| 18 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), bashirahmed98 (20-06-10), rabab (21-06-10), sahj (17-06-10), shafresha (17-06-10), پاکستانی (18-06-10), ھارون اعظم (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), راجہ اکرام (22-06-10), طلحہ (18-06-10), عباد (07-11-10), عبداللہ آدم (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#31 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ساھج بھائی، آپ کی رائے کا بہت شکریہ۔ میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ والی احادیث سے نماز میں ہر قسم کے رفع الیدین کی نفی مراد ہوتی تو انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ یہ بات نہ لکھتے: رفع اليدين في تكبيرات العيدين ثبت في الأحاديث في خصوص هذه الصلاة، فالتمسك على كراهته بقوله: مالي أراكم رافعي أيديكم كأذناب خيلِ شمس» باطل فیض الباری، کتاب الحیض باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت "عیدین کی نماز میں تکبیرات کہتے وقت رفع الیدین کرنا احادیث سے ثابت ہے اور اس نماز کے خصائص میں سے ہے۔ اس موقع پر رفع الیدین کو "کیا بات ہے کہ میں تمہیں سرکش گھوڑوں کی دم کی مانند ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہوں" والی حدیث کی وجہ سے مکروہ سمجھنا باطل ہے" غور طلب بات ہے کہ اگر دوسری احادیث کی وجہ سے تکبیرات عیدین کے موقع پر رفع الیدین جائز ہو سکتا ہے تو ان سے صحیح تر اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث کی بنا پر رکوع سے قبل و بعد رفع الیدین کو سنت تسلیم کرنے میں کیا چیز مانع ہو سکتی ہے۔ باقی جو احادیث آپ نے لکھی ہیں مجھے ان میں رفع الیدین کی ممانعت یا نسخ کا کوئی ثبوت نظر نہیں آیا۔ بھائی عاصم کی بات درست ہے کہ عدم ذکر عدم فعل پر دلالت نہیں کرتا۔ والسلام علیکم |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), ھارون اعظم (21-06-10), محمد عاصم (22-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (22-06-10), حیدر Rehan (22-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10) |
|
|
#32 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم قابل احترام بھائیو
میں یہاں بحث در بحث یا مناظرا ٹائپ کام نہیں کر رہا ھوں، میں یہاں صرف اپنا موقف پیش کررہا ھوں ، اسی سلسلے میں ایک اور حدیث پیش کرتا ھوں ، دیکھیں بھائیو میں پھر کہتا ھوں کہ میں یہاں اپنا موقف تھوپنے کی غرض نہیں رکھتا لیکن آپکے اور میری طرف سے پیش کی جانے والی احادیث سے بہت سارے مسلمانوں کو یہ فائدہ ھوگا کہ وہ اپنی اپنی طرف کے دلائل کو سمجھتے ھوئے اپنے طریقے یقیناً پختہ ھوں گے اور نماذ جیسی اہم ترین عبادت کو صحیح طرح سمجھ کر اور یقین کامل کے ساتھ ادا کریں گے، اسلئے آپ بھائیوں سے بھی درخواست ھے کہ احادیث کے مقابلے میں صرف احادیث کی زبان استعمال کریں یا فقہہ کرام کے اقوال، کوشش کریں کہ اگر میں اپنی جانب سے کہیں کوئی ایسی رائے دوں جو غیر اخلاقی یا نفرت پر مبنی ھو تو مجھے سمجھادیں ، اور اسی بات کا خیال آپ بھائی بھی رکھیں، جزاک اللہ اب میں ایک اور حدیث پیش کرتا ھوں ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ھے۔ قال الا اصلی بکم صلواۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیھ الا فی اول مرہ۔ (ترجمہ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے تلامزہ کو نماز کی عملی تعلیم دیتے ھوئے فرمایا کہ: " کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماذ پڑھ کر نہ دکھاؤں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماذ پڑھی اور صرف پہلی دفعہ (تکبیر تحریمہ) رفع یدین کی۔ (ترمزی ص 35 ،ج1، ابوداؤد،ص116،ج1، باب لم یز کرالرافع عند الرکوع، نسائی ص161،ج1،،محلٰی بن حزم ظاھری ،ص88،ج4،،،دارقطنی، بہقی، مصنف ابن ابی شیبہ، موطا امام محمد، مسند احمد، طحاوی ) یہ حدیث حسن ہے امام ترمزی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں" حدیث حسن"(ترمزی ص 35 جلد اول) علامہ حزم ظاہری نے اس کو صحیح کہا ھے، حافظ ابن حجر شافعی لکھتے ہیں:و ھٰذا الحدیث حسنہ الترمزی و صححہ ابن حزم (ترجمہ)یہ حدیث ، امام ترمزی نے اسے حسن کہاھے، اور علامہ ابن حزم نے اسے صحیح کہا ھے۔ (التلخیص الحبیر علی شرح المہزب ،ص274،ج3،طبع مصر)
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
Last edited by sahj; 22-06-10 at 10:56 AM. |
|
|
|
|
|
#33 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
حسین بھائی میں بھی بحث برائے بحث کو بہت غلط سمجھتا ہوں، میں نے اس بات چیت میں نہیں آنا تھا بس کسی وجہ سے آنا پڑا، بہت کم میں ان معاملات میں بات کرتا ہوں، بہرحال جو حق بات ہے اللہ اس کی سب کو سمجھ دے آمین، ایک وقت تھا میں بھی رفع الیدین کو لازمی نہیں سمجھتا تھا تو کسی سے اس مسئلے پر افہام و تفہیم کی خاطر بات چیت ہوئی تو معاملہ بلکل واضح ہو گیا الحمدللہ کہ اللہ نے حق بات کو قبول کرنے کی ہمت دی۔ آپ سے بھی گزارش ہے کہ اس مسئلے پر جتنی احادیث آپ کے پاس ہیں وہ پیش کریں تاکہ اس پر تفصیل سے بات ہو سکے، جزاک اللہ۔ اور اگر میری کوئی بات اچھی نہ لگے تو معذرت کا طلبگار ہوں بھائی۔ ابھی میں بھی کچھ احادیث پیش کررہا ہوں جن میں رفع الیدین کا واضح حکم ہے اور عبداللہ بھائی نے اس سے پہلے ہی کافی احادیث پیش کی ہوئیں ہیں جن سے روزِ روشن کی طرح رفع الیدین واضح ہورہا ہے اب بھائی آپ کوئی ایسی حدیث پیش کریں کہ جس میں رفع الیدین نہ کرنے کا واضح حکم ہو، مثال کے طور پر کہ میں پہلے رفع الیدین کیا کرتا تھا اب اس کو منسوخ کرتا ہوں کہ جس طرح نبی علیہ السلام نے پہلے قبرستان جانے سے منع کردیا ہوا تھا بعد میں اس کی اجازت فرمائی تو کہا کہ میں نے پہلے آپ لوگوں کو قبرستان جانے سے منع کیا تھا با جایا کرو کہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے یہ حدیث کا مفہوم ہے، اب اسی طرح کی کوئی حدیث فسخ رفع الیدین پر بھی تو ہوگی جس کی وجہ سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ رفع الیدین کا حکم منسوخ ہو گیا ہوا ہے،اب آپ نے وہی منسوخی والی حدیث ہم کو دینی ہے تاکہ ہم بھی اس پر عمل کر سکیں۔ جزاک اللہ خیرا اسحاق، واسطی، خالد بن عبداللہ خالد (حذاء) ابوقلابہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مالک بن حویرث کو دیکھا کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرنا چاہتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔ کتاب صحیح بخاری جلد 1 باب :دونوں ہاتھوں کے اٹھانے کا بیان جب تکبیر کہے اورجب رکوع کرے اورجب رکوع سے سراٹھائے کتاب صحیح مسلم جلد 1 کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 کتاب سنن نسائی جلد 1 کتاب سنن ابن ماجہ جلد 1 محمد بن مقاتل، عبداللہ بن مبارک، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے یہی (اس وقت بھی ہاتھ اٹھایا) کرتے اور یہی جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اس وقت بھی کرتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے (لیکن) سجدہ میں آپ یہ عمل نہ کرتے تھے۔ کتاب صحیح بخاری جلد 1 دونوں ہاتھوں کے اٹھانے کا بیان جب تکبیر کہے اورجب رکوع کرے اورجب رکوع سے سراٹھائے کتاب صحیح مسلم جلد 1 باب : تکبیر تحریمہ کے ساتھ رکوع اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھانے کے استحباب اور جب سجدہ سے سر اٹھائے تو ایسا نہ کرنے کے بیان میں ۔ کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 باب : رفع یدین کا بیان کتاب سنن نسائی جلد 1 باب : جس وقت رکوع سے سر اٹھائے تو ہاتھوں کو دونوں مونڈھے تک اٹھانا کیسا ہے؟ حسن بن علی، سلیمان بن داؤد، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل بن ربیعہ، بن حارث بن عبدالمطلب، عبدالرحمن بن اعرج، عبید اللہ بن ابورافع، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کو کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور جب قرات سے فارغ ہوتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو پھر اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے مگر بیٹھنے کی حالت میں ہاتھوں کو نہ اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو پھر دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور تکبیر کہتے ابوداود کہتے ہیں کہ ابوحمید ساعدی کی حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو تکبیر کہ نماز کے شروع میں تکبیر کہی تھی اور دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے تھے۔ کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 حسن بن علی، سلیمان بن داؤد، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل بن ربیعہ، بن حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے مونڈھوں تک ہاتھ اٹھاتے اور جب قرات سے فارغ ہوتے تب پھر اسی طرح کرتے (یعنی تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے) جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب پھر اسی طرح کرتے (یعنی ان مواقع پر بھی تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے) مگر قعدہ کی حالت میں رفع یدین نہ کرتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے پھر دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور تکبیر کہتے اور کم و بیش وہی دعا پڑھتے جو سابقہ حدیث میں (تکبیر تحریمہ کے بعد والی دعا) گذری ہے البتہ اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ وَالْخَيْرُ کُلُّهُ فِي يَدَيْکَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْکَ۔ بلکہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔ سنن ابوداؤد:جلد اول: باب : نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی دعا حسن بن علی خلال، سلیمان بن داؤد ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبید اللہ بن ابی رافع، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے قرأت کے اختتام پر رکوع میں جاتے وقت بھی ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی دونوں ہاتھوں کو شانوں تک اٹھاتے لیکن آپ تشہد اور سجدوں کے دوران ہاتھ نہ اٹھاتے (یعنی رفع یدین نہ کرتے) پھر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔ کتاب جامع ترمذی جلد 2 عباس بن عبدالعظیم عنبری، سلیمان بن داؤد ابوایوب ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبد اللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبید اللہ بن ابی رافع، حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ، اللَّهُ أَکْبَرُ ، کہتے اور اپنے کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع میں جانے لگتے تو بھی ایسا ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے اور جب دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے تب بھی ایسا ہی کرتے ۔ کتاب سنن ابن ماجہ جلد 1 محمد بن مقاتل، عبداللہ بن مبارک، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے یہی (اس وقت بھی) کرتے اور یہی جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اس وقت بھی کرتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے (لیکن) سجدہ میں آپ یہ عمل نہ کرتے تھے۔ کتاب صحیح بخاری جلد 1باب : دونوں ہاتھوں کے اٹھانے کا بیان جب تکبیر کہے اورجب رکوع کرے اورجب رکوع سے سراٹھائے یہ کچھ حدیثیں ہیں اور بھی ہیں ضرورت پڑی تو وہ بھی پیشِ خدمت کرونگا۔ ان شاءاللہ
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), بلال اویسی (23-06-10), حیدر (22-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10) |
|
|
#34 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی عاصم مٹھو السلام علیکم
آپ سے گزارش ھے کہ اپنے بارے میں یہ تو بتادیں کہ آپ اہل سنت والجماعت ہیں یعنی مالکی،حنبلی،یاشافعی ہیں؟ یا پھر کسی امام کی تقلید نہیں کرتے؟ یہ سوال اسلئے کیا ھے آپ سے کہ اہل سنت والجماعت حنفی، مالکی، حنبلی، یا شافعی مسالک کا اختلاف کسی اور نوعیت کا ھوتا ھے احادیث سے استفادہ کرنے اور تشریحات کا انداز کچھ اور ھوتا ھے، اور تقلید نہ کرنے والے افراد کا انداز بیان کچھ اور طرح کا ھوتا ھے، برائے مہر بانی آپ لکھ کر بتادیں کہ آپ مقلد ہیں یا غیر مقلد؟ اسکے بعد انشاء اللہ بات کو اچھے انداز میں آگے بڑھائیں گے شکریہ (میں اہل سنت والجماعت حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ھوں) جزاک اللہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ساھج بھإئی ، ماشاء اللہ آپ ایک معتدل مزاج شخصیت ہیں ، اس لیے آپ کی طرف سے یہ سوال سن کر کچھ عجیب سا لگا ، بھإئی فعلا تو کوئی غیر مقلد ہو ہی نہیں سکتا ، جنہیں غہر مقلد کہا جاتا ہے وہ بھی کسی کی تقلید کرتے ہی ہیں ، اور ان کے کہنے کے مطابق وہ لوگ رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تقلید کرتے ہیں ، اور عملی طور پر یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے ، ساھج بھائی ، بات دلیل اور اس سے استنباط کیے گئے مسائل پر کی جانی چاہیے ، اور دلائل کو ان سے مستنبط مسائل کو اللہ اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹیوں پر پرکھ کر قبول و رد کیا جانا چاہیے ، ٹائٹلز کو نہیں دیکھا جانا چاہیے ، جس کی بات اللہ اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹیوں پر پرکھ کر درست ہوتی ہو بلا تردد قبول کر لینی چاہیے ، نہ کہ کسی معین مذھب و مسلک کی قید میں رہ کر اس مذھب کی بات کی جیت کے لیے کوشش کی جانی چاہیے ، معاذ اللہ ، میں یہ بات شخصی طور پر آپ کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ اپنے لیے اور ہر ایک قاری کے لیے کہہ رہا ہوں دیکھیے ، یہاں گفتگو کے آغاز میں ہی یہ کہا جا چکا ہوں اور مدلل طور پر کہا جا چکا اور ماشاء اللہ فقہ حنفی کے جید عُلماء رحمہم اللہ کے اقوال کے دلائل کے ساتھ یہ کہا جا چکا کہ فرع الیدین کو منسوخ کہا جانا درست نہیں ، اور یہ بھی کہا جا چکا کہ اگر کوٕئی شخص اس عمل کے بغیر بھی نماز پڑھے تو اس کی نماز ہو جاتی ہے ، جی ایک سنت چھوڑنا اس کے کھاتے میں لکھا جائے گا ، تو پھر میرے بھإئی اس قدر بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی ، معاذ اللہ کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسری طرف والے متشدد حضرات کی طرح آپ بھی مسٕئلے کے دوسرے پہلو پر متشدد ہوں کہ ایسا کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے ، ساھج بھائی ، اگر آپ مجھے صرف یہ بتا دیجیے کہ آپ رفع الیدین کو غیر ثابت شدہ یا منسوخ ثابت کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟ تو ان شاء اللہ اس گفتگو میں کافی بہتری کی امید ہے، و السلام علیکم ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (23-06-10), محمد عاصم (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10), عبداللہ حیدر (23-06-10) |
|
|
#36 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
میری طرف سے آپ کو غیر اخلاقی بات سننے کو نہیں ملے گی ان شاء اللہ۔ آپ اپنا موقف اطمینان سے اور کھل کر بیان کریں۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#37 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,593
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#38 | |||||||||
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم قابل احترام بھائی عادل سہیل
سب سے پہلے تو بھائی عادل سہیل میں نہ تو یہاں یہ ثابت کرنا چاھتا ھوں کہ رفع الیدین یا رفع الیدین کرنے والے غلظ ہیں ، نہ ہی یہ چاھتا ھوں کہ رفع الیدین نہ کرنے والے صرف ایک طرف کی بات پڑھ کر کوئی فیصلہ کرلیں، میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ھوں کہ جب علماء اکابرین کی جانب سے یہ کہا گیا کہ رفع الیدین نہ کرنے والے کی نماذ پر کوئی اثر نہیں پڑتا، تو یقیناً اس کی بھی تو کوئی دلیل ھے، کیونکہ اگر سنت موکدہ عمل کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے تو سنت کے سواب سے محرومی بھی ھوتی ہے اور گناہ کا بھی اندیشہ ھے، جیسے میں نے اسی حوالے سے سوال کیا تھا جو کہ بھائی عبداللہ حیدر کے مراسلے میں لکھے ایک جملے کی وجہ سے بات کو مزید واضح کرنے کی نیت سے پوچھا تھااقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
مثلاً اقتباس:
اقتباس:
ان دو عدد پوسٹوں کے بعد مجھے مزید لکھنا پڑا جو کہ یقیناً آپ بھی دیکھ چکے ہوں گے ، یہاں میں یہ نشاندھی کرنا ضروری سمجھتا ھوںکہ اگر ترک رفع الیدین کی احادیث ضعیف تھیں تو پھر تو رفع الیدین ایسی سنت قرار پاتی ھے کہ رفع الیدین کے بغیر نماذ ھوہی نہیں سکتی لیکن اس کے برعکس علماء اکابرین رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا ھے کہ رفع الیدین نہ کرنے سے بھی نماذ درست ھوجاتی ھے ، علماء اکابرین کی جانب سے ایسا کہنا اس بات کی دلیل ھے کہ رفع الیدین نہ کرنے کی احادیث میں بھی وزن موجود ھے جس کی وجہ سے یہ علماء اکابرین فرمایا گیا کہ اقتباس:
میں نے نہ کسی حدیث پر اعتراض کیا ھے اور نہ انشاء اللہ کبھی کروں گا، اسی حوالے سے میں نے ایک اور حدیث بھی پیش کی تھی ، آپ سے درخواست ھے کہ آپ یا بھائی عبداللہ حیدر اس پر بھی روشنی ڈالیں، اللہ تعالٰی آپ سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے آمین اقتباس:
|
|||||||||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | کنعان (23-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10), عبداللہ حیدر (23-06-10) |
|
|
#39 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی ساھج ، آپ اپنی گفتگو جاری رکھیے یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے اس مسٕئلے میں انشراح صدر عطاء فرمائے دے ، میں آپ کی اور بھتیجے کی گفتگو میں مخل نہیں ہونا چاہتا ، سابقہ مراسلے میں جو لکھا الحمد للہ اس کا جواب مل گیا کہ آپ کسی ضد کی بنا پر نہیں لکھ رہے بلکہ مسئلے کو مزید واضحکرنے کے لیے دلائل پیش کر رہے ہیں ، اللہ سبحانہُ و تعالیٰ آپ کے اس نیک ارداے کو مکمل فرمإئے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
#40 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
ساھج بھائی، اس تھریڈ کے دوسرے مراسلے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اسی حدیث پر گفتگو کی گئی ہے جس کا حوالہ آپ دے رہے ہیں۔ شاید آپ کی نظر سے وہ مراسلہ نہیں گزرا۔ اسے پڑھ کر بتائیے کہ آپ کو مزید کیا تفصیل مطلوب ہے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#41 |
|
Senior Member
![]() |
اور میرے خیال سے بندے کو نماز پڑھنی چاہیے وہ جیسے بھی پڑھے۔۔۔مقصد تو اللہ کے آگے جھکنا ہی ہے ۔۔۔
لیکن نماز لازمی پڑھنی چاہیے
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔ |
|
|
|
|
|
#42 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے آپ نے تو دوسرے مراسلے میں ہی اب تک کی تمام باتوں کا نچوڑ لکھ دیا تھا لیکن یہ میری کم عقلی ہی ھے جس کی وجہ سے میں اسے پڑھنے کے باوجود بھی نہ یاد رکھ سکا اور نا ہی سمجھ سکا ، لیکن اللہ تعالٰی کا احسان ھے کہ اللہ تعالٰی نے مجھے سہی بات سمجھادی ھے ، یا اللہ تیرا شکر ھے، آپ کی لکھی ھوئی یہ تحریر اقتباس:
بھائی عبداللہ حیدر اگر میں نے اپنی جہالت کی وجہ سے یہاں یا کسی اور تحریڈ میں کوئی بھی ایسی بات لکھی ھو جس سے آپ کی دل آزاری ھوئی ھو تو بھائی مجھے معاف کردینا، یہی درخواست تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے بھی کرتا ھوں ، اللہ کے واسطے مجھے معاف کردینا، جزاک اللہ خیرا والسلام حسین |
||
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ آدم (24-06-10), عبداللہ حیدر (26-06-10) |
|
|
#43 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اللہ تعالٰی نے آپ کو سہی انداز میں مجھے بات سمجھانے والا بنایا ، آپ کی بروقت آمد نے مجھے سہارا دیا اور آپ کے محبت بھرے انداز میں سمجھانے پر مجھے احساس ھوا کہ اس معاملے مزید مطالعے کی ضرورت ھے، تو بھائی عادل سہیل الحمد اللہ میں نے فقہ حنفی کو برحق پایا ، اس مزید یہ کہ مجھے ایسا معتدل مواد میسر آیا جس سے یہ بھی واضح ھوگیا کہ اس معاملے میں متشدد ھونے کی کوئی خاص وجہ ھے ہی نہیں، یعنی ایسا کہنا کہ رفع الیدین کرنے والے کی نماز نہیں ھوتی یا رفع الیدین نہیں کرنے والے کی نماز نہیں ھوتی مناسب نہیں ھے، لیکن جو افراد ایسا کہتے ہیں ان کے پاس بھی یقیناً ان کی باتوں کے ان کے نزدیک ٹھوس دلائل ھوں گے ، بحرحال ہمیں تو امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جوڑنے کی کوشش کرنی چاھئے ، اور رفع الیدین یا ایسے ہی دوسرے مسائل جن کی وجہ سے آپس میں کینہ جیسی صورت پیدہ ھو بچنا چاھئے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ باطل عقائد و نظریات کے معاملے میں بھی ایسا ہی انداز اپنایا جائے جیسا اہل حق کے معاملے میں ھونا چاھئے، بات کو ختم کرتے ھوئے امام ابن حزم کی تحریر جو کل رات ہی پڑھی تھی اس میں سے جو اس وقت یاد رہ گیا ھے لکھے دیتا ھوں ،"۔۔۔۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے گاہے رفع الیدین کرتے تھے ، اسی طرح یہ بھی ثابت ھے کہ کبھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے،اور یہ سب مباح ھے فرض نہیں۔۔۔۔ اگر ہم رفع الیدین کریں گے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماذ پڑھی اور رفع الیدین نہیں کریں گے تو بھی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہی نماذ پڑھی۔۔۔۔۔۔(محلّٰی،،ص،172اور جلد (غالیباً) 4 ھے ) شکریہ والسلام حسینsahj |
|
|
|
|
|
|
#44 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 90
کمائي: 2,537
شکریہ: 959
86 مراسلہ میں 293 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رفع الیدین کو سنت غیر موکدہ سمجھنا صحیح نہیں ہے یہ سنت موکدہ ہے
|
|
|
|
|
|
#45 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ کل خیرا ، و ما توفیقی الا باللہ ، و الحمد للہ ، آپ نے بالکل درست فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مجھ پر یہ کرم فرمایا کہ میرے ذریعے آپ کو کچھ سمجھا دیا ، و لہ الحمد والمنۃ حسین بھإئی ، اگر ہم پہلے سے کسی فیصلے کی درستگی ثابت کرنے کی بجإئے متازعہ مسائل میںدرست فیصلہ تلاش کرنے کی کوشش کریں تو یقین جانیے ہمیں بہت سے روایتی اختلافی مسائل کے آسان حل میسر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ، ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ فلاں فقہ ہی حق ہے ، یا فلاں فقہ میں تو سب ہی غلط ہے ، جی سوائے کچھ ایسے فرقوں کے جو اسلام کی بنیادوں کے ہی خلاف ہیں ، باقی تمام مذاھب میں درستگی اور نا درستگی والا معاملہ موجود ہے ، لہذا کسی ایک پر بالکل ہی درست ہونے یا بالکل ہی نادرست ہونے کا گمان بھی درست نہیں ہوتا ، اللہ تعالیٰ ہمیں بدگمانیوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ، پس ہمیں چاہیے کہ ہم حق بات جہاں سے ملے اسے اپنی لیے چنیدہ نسبتوں کی پرواہ کیے بغیر قبول کریں ، اللہ کا ہی شکر ہے کہ اس نے آپ کو اس مسٕئلے میں درست بات سمجھا دی ، اور اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کلمہ گو کو اسی طرح حق سمجھنے کی ہمت دے دے ، اپنی اپنی فقہ ، مذھب و مسلک کو ہی درست جاننے کی ضد سے نجات دے دے ، امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام الشافعی ، امام احمد ، اور دیگر اصحاب المذاھب إئمہ رحمہم اللہ جعمیاً سب ہی ہمارے امام ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کے بارے میں کسی بھی بغص سے محفوظ رکھے ((((( وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ::: اور جو اُن کے بعد آئے وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ایمان لانے میں ہم پر سبقت لے گئے اور ہمارے دِلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کینہ نہ بنانا ، اے ہمارے رب تُو رووف اور رحیم ہے ))))) و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-06-10), sahj (25-06-10), محمد رضوان (25-06-10), محمد عاصم (24-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (25-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ حیدر (26-06-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہیں،, ہوتے, ہے۔, فرض, کتاب, کرتے, پہلی, پہلے, یا, وقت, وسلم, وضاحت, نماز, احمد, تب, ثبوت, جیسی, جلد, جائے, حدیث, دیکھا, شروع, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|