![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | sahj (12-01-10), نورالدین (04-03-10), حیدر (06-03-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10), طاھر (09-01-10), عبداللہ حیدر (09-01-10), غیاث (12-12-10) |
|
|
#31 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
9/11 میں امریکہ کا ساتھ:
اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ آیا کہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دے کر اخلاقی، اسلامی یا قانونی طور پر کس کردار کا مظاہرہ کیا ، آئیے اسکو دیکھ لیں کہ اسکے کیا نتائج برآمد ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ افغانوں کی رشتے داریاں پاکستانی پٹھانوں میں موجود تھیں اور پھر افغان جنگ نے ان تعلقات میں مزید وسعت دی۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان پاکستان میں مقیم ہوئے اور ایک ایسی انوکھی مواخات قائم کرنے کی کوشش کی گئی جس کے کوئی اصول و ضوابط موجود نہ تھے۔جہادی کلچر کو عام کرنے کی غرض سے جو مجاہدین دیگر ممالک سے در آمد کیے گئے تھے انکو نہ صرف یہاں رہنے بلکہ یہاں شادیاں کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔جہادیوں نے جن میں ازبک، تاجک وغیرہ موجود تھے انہوں نے بہت بڑی تعداد میں یہاں شادیاں کیں اور یہیں بس گئے۔ امریکہ کے افغانستان پر حملوں کے تاثر کو جتنا مرضی کم کرنے کی کوشش کر لی جائے لیکن ایک ماہ تک جاری رہنے والی کارپٹ بمباری نے اگر لاکھوں نہیں تو بلا مبالغہ ہزار ہا افغانوں کی زندگیوں کے چراغ گُل کر دیے۔ اس کے مندرجہ ذیل اثرات ممکن ہو سکتے ہیں 1:طالبان کو ناپسند کرنے والوں نے نئی انتظامیہ کو پسند کیا 2:روایی قبائل اور اسلام پسند طبقے نے اس جارحیت کو اسلام کے خلاف کاروائی سمجھا اور مناسب وقت کا انتظار کرنے لگے۔ 3:امریکی مخالف طبقے کی غالب اکثریت میں پاکستان کے خلاف ناپسندیدگی کا عنصر پیدا ہوا۔ 4:انہی عناصر کے جو حامی پاکستان میں موجود تھے ان لوگوں نے بھی اس نئے معرکے کو لبیک کہا اور امریکی و انکے اتحادیوں سے پنجہ آزمائی کی تیاریاں کرنے لگے۔(کیونکہ 1980 کی دہائی میں انکی تربیت تو اسی نہج پر کی گئی تھی) ایک تو غیر ملکی صلیبی حملہ اور دوسرا افغانوں کی صدیوں کی روایات نے افغانوں کو مجبور کر دیا صلیبی افواج کے خلاف جدو جہد کا آغاز کرنے پر۔ طالبان دوبارہ عروج کی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں: آغاز کار میں یہ جدو جہد بہت کمزور تھی کیونکہ ایک ماہ تک جاری رہنے والی کارپٹ بمباری نے طالبان کے جسموں تک کو ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ جو باقی بچ گئے وہ پہاڑوں میں روپوش ہو گئے۔طالبان کی چند ناروا سختیوں سے تنگ ائے لوگوں نے امریکی آمد کو خوش آمدید کہا اور خوشی کے شادیانے بجائے۔تاہم افغانستان کے وار لارڈز نے اپنی وہی حرکتیں شروع کر دیں جو انکا وطیرہ تھیں۔ گھروں کو اجاڑنا، بھتہ خوری، عزتیں لوٹ لینا،قتل و غارت کا بازار دوبارہ سے گرم ہونا شروع ہو گیا۔ چونکہ امریکی افواج انہی وار لارڈز کی مدد سے یہاں آئیں تھیں تو انہوں نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔افغانوں کی خوش فہمیاں ان امریکنز سے کم ہونے لگیں اور لوگ دوبارہ سے طالبان کو یاد کرنے لگے کہ جن کے دور میں کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کسی کی طرف نظر اٹھانے کی۔ مجھے علاقہ یاد نہیں تاہم یہ افغانستان پر قمضے کے کافی عرصہ بعد کی بات ہے کہ جب انہی وار لارڈز میں سے کسی نے ایک گاؤں پر حملہ کیا اور اور اپنی وحشت کا بازار گرم کیا کہ چند طالبان کی منظم ہو کر ان پر حملہ کر دیا۔ ظالم آدمی ہمیشہ بزدل ہوتا ہے چناچہ وار لارڈز حواس باختہ ہو کر فرار ہو گئے۔ گاؤں کے لوگوں نے طالبان زندہ باد کے نعرے لگائے اور یہ طالبانی تحریک کا دوبارہ آغاز تھا۔ امریکنز ان وار لارڈز کی مدد کو آئے اور طالبان پر حملہ کیا۔ باوجود اس کے کہ طالبان کو اس معرکے میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ ایک بہت بڑے علاقے کے لوگوں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ آج بھی انکے محافظ ہیں۔ اس کے بعد طالبانی تحریک گلی کوچوں میں پھیلتی چلی گئی۔ امریکی مظالم میں اضافہ ہوتا گیا ۔لوگوں کو ان سے نفرتیں بڑہتی گئیں اور آہستہ آہستہ طالبان دوبارہ سے افغانستان کے کے بیشتر حصوں پر قابض ہو گئے اور امریکی نواز کٹھ پتلی انتظامیہ محض کابل کمپاؤنڈ کی انتظامیہ بن کر رہ گئی۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (08-03-10) |
|
|
#32 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Dulicate posting deleted
|
|
|
|
|
|
#33 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ منتظمین بھائی اور راجہ اکرام بھائی۔ دعا کیجیے گا میرے لیے
|
|
|
|
|
|
#34 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ما شاءاللہ آپکی باتیں زبردست ہیں۔
|
|
|
|
|
|
#35 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1
کمائي: 131
شکریہ: 0
1 مراسلہ میں 1 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان زندہ باد
|
|
|
|
| قاضی کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (10-03-10) |
|
|
#36 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان میں دہشت گردی:
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ہمیں سہ جہتی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ہم اس سلسلے میں تب تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہم اس سلسلے کو نئے زاویہ نظر سے دیکھنے کے لیے تیار نہ ہو جائیں۔زاویہ نظر کی تبدیلی کے بغیر ہمارا معاملہ کچھ یوں ہو گا جیسے ہم لاہور میں کوئی گھر۔ ۔ ۔ کراچی کا نقشہ لے کر تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ پاکستان میں دہشت کردی کو ہم تین جہتوں میں تقسیم کر سکتے ہیں بیرونی دہشت گردی اندرونی دہشت گردی پاکستانی سٹیٹ و نان سٹیٹ ایکٹرز کا کردار (اسٹیبلشمنٹ) 1:بیرونی دہشت گردی 2005 ایک نئی سرد جنگ کے اغاز کا سال رہا۔ اس بار اس جنگ کے متقابلین میں پہلا فریق جو بھی ہو دوسرا فریق چین ہیں۔ اور اس جنگ کا فیصلہ پاکستان اور افغانستان میں ہونے طے پایا ہے۔ پہلے فریق کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے راستے چین کے بڑھتے اثر و نفوذ کو روکنے کی کوشش کرے۔چین کا وہی اثر و نفوذ جو گوادر پورٹ کے پر امن طور پر آپریشنل ہونے کی صورت میں پوری دنیا کو اپنے اقتصادی جال میں لے لے گا۔ جبکہ چین کی خواہش پر امن طور پر دنیا کا غیر متنازعہ لیڈر بننے کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس سال پاکستان میں چین کی مدد سے گوادر پورٹ کی سنگ بنیاد رکھی گئی اسی سال سے پاکستان کا صوبہ بلوچستان اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔اس وقت پاکستان کی وہی بیلٹ انتہائی خونریزی کا شکار ہے جہاں سے در حقیقت چین کے لیے مجوزہ راستہ گزرنا تھا۔ چناچہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کے سابقہ زخم خوردہ دشمن بھی میدان میں کود پڑتے ہیں اور ہندوستان اور روس کی مداخلت اس علاقے میں نا ممکنات میں سے نہیں۔ ایسے شواہد قطعی طور پر موجود ہیں جو چلا چلا کر ان فسادات میں بھارت ہاتھ کا اشارہ کر رہے ہیں۔ روس بھی اپنی افغان ہزیمت کا بدلہ لینا ضرور چاہے گا۔ اندرونی دہشت گردی: پاکستان کے بیرونی دشمنوں نے اس بار پاکستان پر وہی ہتھیار آزمایا ہے جو کبھی پاکستان نے افغانستان میں استعمال کر کے پھینک دیا تھا۔ یعنی "جہاد"۔پاکستان کی طرف سے امریکی حمایت، اس کے نتیجے میں کم و بیش لاکھوں افراد کا قتل اور پھر اسکی وجہ سے پایا جانے والا غم و غصہ وہ بہترین Catalystتھے جو پاکستان میں جہاد کا آغاز کر سکتے تھے اور پاکستان کو ناکوں چنے چبوا سکتے تھے۔چناچہ پاکستان میں مولوی پلانٹ کیے گئے جنہوں نے افغان جہاد کا سہارا لے کر دھیمے لفظوں میں جہادیوں کو پرانے سبق کی یاد دلانا شروع کیا۔ ایک طرف امریکہ کے پیدا کردہ حالات اور دوسرے طرف پاکستانی حکومت کا حد درجہ غلامانہ رویہ لوگوں کے دلوں میں نفرت کی چنگاری کو مہمیز کرتا گیا۔ جلد ہی وہ وقت آ گیا کہ پاکستان میں اسلامی حکومت اور اسلامی نظام کے نعرے لگنے لگے۔پاکستان کے قبائلی علاقے پہلے ہی قاتلوں،ڈاکؤؤں اور سمگلروں کی آماجگاہ تھے، انہوں نے حالات کے مطابق پینترا بدلا اور اسلامی چولا پہن لیا۔ اب کسی مناسب واقعے کا انتظار تھا ۔اور پھر وہ واقعہ ہو جاتا ہے ۔امریکی میزائل سے 80 سے زائد معصوم بچے مارے جاتے ہیں۔ پاکستانی حکومت فدویانہ انداز میں ذمہ داری لے لیتی ہے۔ چونکہ ذہنوں کی آبیاری پہلے ہی کی جا چُکی ہوتی ہے تو لاوا ابلنے کو نزدیک ہوتا ہے ۔اس واقعے کی وجہ سے وہ اپنے مستقر سے بہہ نکلتا ہے اور اس کا رُخ کمال چابک دستی سے پاکستانی افواج کی طرف موڑ دیا جااتا ہے۔ اب مقابلہ انکے درمیان ہونا ہوتا ہے جو ماضی میں اتحادی تھے۔ایک طرف استاد اور دوسرے طرف شاگرد۔ کوئی بھی جیتے ۔ ۔ ۔ فتح در حقیقت بیرونی مداخلت کنندگان کی ہونی ہے۔ پاکستانی سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز: پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کردار خآصا مشکوک رہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والا دوسرا خود کش حملہ جو کہ فرانسیسی انجینرز پر ہوا تھا اور القاعدہ پر الزام ڈالا گیا تھا ، آج بھی شکوک کی دبیز تہہ میں ہے۔اس کے تانے بانے کرپٹ پاکستانی حکمرانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ القاعدہ سے ماخؤذ دو مرکزی ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ مشرف پر قاتلانہ خود کش حملہ میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو پچھلے دنوں بری کر دیا گیا۔ اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ مشرف نے کئی حساس قبائلی علاقوں میں امریکی افواج کو جگہ دینے سے بچنے کے لیے طالبان نامی شوشا کھڑا کیا تھا۔ اس بات کے بھی واضح اشارے موجود ہیں کہ مشرف دور میں اسلحے کے ٹرک پکڑے جاتے تھے اور پھر کسی خفیہ حکم پر چھوڑ دئیے جاتے تھے۔ چناچہ اگر ہم اس قسم کی درجنوں خبروں کا تجزیہ کریں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے اپنے چند مقاصد کے حصول کے لیے طالبانی گروہ کا پودا لگایا تھا جو انڈین مولویوں کے ہتھے چڑھ کر ایک عفریت بن چُکا ہے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کئی خود کش حملے چند طاقتور لوگ اپنے مقاصد کے حصؤل کے لیے بھی کرواتے ہیں۔ مجھے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستانی افواج نے اس اغوا شدہ طالبانی ادارے کو کچلنے کے لیے جو کوششیں کیں انکے اکثر جگہ پر منفی نتائج پیدا ہوئے۔ مشکوک جان کر جن بے گناہ افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے کیا ان کے دلوں میں نفرتوں کے طوفان نہیں ابل پرتے ہوں گے؟ چناچہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا پودا خود پاکستان نے لگایا تھا اور اور اب خود ہی اس کے کانٹوں میں لہو لہان ہو رہا ہے خلاصہ: پاکستانی بیوقوف اسٹیبلشمنٹ نے چند مقاصد کے حصؤل کے لیے طالبانی گروہ کا پودا لگایا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی مولوی بھی زہنوں کی آبیاری کر رہے تھے۔چناچہ حالات و واقعات کی وجہ سے کچھ ہی عرصے میں بھارتی پے رولڈ مولوی نوجوانوں کی اتنی بڑی کھیپ تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو پاکستانی افواج کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں ۔ یہ بعینہ ایسے ہی ہے جیسے پاکستان نے کشمیر اور افغانستان میں کیا تھا۔ پاکستانی افواج ان کے خلاف آپریشن کرتی ہیں۔ اپریشن میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کو عوام الناس حسب عادت بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہے جو کہ ایک Catalystکا کام کرتا ہے اور ان علاقوں میں افواج سے نفرت کرنے والوں کی خآصہ معقول تعداد پیدا ہو جاتی ہے جو پاکستان کو امریکی حلیف جان کر اس کے خلاف جدو جہد کو جہاد اکبر متصور کرتے ہیں۔پاکستانی اداروں کا ظلم و ستم اس عمل کو مہمیز کرتا ہے۔ان علاقوں کو میدان جنگ بنانے کا مقصد چین کا گھیراؤ کرنا اور پاکستان کو ماضی کا سبق دلانا بھی ہو سکتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#37 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مذہبی قائدین کا کردار:
اس مسئلے کا حل سیاسی قائدین کے پاس جتنا تھا اتنا ہئ مزہبی قائدین کے پاس بھی تھا۔ ان علاقوں میں موجود دو طاقتور تنطیمیں جماعت اسلامی اور جے یو آئی تھیں۔ ان دونوں نے منافقانہ کردار کا مظاہرہ کیا۔جے یو ائی کا کردار تو خیر ماضی میں بھی محض حکومت پرستانہ رہا ہے تاہم جماعت اسلامی کا کردار بھی خآصا مایوس کر دینے والا رہا۔ جماعت کوئی واضح حکمت عملی نہ اپنا سکی۔اس کے قائدین ہر جگہ متضاد بیانات دیتے رہے۔ کبھی طالبان کو مجرموں کا ٹولہ کہا گیا تو کبھی طالبان کی جدو جہد اور اپنی جدو جہد کو متماثل قرار دیا گیا (شاید منور حسن صاحب کو سید مودودی کا فلسفہ بھول چُکا ہے۔انکو ریفریشر کورس کی اشد ضرورت ہے)۔ ان دونوں جماعتوں کی وجہ سے عوام کا اعتبار مذہبی قاعدین سے اٹھتا چلا گیا۔جے یو آئی کا ووٹ بینک چونکہ "صم بکم عم" والے طبقے میں سے ہے اس لیے وہ جو چاہے مرضی کرتے پھریں انکی سیٹیں پکی ہوتی ہیں لیکن جماعت اسلامی کو اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہپے جو اس نے حالیہ ضمنی انتخابات میں بھگت بھی لیا ہے۔لیکن امید ہے اب بھی انکو عقل نہیں آئی ہوگی اور اب بھی یہ عوام کو ہی کوس رہے ہوں گی ۔ جماعت اسلامی والوں کے لیے میرا محض ایک ہی مشورہ ہے کہ اپنی جماعت کے تمام بزرگوں کو اللہ اللہ کرنے کے لیے گھر بٹھا دیں اور نوجوانوں کو آگے آنے دیں۔ شاید کہ جماعت اسی طرح کوئی عزت بنا جائے۔ اور کم از کم منور حسن صاحب کو سید مودودی کی کتابیں دوبارہ پڑھا دی جائیں تاکہ انکو طالبانی فلسفہ انقلاب اور سید مودودی کے فلسفہ انقلاب میں فرق یاد آجائے۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (14-03-10) |
|
|
#38 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (14-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#39 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 555
کمائي: 12,006
شکریہ: 8
388 مراسلہ میں 912 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا خوب کہا۔ پتا نہیں یہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اپنے آپ کو ان منافق لوگوں کے حوالے کیوں کر دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ ان کی کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسلام امن کا مزہب ہے دہشت کا نہیں۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, کالج, کراچی, پاکستان, پاکستانی, قرآن, قصہ, لندن, چین, نواز شریف, مقابلہ, ماں, متوقع, ایم بی اے, امیر, امریکہ, اجنبی, استاد, بچوں, تلاش, تعلیم, دوست, سیاست, طالبان, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|