واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > نماز



نماز نماز


مسئلہ رفع الیدین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-06-10, 03:50 AM  
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,161
کمائي: 74,633
شکریہ: 8,779
2,965 مراسلہ میں 10,814 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default مسئلہ رفع الیدین

رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا سنت ہے۔ اسے رفع الیدین کہتے ہیں۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے جنہیں صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔ ہم پہلے اس بارے میں صحیح احادیث بیان کرتے ہیں، اس کے بعد فقہاء کے اختلاف کا سبب اور دوسرے ضروری امور کی وضاحت شامل کی جائے گی ان شاء اللہ۔
پہلی حدیث:
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا
صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین فی التکبیرۃ الاولی مع الافتتاح سواء،
“عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیا کرتے تھے، اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی انہیں اسی طرح اٹھاتے تھے"
دوسری حدیث:
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا
(صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع و اذا رفع، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام)
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھتے وقت تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ہاتھ اٹھائے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بھی (نماز میں) ایسا ہی کیا تھا"۔
تیسری حدیث:
وَائِلِ بْنِ حُجْرٍأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ
صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب وضع یدہ الیمنٰی علی الیسرٰی بعد تکبیرۃ الاحرام)
“وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، ۔ ۔ ۔ ۔پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے"۔
چوتھی حدیث:
ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے دس صحابہ کے سامنے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم رکوع میں جاتے اور کھڑے ہوتے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور ان سب نے اس بات کی تصدیق کی۔
(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب افتتاح الصلاۃ، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 730)
پانچویں حدیث:
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنْ الرُّكُوعِ
(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من ذکر انہ یرفع یدیہ اذا قام من الثنتین، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 744)
“علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے، اور جب قراءت سے فارغ ہو کر رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تب اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے تھے"
چھٹی حدیث:
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ
سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 866)
“انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نمازشروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے"۔
ساتویں حدیث:
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ
سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 868
“جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے"۔
آٹھویں حدیث:
عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ قَالَ هَلْ أُرِيكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ لِلرُّكُوعِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَاصْنَعُوا وَلاَ يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
سنن الدار قطنی کتاب الصلاۃ باب ذکر التکبیر و رفع الیدین عند الافتتاح و الرکوع، اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 609
“ابو موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ نے (ایک دن) کہا "کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز (جیسی نماز پڑھ کر) نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھائے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور ہاتھ اٹھائے۔ پھر کہنے لگے "تم بھی اسی طرح کیا کرو"۔ اور دو سجدوں کےد رمیان انہوں نے ہاتھ نہیں اٹھائے تھے"۔
نویں حدیث:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ وَيَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ
مسند احمد مسند المکثرین من الصحابہ مسند عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، اصل صفۃ صلاۃ جلد 1 ص 193
“ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع اور سجدے میں بھی ایسا کرتے"
دسویں حدیث:
عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال :صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع
السنن الکبریٰ للبیہقی جلد 2 ص 73۔ اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 610
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتےتھے"
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-06-10), bashirahmed98 (20-06-10), rabab (21-06-10), sahj (17-06-10), shafresha (17-06-10), پاکستانی (18-06-10), ھارون اعظم (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), راجہ اکرام (22-06-10), طلحہ (18-06-10), عباد (07-11-10), عبداللہ آدم (17-06-10), عروج (18-02-11)
پرانا 21-06-10, 11:56 PM   #31
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,161
کمائي: 74,633
شکریہ: 8,779
2,965 مراسلہ میں 10,814 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ساھج بھائی، آپ کی رائے کا بہت شکریہ۔ میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ والی احادیث سے نماز میں ہر قسم کے رفع الیدین کی نفی مراد ہوتی تو انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ یہ بات نہ لکھتے:
رفع اليدين في تكبيرات العيدين ثبت في الأحاديث في خصوص هذه الصلاة، فالتمسك على كراهته بقوله: مالي أراكم رافعي أيديكم كأذناب خيلِ شمس» باطل
فیض الباری، کتاب الحیض باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت
"عیدین کی نماز میں تکبیرات کہتے وقت رفع الیدین کرنا احادیث سے ثابت ہے اور اس نماز کے خصائص میں سے ہے۔ اس موقع پر رفع الیدین کو "کیا بات ہے کہ میں تمہیں سرکش گھوڑوں کی دم کی مانند ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہوں" والی حدیث کی وجہ سے مکروہ سمجھنا باطل ہے"
غور طلب بات ہے کہ اگر دوسری احادیث کی وجہ سے تکبیرات عیدین کے موقع پر رفع الیدین جائز ہو سکتا ہے تو ان سے صحیح تر اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث کی بنا پر رکوع سے قبل و بعد رفع الیدین کو سنت تسلیم کرنے میں کیا چیز مانع ہو سکتی ہے۔
باقی جو احادیث آپ نے لکھی ہیں مجھے ان میں رفع الیدین کی ممانعت یا نسخ کا کوئی ثبوت نظر نہیں آیا۔ بھائی عاصم کی بات درست ہے کہ عدم ذکر عدم فعل پر دلالت نہیں کرتا۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-06-10), ھارون اعظم (21-06-10), محمد عاصم (22-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (22-06-10), حیدر Rehan (22-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10)
پرانا 22-06-10, 10:53 AM   #32
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,686
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم قابل احترام بھائیو

میں یہاں بحث در بحث یا مناظرا ٹائپ کام نہیں کر رہا ھوں، میں یہاں صرف اپنا موقف پیش کررہا ھوں ، اسی سلسلے میں ایک اور حدیث پیش کرتا ھوں ،
دیکھیں بھائیو میں پھر کہتا ھوں کہ میں یہاں اپنا موقف تھوپنے کی غرض نہیں رکھتا لیکن آپکے اور میری طرف سے پیش کی جانے والی احادیث سے بہت سارے مسلمانوں کو یہ فائدہ ھوگا کہ وہ اپنی اپنی طرف کے دلائل کو سمجھتے ھوئے اپنے طریقے یقیناً پختہ ھوں گے اور نماذ جیسی اہم ترین عبادت کو صحیح طرح سمجھ کر اور یقین کامل کے ساتھ ادا کریں گے،
اسلئے آپ بھائیوں سے بھی درخواست ھے کہ احادیث کے مقابلے میں صرف احادیث کی زبان استعمال کریں یا فقہہ کرام کے اقوال، کوشش کریں کہ اگر میں اپنی جانب سے کہیں کوئی ایسی رائے دوں جو غیر اخلاقی یا نفرت پر مبنی ھو تو مجھے سمجھادیں ، اور اسی بات کا خیال آپ بھائی بھی رکھیں،
جزاک اللہ

اب میں ایک اور حدیث پیش کرتا ھوں ،


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ھے۔

قال الا اصلی بکم صلواۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیھ الا فی اول مرہ۔
(ترجمہ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے تلامزہ کو نماز کی عملی تعلیم دیتے ھوئے فرمایا کہ: " کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماذ پڑھ کر نہ دکھاؤں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماذ پڑھی اور صرف پہلی دفعہ (تکبیر تحریمہ) رفع یدین کی۔
(ترمزی ص 35 ،ج1، ابوداؤد،ص116،ج1، باب لم یز کرالرافع عند الرکوع، نسائی ص161،ج1،،محلٰی بن حزم ظاھری ،ص88،ج4،،،دارقطنی، بہقی، مصنف ابن ابی شیبہ، موطا امام محمد، مسند احمد، طحاوی )
یہ حدیث حسن ہے
امام ترمزی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں" حدیث حسن"(ترمزی ص 35 جلد اول)

علامہ حزم ظاہری نے اس کو صحیح کہا ھے،

حافظ ابن حجر شافعی لکھتے ہیں:
و ھٰذا الحدیث حسنہ الترمزی و صححہ ابن حزم
(ترجمہ)یہ حدیث ، امام ترمزی نے اسے حسن کہاھے، اور علامہ ابن حزم نے اسے صحیح کہا ھے۔

(التلخیص الحبیر علی شرح المہزب ،ص274،ج3،طبع مصر)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

Last edited by sahj; 22-06-10 at 10:56 AM.
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (28-06-10), کنعان (23-06-10), محمد عاصم (22-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (22-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10)
پرانا 22-06-10, 02:33 PM   #33
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
السلام علیکم قابل احترام بھائیو

میں یہاں بحث در بحث یا مناظرا ٹائپ کام نہیں کر رہا ھوں، میں یہاں صرف اپنا موقف پیش کررہا ھوں ، اسی سلسلے میں ایک اور حدیث پیش کرتا ھوں ،
دیکھیں بھائیو میں پھر کہتا ھوں کہ میں یہاں اپنا موقف تھوپنے کی غرض نہیں رکھتا لیکن آپکے اور میری طرف سے پیش کی جانے والی احادیث سے بہت سارے مسلمانوں کو یہ فائدہ ھوگا کہ وہ اپنی اپنی طرف کے دلائل کو سمجھتے ھوئے اپنے طریقے یقیناً پختہ ھوں گے اور نماذ جیسی اہم ترین عبادت کو صحیح طرح سمجھ کر اور یقین کامل کے ساتھ ادا کریں گے،
اسلئے آپ بھائیوں سے بھی درخواست ھے کہ احادیث کے مقابلے میں صرف احادیث کی زبان استعمال کریں یا فقہہ کرام کے اقوال، کوشش کریں کہ اگر میں اپنی جانب سے کہیں کوئی ایسی رائے دوں جو غیر اخلاقی یا نفرت پر مبنی ھو تو مجھے سمجھادیں ، اور اسی بات کا خیال آپ بھائی بھی رکھیں،
جزاک اللہ
والسلام علیکم بھائی جان
حسین بھائی میں بھی بحث برائے بحث کو بہت غلط سمجھتا ہوں، میں نے اس بات چیت میں نہیں آنا تھا بس کسی وجہ سے آنا پڑا، بہت کم میں ان معاملات میں بات کرتا ہوں، بہرحال جو حق بات ہے اللہ اس کی سب کو سمجھ دے آمین، ایک وقت تھا میں بھی رفع الیدین کو لازمی نہیں سمجھتا تھا تو کسی سے اس مسئلے پر افہام و تفہیم کی خاطر بات چیت ہوئی تو معاملہ بلکل واضح ہو گیا الحمدللہ کہ اللہ نے حق بات کو قبول کرنے کی ہمت دی۔
آپ سے بھی گزارش ہے کہ اس مسئلے پر جتنی احادیث آپ کے پاس ہیں وہ پیش کریں تاکہ اس پر تفصیل سے بات ہو سکے، جزاک اللہ۔
اور اگر میری کوئی بات اچھی نہ لگے تو معذرت کا طلبگار ہوں بھائی۔
ابھی میں بھی کچھ احادیث پیش کررہا ہوں جن میں رفع الیدین کا واضح حکم ہے اور عبداللہ بھائی نے اس سے پہلے ہی کافی احادیث پیش کی ہوئیں ہیں جن سے روزِ روشن کی طرح رفع الیدین واضح ہورہا ہے اب بھائی آپ کوئی ایسی حدیث پیش کریں کہ جس میں رفع الیدین نہ کرنے کا واضح حکم ہو،
مثال کے طور پر کہ میں پہلے رفع الیدین کیا کرتا تھا اب اس کو منسوخ کرتا ہوں کہ جس طرح نبی علیہ السلام نے پہلے قبرستان جانے سے منع کردیا ہوا تھا بعد میں اس کی اجازت فرمائی تو کہا کہ میں نے پہلے آپ لوگوں کو قبرستان جانے سے منع کیا تھا با جایا کرو کہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے یہ حدیث کا مفہوم ہے، اب اسی طرح کی کوئی حدیث فسخ رفع الیدین پر بھی تو ہوگی جس کی وجہ سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ رفع الیدین کا حکم منسوخ ہو گیا ہوا ہے،اب آپ نے وہی منسوخی والی حدیث ہم کو دینی ہے تاکہ ہم بھی اس پر عمل کر سکیں۔
جزاک اللہ خیرا

اسحاق، واسطی، خالد بن عبداللہ خالد (حذاء) ابوقلابہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مالک بن حویرث کو دیکھا کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرنا چاہتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔
کتاب صحیح بخاری جلد 1 باب :دونوں ہاتھوں کے اٹھانے کا بیان جب تکبیر کہے اورجب رکوع کرے اورجب رکوع سے سراٹھائے
کتاب صحیح مسلم جلد 1
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1
کتاب سنن نسائی جلد 1
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 1

محمد بن مقاتل، عبداللہ بن مبارک، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے یہی (اس وقت بھی ہاتھ اٹھایا) کرتے اور یہی جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اس وقت بھی کرتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے (لیکن) سجدہ میں آپ یہ عمل نہ کرتے تھے۔
کتاب صحیح بخاری جلد 1
دونوں ہاتھوں کے اٹھانے کا بیان جب تکبیر کہے اورجب رکوع کرے اورجب رکوع سے سراٹھائے
کتاب صحیح مسلم جلد 1
باب : تکبیر تحریمہ کے ساتھ رکوع اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھانے کے استحباب اور جب سجدہ سے سر اٹھائے تو ایسا نہ کرنے کے بیان میں ۔
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1
باب : رفع یدین کا بیان
کتاب سنن نسائی جلد 1
باب : جس وقت رکوع سے سر اٹھائے تو ہاتھوں کو دونوں مونڈھے تک اٹھانا کیسا ہے؟


حسن بن علی، سلیمان بن داؤد، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل بن ربیعہ، بن حارث بن عبدالمطلب، عبدالرحمن بن اعرج، عبید اللہ بن ابورافع، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کو کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور جب قرات سے فارغ ہوتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو پھر اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے مگر بیٹھنے کی حالت میں ہاتھوں کو نہ اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو پھر دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور تکبیر کہتے ابوداود کہتے ہیں کہ ابوحمید ساعدی کی حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو تکبیر کہ نماز کے شروع میں تکبیر کہی تھی اور دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے تھے۔
کتاب سنن ابوداؤد جلد 1

حسن بن علی، سلیمان بن داؤد، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل بن ربیعہ، بن حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے مونڈھوں تک ہاتھ اٹھاتے اور جب قرات سے فارغ ہوتے تب پھر اسی طرح کرتے (یعنی تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے) جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب پھر اسی طرح کرتے (یعنی ان مواقع پر بھی تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے) مگر قعدہ کی حالت میں رفع یدین نہ کرتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے پھر دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور تکبیر کہتے اور کم و بیش وہی دعا پڑھتے جو سابقہ حدیث میں (تکبیر تحریمہ کے بعد والی دعا) گذری ہے البتہ اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ وَالْخَيْرُ کُلُّهُ فِي يَدَيْکَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْکَ۔ بلکہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔
سنن ابوداؤد:جلد اول: باب : نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا

حسن بن علی خلال، سلیمان بن داؤد ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبید اللہ بن ابی رافع، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے قرأت کے اختتام پر رکوع میں جاتے وقت بھی ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی دونوں ہاتھوں کو شانوں تک اٹھاتے لیکن آپ تشہد اور سجدوں کے دوران ہاتھ نہ اٹھاتے (یعنی رفع یدین نہ کرتے) پھر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔
کتاب جامع ترمذی جلد 2

عباس بن عبدالعظیم عنبری، سلیمان بن داؤد ابوایوب ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبید اللہ بن ابی رافع، حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ، اللَّهُ أَکْبَرُ ، کہتے اور اپنے کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع میں جانے لگتے تو بھی ایسا ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے اور جب دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے تب بھی ایسا ہی کرتے ۔
کتاب سنن ابن ماجہ جلد 1

محمد بن مقاتل، عبداللہ بن مبارک، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے یہی (اس وقت بھی) کرتے اور یہی جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اس وقت بھی کرتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے (لیکن) سجدہ میں آپ یہ عمل نہ کرتے تھے۔
کتاب صحیح بخاری جلد 1باب : دونوں ہاتھوں کے اٹھانے کا بیان جب تکبیر کہے اورجب رکوع کرے اورجب رکوع سے سراٹھائے
یہ کچھ حدیثیں ہیں اور بھی ہیں ضرورت پڑی تو وہ بھی پیشِ خدمت کرونگا۔ ان شاءاللہ
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), بلال اویسی (23-06-10), حیدر (22-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10)
پرانا 22-06-10, 07:21 PM   #34
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,686
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی عاصم مٹھو السلام علیکم

آپ سے گزارش ھے کہ اپنے بارے میں یہ تو بتادیں کہ آپ اہل سنت والجماعت ہیں یعنی مالکی،حنبلی،یاشافعی ہیں؟ یا پھر کسی امام کی تقلید نہیں کرتے؟ یہ سوال اسلئے کیا ھے آپ سے کہ اہل سنت والجماعت حنفی، مالکی، حنبلی، یا شافعی مسالک کا اختلاف کسی اور نوعیت کا ھوتا ھے احادیث سے استفادہ کرنے اور تشریحات کا انداز کچھ اور ھوتا ھے، اور تقلید نہ کرنے والے افراد کا انداز بیان کچھ اور طرح کا ھوتا ھے،
برائے مہر بانی آپ لکھ کر بتادیں کہ آپ مقلد ہیں یا غیر مقلد؟ اسکے بعد انشاء اللہ بات کو اچھے انداز میں آگے بڑھائیں گے
شکریہ

(میں اہل سنت والجماعت حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ھوں)

جزاک اللہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (22-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10)
پرانا 22-06-10, 11:33 PM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
بھائی عاصم مٹھو السلام علیکم

آپ سے گزارش ھے کہ اپنے بارے میں یہ تو بتادیں کہ آپ اہل سنت والجماعت ہیں یعنی مالکی،حنبلی،یاشافعی ہیں؟ یا پھر کسی امام کی تقلید نہیں کرتے؟ یہ سوال اسلئے کیا ھے آپ سے کہ اہل سنت والجماعت حنفی، مالکی، حنبلی، یا شافعی مسالک کا اختلاف کسی اور نوعیت کا ھوتا ھے احادیث سے استفادہ کرنے اور تشریحات کا انداز کچھ اور ھوتا ھے، اور تقلید نہ کرنے والے افراد کا انداز بیان کچھ اور طرح کا ھوتا ھے،
برائے مہر بانی آپ لکھ کر بتادیں کہ آپ مقلد ہیں یا غیر مقلد؟ اسکے بعد انشاء اللہ بات کو اچھے انداز میں آگے بڑھائیں گے
شکریہ

(میں اہل سنت والجماعت حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ھوں)

جزاک اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ساھج بھإئی ، ماشاء اللہ آپ ایک معتدل مزاج شخصیت ہیں ، اس لیے آپ کی طرف سے یہ سوال سن کر کچھ عجیب سا لگا ، بھإئی فعلا تو کوئی غیر مقلد ہو ہی نہیں سکتا ، جنہیں غہر مقلد کہا جاتا ہے وہ بھی کسی کی تقلید کرتے ہی ہیں ، اور ان کے کہنے کے مطابق وہ لوگ رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تقلید کرتے ہیں ، اور عملی طور پر یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے ،
ساھج بھائی ، بات دلیل اور اس سے استنباط کیے گئے مسائل پر کی جانی چاہیے ، اور دلائل کو ان سے مستنبط مسائل کو اللہ اور رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹیوں پر پرکھ کر قبول و رد کیا جانا چاہیے ،
ٹائٹلز کو نہیں دیکھا جانا چاہیے ، جس کی بات اللہ اور رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹیوں پر پرکھ کر درست ہوتی ہو بلا تردد قبول کر لینی چاہیے ، نہ کہ کسی معین مذھب و مسلک کی قید میں رہ کر اس مذھب کی بات کی جیت کے لیے کوشش کی جانی چاہیے ، معاذ اللہ ، میں یہ بات شخصی طور پر آپ کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ اپنے لیے اور ہر ایک قاری کے لیے کہہ رہا ہوں
دیکھیے ، یہاں گفتگو کے آغاز میں ہی یہ کہا جا چکا ہوں اور مدلل طور پر کہا جا چکا اور ماشاء اللہ فقہ حنفی کے جید عُلماء رحمہم اللہ کے اقوال کے دلائل کے ساتھ یہ کہا جا چکا کہ فرع الیدین کو منسوخ کہا جانا درست نہیں ،
اور یہ بھی کہا جا چکا کہ اگر کوٕئی شخص اس عمل کے بغیر بھی نماز پڑھے تو اس کی نماز ہو جاتی ہے ، جی ایک سنت چھوڑنا اس کے کھاتے میں لکھا جائے گا ،
تو پھر میرے بھإئی اس قدر بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی ، معاذ اللہ کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسری طرف والے متشدد حضرات کی طرح آپ بھی مسٕئلے کے دوسرے پہلو پر متشدد ہوں کہ ایسا کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے ،
ساھج بھائی ، اگر آپ مجھے صرف یہ بتا دیجیے کہ آپ رفع الیدین کو غیر ثابت شدہ یا منسوخ ثابت کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟ تو ان شاء اللہ اس گفتگو میں کافی بہتری کی امید ہے، و السلام علیکم ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-06-10), sahj (23-06-10), محمد عاصم (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10), عبداللہ حیدر (23-06-10)
پرانا 23-06-10, 02:55 AM   #36
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,161
کمائي: 74,633
شکریہ: 8,779
2,965 مراسلہ میں 10,814 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم قابل احترام بھائیو
آپ بھائیوں سے بھی درخواست ھے کہ احادیث کے مقابلے میں صرف احادیث کی زبان استعمال کریں یا فقہہ کرام کے اقوال، کوشش کریں کہ اگر میں اپنی جانب سے کہیں کوئی ایسی رائے دوں جو غیر اخلاقی یا نفرت پر مبنی ھو تو مجھے سمجھادیں ، اور اسی بات کا خیال آپ بھائی بھی رکھیں،
جزاک اللہ
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
میری طرف سے آپ کو غیر اخلاقی بات سننے کو نہیں ملے گی ان شاء اللہ۔ آپ اپنا موقف اطمینان سے اور کھل کر بیان کریں۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-06-10), کنعان (23-06-10), مرزا عامر (04-07-10), حیدر (25-06-10), عادل سہیل (23-06-10)
پرانا 23-06-10, 08:30 AM   #37
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,593
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ساھج بھإئی ، ماشاء اللہ آپ ایک معتدل مزاج شخصیت ہیں ، اس لیے آپ کی طرف سے یہ سوال سن کر کچھ عجیب سا لگا ، بھإئی فعلا تو کوئی غیر مقلد ہو ہی نہیں سکتا ، جنہیں غہر مقلد کہا جاتا ہے وہ بھی کسی کی تقلید کرتے ہی ہیں ، اور ان کے کہنے کے مطابق وہ لوگ رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تقلید کرتے ہیں ، اور عملی طور پر یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے ،
ساھج بھائی ، بات دلیل اور اس سے استنباط کیے گئے مسائل پر کی جانی چاہیے ، اور دلائل کو ان سے مستنبط مسائل کو اللہ اور رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹیوں پر پرکھ کر قبول و رد کیا جانا چاہیے ،
ٹائٹلز کو نہیں دیکھا جانا چاہیے ، جس کی بات اللہ اور رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹیوں پر پرکھ کر درست ہوتی ہو بلا تردد قبول کر لینی چاہیے ، نہ کہ کسی معین مذھب و مسلک کی قید میں رہ کر اس مذھب کی بات کی جیت کے لیے کوشش کی جانی چاہیے ، معاذ اللہ ، میں یہ بات شخصی طور پر آپ کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ اپنے لیے اور ہر ایک قاری کے لیے کہہ رہا ہوں
دیکھیے ، یہاں گفتگو کے آغاز میں ہی یہ کہا جا چکا ہوں اور مدلل طور پر کہا جا چکا اور ماشاء اللہ فقہ حنفی کے جید عُلماء رحمہم اللہ کے اقوال کے دلائل کے ساتھ یہ کہا جا چکا کہ فرع الیدین کو منسوخ کہا جانا درست نہیں ،
اور یہ بھی کہا جا چکا کہ اگر کوٕئی شخص اس عمل کے بغیر بھی نماز پڑھے تو اس کی نماز ہو جاتی ہے ، جی ایک سنت چھوڑنا اس کے کھاتے میں لکھا جائے گا ،
تو پھر میرے بھإئی اس قدر بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی ، معاذ اللہ کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسری طرف والے متشدد حضرات کی طرح آپ بھی مسٕئلے کے دوسرے پہلو پر متشدد ہوں کہ ایسا کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے ،
ساھج بھائی ، اگر آپ مجھے صرف یہ بتا دیجیے کہ آپ رفع الیدین کو غیر ثابت شدہ یا منسوخ ثابت کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟ تو ان شاء اللہ اس گفتگو میں کافی بہتری کی امید ہے، و السلام علیکم ،
جزاک اللہ بھت اچھی بات کی آپ نے
ALI-OAD آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
sahj (23-06-10), محمد عاصم (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), عادل سہیل (23-06-10)
پرانا 23-06-10, 10:42 AM   #38
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,686
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم قابل احترام بھائی عادل سہیل
سب سے پہلے تو بھائی عادل سہیل میں نہ تو یہاں یہ ثابت کرنا چاھتا ھوں کہ رفع الیدین یا رفع الیدین کرنے والے غلظ ہیں ، نہ ہی یہ چاھتا ھوں کہ رفع الیدین نہ کرنے والے صرف ایک طرف کی بات پڑھ کر کوئی فیصلہ کرلیں،
میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ھوں کہ جب علماء اکابرین کی جانب سے یہ کہا گیا کہ رفع الیدین نہ کرنے والے کی نماذ پر کوئی اثر نہیں پڑتا، تو یقیناً اس کی بھی تو کوئی دلیل ھے، کیونکہ اگر سنت موکدہ عمل کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے تو سنت کے سواب سے محرومی بھی ھوتی ہے اور گناہ کا بھی اندیشہ ھے، جیسے میں نے اسی حوالے سے سوال کیا تھا جو کہ بھائی عبداللہ حیدر کے مراسلے میں لکھے ایک جملے کی وجہ سے بات کو مزید واضح کرنے کی نیت سے پوچھا تھا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
معلوم ہوا کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی مواقع پر رفع الیدین کرنا فرض نہیں بلکہ سنت اور مستحب ہے"
سوال یہ کیا تھا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
(1) رکوع میں جاتے اور رکوع سے کھڑا ھوتے ھوئے رفع الیدین کرنا "سنت" لکھا ھے، اب میں اپنی معلومات کے لئے آپ سے یہ سوال کرہا ھوں کہ یہ "سنت" یعنی رکوع میں جاتے اور کھڑا ھوتے وقت رفع الیدین کرنا "سنت موکدہ " ہے یا "سنت غیر موکدہ" ؟ یا پھر ایسے بتا دیں کہ رکوع جانے اور کھڑا ھونے کی رفع الیدین "فجر کی سنت دو رکعت " کی طرح ہے یا "عصر کی چار سنت" کی طرح ہیں؟
اور بھائی عبداللہ حیدر نے یہ جواب دیا تھا
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
مستحب سے مراد یہ ہے کہ رفع الیدین کرنا افضل ہے، لیکن اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس کی نماز درست ہے۔ الشیخ عبدالعزیز ابن باز رحمۃ اللہ علیہ سابق مفتی اعظم سعودی عرب فرماتے ہیں:
السنة رفع اليدين عند الإحرام وعند الركوع وعند الرفع منه وعند القيام إلى الثالثة بعد التشهد الأول لثبوت ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم , وليس ذلك واجبا بل سنة فعله المصطفى صلى الله عليه وسلم وفعله خلفاؤه الراشدون وهو المنقول عن أصحابه صلى الله عليه وسلم , فالسنة للمؤمن أن يفعل ذلك في جميع الصلوات وهكذا المؤمنة۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ كله مستحب وسنة وليس بواجب , ولو صلى ولم يرفع صحت صلاته اه

"تکبیر تحریمہ کہتے وقت، رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھنے کے بعد، اور پہلے تشھد کے بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا سنت ہے کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اس کا کرنا ثابت ہے۔ لیکن یہ واجب نہیں سنت ہے۔ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کا اس پر عمل رہا ہے، پس ہر مومن مرد و عورت کو اپنی تمام نمازوں میں اسے اپنانا چاہیے،۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ لیکن یہ سب مستحب اور سنت ہے، واجب نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص رفع الیدین کے بغیر نماز پڑھے تو اس کی نماز درست ہے۔
(مجموع فتاوٰی بن باز جلد 11 ص 156)
نائب مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا کہنا ہے:
وهذا الرفع سنة، إذا فعله الإنسان كان أكمل لصلاته، وإن لم يفعله لا تبطل صلاته، لكن يفوته أجر هذه السنة
"رفع الیدین کرنا سنت ہے، اسے کرنے والا انسان اپنی نماز مکمل ترین صورت میں ادا کرتا ہے۔ اگر کوئی اسے چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوتی لیکن وہ اس سنت کے اجر سے محروم رہ جاتا ہے"
(مجموع فتاویٰ و رسائل العثمین جلد 13 ص 169)
آپ کے سوال سے مجھے جو سمجھ آئی ہے اس کے مطابق میں نے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اگر کوئی بات واضح نہ ہوئی ہو تو بلا تکلف بتا دیجیے۔
والسلام علیکم
اس جواب کے جواب میں مجھے جو بات سمجھ آئی تھی اس کی تصدیق کے لئے میں نے بھائی عبداللہ حیدر سے یہ بات پوچھی تھی کہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
"اگر کوئی بھی مسلمان ساری زندگی نماز عصر کی فرض سے پہلے کی چار سنت رکعت نہیں پڑھتا تو پھر بھی اس پر کوئی گناہ نہیں لیکن اگر وہ چار سنت پڑھے گا تو یقیناً سنت ادا کرنے کا ثواب و اجر آخرت میں ملے گا۔ اسی طرح کوئی رفع الیدین ساری زندگی نہ کرے تو اس کی نمازوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ، ہاں جیسے عصر کی سنتیں نہ ادا کرنے سے اضافی ثواب سے محروم رہے گا ویسے ہی رفع الیدین نہ کرکے بھی کچھ اضافی ثواب سے محروم رہے گا"۔
میری جانب سے وضاحت یا تصدیق طلبی پر بھائی عبداللہ حیدر نے یہ تسلی بخش جواب دیا
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
اگر کوئی شخص رفع الیدین نہیں کرتا تو وہ اس سنت کے اجر سے خود کو محروم رکھتا ہے چاہے وہ ایک نماز میں‌ہو یا پھر ساری زندگی کی نمازوں‌میں ایسا کرتا رہے، البتہ محض‌رفع الیدین نہ کرنے کی وجہ سے نماز باطل نہیں‌ہوتی، فریضہ نماز بہرحال ادا ہو جائے گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ ہے:
فَإِنَّ الرَّفْعَ الْمُتَنَازَعَ فِيهِ لَيْسَ مِنْ نَوَاقِضِ الصَّلَاةِ ؛ بَلْ يَجُوزُ أَنْ يُصَلِّيَ بِلَا رَفْعٍ وَإِذَا رَفَعَ كَانَ أَفْضَلَ وَأَحْسَنَ
(مجموع الفتاوی جلد22 ص248 )
"جس رفع الیدین (کے کرنے یا نہ کرنے) میں‌اختلاف ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہو، اگر کوئی رفع الیدین کرتا ہے تو اس کا عمل سب سے اچھا اور افضل ہے اور اگر کوئی نہ کرے تو اس کی نماز بھی ہو جاتی ہے"
والسلام علیکم
یہاں پر میں نے بات کو سمجھتے ھوئے بات کو ختم کرنے کا ارادہ کیا تھا ، لیکن اگلے مراسلات میں میری توقع کے برخلاف کچھ ایسی باتیں ھوئیں جس سے مجھے مزید مراسلات لکھنے پڑے
مثلاً


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
دار العلوم دیوبند کا فتویٰ
نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ دوسرے مواقع میں بھی رفع یدین تھا، بعد میں منسوخ ہوگیا،Fatwa ID:


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں
کسی بھی صحیح حدیث سے رفع الیدین کا منسوخ ہونا ثابت نہیں ہے بھائی، جو پیش کی جاتی ہیں وہ یا تو ضعیف ہیں یا انکا غلط مطلب نکالا جاتا ہے۔

ان دو عدد پوسٹوں کے بعد مجھے مزید لکھنا پڑا جو کہ یقیناً آپ بھی دیکھ چکے ہوں گے ،

یہاں میں یہ نشاندھی کرنا ضروری سمجھتا ھوں‌کہ اگر ترک رفع الیدین کی احادیث ضعیف تھیں تو پھر تو رفع الیدین ایسی سنت قرار پاتی ھے کہ رفع الیدین کے بغیر نماذ ھوہی نہیں سکتی لیکن اس کے برعکس علماء اکابرین رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا ھے کہ رفع الیدین نہ کرنے سے بھی نماذ درست ھوجاتی ھے ، علماء اکابرین کی جانب سے ایسا کہنا اس بات کی دلیل ھے کہ رفع الیدین نہ کرنے کی احادیث میں بھی وزن موجود ھے جس کی وجہ سے یہ علماء اکابرین فرمایا گیا کہ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
(مجموع الفتاوی جلد22 ص248 )
"جس رفع الیدین (کے کرنے یا نہ کرنے) میں‌اختلاف ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہو، اگر کوئی رفع الیدین کرتا ہے تو اس کا عمل سب سے اچھا اور افضل ہے اور اگر کوئی نہ کرے تو اس کی نماز بھی ہو جاتی ہے"
میرا مقصد صرف اس بات کو واضح کرنا تھا کہ ترک رفع الیدین کی احادیث بھی صحیح ، حسن، اور مرفوع قرار دی گئی ہیں ، بس
میں نے نہ کسی حدیث پر اعتراض کیا ھے اور نہ انشاء اللہ کبھی کروں گا،

اسی حوالے سے میں نے ایک اور حدیث بھی پیش کی تھی ، آپ سے درخواست ھے کہ آپ یا بھائی عبداللہ حیدر اس پر بھی روشنی ڈالیں،
اللہ تعالٰی آپ سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے آمین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ھے۔

قال الا اصلی بکم صلواۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیھ الا فی اول مرہ۔
(ترجمہ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے تلامزہ کو نماز کی عملی تعلیم دیتے ھوئے فرمایا کہ: " کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماذ پڑھ کر نہ دکھاؤں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماذ پڑھی اور صرف پہلی دفعہ (تکبیر تحریمہ) رفع یدین کی۔
(ترمزی ص 35 ،ج1، ابوداؤد،ص116،ج1، باب لم یز کرالرافع عند الرکوع، نسائی ص161،ج1،،محلٰی بن حزم ظاھری ،ص88،ج4،،،دارقطنی، بہقی، مصنف ابن ابی شیبہ، موطا امام محمد، مسند احمد، طحاوی )
یہ حدیث حسن ہے
امام ترمزی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں" حدیث حسن"(ترمزی ص 35 جلد اول)

علامہ حزم ظاہری نے اس کو صحیح کہا ھے،

حافظ ابن حجر شافعی لکھتے ہیں:
و ھٰذا الحدیث حسنہ الترمزی و صححہ ابن حزم
(ترجمہ)یہ حدیث ، امام ترمزی نے اسے حسن کہاھے، اور علامہ ابن حزم نے اسے صحیح کہا ھے۔

(التلخیص الحبیر علی شرح المہزب ،ص274،ج3،طبع مصر)
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10), عبداللہ حیدر (23-06-10)
پرانا 23-06-10, 09:04 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی ساھج ،
آپ اپنی گفتگو جاری رکھیے یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے اس مسٕئلے میں انشراح صدر عطاء فرمائے دے ،
میں آپ کی اور بھتیجے کی گفتگو میں مخل نہیں ہونا چاہتا ،
سابقہ مراسلے میں جو لکھا الحمد للہ اس کا جواب مل گیا کہ آپ کسی ضد کی بنا پر نہیں لکھ رہے بلکہ مسئلے کو مزید واضح‌کرنے کے لیے دلائل پیش کر رہے ہیں ،
اللہ سبحانہُ و تعالیٰ آپ کے اس نیک ارداے کو مکمل فرمإئے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (28-06-10), sahj (24-06-10), کنعان (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10)
پرانا 23-06-10, 09:22 PM   #40
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,161
کمائي: 74,633
شکریہ: 8,779
2,965 مراسلہ میں 10,814 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
اسی حوالے سے میں نے ایک اور حدیث بھی پیش کی تھی ، آپ سے درخواست ھے کہ آپ یا بھائی عبداللہ حیدر اس پر بھی روشنی ڈالیں،
اللہ تعالٰی آپ سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے آمین
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ساھج بھائی، اس تھریڈ کے دوسرے مراسلے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اسی حدیث پر گفتگو کی گئی ہے جس کا حوالہ آپ دے رہے ہیں۔ شاید آپ کی نظر سے وہ مراسلہ نہیں گزرا۔ اسے پڑھ کر بتائیے کہ آپ کو مزید کیا تفصیل مطلوب ہے۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10)
پرانا 23-06-10, 11:21 PM   #41
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,807
کمائي: 46,474
شکریہ: 7,233
5,839 مراسلہ میں 14,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اور میرے خیال سے بندے کو نماز پڑھنی چاہیے وہ جیسے بھی پڑھے۔۔۔مقصد تو اللہ کے آگے جھکنا ہی ہے ۔۔۔
لیکن نماز لازمی پڑھنی چاہیے
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔
محمدخلیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (24-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), رضی (16-02-11)
پرانا 24-06-10, 09:07 AM   #42
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,686
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ساھج بھائی، اس تھریڈ کے دوسرے مراسلے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اسی حدیث پر گفتگو کی گئی ہے جس کا حوالہ آپ دے رہے ہیں۔ شاید آپ کی نظر سے وہ مراسلہ نہیں گزرا۔ اسے پڑھ کر بتائیے کہ آپ کو مزید کیا تفصیل مطلوب ہے۔
والسلام علیکم
السلام علیکم بھائی عبداللہ حیدر

اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے آپ نے تو دوسرے مراسلے میں ہی اب تک کی تمام باتوں کا نچوڑ لکھ دیا تھا لیکن یہ میری کم عقلی ہی ھے جس کی وجہ سے میں اسے پڑھنے کے باوجود بھی نہ یاد رکھ سکا اور نا ہی سمجھ سکا ، لیکن اللہ تعالٰی کا احسان ھے کہ اللہ تعالٰی نے مجھے سہی بات سمجھادی ھے ، یا اللہ تیرا شکر ھے،
آپ کی لکھی ھوئی یہ تحریر
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، طحاوی، بیہقی اور ابن حزم نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی اسے حسن اور امام ابن حزم صحیح کہتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے محدثین عبداللہ بن مبارک، دار قطنی اور امام ابن حبان و غیرھم نے اسے ضعیف کہا ہے لیکن درست بات یہی ہے کہ سند کے اعتبار سے اس میں کوئی طعن نہیں ہے۔ اس کے تمام راوی صحیح مسلم کے راوی ہیں اور یہ روایت صحیح اور ثابت ہے۔ [/B]
بلکل ایسی ھے کہ اگر تمام حضرات علماء حق اگر ایسی ہی باتیں لکھیں اور کریں تو کم از کم نماذ جیسی عبادت میں کوئی اختلاف نہیں رہے، یہی وہ شاندار محنت ھے جو مجھے اپنے علماء اکابرین (تمام امت مسلمہ ) کی لکھی ھوئی انمول عبارتوں میں نظر آیا ،
بھائی عبداللہ حیدر اگر میں نے اپنی جہالت کی وجہ سے یہاں یا کسی اور تحریڈ میں کوئی بھی ایسی بات لکھی ھو جس سے آپ کی دل آزاری ھوئی ھو تو بھائی مجھے معاف کردینا، یہی درخواست تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے بھی کرتا ھوں ، اللہ کے واسطے مجھے معاف کردینا،

جزاک اللہ خیرا

والسلام
حسین
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (28-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10), عبداللہ حیدر (26-06-10)
پرانا 24-06-10, 09:10 AM   #43
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,686
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی ساھج ،
آپ اپنی گفتگو جاری رکھیے یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے اس مسٕئلے میں انشراح صدر عطاء فرمائے دے ،
میں آپ کی اور بھتیجے کی گفتگو میں مخل نہیں ہونا چاہتا ،
سابقہ مراسلے میں جو لکھا الحمد للہ اس کا جواب مل گیا کہ آپ کسی ضد کی بنا پر نہیں لکھ رہے بلکہ مسئلے کو مزید واضح‌کرنے کے لیے دلائل پیش کر رہے ہیں ،
اللہ سبحانہُ و تعالیٰ آپ کے اس نیک ارداے کو مکمل فرمإئے ، و السلام علیکم۔
السلام علیکم بھائی عادل سہیل

اللہ تعالٰی نے آپ کو سہی انداز میں مجھے بات سمجھانے والا بنایا ، آپ کی بروقت آمد نے مجھے سہارا دیا اور آپ کے محبت بھرے انداز میں سمجھانے پر مجھے احساس ھوا کہ اس معاملے مزید مطالعے کی ضرورت ھے، تو بھائی عادل سہیل الحمد اللہ میں نے فقہ حنفی کو برحق پایا ، اس مزید یہ کہ مجھے ایسا معتدل مواد میسر آیا جس سے یہ بھی واضح ھوگیا کہ اس معاملے میں متشدد ھونے کی کوئی خاص وجہ ھے ہی نہیں، یعنی ایسا کہنا کہ رفع الیدین کرنے والے کی نماز نہیں ھوتی یا رفع الیدین نہیں کرنے والے کی نماز نہیں ھوتی مناسب نہیں ھے، لیکن جو افراد ایسا کہتے ہیں ان کے پاس بھی یقیناً ان کی باتوں کے ان کے نزدیک ٹھوس دلائل ھوں گے ، بحرحال ہمیں تو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جوڑنے کی کوشش کرنی چاھئے ، اور رفع الیدین یا ایسے ہی دوسرے مسائل جن کی وجہ سے آپس میں کینہ جیسی صورت پیدہ ھو بچنا چاھئے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ باطل عقائد و نظریات کے معاملے میں بھی ایسا ہی انداز اپنایا جائے جیسا اہل حق کے معاملے میں ھونا چاھئے،
بات کو ختم کرتے ھوئے امام ابن حزم کی تحریر جو کل رات ہی پڑھی تھی اس میں سے جو اس وقت یاد رہ گیا ھے لکھے دیتا ھوں ،

"۔۔۔۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے گاہے رفع الیدین کرتے تھے ، اسی طرح یہ بھی ثابت ھے کہ کبھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے،اور یہ سب مباح ھے فرض نہیں۔۔۔۔ اگر ہم رفع الیدین کریں گے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماذ پڑھی اور رفع الیدین نہیں کریں گے تو بھی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہی نماذ پڑھی۔۔۔۔۔۔(محلّٰی،،ص،172اور جلد (غالیباً) 4 ھے )



شکریہ والسلام

حسینsahj
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (28-06-10), محمد رضوان (25-06-10), مرزا عامر (04-07-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عادل سہیل (24-06-10)
پرانا 24-06-10, 10:09 PM   #44
Member
اجنبی
 
مسلم بھائی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 90
کمائي: 2,537
شکریہ: 959
86 مراسلہ میں 293 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رفع الیدین کو سنت غیر موکدہ سمجھنا صحیح نہیں ہے یہ سنت موکدہ ہے
مسلم بھائی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مسلم بھائی کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (28-06-10), محمد عاصم (24-06-10), مرزا عامر (04-07-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ حیدر (26-06-10)
پرانا 24-06-10, 10:25 PM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم بھائی عادل سہیل

اللہ تعالٰی نے آپ کو سہی انداز میں مجھے بات سمجھانے والا بنایا ، آپ کی بروقت آمد نے مجھے سہارا دیا اور آپ کے محبت بھرے انداز میں سمجھانے پر مجھے احساس ھوا کہ اس معاملے مزید مطالعے کی ضرورت ھے، تو بھائی عادل سہیل الحمد اللہ میں نے فقہ حنفی کو برحق پایا ، اس مزید یہ کہ مجھے ایسا معتدل مواد میسر آیا جس سے یہ بھی واضح ھوگیا کہ اس معاملے میں متشدد ھونے کی کوئی خاص وجہ ھے ہی نہیں، یعنی ایسا کہنا کہ رفع الیدین کرنے والے کی نماز نہیں ھوتی یا رفع الیدین نہیں کرنے والے کی نماز نہیں ھوتی مناسب نہیں ھے، لیکن جو افراد ایسا کہتے ہیں ان کے پاس بھی یقیناً ان کی باتوں کے ان کے نزدیک ٹھوس دلائل ھوں گے ، بحرحال ہمیں تو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جوڑنے کی کوشش کرنی چاھئے ، اور رفع الیدین یا ایسے ہی دوسرے مسائل جن کی وجہ سے آپس میں کینہ جیسی صورت پیدہ ھو بچنا چاھئے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ باطل عقائد و نظریات کے معاملے میں بھی ایسا ہی انداز اپنایا جائے جیسا اہل حق کے معاملے میں ھونا چاھئے،
بات کو ختم کرتے ھوئے امام ابن حزم کی تحریر جو کل رات ہی پڑھی تھی اس میں سے جو اس وقت یاد رہ گیا ھے لکھے دیتا ھوں ،

"۔۔۔۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے گاہے رفع الیدین کرتے تھے ، اسی طرح یہ بھی ثابت ھے کہ کبھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے،اور یہ سب مباح ھے فرض نہیں۔۔۔۔ اگر ہم رفع الیدین کریں گے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماذ پڑھی اور رفع الیدین نہیں کریں گے تو بھی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہی نماذ پڑھی۔۔۔۔۔۔(محلّٰی،،ص،172اور جلد (غالیباً) 4 ھے )



شکریہ والسلام

حسینsahj
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ کل خیرا ،
و ما توفیقی الا باللہ ،
و الحمد للہ ،

آپ نے بالکل درست فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مجھ پر یہ کرم فرمایا کہ میرے ذریعے آپ کو کچھ سمجھا دیا ، و لہ الحمد والمنۃ
حسین بھإئی ، اگر ہم پہلے سے کسی فیصلے کی درستگی ثابت کرنے کی بجإئے متازعہ مسائل میں‌درست فیصلہ تلاش کرنے کی کوشش کریں تو یقین جانیے ہمیں بہت سے روایتی اختلافی مسائل کے آسان حل میسر ہوتے ہیں ،
اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ،
ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ فلاں فقہ ہی حق ہے ، یا فلاں فقہ میں تو سب ہی غلط ہے ،
جی سوائے کچھ ایسے فرقوں کے جو اسلام کی بنیادوں کے ہی خلاف ہیں ، باقی تمام مذاھب میں درستگی اور نا درستگی والا معاملہ موجود ہے ، لہذا کسی ایک پر بالکل ہی درست ہونے یا بالکل ہی نادرست ہونے کا گمان بھی درست نہیں ہوتا ،
اللہ تعالیٰ ہمیں بدگمانیوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ،
پس ہمیں چاہیے کہ ہم حق بات جہاں سے ملے اسے اپنی لیے چنیدہ نسبتوں کی پرواہ کیے بغیر قبول کریں ،
اللہ کا ہی شکر ہے کہ اس نے آپ کو اس مسٕئلے میں درست بات سمجھا دی ،
اور اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کلمہ گو کو اسی طرح حق سمجھنے کی ہمت دے دے ، اپنی اپنی فقہ ، مذھب و مسلک کو ہی درست جاننے کی ضد سے نجات دے دے ، امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام الشافعی ، امام احمد ، اور دیگر اصحاب المذاھب إئمہ رحمہم اللہ جعمیاً سب ہی ہمارے امام ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کے بارے میں کسی بھی بغص سے محفوظ رکھے ((((( وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ::: اور جو اُن کے بعد آئے وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ایمان لانے میں ہم پر سبقت لے گئے اور ہمارے دِلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کینہ نہ بنانا ، اے ہمارے رب تُو رووف اور رحیم ہے ))))) و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (28-06-10), sahj (25-06-10), محمد رضوان (25-06-10), محمد عاصم (24-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ حیدر (26-06-10)
جواب

Tags
color, ہیں،, ہوتے, ہے۔, فرض, کتاب, کرتے, پہلی, پہلے, یا, وقت, وسلم, وضاحت, نماز, احمد, تب, ثبوت, جیسی, جلد, جائے, حدیث, دیکھا, شروع, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:21 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger