|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بچپن میں دہشت گردی سے زیادہ تخریب کاری کا لفظ سنتے آئے تھے۔ کہیں پر بم دھماکہ ہوتا، تو ذہن میں سوال پیدا ہوتا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنے ہاتھوں سے دوسرے انسانوں کی جان لیتے ہیں، اور وہ بھی بغیر کسی ظاہری وجہ کے؟ اکثر یہ سوال ذہن میں کھلبلاتا رہتا تھا۔ ایک بار اپنے اسکول ٹیچر سے پوچھا تھا، انہوں نے کہا تھا، کچھ لوگ صرف پیسے کی خاطر جیتے ہیں اور پیسے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ بہرحال میرا ذہن اس بات کو قبول ہی نہیں کرتا تھا کہ ایسے بھی لوگ ہوسکتے ہیں۔
اِکا دُکا واقعات تو ہوتے رہتے تھے دہشتگردی کے۔ ان واقعات کی ذمہ داری عموماً بھارتی ایجنسی را پر لگادی جاتی تھی، یا پھر نامعلوم دہشتگردوں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی تھی جو کہ کسی نامعلوم وقت میں نامعلوم مقام سے آکر اپنی کارروائی کرکے پھر نامعلوم مقام کو واپس چلے جاتے تھے۔ پولیس کی ایف آئی آر بھی فائلوں میں گل سڑ کر قصہ پارینہ بن جاتی تھی۔ پھر جب نائن الیون 9/11 کا واقعہ ہوا، تو اس کا نزلہ پاکستان پر ہی گرا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ حملہ آوروں میں سے کوئی پاکستانی نہیں تھا، نہ ہی پاکستان کی سرزمین اس حملے کے لئے استعمال کی گئی تھی۔ اس واقعے سے پاکستان میں دہشت گردی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔افغان طالبان کے بعد پاکستانی طالبان کی اصطلاح سامنے آگئی۔ جیسے جیسے افغانستان میں امریکی لڑائی شدت اختیار کررہی ہے، اس کا ردعمل پاکستان میں دہشتگردی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ پاکستان نے جس طرح امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی ، اس کی قیمت پاکستانی عوام اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی وجوہات پر پاکستانی معاشرے میں بہت اختلاف ہے، اور یہ اس وقت موضوع بحث بھی نہیں ہے۔ اس لئے ہم موضوع پر رہتے ہوئے دہشت گردی کے ان واقعات کے سدباب میں ہمارے کردار پر ہی بحث کریں گے۔ وجوہات پر کتنا بھی اختلاف ہو، یہ امر طے شدہ ہے کہ کسی بھی ردعمل میں معصوم انسانوں کی زندگی چھیننا ایک نہایت ہی غیر انسانی فعل ہے۔ 2004 کے بعد سے پاکستان میں خودکش حملوں کی صورت میں دہشت گردی کے واقعات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ پہلے ان حملوں کا نشانہ پاکستانی افواج اور پولیس کے اہلکار ہوتے تھے۔ پھر دھیرے دھیرے عام آدمی بھی ان حملوں کی زد میں آنے لگا، کیونکہ ان نام نہاد طالبان کی نظروں میں عام پاکستانی بھی اتنا ہی گناہ گار ہے جتنا کہ امریکی اور پاکستانی افواج۔ ٹی وی پر روزانہ خودکش حملوں کی خبریں دیکھ کر کسی بھی پاکستانی کا دل روتا ہے۔ دکھ میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب بندہ ملک سے باہر ہو، اور دوسرے لوگوں کے تبصرے سن کر زخموں پر نمک چھڑکتا ہے۔ ان حالات میں ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیئے؟ پاکستانی عوام کا کیا کردار ہونا چاہئیے؟ بولنا اور لکھنا تو آسان ہوتا ہے لیکن عمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں ایک معاشرے کے طور پر رہنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ آج کل تو شہروں میں یہ حالت ہے کہ ہر آدمی نفسانفسی میں مبتلا ہے۔ پڑوس میں اور محلے میں کیا ہورہا ہے، کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس کمزوری کا دہشت گردوں نے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اس کے سدباب کے لئے ہمیں اپنے آس پاس مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم کسی پر بلا وجہ شک کریں-البتہ بالکل آنکھیں بند کرنا بھی حالات خراب کرنے کے مترادف ہے۔ دوسرا کام یہ کرنا ہوگا کہ ہم سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں۔ اگر چیک پوسٹوں پر ہمیں دس، پندرہ منٹ رکنا پڑے تو مشتعل ہونے کی بجائے یہ سوچنا چاہیئے کہ یہ سب کچھ ہماری حفاظت کی خاطر ہو رہا ہے اور اس کام کے لئے دس، پندرہ منٹ دینا کوئی بری بات نہیں۔ میں نے پشاور اور راولپنڈی میں اس طرح کے ناکے اور چیک پوسٹس دیکھی، اور عموماً لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ان کا وقت ان ناکوں پر ضائع ہو۔ تعجب تو اس بات پہ ہے کہ اگر پولیس چیکنگ کرے تو بھی لوگ ناراض ہوتے ہیں اور اگر دھماکہ ہوجائے تو کہا جاتا ہے جی، پولیس کیا کررہی تھی؟ چیک کیوں نہیں کیا؟ تیسرا کام جو کہ حکومت کے کرنے کا ہے، یہ ہے کہ پولیس کی تربیت اور ان کی تنخواہوں پر نظر ثانی کی جائے۔ ہمارے جوان جس طرح اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عوام کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ یقیناً قابل فخر ہے۔ (کچھ واقعات ایسے بھی ہیں کہ پولیس نے ٹھیک کردار ادا نہیں کیا، لیکن ان کی وجہ سے پولیس کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ چوتھا کام، جو کہ میری نظر میں دہشت گردی کے خاتمے میں بہت اہم ہے، یہ ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے۔ اگر بھارت سے اتنی جنگوں کے بعد مذاکرات ہوسکتے ہیں تو شدت پسندوں کو بھی قومی دھارے میں لایا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ نیت درست ہو۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے گھر میں لےآئے ہیں۔ اس کا ہمیں جو صلہ مل رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اتنی قربانیوں کے بعد بھی ہم امریکہ کی نظروں میں مشکوک ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی پالیسیاں ترتیب دیں۔ ہم اس معاملے میں حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آخر میں سب سے اہم کام، جو کہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم سب اللٰہ سے اپنی گناہوں کی معافی مانگیں۔ یقیناً یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے کہ ہم پر روز نت نئے عذاب مسلط کئے جاتے ہیں۔ ہم اگر سچے دل سے توبہ کرکے اپنے ملک کے حالات کے ٹھیک ہونے کے لئے دعا کریں تو اللٰہ کی رحمت ضرور ہم پر مہربان ہوگی۔ پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغامِ سجود پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہوجائے گی شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | فیضان صديقی ,سندھ (13-02-10), منتظمین (12-02-10), ام طلحہ (15-02-10), راجہ اکرام (12-02-10), رضی (22-02-10), سحر (12-02-10), عارف اقبال (12-02-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,136
شکریہ: 1,882
725 مراسلہ میں 1,798 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہایت اچھی تحریر ہے۔
آپ کا شکریہ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا | فیضان صديقی ,سندھ (26-02-10), ھارون اعظم (12-02-10) |
|
|
#3 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 2
کمائي: 188
شکریہ: 0
2 مراسلہ میں 9 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم:
فورم پر یہ میرا پہلا ریسپانس ہے،کویئ غلطی ہو تو ظرور مطلع فرمائیں۔ میرے خیال میں توبہ کرنی چاہیے لیکن یہ زبانی نہیں عملی ہونی چاہے، اور حکومت کی توبی کم از کم یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ھی مسلمان بھائیوں کے قتل عام کے لیے جانے والی نیٹو کی سپلائی بند کرے،جو آج ھمارے ساتہ ہو رہا ہے وہ ہماری ہی وجہ سے 10 سال سے افغانی بھاییوں کے ساتہ بھی تو ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ھم خاموش رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرا سوچیں کہیں یہ اسی کی سزا نہ ہو۔۔۔۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے وقارایوبی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
وقار بھائی ٹھیک کہا آپ نے۔ توبہ زبانی نہیں عملی ہوتو تب ہی اچھا ہوگا۔ یہ تو ہمارے لئے شرم کا مقام ہے کہ ہمارے ملک سے ہو کر نیٹو کے لئے تیل سپلائی ہوتا ہے، جو پھر ہمارے مسلمان بھائیوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک خبر پڑھی تھی کہ ۔۔۔۔
سوات سے پاکستان کے دوسرے شہروں میں جانے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور گرفتار کر کے یا تو دہشت گرد طاہر کیا جاتا ہے یا بھاری رشوت کے عوض چھوڑ دیا جاتا ہے ۔۔۔ جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ کافی پریشان ہیں اور یہ کام سیکیورٹی ادارے ہی کرتے ہیں ۔۔ اقتباس:
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (12-02-10), راجہ اکرام (12-02-10) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ارحم بہن یہ ضرور ہے کہ سیکیورٹی اداروں میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو کہ جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں۔ سوات کے حوالے سے تو ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، جس میں فوج کے اہلکار ایک مقامی فرد کو بری طرح مار رہے تھے۔ میں نے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کی بات اس لئے کی کہ یہ لوگ پالیسی نہیں بناتے۔ ان کو جو حکم ملتا ہے اس کی پابندی کرتے ہیں۔ ہم اگر ان سے نفرت کریںگے تو معاشرے میں مزید افراتفری پھیلے گی۔ ہمیں مسئلے کے حل کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔ غلط پالیسیوں کی سزا ہم اپنے فوجی جوانوں کو نہیں دے سکتے۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (13-02-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,386
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہترین تحریر ہے بھائی!! اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
اللہ ہمارے ملپک پر اپنا خاص کرم کر دے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (15-02-10) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,386
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہترین تحریر ہے بھائی!! اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
اللہ ہمارے ملک پر اپنا خاص کرم کر دے۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ہر طرف شور ہے دہشت گردی کا،لیکن صاحبو اس کی تعریف پر تو متفق ہو جائو ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے تعریف متعین فرما لیں۔پھر اظھار خیال بھی کریں گے تو ((ہر کسی کے اپنے ذہن کے مطابق))والا معاملہ ختم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کوئی مجھے بتائے گا کہ دھشت گردی کی کیا تعریف ہے۔۔۔۔۔اور ہاں پھر اس تعریف پر جو بھی پورا اترے گا وہ دہشت گرد ہو گا۔۔۔۔۔ بسم اللہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | فیضان صديقی ,سندھ (26-02-10), رضی (22-02-10) |
![]() |
| Tags |
| 9/11, color, کوشش, پولیس, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, قصہ, لوگ, آج, آدمی, امریکہ, بچپن, توحید, خودکش, خلاف, دھماکہ, دل, دعا, روتا, زندگی, طالبان, عذاب, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار | جاویداسد | خبریں | 1 | 24-10-10 06:52 AM |
| وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان | ابن جلال | خبریں | 2 | 19-09-08 12:51 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 09:45 PM |
| نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 10-12-07 09:36 AM |
| بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس | پاکستانی | خبریں | 0 | 15-09-07 03:57 PM |