|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1106
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (21-03-10), ھارون اعظم (26-03-10), احمد بلال (29-05-10), راجہ اکرام (23-03-10), عادل سہیل (23-03-10), عبداللہ حیدر (22-03-10) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
چچا جی، آپ کے سوالوں کی طرف آنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر کے متعلق کچھ ضروری تفصل بیان کر دی جائے۔ لغت میں وتر کا مطلب طاق ہے جو جفت کے مقابلے پر بولا جاتا ہے۔ یعنی ایسا عدد جو دو پر تقسیم نہ ہو سکے مثلا ایک، تین ، پانچ، سات، نو وغیرہ جبکہ اصطلاحًا وتر اس نماز کو کہا جاتا ہے جو رات کے نوافل یعنی تہجد کے آخر پر پڑھی جاتی ہے(لیکن جو رات کو نہ اٹھ سکتا ہو وہ عشاء کے بعد بھی پڑھ سکتا ہے)۔اسے وتر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی رکعات کی تعداد طاق ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے امت کو نماز وتر پڑھنے کا حکم یوں فرمایا ہے: إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ فَصَلُّوهَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 108، مسند احمد) "بے شک اللہ نے تمہارے لیے ایک نماز کو زیادہ کر دیا ہے اور وہ (نماز) وتر ہے ۔ تم اسے نمازَ عشاء اور نمازَ فجر کے درمیان پڑھا کرو" اس حدیث سے بعض فقہاء مثلًا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے وتر کے وجوب کی دلیل پکڑی ہے ۔ان کے نزدیک واجب کا مطلب وہ عبادت ہے جس کا درجہ فرض سے کم اور سنت سے زیادہ ہوتا ہے اور جس کے ترک پر عذاب کا ڈر ہے (سلف صالحین اور دوسرے ائمہ واجب کو فرض کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں) لیکن دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر کے وجوب کا موقف درست نہیں ہے کیوں کہ صحیحین میں ایک اعرابی صحابی کا قصہ مذکور ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ کیا میرے لیے پانچ نمازوں کے (فرائض) کے علاوہ بھی کوئی نماز پڑھنا لازم ہے تو فرمایا: لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ "نہیں، سوائے اس کے کہ تو (اپنی مرضی سے ) زیادہ ادا کرے" پھر اس نے کچھ دوسری عبادات کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ "اللہ کی قسم! میں اس میں نہ کمی کروں گا نہ اس سے زیادہ کروں گا" تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ "اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو کامیاب ہو گیا" (صحیح بخاری کتاب الایمان باب الزکاۃ من الاسلام) اگر وتر کی نماز واجب ہوتی اور اس کے ترک پر عذاب کا ڈر ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس صحابی کو صرف پانچ نمازوں کے(فرائض) ادا کرنے پر کامیابی کی خوشخبری نہ سناتے۔ چنانچہ ائمہ اربعہ میں سے امام احمد بن حنبل اور امام شافعی رحمہما اللہ نے وتر کے سنت موکدہ ہونے کا موقف اختیار کیا ہے، امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں امام محمد اور ابویوسف نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے(فتح القدیر کتاب الصلاۃ باب صلاۃ الوتر)۔ اور یہی موقف درست معلوم ہوتا ہے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 23-03-10 at 01:19 AM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (23-03-10), کنعان (05-04-10), مون لائیٹ آفریدی (10-04-10), احمد بلال (29-05-10), راجہ اکرام (23-03-10), عادل سہیل (23-03-10), عبداللہ آدم (23-03-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، فیصل بھائی ، بہت اچھا سوال کیا ہے ، اور ، جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، اچھا جواب دیا ہے ، اب اس کو مکمل بھی کرنا ورنہ ![]() ![]() ![]() ![]() و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
چچا جان! یعنی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
وتر کی رکعتوں کے بارے میں امام ابن ماجہ اور امام ابو داؤد نے ایک صحیح حدیث الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ روایت کی ہے لیکن دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ سنن ابی داؤد کے الفاظ یہ ہیں:
الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب کم الوتر، صحیح و ضعیف سنن سنن ابی داؤد حدیث نمبر 1422، سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب ما جاء فی الوتر بثلاث و خمس و سبع و تسع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1190) "وتر (پڑھنا) ہر مسلمان پر حق ہے، تو جو چاہے پانچ (رکعت) وتر پڑھے اور جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہے ایک پڑھے" ایک رکعت وتر کے بارے میں امام مسلم نے بھی اپنی صحیح میں یہ حدیث بیان کی ہے: عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ (صحیح مسلم صلاۃ المسافرین و قصرھا باب صلاۃ اللیل مثنی مثنی و الوتر رکعۃ من آخر اللیل) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا: "وتر رات کے آخری حصے میں (پڑھے جانے والی) ایک رکعت ہے۔ ان دونوں صحیح احادیث کی روشنی میں آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ "جی ہاں، وتر تین رکعت بھی پڑھے جا سکتے ہیں اور ایک رکعت بھی" |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آپ کا پہلا اور آخری سوال ایک دوسرے سے کچھ تعلق رکھتے ہیں اس لیے باقی جوابات سے پہلے اس کی تفصیل پیش خدمت ہے کہ "ایک رکعت کی رد میں کیا دلیل دی جاتی ہے ؟
ائمہ اربعہ میں سے امام احمد، امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ ایک رکعت وتر کے درست ہونے کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ احناف کے ہاں تین سے کم جائز نہیں ہیں۔ چنانچہ ایک رکعت کا تقریبًا تمام تر رد فقہ حنفی کے پیروکاروں نے کیا ہے جن کے دلائل کا خلاصہ فقہ حنفی کی معتبر کتاب "فتح القدیر" میں ابن ھمام رحمہ اللہ نے بیان کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کی شرح فیض الباری میں اس موضوع پر بڑی تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ان کے دلائل اور دوسرے علماء کی طرف سے انکے جواب کا خلاصہ ذیل میںپیش کیا جاتا ہے حنفی علماءنے اپنے دعوے کے ثبوت میں سب سے پہلے وہ احادیث پیش کی ہیں جن میں تین رکعت وتر کا بیان ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ دوسرے علماء کے نزدیک تین رکعت کا اثبات ایک رکعت کا ابطال نہیں کرتا، وہ سنن ابی داؤد کی اس حدیث کو دلیل بناتے ہیں جو اوپر گزر چکی ہے جس میں بڑے واضح انداز میں بتایا گیا ہے کہ وتر کی رکعات ایک، تین اور پانچ تک ہو سکتی ہیں۔ دوسری دلیل : جن احادیث میں ایک رکعت کا ذکر ہے اس سےکوئی الگ رکعت مراد نہیں بلکہ تین وتر کی آخری رکعت مراد ہے ۔ جواب:حدیث کے الفاظ میں اس تاویل کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ مثلًا: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى (صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب ما جاء فی الوتر) "رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت (کر کے پڑھنی) ہے، پھر جب تم میں سے کسی (نمازی) کو صبح (کے طلوع ہونے) کا ڈر پیدا ہو جائے تو ایک رکعت (وتر) پڑھے جو اس کی پہلی پڑھی ہوئی نماز کو طاق بنا دے گی" تیسری دلیل: ایک رکعت نماز کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔ جواب: عبادات کا دارومدار عقل پر نہیں نقل (یعنی قرآن و حدیث کے نصوص) پر ہوتا ہے۔ چوتھی دلیل:نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ایک رکعت پڑھنا ثابت نہیں۔ جواب: اگر یہ بات درست ہے تو اس کے جواب میں اتنا ہی کافی ہے کہ سنت جس طرح فعل سے ثابت ہوتی ہے اسی طرح قول سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ ایک رکعت کے ثبوت میں بہت سی قولی احادیث صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں تو اسے سنت نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 23-03-10 at 12:41 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (23-03-10), مون لائیٹ آفریدی (10-04-10), احمد بلال (29-05-10), راجہ اکرام (23-03-10), عادل سہیل (23-03-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,530
کمائي: 298,224
شکریہ: 36,136
13,829 مراسلہ میں 40,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ بھتیجے
بہت سے شکوک و شبہات دور ہوئے اللہ آپ کے علم میں مزید وسعت پیدا کرے اور آپ کو علم بانٹنے والا بنائے رکھے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
و ایاک یا عمی!
یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اپنے دین کی ایک بات سمجھنے اور سمجھانے کا موقع دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے اور مجھ سمیت ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق دے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
![]() جزاک اللہ خیرا۔ آپ کے علمی ڈنٹر پیلنے والے مشورے سے بہت کچھ حاصل ہوا ہے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,655
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ اپ تین رکعت کی تائید میں پیش کی جانے والی احادیث بھی شامل کر دیتے اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے۔ بجائے کسی ایک فریق کی حمائت کرنے کے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (23-03-10), عبداللہ حیدر (23-03-10) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,530
کمائي: 298,224
شکریہ: 36,136
13,829 مراسلہ میں 40,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جہاں تک میں سمجھا ہوں 3 رکعت کی مخالفت نہیں کی گئی بلکہ یہ کہا ہے کے 3 بھی پڑھی جاسکتی ہیں اور 1 بھی
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | ||
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,655
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
|
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (23-03-10), عبداللہ حیدر (23-03-10) |
|
|
#14 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
آپ کی بات درست ہے۔ تین رکعت کے بارے میں امام نسائی نے یہ حدیث بیان کی ہے: عن أبي بن كعب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر بثلاث ركعات كان يقرأ في الأولى بسبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية بقل يا أيها الكافرون وفي الثالثة بقل هو الله أحد ويقنت قبل الركوع (صحیح و ضعیف سنن نسائی 1699) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ پہلی رکعت میںسبح اسم ربک الاعلی، دوسری میں قل یا ایہا الکافرون اور تیسری میںقل ھو اللہ احد پڑھتے اور رکوع سے قبل قنوت کرتے" عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَةِ وَالرَّكْعَتَيْنِ فِي الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وتر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرتے پھر تیسری رکعت پڑھتے اور بعض دفعہ ان دونوں کے درمیان بات بھی کر لیتے تھے" کل سے میرا تبادلہ ایک دوسرے شہر میںہو رہا ہے جس کی تیاری میں مشغولیت کی وجہ سے تفصیل ابھی عرض نہیں کر سکتا اور ممکن ہے کہ اگلے کچھ دن حاضر نہ ہو سکوں۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھتیجے یہ سرخا سرخ """ بھی """ سے کون سا مسٕئلہ اخذ کرنے کی تیاری ہے ![]() ![]() ![]() الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں علمء نافع میں سے کچھ عطاء فرمایا اور اس کے اسباب میں مجھے بھی شامل فرمایا ، بس اب تُم سفر کی تیاری کرو ، پھر کچھ آرام کرو اتنے میں ان شاء اللہ ایگزاسٹڈ سیلز ریلکس ہو جائیں گے پھر دوبارہ سے ڈنٹر پیلنا ، ![]() ![]() ![]() ![]() و السلام علیکم۔
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| ہوگا, ہاتھ, کوئی, وتر, لوگ, نماز, معلومات, افراد, بھول, بھائی, بڑے, تکبیر, جاتی, خود, دی, دلیل, درکار, دعائے, روشنی, رد, سوال, ضروری, علیحدہ, علم, عنایت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اُدھر سے وار ہوتا تو اِدھر سے پیار ہوتا | میاں شاہد | امیر مینائی | 1 | 17-10-10 10:05 AM |
| نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں غیر ملکی کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دفتر | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 17-04-08 08:19 AM |
| ق لیگ کے سینیٹرز کی وفاداریاں تبدیل ہونیکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،شجاعت | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 26-02-08 02:33 AM |
| اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 13-11-07 09:06 AM |
| مارشل لاء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ججوں کو شیر بننا ہوگا،اعتزاز احسن | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 11:09 AM |