![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() ![]() ![]() ]![]() ![]() ۔ چترال شہر کا پاکستان کے اکثر چھوٹے شہروں کی طرح ایک ہی بازار ہے۔ شہر سے گزرنے والی سڑک کنارے دونوں جانب دوکانیں ہیں۔ آج کل موبائل کمپنیوں نے اپنی سروس بھی شروع کی ہوئی ہے اور شہر میں چند انٹرنیٹ کیفے بھی ہیں جہاں ڈائل اپ نیٹ ورک دستیاب ہے لیکن انتہائی سست۔ چترال شہر میں بجلی اکثر غائب رہتی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں لیکن اس اعتبار سے سہولتیں بالکل ناکافی ہیں۔ چترال شاید پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے حامیوں کی تعداد بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے بھی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ اس بارے میں تفصیلی احوال آپ کو آئندہ دنوں پیش کریں گے۔ بشکریہ بی بی سی نوٹ: میرا مقصد اس آرٹیکل کو پیش کرنے کا ۔ ۔ ۔ محض اس علاقے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے نہ کہ کسی قسم کی سیاسی و دیگر بحث پیش کرنا Last edited by حیدر; 20-10-09 at 06:10 PM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اعتدال پسند چترالی،طالبان کا خوف
کئی لوگوں کی ٹوپی اور کان کے درمیاں چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں لگی ہوئی دیکھ کر معلوم کیا تو پتہ لگا کہ یہ ایک مقامی درخت سِنجور کی ٹہنیاں ہیں جو بہت خوشبو دار ہوتا ہے۔ یہ جنگلی درخت سنجور پاکستان کے صوبہ سرحد کی ایک خوبصورت وادی چترال میں جا بجا نظر آتا ہے اور اس کے قریب سے گزرتے ہی من کو لبھانے والی خوشبو آتی ہے اور کئی چترالی اس کی ٹہنیاں توڑ کر اپنے دوستوں کو تحفے کے طور پر بھیجتے ہیں۔ اونچے برفیلے پہاڑوں کے دامن میں واقع چترال ویسے تو صوبہ سرحد کا ضلع ہے لیکن یہاں کی زبان کھوار ہے اور بہت کم لوگ پشتو جانتے ہیں۔ یہاں کی ثقافت اور رسم رواج بھی پشتونوں سے مختلف ہے۔ تقریباً پانچ لاکھ آبادی والے اس ضلع میں غربت تو بہت ہے لیکن لوگ بہت محنت کش ہیں۔ چترال انتہائی پرامن شہر اور یہاں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے لوگ گاڑیاں اور دوکانیں کھلی چھوڑ دیتے ہیں ۔چترال اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ یہاں بازار میں خواتین اور بھکاری کہیں نظر نہیں آتے۔ چترال صوبہ سرحد کے ایک شورش زدہ ضلع دِیر کا سرحدی ضلع تو ہے لیکن یہاں لوگ انتہا پسند مذہبی سوچ کے حامل نہیں۔ ہاں البتہ لوگوں میں طالبان کا خوف بہت پایا جاتا ہے۔ طالبان کے اس خوف کی وجہ سے ہی ضلع دیر اور چترال کو سڑک کے راستے ملانے کے لیے پہاڑ کے اندر تقریباً نو کلومیٹر طویل لواری سرنگ تعمیر کرنے والے کوریائی انجنیئر بھی کام بند کرکے چلے گئے ہیں۔ اس سرنگ کی کھدائی مکمل ہوچکی ہے لیکن سڑک بنانے، اس کے اندر لائٹیں لگانے اور ہوادار بنانے کا کام ابھی جاری ہے۔ چترال کے لوگوں کا پسندیدہ کھیل پولو اور فٹبال ہے۔ بیشتر لوگوں نے گھوڑے پال رکھے ہیں اور ہر گھر میں کوئی نہ کوئی پولو کا کھلاڑی ہے۔ بدھ کو یہاں چترال سٹی اور چترال پولیس کی ٹیموں کے درمیاں پولو میچ بھی کھیلاگیا جو پولیس کی ٹیم نے جیت لیا۔ پولو کا ذکر چترال کی لوک داستانوں میں بھی ملتا ہے اور بیشتر کہانیاں پولو کے کسی کھلاڑی کے کارناموں سے جڑی ہیں۔ چترال میں فٹبال ایک مقبول ترین کھیل ہے لیکن فٹبال کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات انتہائی ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔ ایک نوجوان خالد چترالی نے بتایا کہ چترال کے نوجوانوں کو ادب سے بہت لگاؤ ہے اور آئے روز مشاعروں اور ادبی محفلیں بھی منعقد ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی شاعر ہیں اور صاحب کتاب بھی ہیں۔ ان کے مطابق چترال میں شرح خواندگی بہت زیادہ ہے اور لڑکیوں کی تعلیم میں بھی یہ ضلع صوبہ سرحد کے کئی اضلاع سے آگے ہے۔ چترال شہر کے اندر سے چترال دریا گزرتا ہے جس کے بہاؤ کا شور رات کےسناٹے میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد موسیقی کا سرور دیتا ہے۔ یہ دریا افغانستان سے ہوتا ہوا دریائے کابل میں گرتا ہے جو بعد میں اٹک کے مقام پر دریا سندھ کے سینے میں سمو جاتا ہے۔ چترال میں سورج طلوع اور غروب ہونے کے مناظر بھی بہت منفرد اور دیگر علاقوں سے مختلف ہیں۔ سورج کے طلوع ہوتے ہی اونچے برفیلے پہاڑوں کو ایسے چمکاتے ہیں کہ یہ دودھیا (دودھ والے) پہاڑ نظر آتے ہیں۔ جبکہ غروب آفتاب کے وقت جب سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے تو وادی میں دھیمی روشنی والی شام کا اپنا ہی مزا آتا ہے۔ چترال میں سردیوں کے چھ ماہ ایسے خوفناک ہوتے ہیں کہ درجہ حرارت منفی بارہ سے زیادہ ہی رہتا ہے اور لوگ کام کاج چھوڑ کر گھروں میں بیٹھتے ہیں۔ گرمیوں کا موسم علاقے میں خوشی کی نوید لاتا ہے اور وہ گرمی بھی ایسے ہی ہے جیسے لندن یا کسی اور یورپی ملک کے موسم میں پڑتی ہے۔ بدھ کے روز پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کی غیر اعلانیہ ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے جانے والی پرواز کے ذریعے جب دوپہر کوچترال پہنچے تو درجہ حرارت صرف چھبیس سینٹی گریڈ تھا۔ رات کو کمبل یا رضائی کے بنا سونا مشکل ہے۔ کسی عمارت میں ایئر کنڈیشنر نہیں ہے اور دن کو بھی اگر پنکھا چلائیں تو ٹھنڈ لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ چترال شاید پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے حامیوں کی تعداد بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے بھی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ اس بارے میں تفصیلی احوال آپ کو آئندہ دنوں پیش کریں گے۔ لیکن جمعرات کو ہماری منزل کافرستان ہے۔ یہاں کیلاش قبیلے والے آج سے موسم بہار کا میلا ’چِلم جوش‘شروع کر رہے ہیں۔ جاری ہے |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
چترال کے بارے میں پڑھ کر اچھا لگا۔ کیا چترال کا روٹ کا پتہ چل سکتا ہے تاکہ اگلی مرتبہ یہاں جانے کا بھی سوچا جاسکے۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بدر بھائی السلام علیکم،
بہت خوب بھئی آپ سے ملنے کا اشتیاق تو بڑھتا ج رہا ہے! آپ سے گذارش ہے کے "وادی کیلاش" اور وہاں کے رہنے والے کے ماضی اور حال پر بھی روشنی ڈالیئے گا۔ اللہ آپ کو صحت اور آپ کے قلم کو مذید جولانیاں عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپکی پوسٹ پڑھ کر دل چاہا کہ ابھی پوسٹ کر دوں لیکن ابھی ترتیب ٹوٹ جائے گی۔ اس لیے میں انشا اللہ ایک علحدہ پوسٹ میں شافی بھائی اور آپکی رائے کے مطابق چترال کے بارے میں لکھوں گا۔ کیونکہ جو کچھ اس میں ہے اس سے کافی کچھ ہٹ کر اور بھی بہت کچھ ہے۔ انشا اللہ اس کے بعد وہ
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تاہم ایک بات مزید وضاحت کی متقاضی ہے اور اس سے دل بھی ٹوٹ سکتے ہیں لیکن سچ سچ ہے اور وہ یہ کہ یہ آرٹیکل میرا لکھا ہوا نہیں بلکہ بی بی سی کا ہے۔ میں نے اس میں محض تھوڑی بہت تبدیلی کی ہے۔ اس بات کو میری پہلی پوسٹ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
ہمیں آپ کی اس پوسٹ کا انتظار رہے گا۔ |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور جب کیلاش لڑکیوں نے اشارہ کیا۔۔
چترال سے کافرستان روانہ ہوئے تو راستے میں آیون نامی خوبصورت وادی سے گزرنا پڑا اور گائیڈ عزیز احمد نے بتایا کہ آیون کے لوگوں نے کیلاش قبیلے کے لوگوں کو برسوں تک لوٹا اور انہیں معاشی غلام بنائے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ کیلاش قبیلے کے لوگوں کی زمینوں پر اخروٹ کے درخت بہت ہیں اور یہ لوگ ان سے معمولی کھانے پینے کی چیزوں کے بدلے درخت گروی رکھوالیتے تھے۔ اخروٹ کا ایک بڑا درخت سات آٹھ من پیداوار دیتا ہے اور چالیس سے پچاس ہزار روپے اس کی مالیت بنتی ہے۔ عزیز احمد نے بتایا کہ ایم پی بھنڈارا نے حکومت سے بات کرکے کیلاش والوں کو پیسے دلوائے کہ اپنے گروی درخت واپس لے سکیں، لیکن یہ لوگ رقم کھا گئے اور درخت واپس نہیں لیے۔ اتنی دیر میں ڈرائیور بزرگ گل عرف عثمان نے گاڑی سڑک کنارے روکی اور کہا یہ اخروٹ کا درخت ہے اور ابھی اس میں اخروٹ لگ رہے ہیں۔ دریا کے کنارے پر پیچ، کچے اور خطرناک راستے سے گزرتے ہوئے ایک پل پار کیا تو دائیں جانب رمبور کی طرف راستہ مڑا اور بائیں جانب بمبوریت کی طرف راستہ جارہا تھا۔ درمیان میں پولیس چوکی تھی جہاں سپاہیوں نے ٹیکس مانگا۔ غیر ملکیوں کے لیے فی شخص سو روپے اور غیر چترالی پاکستانیوں کے لیے بیس روپے ضلع ٹیکس ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد رمبور وادی میں میلے کی جگہ کے قریب پہنچے، گاڑی کھڑی کرکے پہاڑ کی چوٹی پر مقررہ جگہ پر دو بار سانس پھولنے کی وجہ سے کچھ رکنا پڑا۔ اوپر پہنچے تو رنگ برنگے کپڑے اور موتیوں کی مالائیں گلے میں لیے بچیاں، لڑکیاں اور بوڑھیاں اپنی اپنی دوست اور ہمرازوں کے ساتھ گلے میں بانہیں ڈالے گروپ ڈانس کرتی نظر آئیں۔ درمیان میں دو ڈھول والے ڈھول بجارہے تھے اور ان کے ساتھ کھڑے بزرگ ’ہا ہی میں ما نی سا کا پا جا‘ کی آوازیں نکالتے سنائی دیے۔ کچھ کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں بھی تھیں اور کچھ نوجوان انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹیاں بجاتے رہے۔ منیر کالاش نے بتایا کہ تینوں وادیوں میں تیرہ سے سولہ مئی تک یہ موسم بہار کی آمد کا میلہ لگتا ہے، جسے چلم جوشٹ کہتے ہیں۔ اس موقع پر سب لوگ دودھ اکٹھا کرتے ہیں اور بعد میں مل کر پیتے ہیں، اس کا پنیر بناتے ہیں اور وہ بھی مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس موقع پر دعائیں کرتے ہیں ’اے اللہ آپ کا شکریہ کہ پھل اگنا شروع ہوگئے ہیں، فصل کاشت ہوچکی ہے اور موسم خوشگوار ہونا شروع ہوگیا ہے‘۔ اس دوران گائیڈ نے رقص والی جگہ سے بھی اونچائی پر واقع پہاڑی جہاں چار دیواری بھی نظر آئی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کی عبادت گاہ ہے اور وہاں بکرے کاٹنے کے بعد وہاں لکڑی کی مورتیوں پر خون چھڑکتے ہیں۔ وہاں کسی غیر کیلاش کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اچانک میری نظر ایک نوجوان کیلاش پر پڑی وہ ہاتھوں پر مہندی لگائے، چترالی ٹوپی پہنے رقص کرنے والی لڑکیوں کو گھور رہا تھا۔ ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دو لڑکیاں ان سے بات کرنا شروع ہوئیں اور گائیڈ نے کہا کہ ایسے موقع پر لڑکیاں اور لڑکے ایک دوسرے کو شادی کی پیشکش کرتے ہیں اور رضامندی کی صورت میں وہ دونوں بھاگ جاتے ہیں۔ میں نے اس لڑکے سے بات کرنا چاہی لیکن وہ اردو نہیں جانتا تھا اور وہاں تعینات پولیس والے کو مترجم بنا کر جب ان سے شادی کے متعلق پوچھا تو وہ شرما کر دوسری طرف نکل گیا۔ کئی کیلاش لڑکیاں فوٹو بناتے وقت مسکرا کر چہرہ چھپالیتیں یا منہ پھیر لیتیں۔ ایک بیس سالہ متا گل نے بتایا کہ وہ ماحولیات میں ماسٹرز کرنا چاہتی ہیں اور اپنے خطے اور قبیلے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔ متا گل کچھ عرصہ اسلام آباد میں رہی ہیں اور آج کل چترال سےگریجویشن کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل کالاش لڑکیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان تو بڑھ رہا ہے لیکن زیادہ تر میٹرک کے بعد شادی کے چکر میں پڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں فی الحال شادی کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتی۔ اس دوران ایک جاپانی عورت پر نظر پڑی وہ بھی کیلاش لباس پہنے میلے میں شریک تھیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کا نام اکیکو واڈا ہے اور وہ اکیس برس سے رمبور وادی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سڑک کے کنارے چین سے ہوتے ہوئے یورپ جانے کی خواہاں تھیں لیکن جب یہاں پہنچیں تو وہ کیلاش لوگوں سے ملنے کے بعد ان سے بہت متاثر ہوئیں۔ ’میں نے کیلاش کا بہت غور اور قریب سے مطالعہ کیا ہے اور ان کی روایات اور زندگی کے بارے میں کتاب بھی لکھی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رمبور میں دریا کے کنارے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی ہیں۔ ’میری تحقیق کے مطابق کالاش قبیلے کے لوگ سکندر اعظم کے ساتھ نہیں آئے تھے اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہوا لیکن کالاش کا تعلق یونان سے ثابت نہیں ہوا‘۔ اکیکو واڈا کے متلعق ایک مقامی کیلاش نے بتایا کہ انہوں نے ایک مقامی شخص سے شادی کی ہے لیکن ان کی اولاد نہیں ہے۔ وہ سردیوں کے موسم میں جاپان چلی جاتی ہیں۔ لڑکیوں کے رقص کی وجہ سے اٹھنے والی دھول سے مزید بچنے کے لیے وہاں سے نکلے تو تھوڑی اترائی پر ایک مکان کے آنگن میں کھڑی دو لڑکیاں ہمیں دیکھ کر مسکراتی نظر آئیں اور انہوں نے اپنے گھر میں آنے کا اشارہ کیا اور ہم ان کی طرف چل دیے۔ (جاری ہے۔۔ مزید احوال کے لیے ملاحظہ کیجیئے گا تیسری قسط) |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی کیلاش لوگ کس مذہب کے ذیادہ پیروکار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام خان (20-05-11) |
| کمائي نے ننھا بچہ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 04-05-11 | کنعان | وادی کیلاش میں پاکستان سے سب سے پہلے تبلیغی وفد کے لئے 1982 میں قدم رکھا تھا۔ | 0 |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, گذارش, پولیس, پاکستان, پسند, پسندیدہ, لندن, نواز شریف, نظر, مکمل, موبائل, معلوم, آبادی, آج, انٹرنیٹ, بھائی, تعلیم, حال, خواتین, شہر, علاقہ, علاقے, غائب, صحت, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بجٹ میں کچھ نہیں ملا ،آدھی حکومت جلوس ،آدھی ان کا استقبال کر رہی ہے،پرویز | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 15-06-08 09:05 PM |
| اقتدار سے رخصتی کی تجویز بلاجواز ہے،صدر پرویز کو امریکی سینیٹروں نے نہیں پاکستانی پارلیمنٹ نے منتخب کیا،صدارتی ترجمان | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 26-02-08 03:26 AM |
| پیپلز پارٹی نے پہلے بھی ملک توڑا، اب بھی اسی ایجنڈے پر گامزن ہے،پر ویز الٰہی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 06-12-07 10:05 AM |
| لانگ مارچ روکنے کیلئے سیکڑوں رہنما اور کارکن گرفتار،پرویز مشرف بغیر وردی بھی قبول نہیں،بینظیر بھٹو | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 14-11-07 03:00 PM |