واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > ناول




فردوس بریں (مکمل ناول)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-08-08, 01:49 PM   #16
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,560
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: فردوس بریں (مکمل ناول)

نواں باب: انتقام

حسین اور زمرد نے اپنے قصر دری سے نکل کے دیکھا تو عجب عالم نظر آیا۔ جنت کے آرام و اطمینان میں‌فرق آگیا تھا اور معلوم ہوتا تھا گویا فردوس بریں‌میں‌قیامت آگئی۔خوب رو اور پری چہرہ حور و غلمان جوا پنے حسن و جمال سے ہر ایک کو نورانی پیکر ہونے کا دھوکا دیتے تھے قصروں‌اور کوشکوں‌سے نکل نکل کے بد‌حواس بھاگے اور ایک دوسرے کی آڑ میں‌چھپنے لگے۔ ہر طرف ایک تہلکہ پڑگیا۔جہاں‌رونا حرام بتایا جاتا تھا وہیں‌ہر طرف رونے پیٹنے اور نوحہ و بکا کی آواز بلند ہوئی۔ ایک عظیم الشان اور بڑا بھاری تاتاری لشکر جنت میں‌داخل ہوگیا تھا جس کے سپاہی ہر چہار طرف پھیلتے جاتے تھے ۔قصروں اور کوشکوں‌میں‌لوٹ مار مچ گئی تھی۔ خوبصورت لڑکیاں‌اور پری جمال لڑکے گرفتار ہورہے تھے۔جن کی سہمی ہوئی صورتوں‌، چیخ‌و پکار کی آوازوں نے عجب نازک گھڑی کا سماں‌پیدا کر رکھا تھا۔

یہ وحشت انگیز اور بدحواس کرنے والا سماں‌ دیکھتے ہی زمرد اور حسین دوڑتے ہوئے اس قصر میں‌ پہنچے جہاں‌شاہزادی آرام کر رہی تھی۔ زمرد شہزادی کی آرام گاہ کے قریب پہنچ کے دستک دینے ہی کو تھی کہ ایک وحشی و غارت گر تاتاری اس کی صورت دیکھ کے چھپٹ پڑا۔ قریب تھا کہ اور سب حوروں‌کی طرح‌وہ بھی گرفتار ہوجاتی۔ مگر حسین‌سے یہ دیکھ کے رہا نہ گیا؛ اور کوئی ہتھیار تو پاس نہ تھا،وہی اپنا فدائیت کا خنجر لے کے دوڑا۔قریب تھا کہ اس میں اور تاتاری میں‌لڑائی ہو جائے کہ ناگہاں کمرے کا دروازہ کھلا اور خوبصورت شاہ زادی بلغان خاتون اپنے بکھرے ہوئے لٹکتے بالوں‌‌کے ساتھ لباس کے لمبے لمبے دامنوں‌کو زمین پر لٹاتی ہوئی نکلی اور تاتاری زبان میں‌چلا کے بولی: “ ٹھہرو!“شاہ زادی کی صورت دیکھتے ہی تاتاری دوڑکے اس کے قدموں‌پر گر پڑا اور عرض‌کیا: “ ہم حضور کی تلاش میں‌تھے۔“

شاہزادی: تم میرے ساتھ والوں‌میں‌سے ہو؟
تاتاری: نہیں!
شاہزادی: (خوش ہوکے)تو بھائی آگئے؟
تاتاری: جی ہاں۔

ناگہاں‌تاتاریوں‌کا ایک بڑا بھاری غول نظر آیا ،جن کے درمیان میں‌خود ہلاکو خاں بھی موجود تھا۔شمشیر برہنہ اس کے ہاتھ میں‌تھی۔ عمامے میں‌کلغی لگی تھی،جس پر مغلئی نیزے اور تاتاری بیرقیں‌سایہ کیے ہوئے تھی۔ اس شان سے اس کے شاہی خاندان‌میں‌ہونے اورنیز تمام فوج کے سردار ہونے کا پورا پتہ چلتا تھا۔ہلاکو‌خاں‌کو آتے دیکھ کے بلغان خاتون کمرے سے نکل کے استقبال کو دوڑی۔ بہن بھائی جوش و خروش سے ملے، وحشی اور غارت گر جوانوں‌نے ایک گھڑی کے لیے مہذب بن کے اور مرتب ہوکے اپنی حسین و نازنین شاہ زادی کو سلام کیا اور ہر طرف سے خوشی و مسرت کے نعرے بلند ہونے لگے۔

بلغان خاتون: (ہلاکو خان سے) بھائی آپ کب آئے؟ مجھے تو تردد پیدا ہوچلا تھا۔
ھلاکو خان: تم لکھتیں اورمیں نہ آتا؟ اس میں‌شک نہیں‌کہ اس وقت سلطان دیلم کے تعاقب میں عجلت کرنے کی ضروت تھی،مگر تمھارا خط دیکھتے ہی مجبور ہونا پڑا۔ میں نے تھوڑی سے فوج اس کے تعاقب میں ‌چھوڑ دی اور باقی لوگوں‌کو ساتھ لے کے چلا آیا۔
بلغان خاتون: میں ‌روانہ ہونے سے کئی دن پہلے آہ کو اطلاع دے چکی تھی،اسی خیال سے زیادہ فوج اپنے ہمراہ نہیں‌لائی، لیکن آج صبح سے جوں‌جوں آُ پ کے پہنچنے میں ‌تاخیر ہوتی تھی،میرا تردد بڑھتا جاتا تھا۔
ہلاکوخاں: میں‌نے بہت کوشش کی کہ صبح تڑکے پہنچ جاؤں‌مگر کسی طرح‌نہ پہنچ سکا۔ خیر اب بھی چنداں‌دیر نہیں‌ہوئی۔
اس کے بعد بلغان خاتون نے زمرد اورحسین کو ہلاکوخاں‌کے قدموں‌پر گرایا اور کہا: “ یہی لوگ ہیں‌جن کی مدد سے میں‌ یہاں تک آسکی ۔“ ہلاکو خاں نے دونوں کو اٹھا کے گلے لگایا اور کہا: “ اپنی بہن کی طرف سے میں‌بھی تمھارا شکر گزار ہوں۔“ دونوں‌نے پھر جھک کے اس کےقدم چومے اور کہا:“ حضور ہی کی وجہ سے ہم کو اس قید سے نجات ملی،ورنہ زندگی بھر نجات کی امید نہ تھی۔“
بلغان خاتون: اور بھائی آپ کے ہمراہ کتنی فوج ہے؟
ہلاکو خاں: میں‌پچاس ہزار فوج لے کے چلا تھا،راستے میں‌وہ چالیس ہزار جوان اور مل گئے جو تمھارے ساتھ آئے تھے۔ اب کل نوے ہزار جانباز تاتاری میرے ہمراہ ہیں،مگر ان میں سے صرف پانچ ہزار آدمی اندر لایا ہوں،اس لیے کہ راستے کی دشواریوں کے باعث اس سے زیادہ فوج کا یہاں‌لانا غیر ممکن تھا۔
بلغان خاتون: اور باقی ماندہ فوج وہیں‌نہر کے کنارے ٹھہری ہوگی؟
ھلاکو خاں“ نہیں، میں‌نے کئی منزل پیشتر سے اپنی فوج کے چالیس ہزار آدمی قلعہ التمونت پر بھیج دیے تھے،جو آج ہی پہنچ گئے ہونگےاور قلعے کے اندر سے ہمارے طبل و قرنا کی آواز سنتے ہی یورش کردیں‌گے۔ نہر ویرنجان کے کنارے پہنچ کے جب مجھے معلوم ہوا کہ زیادہ آدمی یہاں‌تک نہیں‌پہنچ سکتے تو میں‌نے طولی خاں‌کو تمام باقی ماندہ فوج پر سردار مقرر کرکے حکم دے دیا کہ وہ بھی التمونت ہی پر جاکے حملہ کرے۔ اس کے ساتھ 45 ہزار فوج ہے۔مجھے اندیشہ تھا یہ لوگ وقت پر نہ پہنچ سکیں ‌گے مگر اتفاقًا خوش قسمتی سے ایک یہیں‌کا کوہستانی مل گیا جس نے بتایا کہ التمونت بہت قریب ہے اورزیادہ سے زیادہ پانچ گھنٹے میں‌یہ پورا لشکر وہاں‌ پہنچ سکتا ہے۔طولی خاں‌اس شخص کوساتھ لے کے گیا ہے اور یقین ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں‌وہ بھی قلعے کے پھاٹک پر پہنچ گیا ہوگا۔ خیر اب یہ بتاؤ کہ قلعے کا راستہ کدھر سے ہے؟
بلغان خاتون: تو بھائی! تھوڑی دیر یہاں‌ٹھہر کے سستا لو،پھر چلنا ، تم ابھی منزل مارے اور تھکے ماندے چلے آتے ہو۔
ہلاکو خاں: (ہنس کے) ہمارا آرام اسی میں‌ہے کہ جوہر شجاعت دکھانے کو کوئی اچھا میدان جنگ ملے ۔جب تک فتح نہ حاصل ہولے اس وقت تک کوئی چیز ہماری تھکن کو نہیں‌مٹا سکتی۔ ہاں‌تمھارے تھکنے کا البتہ مجھے لحاظ‌ہوتا،مگر تم مجھ سے پہلے ہی یہاں‌پہنچ چکی تھیں‌اور اچھی طرح سستا چکی ہو،لہٰذا اب کسی بات کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔
حسین: (جوش و خروش سے قدم آگے بڑھا کے) حضور! بے شک انتظار نہ کرنا چاہیے۔مجھے ان لوگوں‌نے اتنا بڑا فریب دیا ہے،اور میرے ہاتھ سے ایسے ایسے گناہ کرائے ہیں کہ جب تک ان میں سے خاص‌تین شخصوں‌کی جان نہ لے لوں‌گا، چین نہ پڑے گا۔ہر وقت میرے دل سے انتقام کی آواز نکلتی ہے اور پریشان ہوجاتا ہوں۔
ہلاکو‌خاں: (مسکرا کے) ہاں‌ذرا بیان تو کروکہ تمھیں‌کیوں‌کر فریب دیا گیا تھا؟
شاہی حکم کی تعمیل میں حسین نے اپنی ساری سرگزشت مختصر الفاظ میں بیان کی اور آخر میں‌آبدیدہ ہوکے کہنے لگا: “افسوس! زمرد کی محبت کے نام سے مجھے اتنے بڑے اور ایسے ایسے فریب دیے گئے ہیں کہ جب تک زندہ ہوں‌اپنے اوپر لعنت کرتا رہوں‌گا۔“
ہلاکوخاں: (حیرت سے) عجب! واقعی ان لوگوں‌نے دنیاپر ریاکاری ومکاری کا عجیب جال ڈال رکھا تھا۔اب اس قلعے کی فتح کے بعد میرا ارادہ ہے کہ ملاحدہ کی نجاست سے ساری دنیا کو پاک کردوں۔
حسین: اگر ایسا ہوا تو خدا آپ سے بہت خوش ہوگا،اور دنیا ہمیشہ کےلیے آپ کے مبارک اسلحہ کی ممنونِ احسان رہے گی۔
ہلاکو‌خاں: تو چلو، اب تاخیر میں نقصان ہے۔ہماری فوج جو قلعے کے گرد اتری ہوئی ہے،متردد و پریشان ہوگی۔
زمرد: یہ کام میرے ذمے ہے۔ حضور! آپ کی اس لونڈی کے سوا کوئی اس راستے سے واقف نہیں ہے۔مگر اپنے ہمراہیوں‌کو حکم دے دیجیے کہ جب تک محل کےاندر نہ داخل ہولیں، نہایت خموشی سے چلیں۔کہیں‌پہلے سے خبر ہوگئی تومحل سرا کا پھاٹک بند کر لیاجائے گا اور پھر قلعے سے نکل جانے میں بڑی بڑی دشواریاں پیش آئیں‌گی۔
زمرد کی ہدایت کی مطابق ہلاکو‌خاں‌نے اپنے تمام ساتھیوں‌کو ساکت و صامت رہنے اور آہستہ آہستہ قدم اٹھانے کا حکم دے دیا۔ وہ پانچ سو تاتاری جو قراقرم سے شاہ زادی کے ہمراہ آئے تھے اور اب اس پانچ ہزار فوج کے بعد وہ بھی جنت کے اندر داخل ہوگئے تھے،یہیں جنت میں‌چھوڑ دیے گئے تاکہ اسیر شدہ حور و غلمان کی حفاظت کریں۔اورہلاکوخاں‌التمونت کےقصر شاہی کیطرف اس شان سے روانہ ہوا کہ آگے آگے سے حسین تھا۔ اسے اب کسی تاتاری جوان سے ایک تلوارمل گئی تھی جسے وہ غضب اورانتقام کے ارادے سے علم کیے ہوئے تھا۔اسکے پیچھے خود ہلاکو خاں‌جس کے داہنی جانت بلغان خاتون تھی اور بائیں‌طرف زمرد اور ان کے پیچھے پانچ ہزار تاتوریوں کا غول تھا جو باوجود اژدحام اور جوش خروش کے نہایت ہی سکوت و متانت کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا چلا جاتا تھا۔

نہر ویرنجان کے اس طرف کے تمام چمن اور دل کش قطعات باغ طے کرکے یہ پُر سطوت گروہ سنہرے پل پر پہنچا۔زمرد نے بڑھ کے پل کا قفل کھولا اس لیے کہ اس نے آج صبح کو راستہ روکنے کے لیے اس پل میں قفل ڈال دیا تھا۔ پل کا پھاٹک کھلتے ہی سب لوگ نہر سے اتر کےاُدھر کے پرفضا اور دل کش مرغزار میں ‌داخل ہوئےاور زمرد کے بتانے کے موافق ایک خوش نما اور خوش سواد راستے سے گزر کے بڑے بڑے سایہ دار درختوں کی ایک جھنڈ میں‌پہنچے۔انھیں درختوں‌کے گھونگٹ میں‌رکن الدین خور شاہ کی محل سراکا خوبصورت چہرہ(دروازہ) چھپا ہوا تھا۔دروازے کی صورت دیکھتے ہی یہ لوگ دوڑ کے اندر گھس پڑے اور قبل اس کے کہ کسی کو خبر ہو،ایک طولانی ڈیوڑھی کو قطع کرکے خوش نما اور نزہت بخش خانہ باغ میں جاپہنچے،جو اپنی شادابی و دل کشی میں التمونت کی جنت سے کم نہ تھا۔

ان غیر خلل اندازوں‌کی صورت دیکھتے ہی چند سپاہی جو پہرے پر متعین تھے،اپنے اسلحہ لے لے کے دوڑے،مگر جب دیکھا کہ تاتاریوں‌کا ایک لشکر ہے تو بدحواس بھاگنے لگے دوچار تو مارے گئے اور بقیۃ السیف نے بھاگ کے سارے محل اور قلعے میں ہلچل مچادی۔قلعے میں مذہبی عید کی رسمیں‌بجا لائی جارہی تھیں اور بیرونی اور نیز یہاں‌کے لوگوں‌کا ایک بڑا بھاری مجمع تھا۔اگر حواس سے کام لیا جاتا تو ممکن تھا کہ ایک معرکے کی لڑائی ہوتی ،مگر تاتاریوں‌کی ہیبت ان دنوں‌ساری دینا میں‌ببیٹھی ہوئی تھی۔ ان کے قلعے میں داخل ہوجانے کا نام سنتے ہی سب کے ہاتھ پاؤں ‌پھول گئے۔ خود خورشاہ جو کھڑا خطبہ پڑھ رہاتھا،منبر سے اُتر کے بدحواس بھاگا کہ کسی کونے میں‌جا چھپے،مگر جانے نہ پاتا تھا،اس لیے کہ محل کی نازک اندام و پری جمال عورتیں برہنہ سر اور بر ہنہ پا بھاگ بھاک کے آتی تھیں اور قدم قدم پر اس کے دامن سے لپٹ کے پناہ مانگتی تھیں۔اس وقت تک یہاں‌اس کی خبر نہ تھی کہ قلعے کے گرد بھی ایک بڑا بھاری اور عظیم الشان تاتاری لشکر محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ بادشاہ اور معتقدوں‌کو بدحواس دیکھ کے تمام سپاہی اور اہل قلعہ،داعی اور فدائی قلعلے کے پھاٹک کھول کے بزدلی اور خوف کی آوازیں‌بلند کرتے ہوئے باہر نکلے جن کے نکلتے ہی قلعے کے اندر سے مغلئی طبل و قرنا بجے اور تاتاریوں‌کے باہر والے لشکر نے اپنے قومی باجوں‌کی آواز سنتے ہی خود اپنا طبل بجا دیا اور فورًا حملہ کردیا۔ بھاگ کے باہر جانے والے،تاتاری لشکر کے متلاطم سمندر کو ایک طوفان کی طرح اپنی طرف آتے دیکھ کے نہایت ہی ازخود رفتگی کے ساتھ الٹے پھرے،جن کا طولی خاں‌کے لشکر نے بڑی پھرتی سے تعاقب کی اور باہر کے مغلئی جان باز ان کو قتل کرتے ہوئے قلعے کے اندر گھس پڑے۔

اب قلعے کے اندر سخت طوفان بپا تھا۔ہر طرف قتل عام کا سماں‌نظر آرہا تھا۔بوڑھے،بچے،زن و مرد،اہل حرفہ اور سپاہی سب بلا استثناو امتیاز قتل ہورہے تھے۔ایک عجب ہنگامہ تھاجس میں‌تیر اورنیزے،تلوار اور چھری اور گزر اور تبر کی ہوش ربا آوازوں‌کے ساتھ تاتاری لٹیروں‌کی وحشت ناک چیخیں،عورتوں‌اور بچوں‌کی آہ و زاری اور رونے پیٹنے کی آوازیں‌ایک ساتھ سنی جاتی تھیں۔

ہلاکو خان اور بلغان خاتون کے ہمراہی خور شاہ کے محل کے ایک ایک کمرے اور دالان میں‌گھس گھس کے خوف زدہ عورتوں‌اور مردوں‌،بوڑھوں‌اور بچوں کو نکال نکال کے ہنکاتے ہوئی اس بڑے میدان میں‌لائے جہاں‌ابھی چند منٹ پہلے عید کا جشن ہورہا تھا اور عیش و مسرت کے پر جوش نعرے بلند تھے۔دوسری طرف سے باہر بھاگنے والوں‌کو طولی خان کے ہمراہیوں‌نے نہایت ہی بدحواسی کے ساتھ بھگا بھگا کے اندر کیا۔اور وہ بھی اسی میدان میں‌ آکے اپنے مظلوم و پریشان دوستوں‌سے اندھوں‌کی طرح‌ٹکرانے لگے۔ کسی کو اپنے پرائے کا ہوش نہ تھا۔ہر شخص کے حواس غائب تھے اور جو دوست دشمن میں سے کسی کو پاتا مجنونوں یاڈوبنے والوں‌کی طرح‌اس کے دامن سے لپٹ کے پناہ مانگتا۔یہ دل خراش سین زمرد کے دل پر نہایت ہی اثر کر رہا تھا۔اور ان لوگوں‌کی بے کسی دیکھ دیکھ کے رو اُٹھتی تھی۔کئی مرتبہ قلعے کی بعض‌ستم زدہ عورتوں‌کے ساتھ اس کی زبان سے بھی چیخ‌کی آواز نکل گئی۔ زمرد کی پریشانی دیکھ کے بلغان خاتون اس کےقریب آئی اور کہنے لگی: “زمرد! میں‌نہ جانتی تھی کہ تمھارا دل اس قدر کمزور ہے،ورنہ تم کو یہاں نہ لاتی۔“

زمرد: (روکے) شاہزادی! یہ سب میرا کیا ہوا ہے۔ ہر خون کا قطرہ جو اس وقت قلعے میں گر رہاہے اور گرے گا،اس کےگناہ میں میرانام بھی لکھا جائے گا۔اور ممکن نہیں‌کہ اسکے انتقام سے میں بچ سکوں۔
بلغان خاتون: یہ صرف تمھارے دل کا بودا پن ہے،ورنہ ان لوگوں کا قتل کرنا ہرگز گناہ نہیں‌۔ ذرا یہ تو خیال کرو کہ اس وقت ہم کیسے کیسے مقدس بزرگوں‌اور نامور لوگوں‌کا بدلہ لے رہے ہیں۔جتنے لوگ یہاں‌مارے جائیں‌گے،ان سے زیادہ روحیں‌اس وقت خوش ہورہی ہونگی اور ہمارے لیے خدا سے مغفرت کی خواست گار ہونگی۔
زمرد: (ہچکیاں‌لے لے کے) جو کچھ ہو،مگر شاہزادی مجھ سے یہ ظلم و جور نہیں‌دیکھا جاتا۔
بلغان خاتون: جب یہ ظلم و جور دل پر اثر کرے تو ان مظالم کو یاد کر لو جو ان ظالموں‌ کے ہاتھ سے دنیا پر ہوتے رہے۔
تھوڑی ہی دیر میں قلعے کی نصف سے زیاد آبادی قتل ہوگئی۔ لاشیں‌ہر طرف تڑپ رہی تھی۔ ہر طرف پھڑکتی ہوئی آ آ کے ایک مقام پر بہت سی جمع ہوجاتیں، اور ایک دوسری کو اپنے خون میں رنگتیں، اور لپٹ لپٹ کے اچھلتی تھیں؛ مگر قاتلوں‌کا خیال بھی اس طرف نہ جاتا تھا۔وہ برابر نئے بے سر دھڑوں‌کو گرا گرا کے انھیں تڑپتی ہوئی لاشوں‌کے تودوں‌کی طرف بھیج رہے تھے۔
اب ہلاکوں‌خاں‌اسی منبر پر جاکھڑا ہوا تھا جس پر سے خور شاہ خطبے کو ناتمام چھوڑ کے اترا تھا۔ برہنہ و خون آلود تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کی بہن شہزادی بلغان خاتون منبر کے نیچے اس کے قریب ہی کھڑی تھی۔ حسین اگرچہ فوجی آدمی نہ تھا مگر اسے انتقام کا پورا موقعہ ملاتھا اور دل کی آگ ملاحدہ کے قتل کی پیاس کو تیز کررہی تھی۔ تاتاریوں‌کی بھیڑمیں گھس گھس کے اوہ ان خاص‌لوگوں‌کو ڈھونڈتا پھرتا تھا جنھیں‌اس نے پہلے سے اپنا شکار تجویز کر لیا تھا۔ ناگہاں ایک شخص ‌دوڑ کے اس کے دامن سے لپٹ گیا اور اس کے منہ سے آواز نکلی: “ حسین، مجھے بچا! میں‌جانتا ہوں کہ ‌تو شجر معرفت کی ایک شاخ ‌ہے۔“ حسین سمجھ گیا کہ کاظم جنونی ہے۔دل میں‌ آئی کی ایک ہی وار میں اس کا سر اڑا دے مگر خود ہی سوچا کہ اس سے طور معنی اور علی وجودی کا پتہ لگ جائے گا۔یہ خیال آتے ہی اس نے ذرا دوستی کی شان سے کاظم جنونی کے کان کیطرف جھک کے پوچھا: “اور طور معنی کہاں‌ہیں؟“

کاظم جنونی نے یہ سنتے ہی سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھا اور شکستہ حال بڈھے کی طرف جو کئی آدمیوں کے درمیان زمیں پر ننگے سر بیٹھا تھا،اشارہ کیا،اور پھر زمیں پر گر کے کہنے لگا: “ اے شجر معرفت! مجھے پناہ دے!“ حسین نے غضب آلود تیوروں‌سے اس کی اس ذلیل خوشامد کو دیکھا ور یہ کہہ کے کہ :“تجھ سے ذلیل فریبی کے لیے پناہ نہیں‌ہے“ اسکا سر اڑا دیا۔ کاظم جنونی کو تڑپتا چھوڑ کے وہ اس بڈھے کی طرف گیا اور دیر میں پہچان سکا کہ طور معنی وہی ہے۔حسین نے اس مجمع کے اندر ہاتھ ڈال کے اسے باہر کھینچا اور کہا: “ آج تو میں‌نے وہ ستر ہزار حجاب خود ہی چاک کرڈالے اور نور سینا کو بے حجاب دیکھ رہا ہوں۔“یہ جملہ سنتے ہی طورمعنی نے حیرت و استعجاب سے حسین کی طرف دیکھا اور کہا:“ اے نوجوان! تو کون ہے کہ رمز حقیقت سے آگاہ معلوم ہوتاہے؟“

حسین: ہاں‌خوب آگاہ ہوں، مگر اپ نے شاید مجھے نہیں‌پہچانا؟
طور معنی: نہیں،بالکل نہیں۔
یہ جواب سنتے ہی حسین نے غصے میں آ کے اسکے منہ پر تھوک دیااورکہا:“ یا تو وہ کشف تھا کہ بغیر اس کے کہ میری صورت دیکھے اور میری آواز سنے تو نے کہا تھا: “ اے نوجوان آملی مرحبا!“ یا آج مجھے دیکھ کے بھی نہیں‌ پہچان سکتا؟ تیری سب سازشیں‌کھل گئیں اور معلوم ہوگیا کہ تو کتنا بڑا مکار و بدمعاش ہے۔“ اس جواب پرطور معنی جھک کے حسین کے قدم چومنے لگا اور رقت و بدحواسی کی آواز میں ‌بولا: “ رحم اے جوان آملی رحم!“
حسین: ہرگز نہیں! تو ایک فتنہ ہے جس سے دنیا کو جہاں‌تک جلدہوسکے خالی کرنا چاہیے۔“
یہ کہہ کے حسین طور معنی کے سینے پرچڑھ بیٹھا؛ تلوار زمیں پر ڈال دی اور کمر سے خنجر نکال کے بولا:“یہی وہ فدائیت کا خنجر ہے جو میری کمر میں‌بندھوایا گیا تھا۔ اسی سے میں نے امام نصر بن احمد کے سے نیک بزرگ کی جان لی تھی اور اسی سے آج تیرا سینہ چاک کرتا ہوں۔“
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, فراز, فرض, کمر, گھڑیاں, پھول, پاک, ویب, وصیت, قدم, لوگ, لڑکی, چین, نظر, مفت, مکہ, مکمل, محبت, آبادی, اردو, خدا, دریافت, راستہ, عالم, عزیز


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بوس تو پھر بوس ہوتا ہے۔ احمد بلال دلچسپ اور عجیب 4 05-01-11 05:23 PM
کراچی میں مذہبی جلوس کے قریب فائرنگ ، چار زخمی جاویداسد خبریں 2 01-09-10 06:10 PM
روس میں خود کش حملہ پانچ ہلاک راجہ اکرام خبریں 3 07-01-10 08:28 PM
کشمیرمیں پہلی ریل سروس شرو‏ع ابن جلال خبریں 0 12-10-08 04:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger