|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ٹارگٹ کیا تھا؟
کراچی میں ایک گھر میں دھماکہ میں چھ شدت پسندوں کی ہلاکت اور خودکش جیکٹیں برآمد ہونے کے بعد پولیس اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کا ہدف کیا تھا۔ مرکزی شہر سے دور بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر آٹھ کی نئی آبادی والے علاقے میں یہ گھر واقع ہے، جس کے برابر میں جامع مسجد بابری اور ایک مدرسہ بھی موجود ہے، جو جامعہ بنوریہ کے مہتم مولانا یوسف لدہیانوی کی یاد میں بنایا گیا ہے۔ پولیس نے ملبے سے چھ لاشوں سمیت دو خودکش جیکٹیں، چھبیس سے زائد دستی بم، تین کلاشنکوف، اٹھائیس میگزین اور تیرہ کارٹن برآمد کیے ہیں، ان کارٹن میں گوشت کا تیار سالن ڈبوں میں موجود ہے۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد نے جاگرز پہن رکھے تھے جب کہ ایک ملزم کے ہاتھوں پر کالے رنگ کے دستانے موجود تھے جبکہ ملبے سے ایک برقعہ بھی ملا ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا خیال ہے کہ ملزمان کوئی بڑی کارروائی کرنا چاہتے تھے ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ٹن فوڈ ملا ہے اس سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہدف پر جانے کے بعد ان کا وہاں کافی دیر رہنے کا ارادہ تھا۔ ماضی میں راولپنڈی میں بھی ایک ایسی نوعیت کی واردات ہوئی جس میں تخریب کار دو روز وہاں موجود رہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ اور دیگر تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش جیکٹ پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا ہے، کیونکہ دیواروں پر بال بیئرنگ کے نشانات موجود ہیں اور دو ملزمان کے جسم دو حصوں میں بٹ گئے۔ پولیس نے ملبے سے مذہبی کتابیں، سی ڈیز اور کچھ بیگز بھی برآمد کیے ہیں جبکہ کالعدم لشکر جھنگوی کے کچھ سٹیکر اور جہادی مواد بھی ملا ہے۔ جائے وقوع سے دس منٹ کے پیدل فاصلے پر پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد واقع ہے۔ پولیس نے دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایاز کے بڑے بھائی ریاض، بہن، بھابی اور دیگر کچھ عزیزوں کو حراست میں لیا ہے، جن کا تعلق سوات سے بتایا گیا ہے۔ زیر حراست افراد نے پولیس کو بتایا ہے کہ ایاز کے پاس رات کو دوست آئے تھے، صبح کو دھماکہ ہواہے وہ رات کو وہ تلاوت کرتے رہے، پولیس نے ان تین موٹر سائیکلوں کو بھی قبضے میں لیا ہے جن پر سوار ہو کر وہ آئے تھے۔ ہلاک ہونے والے پانچ شدت پسندوں کی نہ تو پولیس نے اور نہ ہی ایاز کے رشتے داروں نے شناخت کی ہے، ایاز کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ آٹھویں جماعت پاس تھا اور گارمنٹس کا کام کیا کرتا تھا۔ ایاز نےمقامی مسجد کے پیش امام کی مدد سے تین ماہ قبل دو کمروں کا یہ مکان تین ہزار روپے ماہانہ کرائے پر لیا تھا۔ اس گھر کے برابر میں ایک پولیس اہلکار کا گھر بھی واقع ہے۔ جائے وقوع سے کچھ فاصلے پر واقع کالونی میں ستمبر دو ہزار آٹھ میں بھی ایک گھر اس وقت دھماکے سے منہدم ہوگیا تھا جب پولیس نے اس کا محاصرہ کیا تھا۔ اس دھماکہ میں تین مبینہ شدت پسند اور ایک مغوی شوکت آفریدی ہلاک ہوگئے تھے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر اداروں کی توجہ کا مرکز شہر کا وسطی علاقہ ہے جبکہ نئی آبادیوں میں غیر مقامی لوگ آسانی سے شامل ہوجاتے ہیں اور کوئی ان کی سرگرمیوں کا نوٹس بھی نہیں لیتا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوتا, کوشش, گھر, پولیس, وقت, لوگ, مسجد, آبادی, احمد, بھائی, توجہ, تلاش, جواب, جانے, خودکش, دھماکہ, دوست, رات, رشتے, شہر, شناخت, طالبان, علاقہ, علاقے, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جو بھی تھا کیا تھوڑا تھا ؟ | طاھر | دیس ہوئے پردیس | 22 | 26-08-10 03:03 AM |
| ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا | محمدعمر | شعر و شاعری | 2 | 14-11-09 10:35 AM |
| ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 27-08-09 12:25 PM |
| وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا | Ashfaq Ahmed | شعر و شاعری | 0 | 22-09-07 07:21 PM |