|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا سنت ہے۔ اسے رفع الیدین کہتے ہیں۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے جنہیں صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔ ہم پہلے اس بارے میں صحیح احادیث بیان کرتے ہیں، اس کے بعد فقہاء کے اختلاف کا سبب اور دوسرے ضروری امور کی وضاحت شامل کی جائے گی ان شاء اللہ۔
پہلی حدیث: عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین فی التکبیرۃ الاولی مع الافتتاح سواء، “عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیا کرتے تھے، اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی انہیں اسی طرح اٹھاتے تھے" دوسری حدیث: عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا (صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع و اذا رفع، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام) ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھتے وقت تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ہاتھ اٹھائے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بھی (نماز میں) ایسا ہی کیا تھا"۔ تیسری حدیث: وَائِلِ بْنِ حُجْرٍأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب وضع یدہ الیمنٰی علی الیسرٰی بعد تکبیرۃ الاحرام) “وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، ۔ ۔ ۔ ۔پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے"۔ چوتھی حدیث: ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے دس صحابہ کے سامنے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم رکوع میں جاتے اور کھڑے ہوتے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور ان سب نے اس بات کی تصدیق کی۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب افتتاح الصلاۃ، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 730) پانچویں حدیث: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنْ الرُّكُوعِ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من ذکر انہ یرفع یدیہ اذا قام من الثنتین، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 744) “علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے، اور جب قراءت سے فارغ ہو کر رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تب اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے تھے" چھٹی حدیث: عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 866) “انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نمازشروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے"۔ ساتویں حدیث: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 868 “جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے"۔ آٹھویں حدیث: عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ قَالَ هَلْ أُرِيكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ لِلرُّكُوعِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَاصْنَعُوا وَلاَ يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ. سنن الدار قطنی کتاب الصلاۃ باب ذکر التکبیر و رفع الیدین عند الافتتاح و الرکوع، اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 609 “ابو موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ نے (ایک دن) کہا "کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز (جیسی نماز پڑھ کر) نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھائے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور ہاتھ اٹھائے۔ پھر کہنے لگے "تم بھی اسی طرح کیا کرو"۔ اور دو سجدوں کےد رمیان انہوں نے ہاتھ نہیں اٹھائے تھے"۔ نویں حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ وَيَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ مسند احمد مسند المکثرین من الصحابہ مسند عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، اصل صفۃ صلاۃ جلد 1 ص 193 “ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع اور سجدے میں بھی ایسا کرتے" دسویں حدیث: عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال :صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع السنن الکبریٰ للبیہقی جلد 2 ص 73۔ اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 610 ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتےتھے" |
|
|
|
| 18 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), bashirahmed98 (20-06-10), rabab (21-06-10), sahj (17-06-10), shafresha (17-06-10), پاکستانی (18-06-10), ھارون اعظم (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), راجہ اکرام (22-06-10), طلحہ (18-06-10), عباد (07-11-10), عبداللہ آدم (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
یہ کل دس احادیثہوئیںجو دس مختلف صحابہ سے مروی ہیں۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ والی حدیث میںمذکور صحابہ کو بھی اس گنتی میں شامل کر لیا جائے تو سنت رفع الیدین کی گواہی دینے والے صحابہ کی تعداد بیس ہو جاتی ہے۔
یہ دس احادیث دس مختلف صحابہ نے روایت کی ہیں۔ ان میں دس ان صحابہ کو شامل کر لیا جائے جن کا ذکر ابو حمید رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے تو ان کی تعداد بیس ہو جاتی ہے۔ پورے ذخیرہ احادیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کےسوا کوئی ایسی چیز صحیح سند کے ساتھ موجود نہیں ہے جو ان احادیث کی مخالفت کرتی ہو۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دن اپنے ساتھیوں سے فرمایا: "کیا میں تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز (جیسی نماز) نہ پڑھوں؟" پھر انہوں نے نماز پڑھی اور پہلی دفعہ (تکبیر تحریمہ کہنے) کے بعدپھر (باقی نماز میں) ہاتھ نہیں اٹھائے" اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، طحاوی، بیہقی اور ابن حزم نے روایت کیا ہے۔ عبداللہ بن مبارک، دار قطنی اور ابن حبان رحمہم اللہ اسے ضعیف کہتے ہیں جبکہ امام ترمذی اور امام ابن حزم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور یہی بات اقرب الی الصواب ہے کہ یہ حدیثصحیح ثابت ہے، اس کے تمام راوی صحیحمسلم کے راوی ہیںاور سند کے اعتبار سے اس میںکوئی طعن نہیںہے۔ ان دو قسم کی روایات کی وجہ سے فقہاءکے درمیان اختلاف واقع ہو گیا ہے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہا اللہ رفع الیدین کرنے کے قائل ہیں ابن عساکر کے بیان کے مطابق امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آخر میں رفع الیدین کرنے کو اختیار کر لیا تھا۔ جبکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث کو دلیل بناتے ہوئے رفع الیدین نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 09-07-11 at 11:01 PM. |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), bashirahmed98 (20-06-10), sahj (17-06-10), shafresha (17-06-10), ھارون اعظم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), احمد بلال (18-06-10), حیدر (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), عبداللہ آدم (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
یہ وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے ان ائمہ کے متبعین اور مقلدین کے درمیان طویل نزاع برپا ہوا ہے۔ طرفین اپنے اپنے مسلک کے حق میںدلائل دیتے آئے ہیں۔ ہمارے نزدیک رفع الیدین کرنے کا موقف اقرب الی الصواب ہے کیونکہ اس کا ثبوت تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے جس کا انکار جاہل یا متعصب آدمی کے سوا کوئی نہیںکر سکتا۔ بہت سے حنفی علماء بھی اس پر عمل پیرا رہے ہیںجن میں سر فہرست امام ابویوسف کے شاگرد عصام بن یوسف کا نام آتا ہے جبکہ بعد کے ادوار بھی ایسے حنفی علماء سے خالی نہیںرہے جو سنت رفع الیدین کے برحق ہونے کی گواہی دیتے چلے آئے ہیں۔ [COLOR="Purple"][B] البتہ متاخرین احناف میں سے بعض کو اشکال پیش آیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت باقی تمام احادیث کی ناسخ ہے لہٰذا رفع الیدین منسوخ ہو چکا ہے۔ یہ قول دو وجہ سے کمزور ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ تمام مسالک کے علماء اس امر پر متفق ہیں کہ جب دوبظاہر متعارضاحادیثمیں تطبیق دی جا سکے تو ان میںسے کوئی بھی ناسخ اور منسوخ نہیںہوتی۔ یہاں تطبیق یوںممکن ہے کہ جس صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو جس طرح نماز پڑھتے دیکھا وہی طریقہ بیان کر دیا لیکن رفع الیدین کرنے کی شہادتیں بکثرت اور مضبوط تر ہونے کی وجہ سے عام معمول رفع الیدین کرنے کا ہی معلوم ہوتا ہے۔ دوم: اصول فقہ میںطے ہے کہ اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے۔ یعنی اگر دو راویوں میں سے ایک کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے یہ کام کیا اور دوسرا کہے کہ نہیں کیا تو اس راوی کی بات پر عمل کیا جائے گا جس نے کام کرنے کا ذکر کیا ہے۔ امام بخاری نے جزء رفع الیدین میں تفصیل کے ساتھ اس اصول کی وضاحت کی ہے۔ صحابہ کے اقوال کا معاملہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے یعنی صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے رفع الیدین کرنا بیان کیا ہے تو ان کا قول نہ کرنے والی روایت پر مقدم ہو گا۔ نسخ کا دعویٰ اس لیے بھی درست نہیں ہے کہ بعض خلفائے راشدین سمیت صحابہ کی کثیر تعداد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو عبادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم دن میں پانچ مرتبہ سب کے سامنے ادا فرماتے تھے اس میں کوئی عمل منسوخ ہو جائے اور ایک صحابی کے سوا کسی دوسرے کو اس بات کا علم بھی نہ ہو سکے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب دیکھتے کہ کوئی شخص رکوع میں جاتے اور اٹھتے ہوئے رفع الیدین نہیں کرتا تو کنکریاں مار کر اسے متوجہ کرتے تھے۔ ابو الحسن سندھی حنفی رحمہ اللہ سنن ابن ماجہ کی شرح میں لکھتے ہیں: “جن لوگوں نے رفع الیدین کا منسوخ ہونا بیان کیا ہے ان کا قول بلا دلیل ہے۔ اگر نسخ کا واقع ہونا تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ اس کے برعکس ہے جو وہ کہتے ہیں۔ مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ عمر مبارک کے آخری دنوں میں نماز پڑھنے والوںمیں سے تھے۔ یہ دونوں صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے رفع الیدین کرنے کو بیان کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رفع الیدین آخر وقت تک سنت تھا اور اس کے منسوخہونے کا قول بالکل غلط ہے۔۔۔ ۔ ۔۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ رفع الیدین کرنا اور نہ کرنا دونوں صحیح روایات سے ثابت ہے لیکن کرنے کی روایات زیادہ اور قوی تر ہیں" علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ (دار العلوم دیوبند) نے بھی "فیض الباری" میں رفع الیدین منسوخ ہونے کے قول کو غلط قرار دیا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے صرف یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رفع الیدین کرنا فرض نہیں سنت ہے۔ امام ابن حزم کہتے ہیں: “اگر یہ حدیث موجود نہ ہوتی تو جھکتے (یعنی رکوع میں جاتے) وقت اور اٹھتے (یعنی رکوع سے کھڑے ہوتے) وقت رفع الیدین کرنا ہر نمازی پر فرض قرار پاتا، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث کیونکہ صحیح ہے اس لیے معلوم ہوا کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی مواقع پر رفع الیدین کرنا فرض نہیں بلکہ سنت اور مستحب ہے" Last edited by عبداللہ حیدر; 09-07-11 at 11:25 PM. |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | bashirahmed98 (20-06-10), sahj (17-06-10), shafresha (17-06-10), ھارون اعظم (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), احمد بلال (18-06-10), حیدر (17-06-10), طلحہ (18-06-10), عبداللہ آدم (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
یہ ایک اہم نکتہ ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے متاخرین احناف اور شافعیہ کے درمیان سخت اختلاف برپا ہوا ہے۔ نوبت ایں جا رسید کہ فریقین نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی تک کہہ ڈالا۔ اس قسم کے خیالات نے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں بڑا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ مجتہدین میں بھی فروعی اختلافات موجود تھے لیکن ان میں سے کسی کے بارے میں نقل نہیں کیا گیا کہ اس نے اجتہادی مسئلے میں اختلاف کی وجہ سے دوسروں کی اقتدا میں نماز پڑھنی چھوڑ دی ہو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ اہل سنت کے چار مشہور مسالک (حنفی،شافعی، حنبلی، مالکی) میں بہت سےایسے فقہی معاملات میں اختلاف پایا جاتا ہے جن میں ایک مسلک کے ہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کے ہاں نہیں ٹوٹتا تو کیا وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا:
نَعَمْ تَجُوزُ صَلَاةُ بَعْضِهِمْ خَلْفَ بَعْضٍ كَمَا كَانَ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ لَهُمْ بِإِحْسَانِ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ يُصَلِّي بَعْضُهُمْ خَلْفَ بَعْضٍ مَعَ تَنَازُعِهِمْ فِي هَذِهِ الْمَسَائِلِ الْمَذْكُورَةِ وَغَيْرِهَا . وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْ السَّلَفِ إنَّهُ لَا يُصَلِّي بَعْضُهُمْ خَلْفَ بَعْضٍ وَمَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ فَهُوَ مُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُخَالِفٌ لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَإِجْمَاعِ سَلَفِ الْأُمَّةِ وَأَئِمَّتِهَا . وَقَدْ كَانَ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ : مِنْهُمْ مَنْ يَقْرَأُ الْبَسْمَلَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَقْرَؤُهَا وَمِنْهُمْ مَنْ يَجْهَرُ بِهَا وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَجْهَرُ بِهَا وَكَانَ مِنْهُمْ مَنْ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَقْنُتُ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَوَضَّأُ مِنْ أَكْلِ لَحْمِ الْإِبِلِ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَتَوَضَّأُ مِنْ ذَلِكَ وَمَعَ هَذَا فَكَانَ بَعْضُهُمْ يُصَلِّي خَلْفَ بَعْضٍ : مِثْلَ مَا كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَصْحَابُهُ وَالشَّافِعِيُّ وَغَيْرُهُمْ يُصَلُّونَ خَلْفَ أَئِمَّةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ الْمَالِكِيَّةِ وَإِنْ كَانُوا لَا يَقْرَءُونَ الْبَسْمَلَةَ لَا سِرًّا وَلَا جَهْرًا وَصَلَّى أَبُو يُوسُفَ خَلْفَ الرَّشِيدِ وَقَدْ احْتَجَمَ وَأَفْتَاهُ مَالِكٌ بِأَنَّهُ لَا يَتَوَضَّأُ فَصَلَّى خَلْفَهُ أَبُو يُوسُفَ وَلَمْ يُعِدْ . وَكَانَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ يَرَى الْوُضُوءَ مِنْ الْحِجَامَةِ وَالرُّعَافِ فَقِيلَ لَهُ : فَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ قَدْ خَرَجَ مِنْهُ الدَّمُ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . تُصَلِّي خَلْفَهُ ؟ فَقَالَ : كَيْفَ لَا أُصَلِّي خَلْفَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَمَالِكٍ “جی ہاں، ان کا ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، صحابہ، تابعین اور ان کے بعد آنے والے ائمہ اربعہ کے درمیان ان (فقہی) مسائل وغیرہ میں اختلاف پایا جاتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ سلف میں سے کسی نے دوسرے کی اقتداء میں نماز ادا کرنے سے ادا کرنے انکار نہیں کیا۔ جو شخص اس حقیقت کا انکار کرتا ہے وہ بدعتی اور گمراہ ہے اور کتاب و سنت، سلف اور ائمہ کے اجماع کی مخالفت کرنے والا ہے۔ صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد آنے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو (نماز میں سورت فاتحہ) سے قبل بسم اللہ پڑھتے تھے اور ایسے بھی تھے جو نہیں پڑھتے تھے، بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنے والے بھی تھے اور آہستہ آواز میں پڑھنے والے بھی۔ فجر کی نماز میں (ہمیشہ) قنوت کرنے والے بھی تھے اور نہ کرنے والے بھی تھے۔۔ ۔ ۔ ۔ ایسے لوگ بھی تھے جو اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جانے کے قائل تھے اور وہ بھی تھے جو اونٹ کا گوشت کھا کر وضو نہیں دہراتے تھے۔ یہ ساری باتیں ہوتی تھیں، لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ مثلاامام ابوحنیفہ، ان کے ساتھی اور امام شافعی وغیرہ اہل مدینہ کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے جو مالکی مسلک کے پیروکار تھے اور (سورت فاتحہ سے قبل) بسم اللہ بالکل بھی نہیں پڑھتے تھے (جبکہ ان کے پیچھےنماز پڑھنے والےائمہ کے نزدیک پڑھنی چاہیے)۔ایک دفعہ امام ابو یوسف نے ہارون الرشید کے پیچھے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس نے پچھنے لگوائے تھے اور امام مالک کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے نیا وضو نہیں کیا، (امام ابو یوسف اس عمل سے وضو ٹوٹ جانے کے قائل تھے لیکن انہوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھ لی اور) بعد میں بھی نہیں دہرائی۔امام احمد بھی پچھنے لگوانے سے وضو ٹوٹ جانے کے قائل تھے، ان سے کسی نے پوچھا "اگر (مالکی) امام خون نکلنے کے بعد نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھائے تو کیا آپ اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے (کیونکہ آپ کا کہنا ہے کہ اسے دوبارہ وضو کرنا ہو گا جبکہ امام مالک آپ کی بات تسلیم نہیں کرتے)؟ تو جواب میں انہوں نے کہا "(اختلاف اپنی جگہ لیکن ) یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سعید بن المسیب اور مالک بن انس جیسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھوں"؟ شیخ الاسلام نے اس کے بعد مفصل بحث کی ہےکہ اگرکسی فقہی مسئلے میں امام اور مقتدی کا مسلک مختلف ہو تو دونوں کی نماز درست ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام اپنے علم کے مطابق اجتہاد کر کے یا کسی دوسرے مجتہد کے اجتہاد پر عمل کر کے سنت کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کوشش کے دوران کبھی تو وہ صحیح قول کو پا لیتا ہے اور کبھی درست فیصلہ نہیں کر پاتا۔ بالفرض وہ غلطی کر رہا ہو تب بھی اس کی نماز کا مقتدیوں کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا: يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ “صحیح البخاری کتاب الاذان باب اذا لم یتم الامام و اثم من خلفہ “وہ (یعنی امام) تمہیں نماز پڑھاتے ہیں، پھر اگر وہ درست (طریقے پر عمل پیرا) رہیں تو (اس کا اجر) تمہارے لیے بھی ہے اور ان کے لیے بھی، اور اگر وہ خطا کریں تو تمہارے لیے (اجر) ہے اور (خطا کا وبال) ان پر ہے"۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 27-11-10 at 08:45 PM. |
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), bashirahmed98 (20-06-10), sahj (17-06-10), shafresha (17-06-10), فیصل ناصر (05-02-12), ھارون اعظم (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), احمد نذیر (05-02-12), احمد بلال (18-06-10), حیدر (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), طلحہ (18-06-10), عبداللہ آدم (17-06-10) |
|
|
#5 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ماشاء اللہ بہت اچھے انداز میں آپ نے شافعی مسلک کے مطابق (اگرمیں غلط سمجھا ھوں تو صحیح بات بتادیجئے گا) مسئلہ رفع الیدین بیان کیا، جزاک اللہ میں یہاں اوپر لئے گئے اقتباس کے حوالے سے سوال پوچھنا چاھتا ھوں کہ(1) رکوع میں جاتے اور رکوع سے کھڑا ھوتے ھوئے رفع الیدین کرنا "سنت" لکھا ھے، اب میں اپنی معلومات کے لئے آپ سے یہ سوال کرہا ھوں کہ یہ "سنت" یعنی رکوع میں جاتے اور کھڑا ھوتے وقت رفع الیدین کرنا "سنت موکدہ " ہے یا "سنت غیر موکدہ" ؟ یا پھر ایسے بتا دیں کہ رکوع جانے اور کھڑا ھونے کی رفع الیدین "فجر کی سنت دو رکعت " کی طرح ہے یا "عصر کی چار سنت" کی طرح ہیں؟ اقتباس:
والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (17-06-10), عبداللہ آدم (17-06-10), عبداللہ حیدر (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#6 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی جزائے خیر دے۔ رفع الیدین کو افضل سمجھنے کا موقف صرف امام شافعی کا نہیںبلکہ امام احمد بن حنبل، امام مالک اور کئی دوسرے امام بھی اس کے قائل ہیں۔ اقتباس:
مستحب سے مراد یہ ہے کہ رفع الیدین کرنا افضل ہے، لیکن اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کی نماز درست ہے۔ الشیخ عبدالعزیز ابن باز رحمۃ اللہ علیہ سابق مفتی اعظم سعودی عرب فرماتے ہیں: السنة رفع اليدين عند الإحرام وعند الركوع وعند الرفع منه وعند القيام إلى الثالثة بعد التشهد الأول لثبوت ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم , وليس ذلك واجبا بل سنة فعله المصطفى صلى الله عليه وسلم وفعله خلفاؤه الراشدون وهو المنقول عن أصحابه صلى الله عليه وسلم , فالسنة للمؤمن أن يفعل ذلك في جميع الصلوات وهكذا المؤمنة۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ كله مستحب وسنة وليس بواجب , ولو صلى ولم يرفع صحت صلاته اه "تکبیر تحریمہ کہتے وقت، رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھنے کے بعد، اور پہلے تشھد کے بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا سنت ہے کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اس کا کرنا ثابت ہے۔ لیکن یہ واجب نہیں سنت ہے۔ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کا اس پر عمل رہا ہے، پس ہر مومن مرد و عورت کو اپنی تمام نمازوں میں اسے اپنانا چاہیے،۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ لیکن یہ سب مستحب اور سنت ہے، واجب نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص رفع الیدین کے بغیر نماز پڑھے تو اس کی نماز درست ہے۔ (مجموع فتاوٰی بن باز جلد 11 ص 156) نائب مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا کہنا ہے: وهذا الرفع سنة، إذا فعله الإنسان كان أكمل لصلاته، وإن لم يفعله لا تبطل صلاته، لكن يفوته أجر هذه السنة "رفع الیدین کرنا سنت ہے، اسے کرنے والا انسان اپنی نماز مکمل ترین صورت میں ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی اسے چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوتی لیکن وہ اس سنت کے اجر سے محروم رہ جاتا ہے" (مجموع فتاویٰ و رسائل العثمین جلد 13 ص 169) آپ کے سوال سے مجھے جو سمجھ آئی ہے اس کے مطابق میں نے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اگر کوئی بات واضح نہ ہوئی ہو تو بلا تکلف بتا دیجیے۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 17-06-10 at 10:44 PM. |
||
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (18-06-10), shafresha (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), احمد بلال (17-06-10), حیدر (17-06-10), طلحہ (18-06-10), عبداللہ آدم (17-06-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,448
شکریہ: 50,033
10,117 مراسلہ میں 31,999 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشا اللہ یہ وہ پوسٹ اور یہ وہ الفاظ ہیں جن کی رُوح کو اگر سمجھ لیا جائے تو امت میں جو فتنہ و فساد برپا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔انشا اللہ اسکا خآتمہ ہو جائے۔
جزاک اللہ عبداللہ حیدر بھائی۔اللہ آپ کے درجات بلند کرے ۔آمین ۔ثم آمین۔ [QUOTE=عبداللہ حیدر;291175]یہ ایک اہم نکتہ ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے متاخرین احناف اور شافعیہ کے درمیان سخت اختلاف برپا ہوا ہے۔ نوبت ایں جا رسید کہ فریقین نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی تک کہہ ڈالا۔ اس قسم کے خیالات نے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں بڑا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ مجتہدین میں بھی فروعی اختلافات موجود تھے لیکن ان میں سے کسی کے بارے میں نقل نہیں کیا گیا کہ اس نے اجتہادی مسئلے میں اختلاف کی وجہ سے دوسروں کی اقتدا میں نماز پڑھنی چھوڑ دی ہو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ اہل سنت کے چار مشہور مسالک (حنفی،شافعی، حنبلی، مالکی) میں بہت سےایسے فقہی معاملات میں اختلاف پایا جاتا ہے جن میں ایک مسلک کے ہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کے ہاں نہیں ٹوٹتا تو کیا وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: نَعَمْ تَجُوزُ صَلَاةُ بَعْضِهِمْ خَلْفَ بَعْضٍ كَمَا كَانَ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ لَهُمْ بِإِحْسَانِ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ يُصَلِّي بَعْضُهُمْ خَلْفَ بَعْضٍ مَعَ تَنَازُعِهِمْ فِي هَذِهِ الْمَسَائِلِ الْمَذْكُورَةِ وَغَيْرِهَا . وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْ السَّلَفِ إنَّهُ لَا يُصَلِّي بَعْضُهُمْ خَلْفَ بَعْضٍ وَمَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ فَهُوَ مُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُخَالِفٌ لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَإِجْمَاعِ سَلَفِ الْأُمَّةِ وَأَئِمَّتِهَا . وَقَدْ كَانَ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ : مِنْهُمْ مَنْ يَقْرَأُ الْبَسْمَلَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَقْرَؤُهَا وَمِنْهُمْ مَنْ يَجْهَرُ بِهَا وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَجْهَرُ بِهَا وَكَانَ مِنْهُمْ مَنْ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَقْنُتُ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَوَضَّأُ مِنْ أَكْلِ لَحْمِ الْإِبِلِ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَتَوَضَّأُ مِنْ ذَلِكَ وَمَعَ هَذَا فَكَانَ بَعْضُهُمْ يُصَلِّي خَلْفَ بَعْضٍ : مِثْلَ مَا كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَصْحَابُهُ وَالشَّافِعِيُّ وَغَيْرُهُمْ يُصَلُّونَ خَلْفَ أَئِمَّةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ الْمَالِكِيَّةِ وَإِنْ كَانُوا لَا يَقْرَءُونَ الْبَسْمَلَةَ لَا سِرًّا وَلَا جَهْرًا وَصَلَّى أَبُو يُوسُفَ خَلْفَ الرَّشِيدِ وَقَدْ احْتَجَمَ وَأَفْتَاهُ مَالِكٌ بِأَنَّهُ لَا يَتَوَضَّأُ فَصَلَّى خَلْفَهُ أَبُو يُوسُفَ وَلَمْ يُعِدْ . وَكَانَ أَحْمَد بْنُ حَنْبَلٍ يَرَى الْوُضُوءَ مِنْ الْحِجَامَةِ وَالرُّعَافِ فَقِيلَ لَهُ : فَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ قَدْ خَرَجَ مِنْهُ الدَّمُ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . تُصَلِّي خَلْفَهُ ؟ فَقَالَ : كَيْفَ لَا أُصَلِّي خَلْفَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَمَالِكٍ “جی ہاں، ان کا ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، صحابہ، تابعین اور ان کے بعد آنے والے ائمہ اربعہ کے درمیان ان (فقہی) مسائل وغیرہ میں اختلاف پایا جاتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ سلف میں سے کسی نے دوسرے کی اقتداء میں نماز ادا کرنے سے ادا کرنے انکار نہیں کیا۔ جو شخص اس حقیقت کا انکار کرتا ہے وہ بدعتی اور گمراہ ہے اور کتاب و سنت، سلف اور ائمہ کے اجماع کی مخالفت کرنے والا ہے۔ صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد آنے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو (نماز میں سورت فاتحہ) سے قبل بسم اللہ پڑھتے تھے اور ایسے بھی تھے جو نہیں پڑھتے تھے، بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنے والے بھی تھے اور آہستہ آواز میں پڑھنے والے بھی۔ فجر کی نماز میں (ہمیشہ) قنوت کرنے والے بھی تھے اور نہ کرنے والے بھی تھے۔۔ ۔ ۔ ۔ ایسے لوگ بھی تھے جو اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جانے کے قائل تھے اور وہ بھی تھے جو اونٹ کا گوشت کھا کر وضو نہیں دہراتے تھے۔ یہ ساری باتیں ہوتی تھیں، لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔ مثلاامام ابوحنیفہ، ان کے ساتھی اور امام شافعی وغیرہ اہل مدینہ کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے جو مالکی مسلک کے پیروکار تھے اور (سورت فاتحہ سے قبل) بسم اللہ بالکل بھی نہیں پڑھتے تھے (جبکہ ان کے پیچھےنماز پڑھنے والےائمہ کے نزدیک پڑھنی چاہیے)۔ایک دفعہ امام ابو یوسف نے ہارون الرشید کے پیچھے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس نے پچھنے لگوائے تھے اور امام مالک کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے نیا وضو نہیں کیا، (امام ابو یوسف اس عمل سے وضو ٹوٹ جانے کے قائل تھے لیکن انہوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھ لی اور) بعد میں بھی نہیں دہرائی۔امام احمد بھی پچھنے لگوانے سے وضو ٹوٹ جانے کے قائل تھے، ان سے کسی نے پوچھا "اگر (مالکی) امام خون نکلنے کے بعد نیا وضو کیے بغیر نماز پڑھائے تو کیا آپ اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے (کیونکہ آپ کا کہنا ہے کہ اسے دوبارہ وضو کرنا ہو گا جبکہ امام مالک آپ کی بات تسلیم نہیں کرتے)؟ تو جواب میں انہوں نے کہا "(اختلاف اپنی جگہ لیکن ) یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سعید بن المسیب اور مالک بن انس جیسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھوں"؟ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کے بعد مفصل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر امام کسی فقہی مسئلے میں مقتدی کے مسلک کی پیروی نہ کر رہا ہو تو مقتدی اور امام دونوں کی نماز درست ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امام غلطی بھی کر رہا ہو تو اس کا کوئی اثر مقتدی کی نماز پر نہیں پڑتا، فرمایا: يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ “صحیح البخاری کتاب الاذان باب اذا لم یتم الامام و اثم من خلفہ “وہ (یعنی امام) تمہارے لیے نماز پڑھاتے ہیں، پھر اگر وہ درست (طریقے پر عمل پیرا) رہیں تو (اس کا اجر) تمہارے لیے بھی ہے اور ان کے لیے بھی، اور اگر وہ خطا کریں تو تمہارے لیے (اجر) ہے اور (خطا کا وبال) ان پر ہے"۔ اور مذکورہ صورت میں تو امام جان بوجھ کر غلطی نہیں کر رہا ہوتا بلکہ اپنے علم کے مطابق سنت ہی کی پیروی کرنےکی کوشش کرتا ہے جو کبھی خود اجتہاد کرنے کی شکل میںہوتی ہے اور کبھی کسی دوسرے مجتہد کے اجتہاد پر عمل کرنے کی صورت میں، لہٰذا اس کی نماز بھی درست ہوئی۔[/QUOTE] Last edited by حیدر; 17-06-10 at 10:19 PM. |
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (18-06-10), shafresha (17-06-10), ھارون اعظم (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), احمد نذیر (05-02-12), احمد بلال (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), طلحہ (18-06-10), عبداللہ آدم (18-06-10), عبداللہ حیدر (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ہمارے محلے میں، رفع الیدین کرنے والوں کو مسجد ہی سے نکال دیا گیا تھا، کہ یہ نئی قسم کی نماز ایجاد کررہے ہیں۔ نعوذ باللٰہ۔ بہر حال عبد اللٰہ حیدر بھائی نے بہت معلوماتی تحریر پیش کی ہے۔ دونوں رائے رکھنے والوں کو اپنے مسلک کے مطابق عمل کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا چاہیئے۔
اللٰہ تعالیٰ ہمیں اتفاق و اتحاد نصیب فرمائے۔ آمین
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | sahj (19-06-10), shafresha (17-06-10), فیصل ناصر (05-02-12), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), احمد نذیر (05-02-12), احمد بلال (17-06-10), حیدر (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), طلحہ (18-06-10), عبداللہ آدم (18-06-10), عبداللہ حیدر (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#9 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
السلام علیکم بھائی عبداللہ حیدر جزاک اللہ خیرا آپ نے جواب بھی اچھے انداز میں دیا ھے، اوپر سوال واضع کرنے کے لئے سرخ رنگ میں بولڈ کیا ھے ، اب میں جو سمجھا ھوں آپ کے جواب سے اس کی تصدیق آپ کردیں کہ "اگر کوئی بھی مسلمان ساری زندگی نماز عصر کی فرض سے پہلے کی چار سنت رکعت نہیں پڑھتا تو پھر بھی اس پر کوئی گناہ نہیں لیکن اگر وہ چار سنت پڑھے گا تو یقیناً سنت ادا کرنے کا ثواب و اجر آخرت میں ملے گا۔ اسی طرح کوئی رفع الیدین ساری زندگی نہ کرے تو اس کی نمازوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ، ہاں جیسے عصر کی سنتیں نہ ادا کرنے سے اضافی ثواب سے محروم رہے گا ویسے ہی رفع الیدین نہ کرکے بھی کچھ اضافی ثواب سے محروم رہے گا"۔ شکریہ والسلام |
||
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-06-10), ھارون اعظم (18-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), احمد نذیر (05-02-12), حیدر (18-06-10), طلحہ (18-06-10), عبداللہ آدم (18-06-10), عبداللہ حیدر (18-06-10) |
|
|
#10 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
اگر کوئی شخص رفع الیدین نہیں کرتا تو وہ اس سنت کے اجر سے خود کو محروم رکھتا ہے چاہے وہ ایک نماز میںہو یا پھر ساری زندگی کی نمازوںمیں ایسا کرتا رہے، البتہ محضرفع الیدین نہ کرنے کی وجہ سے نماز باطل نہیںہوتی، فریضہ نماز بہرحال ادا ہو جائے گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ ہے: فَإِنَّ الرَّفْعَ الْمُتَنَازَعَ فِيهِ لَيْسَ مِنْ نَوَاقِضِ الصَّلَاةِ ؛ بَلْ يَجُوزُ أَنْ يُصَلِّيَ بِلَا رَفْعٍ وَإِذَا رَفَعَ كَانَ أَفْضَلَ وَأَحْسَنَ (مجموع الفتاوی جلد22 ص248 ) "جس رفع الیدین (کے کرنے یا نہ کرنے) میںاختلاف ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہو، اگر کوئی رفع الیدین کرتا ہے تو اس کا عمل سب سے اچھا اور افضل ہے اور اگر کوئی نہ کرے تو اس کی نماز بھی ہو جاتی ہے" والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 18-06-10 at 03:16 PM. |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (18-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (18-06-10), طلحہ (18-06-10), عبداللہ آدم (18-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,119
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دار العلوم دیوبند کا فتویٰ
نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ دوسرے مواقع میں بھی رفع یدین تھا، بعد میں منسوخ ہوگیا، جس کے نسخ پر بہت ساری حدیثیں دال ہیں: (۱) عن جابر بن سمرة قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ما لي أراکم رافعي أیدیکم کأنھا أذناب خیل شمس اسکنوا في الصلاة (مسلم: ج۱ ص۱۸۱ و نسائي: ج۱ ص۱۳۳) (۲) عن الزھري عن سالم عن أبیہ قال: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع وبعد ما یرفع رأسہ من الرکوع لا یرفعھما وقال بعضھم ولا یرفع بین السجدتین والمعنی واحد․ (صحیح أبي عوانة: ج۲ ص۹۰) Fatwa ID: |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | sahj (19-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), عبداللہ حیدر (18-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
السلام علیکم: ہمارے ہاں فرقوں کے فرقوں کے درمیاں اگر بحثہوتی بھی ہے تو عقیدے ایمان اور اس جیسے بنیادی مسائل سے کوسوں دوران فروعی مسائل پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بحث تو خیر ایک دوسری چیز ہے یہ مناظرہ نامی چیز ہی علمی قتل و قتال کا ہے اور موضوعات انتہا درجے کے فروعی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ستم بالائے ستم یہ کہ ان فروعات کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ اتنی عقیدے کو نہیں دی جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس مجمل سی اصطلاحات ہیں جو الا ماشاءاللہ کسی کو حفظ ہوتی ہیں تو کسی کو نہیں اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رفع الیدین کا مسئلہ تو معمولی دینی شعور رکھنے والے کو بھی پتا ہو گا لیکن ::شروط لا الٰہ الا اللہ:: اور ::نواقض ایمان:: کا علم بہت سے دینی مداسر کے فضلاء کو بھی نہیںہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیا للعجب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین میں عقائد کو اتنی اہمیت دیں جتنی دینی چاہیے اور فروعات کو اتنی دیں جتنا کہ ان کو دینی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں افراط و تفریط سے محفوظ فرمائیں۔آمین والسلام |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (19-06-10), محمد عاصم (18-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), احمد نذیر (05-02-12), حیدر (18-06-10), عبداللہ حیدر (18-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ماشاءاللہ بھائی بہت اچھی اور سچی بات کی ہے اور حقیقت بھی ایسی ہی ہے آج ہمارا حال یہی ہے فروعی معاملات میں بحث پر بحث چلتی ہے اور عقیدے میں بھلا کفر و شرک ہی کیوں نہ ہو اس پر کوئی بات کرنا گوارہ نہیں کرتا اسی کی وجہ سے لوگوں میں ایسے گندے عقائد پیدا ہو گے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ عقیدہ حلول، وحدت الوجود، اتار یعنی کہ اللہ فلاں شخص میں آگیا ہے اب وہ اللہ کا روپ ہے، جیسا کہ ہندؤں کا عقیدہ ہے۔ اور اسی طرح لوگ طاغوتی عدالتوں میں فیصلہ لے جانا کوئی گناہ نہیں سمجھتے حالانکہ کہ یہ کفر ہے کہ اللہ کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر غیراللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا یا کروانا لیکن آج اپنے آپ کو مواحد کہلانے والے بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں، اس مسئلے پر ایک پوسٹ میں نے کل پوسٹ کی ہے آپ سب سے گذارش ہے اس کا مطالعہ کریں اور اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی بھی وضاحت فرمائیں۔ لیک یہ ہے طاغوت سے کفر و اجتناب
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین Last edited by محمد عاصم; 18-06-10 at 07:25 PM. |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (19-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (18-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (19-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ نے جو احادیث پیش کی ہیں ان کا ترجمہ بھی ساتھ لکھ دیتے تو اچھا ہوتا۔ اور عبداللہ بھائی نے اس کی نص میں حدیثیں پیش کی ہیں ان کے علاوہ اور بھی بےشمار احادیثیں ہیں۔ اللہ حق بات کو قبول کرنے کی ہم سب کو ہمت دے آمین |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (18-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), عبداللہ حیدر (19-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#15 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
مجھے حیرت اوردکھ ہے کہ یہ فتویٰ دار العلوم جیسے علمی مرکز سے جاری کیا گیا ہے کیونکہ علم حدیث سے واقفیت رکھنے والا کوئی شخص "گھوڑوں کی سرکش دم" والی حدیث کو رکوع سے قبل اور بعد میں رفع الیدین کے رد میں پیش نہیں کر سکتا۔ اس پر تفصیلی بات کسی دوسری نشست میں کروں گا ان شاء اللہ۔ فی الحال دار العلوم دیوبند کے سابق سربراہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی زبانی یہ سمجھیے کہ متقدمین حنفی علماء "منسوخ" سے کیا مراد لیتے ہیں۔ صحیح بخاری کی شرح "فیض الباری" میں وہ لکھتے ہیں: فقد ثَبَتَ الأمران عندي ثُبُوتًا لا مردَّ له ولا خلاف إلا في الاختيار و ليس في الجواز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وقد اشتهر في مُتَأَخِّري الحنفية القول بالنسخ، وإنما تعلَّمُوه من الشيخ ابن الهُمَام، والشيخ اختاره تَبَعًا للطَّحَاوِيِّ. وقد عَلِمْتَ أن نسخَ الطَّحَاوِيِّ أعمُّ ممَّا في الكُتُب، فإِن المفضولَ بالنسبة إلى الفاضل، والأضعفَ دليلا بالنسبة إلى أقواه، كلُّه منسوخٌ عنده، فیض الباری جلد 3 ص16 کتاب الاذان باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع و اذا رفع "میرے نزدیک (رفع الیدین کرنا اور نہ کرنا) دونوں باتیں ایسے دلائل سے ثابت ہیں جنہیں رد نہیں کیا جا سکتا، ا وراس بارے میں جو اختلاف ہے وہ ان میں کسی ایک کے جائز اور دوسرے کے ناجائز ہونے میں نہیں بلکہ (افضلیت کے اعتبار سے کسی ایک کو) اختیار کرنے میں ہے۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور متاخرین حنفیہ میں جو قول مشہور ہے کہ رفع الیدین منسوخ ہے (تو اس کا ایک خاص مفہوم ہے، احناف نے نسخ کے قول کو) الشیخ ابن الھمام سے سیکھا ہے اور ابن الھمام نے اسے امام طحاوی کی متابعت کرتے ہوئے اختیار کیا ہے اور آپ جان چکے ہیں کہ امام طحاوی کا کسی چیز کو منسوخ کہنا دوسری کتابوں میں لکھے ہوئے نسخ سے عام ہوا کرتا ہے یعنی وہ افضل اور قوی بات کو غیر افضل یا کمزور کے مقابلے منسوخ کہہ دیتے ہیں" والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 19-06-10 at 11:47 PM. |
|
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), rabab (21-06-10), sahj (19-06-10), ھارون اعظم (19-06-10), محمد عاصم (01-11-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), احمد نذیر (05-02-12), حیدر (18-06-10), طلحہ (19-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عروج (18-02-11) |
![]() |
| Tags |
| color, ہیں،, ہوتے, ہے۔, فرض, کتاب, کرتے, پہلی, پہلے, یا, وقت, وسلم, وضاحت, نماز, احمد, تب, ثبوت, جیسی, جلد, جائے, حدیث, دیکھا, شروع, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|