذیب، تمدن، معاشرت،قانون، سیاست اور معیشت کے ان اصولوں پر قائم ہو جو اسلام نے ہم کو دیئے ہیں۔ س۔ آپ نے مذہب ریاست کا جو مفہوم بیان فرمایا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ریاست کا سیاست اقتدار ماہرین دینیات کے ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں ہوگا اس طبقہ کا کام یہ ہوگا کہ وہ سیاسی اور انتظامی امور کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر سے تحقیق و تفتیش کرے، ریاستی قوانین وضع کرے اور شرعی احکامات کی بناء پر ہر سیاسی گنتی کو سلجھائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طبقے کی پشت پناہ کون لوگ ہوں گے ۔؟یہ تو آپ جانتے ہیں کہ اقتصادی لحا ظ سے ہماری سمجا مختلف طبقوں میں منقسم ہے ۔ ہر طبقہ اس کوشش میں ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مذہب جواز تلاش کرے اور مذہبی نعروں کو استعمال میں لائے۔ ماہرین دینات اس طبقاتی کشمکش سے بے نیاز اور غیر متعلق نہیں رہ سکتے۔ ان کے لیے لازم ہے کہ یا تو وہ عوامی طاقتوں کا ساتھ دیں، یا اپنے آپ کو سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقہ سے وابستہ کردیں۔ اس صورت میں قرآنی اصولوں کی جو بھی تفسیر پیش کی جائے گی وہ ان کے سیاسی رجحان کی آئینہ دار ہوگی۔ مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے مفسروں میں اہم ترین مسائل پر شدید ترین اختلاف رائے پیدا ہوجائے گا۔ اقتصاری کشمکش ایک لا متناہی فقہیانہ بحث کی صورت اختیار کرے گی ۔ اور وہ مسائل جن کا مناسب حل ڈھونڈا اس وقت اشد ضروری ہے جوں کے توں دہرے کے دہرے رہ جائیں گے۔ م۔ جس طبقاتی کشمکش کی طرف آپ اشارہ کررہے ہیں وہ دراصل پیدا ہی اس لیے ہوئی ہے کہ مدتوں سے غیر اسلامی اثرات کے تحت رہتے رہتے ہمارا معاشرہ اخلاق کی اس روح سے اور انصاف کے ان اصولوں سے محروم ہوگیا ہے جو اسلام نے ہم کو دیئے تھے ۔ جس مادہ پرستی نے دنیا کو دوسرے معاشروں کو طبقات میں تقسیم کیا اور ان کے اندر اغراض و مفاد کا تصادم پیدا کیا ، وہی بد قسمتی سے اب ہمارے معاشرے کو پھاڑے اور با ہم ٹکرادینے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ ابھی ابھی ہم فرقہ ورانہ کشاکش کے ہولناک نتائج بھگت چکے ہیں اور اس سے لگتے ہوئے زخم ابھی بھرے بھی نہیں ہیں۔ اب ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اپنے آپ کو ان اجتماعی فلسفوں کے حوالے کردیں جو ایک دوسری جنگ ۔۔۔ طبقاتی جنگ۔ برپاکردیں اور ہمیں اس وقت تک امن کی صورت نہ دیکھنے دیں جب تک ہمارا کوئی ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو ملیا میٹ نہ کردے۔ دوسری قونوں نے تو ان اجتماعی فلسفوں کو شاید اس لیے قبول کرلیا کہ ان کے پاس اخلاق اور انصاف کے وہ اصول موجود نہ تھے جو طبقاتی خود غرضیوں کے نشوونما کو روک سکتے اور مختلف عناصر کو ایک عادل برادری میں جمع کردیتے۔ لیکن ہم خوش قسمتی سے ایک ایسا نظام حیات رکھتے ہیں جو ہمیں اس خطرے سے بچاسکتا ہے ۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر سے ان لوگوں کو ابھاریں جو اسلام کی روح کو پوری طرح سمجھتے ہوں اور طبقاتی تعصبات سے بالاتر ہو کر اسلام کے قوانین کی بے لاگ تعبیر کرسکتے ہوں پھر یہ لوگ بالا تفاق ، یا اکثریت کے ساتھ ، جو تعبیر ہمارے سامنے پیش کریں اسے ہم سب مان لیں اور ہم میں سے کوئی طبقہ اپنے ہی مطلب کی تعبیر لینے پر اصرار نہ کرے۔ ایسے لوگوں کی پشت پناہی پوری قوم کو بحیثیت مجموعی کرنی چاہیے نہ کہ کسی ایک طبقے یا چند طبقوں کو ۔ ہمیں ان کے انتخاب میں صرف اس معیار کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ وہ بھروسے کے قابل سیرت رکھتے ہوں ، اور اسلام کی صحیح تعبیر کرنے کے اہل ہوں۔ س۔ میری نا چیز رائے میں سیاسی نظام کے مرتب کرنے میں صرف خلوص اور ایمانداری ہی سے کام نیں چل سکتا۔ ہمارے سامنے اس وقت بہت سے پیچیدہ سیاسی اور معاشی مسائل ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے ۔ ذرائع پیداوار کو قومی ملکیت قرار دیا جائے یا شخصیت ملکیت؟۔ ریاست میں ایک ہی سیاسی پارٹی ہونی چاہیے یا ایک سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کو ہونا جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے ؟ مزدوروںکو ہڑتال کا حق ہونا چاہیے یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ ان گھیتوں کو مذہبی پیشوائوں کے حوالے کردیجیے ۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ کسی فیصلہ کن نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ریاست کی تعمیر کےلیے فقیہانہ تحقیق و تجسس اور مذہبی کتب کی چھان بین کی بجائے سیاسی تجزیئے اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلہ میں دینیات کے ماہروں کی بہ نست سیاسیات اور اقتصادیات کے ماہرین ہماری بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں۔ م۔ آپ جب ’’دینیات ‘‘کا لفظ بولتے ہیں تو شاید ’’دُنیَوِیاّت ‘ ‘کو اس سے خارج کردیتے ہیں ۔ اسی لیے آپ کو بجا طور پر یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ہم نے اپنے سیاسی اور معاشی مسائل کا حل اُ ن ماہرین دینیات کے حوالہ کردیا جو دُنیَوِیاّت سے نا واقف ہیں تو ہمارا کوئی مسئلہ بھی حل نہ ہوسکے گا۔ لیکن آپ ذرا اس پہلو پر بھی غور فرمائیں کہ اگر ہم نے پانے تمدّن ، اپنی سیاست اور اپنی معیشت کے مسائل ان ماہرین کے حوالے کردیئے جو صرف مغربی نظریات و عملیات سے واقف ہیں اور اسلامی تعلیمات سے کوئی مس نہیں رکھتے تو ہم کہاں پہنچ گے؟۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ماہرین دینیات کی بہ نسبت ہماری بہتر رہنمائی کرسکیں گے ۔ لیکن مجھے اندشیہ ہے کہ یہ رہنمائی ہمیں اسی منزل پر لے جائے گی جس پر آج دنیا کی بڑی بڑی قوتیں پہنچ چکی ہیں، یعنی گھر کے اندر طبقاتی خود غرضیوں کی کشاکش، اور گھر کے باہر بین الاقوامی خود غڑضیوں کی کھینچ تھان۔ کیا اس سے بہتر یہ نہ ہوگا کہ ہم اپنی قوم میں ان لوگوں کو تلاش کریں جو دین اور دنیا، دونوں کو اچھی طرح جانتے ہوں، جن کی نگاہ قرآن و حدیث کی تعلیمات پر اور سیاسیات و معاشیات وغیرہ کے مسائل پر یکساں ہو، اور وہ سر جوڑ کر ہماری گتھیوں کا ایسا حل پیش کریں جو ہماری زندگی کو ساری دنیا کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ بنادے۔ ؟ (بحوالہ۔۔ تحریک آزادی ہند اور مسلمان ۔ حصہ دوئم مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش سوم۔سید ابوالاعلیٰ مودودی) (تھوڑا مصروف ہوں،اگلے حصہ کے لیے انتظار کرے۔زین) Last edited by ابن جلال; 26-09-08 at 10:31 PM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (26-09-08), وجی (05-12-08), منتظمین (26-09-08), مرزا عامر (29-08-10), ابوشامل (14-11-08), راجہ اکرام (05-10-09), عبداللہ آدم (29-08-10), عرفان حیدر (29-09-08) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
ڈر کا یہ عالم کے نامعلوم بن کر قرآن پر مبنی آئین پیش کرنا چاہتے ہیں؟ جن لوگوںنہ پاکستان کا آئین پیش کیا وہ لوگ نامعلوم نہیں۔
|
|
|
|
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() |
جو صاحب قرآن اور حدیث کی بحث کرنا چاہتے ہیں، ان کے لئے دھاگہ موجود ہے۔
|
|
|
|
|
|
#20 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (31-10-08), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() |
آپ میں سے ایک صاحب نے مودودی صاحب سے سوال و جواب سے ایک اقتباس پیش کیا،
سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ نے یہ تکلیف کی کہ اس سب کو لکھا۔ مودودی صاحب کا یہ جواب بہت ہی درست جواب ہے: س۔ اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے غالباً یہ جان لینا ضروری ہے کہ آپ کے ذہن میں مذہبی ریاست کا کیا تصور ہے ۔ م۔ظاہر بات ہے کہ ایک مسلمان جب مذہب کا لفظ بولے گا تو اس کے ذہن میں اسلام ہی مراد ہوگا۔ میں جب کہتا ہوں کہ پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے تو اس سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے، یعنی ایک ایسی ریاست جو اخلاق، تہذیب، تمدن، معاشرت،قانون، سیاست اور معیشت کے ان اصولوں پر قائم ہو جو اسلام نے ہم کو دیئے ہیں۔ جن حضرات کا مجھ سے اختلاف ہے وہ اس بات پر ہے کہ آپ قرآن سے آیت پیش کردیتے ہیں۔ بہت خوب ، مجھے یہ اختلاف پسند ہے۔ اس ضمن میں ایک الگ دھاگہ کھلا ہوا ہے، آپ اس میں مزید بحث کرسکتے ہیں۔ یہاں پاکستان کے حکومتی نظام کے اسلامی ہونے کی بات کیجئے۔ سب سے پہلے ہم آپ کے پیش کردہ دستور سے ایک نکتہ اٹھاتے ہیں۔ وہ یہ: ب: غیر مسلم جیسا بھی اعتقاد رکھیں ----- اور ---- جس طرح چاہیں ، عبادت کریں ----------- ان سے باز پرس نہیں کی جائے گی۔ گویا اگر ایک طبقہ اپنا کوئی بھی اعتقاد رکھنا چاہے تو وہ قابل قبول ہے۔ سوال آپ سے یہ ہے کہ اگر سارا پاکستان کسی طریقہ کا بھی اعتقاد رکھنا چاہے تو وہ ان گمنام صاحب کو قابل قبول کیوں نہیں؟ آپ دیکھئے کہ آپ کا پیش کردہ دستور کسی ایک آدمی کا بنایا ہوا ہے، اس کو کسی نے بھی قبول نہیں کیا۔ گو کہ اس میں کہیں کہیں تھوڑا تھوڑا اسلامی مواد موجود ہے لیکن مکمل ڈاکومینٹ غلطیوں سے مبراء ایک بے معنی پیشکش ہے۔ ہمارا سوال یہ نہیںکہ یہ فرد واحد کا خیالی دستور درست ہے یا نہیں۔ ہمارا سوال پاکستان کے دستور ، پاکستان کی حکومت کے بارے میں ہے کہ اس میں غیر اسلامی کیا ہے۔ اس لئے ہم اپنا فوکس اس طرف کرتے ہیں۔ پاکستان کا حکومتی نظام، پاکستان کے آئین کے مطابق ہے۔ پاکستان کا آئین ، پاکستان کے منتخب بیشتر مسلمان نمائیندوں نے لکھا ہے۔ جس کے پیچھے پاکستان کے بیشتر مسلمان عوام ہیں۔ یعنی یہ تمام مسلمان منتخب نمائندے، یہ تمام پاکستانی ، عقل نہیںرکھتے کہ ان کا آئین اسلامی نہیں اور یہ سب مطمئن بیٹھے ہیں۔ ان عقلی اور منظقی سوالات کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا دستور اور حکومتی نظام قرآن کریم کی رو سے اسلامی ہے یا نہیں؟ 1۔ پاکستان کا حکومتی نظام ، پاکستان کے آئین کے مطابق ہے۔ 2۔ پاکستان کا آئین ایک مکمل طور پر اسلامی آئین ہے۔ جس کے لکھے جانے میں بہترین علماء کی مدد شامل رہی ہے۔ اور اب بھی مختلف مذہبی جماعتوں کے نمائندہ اپنے اعتراضات اور منتخب نمائندوں کی مدد سے اس آئین مٰن تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ 3۔ پاکستان کے آئین کی شق نمبر 2 دیکھئے: 2۔ ریاست کا مذہب: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔ 3۔ اور اس سے پیشتر آئین کے ابتدائیہ میں لکھا گیا ہے ہم پاکستان کے عوام، بانیء پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کے اعلان کے عین مطابق، پاکستان ایک اسلامی اصولوں اور سماجی انصف پر مبنی ایک جمہوری ریاست ہوگا 4۔ آئین کا آرٹکل نمبر 50 دیکھئے: ۔ 50۔ مجلس شوری ( پارلیمنٹ) مجلس شوری، پریذیڈنٹ، قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہوگی۔ اب دیکھئے آرٹیکل 2 ب 2۔ ب (1) قرآن کریم اور سنت رسول اکرم پاکستان کاقانون تمام قوانین پر اولیت رکھے گا یعنی سب سے بڑا قانون ہوگا۔ (1) The Holy Quran and Sunnah of the Holy Prophet (peace be upon him) shall be the supreme law of Pakistan . یہ تو ممکن ہے کہ آپ کے قوانیں میںکوئی سقم موجود ہو جس کی تصحیح آپ اپنے نمائندوں کی مدد سے کرسکتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کا حکومتی نطام اسلامی نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا حکومتی نظام کچھ لوگوں کی ذاتی خواہشات کے مطابق نہیں۔ جاری ہے۔۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | وجی (05-12-08), عرفان حیدر (29-09-08) |
|
|
#22 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ کی سمجھ میں اردو شاید مشکل سے آتی ہے۔ ![]() جو صاحب قرآن اور حدیث کی بحث کرنا چاہتے ہیں اور قرآن و حدیث پر بحث دو مختلف باتیں ہیں۔ احتیاط سے کام لیں۔ ٹھیک سے پڑھیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() |
کیا یہ اچھی بات ہے کہ جب بھی آپ کے پاس دلائل نہ ہوں تو میری کردار کشی کی جائے؟
یا جب میرے پاس دلائل نہ ہوں تو آپ کی کردار کشی کروں؟ مجھے کوئی اعتراضنہیں کہ اگر منتظمین ایسے پیغامات حذف کردیں جن میں کوئی بدتمیزی کی گئی ہو، ذاتی حملہ کئے گئے ہوں اور کردار کشی کی گئی ہو ۔ لیکن اگر منتظمین ایسے پیغامات حذف کرنا شروع کردیں جن میں نظریات یا خیالات میں منتظمیں کے نظریات و خیالات سے اختلاف ہو تو یہ درست نہیں۔ اردو ویب پر زکریا نے اس وجہ سے کہ ان کے والد صاحب کے خیالات اور ان کے اپنے نظریات کا مجھ سے اختلاف ہے، میرے پیغامات حذف کرنے شروع کردئے۔ جب آپ لکھ ہی نہ سکیں اور لوگ تنقید حذف کرنے لگیں تو پھر لکھنے سے کیا فائیدہ۔ یہ وجہ ہے کہ میں نے اردو ویب چھوڑا۔ تائید و تنقید میں کوئی برائی نہیں۔ اگر آج زکریا صاحب میرے لکھے ہوئے پیغامات واپس لے آئیں اور وعدہ کریں کہ نظریاتی اختلافات پر پیغامات حذف نہیں کریں گے اور اپنے اس بے ہنگم رویہ کہ معافی مانگ لیں تو مجھے اردو ویب پر لکھنے میں کوئی اعتراض نہیں۔ تائید کیجئے یا تنقید، ناراض ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کوئی معاملہ آپ کا میرا ذاتی معاملہ نہیں۔ کہ ہم اس پر ذاتی طور پر ناراض ہوں؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | حیدر (05-10-09), عرفان حیدر (29-09-08) |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#25 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم
ہمارا اور آپ کا اختلاف بڑا بنیادی قسم ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن اور احادیث دونوں قانون کا ماخذ ہیں جبکہ آپ صرف قرآن سے اپنے فہم کے مطابق نظام اخذ کرنا چاہتے ہیں۔ اس جوہری فرق کی وجہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ دھاگہ کسی منطقی انجام تک پہنچ سکے گا۔ آپ اپنا نکتہ نظر بیان کرنا چاہیں تو کر لیں۔ یہ گفتگو اردو محفل پر ہو چکی ہے اور بے نتیجہ ہی رہی۔ اسلامی ریاست پر ایک کتاب کا لنک پیش خدمت ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد اپنی رائے دیجیے۔ لنک : اسلامی ریاست |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() |
یہ ایک بندہ کے اپنے ذاتی خیالات ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے علماء سیاستدان، حکومت کے آلہ کار اور ذمہ دار افراد ان خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ باقی پاکستان کو قرآن و سنت کی جو فہم ہے وہ ایل بندہ کی فہم کے مطابق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام، علماء ، سیاستدان ، حکومت کے ذمہ دار افراد، اور ان کے منتخب نمائیندوں نے اپنی بہترین فہم کے مطابق پاکستان کی حکومت اور اس کے آئین کو بہترین اسلامی طریقہ سے استوار کیا ہے۔ اس کا ثبوت اللہ کا فضل اور پاکستان کی ترقی ہے۔
قرآن اور قرآن کے موافق احادیث ہی قوانین کا ماخذ ہیں ۔ اصل فرق یہ ہے کہ انتظامیہ مولویوں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہی رونا ہے مولویوں کا۔ |
|
|
|
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بات کھینچ کھینچ کر پھر وہی پہنچادی جاتی ہے ۔ فاروق صاحب آپ کو مولویوں سے کیا دشمنی ہے ۔ مولوی عالم دین ہوتے ہیں۔ منفی اور مثبیت خیالات رکھنے والے لوگ ہر معاشرے اور شعبے میں ہوتے ہیں
|
|
|
|
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() |
مولویوں کا اصرار ہے کہ صرف ان کو حکومت کا حق حاصل ہے۔ باقی سب بے کار لوگ ہیں۔ اگر کسی نے تعلیم حاصل کرلی یا قرآن پڑھ لیا یا حدیث پڑھ لی تو بھی وہ بے کار ہے کیوںکہ وہ مولوی کے کنٹرول میں نہیںہے ۔ مولوی چاہتا ہے کہ فرد واحد کی حکومت ہو۔ تاکہ اس کو مولویوں کی کٹھ پتلی حکومت ہو۔
|
|
|
|
|
|
#29 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اسلامی حکومت کی خصوصیات قرآن کریم کی روشنی میں:
1۔ اقامت صلٰوۃ 2۔ زکوٰۃ کا نظام 3۔ نیکی کا حکم دینا 4۔ برائی سے منع کرنا ریفرنس: سورۃ الحج آیت 41 الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ "(یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہے" 5۔ عدل و انصاف کی فراہمی افَلِذَلِكَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ " پس آپ اسی (دین) کے لئے دعوت دیتے رہیں اور جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے (اسی پر) قائم رہئے اور اُن کی خواہشات پر کان نہ دھریئے، اور (یہ) فرما دیجئے: جو کتاب بھی اللہ نے اتاری ہے میں اُس پر ایمان رکھتا ہوں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ اللہ ہمارا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث و تکرار نہیں، اللہ ہم سب کو جمع فرمائے گا اور اسی کی طرف (سب کا) پلٹنا ہے" 6۔ مشورہ اوَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ "اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں۔" 7۔ دوستی اور دشمنی ایمان کی بنیاد پر ايَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا النساء144 "اے ایمان والو! مسلمانوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ (نافرمانوں کی دوستی کے ذریعے) اپنے خلاف اللہ کی صریح حجت قائم کر لو۔" 8۔ مظلوم مسلمانوں کی مدد اوَالَّذِينَ كَفَرُواْ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلاَّ تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ الانفال 75 "اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، (اے مسلمانو!) اگر تم (ایک دوسرے کے ساتھ) ایسا (تعاون اور مدد و نصرت) نہیں کرو گے تو زمین میں (غلبۂ کفر و باطل کا) فتنہ اور بڑا فساد بپا ہو جائے گا۔" 9۔ سود کا خاتمہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّهِ وَرَسُولِهِ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُونَ البقرۃ 278۔279 "اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو،پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلانِ جنگ پر خبردار ہو جاؤ، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لئے تمہارے اصل مال (جائز) ہیں، نہ تم خود ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے" 10۔ عہدے اور امانتیں صرف اہل افراد کے پاس: إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّواْ الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا النساء 58 " بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے" 11۔ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق فیصلہ وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ "ہم نے یہ حکم کیا ہے کہ) آپ ان کے درمیان اس (فرمان) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور آپ ان سے بچتے رہیں کہیں وہ آپ کو ان بعض (احکام) سے جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمائے ہیں پھیر (نہ) دیں، پھر اگر وہ (آپ کے فیصلہ سے) روگردانی کریں تو آپ جان لیں کہ بس اﷲ ان کے بعض گناہوں کے باعث انہیں سزا دینا چاہتا ہے، اور لوگوں میں سے اکثر نافرمان (ہوتے) ہیں" 12۔ جہاد فی سبیل اللہ، کافروں پر سخت، مومنوں کے لیے نرم يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ "اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے وہ مومنوں پر نرم (اور) کافروں پر سخت ہوں گے اﷲ کی راہ میں (خوب) جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ یہ (انقلابی کردار) اللہ کافضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اﷲ وسعت والا (ہے) خوب جاننے والا ہے" 13۔ اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی یہود و نصارٰی سے دوستی نہیں،۔ البتہ اگر وہ شرارتوں سے باز رہیں تو برابری کی بنیاد پر روابط قائم کرنا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ " اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ (سب تمہارے خلاف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ (بھی) ان میں سے ہو (جائے) گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا" يلَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ " اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے" 14۔ جہاد کے لیے قوت کی تیاری وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ "اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لئے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑوں کی (کھیپ بھی) اس (دفاعی تیاری) سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی جن (کی چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے، اور تم جو کچھ (بھی) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے ناانصافی نہ کی جائے گی" 15۔ دعوت الی اللہ، اسلامی حکومت کی اہم علامت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ "تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقیناً ان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں" ان 15 نکات پر غور کیجیے جو بغیر کسی تشریح کے پیش خدمت ہیں۔ وقت کی کمی کی وجہ سے مزید حوالہ جات کی فراہمی سے معذور ہوں۔ اسلامی حکومت کی ان قرآنی نشانیوں پر جو حکومت جس قدر عمل کر رہی ہے وہ اتنی ہی اسلامی ہے۔ اور اگر یہ نہیں تو پھر دعوے ہیں یا فضول بحثیں۔ جن میں شامل ہونے سے معذرت خواہ ہوں۔ |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-09-08), پیاسا (27-09-08), میاں شاہد (27-09-08), منتظمین (27-09-08), مرزا عامر (29-08-10), مسٹر شیف (05-10-09), ابوشامل (14-11-08), ابن جلال (28-09-08), تفسیر حیدر (27-09-08), راجہ اکرام (05-10-09), عبداللہ آدم (29-08-10) |
|
|
#30 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ عبداللہ حیدر آپ کا۔ شاید آپ میرے یہ آرٹیکلز پڑھ چکے ہیں۔
قرآن کیا کہتا ہے۔ http://www.urduweb.org/mehfil/showpo...96&postcount=1 اجتماعی معاشرہ میں قانون ساز اداروں کا قیام۔ Establishment of Legisilative Bodies قرآن حکیم صرف انفرادی ہدایات و احکامات اور اصولوں پر ہی مبنی نہیں ہے، بلکہ پورے معاشرہ کے لئے اجتماعی احکامات کا ایک واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ جس میں قانون ساز ادارے کا قیام بھی شامل ہے۔ دیکھئے [AYAH]3:104[/AYAH]اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں عموما اس سے مراد یہ لی جاتی رہی ہے کہ کچھ لوگ جمع ہوکر کبھی کبھار تبلیغ کرلیں یا لوگوں کو نصیحت کردی جائے۔ لیکن ایک آرگنائیزڈ یعنی منظم معاشرے میں آپ اس طرح کی Hobby Style مشغولیت سے باقاعدہ قوانین کا کام نہیں لے سکتے ۔ لہذا اس کے لئے ایک منظم ادارہ کے قیام کی ضرورت ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مومنین کے فیصلہ باہمی مشورے سے ہوتے ہیں اس بنیادی اصول کو قران ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ [AYAH]42:38[/AYAH] اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں اس مجلس شوری کے نمائندوں کے انتخاب کے لئے قرآن یہ گائیڈ لائینز فراہم کرتا ہے۔ دیکھئے [AYAH]46:19[/AYAH] اور سب کے لئے ان (نیک و بد) اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے درجات مقرر ہیں تاکہ (اﷲ) ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ان نمائندوں کو اس دنیا میں اور اسلامی معاشرے میں مناسب درجات پر فائز کرنے کے لیے انکے اعمال سے انکے درجات کا تعین ہوتا ہے۔اور چننے والوں کو اللہ تعالی ہدایت کرتا ہے کہ آپ اپنا اعتماد یعنی ووٹ یا بیعت ان لوگوں کے حوالے کریں جو اس کے مستحق ہیں دیکھئے [AYAH]4:58[/AYAH] بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں (الامانات Your trust) انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان (امانات) کے اہل ہیں، اور جب تم ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے اس تمام پروسیس میں وہ لوگ جو آپ سے مختلف خیالات رکھتے ہیں ان کو آپ کیسے شامل کریں؟ دیکھئے اللہ کی ہدایت کہ اپنے رسول کو نرم خوئی سے سب سے مشاورت کا حکم دیتا ہے۔ [AYAH] 3:159[/AYAH] (اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے اللہ کے نزدیک عزت کا معیار پرہیزگاری ہے، [AYAH]49:13[/AYAH] اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے عمر کی پختگی کا معیار 40 سال، قرآن ان الفاظ میں کرتا ہے [AYAH]46:15[/AYAH] اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم فرمایا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانہ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور (پھر) چالیس سال (کی پختہ عمر) کو پہنچتا ہے، تو کہتا ہے: اے میرے رب: مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمایا ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری اولاد میں نیکی اور خیر رکھ دے۔ بیشک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں یقیناً فرمانبرداروں میں سے ہوں قرآن کریم ہم کو اللہ اور رسول کے ساتھ ان صاحب اختیار تمائندوں کے حکم کی تعمیل کا حکم دیتا ہے۔ [AYAH]4:59[/AYAH] اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے یہود و نصاری کے لئے قانون کیاہو، اللہ تعالی نے یہود کو تورات اور نصاری کو انجیل عطا فرمائی تھی، اور اس وقت اان کے فیصلے اور قوانین تورات کے مظابق تھے، اب قرآن کے آجانے کے بعد، ان آیات کی مدد سے فیصلے کئے جائیں گے۔ اس ضمن میں درج ذیل آیات دیکھئے، ان آیات کے ترجمے کو دیکھتے ہوئے، دوسرے انگریزی ترجموں پر بھی دھیان دیجئے، کیونکہ یہاں اردو گرامر میںتھوڑا فرق نظر آتا ہے۔ دیکھئے [AYAH]5:43[/AYAH] اور یہ لوگ آپ سے کیوں کہتے ہیں کہ ہمارے فیصلے کرو جبکہ ان کے پاس تورات ہے۔ جس میں اللہ کی احکام موجود ہیں، پھر یہ اس کے بعد (بھی حق سے) رُوگردانی کرتے ہیں، اور وہ لوگ (بالکل) ایمان لانے والے نہیں ہیں [AYAH]5:44[/AYAH] بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اﷲ کے) فرمانبردار (بندے) تھے یہودیوں کی فیصلے کرتے رہے اور اﷲ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم (اقامتِ دین اور احکامِ الٰہی کے نفاذ کے معاملے میں) لوگوں سے مت ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو اور میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیں [AYAH]5:45[/AYAH] اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے عوض آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے عوض کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں (بھی) بدلہ ہے، تو جو شخص اس (قصاص) کو صدقہ (یعنی معاف) کر دے تو یہ اس (کے گناہوں) کے لئے کفارہ ہوگا، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ ظالم ہیں [AYAH]5:47[/AYAH] اور اہلِ انجیل کو (بھی) اس ( موجودہ قرانی حکم) کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا ہے، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ فاسق ہیں قانون سازی پر حرف آخر، یہ کتاب۔ [AYAH]5:48[/AYAH] اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے اس مد میں [AYAH]5:49[/AYAH اور [AYAH]5:50[/AYAH] بھی دیکھیں۔ [AYAH]5:50[/AYAH] کیا یہ لوگ (زمانہ) جاہلیت کا قانون چاہتے ہیں، اور یقین رکھنے والی قوم کے لئے حکم (دینے) میں اﷲ سے بہتر کون ہو سکتا ہے قانون ساز اسمبلی، سینیٹ یا مجلس شوری کا قیام، تاریخ اسلام اور سنت رسول و صحابہ سے ثابت ہے کہ جب ووٹ بیعت کے ذریعے لیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی قریب کی نام نہاد اسلامی حکومتوں میں ایسی کسی اسمبلی، پارلیمنٹ یا شوری کے کوئی آثار کیوں نہیں ملتے؟ صاحبو، دوستو، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے قران کے اس جمہوری نظام کو ترک کردیا اور صفحوں کے صفحے ملوکیت یعنی بادشاہت پر لکھ ڈالے۔ آپ قومی دولت کا مکمل کنٹرول ایک شخص (یعنی بادشاہ ) کو دے دیجئے اور پھر اس دولتمند سے کہیئے کی بھائی اب تم یہ دولت چھوڑ کر چلے جاؤ تو کیا وہ یہ دولت چھوڑ دے گا؟ ہرگز نہیں، لیکن جمہوری نظام میں منتظم اعلی یعنی صدر، پرائم منسٹر کو اپنا وقت پورا ہونے پر بہر صورت حکومت چھوڑ کر ہٹنا ہوتا ہے۔ اور عوام اس شخصیت کا انتخاب کرتے ہیں۔ زیادہ تر بادشاہ حکمران صرف دولت کے دلدادہ تھے اور عوام کی دولت کو صرف اپنا سمجھتے تھے، یہ دولت انہوں نے صرف اپنی اولادوں کو دی۔ حکومت صرف چھینی جاتی رہی وہ بھی صرف دولت اور کنٹرول کے لالچ میں۔ عموما اس عوام کی دولت کو عوام کی فلاح کے لئے خرچ نہیں کیا جاتا تھا۔ مدرسوں، اسکولوں، شفاخانوں- عوامی ذرائع آمدورفت کی جگہ صرف اپنی دولت کو محفوظ کرنے کے لئے قلعے اور محلات اور اپنی ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے انتظام، بادشاہوں کی ترجیحات رہی۔ ہندوستان میں گو اسلامی حکومت، کوئی کہتا ہے 600 سال رہی اور کوئی کہتا ہے 1000 سال، لیکن پاکستان وہندوستان میں مسلمانوںکی ان حکومتوں کی یادگار ، کتنی یونیورسٹیوں کے آثار ملتے ہیں؟ یا کتنے شفاخانوں کے آثار ملتے ہیں؟ یا عوام کی فلاح کے نشان کتنی سڑکیں ملتی ہیں؟ ان سوالوں کا جواب ایک فردِ واحد کی حکومت کے بجائے عوام کے نمائندوں کی حکومت میں چھپا ہے۔ مسلمانوں کے زوال کا راز اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ رسول کریم کی وفات کے بعد حکومت خاندانوںمیں منتقل ہونے میں 100 سال بھی نہیں لگے۔ قرآن کے ان آسان اور سادہ احکامات کو مکمل طور پر چھپا دیا گیا اور عام کردیا گیا کہ قرآن کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔ بنیادی مقصد یہ رہا کہ عوام اس عظیم کتاب کو روشنی نہ حاصل کریں اور اگر پڑھیں تو مکمل کنٹرول رہے ایسے حضرات کا جو بادشاہ کے طوہاَ و کرہاِ خیرخواہ ہوں کہ کنٹرول تو بادشاہ کا ہی ہوتا تھا، فرد واحد کی حکومت اور فردِ واحد کی قانون سازی۔ عموما بادشاہوں کا مقصد بڑے مفتی یا امام کے اپائنٹمنٹ سے مناسب سپورٹ حاصل کرنا ہوتا تھا، کہ حکم حاکم، مرگ مفاجات۔ جس نےمخالفت کی، اسے اڑا دیا گیا۔ چھوٹے امام یا مولویوں کا درجہ اِس مذہبی سٹرکچر کو قائم رکھنے میں معاون ثابت ہوتا تھا اور ارتقاء پاتا گیا۔ اللہ نے بہت مناسب موقع فراہم کیا ہے کہ ہمارے امام و مولوی حضرات اپنے علم کا استعمال کرکے قران حکیم کے احکامات پر مبنی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام میں ممدد اور معاون ہونے کا کردار ادا کریں اور اس جمہوری قانون سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔ (تمام تر عزت کے ساتھ عرض ہے کہ) ان مولوی اور امام حضرات کو اب تک یہ سمجھ لینا چاہیے کہ فرد واحد کی حکومت سے ان کو اللہ نے نجات دے دی ہے اور اب علم کےاستعمال کا قران کی تعلیمات کے مطابق وقت آگیا ہے۔ لہذا فرد واحد کی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ حضرات اسمبلیوں میں جاکر بہت مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ذہن میں رہے کہ قران کسی مذہبی درجہ بندی کو فروغ نہیں دیتا، کسی بھی جگہ، نبیوںکے علاوہ، ایک فرد واحد کو قانون سازی کا مکمل حق نہیں دیتا۔ اور نبی کے درجے پر فائز خود اللہ تعالی فرماتا رہا ہے، یہ درجہ کسی طور خود سے اب حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کیا آپ آج یا ماضی کے کسی بھی بادشاہ یا ملکہ (جیسے برطانیہ اور ہالینڈ) کو قائل کرسکتے ہیں کہ وہ عوام کی دولت سے دستبردار ہو جائے اور اس بادشاہ کے بعد یہ دولت و حکومت عوام کے نمائندہ ایک قانون ساز ادارے کو منتقل کر دی جائے؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 27-09-08 at 03:17 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | عرفان حیدر (29-09-08) |
![]() |
| Tags |
| .net, com, php, پاک, پسند, ویب, قرآن, قرآنی, لوگ, نماز, نظر, محبت, معذرت, آج, ایمان, اللہ, انتظامیہ, اردو, اسلامی, بہترین, جواب, خلاف, عزت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تاریخ کیسے بنتی ہے؟ | گلاب خان | اپکے کالم | 4 | 27-11-10 04:10 AM |
| دہشت گردی کیسے ختم کی جاسکتی ہے؟ اپنی رائے دیجئے | نعیم۔ | سیاسی رائے شماری | 16 | 03-08-10 04:07 PM |
| بدلتی ہے زندگی رنگ کیسےکیسے!!! | شیراز احمد | قہقہے ہی قہقے | 0 | 15-03-10 10:04 AM |
| Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ | Real_Light | شعبہ طب | 3 | 03-05-09 01:52 PM |
| FBI کیسے بندے کی شکل بناتی ہے | محمدخلیل | گپ شپ | 13 | 24-03-09 09:31 AM |