|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
قاضی حسین احمد
تایا جی سید و شریف سوات کے ہسپتال کے ماہر سرجن ڈاکٹر نجیب کے والد بزرگوار تھے ۔ ریٹائرمنٹ کے شب و روز اپنے بیٹے کے گھر گزار رہے تھے اور روز شام کو ہمارے کالج جہانزیب کالج سیدو شریف کے اسلامیات کے پروفیسر بادشاہ زادہ سواتی الازہر ی جو عرف عام میں ڈین صاحب سوات کے لقب مشہور تھے کے گھراپنا وقت خوش گپیوں میں گزارنے کے لیے تشریف لے آتے تھے ۔ہجرت کی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے جوانی کے دنوں میں افغانستا ن ہجرت کی تھی جہاں وہ حبیبیہ کالج کابل میں ریاضی (Mathematics)کے پروفیسر تھے ۔ درج ذیل واقعہ ان کا چشم دید ہے جو انہوں نے ہمیں سنایا۔ غازی نادر خان شہید فرمانروا ئے افغانستان حبیبیہ کالج کے دورے پر تھے۔ کالج کا ایک تربیت یافتہ مستعد دستہ انہیں گارڈ آف آنر دینے کے لئے چاق و چوبند کھڑاتھا ۔ معائنہ کرنے کے لیے وہ ایک قطار کے سامنے سے گزر کر دوسری قطار کے سامنے گزررہے تھے اچانک ایک طالب علم اپنی قطار سے ایک قدم آگے بڑھا اور اپنے پستول کی ایک گولی ان کے دل میں پیوست کردی اور بادشاہ کو قتل کردیا۔ حبیبیہ کالج کو فوری طور پر گھیرے میں لے لیا گیا اور کسی کو بھی کالج کے اندر یا کالج کے احاطے کے باہر جانے سے منع کردیا گیا تاکہ خبر شہر کے اندر نہ پھیلے۔ افغانستان کو بڑی مشکل سے انتشار سے نکال کر ایک منظم حکومت کے زیر انتظام لایا گیاتھا ۔ اگر یہ خبر شاہ شہید کے بعددو سرا متبادل انتظام کئے بغیر پھیل گئی تو ملک دوبارہ افراتفری کا شکار ہوجائے گا۔ شاہی خاندان اور غازی نادرشاہ شہید کے بھائی مشورہ کے لیے بیٹھ گئے اور نادر خان کے چودہ سالہ کمسن بیٹے ظاہر خان کو ظاہر شاہ کے لقب کے ساتھ تخت نشین کردیا اور شاہ شہید کے چھ بھائی ظاہر شاہ کے سرپرست بن کر حکومت کرنے لگے۔ اس انتظام کے بعد حبیبیہ کالج کا محاصرہ اٹھایا گیا اور اس پورے واقعے کی تفصیل کے ساتھ یہ خبر نشر کردی گئی ۔ اس کے بعد 1952ء تک یہ چچا شاہی افغانستان پر حکمران رہی۔ طالب علم نے یہ حرکت کیوں کی جس کے نتیجے میں یہ خطرناک صورت حال پیدا ہوئی ۔ معلوم ہواکہ طالب علم کی ماں کی توہین شاہی کے عملے کے کسی فرد نے کی تھی جس کا انتقام لینے کے لیے انہوں نے یہ خطرناک اقدام کیا ۔ اس طرح کا ایک اور واقعہ قبائلی علاقہ کے درہ آدم خیل کے عجب خان آفریدی کا ہے۔ جن کے گھر میں سرکاری اہلکاروں نے گھس کر ان کی والدہ کی توہین کی تھی ۔ اس کا انتقام لینے کے لیے انہوں نے ڈپٹی کمشنر پشاور کے گھر میں گھسنے کی ٹھان لی۔ گھر کی چوکیداری کے لیے رات کے وقت جب پہرے دار غافل ہوجاتے اس وقت بھی خطرناک السیشن کتے پہرہ داری پر مستعد ہو کر ڈیوٹی سرانجام دیتے رہتے۔ عجب خان نے کئی رات ان کتوں کو گوشت کھلا کر دوست بنایا اور جب ان کے ساتھ دوستی پکی کرلی تو ڈپٹی کمشنر کے گھر سے ہو کر گزرنے والی پانی کی ندی کے راستے ان کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کی بیٹی کو سوتے میں اٹھا کر اسی راستے سے نکل کر اغوا کرلیا ۔ عجب خان آفریدی نے نہایت احترام کے ساتھ مغویہ کو اپنی تحویل میں رکھا اور مغویہ نے رہائی پانے کے بعد ان کے حسن سلوک اور ان کے احترام اور خاتون کے تقدس کی کہانی بیان کرکے عجب خان آفریدی کو ایک legendبنادیا لیکن ساتھ ہی عجب خان آفریدی نے اپنے گھر کی بے پردگی کاانتقام بھی لے لیا۔ یہ واقعات ہماری قبائلی روایات کا حصہ ہیں اور ہماری افواج ان سے نا آشنا نہیں ہیں۔ قبائلی علاقوں میں اپنے اہداف کاتعین کرتے وقت اور انہیں حاصل کرنے کے لیے ہماری افواج کو ان روایات کاپاس کرنا چاہیے اور بڑی احتیاط کے ساتھ قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ہمیں ہر وقت یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ہمارے اہداف اور امریکیوں کے اہداف ایک نہیں ہیں۔ اس علاقے میں بھارت امریکیوں کا Strategic partenerہے اوربھارت اور امریکہ کا آپس میں ایٹمی توانائی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا بھی معاہدہ ہے جبکہ ہمیں صرف وقتی مشکل حل کرنے کے لیے امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف شریک کار بنایا ہوا ہے۔ امریکہ بھارت کا سرپرست اور چین کے مقابلے میں اسے کھڑا کرنے والا ہے جبکہ ہمیں بھی وہ بھارت کی بالادستی تسلیم کر کے اس کے ساتھ اپنے مسائل حل کرنے کی تلقین کرتاہے۔ ہماری افواج کے فطری دست و بازو ہمارے قبائل ہیں۔ پاکستان کی دینی قوتیں جو جہاد کے جذبے سے سرشار ہیں ہماری افواج کے برے وقتوں کی حلیف ہیں ۔ ان کو امریکی دباؤ یا امریکی لالچ کی خاطر مستقل دشمن بنانا دانائی نہیں ہے۔ پچھلے دنوں باجوڑ میں جماعت اسلامی کے کچھ لوگوں کو پاکستانی فوجی گرفتار کرکے لے گئے جب جماعت اسلامی کا ایک وفد انہیں چھڑانے کے لیے افواج کے سینئرافسران سے ملنے کے لیے گیا اور انہیں یاد دلایا کہ جماعت اسلامی نے بہت کڑے وقتوں میں پاکستانی افواج کا ساتھ دیا ہے اور وہ کسی طرح بھی نہ دہشت گرد ہیں نہ ان کے پشتیبان اور ساتھی ہیں تو انہیں بڑا روکھا جواب دیا گیا اور انہیں کہا کہ ہم تم سب کو دشمن سمجھتے ہیں اور اگلے روز جماعت اسلامی کے سابق ممبر قومی اسمبلی اور باجوڑ کے ہر دلعزیز رہنما صاحبزادہ ہارون الرشید صاحب جو قبائلی علاقوں کے لئے جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے نائب امیر بھی ہیں کے گھر کو جلانے کے لیے پاکستانی فوج کا ایک دستہ آیا۔ گھر جلانے کے بعد مردانہ حجرے کے چاروں طرف بارود رکھ کر اسے اڑا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ان کی والدہ محترمہ اور ان کی بھتیجی دیواروں کے نیچے آکر شہید ہوگئیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہاکہ ان کی والدہ اتفاق طور پر By Chanceفوت ہوئی ہیں۔ اس طرح اتفاقی طور پر قبائلی علاقوں میں ہزاروں بچے اور خواتین شہید ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے پورے علاقے میں ان کے لاکھوں ورثاء کے دلوں میں گہرے گھاؤ پڑ چکے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کشمیر کے محاذ پر اس وقت ایک بڑے حصے کو آزاد کرادیا جب پاکستانی فوج بے سروسامانی کی حالت میں تھی اور جواب بھی پاکستان کے مخالف نہیں بلکہ دوست ہے۔ اتنے زخم سہنے کے باوجود اس پورے علاقے میں پاکستان سے جدائی کی کوئی تحریک نہیں ہے۔ حکمت کا تقاضاہے کہ ہماری افواج غصے اور ردعمل میں آنے کی بجائے اپنے قبائل کے غصے کو ٹھنڈا کریں اور انہیں دشمن کے ہاتھ میں استعمال ہونے سے بچائیں۔ ان کی بہادری ،ان کا جذبہ ان کی موت سے بے خوفی ان کے رگ و پے میں دوڑنے والاانتقامی جذبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر ہم اسے حکمت کے ساتھ اپنے دشمن کے خلاف استعمال کرنے کا ڈھنگ سیکھیں لیکن اگر ہم انہیں خود ردعمل کا شکار ہو کر دشمن بنادیں تو ہم قوت اور تشدد کے ذریعے انہیں کبھی مغلوب نہیں کرسکیں گے اور ہمارے دشمن انہیں آسانی کے ساتھ ہمارے خلاف اکسانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہماری افواج کا یہ سمجھنا کہ انہوں نے جنوبی وزیرستان اور باجوڑ کو زیر کرلیا ہے اور اس میں برپا شورش کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے ایک شدید غلط فہمی ہے۔ جونہی فوج وہاں سے ہٹے گی یہ قوتیں پھر سراٹھائیں گی اور کسی سویلین انتظامیہ کے بس میں انہیں کنٹرول کرنا نہیں ہے اور ہمیشہ کے لیے فوج بھارتی خطرے سے بے خوف ہو کر اپنے قبائلیوں کے خلاف صف آراء نہیں ہوسکتیں نہ ہی انہیں مستقل دشمن بنانا ہمارے حق میں ہے یہ امریکی بھارتی کھیل ہے کہ انہیں اپنے بھائیوں کے مقابلے میں ہمیشہ کے لئے صف آراء کردے۔ اگر ہم نے انہیں دوست بنانا ہے تو انکے اندر سے لشکر سازی کرکے انہیں آپس میں لڑانے کی بجائے ان کے ساتھ حقیقی مصالحت کے راستے تلاش کرنے پڑینگے اور اس کی اجازت امریکہ ہمیں کبھی نہیں دے گا۔ہمیں اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانی پڑے گی نہ امریکہ ہمارا حقیقی دوست بن سکتاہے نہ ہم اس کے حقیقی حلیف بن سکتے ہیں ۔ اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور اپنی فوجی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمیں متبادل ذرائع تلاش کرنے ہوں گے اور ساتھ ہی اسراف وتبذیر چھوڑ کر سادگی اختیار کرنی ہوگی تاکہ خیانت سے اپنی قومی زندگی کو پاک کرکے ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ تشکیل دینے کے قابل ہوسکیں۔ ایک فلاحی معاشرہ کی بنیادی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ایک قلیل تعداد میں لوگوں کی اعلیٰ معیار زندگی کی بجائے ایک کثیر تعداد میں عام لوگوں کی بنیادی ضروریات کو اولیت دی جائے تاکہ پوری قوم تعلیم حاصل کرسکے اور پوری قوم کیلئے علاج اور خوراک و رہائش کا انتظام کیا جاسکے۔ اس کیلئے بنیادی ضرورت امن وامان اور اندرونی صلح کی ہے جس کیلئے قوت کے استعمال سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے ۔ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــ روزنامہ جنگ۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ قاضی سے اس سے علاوہ اور کس بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس تحریر کی اشاعت کا موقع تو دیکھیں۔ بجائے اس کے کہ یہ حضرت لاہور میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے انھوں نے ان کے عمل کی توجیہ پیش کرنا شروع کر دی ہے۔ ان کا ضمیر بہت ہی سخت جان واقع ہوا ہے۔ خون ناحق کی ان کو قطعا کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی خوف خدا ہے۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (13-03-10), شاہ جی 90 (13-03-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائیو اور بہنو
بات تویہ حقیقت ہے کہ قبائلی خون میں انتقام کا جذبہ اس شدت سے ہوتا ہے کہ اس ایک جذبے کے آگے سارے اسلامی قوانین ماند پڑ جاتے ہیں خدا رسول کاحکم پیچھے چلا جاتا ہے اور انتقام کو اولیت دی جاتی ہے ، اور ہم قاضی صاحب کی اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت کا اس علاقے میں تعاون جاری و ساری ہے بس قاضی صاحب بھول گئے تو موساد اور راما کو ، اور انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اس سارے کھیل میں ایک ہی مخصوص فرقے کے لوگوں کو استعمال کرتے ہوے ان کے جذبات سے کھیلتے ہوے پاکستان میں آگ بھڑکائی جا رہی ہے ۔ اللہ ہم سب کو استقامت سے اس سازش کا توڑ کرنے کی ہمت عطا فرمائے آمین |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (13-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#4 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (14-03-10), راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (14-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہارون الرشید والے واقعے کی بھی خوب رہی، ان کے اپنے علاقے میں لوگ ہارون الرشید کو برا بھلا کہ رہے تھے اور علاقے کے مشیران نے کھل کر ان پر طالبان کی دہشت گردی کی حمائت کا الزام عائد کرنے کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں کو ان دہشت گردوں کی حمائت کرنے سے باز رہنے کو کہا ہے۔
عجب ماجرا ہے بھائی میرے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (14-03-10), شاہ جی 90 (14-03-10) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہر حال اگر ہارون الرشید دہشت گردوں کی پشت پناہی کر بھی رہا تھا تو بھی دنیا کا کوئی قانون افواج پاکستان کو اس بہیمانہ اقدام کی اجازت نہیں دیتا کہ انکی بوڑھی والدہ و دیگر رشتہ دار خاتون کو بے دردی سے ہلاک کر دیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کاروائی دہشت گردوں کو اخلاقی مدد تو دے سکتی ہے انکو تباہ نہیں۔
ہم کو بھی چاہیے کہ اپنی افواج کو محض فرشتوں کا گروہ سمجھنے کی کوشش ترک کر دیں کہ جن سے حماقتوں کا صدور نہیں ہوتا۔1948 کی جنگ ہو یا 1965 کا آپریشن جبرالڑ، 1971 کا سانحہ ہو یا 1984 میں سیاچن کا چھن جانا اور کارگل میں بد ترین حکمت عملی یہ سب ہماری افواج کے نام نہاد عقل مند سپہ سالاروں کے ہی کارنامے ہیں جو ہمارے چہروں پر کلنک کا ٹیکہ بن کر سجے ہوئے ہیں۔مجھے شک ہے کہ ان سیاہ کارناموں میں ایک اور کا اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (14-03-10), فیصل ناصر (14-03-10), ھارون اعظم (14-03-10), منتظمین (14-03-10), راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (14-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,631
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,029 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مزید یہ بھی کہ اس بات کی راگنی الاپنے کے بجائے کہ یہ لوگ مذمت کیوں نہیں کرتے ، ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا محض مذمت سے دہشت گردی کا قلع قمع ہونا ہوتا تو الطاف حسین جتنی مذمت کرتا ہے اس حساب سے تو پاکستان جنت بن چُکا ہونا چاہیے تھا۔
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دہشت گرد جہاں اور جب چاہتے ہیں اپنی کاروائی کر گزرتے ہیں؟ہماری خفیہ ایجنسیاں، سیکیورٹی کے ادارے سب کہاں مر جاتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں اس قدر زیادہ تعداد میں کھلم کھُلا دہشت گردی نہیں ہوتی؟کیا ہم لوگ اپنی سیکورٹی کے ذمہ داران کی اتنی شدت سے مذمت کرتے ہیں جس شدت سے جماعت اسلامی کے مذمت نہ کرنے کی مذمت کرتے ہیں؟کیا ہم نے کبھی اعلٰی عہدیداران کا گریبان پکڑا ہے؟پشاور میں ایک ہی بلاسٹ میں ڈیڑھ سو سے زائد بھائی شہید ہو جاتے ہیں ہم نے کتنے وزرا ، حکمرانوں کو جوتے رسید کیے؟ ہاں میں نے یہ ضرور دیکھا کہ لوگوں کی تان ادھر ٹوٹتی ہے کہ جماعت اسلامی مذمت کیوں نہیں کرتی۔ (حالانکہ جب جماعت والے امریکہ ،بھارت کی مذمت کر رہے ہوتے ہیں تو در حقیقت طالبان کی ہی مذمت کر رہے ہوتے ہیں)۔ اس بات کو تسلیم کر لیجیے کہ جماعت کے مذمت کرنے یا نہ کرنے سے اس دہشت گردی پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ، بلکہ خؤد انہی پر اثر پڑتا ہے چناچہ آپ لوگ ان ذمہ داران کو پکڑیں جو ہماری حفاظت کی ذمہ داری پوری نہ کرنے کے باوجود آینڈتے پھرتے ہیں۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (14-03-10), فیصل ناصر (14-03-10), ھارون اعظم (14-03-10), منتظمین (14-03-10), راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (14-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ آپ کو خوش رکھے بدر بھائی
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
ہم جماعت اسلامی کو بت بنا کر نہیں پوجنا چاہتے۔ نہ ہی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو فرشتے سمجھتے ہیں۔ اگر ہارون الرشید واقعی دہشت گرد ہے، تو ہماری سیکیورٹی فورسز نے ان کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا؟ اگر جماعت پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام سچ ہے، تو الزام لگانے والے اسے ثابت کریں! |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
باقی جو نکات میرے خیال میں اہم تھے، میں نے سرخ رنگ سے Highlight کردیئے ہیں۔ تنقید تو سب لوگ کرتے ہیں، قاضی صاحب نے تجاویز بھی دی ہیں، جو مشکل ضرور ہیں، لیکن ناقابلِ عمل نہیں ہیں۔
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بات سیدھی سی ہے کہ:
1۔امریکہ کی دشمنی افغانیوں سے ہے، 2۔قبائیلوں کی دوستی افغانیوں سے ہے 3۔ھماری دوستی امریکہ سے ہے۔ 4۔ھماری دشمنی افغانیوں سے ہے دوست کا دشمن دشمن اور دشمن کا دوست دوست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید قبائلی اس سے آگے سوچتے ہی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے چارے اجڈ گنوار اور جاھل جو ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر ھم بھی تو اس سے آگے نہیں نہیں سوچتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم بھت مھذب اور روشن خیال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو چااہے ((ہمارا)) حسن کرشمہ ساز کرے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
جنگ دو طرح کی ہوتی ہے(کم از کم میری معلومات کے مطابق)
1۔اللہ کے رستے میں اس کے جھنڈے کی سربلندی کے لیے 2۔کسی بھی اور چیز کے لیے کیا دہشت کردی کے خلاف جنگ اللہ کے جھنڈے کی سربلندی کے لیے ہے؟؟؟ یا امریکہ کے صلیبی عزائم کی تکمیل کے لیے ہے؟؟؟؟ اگر یہ اللہ کی جنگ ہے تو ہمیں لڑنی چاہیے نہیں ہم پر فرض ہے۔۔اور ۔اگر یہ قرآن کے الفاظ میں((((طاغوت))کے لیے ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کرنا چاہیے؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟[/SIZE][/SIZE] |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ یہ جنگ فساد فی الارض کے خلاف ہے۔ اور اپ تو جانتے ہی ہیں قرآن میں فساد فی الارض پھیلانے والوں کے لیے کیا سزا تجویز کی گئی ہے۔ کیا آپ حدود اللہ میں دخل دیتے ہیں؟
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی ! اور امریکہ تو امن فی الارض کے لئے کام کرتا ہے
تو ہمارا تو فرض بنتا ہے اس کی ہر آواز پر لبیک کہیں ہیں جی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (15-03-10), ام طلحہ (15-03-10), راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10), عبداللہ آدم (15-03-10), عبداللہ حیدر (15-03-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
امریکہ یہاں فساد کرنے آیا اور ہم اس کے فرنٹ لائن اتحادی بنے فساد کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا یہی اسلام کا مطلوب ہے؟؟؟؟ اور اج بھی ہم اسی صلیبی اتحاد کا حصہ بلکہ ایندھن کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔۔۔۔۔۔۔ اور حد تو یہ ہے کہ غیرت حمیت اور اخوت سب بلا معاوضہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومے فرختند و چہ ارزاں فرختند ماشاءاللہ فساد فی الارض کا کافی خاتمہ تو ڈالرز کے بدلے اپنے بھائی بیچ کر کیا گیا۔۔۔۔۔ لیکن ڈاکٹر عافیہ نے تو انت مچا رکھی تھی شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب تو مکمل خاتمہ ہو گیا ہو گا فساد فی الارض کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسنگ پرسنز بھی فسادی ہی تھے،سو ہم نے دیر ہی نہیں لگائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرنٹ لائن جو ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی پاکستان کا خواب اقبال نے دیکھا تھا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،آآآ آاآہ اقبال ترے دیس کا کیا حال سناؤں۔۔۔۔۔ امریکہ تو اس فساد کا خاتمہ کر نہ سکا اور ہم ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کالج, پاکستان, پاکستانی, واقعات, قدم, چین, نظر, موت, ماں, مسائل, معلوم, معاشرہ, انتظامیہ, امیر, امریکہ, اعلیٰ, اغوا, بھائی, تلاش, تعلیم, جواب, حسن, خواتین, دوست, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| امریکی عسکری قیادت کے تضادات | عبداللہ آدم | عمومی بحث | 44 | 15-11-10 09:44 PM |
| عسکریت پسند لینے کیلئے پاکستان کو بھاری دی اور ڈرون حملے کرائے:بش | جاویداسد | خبریں | 1 | 10-11-10 10:13 PM |
| چین کی عسکری تیاری پر پینٹا گون کو تشویش لاحق | جاویداسد | خبریں | 0 | 24-09-10 06:55 PM |
| یہودی مدارس میں عسکریت کی تعلیم | sahj | عمومی بحث | 1 | 07-03-10 11:29 AM |
| خوش آمدید حسن عسکری | محمدعدنان | تعارف | 3 | 01-07-07 06:48 PM |