واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




طالبان کی جنگ اور مذہبی قائدین کا کردار ,,,,جرگہ…سلیم صافی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-10, 03:58 PM  
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default طالبان کی جنگ اور مذہبی قائدین کا کردار ,,,,جرگہ…سلیم صافی

اس دور کے اخبارات بھی گواہ ہیں اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1979ء کے انتخابات میں حسب خواہش کامیابی نہ ملنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان میں بھی طالبان طرز کی حکومت نافذ کریں گے ۔ بل کلنٹن کے دور میں طالبان کے خلاف کروز میزائل حملے کے بعد احتجاجی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اعلان کیا کرتے تھے ‘ کہ اگر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ اور ان کے ساتھی امریکی بحری بیڑے کو بحیرہ عرب میں ڈبودیں گے ۔ اب جبکہ نہ صرف وہ بیڑہ سالوں سے بحیرہ عرب میں موجود ہے بلکہ پورے افغانستان پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ پاکستان میں بھی من مانیاں کررہا ہے تو میں نے جاننے کی کوشش کی کہ مولانا کس طرح امریکہ کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ وہ چونکہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے چیرمین کی حیثیت سے پاکستان کی امریکہ نواز خارجہ پالیسی کے نوک پلک سنوارنے میں مصروف ہیں ‘ اس لئے میں نے سوچا کہ شاید امریکی بحری بیڑے کو ڈبونے اور فغانستان کو امریکہ کا قبرستان بنانے کے مسلح جہاد میں انہوں نے اپنے جگرگوشوں کو لگایا ہوگا لیکن تحقیق کے نتیجے میں مجھے یہ جان کر شدید مایوسی ہوئی کہ ان کے صاحبزادوں سے کوئی ایک بھی افغانستان یا وزیرستان کے پہاڑوں میں مورچہ زن نہیں ۔
الحمد للہ مولانا فضل الرحمان تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں ۔ ان کے ایک بیٹے اسد محمود خیرالمدارس ملتان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے ۔ دوسرے بیٹے انس محمود ڈی آئی خان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ تیسرے بیٹے اسجد محمود حفظ قرآن میں مگن ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی فدائی بنا ہے ‘ نہ افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف مصروف عمل ہے ‘ نہ کشمیر کی آزادی کے لئے سرگرم ہے اور نہ جنوبی یا شمالی وزیرستان میں مورچہ زن ہے۔
اسی طرح نوے کے عشرے کے آخرمیں جب امریکہ نے افغانستان پر کروز میزائلوں کا حملہ کیا تو مولانا سمیع الحق نے ”دفاع افغانستان کونسل“ کے نام سے ایک تنظیم قائم کردی ۔ اس تنظیم کا مقصد افغانستان میں طالبان حکومت کا دفاع کرنا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی آکر بیٹھ گیا ہے اور ملامحمدعمر مجاہد جنہیں مولانا اپنے شاگرد قرار دیتے تھے ‘ اپنے ساتھیوں سمیت اس کے خلاف مصروف عمل ہیں ۔ مولانا تو شاید اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ خود بندوق یا توپ نہیں چلاسکتے ‘ اس لئے میرا خیال تھا کہ ان کے تمام بیٹے یا ان میں سے بعض افغانستان میں مورچہ زن ہوں گے لیکن تحقیق سے مجھے یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ طالبان کے استاد کے صاحبزادوں میں سے کوئی بھی دفاع افغانستان یا دفاع پاکستان کی جنگ میں مگن نہیں ۔ الحمد للہ مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی ہیں ۔ایک بیوی الحمداللہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہے ۔ مولانا حامد الحق حقانی نے جامعہ حقانیہ سے تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے ۔ گزشتہ اسمبلی میں وہ ایم ایم اے کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اس وقت اپنے والد کے متوقع جانشین کی حیثیت سے سیاست کررہے ہیں ۔دوسرے بیٹے ارشاد الحق حقانی عالم دین اور حافظ قرآن ہیں ۔ وہ ماہنامہ ”الحق“ کے مدیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دارلعلوم میں درس و تدریس کا فریضہ بھی سرانجام دے رہے ہیں ۔دوسری بیوی سے بھی اللہ نے مولانا سمیع الحق کو دو بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کی ہیں لیکن وہ سب ابھی کمسن ہیں البتہ مولانا ان میں سے کسی ایک کو بھی فدائی بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔
جہاد اور امریکہ دشمنی کے ایک اور علم بردار صاحبزادہ فضل کریم کوجب میں نے ملکی سیاست میں مصروف عمل پایا تو سوچا کہ شاید انہوں نے اس مقدس فریضے کی ادائیگی پر اپنے صاحبزادوں کو لگارکھا ہوگا لیکن تحقیق سے وہ بھی کسی اور میدان کے شہسوار نکلے ۔ ان کے ایک بیٹے حامد رضا نے ایم اے اسلامیات‘ ایم بی اے اور لندن کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے اور ان دنوں بزنس کی پلاننگ کررہے ہیں ۔ دوسرے بیٹے محمد حسن رضا لاہور کے ایک کالج میں زیرتعلیم ہیں ۔ تیسرے بیٹے محمد حسین رضا دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جی سی یونیورسٹی سے دنیوی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ چوتھے بیٹے محمد محسن رضا بھی الحمداللہ کالج کے طالب علم ہیں ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اس خطے میں جہادی سوچ کی بنیاد جماعت اسلامی نے رکھی ۔ وہ نہ صرف افغان جہاد میں ہزاروں نوجوانوں کو لڑواچکی بلکہ کشمیر کے جہاد میں بھی اس تنظیم کی زیرسرپرستی سینکڑوں نوجوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء اور پاکستان سے اس کے اثرورسوخ کے لئے سب سے زیادہ بے چین یہی جماعت نظرآتی ہے۔اس جماعت کے امیر سید منورحسن نہ صرف افغان طالبان بلکہ گاہے بگاہے پاکستانی طالبان کی بھی ستائش کرلیتے ہیں ۔ سوچا کہ وہ چونکہ پاکستان میں جہاد کے لئے رائے عامہ بنارہے ہیں ‘ اس لئے شاید اپنی اولاد میں سے کسی کو محاذ پر بھیجا ہوگا لیکن یہاں بھی تحقیق کے نتیجے میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہ ایک بیٹی اورایک بیٹے کے والد ہیں ۔ دونوں ماشاء اللہ کراچی میں معمول کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان کے بیٹے طلحہ نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری لی ہے اور اس وقت پراپرٹی اور آئی ٹی کے کاروبار میں مگن ہیں ۔
جماعت اسلامی کی صفوں میں موازنہ کیا جائے تو جہادی سوچ کو ابھارنے والوں میں محترم قاضی حسین احمد سرفہرست ہیں۔ اپنی ان خدمات کا ان دنوں وہ اپنے مضامین میں بھی بڑے فخر سے تذکرہ کرتے رہتے ہیں ۔ الحمدللہ عمر کے اس حصے میں بھی ان کا جذبہ جوان ہے اور اب بھی خوب امریکہ کے خلاف جذبات کوبھڑکارہے ہیں ۔ خیال تھا کہ وہ چونکہ سید منورحسن کے ساتھ ان کا بوجھ کم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اس لئے شاید اپنے بیٹوں کو جہاد کے لئے وقف کیا ہوگا لیکن ان کے بڑے صاحبزادے اور ہمارے محترم دوست آصف لقمان قاضی امریکہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار میں مصروف ہیں جبکہ دوسری بیٹے ڈاکٹر انس قاضی پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پرائیویٹ پریکٹس کے ساتھ ساتھ پشاور میں صحت کے شعبے میں کاروبار کررہے ہیں ۔ہم سب جانتے ہیں کہ جہاد و قتال کے ایک اور داعی پروفیسر ساجد میر ان دنوں میاں نواز شریف کی سیاست کے لئے شرعی جواز تلاش کرنے میں مگن ہیں ‘ اس لئے خیال یہ تھا کہ جہاد و قتال کے میدان میں انہوں نے اپنے صاحبزادوں کو لگارکھا ہوگا لیکن یہاں بھی تحقیق کے نتیجے میں مایوسی ہوئی ۔ ان کے بیٹے احمد میر نے نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد سرحد یونیورسٹی پشاور سے ڈگری لی اور اس وقت سیالکوٹ میں گڈز فارورڈنگ کا کاروبار کررہے ہیں ۔ دوسرے بیٹے عاقب میر نے بھی نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد الخیریونیورسٹی لاہور سے ایم سی ایس کیا اور اس وقت کینیڈا کی ایک کمپنی سے وابستہ ہیں ۔
رہے وہ ریٹائرڈ جرنیل صاحبان جو اس خطے میں جہادی کلچر کے فروغ کے دعویدار اور ذمہ دار ہیں اور جو اب بھی میڈیا میں اپنے آپ کو زندہ رکھنے کیلئے ہمہ وقت طالبان کی حمایت میں رطب السان رہتے ہیں ‘ تو طالبان کے جہاد میں ان کے اور ان کے بچوں کی شرکت سے تو ایک دنیا واقف ہے ۔ کوئی اربوں میں کھیل رہا ہے ‘ کوئی کروڑوں سے دل بہلا رہا ہے ۔ کوئی پیسے کے زور سے سیاست میں اپنی سلطنت قائم کرچکا ہے تو کوئی کاروبار میں اپنی سلطنت کے قیام میں مگن ہے ۔ جس راستے پر دوسروں کے بچوں کولگارکھا ہے ‘ اس پر شرمندہ بھی نہیں لیکن خود یا اپنے بچوں کو اس راستے پرلگانے سے بھی گریزاں ہیں۔بڑے مزے سے اسلام آباد اور لاہور کے بنگلوں میں بیٹھ کر فائیوسٹارہوٹلوں میں منعقدہ سیمنیاروں سے خطاب کرتے ہوئے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اب امریکہ کی شکست کے تمغے بھی اپنے سینوں پر سجانا چاہتے ہیں۔ پاکستانی طالبان کے ایک رہنما سے کسی نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو دوسروں کے سپرد کردہ لاش کو کاندھا دیئے ہوئے ہیں ۔ تفصیل انہوں نے یوں بیان کی کہ کسی گاؤں میں چار اجنبی ‘ ایک اجنبی کی لاش اٹھائے قبرستان کی طرف جارہے تھے ۔ گاؤں کے لوگوں نے انہیں دیکھا تو اجنبیوں نے ان سے کہا کہ وہ ایک عظیم دینی بزرگ کی لاش کو دفنانے جارہے ہیں۔ چنانچہ گاؤ ں کے سادہ لوگ بھی میت کے ساتھ قبرستان کی طرف چل دئے اور آگے بڑھ کرثواب کی خاطر لاش کو کاندھا دینے لگے۔ پہلا بندہ آگے بڑھا تو ایک اجنبی اپنے کاندھے کو فارغ پاکر خاموشی سے کھسک گیا۔ پھر جب گاؤں کا دوسرا بندہ ‘ دوسرے اجنبی کی جگہ لینے کیلئے آگے بڑھا تو وہ بھی غائب ہوگیا۔ یہی عمل تیسرے اور پھر چوتھے اجنبی نے دھرایا۔لاش قبرستان پہنچی تو اس کے چاروں وارث غائب تھے اور دینی جذبہ کے تحت اس کو کاندھا دینے والے گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ اب اس لاش کو کیا کریں۔ اس کو کہاں دفنائیں اور کیا نام دے کر دفنائیں؟
یہ قصہ سنا کر پاکستانی طالبان کے لیڈر نے کہا کہ ہم نے تو اس گاؤں کے مکینوں کی طرح اسلامی جذبہ کے تحت اس لاش کو کاندھا دیا ۔ یہ لاش تو قاضی حسین احمد ‘ مولانا فضل الرحمان ‘ مولانا سمیع الحق ‘ پروفیسر ساجد میر ‘ جنرل اخترعبدالرحمان ‘ جنرل حمید گل اور اسی نوع کے دیگر لوگوں نے اٹھارکھی تھی۔ ہم نے ان کی پکار پر دینی جذبے کے تحت لبیک کہتے ہوئے اس کو کاندھا دیا لیکن پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سب غائب تھے اور لاش ہمارے گلے پڑ گئی ۔
معزز قارئین: اب کیا یہ مذکورہ شخصیات اور ان کے جانشینوں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنی اس مبارک لاش کو کاندھا دیں یا پھر میدان میں آکر لاش اٹھانے والوں سے واضح الفاظ میں کہہ دیں کہ اس لاش کو کاندھا دینے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے ‘ اس لئے گاؤں کے لوگ بھی اسے اسی طرح چھوڑ دیں جس طرح کہ وہ چھوڑ چکے ہیں؟تماشہ یہ ہے کہ وہ اب بھی آواز یہی لگارہے ہیں کہ یہ ایک عظیم مذہبی ہستی کی لاش ہے اور اسے کاندھا دینا دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہے ‘ لیکن خود لاش کو کاندھا دینے جارہے ہیں ‘ نہ اپنے بچوں سے یہ نیک کام کروانا چاہتے ہیں اور نہ ان کو منع کرنا یا سمجھانا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی تلقین پر یہ لاش اپنے گلے باندھ لی ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-01-10), نورالدین (04-03-10), حیدر (06-03-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10), طاھر (09-01-10), عبداللہ حیدر (09-01-10), غیاث (12-12-10)
پرانا 08-03-10, 12:17 AM   #31
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

9/11 میں امریکہ کا ساتھ:
اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ آیا کہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دے کر اخلاقی، اسلامی یا قانونی طور پر کس کردار کا مظاہرہ کیا ، آئیے اسکو دیکھ لیں کہ اسکے کیا نتائج برآمد ہوئے ہوں گے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ افغانوں کی رشتے داریاں پاکستانی پٹھانوں میں موجود تھیں اور پھر افغان جنگ نے ان تعلقات میں مزید وسعت دی۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان پاکستان میں مقیم ہوئے اور ایک ایسی انوکھی مواخات قائم کرنے کی کوشش کی گئی جس کے کوئی اصول و ضوابط موجود نہ تھے۔جہادی کلچر کو عام کرنے کی غرض سے جو مجاہدین دیگر ممالک سے در آمد کیے گئے تھے انکو نہ صرف یہاں رہنے بلکہ یہاں شادیاں کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔جہادیوں نے جن میں ازبک، تاجک وغیرہ موجود تھے انہوں نے بہت بڑی تعداد میں یہاں شادیاں کیں اور یہیں بس گئے۔
امریکہ کے افغانستان پر حملوں کے تاثر کو جتنا مرضی کم کرنے کی کوشش کر لی جائے لیکن ایک ماہ تک جاری رہنے والی کارپٹ بمباری نے اگر لاکھوں نہیں تو بلا مبالغہ ہزار ہا افغانوں کی زندگیوں کے چراغ گُل کر دیے۔
اس کے مندرجہ ذیل اثرات ممکن ہو سکتے ہیں
1:طالبان کو ناپسند کرنے والوں نے نئی انتظامیہ کو پسند کیا
2:روایی قبائل اور اسلام پسند طبقے نے اس جارحیت کو اسلام کے خلاف کاروائی سمجھا اور مناسب وقت کا انتظار کرنے لگے۔
3:امریکی مخالف طبقے کی غالب اکثریت میں پاکستان کے خلاف ناپسندیدگی کا عنصر پیدا ہوا۔
4:انہی عناصر کے جو حامی پاکستان میں موجود تھے ان لوگوں نے بھی اس نئے معرکے کو لبیک کہا اور امریکی و انکے اتحادیوں سے پنجہ آزمائی کی تیاریاں کرنے لگے۔(کیونکہ 1980 کی دہائی میں انکی تربیت تو اسی نہج پر کی گئی تھی)
ایک تو غیر ملکی صلیبی حملہ اور دوسرا افغانوں کی صدیوں کی روایات نے افغانوں کو مجبور کر دیا صلیبی افواج کے خلاف جدو جہد کا آغاز کرنے پر۔
طالبان دوبارہ عروج کی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں:
آغاز کار میں یہ جدو جہد بہت کمزور تھی کیونکہ ایک ماہ تک جاری رہنے والی کارپٹ بمباری نے طالبان کے جسموں تک کو ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ جو باقی بچ گئے وہ پہاڑوں میں روپوش ہو گئے۔طالبان کی چند ناروا سختیوں سے تنگ ائے لوگوں نے امریکی آمد کو خوش آمدید کہا اور خوشی کے شادیانے بجائے۔تاہم افغانستان کے وار لارڈز نے اپنی وہی حرکتیں شروع کر دیں جو انکا وطیرہ تھیں۔ گھروں کو اجاڑنا، بھتہ خوری، عزتیں لوٹ لینا،قتل و غارت کا بازار دوبارہ سے گرم ہونا شروع ہو گیا۔ چونکہ امریکی افواج انہی وار لارڈز کی مدد سے یہاں آئیں تھیں تو انہوں نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔افغانوں کی خوش فہمیاں ان امریکنز سے کم ہونے لگیں اور لوگ دوبارہ سے طالبان کو یاد کرنے لگے کہ جن کے دور میں کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کسی کی طرف نظر اٹھانے کی۔ مجھے علاقہ یاد نہیں تاہم یہ افغانستان پر قمضے کے کافی عرصہ بعد کی بات ہے کہ جب انہی وار لارڈز میں سے کسی نے ایک گاؤں پر حملہ کیا اور اور اپنی وحشت کا بازار گرم کیا کہ چند طالبان کی منظم ہو کر ان پر حملہ کر دیا۔ ظالم آدمی ہمیشہ بزدل ہوتا ہے چناچہ وار لارڈز حواس باختہ ہو کر فرار ہو گئے۔ گاؤں کے لوگوں نے طالبان زندہ باد کے نعرے لگائے اور یہ طالبانی تحریک کا دوبارہ آغاز تھا۔ امریکنز ان وار لارڈز کی مدد کو آئے اور طالبان پر حملہ کیا۔ باوجود اس کے کہ طالبان کو اس معرکے میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ایک بہت بڑے علاقے کے لوگوں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ آج بھی انکے محافظ ہیں۔ اس کے بعد طالبانی تحریک گلی کوچوں میں پھیلتی چلی گئی۔ امریکی مظالم میں اضافہ ہوتا گیا ۔لوگوں کو ان سے نفرتیں بڑہتی گئیں اور آہستہ آہستہ طالبان دوبارہ سے افغانستان کے کے بیشتر حصوں پر قابض ہو گئے اور امریکی نواز کٹھ پتلی انتظامیہ محض کابل کمپاؤنڈ کی انتظامیہ بن کر رہ گئی۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (08-03-10)
پرانا 08-03-10, 12:17 AM   #32
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Dulicate posting deleted
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-03-10, 12:25 AM   #33
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ منتظمین بھائی اور راجہ اکرام بھائی۔ دعا کیجیے گا میرے لیے
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-03-10, 11:54 PM   #34
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,693
شکریہ: 22,614
4,760 مراسلہ میں 13,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ما شاءاللہ آپکی باتیں زبردست ہیں۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 10-03-10, 08:44 PM   #35
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1
کمائي: 131
شکریہ: 0
1 مراسلہ میں 1 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان زندہ باد
قاضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
قاضی کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (10-03-10)
پرانا 14-03-10, 02:42 AM   #36
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان میں دہشت گردی:
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ہمیں سہ جہتی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ہم اس سلسلے میں تب تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہم اس سلسلے کو نئے زاویہ نظر سے دیکھنے کے لیے تیار نہ ہو جائیں۔زاویہ نظر کی تبدیلی کے بغیر ہمارا معاملہ کچھ یوں ہو گا جیسے ہم لاہور میں کوئی گھر۔ ۔ ۔ کراچی کا نقشہ لے کر تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
پاکستان میں دہشت کردی کو ہم تین جہتوں میں تقسیم کر سکتے ہیں
بیرونی دہشت گردی
اندرونی دہشت گردی
پاکستانی سٹیٹ و نان سٹیٹ ایکٹرز کا کردار (اسٹیبلشمنٹ)
1:بیرونی دہشت گردی
2005 ایک نئی سرد جنگ کے اغاز کا سال رہا۔ اس بار اس جنگ کے متقابلین میں پہلا فریق جو بھی ہو دوسرا فریق چین ہیں۔ اور اس جنگ کا فیصلہ پاکستان اور افغانستان میں ہونے طے پایا ہے۔ پہلے فریق کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے راستے چین کے بڑھتے اثر و نفوذ کو روکنے کی کوشش کرے۔چین کا وہی اثر و نفوذ جو گوادر پورٹ کے پر امن طور پر آپریشنل ہونے کی صورت میں پوری دنیا کو اپنے اقتصادی جال میں لے لے گا۔ جبکہ چین کی خواہش پر امن طور پر دنیا کا غیر متنازعہ لیڈر بننے کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس سال پاکستان میں چین کی مدد سے گوادر پورٹ کی سنگ بنیاد رکھی گئی اسی سال سے پاکستان کا صوبہ بلوچستان اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔اس وقت پاکستان کی وہی بیلٹ انتہائی خونریزی کا شکار ہے جہاں سے در حقیقت چین کے لیے مجوزہ راستہ گزرنا تھا۔
چناچہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کے سابقہ زخم خوردہ دشمن بھی میدان میں کود پڑتے ہیں اور ہندوستان اور روس کی مداخلت اس علاقے میں نا ممکنات میں سے نہیں۔ ایسے شواہد قطعی طور پر موجود ہیں جو چلا چلا کر ان فسادات میں بھارت ہاتھ کا اشارہ کر رہے ہیں۔ روس بھی اپنی افغان ہزیمت کا بدلہ لینا ضرور چاہے گا۔

اندرونی دہشت گردی:
پاکستان کے بیرونی دشمنوں نے اس بار پاکستان پر وہی ہتھیار آزمایا ہے جو کبھی پاکستان نے افغانستان میں استعمال کر کے پھینک دیا تھا۔ یعنی "جہاد"۔پاکستان کی طرف سے امریکی حمایت، اس کے نتیجے میں کم و بیش لاکھوں افراد کا قتل اور پھر اسکی وجہ سے پایا جانے والا غم و غصہ وہ بہترین Catalystتھے جو پاکستان میں جہاد کا آغاز کر سکتے تھے اور پاکستان کو ناکوں چنے چبوا سکتے تھے۔چناچہ پاکستان میں مولوی پلانٹ کیے گئے جنہوں نے افغان جہاد کا سہارا لے کر دھیمے لفظوں میں جہادیوں کو پرانے سبق کی یاد دلانا شروع کیا۔ ایک طرف امریکہ کے پیدا کردہ حالات اور دوسرے طرف پاکستانی حکومت کا حد درجہ غلامانہ رویہ لوگوں کے دلوں میں نفرت کی چنگاری کو مہمیز کرتا گیا۔ جلد ہی وہ وقت آ گیا کہ پاکستان میں اسلامی حکومت اور اسلامی نظام کے نعرے لگنے لگے۔پاکستان کے قبائلی علاقے پہلے ہی قاتلوں،ڈاکؤؤں اور سمگلروں کی آماجگاہ تھے، انہوں نے حالات کے مطابق پینترا بدلا اور اسلامی چولا پہن لیا۔ اب کسی مناسب واقعے کا انتظار تھا ۔اور پھر وہ واقعہ ہو جاتا ہے ۔امریکی میزائل سے 80 سے زائد معصوم بچے مارے جاتے ہیں۔ پاکستانی حکومت فدویانہ انداز میں ذمہ داری لے لیتی ہے۔ چونکہ ذہنوں کی آبیاری پہلے ہی کی جا چُکی ہوتی ہے تو لاوا ابلنے کو نزدیک ہوتا ہے ۔اس واقعے کی وجہ سے وہ اپنے مستقر سے بہہ نکلتا ہے اور اس کا رُخ کمال چابک دستی سے پاکستانی افواج کی طرف موڑ دیا جااتا ہے۔ اب مقابلہ انکے درمیان ہونا ہوتا ہے جو ماضی میں اتحادی تھے۔ایک طرف استاد اور دوسرے طرف شاگرد۔ کوئی بھی جیتے ۔ ۔ ۔ فتح در حقیقت بیرونی مداخلت کنندگان کی ہونی ہے۔

پاکستانی سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز:
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کردار خآصا مشکوک رہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والا دوسرا خود کش حملہ جو کہ فرانسیسی انجینرز پر ہوا تھا اور القاعدہ پر الزام ڈالا گیا تھا ، آج بھی شکوک کی دبیز تہہ میں ہے۔اس کے تانے بانے کرپٹ پاکستانی حکمرانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ القاعدہ سے ماخؤذ دو مرکزی ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔
مشرف پر قاتلانہ خود کش حملہ میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو پچھلے دنوں بری کر دیا گیا۔
اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ مشرف نے کئی حساس قبائلی علاقوں میں امریکی افواج کو جگہ دینے سے بچنے کے لیے طالبان نامی شوشا کھڑا کیا تھا۔ اس بات کے بھی واضح اشارے موجود ہیں کہ مشرف دور میں اسلحے کے ٹرک پکڑے جاتے تھے اور پھر کسی خفیہ حکم پر چھوڑ دئیے جاتے تھے۔
چناچہ اگر ہم اس قسم کی درجنوں خبروں کا تجزیہ کریں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے اپنے چند مقاصد کے حصول کے لیے طالبانی گروہ کا پودا لگایا تھا جو انڈین مولویوں کے ہتھے چڑھ کر ایک عفریت بن چُکا ہے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کئی خود کش حملے چند طاقتور لوگ اپنے مقاصد کے حصؤل کے لیے بھی کرواتے ہیں۔
مجھے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستانی افواج نے اس اغوا شدہ طالبانی ادارے کو کچلنے کے لیے جو کوششیں کیں انکے اکثر جگہ پر منفی نتائج پیدا ہوئے۔ مشکوک جان کر جن بے گناہ افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے کیا ان کے دلوں میں نفرتوں کے طوفان نہیں ابل پرتے ہوں گے؟
چناچہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا پودا خود پاکستان نے لگایا تھا اور اور اب خود ہی اس کے کانٹوں میں لہو لہان ہو رہا ہے

خلاصہ:
پاکستانی بیوقوف اسٹیبلشمنٹ نے چند مقاصد کے حصؤل کے لیے طالبانی گروہ کا پودا لگایا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی مولوی بھی زہنوں کی آبیاری کر رہے تھے۔چناچہ حالات و واقعات کی وجہ سے کچھ ہی عرصے میں بھارتی پے رولڈ مولوی نوجوانوں کی اتنی بڑی کھیپ تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو پاکستانی افواج کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں ۔ یہ بعینہ ایسے ہی ہے جیسے پاکستان نے کشمیر اور افغانستان میں کیا تھا۔
پاکستانی افواج ان کے خلاف آپریشن کرتی ہیں۔ اپریشن میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کو عوام الناس حسب عادت بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہے جو کہ ایک Catalystکا کام کرتا ہے اور ان علاقوں میں افواج سے نفرت کرنے والوں کی خآصہ معقول تعداد پیدا ہو جاتی ہے جو پاکستان کو امریکی حلیف جان کر اس کے خلاف جدو جہد کو جہاد اکبر متصور کرتے ہیں۔پاکستانی اداروں کا ظلم و ستم اس عمل کو مہمیز کرتا ہے۔ان علاقوں کو میدان جنگ بنانے کا مقصد چین کا گھیراؤ کرنا اور پاکستان کو ماضی کا سبق دلانا بھی ہو سکتا ہے۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-03-10, 02:52 AM   #37
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مذہبی قائدین کا کردار:
اس مسئلے کا حل سیاسی قائدین کے پاس جتنا تھا اتنا ہئ مزہبی قائدین کے پاس بھی تھا۔ ان علاقوں میں موجود دو طاقتور تنطیمیں جماعت اسلامی اور جے یو آئی تھیں۔ ان دونوں نے منافقانہ کردار کا مظاہرہ کیا۔جے یو ائی کا کردار تو خیر ماضی میں بھی محض حکومت پرستانہ رہا ہے تاہم جماعت اسلامی کا کردار بھی خآصا مایوس کر دینے والا رہا۔ جماعت کوئی واضح حکمت عملی نہ اپنا سکی۔اس کے قائدین ہر جگہ متضاد بیانات دیتے رہے۔ کبھی طالبان کو مجرموں کا ٹولہ کہا گیا تو کبھی طالبان کی جدو جہد اور اپنی جدو جہد کو متماثل قرار دیا گیا (شاید منور حسن صاحب کو سید مودودی کا فلسفہ بھول چُکا ہے۔انکو ریفریشر کورس کی اشد ضرورت ہے)۔ ان دونوں جماعتوں کی وجہ سے عوام کا اعتبار مذہبی قاعدین سے اٹھتا چلا گیا۔جے یو آئی کا ووٹ بینک چونکہ "صم بکم عم" والے طبقے میں سے ہے اس لیے وہ جو چاہے مرضی کرتے پھریں انکی سیٹیں پکی ہوتی ہیں لیکن جماعت اسلامی کو اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہپے جو اس نے حالیہ ضمنی انتخابات میں بھگت بھی لیا ہے۔لیکن امید ہے اب بھی انکو عقل نہیں آئی ہوگی اور اب بھی یہ عوام کو ہی کوس رہے ہوں گی ۔
جماعت اسلامی والوں کے لیے میرا محض ایک ہی مشورہ ہے کہ اپنی جماعت کے تمام بزرگوں کو اللہ اللہ کرنے کے لیے گھر بٹھا دیں اور نوجوانوں کو آگے آنے دیں۔ شاید کہ جماعت اسی طرح کوئی عزت بنا جائے۔ اور کم از کم منور حسن صاحب کو سید مودودی کی کتابیں دوبارہ پڑھا دی جائیں تاکہ انکو طالبانی فلسفہ انقلاب اور سید مودودی کے فلسفہ انقلاب میں فرق یاد آجائے۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (14-03-10)
پرانا 14-03-10, 03:14 AM   #38
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,702
شکریہ: 8,790
2,967 مراسلہ میں 10,822 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
جماعت اسلامی والوں کے لیے میرا محض ایک ہی مشورہ ہے کہ اپنی جماعت کے تمام بزرگوں کو اللہ اللہ کرنے کے لیے گھر بٹھا دیں اور نوجوانوں کو آگے آنے دیں۔ شاید کہ جماعت اسی طرح کوئی عزت بنا جائے۔ اور کم از کم منور حسن صاحب کو سید مودودی کی کتابیں دوبارہ پڑھا دی جائیں تاکہ انکو طالبانی فلسفہ انقلاب اور سید مودودی کے فلسفہ انقلاب میں فرق یاد آجائے۔
جماعت اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا اور ان سے سبق حاصل کرنا سیکھ لے تو بہت بہتری ہو سکتی ہے۔ سب سے بڑی غلط فہمی جو ان کو ہے وہ جمہوریت کے ذریعے اسلام لانے کی تمنا ہے۔ اس مشق لا حاصل کی بجائے وہ دعوتِٕ دین اور خدمت خلق کا کام کریں تو معاشرے میں کسی حد تک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مودودی صاحب نے آخری عمر میں جماعت کو جمہوری تماشے سے الگ رہنے کا مشورہ دیا تھا جسے جماعت کی شوریٰ نے مسترد کر دیا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (14-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10)
پرانا 16-04-10, 11:10 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 555
کمائي: 12,006
شکریہ: 8
388 مراسلہ میں 912 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا خوب کہا۔ پتا نہیں یہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اپنے آپ کو ان منافق لوگوں کے حوالے کیوں کر دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ ان کی کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسلام امن کا مزہب ہے دہشت کا نہیں۔
اداس ساحل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
rabab (16-04-10), حیدر (20-04-10)
جواب

Tags
فرض, کالج, کراچی, پاکستان, پاکستانی, قرآن, قصہ, لندن, چین, نواز شریف, مقابلہ, ماں, متوقع, ایم بی اے, امیر, امریکہ, اجنبی, استاد, بچوں, تلاش, تعلیم, دوست, سیاست, طالبان, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger