واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے ہیروز



پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز


ھمارے محبوب رہنما قائد اعظم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-09, 10:06 PM  
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
Thumbs down ھمارے محبوب رہنما قائد اعظم

پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو بروز اتوار کراچی میں پیدا ہوئے آپ کے والد متوسط درجے کے ایک خوشحال تاجر تھے محمد علی جناح کی ابتدائ تعلیم ایک مکتب میں‌ہوئ جہاں انہوں نے کلام پاک اور اردو کی ابتدائ تعلیم حاصل کی مزید تعلیم کی غرض سے انہیں بمبئ بھیجا گیا لیکن تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں واپس بلا لیا گیا بات یہ تھی کہ والدین کو اپنے بیٹے سے بے انتہا پیار تھا اور وہ اس کی جدائ کو برداشت نہ کر سکتے تھے چنانچہ محمد علی جناح کو ایک ہائ سکول میں داخل کرایا گیا اور انہوں نے میٹرک کیا

اب ان کے والد کا ارادہ تھا کہ محمد علی ان کے کاروبار میں شریک ہو اور ان کا ہاتھ بٹائے لیکن بچہ غیر معمولی طور پر ذہین تھا اور ایک انگریز دوست کے مشورہ پر والد نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے بہتے کو مزید تعلیم کے لئے اپنے سے جدا کر دیا اور محمد علی بیرسٹری کی تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے اس وقت ہونہار طالبعلم کی عمر 16 برس تھی

انگلستان میں قیام کے دوران محمد علی نے دوسرے طالب علموں‌کے بر عکس روش اختیار کی وہ بے حد محنتی تھے اور سستی تفریحوں سے کنارہ ھو کرپوری توجہ تعلیم پر دیتے تھے انہوں نے بیرسٹری کا امتحان نمایاں کامبابی سے پاس کیا اور 1896 میں بمبئ واپس لوٹے انگلستان میں قیام کا عرصہ محمد علی جناح کے سیاسی شعور کا زمانہ تھا وہاں رہ کر انہوں نے انگریزوں کو قریب سے اچھی طرح‌پرکھا اور ہندوستانیوں کے بارے میں انگریزوں کا جو طرز عمل تھا اس کا بغور مطالعہ کیا

1897 میں انہوں نے بمبئ میں وکالت شروع کی یہ وہ زمانہ تھا کہ جب گھر کی ذمہ داریوں کا بار بھی ان کے کاندھوں پر آن پڑا تھا اور حالات سازگار نہیں تھے چند سال پریکٹس کے بعد ایک پریذیڈنسی مجسٹریٹ کی جگہ خالی ہوئ تو آپ کو وہاں‌مقرر کر دیا گیا لیکن زیادہ عرصہ تک آپ نے ملازمت کی پابندیوں کو برداشت نہ کیا حقیقت یہ تھی کہ ان کی آزاد طبعیت اور ملازمت کا کوئ جوڑ نہیں تھا ملازمت سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے پھر پریکٹس شروع کر دی اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ نام پیدا کیا کہ پرانے بیرسٹر بھی حیران رہ گئے

یہ ان انڈین نیشنل کانگریس کی سیاسی جدوجہد کے آغاز کا زمانہ تھا محمد علی جناح نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی اور کانگریس میں شمولیت اختیار کی اس طرح آپ سیاست کے میدان میں اترے ایک کامیاب بیرسٹر کی حثیت سے ان کی شہرت پہلے ہی دور دور تک پھیلی ہوئ تھی اب ان کی سیاسی بصیرت اور زور بیان کا چرچا ہونے لگا

لارڈ کرزن نے جب بنگال کی تقسیم کا اعلان کیا تو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں‌کو علیٰحدہ تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئ یہ تنظیم مسلم لیگ کے نام سے قائم ہوئ محمد علی جناح اس وقت تک مسلمانوں کی علیٰحدہ سیاسی تنظیم کے قائل نہ تھے وہ ایک قوم پرست مسلمان کی حیثیت سے تمام ہندوستانی مسلمانوں‌کی اجتماعی جدوجہد پر اصرار کرتے تھے ساتھ ہی وہ ہندوؤں اور مسلمانوں‌کے اتحاد کے بھی قائل تھے اور انہین با ہم قریب تر لانے کے لئے انہوں نے اپنی کوششیں وقف کر رکھی تھیں یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ 1915 اور 1916 میں انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ ہوئے اور سب انہیں نہرو مسلم اتحاد کا پیغامبر کہا کرتے تھے لیکن یہ صورت حال زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی آخر آپ نے محسوس کیا کہ دونوں‌قوموں کا اتحاد مسلمانوں‌کے لئے نقصان دہ ہے اتحاد کے لئے ہندو اکثریت اپنی تنگ نظری ترک کرنے کو تیار نہیں ہیں آخر وہ مسلم لیگ میں‌شامل ہو گئے

پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر برطانوی حکومت نے ہندوستان کو چند آئینی مراعات دینے کا فیصلہ کیا اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی بنائ گئ اس کی سفارشات ہندوستان کے حق میں مفید نہ تھی محمد علی جناح‌نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے ان سفارشات کے خلاف سارے ملک کو متحد کیا اور اس مخالفت نے وہ جوش اختیار کیا کہ یہ سفارشات مسترد قرار پائیں محمد علی جناح‌نے 1927 میں سائمن کمیشن واپس جاؤ کی تحریک کے بعد اپنا مشہور چودہ نکاتی پروگرام پیش کیا جس میں مسلمانوں کے مطالبات شامل تھے

اب وہ زمانہ آ گیا تھا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے اختلافات خاصے بڑھ چکے تھے 1936 میں جب مختلف صوبوں‌میں کانگریس حکومتیں قائم کیں‌ تو ان کے طرز عمل پر مسلمان کچھ اور برگشتہ ہو گئے قیام پاکستان کا مطالبہ قرارداد لاہور کی صورت میں 1940 میں پہلی بار پیش ہوا محمد علی جناح‌ کی انتھک کوششوں اور بے مثال تدبر اور ہمت سے یہ مطالبہ قریہ قریہ بستی بستی پہنچا یہ مطالبہ جوں جوں مقبول ہوتا گیا کانگریس کی مخالفت شدید سے شدید تر ہوتی گئ

تمام مخالفتوں کے باوجود 14 اگست 1947 میں یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور مسلمانوں کا علٰیحدہ وطن پاکستان قائم ہو اور قائد اعظم محمس علی جناح اس کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے

نئ مملکت کی شدید مشکلات کے موقع پر قائد اعظم ذرا بد دل نہ ہوئے انہوں نے خرابی صحت کے باوجود اب تندہی سے کام شروع کر دیا وہ اس عمر اور صحت میں بھی روزانہ 14 گھنٹے کام کیا کرتے رہے انہوں نے جس ملک کے قیام کے لئے اپنی زندگی وقف کی تھی اس کی تعمیر کے لئے وہ سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار تھے لیکن 11 ستمبر 1948 کی وہ رات آن پہنچی جس نے ملت اسلامیہ کے اس محسن اور بانی پاکستان کو ہم سے ہمیشہ کے لئے چھین لیا



پاکستان زندہ باد

قائد اعظم زندہ باد

پاک ڈاٹ نیٹ پائندہ باد
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
19 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (20-12-09), shafresha (26-12-10), فرحان دانش (19-12-09), پاکستانی (27-09-10), پاکستانی لڑکی (19-12-09), یاسر عمران مرزا (26-12-09), محمدعدنان (21-12-09), مرزا عامر (27-09-10), ایس اے نقوی (19-12-09), حیدر (22-12-09), خالد حسین (09-02-12), راجہ اکرام (19-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09), عامرشہزاد (20-12-09), عائشہ صادق (13-10-10), عدنان دانی (20-12-09), عروج (14-10-10), غلام خان (14-10-10)
کمائي نے نیلم خان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
27-09-10 پاکستانی ھمارے محبوب رہنما قائد اعظم 80
22-12-09 ام طلحہ بہت خوب نیلم 100
19-12-09 ایس اے نقوی ھمارے محبوب رہنما قائد اعظم 150
پرانا 22-12-09, 01:45 PM   #16
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
زبردست نیلم خان۔۔۔
کیا کہنے
بہت اچھا لکھا ہے۔۔۔
خان صاحبہ۔۔
بہت شکریہ بھیا آپ غائب کہاں‌ہیں‌خیر سے ۔
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (11-01-10), ایس اے نقوی (06-10-10), خالد حسین (09-02-12), سفر زندگی کا (31-12-09), عائشہ صادق (13-10-10)
پرانا 22-12-09, 01:48 PM   #17
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خان صاحب۔ تسی گریٹ او۔ کمال کر دیا۔
لیٹ رسپانس پر معذرت، صبح ایوارڈ بھیج کر جب کمنٹ لکھے تو لائٹ چلی گئی۔ میرے ذہن میں یہی رہا کہ میں نے اس تھریڈ میں جواب دے دیا۔ اب کھولا تو میرا جواب ندارد۔
بہت ہی اچھی تحریر ہے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (22-12-09), غلام خان (14-10-10)
پرانا 22-12-09, 01:54 PM   #18
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ام طلحہ بہن بہت شکریہ آپ ھم غریبوں کی تھریڈز کو دیکھ لیتی ہیں اور جناب یہ آپ کی محبتیں ہیں کہ کچھ لکھنے کی کوشش کر لیتی ہوں ورنہ











































آہو
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (11-01-10), ایس اے نقوی (06-10-10), خالد حسین (09-02-12), سفر زندگی کا (31-12-09), عائشہ صادق (13-10-10)
پرانا 27-09-10, 12:08 AM   #19
Member
اجنبی
 
Osho's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 42
کمائي: 962
شکریہ: 2
33 مراسلہ میں 77 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا اور معلوماتی مضمون لکھا۔ بہت سی داد قبول فرمائیں۔
Osho آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Osho کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), نیلم خان (02-10-10), ایس اے نقوی (06-10-10)
پرانا 02-10-10, 02:45 PM   #20
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Osho مراسلہ دیکھیں
بہت اچھا اور معلوماتی مضمون لکھا۔ بہت سی داد قبول فرمائیں۔
حوصلہ افزائ کا بہت شکریہ ۔
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), ایس اے نقوی (06-10-10), خالد حسین (09-02-12), عائشہ صادق (13-10-10)
پرانا 13-10-10, 05:34 PM   #21
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 102
کمائي: 1,040
شکریہ: 4,572
101 مراسلہ میں 334 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہت اعلٰی تحریر زبردست
عائشہ صادق آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عائشہ صادق کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), خالد حسین (09-02-12)
پرانا 14-10-10, 12:03 PM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جس کے پاس جواب ہو دے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نیلم خان مراسلہ دیکھیں
پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو بروز اتوار کراچی میں پیدا ہوئے آپ کے والد متوسط درجے کے ایک خوشحال تاجر تھے محمد علی جناح کی ابتدائ تعلیم ایک مکتب میں‌ہوئ جہاں انہوں نے کلام پاک اور اردو کی ابتدائ تعلیم حاصل کی مزید تعلیم کی غرض سے انہیں بمبئ بھیجا گیا لیکن تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں واپس بلا لیا گیا بات یہ تھی کہ والدین کو اپنے بیٹے سے بے انتہا پیار تھا اور وہ اس کی جدائ کو برداشت نہ کر سکتے تھے چنانچہ محمد علی جناح کو ایک ہائ سکول میں داخل کرایا گیا اور انہوں نے میٹرک کیا

اب ان کے والد کا ارادہ تھا کہ محمد علی ان کے کاروبار میں شریک ہو اور ان کا ہاتھ بٹائے لیکن بچہ غیر معمولی طور پر ذہین تھا اور ایک انگریز دوست کے مشورہ پر والد نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے بہتے کو مزید تعلیم کے لئے اپنے سے جدا کر دیا اور محمد علی بیرسٹری کی تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے اس وقت ہونہار طالبعلم کی عمر 16 برس تھی

انگلستان میں قیام کے دوران محمد علی نے دوسرے طالب علموں‌کے بر عکس روش اختیار کی وہ بے حد محنتی تھے اور سستی تفریحوں سے کنارہ ھو کرپوری توجہ تعلیم پر دیتے تھے انہوں نے بیرسٹری کا امتحان نمایاں کامبابی سے پاس کیا اور 1896 میں بمبئ واپس لوٹے انگلستان میں قیام کا عرصہ محمد علی جناح کے سیاسی شعور کا زمانہ تھا وہاں رہ کر انہوں نے انگریزوں کو قریب سے اچھی طرح‌پرکھا اور ہندوستانیوں کے بارے میں انگریزوں کا جو طرز عمل تھا اس کا بغور مطالعہ کیا

1897 میں انہوں نے بمبئ میں وکالت شروع کی یہ وہ زمانہ تھا کہ جب گھر کی ذمہ داریوں کا بار بھی ان کے کاندھوں پر آن پڑا تھا اور حالات سازگار نہیں تھے چند سال پریکٹس کے بعد ایک پریذیڈنسی مجسٹریٹ کی جگہ خالی ہوئ تو آپ کو وہاں‌مقرر کر دیا گیا لیکن زیادہ عرصہ تک آپ نے ملازمت کی پابندیوں کو برداشت نہ کیا حقیقت یہ تھی کہ ان کی آزاد طبعیت اور ملازمت کا کوئ جوڑ نہیں تھا ملازمت سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے پھر پریکٹس شروع کر دی اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ نام پیدا کیا کہ پرانے بیرسٹر بھی حیران رہ گئے

یہ ان انڈین نیشنل کانگریس کی سیاسی جدوجہد کے آغاز کا زمانہ تھا محمد علی جناح نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی اور کانگریس میں شمولیت اختیار کی اس طرح آپ سیاست کے میدان میں اترے ایک کامیاب بیرسٹر کی حثیت سے ان کی شہرت پہلے ہی دور دور تک پھیلی ہوئ تھی اب ان کی سیاسی بصیرت اور زور بیان کا چرچا ہونے لگا

لارڈ کرزن نے جب بنگال کی تقسیم کا اعلان کیا تو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں‌کو علیٰحدہ تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئ یہ تنظیم مسلم لیگ کے نام سے قائم ہوئ محمد علی جناح اس وقت تک مسلمانوں کی علیٰحدہ سیاسی تنظیم کے قائل نہ تھے وہ ایک قوم پرست مسلمان کی حیثیت سے تمام ہندوستانی مسلمانوں‌کی اجتماعی جدوجہد پر اصرار کرتے تھے ساتھ ہی وہ ہندوؤں اور مسلمانوں‌کے اتحاد کے بھی قائل تھے اور انہین با ہم قریب تر لانے کے لئے انہوں نے اپنی کوششیں وقف کر رکھی تھیں یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ 1915 اور 1916 میں انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ ہوئے اور سب انہیں نہرو مسلم اتحاد کا پیغامبر کہا کرتے تھے لیکن یہ صورت حال زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی آخر آپ نے محسوس کیا کہ دونوں‌قوموں کا اتحاد مسلمانوں‌کے لئے نقصان دہ ہے اتحاد کے لئے ہندو اکثریت اپنی تنگ نظری ترک کرنے کو تیار نہیں ہیں آخر وہ مسلم لیگ میں‌شامل ہو گئے

پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر برطانوی حکومت نے ہندوستان کو چند آئینی مراعات دینے کا فیصلہ کیا اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی بنائ گئ اس کی سفارشات ہندوستان کے حق میں مفید نہ تھی محمد علی جناح‌نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے ان سفارشات کے خلاف سارے ملک کو متحد کیا اور اس مخالفت نے وہ جوش اختیار کیا کہ یہ سفارشات مسترد قرار پائیں محمد علی جناح‌نے 1927 میں سائمن کمیشن واپس جاؤ کی تحریک کے بعد اپنا مشہور چودہ نکاتی پروگرام پیش کیا جس میں مسلمانوں کے مطالبات شامل تھے

اب وہ زمانہ آ گیا تھا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے اختلافات خاصے بڑھ چکے تھے 1936 میں جب مختلف صوبوں‌میں کانگریس حکومتیں قائم کیں‌ تو ان کے طرز عمل پر مسلمان کچھ اور برگشتہ ہو گئے قیام پاکستان کا مطالبہ قرارداد لاہور کی صورت میں 1940 میں پہلی بار پیش ہوا محمد علی جناح‌ کی انتھک کوششوں اور بے مثال تدبر اور ہمت سے یہ مطالبہ قریہ قریہ بستی بستی پہنچا یہ مطالبہ جوں جوں مقبول ہوتا گیا کانگریس کی مخالفت شدید سے شدید تر ہوتی گئ

تمام مخالفتوں کے باوجود 14 اگست 1947 میں یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور مسلمانوں کا علٰیحدہ وطن پاکستان قائم ہو اور قائد اعظم محمس علی جناح اس کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے

نئ مملکت کی شدید مشکلات کے موقع پر قائد اعظم ذرا بد دل نہ ہوئے انہوں نے خرابی صحت کے باوجود اب تندہی سے کام شروع کر دیا وہ اس عمر اور صحت میں بھی روزانہ 14 گھنٹے کام کیا کرتے رہے انہوں نے جس ملک کے قیام کے لئے اپنی زندگی وقف کی تھی اس کی تعمیر کے لئے وہ سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار تھے لیکن 11 ستمبر 1948 کی وہ رات آن پہنچی جس نے ملت اسلامیہ کے اس محسن اور بانی پاکستان کو ہم سے ہمیشہ کے لئے چھین لیا



پاکستان زندہ باد

قائد اعظم زندہ باد

پاک ڈاٹ نیٹ پائندہ باد


بہت خوب معلومات مین کافی اضافہ ہوا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس ایک سوال ہے : کسی معتبر شخص نے باتوں کے دوران کہا کہ: قائد اعظم نے جب نماز پرھی تو اس کے بعد کہا ( یہ بہت اچھی ورزش ہے ) کیا یہ سچ ہے ؟؟؟ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قائد اعظم کو نماز کی اھمیت کا علم نہیں تھا وہ اسکو ایک ورزش سمجھتا تھا و اللہ اعلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شگری">" type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="350">
غلام خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), نیلم خان (14-10-10)
پرانا 14-10-10, 12:15 PM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سفر زندگی کا ؟ مرد یا عورت؟ قائد پر لکھنا بہت کم ھو چکا ھے۔ سوچنے کا شکریہ۔
عروج آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), نیلم خان (14-10-10), عائشہ صادق (15-10-10)
پرانا 14-10-10, 12:16 PM   #24
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سوال نا ممکنات میں سے ھے۔
عروج آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), نیلم خان (18-10-10)
پرانا 15-10-10, 09:03 AM   #25
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

(قائد اعظم۔میری دانست میں) صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

شگری

پاکستان کے عوام کی قائد اعظم سے محبت کا یہ حال ہے کہ قائد کے یوم ولادت پر 25دسمبر کو میراکالم بعنوان”خدارا،قائد اعظم کومعاف کردو“ انہی صفحات پر شائع ہوا تو مجھے ملک کے طول و عرض سے بہت سی کالیں اور ایس ایم ایس موصول ہوئے اور بیرون ملک سے بہت سے پاکستانیوں نے ای میلیں بھجوائیں۔ قائد اعظم سے محبت کرنے والے یہ پاکستانی مجھ سے پوری طرح متفق تھے کہ قائد اعظم کسی لحاظ سے بھی سیکولر نہیں تھے کیونکہ عام طور پر سیکولر کے معنی”لادین“ سمجھے جاتے ہیں لیکن بعض روشن خیالوں کا کہنا ہے سیکولر کے معنی مذہب کو ریاست سے یا سیاست سے الگ رکھنے کے ہوتے ہیں۔ میں جب کھلے ذہن سے قائد اعظم کی تقاریر اور ذاتی زندگی کے بعض اہم فیصلوں کو ان دونوں تصورات یا معانی کی روشنی میں دیکھتا ہوں تو مجھے قائد اعظم کسی طرح بھی سیکولر نظرنہیں آتے کیونکہ وہ نہ ہی اسلامی حدود و قیود سے ماو راء سیاست یا جمہوریت کے داعی تھے اور نہ ہی ذاتی زندگی میں لادین حضرات کی مانند اصولوں کو پامال کرتے تھے، البتہ وہ کوئی مذہبی شخصیت تھے ،نہ کوئی صوفی منش عابد و زاہد انسان۔وہ ایک لبرل روشن خیال اور قانونی ذہن کے مالک تھے، ان کا باطن خوف خدا اور حُب رسول سے منور تھا اور وہ اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات سمجھتے تھے۔ میں یہ بات سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں اور اس کے باقاعدہ حوالے دوں گا۔ ان کی راست گوئی اور دیانت ہر قسم کے شکوک و شہبات سے بالاتر تھی۔ اس لئے بعض اوقات جب سیکولر حضرات ان پر غیراصولی مصلحتوں کا الزام لگاتے ہیں اور ان کی تقاریر پڑھے بغیر یہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ وہ قرار داد پاکستان کے بعد سیاسی مقاصد کے لئے اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع کرنے کی غرض سے اسلام کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ میرے قائد کو منافقت کا طعنہ دے رہے ہوں، جبکہ یہ وہ الزام ہے جو ان کے بدترین دشمنوں نے بھی ان پر نہیں لگایا، کیونکہ ان کی حق گوئی ، اعلیٰ کردار اور اصول پرستی ضرب المثل بن چکی ہیں۔
میں یہ عرض کررہا تھا کہ چونکہ ہمارے دانشور حضرات قائد اعظم کی تقاریر کو پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے اور محض چار پانچ مشہور تقریروں کے پسندیدہ فقروں پر گزارہ کرتے ہیں، اس لئے وہ قائد اعظم کے ذہنی ارتقاء کا ادراک حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ایک بار کسی نے اعتراض کیا تھا کہ مسٹر جناح !آپ تو کانگریس کے سرگرم رکن تھے اب آپ نے کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ کی سرپرستی قبول کرلی ،تو قائد اعظم کاجواب تھا کہ ہاں میں کبھی ہائی سکول کا طالبعلم بھی تھا۔ قائد اعظم پر طبع آزمائی کرنے والے حضرت اگر ان کی وہ تقاریرکھلے ذہن اور خلوص نیت سے پڑھیں جو انہوں نے انگلستان سے واپسی کے بعد 1934ء سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک کیں ،تو ان تقریروں میں ان حضرات کو وہ قائد اعظم یا مسٹر جناح کم کم نظر آئیں گے جس جناح کو وہ1910ء سے لے کر 1920ء تک کی دہائی میں پڑھنے کے عادی ہیں، کیونکہ نہ جانے کیا ہوا قائد اعظم کی سوچ بدل گئی۔ یہ علامہ اقبال کا اثر تھا اور خود قائد اعظم کے مطالعے اور غور و خوض کا بھی اعجاز تھا کہ1934 ء میں ہندوستان واپسی کے بعد قائد اعظم کی تقاریر اور خیالات کی کشتی کا چپو اسلام بن گیا اور وہ ہندوستان کے مسلمانوں کی منفرد شناخت اور علیحدہ وجود کے لئے متفکررہنے لگے۔ بہت سے لوگوں کے لئے یہ انکشاف ہوگا کہ منشی عبدالرحمن مصنف”علمائے ربانی اور تعمیر پاکستان“کے مطابق ہندوستان واپسی کے بعد مولانا شوکت تھانوی نے قائد اعظم سے رابطہ کیا اور اپنے دو بھائیوں مولانا شبیر عثمانی اور مولانا ظفر صدیقی کو ان کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کی اسلامی اصولوں کے مطابق ذہنی تربیت کریں۔ ان کو اسلام کا طرز حیات، طرز سیاست ، فلسفہ و تاریخ اور قرآن و حدیث کے اصولوں سے پوری طرح روشناس کروایں، کیونکہ مولانا شوکت تھانوی کاکہنا تھا کہ جب مسلمان آزاد ہوں گے تو ظاہر ہے کہ حکومت مذہبی شخصیات کو نہیں ملے گی ، حکومت مغربی تعلیم یافتہ لیڈروں کو ملے گی، اس لئے ان کی ذہنی تربیت ضروری ہے، چنانچہ مولانا شبیرعثمانی اور مولانا ظفر صدیقی کئی بار وقت لے کر قائد اعظم سے ملے اور کئی کئی گھنٹوں کی نشستیں کیں۔ وزیر آباد کے محمد شریف طوسی کو قائد اعظم پسند کرتے تھے۔ قائد اعظم نے ان کو بلا کر چھ ماہ اپنے پاس رکھا۔ طوسیٰ صاحب کا کہنا ہے کہ قائد اعظم کی لائبریری میں قرآن حکیم ، تفسیر اور اسلامی تاریخ اور خلفائے راشدین پر بہت سی کتابیں تھیں۔ ان میں قرآن حکیم کے انگریزی تراجم بھی شامل تھے اور قائد اعظم نے ان تمام کتابوں کو پڑھ کر بعض صفحات پر نشانات بھی لگارکھے تھے۔
کہنے کامقصد یہ ہے کہ قائد اعظم کوئی مذہبی شخصیت تو نہیں تھے لیکن وہ اسلامی اصولوں، اسلامی طرز حیات اور اسلام کی روح کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور ان کے قانون ، آئین ، سیاست اور اسلام کے گہرے مطالعے نے ان کو اس نتیجے پر پہنچایا تھا ”کہ ہم نے جمہوریت تیرہ صدیاں پہلے سیکھ لی تھی“۔ قائد اعظم نے پاکستان کے سیاسی نظام کے حوالے سے یہ بات کوئی درجن بار سے بھی زیادہ بار کہی۔ اسی طرح جب وہ کہتے تھے کہ پاکستان میں ملائیت یا تھیوکریسی نہیں ہوگی تو وہ اس لئے کہ اسلام میں ملائیت یا مذہبی ریاست کا وجود ہی سرے سے موجود نہیں۔ اسلام کے نظام جمہوریت کی بنیاد ہی مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انصاف ،معاشی عدل، انسانی حقوق اور انسانی برابری پر استوار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم مادر پدر آزاد مغربی جمہوریت جس میں ہم جنس پرستی کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے کو پسند نہیں کرتے تھے اور جب بھی جمہوریت کی بات کرتے تھے تو تیرہ سو سال پرانی جمہوریت کا ذکر کرتے تھے اور جب بھی پاکستان کے مجوزہ آئینی ڈھانچے کا ویژن پیش کرتے تھے، تو واضح طور پر کہتے تھے کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اسی طرح وہ جب بھی پاکستان میں غیر مسلموں کے حقوق پر روشنی ڈالتے تھے تو یہ روشنی وہ میثاق مدینہ سے حاصل کرتے تھے۔ اسی تصور کو انہوں نے اپنی14 اگست والی تقریر میں بھی دہرایا۔
مشکل یہ ہے کہ سیکولر حضرات انسانی برابری ، معاشی عدل، قانون کی برابری اور آزادی اظہار کو صرف سیکولر ازم کے اصول سمجھتے ہیں اور ان بنیادوں پر قائد اعظم کو سیکولر ازم کا حامی قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے تصورات اسلام کے زریں اور بنیادی اصول ہیں اور قائد اعظم اسی حوالے سے ان کا پرچارکرتے تھے۔ جسٹس منیر سے لے کر ان کے چیلوں تک کی راہیں کس مقام سے قائد اعظم سے الگ ہوتی ہیں۔
غلام خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (18-10-10)
پرانا 15-10-10, 09:20 AM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قائدِ اعظم کے متعلق اہلِ نظر کی آراء:


1- علامہ شبیر احمد عثمانی:

آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممتاز عالمِ دین جنہوں نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ قائدِ اعظم کے متعلق فرماتے ہیں۔
” شہنشاہ اورنگزیب کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان لیڈر پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ شکست خوردہ مسلمانوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو “
2- علامہ سید سلیمان ندوی:

عظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
” اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھے
کوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہا
جبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی
جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا
جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے
جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا
بادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے
دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا
ملتِ دل بر کے گو اصلی قوا بیکار ہیں
گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا
ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید
ڈاکٹر اس کا اگر " مسٹر علی جینا" رہا

3- مولانا ظفر علی خان:

” تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سرو سامانی اور مخالفت کی تندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو ۔ “
• علامہ عنایت اللہ مشرقی
خا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا -
” اس کا عزم پایندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا۔ “

4- لیاقت علی خان:

پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دیرینہ ساتھی نواب زادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا۔
” قا ئدِاعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی۔


5- علامہ اقبال :


ایک خط میں علامہ نے قائد کو لکھا "برطانوی ہند میں اس وقت صرف آپ ہی ایسے لیڈر ہیں جن سے رہنمائی حاصل کرنے کا حق پوری ملتِ اسلامہ کو حاصل ہے"۔
علامہ کی بیماری کے دوران جواہر لال نہرو ان کی عیادت کو آئے ۔ دورانِ گفتگو نہرو نے حضرت علامہ سے کہا "حضرت آپ اسلامیانِ ہند کے مسلمہ اور مقتدر لیڈر ہیں کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ آپ اسلامیانِ ہند کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔" تو حضرت علامہ نے فرمایا، "جواہر لا ل! ہماری کشتی کا ناخدا صرف مسٹر محمد علی جناح ہے میں تو اس کی فوج کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں۔"


6- مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی:

قائدِ اعظم دسمبر 1946ء میں لندن سے واپسی پر قاہرہ میں ٹھہرے۔یہیں پر اخوان المسلمون کے عظیم رہنما امام حسن البنا شہید بھی آپ سے ملے اور آپ کو قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی پیش کیا یہ نسخہ اب بھی مقبرہ قائد کے ساتھ واقع میزیم کی زینت ھے۔ انہی دنوں مفتی اعظم قاہرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے قائد کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا۔
" میں نے محمد علی جناح سے گفتگو کی ہے۔ مجھ سے زیادہ برطانوی ملوکیت کا دشمن شاید ہی کوئی ہو۔ میں نے محمد علی جناح کے خیالات کو انگریز دشمنی کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ وہ حقیقتاّ آزادی چاہتےہیں اور آزادی کے لیے انگریز سے مقابلے کا عزم رکھتے ہیں۔ میں ان سے گفتگو کے بعد اس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ جناح صاحب نہ صرف دستوری اور آئینی شخصیت کے حامل ہیں بلکہ انقلابی رہنما بھی ہیں۔ انقلابی افکار و خیالات ان کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکے ہیں۔ مجھے اس امر کا یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آزادی کے لیے برطانوی شہنشاہت اور ہندو سرمایہ داری دونوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے ہیں"۔
پاکستان بننے کے بعد جناب مفتئ اعظم نے فرمایا، "اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلسطین کے بدلے میں پا کستان کا خطہ عنایت فرمایا ہے۔"

7- مولانا ابوالکلام آزاد:

"قائدِ اعظم محمد علی جناح ہر مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے" ۔

8- فخر الدین علی احمد:
سابق صدر بھارت

"میں قائدِ اعظم کو برطانوی حکومت کےخلاف لڑنے والی جنگ کا عظیم مجاہد سمجھتا ہوں" ۔

9- کلیمنٹ اٹیلی
وزیرِ اعظم برطانیہ

"نسب العین پا کستان پر ان کا عقیدہ کبھی غیر متزلزل نہیں ہوا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو انتھک جدو جہد کی وہ ہمییشہ یاد رکھی جائے گی "۔

10- مسولینی
وزیرِ اعظم اٹلی

"قائدِ اعظم کے لیے یہ بات کہنا غلط نہ ہو گی کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے جو کہیں صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے" ۔

11- بر ٹرینڈ رسل
برطانوی مفکر

"ہندوستان کی پوری تاریخ میں کوئی بڑے سے بڑا شخص ایسا نہیں گزرا جسے مسلمانوں میں ایسی محبوبیت نصیب ہوئی ہو" ۔
مہاتما گاندھی
"جناح کا خلوص مسلم ہے ۔ وہ ایک اچھے آدمی ہیں ۔ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں ۔ میں انہیں زندہ باد کہتا ہوں" ۔
پنڈت جواہر لال نہرو
مسز وجے لکشمی پنڈت
"اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا "۔

12- ماسٹر تارا سنگھ
سکھ رہنما


"قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی"۔

13- سر ونسٹن چرچل
برطانوی وزیرِ اعظم

"مسٹر جناح اپنے ارادوں اور اپنی رائے میں بے حد سخت ہیں ۔ ان کے رویے میں کوئی لوچ نہیں پایا جاتا۔ وہ مسلم قوم کے مخلص رہنما ہی نہیں سچے وکیل بھی ہیں"۔

14- مسز سروجنی نائیڈو

مسز سروجنی نائیڈو بلبلِ ہند اور سابق گورنر یو پی کے تاثرات قائدِ اعظم کے متعلق۔ "ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے قائدِ اعظم کی شخصیت قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے ذاتی اغراض کے پیشِ نظر کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اپنی بے لوث خدمت کے عوض ہندوستان کے مسلمانوں کے لیڈر ہیں ۔ ان کا ہر ارادہ ہر مسلمان کے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ان کا ہر حکم مسلمانوں کا آ خری فیصلہ ہے جس کی انتہائی خلوص کے ساتھ لفظ بہ لفظ تعمیل کی جاتی ہے"۔


15- پروفیسر اسٹینلے


"جناح آف پا کستان" کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں ۔
" بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے " ۔


شگری
غلام خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (18-10-10)
پرانا 18-10-10, 01:20 PM   #27
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب غلام خان ۔
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), خالد حسین (09-02-12)
پرانا 18-10-10, 01:48 PM   #28
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محمد على جناح(مؤسس جمهورية باكستان)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مؤسس جمهورية باكستان أحد أبرز شخصيات شبه القارة الهندية
في النصف الأول من القرن العشرين
وقد شهدت القضية الكشميرية في عهده ولادتها تاريخيا مع بداية
التقسيم عام 1947
وما صاحب ذلك من أزمة سياسية بين البلدين أدت إلى اندلاع أولى
الحروب بينهما في العام نفسه.
مــحـمــد عــلي جــنـاح
مــــــــن هـــــــــــــــــو

المولد والنشأة:
ولد محمد علي جناح يوم 25 ديسمبر 1876 في مدينة كراچي تعمل
في التجارة
وتلقى تعليمه الأولي في مدرسة الإسلام ثم في مدرسة البعثة
المسيحية.
وفي عام 1893 التحق بكلية "لينكون إن" لدراسة القانون ليصبح أصغر
هندي يتخرج في هذه الكلية.
فور تخرجه عمل محمد علي جناح بمهنة المحاماة وبعد ثلاث سنوات
أصبح واحدا من أكثر محامي كراتشي شهرة
وعرف عنه ذكاؤه وجرأته

بداية حياته السياسية :
وفي عام 1905 بدأت رسميا أولى خطوات محمد علي جناح في عالم
السياسة
حيث التحق بحزب المؤتمر الوطني الهندي، وفي العام نفسه سافر
إلى لندن ليروج للمسألة الهندية
مطالبا باستقلالها من الاستعمار البريطاني، وذلك أثناء الانتخابات
البرلمانية التي كانت تشهدها بريطانيا آنذاك.
سكرتير لرئيس حزب المؤتمر:
بعد عام من عودته عمل سكرتيرا لرئيس حزب المؤتمر الوطني
الهندي دادابهاي نواروجي
وألقى أول خطاب سياسي له في مدينة كلكتا عام 1906 دعا فيه
إلى استقلال الهند.
عضو في المجلس التشريعي:
وفي عام 1910 انتخب محمد علي جناح عضوا في المجلس
التشريعي الجديد
وكان صوته هو الأبرز داخل المجلس مطالبا بالاستقلال وداعيا إلى
الوحدة بين الطوائف المختلفة
وظل عضوا فاعلا بهذا المجلس طيلة أربعة عقود.
رئيس للعصبة الإسلامية:
قرر محمد علي جناح أن يقطع علاقته بحزب المؤتمر الوطني الهندي
عام 1920 ليترأس العصبة الإسلامية.
وفي عام 1929 أصدر بيانا مهما تضمن 14 بندا طالب فيها بتخصيص
ثلث مقاعد المجلس التشريعي المركزي
للمسلمين، ووضع تشريع دستوري يتضمن حماية دينهم ولغتهم
وثقافتهم.
هجرته إلى بريطانيا:
أعلن فريق من زعماء الأقلية المسلمة في الهند استياءهم من بعض
توجهات محمد علي جناح السياسية
فآثر الهجرة إلى بريطانيا، وهناك استمر به المقام لأربع سنوات ثم
قرر العودة مرة أخرى في عام 1934.
دعوته للتقسيم :
طالب في اجتماع العصبة الإسلامية الذي عقد عام 1937 بالاستقلال
التام للمسلمين
ضمن اتحاد فدرالي هندي إسلامي، ثم صعد مطالبه في اجتماع
للعصبة بلاهور عام 1940
ودعا إلى تقسيم شبه القارة الهندية إلى كيانين هما الهند وباكستان
على أن تضم الأخيرة كل مسلمي الهند
وأرسل عام 1944 رسالة إلى المهاتما غاندي يوضح له فيها رؤيته
لهذه القضية جاء فيها:
"نحن نصر ونتمسك بأن يكون المسلمون والهندوس أمتين كبيرتين،
وذلك طبقا لأي تعريف أو معيار للأمة نحن أمة لمائة مليون مسلم،
وعلاوة على هذا نحن أمة ذات أمور متميزة في الثقافة والحضارة
واللغة والأدب والفن والهندسة المعمارية والأسماء والمصطلحات
الخاصةوالشعور بالقيم والعدل والتاريخ والملكات والطموح، وباختصار
لنا وجهة نظرنا المتميزة عن الحياة ومن الحياةووفقا لجميع مبادئ
القانون الدولي نحن أمة".
وقد لقيت هذه الدعوة قبولا لدى مسلمي الهند عام 1946 ووافقت
عليها بريطانيا.
وفي 14 أغسطس 1947 أعلن محمد علي جناح قيام جمهورية
باكستان الإسلامية
وأصبح أول رئيس لهذه الجمهورية الوليدة
حربه مع الهند :
ارتبط اسم محمد علي جناح بكشمير منذ بداية الحديث دوليا عن هذه
القضية قبل أكثر من خمسين عاما.
ففي السنة الأولى لحكمه (1947) اندلعت أول حرب بين الهند
وباكستان في محاولة من كلا البلدين
لبسط سيطرته على كشمير.
وقد بدأت الحرب حينما أعلن حاكم كشمير الهندوسي الانضمام إلى
الهند لقمع ثورة الأغلبية المسلمة
الراغبة في الانضمام إلى باكستان
فتدخل العديد من قبائل قندهار الأفغانية بإيعاز من محمد علي جناح
لنصرة المسلمين الكشميريين والوقوف معهم في مطالبهم ...
آراء خصومه ومؤيديه :
يأخذ بعض النقاد والخصوم السياسيين على محمد علي جناح ما
يعتبرونه تسرعا في السعي باتجاه الانفصال عن الهند
وتقسيم هذه المساحة الواسعة من أراضي القارة الآسيوية على
أسس دينية وثقافية
وهو ما أدى بحسب رأيهم إلى اندلاع النزاعات الحدودية بين هاتين
الدولتين ودخولهما في سباق تسلح لا ينتهي
الأمر الذي عاد بعواقب وخيمة على اقتصاديات البلدين
في حين كان بإمكانهما الاستفادة من الإمكانات الاقتصادية
الهائلة
لأرضيهما
إذا أمكن لهما الاتفاق على صيغة للتعايش معا.
أما البعض الآخر فيرى أن ما قام به محمد علي جناح ونجح في تنفيذه
من تقسيم شبه القارة الهندية
أراح الأقلية المسلمة التي كانت تعيش في الهند قبل نزوحها إلى
باكستان من تعصب الهندوس ضدهم ....
وفاته :
توفي محمد علي جناح في 11 سبتمبر/ أيلول 1948 عن عمر
يناهز 72 عاما
وخلفه رئيس الوزراء لياقت خان الذي بدأ عهده
بتنفيذ قرار الأمم المتحدة
الصادر في الأول من يناير/ كانون الثاني 1949 والخاص
بوقف إطلاق النار في كشمير.
رحم الله محمد علي جناح وأسكنه فسيح جناته مؤسس أول دوله
نوويه أسلاميه ...
أتمني أن أكون وفقت بما نقلت عن هذه الشخصيه الأسلاميه
التاريخيه ......

بهائيون: اگر آپ مین سے کوئی ترجمہ کرنا چاھے تو کرلیں میرے پاس ٹائم نہیں ہے
غلام خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (18-10-10)
پرانا 18-10-10, 02:29 PM   #29
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غلام خان مراسلہ دیکھیں
محمد على جناح(مؤسس جمهورية باكستان)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مؤسس جمهورية باكستان أحد أبرز شخصيات شبه القارة الهندية
في النصف الأول من القرن العشرين
وقد شهدت القضية الكشميرية في عهده ولادتها تاريخيا مع بداية
التقسيم عام 1947
وما صاحب ذلك من أزمة سياسية بين البلدين أدت إلى اندلاع أولى
الحروب بينهما في العام نفسه.
مــحـمــد عــلي جــنـاح
مــــــــن هـــــــــــــــــو

المولد والنشأة:
ولد محمد علي جناح يوم 25 ديسمبر 1876 في مدينة كراچي تعمل
في التجارة
وتلقى تعليمه الأولي في مدرسة الإسلام ثم في مدرسة البعثة
المسيحية.
وفي عام 1893 التحق بكلية "لينكون إن" لدراسة القانون ليصبح أصغر
هندي يتخرج في هذه الكلية.
فور تخرجه عمل محمد علي جناح بمهنة المحاماة وبعد ثلاث سنوات
أصبح واحدا من أكثر محامي كراتشي شهرة
وعرف عنه ذكاؤه وجرأته

بداية حياته السياسية :
وفي عام 1905 بدأت رسميا أولى خطوات محمد علي جناح في عالم
السياسة
حيث التحق بحزب المؤتمر الوطني الهندي، وفي العام نفسه سافر
إلى لندن ليروج للمسألة الهندية
مطالبا باستقلالها من الاستعمار البريطاني، وذلك أثناء الانتخابات
البرلمانية التي كانت تشهدها بريطانيا آنذاك.
سكرتير لرئيس حزب المؤتمر:
بعد عام من عودته عمل سكرتيرا لرئيس حزب المؤتمر الوطني
الهندي دادابهاي نواروجي
وألقى أول خطاب سياسي له في مدينة كلكتا عام 1906 دعا فيه
إلى استقلال الهند.
عضو في المجلس التشريعي:
وفي عام 1910 انتخب محمد علي جناح عضوا في المجلس
التشريعي الجديد
وكان صوته هو الأبرز داخل المجلس مطالبا بالاستقلال وداعيا إلى
الوحدة بين الطوائف المختلفة
وظل عضوا فاعلا بهذا المجلس طيلة أربعة عقود.
رئيس للعصبة الإسلامية:
قرر محمد علي جناح أن يقطع علاقته بحزب المؤتمر الوطني الهندي
عام 1920 ليترأس العصبة الإسلامية.
وفي عام 1929 أصدر بيانا مهما تضمن 14 بندا طالب فيها بتخصيص
ثلث مقاعد المجلس التشريعي المركزي
للمسلمين، ووضع تشريع دستوري يتضمن حماية دينهم ولغتهم
وثقافتهم.
هجرته إلى بريطانيا:
أعلن فريق من زعماء الأقلية المسلمة في الهند استياءهم من بعض
توجهات محمد علي جناح السياسية
فآثر الهجرة إلى بريطانيا، وهناك استمر به المقام لأربع سنوات ثم
قرر العودة مرة أخرى في عام 1934.
دعوته للتقسيم :
طالب في اجتماع العصبة الإسلامية الذي عقد عام 1937 بالاستقلال
التام للمسلمين
ضمن اتحاد فدرالي هندي إسلامي، ثم صعد مطالبه في اجتماع
للعصبة بلاهور عام 1940
ودعا إلى تقسيم شبه القارة الهندية إلى كيانين هما الهند وباكستان
على أن تضم الأخيرة كل مسلمي الهند
وأرسل عام 1944 رسالة إلى المهاتما غاندي يوضح له فيها رؤيته
لهذه القضية جاء فيها:
"نحن نصر ونتمسك بأن يكون المسلمون والهندوس أمتين كبيرتين،
وذلك طبقا لأي تعريف أو معيار للأمة نحن أمة لمائة مليون مسلم،
وعلاوة على هذا نحن أمة ذات أمور متميزة في الثقافة والحضارة
واللغة والأدب والفن والهندسة المعمارية والأسماء والمصطلحات
الخاصةوالشعور بالقيم والعدل والتاريخ والملكات والطموح، وباختصار
لنا وجهة نظرنا المتميزة عن الحياة ومن الحياةووفقا لجميع مبادئ
القانون الدولي نحن أمة".
وقد لقيت هذه الدعوة قبولا لدى مسلمي الهند عام 1946 ووافقت
عليها بريطانيا.
وفي 14 أغسطس 1947 أعلن محمد علي جناح قيام جمهورية
باكستان الإسلامية
وأصبح أول رئيس لهذه الجمهورية الوليدة
حربه مع الهند :
ارتبط اسم محمد علي جناح بكشمير منذ بداية الحديث دوليا عن هذه
القضية قبل أكثر من خمسين عاما.
ففي السنة الأولى لحكمه (1947) اندلعت أول حرب بين الهند
وباكستان في محاولة من كلا البلدين
لبسط سيطرته على كشمير.
وقد بدأت الحرب حينما أعلن حاكم كشمير الهندوسي الانضمام إلى
الهند لقمع ثورة الأغلبية المسلمة
الراغبة في الانضمام إلى باكستان
فتدخل العديد من قبائل قندهار الأفغانية بإيعاز من محمد علي جناح
لنصرة المسلمين الكشميريين والوقوف معهم في مطالبهم ...
آراء خصومه ومؤيديه :
يأخذ بعض النقاد والخصوم السياسيين على محمد علي جناح ما
يعتبرونه تسرعا في السعي باتجاه الانفصال عن الهند
وتقسيم هذه المساحة الواسعة من أراضي القارة الآسيوية على
أسس دينية وثقافية
وهو ما أدى بحسب رأيهم إلى اندلاع النزاعات الحدودية بين هاتين
الدولتين ودخولهما في سباق تسلح لا ينتهي
الأمر الذي عاد بعواقب وخيمة على اقتصاديات البلدين
في حين كان بإمكانهما الاستفادة من الإمكانات الاقتصادية
الهائلة
لأرضيهما
إذا أمكن لهما الاتفاق على صيغة للتعايش معا.
أما البعض الآخر فيرى أن ما قام به محمد علي جناح ونجح في تنفيذه
من تقسيم شبه القارة الهندية
أراح الأقلية المسلمة التي كانت تعيش في الهند قبل نزوحها إلى
باكستان من تعصب الهندوس ضدهم ....
وفاته :
توفي محمد علي جناح في 11 سبتمبر/ أيلول 1948 عن عمر
يناهز 72 عاما
وخلفه رئيس الوزراء لياقت خان الذي بدأ عهده
بتنفيذ قرار الأمم المتحدة
الصادر في الأول من يناير/ كانون الثاني 1949 والخاص
بوقف إطلاق النار في كشمير.
رحم الله محمد علي جناح وأسكنه فسيح جناته مؤسس أول دوله
نوويه أسلاميه ...
أتمني أن أكون وفقت بما نقلت عن هذه الشخصيه الأسلاميه
التاريخيه ......

بهائيون: اگر آپ مین سے کوئی ترجمہ کرنا چاھے تو کرلیں میرے پاس ٹائم نہیں ہے
یہ کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (25-10-10), خالد حسین (09-02-12)
جواب

Tags
color, green, کوششیں, کوششوں, کلام, کراچی, پاکستان, ڈاٹ, لوٹے, موقع, امتحان, اردو, ترک, تعلیم, خلاف, دوست, دل, رات, زندگی, زمانہ, سیاست, سال, علی, عظیم, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:21 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger