| پاکستان کے ہیروز پاکستان کے ہیروز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 19 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (20-12-09), shafresha (26-12-10), فرحان دانش (19-12-09), پاکستانی (27-09-10), پاکستانی لڑکی (19-12-09), یاسر عمران مرزا (26-12-09), محمدعدنان (21-12-09), مرزا عامر (27-09-10), ایس اے نقوی (19-12-09), حیدر (22-12-09), خالد حسین (09-02-12), راجہ اکرام (19-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09), عامرشہزاد (20-12-09), عائشہ صادق (13-10-10), عدنان دانی (20-12-09), عروج (14-10-10), غلام خان (14-10-10) |
| کمائي نے نیلم خان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 27-09-10 | پاکستانی | ھمارے محبوب رہنما قائد اعظم | 80 |
| 22-12-09 | ام طلحہ | بہت خوب نیلم | 100 |
| 19-12-09 | ایس اے نقوی | ھمارے محبوب رہنما قائد اعظم | 150 |
|
|
#16 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (11-01-10), ایس اے نقوی (06-10-10), خالد حسین (09-02-12), سفر زندگی کا (31-12-09), عائشہ صادق (13-10-10) |
|
|
#17 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خان صاحب۔ تسی گریٹ او۔ کمال کر دیا۔
لیٹ رسپانس پر معذرت، صبح ایوارڈ بھیج کر جب کمنٹ لکھے تو لائٹ چلی گئی۔ میرے ذہن میں یہی رہا کہ میں نے اس تھریڈ میں جواب دے دیا۔ اب کھولا تو میرا جواب ندارد۔ بہت ہی اچھی تحریر ہے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
|
|
#18 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ام طلحہ بہن بہت شکریہ آپ ھم غریبوں کی تھریڈز کو دیکھ لیتی ہیں اور جناب یہ آپ کی محبتیں ہیں کہ کچھ لکھنے کی کوشش کر لیتی ہوں ورنہ
آہو |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (11-01-10), ایس اے نقوی (06-10-10), خالد حسین (09-02-12), سفر زندگی کا (31-12-09), عائشہ صادق (13-10-10) |
|
|
#19 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 42
کمائي: 962
شکریہ: 2
33 مراسلہ میں 77 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا اور معلوماتی مضمون لکھا۔ بہت سی داد قبول فرمائیں۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے Osho کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#20 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 102
کمائي: 1,040
شکریہ: 4,572
101 مراسلہ میں 334 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت اعلٰی تحریر زبردست
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عائشہ صادق کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-10-10), خالد حسین (09-02-12) |
|
|
#22 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت خوب معلومات مین کافی اضافہ ہوا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس ایک سوال ہے : کسی معتبر شخص نے باتوں کے دوران کہا کہ: قائد اعظم نے جب نماز پرھی تو اس کے بعد کہا ( یہ بہت اچھی ورزش ہے ) کیا یہ سچ ہے ؟؟؟ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قائد اعظم کو نماز کی اھمیت کا علم نہیں تھا وہ اسکو ایک ورزش سمجھتا تھا و اللہ اعلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شگری |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-10-10), نیلم خان (14-10-10) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سفر زندگی کا ؟ مرد یا عورت؟ قائد پر لکھنا بہت کم ھو چکا ھے۔ سوچنے کا شکریہ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سوال نا ممکنات میں سے ھے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-10-10), نیلم خان (18-10-10) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(قائد اعظم۔میری دانست میں) صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
شگری پاکستان کے عوام کی قائد اعظم سے محبت کا یہ حال ہے کہ قائد کے یوم ولادت پر 25دسمبر کو میراکالم بعنوان”خدارا،قائد اعظم کومعاف کردو“ انہی صفحات پر شائع ہوا تو مجھے ملک کے طول و عرض سے بہت سی کالیں اور ایس ایم ایس موصول ہوئے اور بیرون ملک سے بہت سے پاکستانیوں نے ای میلیں بھجوائیں۔ قائد اعظم سے محبت کرنے والے یہ پاکستانی مجھ سے پوری طرح متفق تھے کہ قائد اعظم کسی لحاظ سے بھی سیکولر نہیں تھے کیونکہ عام طور پر سیکولر کے معنی”لادین“ سمجھے جاتے ہیں لیکن بعض روشن خیالوں کا کہنا ہے سیکولر کے معنی مذہب کو ریاست سے یا سیاست سے الگ رکھنے کے ہوتے ہیں۔ میں جب کھلے ذہن سے قائد اعظم کی تقاریر اور ذاتی زندگی کے بعض اہم فیصلوں کو ان دونوں تصورات یا معانی کی روشنی میں دیکھتا ہوں تو مجھے قائد اعظم کسی طرح بھی سیکولر نظرنہیں آتے کیونکہ وہ نہ ہی اسلامی حدود و قیود سے ماو راء سیاست یا جمہوریت کے داعی تھے اور نہ ہی ذاتی زندگی میں لادین حضرات کی مانند اصولوں کو پامال کرتے تھے، البتہ وہ کوئی مذہبی شخصیت تھے ،نہ کوئی صوفی منش عابد و زاہد انسان۔وہ ایک لبرل روشن خیال اور قانونی ذہن کے مالک تھے، ان کا باطن خوف خدا اور حُب رسول سے منور تھا اور وہ اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات سمجھتے تھے۔ میں یہ بات سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں اور اس کے باقاعدہ حوالے دوں گا۔ ان کی راست گوئی اور دیانت ہر قسم کے شکوک و شہبات سے بالاتر تھی۔ اس لئے بعض اوقات جب سیکولر حضرات ان پر غیراصولی مصلحتوں کا الزام لگاتے ہیں اور ان کی تقاریر پڑھے بغیر یہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ وہ قرار داد پاکستان کے بعد سیاسی مقاصد کے لئے اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع کرنے کی غرض سے اسلام کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ میرے قائد کو منافقت کا طعنہ دے رہے ہوں، جبکہ یہ وہ الزام ہے جو ان کے بدترین دشمنوں نے بھی ان پر نہیں لگایا، کیونکہ ان کی حق گوئی ، اعلیٰ کردار اور اصول پرستی ضرب المثل بن چکی ہیں۔ میں یہ عرض کررہا تھا کہ چونکہ ہمارے دانشور حضرات قائد اعظم کی تقاریر کو پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے اور محض چار پانچ مشہور تقریروں کے پسندیدہ فقروں پر گزارہ کرتے ہیں، اس لئے وہ قائد اعظم کے ذہنی ارتقاء کا ادراک حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک بار کسی نے اعتراض کیا تھا کہ مسٹر جناح !آپ تو کانگریس کے سرگرم رکن تھے اب آپ نے کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ کی سرپرستی قبول کرلی ،تو قائد اعظم کاجواب تھا کہ ہاں میں کبھی ہائی سکول کا طالبعلم بھی تھا۔ قائد اعظم پر طبع آزمائی کرنے والے حضرت اگر ان کی وہ تقاریرکھلے ذہن اور خلوص نیت سے پڑھیں جو انہوں نے انگلستان سے واپسی کے بعد 1934ء سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک کیں ،تو ان تقریروں میں ان حضرات کو وہ قائد اعظم یا مسٹر جناح کم کم نظر آئیں گے جس جناح کو وہ1910ء سے لے کر 1920ء تک کی دہائی میں پڑھنے کے عادی ہیں، کیونکہ نہ جانے کیا ہوا قائد اعظم کی سوچ بدل گئی۔ یہ علامہ اقبال کا اثر تھا اور خود قائد اعظم کے مطالعے اور غور و خوض کا بھی اعجاز تھا کہ1934 ء میں ہندوستان واپسی کے بعد قائد اعظم کی تقاریر اور خیالات کی کشتی کا چپو اسلام بن گیا اور وہ ہندوستان کے مسلمانوں کی منفرد شناخت اور علیحدہ وجود کے لئے متفکررہنے لگے۔ بہت سے لوگوں کے لئے یہ انکشاف ہوگا کہ منشی عبدالرحمن مصنف”علمائے ربانی اور تعمیر پاکستان“کے مطابق ہندوستان واپسی کے بعد مولانا شوکت تھانوی نے قائد اعظم سے رابطہ کیا اور اپنے دو بھائیوں مولانا شبیر عثمانی اور مولانا ظفر صدیقی کو ان کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کی اسلامی اصولوں کے مطابق ذہنی تربیت کریں۔ ان کو اسلام کا طرز حیات، طرز سیاست ، فلسفہ و تاریخ اور قرآن و حدیث کے اصولوں سے پوری طرح روشناس کروایں، کیونکہ مولانا شوکت تھانوی کاکہنا تھا کہ جب مسلمان آزاد ہوں گے تو ظاہر ہے کہ حکومت مذہبی شخصیات کو نہیں ملے گی ، حکومت مغربی تعلیم یافتہ لیڈروں کو ملے گی، اس لئے ان کی ذہنی تربیت ضروری ہے، چنانچہ مولانا شبیرعثمانی اور مولانا ظفر صدیقی کئی بار وقت لے کر قائد اعظم سے ملے اور کئی کئی گھنٹوں کی نشستیں کیں۔ وزیر آباد کے محمد شریف طوسی کو قائد اعظم پسند کرتے تھے۔ قائد اعظم نے ان کو بلا کر چھ ماہ اپنے پاس رکھا۔ طوسیٰ صاحب کا کہنا ہے کہ قائد اعظم کی لائبریری میں قرآن حکیم ، تفسیر اور اسلامی تاریخ اور خلفائے راشدین پر بہت سی کتابیں تھیں۔ ان میں قرآن حکیم کے انگریزی تراجم بھی شامل تھے اور قائد اعظم نے ان تمام کتابوں کو پڑھ کر بعض صفحات پر نشانات بھی لگارکھے تھے۔ کہنے کامقصد یہ ہے کہ قائد اعظم کوئی مذہبی شخصیت تو نہیں تھے لیکن وہ اسلامی اصولوں، اسلامی طرز حیات اور اسلام کی روح کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور ان کے قانون ، آئین ، سیاست اور اسلام کے گہرے مطالعے نے ان کو اس نتیجے پر پہنچایا تھا ”کہ ہم نے جمہوریت تیرہ صدیاں پہلے سیکھ لی تھی“۔ قائد اعظم نے پاکستان کے سیاسی نظام کے حوالے سے یہ بات کوئی درجن بار سے بھی زیادہ بار کہی۔ اسی طرح جب وہ کہتے تھے کہ پاکستان میں ملائیت یا تھیوکریسی نہیں ہوگی تو وہ اس لئے کہ اسلام میں ملائیت یا مذہبی ریاست کا وجود ہی سرے سے موجود نہیں۔ اسلام کے نظام جمہوریت کی بنیاد ہی مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انصاف ،معاشی عدل، انسانی حقوق اور انسانی برابری پر استوار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم مادر پدر آزاد مغربی جمہوریت جس میں ہم جنس پرستی کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے کو پسند نہیں کرتے تھے اور جب بھی جمہوریت کی بات کرتے تھے تو تیرہ سو سال پرانی جمہوریت کا ذکر کرتے تھے اور جب بھی پاکستان کے مجوزہ آئینی ڈھانچے کا ویژن پیش کرتے تھے، تو واضح طور پر کہتے تھے کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اسی طرح وہ جب بھی پاکستان میں غیر مسلموں کے حقوق پر روشنی ڈالتے تھے تو یہ روشنی وہ میثاق مدینہ سے حاصل کرتے تھے۔ اسی تصور کو انہوں نے اپنی14 اگست والی تقریر میں بھی دہرایا۔ مشکل یہ ہے کہ سیکولر حضرات انسانی برابری ، معاشی عدل، قانون کی برابری اور آزادی اظہار کو صرف سیکولر ازم کے اصول سمجھتے ہیں اور ان بنیادوں پر قائد اعظم کو سیکولر ازم کا حامی قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے تصورات اسلام کے زریں اور بنیادی اصول ہیں اور قائد اعظم اسی حوالے سے ان کا پرچارکرتے تھے۔ جسٹس منیر سے لے کر ان کے چیلوں تک کی راہیں کس مقام سے قائد اعظم سے الگ ہوتی ہیں۔ |
|
|
|
| غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (18-10-10) |
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قائدِ اعظم کے متعلق اہلِ نظر کی آراء:
1- علامہ شبیر احمد عثمانی: آل انڈیا مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ممتاز عالمِ دین جنہوں نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ قائدِ اعظم کے متعلق فرماتے ہیں۔ ” شہنشاہ اورنگزیب کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان لیڈر پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ شکست خوردہ مسلمانوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو “ 2- علامہ سید سلیمان ندوی: عظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ ” اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھے کوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہا جبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا بادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا ملتِ دل بر کے گو اصلی قوا بیکار ہیں گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید ڈاکٹر اس کا اگر " مسٹر علی جینا" رہا “ 3- مولانا ظفر علی خان: ” تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سرو سامانی اور مخالفت کی تندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو ۔ “ • علامہ عنایت اللہ مشرقی خا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا - ” اس کا عزم پایندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا۔ “ 4- لیاقت علی خان: پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دیرینہ ساتھی نواب زادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا۔ ” قا ئدِاعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی۔ 5- علامہ اقبال : ایک خط میں علامہ نے قائد کو لکھا "برطانوی ہند میں اس وقت صرف آپ ہی ایسے لیڈر ہیں جن سے رہنمائی حاصل کرنے کا حق پوری ملتِ اسلامہ کو حاصل ہے"۔ علامہ کی بیماری کے دوران جواہر لال نہرو ان کی عیادت کو آئے ۔ دورانِ گفتگو نہرو نے حضرت علامہ سے کہا "حضرت آپ اسلامیانِ ہند کے مسلمہ اور مقتدر لیڈر ہیں کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ آپ اسلامیانِ ہند کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔" تو حضرت علامہ نے فرمایا، "جواہر لا ل! ہماری کشتی کا ناخدا صرف مسٹر محمد علی جناح ہے میں تو اس کی فوج کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں۔" 6- مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی: قائدِ اعظم دسمبر 1946ء میں لندن سے واپسی پر قاہرہ میں ٹھہرے۔یہیں پر اخوان المسلمون کے عظیم رہنما امام حسن البنا شہید بھی آپ سے ملے اور آپ کو قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی پیش کیا یہ نسخہ اب بھی مقبرہ قائد کے ساتھ واقع میزیم کی زینت ھے۔ انہی دنوں مفتی اعظم قاہرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے قائد کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا۔ " میں نے محمد علی جناح سے گفتگو کی ہے۔ مجھ سے زیادہ برطانوی ملوکیت کا دشمن شاید ہی کوئی ہو۔ میں نے محمد علی جناح کے خیالات کو انگریز دشمنی کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ وہ حقیقتاّ آزادی چاہتےہیں اور آزادی کے لیے انگریز سے مقابلے کا عزم رکھتے ہیں۔ میں ان سے گفتگو کے بعد اس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ جناح صاحب نہ صرف دستوری اور آئینی شخصیت کے حامل ہیں بلکہ انقلابی رہنما بھی ہیں۔ انقلابی افکار و خیالات ان کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکے ہیں۔ مجھے اس امر کا یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آزادی کے لیے برطانوی شہنشاہت اور ہندو سرمایہ داری دونوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے ہیں"۔ پاکستان بننے کے بعد جناب مفتئ اعظم نے فرمایا، "اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلسطین کے بدلے میں پا کستان کا خطہ عنایت فرمایا ہے۔" 7- مولانا ابوالکلام آزاد: "قائدِ اعظم محمد علی جناح ہر مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے" ۔ 8- فخر الدین علی احمد: سابق صدر بھارت "میں قائدِ اعظم کو برطانوی حکومت کےخلاف لڑنے والی جنگ کا عظیم مجاہد سمجھتا ہوں" ۔ 9- کلیمنٹ اٹیلی وزیرِ اعظم برطانیہ "نسب العین پا کستان پر ان کا عقیدہ کبھی غیر متزلزل نہیں ہوا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو انتھک جدو جہد کی وہ ہمییشہ یاد رکھی جائے گی "۔ 10- مسولینی وزیرِ اعظم اٹلی "قائدِ اعظم کے لیے یہ بات کہنا غلط نہ ہو گی کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے جو کہیں صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے" ۔ 11- بر ٹرینڈ رسل برطانوی مفکر "ہندوستان کی پوری تاریخ میں کوئی بڑے سے بڑا شخص ایسا نہیں گزرا جسے مسلمانوں میں ایسی محبوبیت نصیب ہوئی ہو" ۔ مہاتما گاندھی "جناح کا خلوص مسلم ہے ۔ وہ ایک اچھے آدمی ہیں ۔ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں ۔ میں انہیں زندہ باد کہتا ہوں" ۔ پنڈت جواہر لال نہرو مسز وجے لکشمی پنڈت "اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا "۔ 12- ماسٹر تارا سنگھ سکھ رہنما "قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی"۔ 13- سر ونسٹن چرچل برطانوی وزیرِ اعظم "مسٹر جناح اپنے ارادوں اور اپنی رائے میں بے حد سخت ہیں ۔ ان کے رویے میں کوئی لوچ نہیں پایا جاتا۔ وہ مسلم قوم کے مخلص رہنما ہی نہیں سچے وکیل بھی ہیں"۔ 14- مسز سروجنی نائیڈو مسز سروجنی نائیڈو بلبلِ ہند اور سابق گورنر یو پی کے تاثرات قائدِ اعظم کے متعلق۔ "ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے قائدِ اعظم کی شخصیت قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے ذاتی اغراض کے پیشِ نظر کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اپنی بے لوث خدمت کے عوض ہندوستان کے مسلمانوں کے لیڈر ہیں ۔ ان کا ہر ارادہ ہر مسلمان کے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ان کا ہر حکم مسلمانوں کا آ خری فیصلہ ہے جس کی انتہائی خلوص کے ساتھ لفظ بہ لفظ تعمیل کی جاتی ہے"۔ 15- پروفیسر اسٹینلے "جناح آف پا کستان" کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں ۔ " بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے " ۔ شگری |
|
|
|
| غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (18-10-10) |
|
|
#27 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب غلام خان ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-10-10), خالد حسین (09-02-12) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 553
کمائي: 7,797
شکریہ: 2,341
357 مراسلہ میں 870 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محمد على جناح(مؤسس جمهورية باكستان)
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته مؤسس جمهورية باكستان أحد أبرز شخصيات شبه القارة الهندية في النصف الأول من القرن العشرين وقد شهدت القضية الكشميرية في عهده ولادتها تاريخيا مع بداية التقسيم عام 1947 وما صاحب ذلك من أزمة سياسية بين البلدين أدت إلى اندلاع أولى الحروب بينهما في العام نفسه. مــحـمــد عــلي جــنـاح مــــــــن هـــــــــــــــــو المولد والنشأة: ولد محمد علي جناح يوم 25 ديسمبر 1876 في مدينة كراچي تعمل في التجارة وتلقى تعليمه الأولي في مدرسة الإسلام ثم في مدرسة البعثة المسيحية. وفي عام 1893 التحق بكلية "لينكون إن" لدراسة القانون ليصبح أصغر هندي يتخرج في هذه الكلية. فور تخرجه عمل محمد علي جناح بمهنة المحاماة وبعد ثلاث سنوات أصبح واحدا من أكثر محامي كراتشي شهرة وعرف عنه ذكاؤه وجرأته بداية حياته السياسية : وفي عام 1905 بدأت رسميا أولى خطوات محمد علي جناح في عالم السياسة حيث التحق بحزب المؤتمر الوطني الهندي، وفي العام نفسه سافر إلى لندن ليروج للمسألة الهندية مطالبا باستقلالها من الاستعمار البريطاني، وذلك أثناء الانتخابات البرلمانية التي كانت تشهدها بريطانيا آنذاك. سكرتير لرئيس حزب المؤتمر: بعد عام من عودته عمل سكرتيرا لرئيس حزب المؤتمر الوطني الهندي دادابهاي نواروجي وألقى أول خطاب سياسي له في مدينة كلكتا عام 1906 دعا فيه إلى استقلال الهند. عضو في المجلس التشريعي: وفي عام 1910 انتخب محمد علي جناح عضوا في المجلس التشريعي الجديد وكان صوته هو الأبرز داخل المجلس مطالبا بالاستقلال وداعيا إلى الوحدة بين الطوائف المختلفة وظل عضوا فاعلا بهذا المجلس طيلة أربعة عقود. رئيس للعصبة الإسلامية: قرر محمد علي جناح أن يقطع علاقته بحزب المؤتمر الوطني الهندي عام 1920 ليترأس العصبة الإسلامية. وفي عام 1929 أصدر بيانا مهما تضمن 14 بندا طالب فيها بتخصيص ثلث مقاعد المجلس التشريعي المركزي للمسلمين، ووضع تشريع دستوري يتضمن حماية دينهم ولغتهم وثقافتهم. هجرته إلى بريطانيا: أعلن فريق من زعماء الأقلية المسلمة في الهند استياءهم من بعض توجهات محمد علي جناح السياسية فآثر الهجرة إلى بريطانيا، وهناك استمر به المقام لأربع سنوات ثم قرر العودة مرة أخرى في عام 1934. دعوته للتقسيم : طالب في اجتماع العصبة الإسلامية الذي عقد عام 1937 بالاستقلال التام للمسلمين ضمن اتحاد فدرالي هندي إسلامي، ثم صعد مطالبه في اجتماع للعصبة بلاهور عام 1940 ودعا إلى تقسيم شبه القارة الهندية إلى كيانين هما الهند وباكستان على أن تضم الأخيرة كل مسلمي الهند وأرسل عام 1944 رسالة إلى المهاتما غاندي يوضح له فيها رؤيته لهذه القضية جاء فيها: "نحن نصر ونتمسك بأن يكون المسلمون والهندوس أمتين كبيرتين، وذلك طبقا لأي تعريف أو معيار للأمة نحن أمة لمائة مليون مسلم، وعلاوة على هذا نحن أمة ذات أمور متميزة في الثقافة والحضارة واللغة والأدب والفن والهندسة المعمارية والأسماء والمصطلحات الخاصةوالشعور بالقيم والعدل والتاريخ والملكات والطموح، وباختصار لنا وجهة نظرنا المتميزة عن الحياة ومن الحياةووفقا لجميع مبادئ القانون الدولي نحن أمة". وقد لقيت هذه الدعوة قبولا لدى مسلمي الهند عام 1946 ووافقت عليها بريطانيا. وفي 14 أغسطس 1947 أعلن محمد علي جناح قيام جمهورية باكستان الإسلامية وأصبح أول رئيس لهذه الجمهورية الوليدة حربه مع الهند : ارتبط اسم محمد علي جناح بكشمير منذ بداية الحديث دوليا عن هذه القضية قبل أكثر من خمسين عاما. ففي السنة الأولى لحكمه (1947) اندلعت أول حرب بين الهند وباكستان في محاولة من كلا البلدين لبسط سيطرته على كشمير. وقد بدأت الحرب حينما أعلن حاكم كشمير الهندوسي الانضمام إلى الهند لقمع ثورة الأغلبية المسلمة الراغبة في الانضمام إلى باكستان فتدخل العديد من قبائل قندهار الأفغانية بإيعاز من محمد علي جناح لنصرة المسلمين الكشميريين والوقوف معهم في مطالبهم ... آراء خصومه ومؤيديه : يأخذ بعض النقاد والخصوم السياسيين على محمد علي جناح ما يعتبرونه تسرعا في السعي باتجاه الانفصال عن الهند وتقسيم هذه المساحة الواسعة من أراضي القارة الآسيوية على أسس دينية وثقافية وهو ما أدى بحسب رأيهم إلى اندلاع النزاعات الحدودية بين هاتين الدولتين ودخولهما في سباق تسلح لا ينتهي الأمر الذي عاد بعواقب وخيمة على اقتصاديات البلدين في حين كان بإمكانهما الاستفادة من الإمكانات الاقتصادية الهائلة لأرضيهما إذا أمكن لهما الاتفاق على صيغة للتعايش معا. أما البعض الآخر فيرى أن ما قام به محمد علي جناح ونجح في تنفيذه من تقسيم شبه القارة الهندية أراح الأقلية المسلمة التي كانت تعيش في الهند قبل نزوحها إلى باكستان من تعصب الهندوس ضدهم .... وفاته : توفي محمد علي جناح في 11 سبتمبر/ أيلول 1948 عن عمر يناهز 72 عاما وخلفه رئيس الوزراء لياقت خان الذي بدأ عهده بتنفيذ قرار الأمم المتحدة الصادر في الأول من يناير/ كانون الثاني 1949 والخاص بوقف إطلاق النار في كشمير. رحم الله محمد علي جناح وأسكنه فسيح جناته مؤسس أول دوله نوويه أسلاميه ... أتمني أن أكون وفقت بما نقلت عن هذه الشخصيه الأسلاميه التاريخيه ...... بهائيون: اگر آپ مین سے کوئی ترجمہ کرنا چاھے تو کرلیں میرے پاس ٹائم نہیں ہے |
|
|
|
| غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (18-10-10) |
|
|
#29 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,688
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-10-10), خالد حسین (09-02-12) |
![]() |
| Tags |
| color, green, کوششیں, کوششوں, کلام, کراچی, پاکستان, ڈاٹ, لوٹے, موقع, امتحان, اردو, ترک, تعلیم, خلاف, دوست, دل, رات, زندگی, زمانہ, سیاست, سال, علی, عظیم, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|