![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | sahj (12-01-10), نورالدین (04-03-10), حیدر (06-03-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10), طاھر (09-01-10), عبداللہ حیدر (09-01-10), غیاث (12-12-10) |
|
|
#16 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#17 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ عبد اللہ بھائی
اور منتظمین بھائی آپ معلومات شیئر کر دیں، تا کہ تلاش میں وقت ضائع نہ ہو سکے ۔۔ شکریہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#18 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,963
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 216 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کرہی دیتے ذبح ابراھیم اسمائیل کو
کس نےروکا ہاتھ اِن کا اے تمنّائے حسین؟ |
|
|
|
|
|
#19 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اے این پی نے جس طرح سیاسی ڈرامہ کھیل کر پہلے صوفی محمد کو جیل سے نکال کر اس سے معاہدہ کیا، پھر ایک طے شدہ اسکرپٹ کے تحت سوات میں فوجی آپریشن کی راہ ہموار کی، اس کے بعد ان کے لیڈروں کی بہادری میں تو کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ اسفندیار ولی اور وزیر اعلیٰ سرحد کو تو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ متاثرین کے کیمپوں کا دورہ ہی کرلیتے۔
افضل خان لالہ کو ایک استثناء سمجھ لیجئے، اور ان کے جذبے کو میں سلام پیش کرتا ہوں۔سوات اور بونیر میں آپریشن شروع ہونے کے بعد اے این پی کے رہنما دوربین میں بھی نظر نہیں آئے۔ صرف جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکن تھے جو وہاں کے عوام کے ساتھ رہے۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ آپریشن شروع کرکے جس طرح لوگوں کو دربدر کیا گیا، ان حالات میں ہمارے روشن خیال اور لبرل لوگ کہاں غائب ہوگئے تھے؟ یہ جماعت اسلامی کے کارکن تھے جو الخدمت کے بینر تلے ان متاثرین کی مدد کر رہے تھے۔ بیشک پورے ملک کے لوگوں نے انسانی جذبے کے تحت ان کی مدد کی، لیکن متاثرہ علاقوں میں جاکر مدد کرنے کی ہمت کسی تو نہیں ہوئی۔ بیانات میں تو ہر کوئی شیر ہوتا ہے۔ رہی جہاد میں مذہبی قائدین کے بیٹوں کی شرکت کی بات، تو میرے خیال میں کم از کم سلیم صافی صاحب سے بہتر اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا کہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے بھی جگر گوشے افغان جہاد میں شریک ہوئے ہیں۔ پھر یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ہر بالغ انسان کو خود فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ کوئی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا۔ اگر ایک آدمی لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور اس کا اپنا بیٹا اس کی بات کو قبول نہ کرے، تو اس بات سے اس آدمی کی جدوجہد پر انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔ Last edited by ھارون اعظم; 12-02-10 at 12:36 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#20 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر تو موضوع بحث محض اتنا ہے کہ " جنہوں نے جہاد کا کلچر پھیلایا کیا انہوں نے خود بھی اس کلچر میں حصہ بقدر جُثہ دیا یا نہیں" تب تو میں بھی کافی حد تک اس سوچ سے اتفاق کرتا ہوں کہ مجاہدین اول (جنکا تذکرہ مندرجہ بالا مضمون میں ناموں کے ساتھ موجود ہے)پہلی گولی چلا کر خود غائب ہو گئے اور بھٹی کا یندھن بننے کے لیے دیگر نوجوانوں کو منتخب کیا گیا۔"۔
تاہم مجھ حقیر کا خیال ہے کہ اس موضوع پر بحث مباحثہ کرنا کہ جماعت اسلامی نے اپنے کتنے جگر گوشے کٹوائے اور دیگر نے کتنے محض وقت کا زیاں ہے۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ صافی کا مقصد موجودہ مسائل کی جڑیں ماضی سے تلاش کر کے انکو حال میں سمھجتے ہوئے مستقبل میں جھانکنا اور انکا حل تلاشنا ہے بہتر ہوگا کہ پہلے ان سوالات کے جوابات تلاش کر لیے جائیں اور کسی متفقہ نقطے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے کہ ماضی: 1۔کیا پاکستان کا افغان جنگ میں کودنے کا فیصلہ درست تھا؟ 2۔کیا پاکستان نے جس طریق پر افغان جنگ میں حصہ لیا وہ درست تھا؟ 3۔کیا پاکستان کا یہ فیصلہ کہ وہ افغان طالبان کی مدد کرے گا ،درست تھا؟ اور طالبان کے افغانستان میں جو اغراض و مقاصد تھے وہ درست تھے؟ 4۔کیا پاکستان کو کسی بھی ذریعے سے یہ حق تھا کہ وہ اپنے کسی ہمسایہ ملک میں فوجی مداخلت کرےِ؟(Strategic Depth) 5۔کیا پاکستان نے افغانستان کو چھوڑ کر امریکہ کا ساتھ دینے کا جو فیصلہ کیا وہ درست تھا؟ اور اس فیصلے کے نتیجے میں جو تباہی و بربادی ہوئی اسکا ذمہ دار کون تھا؟ حال: 6۔پاکستانی طالبان کون ہیں ،انکا ظہور کہاں سے اور کیوں ہوا؟ انکے مقاصد کیا ہیں؟کیا انکے افغان طالبان سے رابطے ہیں۔کیا افغان طالبان انکے پاکستان میں خود کش مشن کی حمایت کرتے ہیں؟ 7۔سوات میں چلنے میں والی تحریک نظام عدل کیوں کر تحریک نفاذ شریعت میں تبدیل ہوئی، ان گروہوں کو کیوں کر اتنا اثر و نفوذ حاصل ہوا کہ یہ لوگ فورسز کو چیلنج کرنے لگ پڑے؟یہ تحریک تمام تر قبائلی علاقہ جات میں پھیل گئی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی؟ پاکستانی انٹیلیجنس ادارے کیوں کر ان سے آنکھیں بند کیے رہے؟ 8۔ کیا وجوہات ہیں کہ یہ لوگ پورے پاکستان میں جہاں چاہتے ہیں اپنی کاروائیاں کر گزرتے ہیں۔ اسلام آباد، لاہور ، کراچی کوئی بھی شہر ان سے محفوظ نہیں۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں کون ان کے مدد گار ہیں مستقبل: 9۔پاکستانی طالبان سے کیسے نبٹا جائے۔کیا فوجی آپریشن اسکا حل ہے؟ کیا مذاکرات نتائج لا سکتے ہیں؟ کیا قیمت ادا کرنی ہو گی؟ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان ایک معاملے پر ہمیشہ احساس کمتری کا شکار رہا ہے کہ وہ بہت دبلا پتلا ہے یعنی اسکی سٹریٹیجک ڈیپتھ بہت کم ہے۔بھارتی میزائل پاکستان کے کونے کونے میں بہت قلیل مدت میں پہنچ سکتے ہیں ۔اسی وجہ سے ارباب اختیار میں سٹریٹیجک ڈیپتھ کا تصور جاگا۔اور یہ مراد تب پر آئی جب پاکستان نے افغانستان میں طالبان کو سپورٹ کیا۔
تاہم معاملات کو 1996 سے چند دہایاں پیچھے جا کر دیکھنا ہوگا۔ روس نامی عفریت جو درجنوں مسلم و غیر مسلم ممالک کو ہڑپ کر چُکی تھی بعض معلوم اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر افغانستان میں اپنے پنجے گاڑ چُکی تھی۔ محض افغانستان پر قبضہ کسی بھی منطقی جواز سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں معاملات تب تشویشناک ہو جاتے ہیں جب بلوچستان کی گوادر پورٹ ذہن میں آتی ہے جس کے سامنے سے دنیا کی 40 فیصد سے زائد بحری ٹریفک گزرتی ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار "غلط یا درست" اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اب اگلا نشانہ پاکستان ہو گا۔ روس کی پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔چناچہ پاکستان اپنے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کے طور پر اپنی مرضی کا میدان جنگ چنتا ہے اور روس سے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں پنجہ آزمائی کا فیصلہ کرتا ہے۔روس کے انتہائی طاقتور ملک اور ویٹو کا حق رکھنے کی وجہ سے یہ امکان بعید القیاس محسوس ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کا ہیجڑہ ادارہ سرخ ریچھ کے خلاف کوئی کاروائی کرے گا۔ بلکہ اس بات کا خطرہ بھی محسوس کیا جاتا ہے کہ پاکستان اگر براہ راست فوجی مداخلت کرے گا تو خود پاکستان کے خلاف کوئی طوفان نہ پھٹ پڑے۔ چناچہ اس وقت کے جرنیلوں کی ٹیم فیصلہ کرتی ہے کہ افغانوں کو ہی روس سے بھڑا دے تاکہ روس وہیں پھنس جائے۔ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ کیوں کر پاکستان افغانستان کے معاملے میں نہ کودتا؟کیوں کر لوگ اسکو اپنی جنگ قرار نہیں دیتے تھے؟ کسی بھی نقطہ نگاہ سے دیکھیے۔ خواہ پڑوسی کے حساب سے یا مسلمان بھائی کے حساب سے خواہ کمزور کی مدد کرنے کے حساب سے یا پھر اپنے آپ کو بچانے کے حساب سے، پاکستان کے پاس بہت زیادہ جواز تھے روس کو افغانستان میں ہی الجھائے رکھنے کے۔اور شاید وقت نے ثابت بھی کر دیا کہ پاکستان کا روس سے پنجہ آزما ہونے کا فیصلہ بر محل تھا۔آنے والے سالوں میں پشاور نے اپنے سینے پر جو ہزاروں دھماکے برداشت کیے، ہزاروں شہریوں کے خون سے جب لالازار ہوا، ان گنت لوگ اپاہج ہوئے، بلوچستان میں بی ایل ائے نامی عفریت یہ سبھی چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ہاں روس تمہی کو ہڑپ کرنے آ رہا تھا۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (07-03-10) |
|
|
#22 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
افغانوں کی ہمیشہ سے خصوصیت رہی ہے کہ یہ غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے ہیں اور دین سے بہت محبت رکھتے ہیں۔اسی لیے اقبال نے بجا کہا تھا کہ
ہے افغان کی غیرت دین کا یہ علاج ملا کو انکے کوہ دمن سے نکال دو چناچہ پاکستان نے اسی خصوصیت کا ستعمال کیا۔ افغانوں کے جو رشتہ دار پاکستان میں مقیم تھے انکو استعمال کیا گیا۔ دین سے محبت کو ایکسپلائٹ کیا گیا۔جہاد کا نعرہ بلند کیا گیا۔ اور ایک جنگ کو جہاد کا روپ دے دیا گیا۔ اس جنگ کا ایندھن خریدنے کے لیے غیر ملک منشیات کے ٹرانسپورٹ کو عام کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اسی عرصہ میں 30 لاکھ کے نزدیک پاکستانی منشیات کے عادی ہو گئے۔۔ تمام تر پاکستانی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جہادیوں کو خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔انکو کھلے عام گھومنے اور اسلحے کے نمایش کی اجازت تھی۔ جو کہ کلاشنکوف کلچر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔سادہ لوحوں کے دماغوں کو جہاد سے بھر دیا گیا۔ اس کام میں سبھی پیش پیش تھے۔ حتی کہ جماعت اسلامی بھی۔ حالانکہ یہ وہی جماعت ہے جس کے بانی سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام نامی تہلکہ خیز کتاب لکھی تھی جس میں جہاد کی انتہائی سخت شرایئط بیان کی گئی تھیں پاکستانی افواج اور مذہبی و جہادی تنظیموں نے نوجوانوں کو اسلحہ چلانے کی تربیت تو دے دی اور ساتھ ہی انکے دماغوں میں جہادی کلچر بھی ڈال دیا لیکن یہ بتانے کا وقت نہ تھا کہ جہاد کی شرائط کی مکمل تربیت بھی کر دیتے۔ساتھ ہی امریکی پیسہ اور اسلحہ بھی آنا شروع ہو گیا (حرام کمائی اپنے اثرات لاتی ہے) چناچہ جہاد کے جذبہ سے سر شار ان لوگوں نے چند ہی سال میں روس جیسی عالمی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔لیکن درست تربیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ جہاد کے ثمرات سے محروم ہو گئے اور سات طاقتور جہادی تنظمیں آپس میں لڑ پڑیں۔جتنا کشت و خون روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد ہوا اس کے ہوتے ہوئے بھی شاید نہ ہوا ہو۔میں سمجھتا ہوں اسکی مندرجہ ذیل وجوہات تھیں 1:ان تنظیموں کا مختلف ممالک سے ہمدردی رکھنا جیسے پاکستان و ایران۔ 2:جہادی کلچر تو رکھنا لیکن جہادی تربیت کا نہ ہونا۔(محض کافر کو مار دینا ہی تو جہاد نہیں) 3:ان تنظیموں میں جہاد کے جزبہ سے سرشار مجرمانہ بیک گراؤنڈ کے لوگوں کا شامل ہونا۔ 4:امریکی امداد: حرام کمائی اور وہ بھی جہاد کے لیے؟ 5:پاکستانی اعلیٰ انتظامیہ کا ایک حادثے میں ہلاک ہو جانا۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
افغان طالبان کا عروج :
افغانستان کے لوگ ان سات تنظیموں کی آپس میں جنگوں سے تنگ آ چکے تھے۔ ہر کسی نے اپنے اپنے علاقے میں عمل داری قائم کر رکھی تھی۔ لوگوں کی عزتیں، جان مال کچھ ھی محفوظ نہ تھے۔ایسے میں طالبان نامی تحریک اٹھتی ہے جسکو پاکستانی امداد کھلم کھلا حاصل ہوتی ہے اور یہ تھوڑے ہی عرصے میں 90 فیصد افغانستان پر قبضہ کر لیتے ہیں۔پاکستان کا سٹریٹیجک ڈیپتھ کا خواب پورا ہو رہا ہوتا ہے۔افغانستان میں پرو پاکستانی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔ یہ طالبان مدرسوں کے پڑھے ہوئے طالب علم ہوتے ہیں۔اور اکثریت کی سوچ اسلام کی روح سے آشنا نہیں ہوتی بلکہ ظاہری اسلام کی پیروکار ہوتی ہے۔ تاہم انکے خلوص پر کوئی شک نہیں ۔ ان لوگوں نے "جیسا تیسا سہی" بہر حال اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی۔ اور انکے دور کے چند سال افغانستان کی تاریخ کے بہترین سالوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ان “پر ہر الزام لگ سکتا ہے لیکن کوئی ان پر یہ الزام نہیں لگا سکا کہ یہ لوگ اخلاقی طورپر دیوالیہ تھے یا مالی لحاظ سے کرپٹ تھے یا انہوں نے لوگوں کی عزتیں اور مال لوٹے یا عام لوگوں کو بلا وجہ قتل کیا گیا۔ حتی کے انکے دور میں پوست کی کاشت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ طالبا ن کا زوال: شاید چند دوست زوال کے لفظ پر اعتراض کریں۔ تاہم لفظ کو چھوڑیے۔امریکہ میں ہونے والے 9/11 کے واقعے نے پوری امریکی قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ان لوگوں میں انتقام کا جذبہ پیدا ہوا۔ ان میں موجود hawksاس صورت حال کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا چاہتے تھے۔ چناچہ کسی خاص منصوبے کے تحت بغیر کسی ثبوت کے افغانستان پر چڑھائی کر دی گئی۔نا اہلی کہیے یا کچھ اور ۔ ۔ ۔افغانستان کی حکومت نے کسی قسم کی باقاعدہ فوج تیار نہیں کی تھی۔ نہ کوئی ایر فورس نہ کچھ اور۔ مشرف صاحب نے حسب معمول پاکستانی یو ٹرن لیتے ہوئے افغانستان کے خلاف امریکی مدد کرنے کا فیصلہ کیااور افغانستان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا یہ فیصلہ درست تھا؟ 1: اس میں کوئی شک نہیں اگر پاکستان تب انکار کر دیتا تو پہلا نشانہ پاکستان ہی بننا تھا۔ لیکن کیا زندگی اور موت کا فیصلہ امریکہ نے کرنا ہوتا ہے؟ 2:کیا ہم اسلامی تاریخ سے اس فیصلہ کی کوئی نظیر لا سکتے ہیں؟ 3: پاکستان کے عوام کو بچا کر افغانستان کے عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوئی اسلامی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے؟ 4:کیا کسی غیر اسلامی ملک کی مدد کی جاسکتی ہے کہ کسی مسلم ملک پر حملہ کر دے؟ 5: اگر پاکستان کا وہ فیصلہ اسلام کی رو سے غلط ثابت ہو جاتا ہے تو ان لاکھوں معصوم افغانوں کے خون کا کون حساب دے گا جو ان حملوں میں مارے گئے؟ 6:اسلامی نقطہ نظر سے قطع نظر پاکستان نے اپنے کن مفادات کے تحفظ کویقینی بنایاِ؟ 7: پاکستان نے امریکہ سے کون سے فوائد حاصل کیے؟اگر نہیں تو کیوں کر نہیں؟ 8: پاکستان نے طالبان یا افغان عوام کے جوابی غیض و غضب سے بچنے کے لیے کیا حکمت عملی تیار کی تھی؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چناچہ ہم 9/11 پر اپنے فیصلے کو جو بھی جواز دے لیں بہر حال اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ امریکہ کے ان حملوں میں جو لوگ شہید ہوئے ان کے رشتہ دار نہ صرف افغانستان میں مقیم تھے بلکہ بہت بڑی تعداد میں پاکستان میں بھی مقیم تھے۔ ۔یہ لوگ نہ صرف ماضی میں پاکستان کے ہی تربیت یافتہ تھے بلکہ ان لوگوں کو گوریلا جبگ خاندانی ورثے میں ملتی ہے۔ ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دینے کے فیصلے اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والی لاکھوں افراد کی ہلاکتوں نے ان میں سے اکثر لوگوں کے دلوں میں غیض و غضب کی آگ کو بھڑکا دیا ہو گا۔ پہلے اس آگ نے افغانستان میں موجود امریکی افواج کی طرف رخ کیا ہوگا اور جب آگ بھڑک اٹھتی ہے تو اسکا کوئی رُخ نہیں ہوتا۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (07-03-10), راجہ اکرام (07-03-10) |
|
|
#25 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنا موضوع مکمل کرنے کے بعد سب کو ایک ہی جگہ اکھٹا کر کے سرورق کے لیے پیش کریں۔
اپکا تجزیہ بڑے بڑے جید جاہلوں سے اچھا ہے۔ |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (08-03-10) |
|
|
#26 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاء اللہ بدر بھائی
بہت ہی اچھے انداز سے آپ نے حالات کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#27 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
((۔نا اہلی کہیے یا کچھ اور ۔ ۔ ۔افغانستان کی حکومت نے کسی قسم کی باقاعدہ فوج تیار نہیں کی تھی۔ نہ کوئی ایر فورس نہ کچھ اور۔))
انہیوں نے بیرونی دنیا کے سخت ترین بائیکاٹ کا سامنا کیا۔فوج تو درکنار کسی سے ایک پھوٹی کوری نہ لی اور ملک 6 سال چلایا((ویسا نہیں جیسا آج کا ایٹمی پاکستان چل رہا ہے))۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کہتے ہین کہ ایر فورس بناتے۔۔۔۔۔۔کہان سے بناتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ؟ |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (07-03-10) |
|
|
#28 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#29 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بجا پر انہیں موقع ہی کہاں ملا تھا جو گلا کیا جائے؟؟؟؟؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#30 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبد اللہ آدم بھائی بحث سے ہٹ کر ایک بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ طالبان کو 9/11 سے قبل کم از کم دو طاقتور اور امیر مملکتوں کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔وہ دو مملکتیں پاکستان اور سعودی عرب ہیں۔ اگر ایران تمام تر پابندیوں کے باوجود سب کچھ بنا سکتا ہے، اگر پاکستان تمام تر اندرونی و بیرونی مخالفتوں، مخاصمتوں اور سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سب کچھ بنا سکتا ہے تو وہ بھی "کچھ نہ کچھ " ضرور کر سکتے تھے۔ تاہم ضروری نہیں کہ ہر کوئی میری رائے سے اتفاق کرے۔میں کھُلے دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ یہ آرا محض میری ذاتی سوچ ہیں کہ ایسا ہوا اور ویسا ہوا نہ کہ میں انکا چشم دید گواہ ہوں۔ چناچہ غلطی کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے۔جس کے لیےپیشگی معذرت خواہ رہوں گا۔
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (08-03-10) |
![]() |
| Tags |
| فرض, کالج, کراچی, پاکستان, پاکستانی, قرآن, قصہ, لندن, چین, نواز شریف, مقابلہ, ماں, متوقع, ایم بی اے, امیر, امریکہ, اجنبی, استاد, بچوں, تلاش, تعلیم, دوست, سیاست, طالبان, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|