|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
پھر ایک عالمِ دین کا قتل ہوا۔ اس کی آواز کو خاموش کرنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہوسکتا تھا۔ تحریک تحفظ ختم نبوت کے مولانا سعید احمد جلال پوری کا قتل، اور اسی روز اہلسنت والجماعت کے مولانا عبدالغفور ندیم کے بیٹے کا قتل، کراچی کو پھر فسادات میں دھکیلنے کی ایک بھرپور کوشش ہے۔
ہم سب بھی کتنے مفاد پرست واقع ہوئے ہیں۔ ہر واقعے میں اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ ہر خبر کو اپنی نظر سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ واقعے کے محرکات اور اسباب پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور ایک دوسرے پر الزام تراشی، کیچڑ اچھالنا اور ٹانگ کھینچنا ہی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ کسی کو اپنی حریف سیاسی جماعت سے خار ہے، اس سے بہتر موقع اور کیا ہوسکتا ہے؟ تھوپ دو الزام اس کے سر پر! کسی کو دوسرے مسلک والوں سے اللٰہ واسطے کا بیر ہے، سنا دو فیصلہ کہ وہی قاتل ہیں، وہی ذمہ دار ہیں۔ کوئی ہر مسئلے کی جڑ حکومت کو ہی سمجھتا ہے، یہ کام بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔ خود ہی مدعی خود ہی منصف! لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ طرز عمل قاتلوں کی گرفتاری کا سبب بن سکتا ہے؟ کیا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے سے کام ہوجائے گا؟ ہر گز نہیں۔ ہم سب کو ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ کیا آخر کیا بات ہے کہ اسلام جیسے آفاقی دین کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہونے کے باوجود ہم آئے روز اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں۔ اگر ہم اپنے اختلافات پر الگ ہوسکتے ہیں تو اپنی قدر مشترک پر اکٹھا کیوں نہیں ہوسکتے؟ کب تک ہم اپنے قابل قدر علماءکرام کی قربانی دیتے رہیں گے؟ حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ لیکن موجودہ منظرنامے پر نظر ڈالئے تو انبیاء علیہم السلام کے وارث جس طرح آپس میں دست وگریباں ہیں، جس طرح فروعی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں، اس کا سب سے زیادہ نقصان اسلام کو ہی ہوا ہے۔ علماء کرام سے زیادہ اس بات کو کون سمجھ سکتا ہے کہ آپس کی کشیدگی کا فائدہ کوئی اور قوت بھی اٹھا سکتی ہے۔ لیکن جو لوگ دنیاوی فائدے اور اپنی انا کو ترجیح دیں، ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ اختلافی مسائل پر بحث نہیں ہونی چاہیئے۔ ضرور ہونی چاہیئے۔ لیکن مکالمے کی صورت میں، نہ کہ طبلِ جنگ بجاکر۔ یہ اختلافات تو پہلے بھی تھے۔ ایک ہی معاملے پر ایک سے زیادہ رائے ہوسکتی ہیں۔ کسی کو زبردستی مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ آپ کی رائے کو ہی صحیح سمجھے۔ مولانا سعید احمد صاحب اس راہ کے پہلے مسافر نہیں، ان سے پہلے بہت سارے قابل قدر علماء اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم آخر کس مقصد کے لئے اپنوں کی قربانی دے رہے ہیں؟ کیا واقعی ان ہستیوں کی شہادت سے ہم نے اسلام کو کوئی فائدہ دیا ہے؟ آج تک میں نے کہیں پر بھی یہ نہیں سنا، نہ دیکھا، کہ ہم میں سے کسی نے اس طرح کے واقعے سے کوئی سبق سیکھا ہو، کسی عالم دین نے اٹھ کے کہا ہو کہ بس! بہت ہوگیا۔ مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کی جائیں، ایک دوسرے پر حملے کروائے جائیں۔ کسی نے یہ نہیںکہا کہ آئیے ہم مل بیٹھ کر اپنے اختلافات پر بات کریں۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر بات پر متفق ہوں۔ لیکن اختلافات کو آپس کی دشمنی کی بنیاد نہیں بننے دیں گے۔ کاش، ایسا ہوسکتا۔ کاش ایسا ممکن ہوتا۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-03-10), فیصل ناصر (13-03-10), منتظمین (13-03-10), محمدمبشرعلی (26-04-10), محمدعدنان (13-03-10), حیدر (14-03-10), سحر (13-03-10), شاہ جی 90 (12-03-10), عبداللہ آدم (13-03-10), عبداللہ حیدر (12-03-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,077
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ ایک یونیورسل اصول ہے کہ قاتل وہ نہیں ہوتا جس پر قتل کا پہلا شک جائے ۔ قاتل وہ ہوتا ہے جس کو سب سے ذیادہ فائدہ ہوتا ہے اس قتل سے ۔
بظاہر اگر کسی مسلک کا اختلاف ہے یا انفرادی اختلافات ہیں اور وہ سب کے سامنے ہیں تو وہ آپس میں کبھی ایک دوسرے کو قتل نہین کریں لگے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلا الزام ان پر ہی آئے گا ۔ قاتل وہ ہوتا ہے جو قتل ہونے والے کا بھی دشمن ہو اور الزام لگنے والے کا بھی دشمن ہو اس مشترکہ دشمن کو دھرا فائدہ ہوتا ہے ۔ اور مسلمان الگ اپنے علماء سے متنفر ہوتے ہیں ۔ اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانے جو مسلمانوں میں پہلے دن سے اختلافات پیدا کررہے ہیں ۔ اور مسلمان ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے ، متحد ہوکر ان سے لڑیں ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,077
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ ایک یونیورسل اصول ہے کہ قاتل وہ نہیں ہوتا جس پر قتل کا پہلا شک جائے ۔ قاتل وہ ہوتا ہے جس کو سب سے ذیادہ فائدہ ہوتا ہے اس قتل سے ۔
بظاہر اگر کسی مسلک کا اختلاف ہے یا انفرادی اختلافات ہیں اور وہ سب کے سامنے ہیں تو وہ آپس میں کبھی ایک دوسرے کو قتل نہین کریں لگے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلا الزام ان پر ہی آئے گا ۔ قاتل وہ ہوتا ہے جو قتل ہونے والے کا بھی دشمن ہو اور الزام لگنے والے کا بھی دشمن ہو اس مشترکہ دشمن کو دھرا فائدہ ہوتا ہے ۔ اور مسلمان الگ اپنے علماء سے متنفر ہوتے ہیں ۔ اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانے جو مسلمانوں میں پہلے دن سے اختلافات پیدا کررہے ہیں ۔ اور مسلمان ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے ، متحد ہوکر ان سے لڑیں ۔ شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (13-03-10), ھارون اعظم (13-03-10) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
سحر بہن، میرا بھی یہی خیال ہے۔ کیونکہ جس طرح ہر واقعے کے بعد الزام تراشی شروع ہوجاتی ہے، اس سے اصل قاتل کے بے نقاب ہونے کی بجائے حالات مزید خراب ہوجاتے ہیں۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
((اختلافی مسائل پر بحث نہیں ہونی چاہیئے۔ ضرور ہونی چاہیئے))
میرے خیال میں پہلے امت کی سطح کے مسائل پر علماء کو توجہ دینی چاہیے اور اختلافی مسائل کو کفر اسلام کا مسئلہ بنانے گریز کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا المیہ آج یہی ہے کہ فروعی مسائل پر ہم فتوحات کے جھنڈے گاڑتے نظر آتے ہیں اور حقیقی مسائی انہی کی دھند میں دفن ہو کر رہ جاتے ہیں۔بقول اقبال حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ امت روایات میں کھو گئی |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (13-03-10) |
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (13-03-10), محمدمبشرعلی (26-04-10) |
![]() |
| Tags |
| کوشش, کراچی, پہلے, پیاروں, لوگ, ندیم, نظر, موقع, موجودہ, مقصد, ممکن, مسائل, مطابق, آج, اہمیت, الزام, اسلام, توجہ, حل, خبر, ختم نبوت, دل, عالمِ, عادی, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کوئی موسم تو ایسا ہو | سیپ | میری ڈائری | 1 | 26-01-11 01:53 AM |
| کیا اسلامی ملک کیلئے بھی ایسا ہوسکتا ہے | قاسم شاہ | خبریں | 2 | 19-12-10 02:21 PM |
| اب کے پھر کیسا یہ بہار کا موسم | The Great | شعر و شاعری | 0 | 27-09-09 02:10 PM |
| ایساہوسکتانہیں | محمد یاسرعلی | محمد یاسرعلی | 0 | 18-09-08 11:12 PM |
| قرار داد کے ذریعے جج بحال نہیں ہوسکتے ، ملک قیوم ، ہم ایسا کرینگے، وفاقی و | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 23-04-08 01:59 PM |