واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > پاکستان میں دہشت گردی




طالبان کی جنگ اور مذہبی قائدین کا کردار ,,,,جرگہ…سلیم صافی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-10, 03:58 PM  
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default طالبان کی جنگ اور مذہبی قائدین کا کردار ,,,,جرگہ…سلیم صافی

اس دور کے اخبارات بھی گواہ ہیں اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1979ء کے انتخابات میں حسب خواہش کامیابی نہ ملنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان میں بھی طالبان طرز کی حکومت نافذ کریں گے ۔ بل کلنٹن کے دور میں طالبان کے خلاف کروز میزائل حملے کے بعد احتجاجی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اعلان کیا کرتے تھے ‘ کہ اگر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ اور ان کے ساتھی امریکی بحری بیڑے کو بحیرہ عرب میں ڈبودیں گے ۔ اب جبکہ نہ صرف وہ بیڑہ سالوں سے بحیرہ عرب میں موجود ہے بلکہ پورے افغانستان پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ پاکستان میں بھی من مانیاں کررہا ہے تو میں نے جاننے کی کوشش کی کہ مولانا کس طرح امریکہ کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ وہ چونکہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے چیرمین کی حیثیت سے پاکستان کی امریکہ نواز خارجہ پالیسی کے نوک پلک سنوارنے میں مصروف ہیں ‘ اس لئے میں نے سوچا کہ شاید امریکی بحری بیڑے کو ڈبونے اور فغانستان کو امریکہ کا قبرستان بنانے کے مسلح جہاد میں انہوں نے اپنے جگرگوشوں کو لگایا ہوگا لیکن تحقیق کے نتیجے میں مجھے یہ جان کر شدید مایوسی ہوئی کہ ان کے صاحبزادوں سے کوئی ایک بھی افغانستان یا وزیرستان کے پہاڑوں میں مورچہ زن نہیں ۔
الحمد للہ مولانا فضل الرحمان تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں ۔ ان کے ایک بیٹے اسد محمود خیرالمدارس ملتان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے ۔ دوسرے بیٹے انس محمود ڈی آئی خان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ تیسرے بیٹے اسجد محمود حفظ قرآن میں مگن ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی فدائی بنا ہے ‘ نہ افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف مصروف عمل ہے ‘ نہ کشمیر کی آزادی کے لئے سرگرم ہے اور نہ جنوبی یا شمالی وزیرستان میں مورچہ زن ہے۔
اسی طرح نوے کے عشرے کے آخرمیں جب امریکہ نے افغانستان پر کروز میزائلوں کا حملہ کیا تو مولانا سمیع الحق نے ”دفاع افغانستان کونسل“ کے نام سے ایک تنظیم قائم کردی ۔ اس تنظیم کا مقصد افغانستان میں طالبان حکومت کا دفاع کرنا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی آکر بیٹھ گیا ہے اور ملامحمدعمر مجاہد جنہیں مولانا اپنے شاگرد قرار دیتے تھے ‘ اپنے ساتھیوں سمیت اس کے خلاف مصروف عمل ہیں ۔ مولانا تو شاید اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ خود بندوق یا توپ نہیں چلاسکتے ‘ اس لئے میرا خیال تھا کہ ان کے تمام بیٹے یا ان میں سے بعض افغانستان میں مورچہ زن ہوں گے لیکن تحقیق سے مجھے یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ طالبان کے استاد کے صاحبزادوں میں سے کوئی بھی دفاع افغانستان یا دفاع پاکستان کی جنگ میں مگن نہیں ۔ الحمد للہ مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی ہیں ۔ایک بیوی الحمداللہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہے ۔ مولانا حامد الحق حقانی نے جامعہ حقانیہ سے تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے ۔ گزشتہ اسمبلی میں وہ ایم ایم اے کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اس وقت اپنے والد کے متوقع جانشین کی حیثیت سے سیاست کررہے ہیں ۔دوسرے بیٹے ارشاد الحق حقانی عالم دین اور حافظ قرآن ہیں ۔ وہ ماہنامہ ”الحق“ کے مدیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دارلعلوم میں درس و تدریس کا فریضہ بھی سرانجام دے رہے ہیں ۔دوسری بیوی سے بھی اللہ نے مولانا سمیع الحق کو دو بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کی ہیں لیکن وہ سب ابھی کمسن ہیں البتہ مولانا ان میں سے کسی ایک کو بھی فدائی بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔
جہاد اور امریکہ دشمنی کے ایک اور علم بردار صاحبزادہ فضل کریم کوجب میں نے ملکی سیاست میں مصروف عمل پایا تو سوچا کہ شاید انہوں نے اس مقدس فریضے کی ادائیگی پر اپنے صاحبزادوں کو لگارکھا ہوگا لیکن تحقیق سے وہ بھی کسی اور میدان کے شہسوار نکلے ۔ ان کے ایک بیٹے حامد رضا نے ایم اے اسلامیات‘ ایم بی اے اور لندن کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے اور ان دنوں بزنس کی پلاننگ کررہے ہیں ۔ دوسرے بیٹے محمد حسن رضا لاہور کے ایک کالج میں زیرتعلیم ہیں ۔ تیسرے بیٹے محمد حسین رضا دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جی سی یونیورسٹی سے دنیوی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ چوتھے بیٹے محمد محسن رضا بھی الحمداللہ کالج کے طالب علم ہیں ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اس خطے میں جہادی سوچ کی بنیاد جماعت اسلامی نے رکھی ۔ وہ نہ صرف افغان جہاد میں ہزاروں نوجوانوں کو لڑواچکی بلکہ کشمیر کے جہاد میں بھی اس تنظیم کی زیرسرپرستی سینکڑوں نوجوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء اور پاکستان سے اس کے اثرورسوخ کے لئے سب سے زیادہ بے چین یہی جماعت نظرآتی ہے۔اس جماعت کے امیر سید منورحسن نہ صرف افغان طالبان بلکہ گاہے بگاہے پاکستانی طالبان کی بھی ستائش کرلیتے ہیں ۔ سوچا کہ وہ چونکہ پاکستان میں جہاد کے لئے رائے عامہ بنارہے ہیں ‘ اس لئے شاید اپنی اولاد میں سے کسی کو محاذ پر بھیجا ہوگا لیکن یہاں بھی تحقیق کے نتیجے میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہ ایک بیٹی اورایک بیٹے کے والد ہیں ۔ دونوں ماشاء اللہ کراچی میں معمول کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان کے بیٹے طلحہ نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری لی ہے اور اس وقت پراپرٹی اور آئی ٹی کے کاروبار میں مگن ہیں ۔
جماعت اسلامی کی صفوں میں موازنہ کیا جائے تو جہادی سوچ کو ابھارنے والوں میں محترم قاضی حسین احمد سرفہرست ہیں۔ اپنی ان خدمات کا ان دنوں وہ اپنے مضامین میں بھی بڑے فخر سے تذکرہ کرتے رہتے ہیں ۔ الحمدللہ عمر کے اس حصے میں بھی ان کا جذبہ جوان ہے اور اب بھی خوب امریکہ کے خلاف جذبات کوبھڑکارہے ہیں ۔ خیال تھا کہ وہ چونکہ سید منورحسن کے ساتھ ان کا بوجھ کم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اس لئے شاید اپنے بیٹوں کو جہاد کے لئے وقف کیا ہوگا لیکن ان کے بڑے صاحبزادے اور ہمارے محترم دوست آصف لقمان قاضی امریکہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار میں مصروف ہیں جبکہ دوسری بیٹے ڈاکٹر انس قاضی پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پرائیویٹ پریکٹس کے ساتھ ساتھ پشاور میں صحت کے شعبے میں کاروبار کررہے ہیں ۔ہم سب جانتے ہیں کہ جہاد و قتال کے ایک اور داعی پروفیسر ساجد میر ان دنوں میاں نواز شریف کی سیاست کے لئے شرعی جواز تلاش کرنے میں مگن ہیں ‘ اس لئے خیال یہ تھا کہ جہاد و قتال کے میدان میں انہوں نے اپنے صاحبزادوں کو لگارکھا ہوگا لیکن یہاں بھی تحقیق کے نتیجے میں مایوسی ہوئی ۔ ان کے بیٹے احمد میر نے نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد سرحد یونیورسٹی پشاور سے ڈگری لی اور اس وقت سیالکوٹ میں گڈز فارورڈنگ کا کاروبار کررہے ہیں ۔ دوسرے بیٹے عاقب میر نے بھی نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد الخیریونیورسٹی لاہور سے ایم سی ایس کیا اور اس وقت کینیڈا کی ایک کمپنی سے وابستہ ہیں ۔
رہے وہ ریٹائرڈ جرنیل صاحبان جو اس خطے میں جہادی کلچر کے فروغ کے دعویدار اور ذمہ دار ہیں اور جو اب بھی میڈیا میں اپنے آپ کو زندہ رکھنے کیلئے ہمہ وقت طالبان کی حمایت میں رطب السان رہتے ہیں ‘ تو طالبان کے جہاد میں ان کے اور ان کے بچوں کی شرکت سے تو ایک دنیا واقف ہے ۔ کوئی اربوں میں کھیل رہا ہے ‘ کوئی کروڑوں سے دل بہلا رہا ہے ۔ کوئی پیسے کے زور سے سیاست میں اپنی سلطنت قائم کرچکا ہے تو کوئی کاروبار میں اپنی سلطنت کے قیام میں مگن ہے ۔ جس راستے پر دوسروں کے بچوں کولگارکھا ہے ‘ اس پر شرمندہ بھی نہیں لیکن خود یا اپنے بچوں کو اس راستے پرلگانے سے بھی گریزاں ہیں۔بڑے مزے سے اسلام آباد اور لاہور کے بنگلوں میں بیٹھ کر فائیوسٹارہوٹلوں میں منعقدہ سیمنیاروں سے خطاب کرتے ہوئے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اب امریکہ کی شکست کے تمغے بھی اپنے سینوں پر سجانا چاہتے ہیں۔ پاکستانی طالبان کے ایک رہنما سے کسی نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو دوسروں کے سپرد کردہ لاش کو کاندھا دیئے ہوئے ہیں ۔ تفصیل انہوں نے یوں بیان کی کہ کسی گاؤں میں چار اجنبی ‘ ایک اجنبی کی لاش اٹھائے قبرستان کی طرف جارہے تھے ۔ گاؤں کے لوگوں نے انہیں دیکھا تو اجنبیوں نے ان سے کہا کہ وہ ایک عظیم دینی بزرگ کی لاش کو دفنانے جارہے ہیں۔ چنانچہ گاؤ ں کے سادہ لوگ بھی میت کے ساتھ قبرستان کی طرف چل دئے اور آگے بڑھ کرثواب کی خاطر لاش کو کاندھا دینے لگے۔ پہلا بندہ آگے بڑھا تو ایک اجنبی اپنے کاندھے کو فارغ پاکر خاموشی سے کھسک گیا۔ پھر جب گاؤں کا دوسرا بندہ ‘ دوسرے اجنبی کی جگہ لینے کیلئے آگے بڑھا تو وہ بھی غائب ہوگیا۔ یہی عمل تیسرے اور پھر چوتھے اجنبی نے دھرایا۔لاش قبرستان پہنچی تو اس کے چاروں وارث غائب تھے اور دینی جذبہ کے تحت اس کو کاندھا دینے والے گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ اب اس لاش کو کیا کریں۔ اس کو کہاں دفنائیں اور کیا نام دے کر دفنائیں؟
یہ قصہ سنا کر پاکستانی طالبان کے لیڈر نے کہا کہ ہم نے تو اس گاؤں کے مکینوں کی طرح اسلامی جذبہ کے تحت اس لاش کو کاندھا دیا ۔ یہ لاش تو قاضی حسین احمد ‘ مولانا فضل الرحمان ‘ مولانا سمیع الحق ‘ پروفیسر ساجد میر ‘ جنرل اخترعبدالرحمان ‘ جنرل حمید گل اور اسی نوع کے دیگر لوگوں نے اٹھارکھی تھی۔ ہم نے ان کی پکار پر دینی جذبے کے تحت لبیک کہتے ہوئے اس کو کاندھا دیا لیکن پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سب غائب تھے اور لاش ہمارے گلے پڑ گئی ۔
معزز قارئین: اب کیا یہ مذکورہ شخصیات اور ان کے جانشینوں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنی اس مبارک لاش کو کاندھا دیں یا پھر میدان میں آکر لاش اٹھانے والوں سے واضح الفاظ میں کہہ دیں کہ اس لاش کو کاندھا دینے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے ‘ اس لئے گاؤں کے لوگ بھی اسے اسی طرح چھوڑ دیں جس طرح کہ وہ چھوڑ چکے ہیں؟تماشہ یہ ہے کہ وہ اب بھی آواز یہی لگارہے ہیں کہ یہ ایک عظیم مذہبی ہستی کی لاش ہے اور اسے کاندھا دینا دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہے ‘ لیکن خود لاش کو کاندھا دینے جارہے ہیں ‘ نہ اپنے بچوں سے یہ نیک کام کروانا چاہتے ہیں اور نہ ان کو منع کرنا یا سمجھانا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی تلقین پر یہ لاش اپنے گلے باندھ لی ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-01-10), نورالدین (04-03-10), حیدر (06-03-10), رفیّعہ جوََِِأد (12-01-10), طاھر (09-01-10), عبداللہ حیدر (09-01-10), غیاث (12-12-10)
پرانا 12-01-10, 05:58 PM   #16
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,702
شکریہ: 8,790
2,967 مراسلہ میں 10,822 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
ان کے متعلق کچھ تحقیق کر لیں۔ اس کے بعد لکھیں گا۔ نہیں تو میں معلومات فراہم کر دوں گا۔
آپ معلومات ضرور فراہم کریں۔ مجھے ان کے کارناموں کا علم نہیں ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-01-10, 07:00 PM   #17
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ عبد اللہ بھائی

اور منتظمین بھائی آپ معلومات شیئر کر دیں، تا کہ تلاش میں وقت ضائع نہ ہو سکے ۔۔ شکریہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-01-10, 08:11 PM   #18
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,963
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 216 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کرہی دیتے ذبح ابراھیم اسمائیل کو
کس نےروکا ہاتھ اِن کا اے تمنّائے حسین؟
رفیّعہ جوََِِأد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-02-10, 12:29 PM   #19
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,428
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اے این پی نے جس طرح سیاسی ڈرامہ کھیل کر پہلے صوفی محمد کو جیل سے نکال کر اس سے معاہدہ کیا، پھر ایک طے شدہ اسکرپٹ کے تحت سوات میں فوجی آپریشن کی راہ ہموار کی، اس کے بعد ان کے لیڈروں کی بہادری میں تو کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ اسفندیار ولی اور وزیر اعلیٰ سرحد کو تو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ متاثرین کے کیمپوں کا دورہ ہی کرلیتے۔

افضل خان لالہ کو ایک استثناء سمجھ لیجئے، اور ان کے جذبے کو میں سلام پیش کرتا ہوں۔سوات اور بونیر میں آپریشن شروع ہونے کے بعد اے این پی کے رہنما دوربین میں بھی نظر نہیں آئے۔ صرف جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکن تھے جو وہاں کے عوام کے ساتھ رہے۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ آپریشن شروع کرکے جس طرح لوگوں کو دربدر کیا گیا، ان حالات میں ہمارے روشن خیال اور لبرل لوگ کہاں غائب ہوگئے تھے؟ یہ جماعت اسلامی کے کارکن تھے جو الخدمت کے بینر تلے ان متاثرین کی مدد کر رہے تھے۔ بیشک پورے ملک کے لوگوں نے انسانی جذبے کے تحت ان کی مدد کی، لیکن متاثرہ علاقوں میں جاکر مدد کرنے کی ہمت کسی تو نہیں ہوئی۔ بیانات میں تو ہر کوئی شیر ہوتا ہے۔

رہی جہاد میں مذہبی قائدین کے بیٹوں کی شرکت کی بات، تو میرے خیال میں کم از کم سلیم صافی صاحب سے بہتر اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا کہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے بھی جگر گوشے افغان جہاد میں شریک ہوئے ہیں۔ پھر یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ہر بالغ انسان کو خود فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ کوئی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا۔ اگر ایک آدمی لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور اس کا اپنا بیٹا اس کی بات کو قبول نہ کرے، تو اس بات سے اس آدمی کی جدوجہد پر انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔

Last edited by ھارون اعظم; 12-02-10 at 12:36 PM.
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
حیدر (06-03-10), راجہ اکرام (07-03-10), عبداللہ حیدر (12-02-10)
پرانا 07-03-10, 12:05 AM   #20
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر تو موضوع بحث محض اتنا ہے کہ " جنہوں نے جہاد کا کلچر پھیلایا کیا انہوں نے خود بھی اس کلچر میں حصہ بقدر جُثہ دیا یا نہیں" تب تو میں بھی کافی حد تک اس سوچ سے اتفاق کرتا ہوں کہ مجاہدین اول (جنکا تذکرہ مندرجہ بالا مضمون میں ناموں کے ساتھ موجود ہے)پہلی گولی چلا کر خود غائب ہو گئے اور بھٹی کا یندھن بننے کے لیے دیگر نوجوانوں کو منتخب کیا گیا۔"۔
تاہم مجھ حقیر کا خیال ہے کہ اس موضوع پر بحث مباحثہ کرنا کہ جماعت اسلامی نے اپنے کتنے جگر گوشے کٹوائے اور دیگر نے کتنے محض وقت کا زیاں ہے۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ صافی کا مقصد موجودہ مسائل کی جڑیں ماضی سے تلاش کر کے انکو حال میں سمھجتے ہوئے مستقبل میں جھانکنا اور انکا حل تلاشنا ہے
بہتر ہوگا کہ پہلے ان سوالات کے جوابات تلاش کر لیے جائیں اور کسی متفقہ نقطے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے کہ
ماضی:
1۔کیا پاکستان کا افغان جنگ میں کودنے کا فیصلہ درست تھا؟
2۔کیا پاکستان نے جس طریق پر افغان جنگ میں حصہ لیا وہ درست تھا؟
3۔کیا پاکستان کا یہ فیصلہ کہ وہ افغان طالبان کی مدد کرے گا ،درست تھا؟ اور طالبان کے افغانستان میں جو اغراض و مقاصد تھے وہ درست تھے؟
4۔کیا پاکستان کو کسی بھی ذریعے سے یہ حق تھا کہ وہ اپنے کسی ہمسایہ ملک میں فوجی مداخلت کرےِ؟(Strategic Depth)
5۔کیا پاکستان نے افغانستان کو چھوڑ کر امریکہ کا ساتھ دینے کا جو فیصلہ کیا وہ درست تھا؟ اور اس فیصلے کے نتیجے میں جو تباہی و بربادی ہوئی اسکا ذمہ دار کون تھا؟
حال:
6۔پاکستانی طالبان کون ہیں ،انکا ظہور کہاں سے اور کیوں ہوا؟ انکے مقاصد کیا ہیں؟کیا انکے افغان طالبان سے رابطے ہیں۔کیا افغان طالبان انکے پاکستان میں خود کش مشن کی حمایت کرتے ہیں؟
7۔سوات میں چلنے میں والی تحریک نظام عدل کیوں کر تحریک نفاذ شریعت میں تبدیل ہوئی، ان گروہوں کو کیوں کر اتنا اثر و نفوذ حاصل ہوا کہ یہ لوگ فورسز کو چیلنج کرنے لگ پڑے؟یہ تحریک تمام تر قبائلی علاقہ جات میں پھیل گئی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی؟ پاکستانی انٹیلیجنس ادارے کیوں کر ان سے آنکھیں بند کیے رہے؟
8۔ کیا وجوہات ہیں کہ یہ لوگ پورے پاکستان میں جہاں چاہتے ہیں اپنی کاروائیاں کر گزرتے ہیں۔ اسلام آباد، لاہور ، کراچی کوئی بھی شہر ان سے محفوظ نہیں۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں کون ان کے مدد گار ہیں
مستقبل:
9۔پاکستانی طالبان سے کیسے نبٹا جائے۔کیا فوجی آپریشن اسکا حل ہے؟ کیا مذاکرات نتائج لا سکتے ہیں؟ کیا قیمت ادا کرنی ہو گی؟
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-03-10), منتظمین (07-03-10), راجہ اکرام (07-03-10), عبداللہ آدم (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 12:24 AM   #21
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان ایک معاملے پر ہمیشہ احساس کمتری کا شکار رہا ہے کہ وہ بہت دبلا پتلا ہے یعنی اسکی سٹریٹیجک ڈیپتھ بہت کم ہے۔بھارتی میزائل پاکستان کے کونے کونے میں بہت قلیل مدت میں پہنچ سکتے ہیں ۔اسی وجہ سے ارباب اختیار میں سٹریٹیجک ڈیپتھ کا تصور جاگا۔اور یہ مراد تب پر آئی جب پاکستان نے افغانستان میں طالبان کو سپورٹ کیا۔
تاہم معاملات کو 1996 سے چند دہایاں پیچھے جا کر دیکھنا ہوگا۔ روس نامی عفریت جو درجنوں مسلم و غیر مسلم ممالک کو ہڑپ کر چُکی تھی بعض معلوم اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر افغانستان میں اپنے پنجے گاڑ چُکی تھی۔ محض افغانستان پر قبضہ کسی بھی منطقی جواز سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں معاملات تب تشویشناک ہو جاتے ہیں جب بلوچستان کی گوادر پورٹ ذہن میں آتی ہے جس کے سامنے سے دنیا کی 40 فیصد سے زائد بحری ٹریفک گزرتی ہے۔
پاکستان کے ارباب اختیار "غلط یا درست" اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اب اگلا نشانہ پاکستان ہو گا۔ روس کی پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔چناچہ پاکستان اپنے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کے طور پر اپنی مرضی کا میدان جنگ چنتا ہے اور روس سے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں پنجہ آزمائی کا فیصلہ کرتا ہے۔روس کے انتہائی طاقتور ملک اور ویٹو کا حق رکھنے کی وجہ سے یہ امکان بعید القیاس محسوس ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کا ہیجڑہ ادارہ سرخ ریچھ کے خلاف کوئی کاروائی کرے گا۔ بلکہ اس بات کا خطرہ بھی محسوس کیا جاتا ہے کہ پاکستان اگر براہ راست فوجی مداخلت کرے گا تو خود پاکستان کے خلاف کوئی طوفان نہ پھٹ پڑے۔ چناچہ اس وقت کے جرنیلوں کی ٹیم فیصلہ کرتی ہے کہ افغانوں کو ہی روس سے بھڑا دے تاکہ روس وہیں پھنس جائے۔
مجھے نہیں سمجھ آتی کہ کیوں کر پاکستان افغانستان کے معاملے میں نہ کودتا؟کیوں کر لوگ اسکو اپنی جنگ قرار نہیں دیتے تھے؟
کسی بھی نقطہ نگاہ سے دیکھیے۔ خواہ پڑوسی کے حساب سے یا مسلمان بھائی کے حساب سے خواہ کمزور کی مدد کرنے کے حساب سے یا پھر اپنے آپ کو بچانے کے حساب سے، پاکستان کے پاس بہت زیادہ جواز تھے روس کو افغانستان میں ہی الجھائے رکھنے کے۔اور شاید وقت نے ثابت بھی کر دیا کہ پاکستان کا روس سے پنجہ آزما ہونے کا فیصلہ بر محل تھا۔آنے والے سالوں میں پشاور نے اپنے سینے پر جو ہزاروں دھماکے برداشت کیے، ہزاروں شہریوں کے خون سے جب لالازار ہوا، ان گنت لوگ اپاہج ہوئے، بلوچستان میں بی ایل ائے نامی عفریت یہ سبھی چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ہاں روس تمہی کو ہڑپ کرنے آ رہا تھا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 12:43 AM   #22
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افغانوں کی ہمیشہ سے خصوصیت رہی ہے کہ یہ غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے ہیں اور دین سے بہت محبت رکھتے ہیں۔اسی لیے اقبال نے بجا کہا تھا کہ
ہے افغان کی غیرت دین کا یہ علاج
ملا کو انکے کوہ دمن سے نکال دو
چناچہ پاکستان نے اسی خصوصیت کا ستعمال کیا۔ افغانوں کے جو رشتہ دار پاکستان میں مقیم تھے انکو استعمال کیا گیا۔ دین سے محبت کو ایکسپلائٹ کیا گیا۔جہاد کا نعرہ بلند کیا گیا۔ اور ایک جنگ کو جہاد کا روپ دے دیا گیا۔ اس جنگ کا ایندھن خریدنے کے لیے غیر ملک منشیات کے ٹرانسپورٹ کو عام کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اسی عرصہ میں 30 لاکھ کے نزدیک پاکستانی منشیات کے عادی ہو گئے۔۔ تمام تر پاکستانی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جہادیوں کو خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔انکو کھلے عام گھومنے اور اسلحے کے نمایش کی اجازت تھی۔ جو کہ کلاشنکوف کلچر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔سادہ لوحوں کے دماغوں کو جہاد سے بھر دیا گیا۔ اس کام میں سبھی پیش پیش تھے۔ حتی کہ جماعت اسلامی بھی۔ حالانکہ یہ وہی جماعت ہے جس کے بانی سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام نامی تہلکہ خیز کتاب لکھی تھی جس میں جہاد کی انتہائی سخت شرایئط بیان کی گئی تھیں
پاکستانی افواج اور مذہبی و جہادی تنظیموں نے نوجوانوں کو اسلحہ چلانے کی تربیت تو دے دی اور ساتھ ہی انکے دماغوں میں جہادی کلچر بھی ڈال دیا لیکن یہ بتانے کا وقت نہ تھا کہ جہاد کی شرائط کی مکمل تربیت بھی کر دیتے۔ساتھ ہی امریکی پیسہ اور اسلحہ بھی آنا شروع ہو گیا (حرام کمائی اپنے اثرات لاتی ہے)
چناچہ جہاد کے جذبہ سے سر شار ان لوگوں نے چند ہی سال میں روس جیسی عالمی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔لیکن درست تربیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ جہاد کے ثمرات سے محروم ہو گئے اور سات طاقتور جہادی تنظمیں آپس میں لڑ پڑیں۔جتنا کشت و خون روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد ہوا اس کے ہوتے ہوئے بھی شاید نہ ہوا ہو۔میں سمجھتا ہوں اسکی مندرجہ ذیل وجوہات تھیں
1:ان تنظیموں کا مختلف ممالک سے ہمدردی رکھنا جیسے پاکستان و ایران۔
2:جہادی کلچر تو رکھنا لیکن جہادی تربیت کا نہ ہونا۔(محض کافر کو مار دینا ہی تو جہاد نہیں)
3:ان تنظیموں میں جہاد کے جزبہ سے سرشار مجرمانہ بیک گراؤنڈ کے لوگوں کا شامل ہونا۔
4:امریکی امداد: حرام کمائی اور وہ بھی جہاد کے لیے؟
5:پاکستانی اعلیٰ انتظامیہ کا ایک حادثے میں ہلاک ہو جانا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-03-10), منتظمین (07-03-10), راجہ اکرام (07-03-10), عبداللہ آدم (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 01:05 AM   #23
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افغان طالبان کا عروج :
افغانستان کے لوگ ان سات تنظیموں کی آپس میں جنگوں سے تنگ آ چکے تھے۔ ہر کسی نے اپنے اپنے علاقے میں عمل داری قائم کر رکھی تھی۔ لوگوں کی عزتیں، جان مال کچھ ھی محفوظ نہ تھے۔ایسے میں طالبان نامی تحریک اٹھتی ہے جسکو پاکستانی امداد کھلم کھلا حاصل ہوتی ہے اور یہ تھوڑے ہی عرصے میں 90 فیصد افغانستان پر قبضہ کر لیتے ہیں۔پاکستان کا سٹریٹیجک ڈیپتھ کا خواب پورا ہو رہا ہوتا ہے۔افغانستان میں پرو پاکستانی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔
یہ طالبان مدرسوں کے پڑھے ہوئے طالب علم ہوتے ہیں۔اور اکثریت کی سوچ اسلام کی روح سے آشنا نہیں ہوتی بلکہ ظاہری اسلام کی پیروکار ہوتی ہے۔ تاہم انکے خلوص پر کوئی شک نہیں ۔ ان لوگوں نے "جیسا تیسا سہی" بہر حال اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی۔ اور انکے دور کے چند سال افغانستان کی تاریخ کے بہترین سالوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ان “پر ہر الزام لگ سکتا ہے لیکن کوئی ان پر یہ الزام نہیں لگا سکا کہ یہ لوگ اخلاقی طورپر دیوالیہ تھے یا مالی لحاظ سے کرپٹ تھے یا انہوں نے لوگوں کی عزتیں اور مال لوٹے یا عام لوگوں کو بلا وجہ قتل کیا گیا۔ حتی کے انکے دور میں پوست کی کاشت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔
طالبا ن کا زوال:
شاید چند دوست زوال کے لفظ پر اعتراض کریں۔ تاہم لفظ کو چھوڑیے۔امریکہ میں ہونے والے 9/11 کے واقعے نے پوری امریکی قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ان لوگوں میں انتقام کا جذبہ پیدا ہوا۔ ان میں موجود hawksاس صورت حال کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا چاہتے تھے۔ چناچہ کسی خاص منصوبے کے تحت بغیر کسی ثبوت کے افغانستان پر چڑھائی کر دی گئی۔نا اہلی کہیے یا کچھ اور ۔ ۔ ۔افغانستان کی حکومت نے کسی قسم کی باقاعدہ فوج تیار نہیں کی تھی۔ نہ کوئی ایر فورس نہ کچھ اور۔
مشرف صاحب نے حسب معمول پاکستانی یو ٹرن لیتے ہوئے افغانستان کے خلاف امریکی مدد کرنے کا فیصلہ کیااور افغانستان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا یہ فیصلہ درست تھا؟
1: اس میں کوئی شک نہیں اگر پاکستان تب انکار کر دیتا تو پہلا نشانہ پاکستان ہی بننا تھا۔ لیکن کیا زندگی اور موت کا فیصلہ امریکہ نے کرنا ہوتا ہے؟
2:کیا ہم اسلامی تاریخ سے اس فیصلہ کی کوئی نظیر لا سکتے ہیں؟
3: پاکستان کے عوام کو بچا کر افغانستان کے عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوئی اسلامی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے؟
4:کیا کسی غیر اسلامی ملک کی مدد کی جاسکتی ہے کہ کسی مسلم ملک پر حملہ کر دے؟
5: اگر پاکستان کا وہ فیصلہ اسلام کی رو سے غلط ثابت ہو جاتا ہے تو ان لاکھوں معصوم افغانوں کے خون کا کون حساب دے گا جو ان حملوں میں مارے گئے؟
6:اسلامی نقطہ نظر سے قطع نظر پاکستان نے اپنے کن مفادات کے تحفظ کویقینی بنایاِ؟
7: پاکستان نے امریکہ سے کون سے فوائد حاصل کیے؟اگر نہیں تو کیوں کر نہیں؟
8: پاکستان نے طالبان یا افغان عوام کے جوابی غیض و غضب سے بچنے کے لیے کیا حکمت عملی تیار کی تھی؟
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (07-03-10), منتظمین (07-03-10), راجہ اکرام (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 01:10 AM   #24
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چناچہ ہم 9/11 پر اپنے فیصلے کو جو بھی جواز دے لیں بہر حال اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ امریکہ کے ان حملوں میں جو لوگ شہید ہوئے ان کے رشتہ دار نہ صرف افغانستان میں مقیم تھے بلکہ بہت بڑی تعداد میں پاکستان میں بھی مقیم تھے۔ ۔یہ لوگ نہ صرف ماضی میں پاکستان کے ہی تربیت یافتہ تھے بلکہ ان لوگوں کو گوریلا جبگ خاندانی ورثے میں ملتی ہے۔ ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دینے کے فیصلے اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والی لاکھوں افراد کی ہلاکتوں نے ان میں سے اکثر لوگوں کے دلوں میں غیض و غضب کی آگ کو بھڑکا دیا ہو گا۔ پہلے اس آگ نے افغانستان میں موجود امریکی افواج کی طرف رخ کیا ہوگا اور جب آگ بھڑک اٹھتی ہے تو اسکا کوئی رُخ نہیں ہوتا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (07-03-10), راجہ اکرام (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 02:50 AM   #25
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اپنا موضوع مکمل کرنے کے بعد سب کو ایک ہی جگہ اکھٹا کر کے سرورق کے لیے پیش کریں۔
اپکا تجزیہ بڑے بڑے جید جاہلوں سے اچھا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (08-03-10)
پرانا 07-03-10, 05:35 AM   #26
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ بدر بھائی
بہت ہی اچھے انداز سے آپ نے حالات کا تجزیہ پیش کیا ہے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-03-10, 10:34 PM   #27
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,693
شکریہ: 22,614
4,760 مراسلہ میں 13,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

((۔نا اہلی کہیے یا کچھ اور ۔ ۔ ۔افغانستان کی حکومت نے کسی قسم کی باقاعدہ فوج تیار نہیں کی تھی۔ نہ کوئی ایر فورس نہ کچھ اور۔))
انہیوں نے بیرونی دنیا کے سخت ترین بائیکاٹ کا سامنا کیا۔فوج تو درکنار کسی سے ایک پھوٹی کوری نہ لی اور ملک 6 سال چلایا((ویسا نہیں جیسا آج کا ایٹمی پاکستان چل رہا ہے))۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کہتے ہین کہ ایر فورس بناتے۔۔۔۔۔۔کہان سے بناتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ؟
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (07-03-10)
پرانا 07-03-10, 10:36 PM   #28
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,428
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
((۔نا اہلی کہیے یا کچھ اور ۔ ۔ ۔افغانستان کی حکومت نے کسی قسم کی باقاعدہ فوج تیار نہیں کی تھی۔ نہ کوئی ایر فورس نہ کچھ اور۔))
انہیوں نے بیرونی دنیا کے سخت ترین بائیکاٹ کا سامنا کیا۔فوج تو درکنار کسی سے ایک پھوٹی کوری نہ لی اور ملک 6 سال چلایا((ویسا نہیں جیسا آج کا ایٹمی پاکستان چل رہا ہے))۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کہتے ہین کہ ایر فورس بناتے۔۔۔۔۔۔کہان سے بناتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ؟
طالبان حکومت کا یہ پہلو تو واقعی قابل غور ہے۔ ایمانی طاقت اپنی جگہ، لیکن اسلام نے ہمیشہ جہاد کے لئے تیاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ ائیرفورس کی تیاری کو بھی آپ اس زمرے میں شمار کرسکتے ہیں۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-03-10, 10:42 PM   #29
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,693
شکریہ: 22,614
4,760 مراسلہ میں 13,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بجا پر انہیں موقع ہی کہاں ملا تھا جو گلا کیا جائے؟؟؟؟؟؟؟
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 07-03-10, 11:48 PM   #30
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,490
شکریہ: 50,033
10,119 مراسلہ میں 32,007 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبد اللہ آدم بھائی بحث سے ہٹ کر ایک بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ طالبان کو 9/11 سے قبل کم از کم دو طاقتور اور امیر مملکتوں کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔وہ دو مملکتیں پاکستان اور سعودی عرب ہیں۔ اگر ایران تمام تر پابندیوں کے باوجود سب کچھ بنا سکتا ہے، اگر پاکستان تمام تر اندرونی و بیرونی مخالفتوں، مخاصمتوں اور سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سب کچھ بنا سکتا ہے تو وہ بھی "کچھ نہ کچھ " ضرور کر سکتے تھے۔ تاہم ضروری نہیں کہ ہر کوئی میری رائے سے اتفاق کرے۔میں کھُلے دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ یہ آرا محض میری ذاتی سوچ ہیں کہ ایسا ہوا اور ویسا ہوا نہ کہ میں انکا چشم دید گواہ ہوں۔ چناچہ غلطی کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے۔جس کے لیےپیشگی معذرت خواہ رہوں گا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (08-03-10)
جواب

Tags
فرض, کالج, کراچی, پاکستان, پاکستانی, قرآن, قصہ, لندن, چین, نواز شریف, مقابلہ, ماں, متوقع, ایم بی اے, امیر, امریکہ, اجنبی, استاد, بچوں, تلاش, تعلیم, دوست, سیاست, طالبان, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger