| 18 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), bashirahmed98 (20-06-10), rabab (21-06-10), sahj (17-06-10), shafresha (17-06-10), پاکستانی (18-06-10), ھارون اعظم (17-06-10), محمد عاصم (17-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (17-06-10), حیدر Rehan (20-06-10), راجہ اکرام (22-06-10), طلحہ (18-06-10), عباد (07-11-10), عبداللہ آدم (17-06-10), عروج (18-02-11) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے ، مزید خیر کی ہمت دے ، اور سب قارئین کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ضد اور تعصب سے نجات دے کر صحیح بات کو اپنانے کا حوصلہ عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-06-10), rabab (21-06-10), sahj (20-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (21-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (19-06-10) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,119
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
متعجب ہوں کہ دار العلوم دیوبند کے ان فتاوی میں سے کون سا فتویٰ درست ہے:
![]() ![]() ![]() پہلا دعوی: رفع الیدین اور ترک رفع الیدین کی حدیث ایک جتنی ہیں: رفع کے بارے میں کل ۱۲/ احادیث صحابہ سے مروی ہیں اور جو مزید تحقیق فرمائی تو کل ۵ یا ۶/ احادیث کا ثبوت مانا اور ان احادیث کے بھی مرفوع و موقوف نیز الفاظ و رفع کے مواضع کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ ائمہ فن کی اس تحقیق کے بعد آپ کے دوست کی افتراپردازی کا پردہ بخوبی چاک ہوجاتا ہے من کذب علي متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار آپ کے دوست کا یہ کہنا کہ ?ترک رفع کے سلسلے میں صرف ایک حدیث ہے اور وہ بھی ضعیف ہے? یہ ان کی دوسری خیانت ہے، علامہ کشمیری فرماتے ہیں کہ ترک رفع کے سلسلے میں ۷/ احادیث ہیں: وبالجملة فمثل ہذا العدد في ترک الرفع في جانب آخر بل ہي سبعة (نیل الفرقدین) ? Fatwa ID: دوسرا دعوی: رفع الیدین کی حدیثیں زیادہ ہیں: یہ بات صحیح ہے کہ رفع کے سلسلے میں روایات زیادہ ہیں اور ترک رفع کی روایات کم ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ امت میں ترک رفع کا تعامل رہا ہے، اور جب کوئی چیز تعامل میں آجاتی ہے تو اس سلسلے کی روایات کم ہوجاتی ہیں، Fatwa ID: ///////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////// پہلا دعوی:خلفائے راشدین رفع الیدین نہیں کرتے تھے: خلفائے راشدین اور اکابر صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کاعمل ترکِ رفع کا تھا جو عدمِ رفع کے راجح ہونے کے بجائے خود بڑی دلیل ہے۔ Fatwa ID: دوسرا دعوی:ابوبکر صدیق کا رفع الیدین کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں معلوم نہیں یہ بھی وضاحت فرمادیجئے گا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ رفع یدین کیا کرتے تھے یا نہیں؟ جواب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم فرمانا تو مسلم شریف وغیرہ میں مذکور ہے، نماز کا کونسا طریقہ بتایا تھا؟ یہ اور دیگر جو امور آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں، ان کی صراحت کہیں دیکھنا ہمیں مستحضر نہیں ۔Fatwa ID: Last edited by طلحہ; 20-06-10 at 12:07 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | sahj (20-06-10), ھارون اعظم (20-06-10), محمد عاصم (20-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), احمد نذیر (05-02-12), حیدر (21-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10) |
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,509
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,347 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، طلحہ بھائی ، اسی طرح کے دلائل سامنے لاتے رہیے ، ان شاء اللہ بہت وضاحت ہوتی جائے گی ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اب بھگتو بھتیجے ، ![]() ![]() ![]() و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rabab (21-06-10), sahj (20-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), حیدر (21-06-10), طلحہ (20-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10) |
|
|
#19 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,119
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کبارِ صحابہ مثلاً حضرت ابوبکر حضرت عمر، حضرت علی، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم و دیگر صحابہ کرام رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اور صغار صحابہ نے اپنے دورمیں رفع یدین اس لیے شروع کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل جو مرورِ زمانہ کی وجہ سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہونے لگا تھا لوگوں کے سامنے آجائے اور اس سلسلے کی جو روایات ہیں وہ محفوظ ہوجائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ رفع یدین کا حکم شرع میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔ Fatwa ID: میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ پہلے حصے میں کہہ رہے ہیں کہ صغار صحابہ نے اسے لوگوں کےسامنے لانے کے لیے اس پر عمل کیا، آخر میں کہا جا رہا ہے کہ حکم منسوخ تھا۔ اگر منسوخ تھا تو صغار صحابہ کو کیا پڑی تھی اسے سامنے لانے کی، اور کبار صحابہ نے انہیں سمجھایا بھی نہیں کہ بیٹا یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے۔ یا للعجب۔ اللہ ہی رحم کرے۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-06-10), rabab (21-06-10), محمد عاصم (20-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (21-06-10) |
|
|
#20 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا یاعمی! آپ کی اس تھریڈ میں آمد سے حوصلہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں قبول فرمائے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
|
#21 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
طلحہ بھائی کےپچھلےسوال کے جواب کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے۔ بھائی طلحہ! آپ کے نئے سوالات بلاتبصرہ ہی رہیں تو اچھا ہے۔ ![]() والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 20-06-10 at 01:30 AM. |
|
|
|
|
|
|
#22 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
آپ کی بات بہت اچھی ہے۔ عقیدے کے حوالے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن میں نے دانستہ رفع الیدین کے مسئلے کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر تفرقہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ نواقض ایمان کا تفصیلی ذکر فورم میں کسی دھاگے میں موجود ہے۔ ![]() ![]() والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 20-06-10 at 01:52 AM. |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-06-10), rabab (21-06-10), sahj (20-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (21-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() |
اتنی بحث کرنے کا کیا فائدہ فروعی مسائل میں الجھ کر حقیقی مسائل سے چشم پوشی صحیح نہیں۔ میراساداسا سوال تمام احباب سے کہ رفع یدین ناکرنے والے کی نماز رہتی ہے یا نہیں؟ رہتی ہے تو ساری بحث فضول ہے اور اگر نہیں رہتی تو اس پر احادیث مبارکہ روایت ہونی چاہیں۔ اور عقیدے کی بات ہورہی ہے کیا رفع یدین ناکرنے والا بدعقیدہ ہے؟
غیر مسلم مسلمانوں کے سر پر چڑھ گئے ہیں اور مسلمان یہ سوچ رہے ہیں رفع یدین کرنا چاہئے یا نہیں؟ افسوس Last edited by بلال اویسی; 20-06-10 at 03:52 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
یہ ساری بحث مسلمانوں کے درمیان اس مسئلے کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ اگر آپ ساری گفتگوپڑھنے کے بعد بھی اسے فضول کہنے پر مصر ہیں تو میں اللہ سے دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اس کی افادیت آپ پر منکشف فرما دے۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-06-10), rabab (21-06-10), sahj (20-06-10), ھارون اعظم (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (21-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10) |
|
|
#25 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
فروعی معاملات میں دونوں جانب کے موقف کو سامنے رکھ کر لوگوں کو اپنی رائے پر عمل کرنے دیا جائے۔ اور فریقین اپنے دلائل پیش کریں۔ اس طرح ایک بامقصد بحث ہوسکے گی، جو کہ آج کے حالات میں بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ایسے مسائل کا علم نہ ہونے کی وجہ سے لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), rabab (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (21-06-10), حیدر (21-06-10), عبداللہ آدم (23-06-10), عبداللہ حیدر (21-06-10) |
|
|
#26 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
بھائی عبداللہ حیدر یہاں میں ایک بات کی جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ھوں کہ "سلام " کے وقت کی رفع الیدین سے منع کی حدیث الگ ھے اور اوپر فتوے میں درج حدیث الگ ھے ، برائے مہربانی غور فرمائے۔ میں عالم تو نہیں ھوں لیکن یہ جانتا ھوں کہ اہل سنت والجماعت(حنفی) علماء کرام نے ماشاء اللہ بہت غور خوذ و فکر کے بعد ہی تشریحات فرمائی ہیں ، یہیں پر دیکھ لیں کہ عبداللہ حیدر بھائی آپ بھی اس حدیث کو "سلام" والی حدیث ہی سمجھ رہے ہیں، حدیث: عن جابر بن سمرة قال: خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ما لي أراکم رافعي أیدیکم کأنھا أذناب خیل شمس اسکنوا في الصلاة (مسلم: ج۱ ص۱۸۱ و نسائي: ج۱ ص۱۳۳) ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں باہر(گھر سے) تشریف لائے، تو فرمایا، کیا بات ہے میں تمہیں دیکھ رہا ھوں کہ تم رفع یدین کر رہے ہو گویا کہ وہ ہاتھ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ نماذ میں سکون اختیار کرو۔ (یہی روایت ابوداؤد،ج1،ص143، مسند احمد ، طحاوی، میں بھی ھے) ایک اور حدیث دیکھیں اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کو نماز ادا کرنا سکھارہے ہیں ، حدثنا مسدد، قال أخبرني يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال حدثنا سعيد المقبري، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فدخل رجل فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد النبي صلى الله عليه وسلم عليه السلام فقال " ارجع فصل فإنك لم تصل " فصلى، ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ارجع فصل فإنك لم تصل ". ثلاثا. فقال والذي بعثك بالحق فما أحسن غيره فعلمني. قال " إذا قمت إلى الصلاة فكبر، ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تعتدل قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تطمئن جالسا، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم افعل ذلك في صلاتك كلها ". ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبید اللہ عمری سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے بیان کیا ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا ۔ نماز کے بعد اس نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاکر دوبارہ نماز پڑھ ، کیوں کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ چنانچہ اس نے دوبارہ نماز پڑھی اور واپس آکر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ جاکر نماز پڑھ ، کیوں کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ تین بار اسی طرح ہوا ۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو مبعوث کیا ۔ میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا ۔ اس لیے آپ مجھے سکھلائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو ( پہلے ) تکبیر کہہ پھر قرآن مجید سے جو کچھ تجھ سے ہو سکے پڑھ ، اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا ۔ پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہو جا ۔ پھر جب تو سجدہ کرے تو پوری طرح سجدہ میں چلا جا ۔ پھر ( سجدہ سے ) سر اٹھا کر اچھی طرح بیٹھ جا ۔ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر ۔ یہی طریقہ نماز کے تمام ( رکعتوں میں ) اختیار کر ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ ( اذان کا بیان ( نماز کے مسائل ) ) ایک اور حدیث دیکھیں حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " إذا قال الإمام سمع الله لمن حمده. فقولوا اللهم ربنا لك الحمد. فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ". ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے سمی سے خبر دی ، انہوں نے ابوصالح ذکوان کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ر بنا و لک الحمد کہو ۔ کیوں کہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہوگا ، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ اور دیکھیں حدثنا أبو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن ثابت، قال كان أنس ينعت لنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فكان يصلي وإذا رفع رأسه من الركوع قام حتى نقول قد نسي. ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے ۔ چنانچہ آپ نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ بھول گئے ہیں ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ اور یہ حدیث بھی پڑھ لیں حدثنا أبو اليمان، قال حدثنا شعيب، عن الزهري، قال أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، وأبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة، كان يكبر في كل صلاة من المكتوبة وغيرها في رمضان وغيره، فيكبر حين يقوم، ثم يكبر حين يركع، ثم يقول سمع الله لمن حمده. ثم يقول ربنا ولك الحمد. قبل أن يسجد، ثم يقول الله أكبر. حين يهوي ساجدا، ثم يكبر حين يرفع رأسه من السجود، ثم يكبر حين يسجد، ثم يكبر حين يرفع رأسه من السجود، ثم يكبر حين يقوم من الجلوس في الاثنتين، ويفعل ذلك في كل ركعة حتى يفرغ من الصلاة، ثم يقول حين ينصرف والذي نفسي بيده إني لأقربكم شبها بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم إن كانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا. ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے ۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں ۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو ، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے ۔ پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور اس کے بعد ر بنا و لک الحمد سجدہ سے پہلے ، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت اللہ اکبر کہتے ۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولی کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں ۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ اور اب وہ حدیث ملاحظہ فرمائیں جو "سلام" کے وقت ہاتھ کے اشارے سے منع کرنے کی ھے، - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلاَمَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ " صحیح مسلم كتاب الصلاة سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو نماز کے اختتام پر دائیں بائیں السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے ۔ تو ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں ، تمہیں یہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں منہ موڑ کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا کرو شکریہ والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | کنعان (22-06-10), ھارون اعظم (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (21-06-10), عبداللہ حیدر (22-06-10) |
|
|
#27 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,021
کمائي: 74,663
شکریہ: 49,948
10,087 مراسلہ میں 31,873 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری بات ہے کہ اس گفتگو کا نہج اختلافات کو بڑھانے کے بجائے اس کو کم کرنے پر ہے۔ مثال کے طور پر سبھی نے اتفاق کیا ہے کہ رفع الیدین نہ کرنے والے کی نماز ہو جاتی ہے فرق صرف درجہ کا ہے۔ چناچہ اسکی وجہ سے امت مسلمہ کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امت کی ہے کہ نہ صرف اس قسم کی گفتگو بڑھائی جائے بلکہ اس کے پیغام کو بھی عام کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کے فروعی مسائل کم ہو سکیں۔ آمین |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (28-06-10), sahj (22-06-10), ھارون اعظم (21-06-10), محمد عاصم (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), طلحہ (29-06-10) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() |
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، مسعر، ابوکریب، ابن ابی زائدہ، مسعر، عبید اللہ بن قبطیہ، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ہم السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ اور السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ کہتے اور اپنے ہاتھوں سے دونوں طرف اشارہ کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسا کہ سرکش گھوڑے کی دم تم میں سے ہر ایک کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنی ران پر ہاتھ رکھے پھر اپنے بھائی پر اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام کرے۔
کتاب صحیح مسلم جلد :1 :باب نماز میں سکون کا حکم اور سلام کے وقت ہاتھ سے اشارہ کرنے اور ہاتھ کو اٹھانے کی ممانعت اور پہلی صف کو پورا کرنے اور مل کر کھڑے ہونے کے حکم کے بیان میں ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسیب بن رافع، تمیم بن طرفہ، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تم کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں جیسا کہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون رکھا کرو فرماتے ہیں دوبارہ ایک دن تشریف لائے تو ہم کو حلقوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تم کو متفرق طور پر بیٹھے ہوئے دیکھتا ہوں پھر ایک مرتبہ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تم صفیں نہیں بناتے جیسا کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں بناتے ہیں فرمایا کہ پہلی صف کو مکمل کیا کرو اور صف میں مل مل کر کھڑے ہوا کرو۔ صحیح مسلم:جلد اول: قاسم بن زکریا، عبید اللہ بن موسی، اسرائیل، عبید اللہ، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی پس جب ہم سلام پھیرتے تو ہم اپنے ہاتھوں سیالسَّلَامُ عَلَيْکُمْ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے طرف دیکھا تو فرمایا تمہارا کیا حال ہے کہ تم اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کرتے ہو جیسا کہ سرکش گھوڑوں کی دم جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو چاہئے کہ اپنے ساتھی کی طرف اشارہ نہ کرے بلکہ اس کی طرف متوجہ ہو۔ کتاب صحیح مسلم جلد 1 عثمان بن ابی شیبہ، یحیی بن زکریا، وکیع، مسعر، عبید اللہ بن قبطیہ، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب ہم میں سے کوئی سلام پھیرتا تو اپنے ہاتھ کے دائیں والے اور بائیں والے آدمی کی طرف اشارہ کرتا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا بات ہے تم نماز میں بھی ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہو گویا وہ ہاتھ پھرے ہوئے گھوڑوں کی دموں کی طرح ہیں تمھارے لیے بس اتنا کافی ہے (یہ کہہ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلی سے اشارہ کیا (یعنی تشہد میں اس طرح انگلی اٹھائے) اور پھر اپنے دائیں اور بائیں والے بھائی کو سلام کرے۔ کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 عبد اللہ بن محمد، زہیر، اعمش، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں لوگوں کے ہاتھ اٹھے ہوئے تھے (زبیر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اعمش نے فی الصلوٰة کہا تھا) یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں تمھارے ہاتھ اس طرح اٹھے ہوئے ہیں گویا وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں نماز میں سکون اختیار کرو۔ کتاب سنن ابوداؤد جلد 1 قتیبہ بن سعید، عبشر، اعمش، مسیب بن رافع، تمیم بن طرفة، جابربن سمرة سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے ہم لوگ نماز میں ہاتھ اٹھا رہے تھے (سلام کیلئے یعنی اشارہ سے لوگوں کو سلام کرتے یا سلام کا جواب دیتے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا حالت ہے ان لوگوں کی ہاتھ اس طریقہ سے اٹھاتے ہیں کہ جس طریقہ سے کہ شریر قسم کے گھوڑوں کی دمیں (ہوتی ہیں)۔ نماز میں سکون کرو (یعنی بلا ضرورت اس قسم کی حرکات نہ کرو)۔ کتاب سنن نسائی جلد 1 احمدبن سلیمان، یحیی بن آدم، مسعر، عبید اللہ ابن قبیطیة، جابربن سمرة سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے۔ تو ہاتھوں کے اشارہ سے سلام کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا حالت ہے ان لوگوں کی جو کہ ہاتھوں سے سلام کرتے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں کیا تم میں سے ہر ایک کو یہ کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر رکھ لے اور زبان سے السَّلَامُ عَلَيْکُمْ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ کہے۔ کتاب سنن نسائی جلد 1 عمروبن علی، ابونعیم، مسعر، عبید اللہ ابن قبیطة، جابربن سمرہ سے روایت ہے کہ ہم جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا کرتے تھے السلام علیکم ورحمة اللہ۔ حضرت مسعر(راوی حدیث) وہ دائیں اور بائیں جانب ہاتھ سے اشارہ کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان لوگوں کی کیا حالت ہے کہ جو اپنے ہاتھ اس طرح سے گھماتے ہیں کہ گویا وہ ہاتھ شریر گھوڑے کی دم ہیں۔ تمہارے میں سے کیا ہر ایک شخص کے واسطے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ اپنے ہاتھ ران پر ہی رہنے دے۔ (وہ زبان سے) دائیں اور بائیں جانب اپنے (مسلمان) بھائی کو سلام کرے۔ کتاب سنن نسائی جلد 1 احمدبن سلیمان، عبید اللہ بن موسی، اسرائیل، فرات القزاز، عبید اللہ، ابن قبطیة، جابربن سمرہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی تو ہم جس وقت سلام پھیرتے ہاتھوں کو اٹھاتے اور کہتے السَّلَامُ عَلَيْکُمْ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا کیا حالت ہے۔ تمہاری اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہو یا وہ دمیں ہیں شریر گھوڑوں کی۔ جس وقت تمہارے میں سے کوئی شخص نماز یا سلام پھیرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نزدیک والے شخص کی جانب دیکھے لیکن ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔ کتاب سنن نسائی جلد 1 حسین بھائی آپ ان سب احادیث کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو سب روایتوں کا ایک ہی راوی ملیں گے یعنی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جس روایت میں سلام پھیرنے کا ذکر نہیں صرف ہاتھ نہ ہلانے کا ذکر ہے وہ پورا واقع دوسری روایات سے ثابت ہو رہا ہے کہ پورا واقع کیسے تھا ایک جگہ اگر پورا واقعہ کسی راوی نے پیش نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں بنتا کہ ہم صرف ایک روایت کو لے لیں جس سے ہمارا مطلب پورا ہوتا ہو اور باقی سب روایتوں کو ہضم کر جائیں۔اصل میں یہ پورا واقع سامنے ہونے پر ہی کوئی فتویٰ لگایا جائے گا نہ کہ صرف ایک روایت کو لے کر۔ باقی ان شاءاللہ پھر جواب لکھوںگا۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (22-06-10), ھارون اعظم (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), باذوق (08-06-11), حیدر (22-06-10), طلحہ (29-06-10), عبداللہ حیدر (21-06-10) |
|
|
#29 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اصل میں اس حدیث میں جو چیز نبی علیہ السلام سکھانا چاہ رہے ہیں وہ ہے نماز اطمنان سے ادا کرنا ،جلدی جلدی نماز ادا کرنے سے منع فرمایا کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی۔ سرح کیے الفاظ پر غور کریں۔ اب پتا نہیں آپ نے اس کو کس طرح ترکِ رفع الیدین کے طور پر پیش کردی؟؟؟؟؟ وضاحت فرما دیں۔ جزاک اللہ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#30 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
نہ کہ اس سے رفع الیدین کی منسوحی ثابت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-06-10), sahj (22-06-10), ھارون اعظم (21-06-10), مرزا عامر (30-06-10), مسلم بھائی (24-06-10), حیدر (22-06-10) |
![]() |
| Tags |
| color, ہیں،, ہوتے, ہے۔, فرض, کتاب, کرتے, پہلی, پہلے, یا, وقت, وسلم, وضاحت, نماز, احمد, تب, ثبوت, جیسی, جلد, جائے, حدیث, دیکھا, شروع, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|