|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
نوشی گیلانی وجود کو جب محبت کا وجدان ملا تو شاعری نے جنم لیا۔اس کا آہنگ وہی ہے جو موسیقی کا ہے کہ جب تک سارے سُر سچے نہ گیں ،گلے میں نور نہیں اُترتا،اسی طرح دل کے سب زخم لو نہ دیں تو حرف میں روشنی نہیں آتی۔دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے الفاظ دل کی گہرائیوں میں ضرور اُترتے ہیں اور دل میں اُتر جانے والی شاعری ایک حقیقت سے وابستہ اسرار ہے۔اس طرح نوشی گیلانی کی شاعری میں معنی کی عجیب و غریب خوشبو ہے،پھولوں کی ،رنگوں کی،تتلیوں کی ،جذبوں کی صداقت کی،احساس کی لطافت کی اور سوچ کی پاکیزگی و بلندی کی،پھر چونکہ اُنکی شاعری میں ہوا اور موج ِ ہوا کے استعارات کو خاص دخل ہے،اس لیئے یہ خوشبو اُڑی اُڑی پھرتی ہے اور قاری کے جسم و جاں کے در و بام کو معطر کر جاتی ہے ۔
__________________
جاؤں صدقے سوہنے کلمے والے توں سوہنے نبی امت دے رکھوالے توں
Last edited by پاکستانی; 16-09-07 at 04:12 PM. وجہ: its will be updated again |
|
|