واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




ہماری قبائلی روایات اور عسکری حکمت عملی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-03-10, 04:31 PM  
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,428
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Exclamation ہماری قبائلی روایات اور عسکری حکمت عملی

قاضی حسین احمد


تایا جی سید و شریف سوات کے ہسپتال کے ماہر سرجن ڈاکٹر نجیب کے والد بزرگوار تھے ۔ ریٹائرمنٹ کے شب و روز اپنے بیٹے کے گھر گزار رہے تھے اور روز شام کو ہمارے کالج جہانزیب کالج سیدو شریف کے اسلامیات کے پروفیسر بادشاہ زادہ سواتی الازہر ی جو عرف عام میں ڈین صاحب سوات کے لقب مشہور تھے کے گھراپنا وقت خوش گپیوں میں گزارنے کے لیے تشریف لے آتے تھے ۔ہجرت کی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے جوانی کے دنوں میں افغانستا ن ہجرت کی تھی جہاں وہ حبیبیہ کالج کابل میں ریاضی (Mathematics)کے پروفیسر تھے ۔ درج ذیل واقعہ ان کا چشم دید ہے جو انہوں نے ہمیں سنایا۔

غازی نادر خان شہید فرمانروا ئے افغانستان حبیبیہ کالج کے دورے پر تھے۔ کالج کا ایک تربیت یافتہ مستعد دستہ انہیں گارڈ آف آنر دینے کے لئے چاق و چوبند کھڑاتھا ۔ معائنہ کرنے کے لیے وہ ایک قطار کے سامنے سے گزر کر دوسری قطار کے سامنے گزررہے تھے اچانک ایک طالب علم اپنی قطار سے ایک قدم آگے بڑھا اور اپنے پستول کی ایک گولی ان کے دل میں پیوست کردی اور بادشاہ کو قتل کردیا۔ حبیبیہ کالج کو فوری طور پر گھیرے میں لے لیا گیا اور کسی کو بھی کالج کے اندر یا کالج کے احاطے کے باہر جانے سے منع کردیا گیا تاکہ خبر شہر کے اندر نہ پھیلے۔ افغانستان کو بڑی مشکل سے انتشار سے نکال کر ایک منظم حکومت کے زیر انتظام لایا گیاتھا ۔ اگر یہ خبر شاہ شہید کے بعددو سرا متبادل انتظام کئے بغیر پھیل گئی تو ملک دوبارہ افراتفری کا شکار ہوجائے گا۔ شاہی خاندان اور غازی نادرشاہ شہید کے بھائی مشورہ کے لیے بیٹھ گئے اور نادر خان کے چودہ سالہ کمسن بیٹے ظاہر خان کو ظاہر شاہ کے لقب کے ساتھ تخت نشین کردیا اور شاہ شہید کے چھ بھائی ظاہر شاہ کے سرپرست بن کر حکومت کرنے لگے۔ اس انتظام کے بعد حبیبیہ کالج کا محاصرہ اٹھایا گیا اور اس پورے واقعے کی تفصیل کے ساتھ یہ خبر نشر کردی گئی ۔ اس کے بعد 1952ء تک یہ چچا شاہی افغانستان پر حکمران رہی۔

طالب علم نے یہ حرکت کیوں کی جس کے نتیجے میں یہ خطرناک صورت حال پیدا ہوئی ۔ معلوم ہواکہ طالب علم کی ماں کی توہین شاہی کے عملے کے کسی فرد نے کی تھی جس کا انتقام لینے کے لیے انہوں نے یہ خطرناک اقدام کیا ۔ اس طرح کا ایک اور واقعہ قبائلی علاقہ کے درہ آدم خیل کے عجب خان آفریدی کا ہے۔ جن کے گھر میں سرکاری اہلکاروں نے گھس کر ان کی والدہ کی توہین کی تھی ۔ اس کا انتقام لینے کے لیے انہوں نے ڈپٹی کمشنر پشاور کے گھر میں گھسنے کی ٹھان لی۔ گھر کی چوکیداری کے لیے رات کے وقت جب پہرے دار غافل ہوجاتے اس وقت بھی خطرناک السیشن کتے پہرہ داری پر مستعد ہو کر ڈیوٹی سرانجام دیتے رہتے۔ عجب خان نے کئی رات ان کتوں کو گوشت کھلا کر دوست بنایا اور جب ان کے ساتھ دوستی پکی کرلی تو ڈپٹی کمشنر کے گھر سے ہو کر گزرنے والی پانی کی ندی کے راستے ان کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کی بیٹی کو سوتے میں اٹھا کر اسی راستے سے نکل کر اغوا کرلیا ۔

عجب خان آفریدی نے نہایت احترام کے ساتھ مغویہ کو اپنی تحویل میں رکھا اور مغویہ نے رہائی پانے کے بعد ان کے حسن سلوک اور ان کے احترام اور خاتون کے تقدس کی کہانی بیان کرکے عجب خان آفریدی کو ایک legendبنادیا لیکن ساتھ ہی عجب خان آفریدی نے اپنے گھر کی بے پردگی کاانتقام بھی لے لیا۔ یہ واقعات ہماری قبائلی روایات کا حصہ ہیں اور ہماری افواج ان سے نا آشنا نہیں ہیں۔ قبائلی علاقوں میں اپنے اہداف کاتعین کرتے وقت اور انہیں حاصل کرنے کے لیے ہماری افواج کو ان روایات کاپاس کرنا چاہیے اور بڑی احتیاط کے ساتھ قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ہمیں ہر وقت یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ہمارے اہداف اور امریکیوں کے اہداف ایک نہیں ہیں۔ اس علاقے میں بھارت امریکیوں کا Strategic partenerہے اوربھارت اور امریکہ کا آپس میں ایٹمی توانائی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا بھی معاہدہ ہے جبکہ ہمیں صرف وقتی مشکل حل کرنے کے لیے امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف شریک کار بنایا ہوا ہے۔ امریکہ بھارت کا سرپرست اور چین کے مقابلے میں اسے کھڑا کرنے والا ہے جبکہ ہمیں بھی وہ بھارت کی بالادستی تسلیم کر کے اس کے ساتھ اپنے مسائل حل کرنے کی تلقین کرتاہے۔ ہماری افواج کے فطری دست و بازو ہمارے قبائل ہیں۔ پاکستان کی دینی قوتیں جو جہاد کے جذبے سے سرشار ہیں ہماری افواج کے برے وقتوں کی حلیف ہیں ۔ ان کو امریکی دباؤ یا امریکی لالچ کی خاطر مستقل دشمن بنانا دانائی نہیں ہے۔

پچھلے دنوں باجوڑ میں جماعت اسلامی کے کچھ لوگوں کو پاکستانی فوجی گرفتار کرکے لے گئے جب جماعت اسلامی کا ایک وفد انہیں چھڑانے کے لیے افواج کے سینئرافسران سے ملنے کے لیے گیا اور انہیں یاد دلایا کہ جماعت اسلامی نے بہت کڑے وقتوں میں پاکستانی افواج کا ساتھ دیا ہے اور وہ کسی طرح بھی نہ دہشت گرد ہیں نہ ان کے پشتیبان اور ساتھی ہیں تو انہیں بڑا روکھا جواب دیا گیا اور انہیں کہا کہ ہم تم سب کو دشمن سمجھتے ہیں اور اگلے روز جماعت اسلامی کے سابق ممبر قومی اسمبلی اور باجوڑ کے ہر دلعزیز رہنما صاحبزادہ ہارون الرشید صاحب جو قبائلی علاقوں کے لئے جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے نائب امیر بھی ہیں کے گھر کو جلانے کے لیے پاکستانی فوج کا ایک دستہ آیا۔ گھر جلانے کے بعد مردانہ حجرے کے چاروں طرف بارود رکھ کر اسے اڑا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ان کی والدہ محترمہ اور ان کی بھتیجی دیواروں کے نیچے آکر شہید ہوگئیں۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہاکہ ان کی والدہ اتفاق طور پر By Chanceفوت ہوئی ہیں۔ اس طرح اتفاقی طور پر قبائلی علاقوں میں ہزاروں بچے اور خواتین شہید ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے پورے علاقے میں ان کے لاکھوں ورثاء کے دلوں میں گہرے گھاؤ پڑ چکے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کشمیر کے محاذ پر اس وقت ایک بڑے حصے کو آزاد کرادیا جب پاکستانی فوج بے سروسامانی کی حالت میں تھی اور جواب بھی پاکستان کے مخالف نہیں بلکہ دوست ہے۔ اتنے زخم سہنے کے باوجود اس پورے علاقے میں پاکستان سے جدائی کی کوئی تحریک نہیں ہے۔ حکمت کا تقاضاہے کہ ہماری افواج غصے اور ردعمل میں آنے کی بجائے اپنے قبائل کے غصے کو ٹھنڈا کریں اور انہیں دشمن کے ہاتھ میں استعمال ہونے سے بچائیں۔ ان کی بہادری ،ان کا جذبہ ان کی موت سے بے خوفی ان کے رگ و پے میں دوڑنے والاانتقامی جذبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر ہم اسے حکمت کے ساتھ اپنے دشمن کے خلاف استعمال کرنے کا ڈھنگ سیکھیں لیکن اگر ہم انہیں خود ردعمل کا شکار ہو کر دشمن بنادیں تو ہم قوت اور تشدد کے ذریعے انہیں کبھی مغلوب نہیں کرسکیں گے اور ہمارے دشمن انہیں آسانی کے ساتھ ہمارے خلاف اکسانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہماری افواج کا یہ سمجھنا کہ انہوں نے جنوبی وزیرستان اور باجوڑ کو زیر کرلیا ہے اور اس میں برپا شورش کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے ایک شدید غلط فہمی ہے۔ جونہی فوج وہاں سے ہٹے گی یہ قوتیں پھر سراٹھائیں گی اور کسی سویلین انتظامیہ کے بس میں انہیں کنٹرول کرنا نہیں ہے اور ہمیشہ کے لیے فوج بھارتی خطرے سے بے خوف ہو کر اپنے قبائلیوں کے خلاف صف آراء نہیں ہوسکتیں نہ ہی انہیں مستقل دشمن بنانا ہمارے حق میں ہے یہ امریکی بھارتی کھیل ہے کہ انہیں اپنے بھائیوں کے مقابلے میں ہمیشہ کے لئے صف آراء کردے۔

اگر ہم نے انہیں دوست بنانا ہے تو انکے اندر سے لشکر سازی کرکے انہیں آپس میں لڑانے کی بجائے ان کے ساتھ حقیقی مصالحت کے راستے تلاش کرنے پڑینگے اور اس کی اجازت امریکہ ہمیں کبھی نہیں دے گا۔ہمیں اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانی پڑے گی نہ امریکہ ہمارا حقیقی دوست بن سکتاہے نہ ہم اس کے حقیقی حلیف بن سکتے ہیں ۔ اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور اپنی فوجی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمیں متبادل ذرائع تلاش کرنے ہوں گے اور ساتھ ہی اسراف وتبذیر چھوڑ کر سادگی اختیار کرنی ہوگی تاکہ خیانت سے اپنی قومی زندگی کو پاک کرکے ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ تشکیل دینے کے قابل ہوسکیں۔ ایک فلاحی معاشرہ کی بنیادی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ایک قلیل تعداد میں لوگوں کی اعلیٰ معیار زندگی کی بجائے ایک کثیر تعداد میں عام لوگوں کی بنیادی ضروریات کو اولیت دی جائے تاکہ پوری قوم تعلیم حاصل کرسکے اور پوری قوم کیلئے علاج اور خوراک و رہائش کا انتظام کیا جاسکے۔ اس کیلئے بنیادی ضرورت امن وامان اور اندرونی صلح کی ہے جس کیلئے قوت کے استعمال سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے ۔

ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــ
روزنامہ جنگ۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (13-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10)
پرانا 15-03-10, 01:37 AM   #16
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کھل کر کیوں نہیں کہ دیتے کہ اپ خون ناحق پر خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اپ کی پچھلی پوسٹ سے تو شائد یہی اظہار کرنا چا ہ رہے ہیں آپ۔
ابھی کل جو پچاس بے گناہ لاہور میں شہید ہو گئے ان کے متعلق اپ کیا فرماتے ہیں؟ اس کو فساد فی الارض کہتے ہیں۔ اور اسی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے قاضی نے بڑی بے تابی سے عین موقع پر اپنا کالم داغ دیا۔
افسوس کہ آخرت ہم سب بھول رہے ہیں۔
اللہ ہم سب پر اپنا رحم کرئے اور سیدھی راہ دیکھائے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-03-10)
پرانا 15-03-10, 01:59 AM   #17
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,796
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خون ناحق پر کیوں کر کوئی خوش ہوسکتا ہے
اللہ غرق کرے ان سب کو جو ایسی حرکات میں ملوث ہیں
ہاں ڈرون حملوں کے عوض گئی جانوں پر کئی مرتبہ " خس کم جہاں پاک " جیسی صدائیں بلند ہوتی سنائی دیتی ہیں
جن میں پاکستانی حکومت کے آفیشلی اعدادوشمار کے مطابق 1200 سے زیادہ بے گناہ افراد عورتیں اور بچے شامل ہیں اور 10 سے 12 امریکہ کے مطلوبہ افراد ان حملوں کا نشانہ بنے

اللہ ہم سب پر اپنا رحم کرئے اور سیدھی راہ دکھائے۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10), عبداللہ حیدر (15-03-10)
پرانا 15-03-10, 02:25 AM   #18
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,702
شکریہ: 8,790
2,967 مراسلہ میں 10,822 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
خون ناحق پر کیوں کر کوئی خوش ہوسکتا ہے
اللہ غرق کرے ان سب کو جو ایسی حرکات میں ملوث ہیں
ہاں ڈرون حملوں کے عوض گئی جانوں پر کئی مرتبہ " خس کم جہاں پاک " جیسی صدائیں بلند ہوتی سنائی دیتی ہیں
جن میں پاکستانی حکومت کے آفیشلی اعدادوشمار کے مطابق 1200 سے زیادہ بے گناہ افراد عورتیں اور بچے شامل ہیں اور 10 سے 12 امریکہ کے مطلوبہ افراد ان حملوں کا نشانہ بنے

اللہ ہم سب پر اپنا رحم کرئے اور سیدھی راہ دکھائے۔
چھوڑیں چچا جی، آپ بھی کن کیڑے مکوڑوں کی بات لے بیٹھے ہیں، آپ بھی خس کم جہاں پاک کے نعرے لگائیے خوش رہیے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (15-03-10), راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10)
پرانا 15-03-10, 02:53 AM   #19
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

1210 تعداد کہی گئی تھی اور یہ بھی دعوا کیا گیا تھا کہ مرنے والوں میں دو تہائی خس کم جہاں پاک تھے۔ ایک تہائی معصوم لوگ۔ اگر معصوم لوگوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو 400 کے قریب بنتی ہے۔ جو کہ شائد دو دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد سے بھی کم ہے۔ میں یہ نہیں کہ رہا کہ یہ ٹھیک ہے دونوں جگہوں پر مرنے والوں کا خون ناحق ہی بہا ہے۔ اور دونوں جگہ کہ قاتلوں کی مذمت کی جانی چاہیے۔

مینگورہ دھماکہ کا دلخراش منظر
یہ بھی دیکھ لیں۔ شائد کسی کے دل پر اثر کر جائے۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-03-10)
پرانا 15-03-10, 09:28 AM   #20
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

منتظمین بھائی
مجھے تو لگتا ہے آپ پر بھی فاروق سرور خان صاحب اور فواد صاحب کا جادو چل گیا ہے
خون نا حق کی ناصرف مذمت کی گئی ہے بلکہ اس کے کرداروں کا قلعہ قمع کرنے کے لئے بھی زور دیا گیا ہے اور دیا جا رہا ہے ہر محب وطن طبقے کی طرف سے۔ اور جیسا کہ بدر بھائی نے کسی جگہ کہا تھا اور میرا بھی اب تک کی معلومات کے مطابق یہ یقین ہے کہ جماعت اسلامی کی حب الوطنی شک و شبہ سے ما روا ہے۔

ویسے بھی یہ موضوع اپنی جگہ اہم ہے اور ضرورت تھی کہ مذکورہ بالا تجاویز پر غور کیا جاتا ، ان کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے پر بات ہوتی، اگر قابل عمل ہیں اور ان سے پاکستان کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو ان کی تشہیر کا اہتمام کیا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کہ میرے خیال میں وقت کی ضرورت ہے
آپ نے ایک نئی چیز کو بحث بنا دیا جو کہ سب کے نزیک ویسے ہی متفق ہے اور اس پر بحث کی ضرورت ہی نہیں۔

اور یہ سچ ہے کہ جب تک ہم امریکہ کے امن فی الارض کے جھنڈے تلے رب کی رضا کے لئے کوشاں رہیں گے خون مسلم مزید ارزاں ہوتا چلا جائے گا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (15-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10), عبداللہ حیدر (15-03-10)
پرانا 16-03-10, 02:39 AM   #21
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ مباحثے در اصل اس سازش کا نتیجہ ہیں جس کو ہم اکثر بیان کرتے رہتے ہیں
یہ کھیل بہت بڑا ہے اور اس کو سمجھنے کے لیئے آئین سٹائن جیسے دماغ کی بھی ضرورت نہیں ۔
امریکہ کے اس خطے کے حوالے سے اپنے مفادات ہیں ، جن کے حصول کے لیئے پاکستان کو ٹکڑے کر کے ریاستوں میں تقسیم کرنا اور بھارت کو پاور دے اس خطے کی تھانیداری سونپتے ہوے چین کے سر پر کھڑا کرنا اس کے پلان کا حصہ ہے ،
اس مقصد کے حصول کے لیئے اسرائیل ، بھارت اور افغانستان کی کٹھپتلی حکومت کے گٹھہ جوڑ سے ایک سازش تیار کی گئی ہے ،
طالبان دو گروپوں میں تقسیم ہیں ایک وہ جو افغانستان میں لڑ رہے ہیں اور بارہا پاکستانی طالبان سے نفرت انگیز لا تعلقی کا اظہار کر چکے ہیں ، دوسرے وہ جو پاکستان میں پاکستانی عوام اور حکومت دونوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اگر بہ نظر غور طالبان کے نقطہ آغاز کو دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اصل طالبان کی تربیت اور اصولوں سے کسی طور لگا نہیں کھاتی بطور ثبوت دیکھئیے اس امریکی صحافی خاتون کا حوالہ جو کہ طالبان کے حسن سلوک کی وجہ سے مسلمان ہو گئی تھی ۔
پھر پاکستان میں طالبان کا نام اختیار کر کے کون لوگ دہشت گردی کر رہے ہیں ؟
یہ وہ لوگ ہیں جن کا طالبان کے ساتھہ دور کا بھی تعلق نہیں ، ہاں انہوں نے قبائلی علاقہ جات میں طالبان مکتبہ فکر کو اغوا کر لیا اور ان کے بھیس میں اپنے مقاصد کے حصول میں لگ گئے ، ان کو آپ زیادہ سے زیادہ روبوٹ کہ سکتے ہیں اور ان کے "انجنئیر" کو کرائے کے قاتل ۔
اب آتے ہیں امریکہ کی دورخی پالیسی کی جانب
ایک طرف تو وہ دنیا دکھاوے کے لیئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہا ہے اور دوسری طرف وہ پاکستان میں دہشت گردی کی غرض سے ان کی بھر پور مدد بھی کر رہا ہے ۔
کیسے ؟
وہ اس طرح کہ ایک طرف تو وہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر زور دیتا ہے اور ڈو مور کی سدا لگاتا رہتا ہے ، یہی نہیں ڈرون حملوں سے پاکستانی طالبان کا صفایا بھی کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف وہ افغانستان میں بیٹھہ کر را اور موساد کے ایجنٹس کو قبائلی علاقہ جات میں متحرک رکھتا ہے ، وہاں سے پاکستانی طالبان کو امداد مہیا کرتا ہے اور نئے سے نئے طریقوں سے دہشت گردی کی ٹریننگ دلواتا ہے ۔
اس کا بین ثبوت یہ بھی ہے کہ پاکستان جب بھی افغان سرحد کو مکمل طور پر بند کرنے کی بات کرتا ہے امریکہ کی جانب سے اس کی بھرپور مخالفت کی جاتی ہے ،
اسی سلسلے کی ایک اور کڑی حال ہی میں سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ جیسے ہی قبائلی علاقوں میں پاک فوج کا آپریشن مکمل ہونے کے قریب پہنچا پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے لیئے مختلف اقدامات شروع کر دئیے گئے جیسا کہ فیصل آباد اور سندھہ کے کچھہ علاقوں کے واقعات ،
مقصد اس سارے کھڑاگ کا ایک ہی ہے اور وہ ہے پاکستان کو عدم استحکام کی اس حد تک لے جانا جہاں خدا نہ خواستہ اس کے خود بخود ٹکڑے ہو جائیں ۔
ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بحیثیت محب وطن پاکستانی دشمن کی چال کا ادراک کرنا چاہئیے اور اس کے توڑ کی کوشش کرنی چاہئیے جس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ۔
اپنے آس پاس کے رہنے والوں کو اس سازش سے آگاہ کریں تا کہ ان کو درست صورت حال کا ادراک ہو اور وہ زہنی طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہو جائیں۔
اپنے آس پاس نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک چیز کے نوٹس میں آنے پر فوری طور پر اس کی اطلاع 15 پر کر دیں
حکومت کو چاہئیے کہ عوام الناس کی ٹریننگ کے لیئے ایک ہفتے کی ورکشاپس رکھے اور تمام پاکستانیوں کے لیئے اس تربیت کو لازمی قرار دے دے ، اس تربیت کے دوران عوام کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے پرائے میں تمیز کر سکیں ۔
عوامی سطح پر ایک ایجوکیشنل موومنٹ چلائی جائے ، ٹیچرز کی تنخواہوں میں دو سو فی صد اضافے کے ساتھہ ان کو باقاعدہ ٹاسک دی جائے کہ پاکستان کو 15 سے 20 سالوں میں ان خصوصیات کی حامل نسل کی ضرورت ہے جو وہ مہیا کرنے کے پابند ہوں ، ٹیچرز کی کارکردگی کے جائزہ کے لیئے یونین کونسل کی سطح پر سروے کی ذمہ داری ماہرین نفسیات کے ذریعے پوری کی جائے اور جس ٹیچر کی کارکردگی مطلوبہ اہداف کے مطابق نہ ہو اس کو فوری طور پر ڈسمس کیا جائے ۔
تا کہ ہم نہیں تو کم از کم ہمارے بچے آنے والے وقت میں ایک روشن اور ترقی یافتہ پاکستان میں سانس لے سکیں ۔
اگر ہم نے فوری طور پر ان اقدامات پر عمل نہیں کیا تو نوشتہ دیوار پڑھنا کوئی مشکل امر نہیں ہے ۔
اللہ ہم سب کا حافظ ، حامی و ناصر ہو
پاکستان زندہ باد
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (16-03-10), منتظمین (16-03-10), راجہ اکرام (16-03-10)
پرانا 16-03-10, 03:55 PM   #22
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت زبردست شاہ جی
۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-03-10)
پرانا 16-03-10, 08:51 PM   #23
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,428
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شاہ جی، آپ نے صحیح تجزیہ کیا ہے۔ لیکن ہم لوگ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے عادی ہیں۔ اپنے اور پرائے میں کیا تمیز کریں گے۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (16-03-10)
پرانا 16-03-10, 10:46 PM   #24
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
بہت زبردست شاہ جی
۔
شکریہ راجہ جی
اللہ آپ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, پاکستان, پاکستانی, واقعات, قدم, چین, نظر, موت, ماں, مسائل, معلوم, معاشرہ, انتظامیہ, امیر, امریکہ, اعلیٰ, اغوا, بھائی, تلاش, تعلیم, جواب, حسن, خواتین, دوست, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
امریکی عسکری قیادت کے تضادات عبداللہ آدم عمومی بحث 44 15-11-10 09:44 PM
عسکریت پسند لینے کیلئے پاکستان کو بھاری دی اور ڈرون حملے کرائے:بش جاویداسد خبریں 1 10-11-10 10:13 PM
چین کی عسکری تیاری پر پینٹا گون کو تشویش لاحق جاویداسد خبریں 0 24-09-10 06:55 PM
یہودی مدارس میں عسکریت کی تعلیم sahj عمومی بحث 1 07-03-10 11:29 AM
خوش آمدید حسن عسکری محمدعدنان تعارف 3 01-07-07 06:48 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:40 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger