|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
۔۔۔۔۔۔عبداللہ طارق سہیل۔۔۔۔۔۔ فرنیٹئر کور کے آئی جی نے اپنی بریفنگ میں کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے سابق ایم این اے ہارون رشید کا گھر دہشت گردوں کا ٹھکانہ تھا‘ اس لیے اس کو اُڑادیا گیا۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے فوری طور پر کور کے دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ گرانے سے پہلے ہارون رشید کے گھر کی مکمل تلاشی لی گئی لیکن وہاں سے ایک کارتوس بھی نہیں ملا‘ دراصل وہ ڈرون حملوں کی مخالفت کررہے تھے جس کی سزا دی گئی۔ یاد رہے کہ اس کارروائی میں ہارون رشید کی بوڑھی والدہ اورنوعمر بھتیجی بھی جاں بحق ہوگئی تھیں۔یہ وقوعہ کافی دنوں سے زیر بحث ہے۔ اصل حقیقت تو اس تحقیقات کے بعد ہی شاید سامنے آسکے گی جس کا وعدہ وزیراعظم نے ایک وفد سے ملاقات میں کیا ہے۔ اگرچہ تحقیقات کرانے کا یہ اعلان شائع ہوئے ہفتہ بھر ہوگیا ہے لیکن ابھی تک اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ یہ وقوعہ پریس میں خاص تفصیل کے ساتھ آچکا ہے خلاصہ یہ ہے کہ ہارون رشید کا گھر باجوڑ کی تحصیل سالارزئی میں فوجی چوکی کے سامنے ہے۔ ایک دن کچھ سیکورٹی اہلکارجن کے ساتھ امریکی فوجی بھی تھے‘15گاڑیوں میں وہاں پہنچے اورہارون رشید کے گھر سمیت سارے محلہ کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا۔اس کے بعد انہوں نے بارود نصب کردیا۔ اہل محلہ نے احتجاج کیا کہ گھر میں خواتین موجود ہیں‘ انہیں نکالا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا چنانچہ 80سالہ بوڑھی والدہ اورنوعمر بھتیجی کی جان چلی گئی۔ واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے باجوڑ آپریشن کے سربراہ میجر جنرل طارق خان کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین ایک ملحقہ کچے مکان میں تھیں جس کی چھت بارش اوربرف باری کی وجہ سے گرگئی اور وہ نیچے دب کر جاں بحق ہوگئیں۔ ہارون رشید نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آپریشن میں اب تک جو جانی نقصان ہوا ہے ۔ اس میں 90فیصد عام شہری شامل تھے۔ ان اطلاعات اوردعوﺅں کی صداقت پر بھی وزیراعظم کو تحقیقات کرانی چاہیے تاکہ مبالغہ سامنے آسکے۔ ایک اخبار میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پچھلے دنوں اس بات کا نوٹس لیا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے گھرنذرآتش کیوں کردیے جاتے ہیں؟ ان کا موقف یہ تھا کہ ایک شخص کے جرم کی سزا اسی کو ملنی چاہیے اس کے پورے گھروالوں کو نہیں۔ قبائلیوں کے گھراُڑانے کا آغاز انگریزوں نے کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص گمراہ ہوگیا ہے تو اس کی بے گناہ بیوی‘ بچوں یا بھتیجوں اوربوڑھے والدین کے سرسے چھت چھین لینا ممکن ہے انگریزوں کی نظروں میں عین انصاف ہو لیکن آزادپاکستان میں تو یہ قانون تبدیل کیا جانا چاہیے۔ ہر انسانی المیہ کو”کولیٹرڈیمج “ کہہ کر بھول جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔کولیٹرل ڈیمج کی اصطلاح امریکی ایجاد ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکا ہی نے اس اصطلاح پر عمل شروع کیا اور جرمنی اورجاپان کے شہری علاقوں پر یہ کہہ کر بمباری شروع کی کہ یہاں فوجی تنصیبات ہیں‘ چنانچہ ان بمباریوں میں کروڑوں افراد مارے گئے۔جرمنی کے بڑے شہروں کو توملیا میٹ ہی کردیا گیا۔امریکا نے اس اصطلاح کا خیال کہاں سے لیا؟ کہاجاتا ہے (ممکن ہے یہ واقعہ نہ ہو محض لطیفہ ہو) کہ”وائلڈ ویسٹ“ میں یعنی امریکا کے وہ مغربی علاقے جہاں کاﺅ بوائز آباد ہوئے تھی(اسی علاقے سے تعلق رکھنے والی فلموں کو”ویسٹرن“ کہا جاتا ہی) ایک اجرتی قاتل کو کسی نے پیسے دیے اورکہا کہ فلاح شخص کو مار دو‘ وہ اس وقت فلاں ہوٹل میں بیٹھا ہوگا۔اجرتی کاﺅبوائے نے اپنی کٹ تیار کی اورگھوڑے پر سوار ہوکرہوٹل جا پہنچا۔ ہوٹل میں چالیس پچاس افراد بیٹھے ہوئے تھے‘اسے مقتول کی جونشانی بتائی گئی تھی وہ اسے بھول گیا۔ کچھ دیر اندازے سے وہ”شکار“ کو تلاش کرتا رہا پھر مسئلے کا حل دریافت کرلیا۔ حل پر عملدرآمداس نے یوں کیا کہ دونوں ہاتھوں میں ایک ایک گن پکڑ کر اس نے ہوٹل میں موجود تمام افراد کو ہلاک کردیا۔ ظاہر ہے دشمن بھی مارا گیا۔ اصل شکار کے علاوہ جتنے بھی لوگ مارے گئے وہ”کولیٹرل ڈیمج“ کی نذر ہوگئے۔ کولیٹرل ڈیمج کی یہ پہلی باضابطہ مثال تھی۔اس کے بعد امریکا نے اپنے حلقہ اثروالے تمام علاقوں میں اسے قانون بنا کر نافذ کردیا۔کولیٹرل ڈیمج ایسی”چیز“ ہے جس کی تحقیقات کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔محض”غلطی ہوگئی“ کہہ کر کیس خارج کردیا جاتا ہے۔اس کا اصطلاحی ترجمہ نظر سے نہیں گزرا۔امریکی طرز عمل کو دیکھتے ہوئے اس اصطلاح کا اردو ترجمہ یوں ہوسکتا ہی”کوئی بات نہیں“۔(عربی میں اس کا متبادل ہی”مالش“۔مرتب) دوسری طرف”کولیٹرل ڈیمج“ کا سبق دہشت گردوں نے بھی خوب یاد کرلیا ہے۔وہ تھانے کے اندر جانے کا جو کھم نہیں کرتے۔ گیٹ پر دھماکا کرتے ہیں‘سو پچاس راہ گیر مارے گئے تو کیا ہوا‘ تھانہ تواُڑ گیا۔یہ سو پچاس وہ کولیٹرل ڈیمج کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔شہری ہلاکتوں کو ممنوعہ قرار دینے کا کام جنگ عظیم کے بعد جینواکنونشن میں کیا گیا۔اس سے پہلے شہریوں کو مارنا عین جائز سمجھا جاتا تھا۔ صرف اسلام نے اسے حرام قرار دیا لیکن خلاف ورزی کرنے والوں میں مسلمان فاتحین بھی شامل رہے۔ تیمورلنگ نے کروڑوں مسلمان ذبح کیے‘ نورالدین محمد جہانگیر‘ جس کے نام کے ساتھ بالی ووڈ والوں نے ایک خیالی زنجیر عدل لٹکا رکھی ہے‘ برنیر(فرانسیسی سیاح) کے مطابق جس شہر میں جاتا‘ تمام دیواروں پر کٹے ہوئے انسانی سرسجاتا۔ ان سے پہلے چنگیز خان اوراس کے پوتے ہلاکوخان نے انسانی سروں کے مینار بنائے اورلاکھوں مربع میل خطہ ہائے ارض کو انسانی خون سے سرخ کردیا۔اٹیلانام کا ایک فاتح بھی اسی طرح کے ریکارڈ بناتے بناتے مارا گیا۔وہ تو غیرمسلم تھے۔ مسلمانوں میں نادر شاہ اوراحمد شاہ ابدالی نے بھی لاکھوں گردنیں اُڑائیں۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا جس میں کئی لاکھ بنگالی ہلاک ہوئے یا زندہ جلادیے گئے۔جینوا کنونشن موجود ہے لیکن امریکا عراق اورافغانستان اور پاکستان میں”کولیٹرل ڈیمج“ کی آڑ میں عراقیوں اور افغانیوں کی نسل کشی کررہا ہے۔اسے سرائے مینار بنانے میں کوئی دلچسپی ہے نہ دیواروں پر سجانے سے۔ وہ صرف”اسکور“ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اوراسکور بڑھتا ہی جارہا ہے۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (16-03-10), ھارون اعظم (14-03-10), محمدخلیل (14-03-10), راجہ اکرام (15-03-10), سحر (16-03-10), شاہ جی 90 (14-03-10), عبداللہ آدم (15-03-10), عبداللہ حیدر (15-03-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ترتیب بدل لیں
ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (14-03-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہی بنیادی مسئلہ ہے کہ وہ جو چاہیں کریں وہ کولیٹرل ڈیمیج ہے اور اگر ان کے خلاف کچھ ہو جائے تو پھر تمام قوانین یاد آ جاتے ہیں۔
کولیٹرل ڈیمیج اگر بطور قانون تسلیم کیا جائے تو پھر سب کے لئے اس کا استعمال یکساں جائز ہونا چاہیئے۔ ہارون بھائی نے اچھا شعر لکھا ہے کچھ اور ملاحظہ ہوں تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی اور جو میں کہہ دوں تو سمجھا جائے مجھ کو دار کے قابل جو تو کہہ دے تو تیری بزم کا دستور ہو جائے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | sahj (16-03-10), ھارون اعظم (15-03-10), شاہ جی 90 (15-03-10), عبداللہ آدم (15-03-10), عبداللہ حیدر (15-03-10) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہی بنیادی مسئلہ ہے کہ وہ جو چاہیں کریں وہ کولیٹرل ڈیمیج ہے اور اگر ان کے خلاف کچھ ہو جائے تو پھر تمام قوانین یاد آ جاتے ہیں۔
کولیٹرل ڈیمیج اگر بطور قانون تسلیم کیا جائے تو پھر سب کے لئے اس کا استعمال یکساں جائز ہونا چاہیئے۔ ہارون بھائی نے اچھا شعر لکھا ہے کچھ اور ملاحظہ ہوں تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی اور جو میں کہہ دوں تو سمجھا جائے مجھ کو دار کے قابل جو تو کہہ دے تو تیری بزم کا دستور ہو جائے |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
راجہ بھائی، پشتو میں مقولہ ہے کہ طاقت ور مارتا ہے، اور کمزور گالیاں دیتا ہے۔ یہی ہمارے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ طاقت ور لوگ ہمیں مار رہے ہیں، اور ہم صرف مذمت بھی کریں تو مجرم بن جاتے ہیں۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,695
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان سب معاملے میں میں قصور وار مسلمانوں یا یوں کہنا چاہیے مرنے والوں کا سمجھتی ہوں ۔
ہم کوئی کام متحد ہوکر منصوبہ بندی سے نہیں کرتے ہیں ۔ امریکہ کو برا بھلا کہتے رہے گے ۔ امریکہ کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ہمت نہیں کریں گے ۔ جب تک ہم طاقت کے سامنے اللہ کے بھروسے پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے نہیں ہونگے اسی طرح ذلیل خوار ہونگے ۔ مسلمان کے لیے موت کوئی بڑی بات نہیں ہونی چاہیے ۔ ہاں ہم مرنے کو تیار ہیں لیکن دنیا کا نظام ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے ۔ اس پر اگر ڈٹ جائیں تو یہ امریکہ وغیرہ ہمارے سامنے کچھ بھی نہیں افغان طالبان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ کتنے ہی افغان طالبان اس دنیا سے جاچکے ہونگے ہم نے کبھی ان کو امریکہ یا دنیا کی کسی طاقت کے سامنے روتے نہیں دیکھا ۔ کبھی اپنی صفائیاں پیش کرتے نہیں دیکھا ۔ عزت سے لڑتے ہوئے مرتے ہیں اور کسی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ جب تک ہم اس دنیا کو چھوڑ کر جہاد نہیں کریں گے ہمارے ساتھ یہی ہوتا رہے گا ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے Last edited by سحر; 16-03-10 at 12:29 PM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (16-03-10), فیصل ناصر (16-03-10), ھارون اعظم (16-03-10), راجہ اکرام (16-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10), عبداللہ آدم (16-03-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دنیا کا نظام اس وقت تک ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوگا جب تک صالح قیادت ہمیں میسر نہ ہوجائے
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی اور بعد کے فاتحین بھی مسجدوں میں امامت بھی کیا کرتے تھے اور فوج کی سپہ سالاری بھی کرتے تھے آج حال یہ ہے کہ مسجد کی امامت علیحدہ کام اور قیادت و سپہ گری علیحدہ کام ہو گیا ہے ۔ تبدیلی شاید اس وقت تک نہ آئے کہ جو نیک اور متقی ہو وہی حکومت بھی کرے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک کلمہ ہے اگر مجھ سے لے لو تو عرب و عجم تمھارے ہاتھ میں آجائیں گے ۔" افغان طالبان بھی اس کا عملی نمونہ تھے۔۔ ( گو کہ ان کی کچھ باتوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن انھوں نے)جہاد بھی کیا اور حکومت بھی سنبھالی ۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (17-03-10), ھارون اعظم (16-03-10), راجہ اکرام (17-03-10), سحر (17-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10), عبداللہ آدم (16-03-10) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اصل مراسلہ:سحر
ہم نے کبھی ان کو امریکہ یا دنیا کی کسی طاقت کے سامنے روتے نہیں دیکھا الٰھم اجعلنا منھم۔آمین |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی اگر ایک بارپھر ہم اسلاف کے اس طریقے کی طرف آ جائیں کہ زمار کار نیک لوگوں کے ہاتھ میں ہو، جو نہ صرف جدید علوم اور فن سپاہ گیری سے آگاہ ہوبلکہ اعلی اسلامی اخلاق و اقدار کا بھی حامل ہو تو ان شاء اللہ حالات بدلنا شروع ہو جائیں گے۔
ہوس کی امیری ہوس کی وزیری |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (17-03-10) |
![]() |
| Tags |
| وزیراعظم, لوگ, لطیفہ, مکمل, ممکن, آپریشن, امیر, احتجاج, اردو, اسلامی, بچوں, جرم, حسن, خون, خواتین, خلاف, خان, دریافت, شخص, عراق, عراقیوں, عربی, عظیم, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ”ہماری سنگل ڈیکر نہیں چلتی، بھارتی ڈبل ڈیکر چلے گی“ | جاویداسد | خبریں | 2 | 18-10-10 07:22 PM |
| کامن ویلتھ گیمز پر ڈینگی وائرس کا حملہ ، متعدد کھلاڑی ہسپتال پہنچ گئے ، گیمز ویلج پر مچھروں کا قبضہ | جاویداسد | خبریں | 2 | 04-10-10 02:20 PM |
| شمس الحسن بلاول بھٹو زرداری کے میڈیا کوآرڈینیٹر مقرر | ابن ضیاء | خبریں | 0 | 09-01-08 12:07 PM |
| حکومت پریس کونسل آرڈیننس اور نیوز پیپرز رجسٹریشن آرڈیننس مین ترمیم پر آمادہ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 23-11-07 10:39 AM |