| نئے تخلیق کار نئے تخلیق کار - لکھاری یہ سیکشن ادب کے حوالے سے کہانی اور افسانہ نگاری کے لیے ہے۔ شاعری کے لیے شاعروںکی بیٹھک میںلکھیں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
عبید کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ اس کے والد صاحب ایک مل میں محنت مزدوری کرتے تھے تاکہ وہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھرسکیں۔ عبید اپنے والدین کی سب سے پہلی اولاد تھا اور اس کے بعد اس کی تین بہنیں تھیں۔ اس کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ ہر امتحان میں امتیازی نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کرتا۔ اس کے والدین بہت مشکل سے اس کے تعلیمی اخراجات برداشت کررہے تھے۔ اور اس کو بھی اس کا احساس تھا اور اس نے کبھی بھی اپنے والدین کے پیسے ضائع نہ ہونے دئیے۔ وہ کافی حساس طبیعت کا مالک تھا اور وہ ہر کسی کے دکھ درو میں شامل ہوتا اور جہاں تک ممکن ہوپاتا وہ اس تکلیف یا پریشانی کو ختم کرنے کی کوشش کرتا اور لوگوں سے دعائیں سمیٹتا۔
جب وہ گرایجوایشن کررہا تھا تو اس کے والد صاحب کی اچانک موت واقع ہوگئی جس نے اس کے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا ۔ ابھی وہ اتنا میچور نہ تھا اور نہ ہی اس کے ہاتھ میں کوئی ہنر تھا کہ وہ کچھ کام کرسکے اور جس فیکٹری میں اس کا باپ کام کرتا تھا ان کی طرف سے دیا جانے والا پیسہ چند دنوں میں ہی ختم ہوگیا اور گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی۔ اس کی ماں نے گھر میںسلائی کڑھائی کا کام شروع کرلیا اور ساتھ ہی محلے کے بچوں کو قرآنِ پاک کی تعلیم دینا شروع کردی۔ جس سے ان کا تھوڑا بہت گزارا ہونے لگا۔ عبید چونکہ کافی حساس طبیعت کا مالک تھا اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ کیا کرے وہ اپنی ماں کو سارا دن کوہلو کے بیل کی طرح کام کرتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے اپنے طور پر ادھر ادھر کام دیکھنے کی کوشش کی لیکن تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریجیکٹ کردیا جاتا لیکن اس نے ہمت نہیںہاری اور تلاش جاری رکھی اس دوران اس کا گریجوایشن مکمل ہوگیا اور اس کو چند ٹیوشنز بھی مل گئیں۔ لیکن وہ ان ٹیوشن سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مطمئعن نہ تھا کیونکہ اس کی ماں کو اسی طرح سے کام کرنا پڑ رہا تھا۔اس نے نوکری کی تلاش اور تیز کردی لیکن اس کو کہیں کامیابی حاصل نہیںہورہی تھی۔ کہیں سے اس کو اس کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ریجیکٹ کردیا جاتا تو کہیں پہ کوئی ریفرنس یا سفارش نہ ہونے کی بناءپہ جواب مل جاتا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری کیونکہ اسے اللہ عزوجل سے پوری پوری امید تھی کہ اس کے تنگی کے دن جلد از جلد ختم ہوجائیں گے۔ اس بھاگ دوڑ کے دوران اس کے تمام دوستوں سے رابطے ختم ہوچکے تھے ایک دن اس کی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے دوست خالد سے رابطہ کیا جائے کیونکہ اس کے والد صاحب کی کئی فیکٹریاں پورے ملک میں تھیں اور اس کے زریعہ اس کے والد کی کسی فیکٹری میں کام لیا جائے۔ یہی سوچ کر وہ اپنے دوست کے پاس پہنچا اس کا دوست اس سے مل کر بہت خوش ہوا اور جب عبید نے اس کو اپنی پریشانی بتائی اور کہا کہ مجھے اپنے والد کی فیکٹر ی میںکام دلوادو تو خالد سوچ میں پڑگیا۔ خالد نے اسے کہا کہ میں اپنے والد سے بات کروں گا لیکن مشکل ہے کہ تمہیں یہاں کوئی کام مل پائے کیونکہ تمہیں کوئی کام کرنا تو آتا نہیں ۔ یہ سن کر خالد تھوڑا سا مایوس ہوگیا اوروہاں سے چلا گیا اور دوبارہ اس سے کبھی رابطہ نہیں کیا۔ کئی سالوں بعد عبید دوبارہ خالد کی فیکٹری گیا تو خالد اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ عبید سوٹ بوٹ میںملبوس اور قیمتی گھڑی کے ساتھ سن گلاسز لگائے ہوئے کچھ سال پہلے والے عبید سے بالکل مختلف نظر آرہا تھا اور اس کے پاس بالکل نئے ماڈل کی کار تھی اور اس کے حلیے سے ظاہر ہورہا تھا کہ اس کے پاس بہت پیسہ آگیا ہے۔ خالد حیرانی سے اس کو دیکھتا رہا ۔ بیٹھنے کے بعد رسمی علیک سلیک کے بعد خالد نے اس سے پوچھا کہ لگتا ہے کہ تمہارے پاس بہت زیادہ دولت آگئی ہے لگتا ہے کہیں بڑا ہاتھ مارا ہے ۔ اس کی بات سن کر عبید مسکرانے لگا اور اس کو کہا کہ میں تمہیں ایک واقعہ سناتاہوں۔ عبید نے بتایا کہ تمہارے ہاں سے انکار کے بعد میں کچھ مایوس سا ہوگیا تھا اور میں نے کام سیکھنے کا سوچا ایک دن رات کو جب جب میں ٹیوشنز پڑھانے کے بعد اور کام سیکھنے کے بعد گھر واپس آیا تو امیری والدہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے ایک محلہ دار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور اگر ہوسکے تو تم ہسپتال میں جاکر ان کی تیمار داری کر آئو۔ میں ان کی تیمار داری کے لئے ہسپتال کی طرف چل پڑا ۔ جب میں ہسپتا ل پہنچا تو مجھے یاد آیا کہ کمرے کا نمبرتو مجھے معلوم ہی نہیں ۔ خیرمیں نے تمام کمروں میں چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب میں ایک ایک کمرے کا دروازہ کھول کے دیکھتا اور اپنا مطلوبہ مریض نہ ملنے پر دروازہ بند کردیتا۔ یونہی میں کمرے چیک کررہا تھا تو میں نے ایک کمرے میں دیکھا کہ بستر پہ ایک بزرگ لیٹے ہوئے ہیں اور ایک نرس ان کے پاس کھڑی ہوئی ہے ۔ جیسے کی نرس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے مجھے ڈانٹنا شروع کردیا کہ یہ وقت ہے تمہارے آنے کس وقت سے ہم تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ آئو بیٹھو اور سنبھالو انہیں اتنا کہہ کر وہ نرس چلی گئی ۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا تو بزرگ نے میری طرف ہاتھ کا اشارہ کیا جس پر میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور آنکھیں بند کرلیں ۔ مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے کافی وقت ہوگیا لیکن میںاسی شش و پنج میں رہا کہ اپنا ہاتھ چھڑائوں یا ناں۔ لیکن جب میں بزرگ کی طرف دیکھتا تو مجھے ان کے چہرے پر ایک سکون سا نظر آیا تو میں نے سوچا کہ اگر میرا ہاتھ تھامنے سے یہ بیمار بزرگ پُرسکون ہے تو کوئی بات نہیں میں ساری رات وہیں اسی حالت میں بیٹھا رہا کہ میرا ہاتھ اس بزرگ کے ہاتھ میں تھا۔ صبح کے وقت جب نرس دیکھنے آئی تو اس نے بتایا کہ ان کی تو موت واقع ہوچکی ہے جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں نے ان کے ہاتھ چھڑایا اور باہر کو لپکا کیونکہ میں رات سے گھر سے آیاہوا تھا۔ جب میں کمرے سے باہر نکلا تو اس نرس کے ساتھ دو تین ڈاکٹرز کو آتے ہوئے دیکھا ۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہمیںآپ کی والد صاحب کی موت کا بہت افسوس ہوا بس اسی میں اللہ پاک کی مرضی تھی میں ان کی بات سن کر ان کو جواب دیا کہ یہ میرے والد صاحب نہیںہیں اور نہ ہی میرا ان سے کوئی رشتہ ہے ۔جس پر وہ ڈاکٹر اور دوسرے لوگ بہت حیران ہوئے کہ اگر یہ تمہارے والد یا کوئی رشتے دار نہیں تو تم ساری رات ان کے پاس کیوں بیٹھے رہے ؟میں نے بتایا کہ جب میں رات کو آیا تو مجھے نرس سے ڈانٹنا شروع کردیا اور میںکنفیوژ ہوگیا اور وہاں بیٹھ گیا۔ لیکن جب بعد میں میںجانے لگا تو مجھے احساس ہواکہ اگر میری وجہ سے کسی کوسکون مل رہا ہے تو میں ان کے جاگنے کے بعد چلا جائوں گا جس پر ڈاکٹر اور دوسرے لوگ بہت حیران ہوئے کیونکہ وہ مجھے ان کا بیٹا سمجھ رہے تھے۔ ان لوگوں نے مجھے بہت دعائیں دیں ۔ خیر میں وہاں سے آگیا۔ اس دن کے بعد سے میرے پاس دولت کی فراوانی ہوگئی اور الحمدللہ میرا شمار اس وقت ملک کے امیر ترین لوگوںمیںہوتا ہے ۔ میرے پاس ایک خوبصورت گھر ہے جہاں پہ میری والدہ اور بہنیں رہ رہی ہے، دولت ہے اور ہر قسم کی سہولت اللہ پاک نے دے رکھی ہے۔ اس کی بات سن کر خالد حیران ہوگیا اور کہنے لگا کہ کیا اس بزرگ نے اپنی ساری جائیداد تمہارے نام کردی ؟ عبید ہنسنے لگا اور کہنے لگا نہیں اس بزرگ کا ہاتھ میرے لئے قدرت کا ہاتھ ثابت ہوا۔ اور ایک رات جو میں نے اس بزرگ کے پاس گزاری اس کا مجھے اللہ پاک نے صلہ دیا ۔ اب یہ حال ہے کہ اگر میں مٹی بھی ہاتھ ڈال دوں تو وہ سونا ہوجائے ، جس کاروبار میں میں ہاتھ ڈال لوں اور دیکھتے ہی دیکھتے کامیاب ہوجاتا ہے اور پیسہ میرے پیچھے پیچھے بھاگتا ہے۔ وہ ایک رات جوعبید نے اس بزرگ کے پاس گزاری اس احساس کے ساتھ کہ ہوسکتا ہے کہ اس کا ہاتھ کے پکڑے رکھنے سے ان کو سکون مل رہا ہوں وہ اصل میں قدرت کی طرف سے ایک امتحان تھا اور جس امتحان پہ وہ پورا اترا اور قدرت نے اس کو اس کا بھرپور انعام دیا۔ قدرت ہم سب کو زندگی میں ایک موقع ضرور دیتی ہے جب قدرت کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں آتا ہے ہم میں سے بہت سے عبید کی طرح ہوتے ہیں جو اس قدرت کے ہاتھ کو تھامے رکھتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مقدر کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں جہاںپہ ان کو ہر کوئی رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو اس کو مصیبت یا بلائے جان یا کچھ اور جان کر جھٹلا دیتے ہیں اور بعد میںپچھتاتے ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کو تحریر پسند آئی ہوگی ۔ ایک نیا لکھاری ہونے کے ناطے آپ سب سے گزارش کروں گا کہ اپنی اپنی رائے ضرور دیں تاکہ راقم کی راہنمائی ہوسکے ۔ شکریہ قدرت کا ہاتھ | عدنان کا بلاگ یہ واقعہ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں بھی بیان ہوچکا ہے جاوید چوہدری کا کالم -قدرت کا ہاتھ
__________________
----------
![]() Last edited by محمدعدنان; 05-08-10 at 11:49 AM. |
|
|
|
|
|
#4 | ||
|
Senior Member
![]() |
میں سوچ رہا تھا کہ تبصرہ کروں
مگر پھر یہ سوچ کر رہ گیا کہ تبصرہ کرنا بڑے بڑوں کا کام ہے میں کیا میری اوقات کیا ۔۔ فی الحال مختصراً عرض کیے دیتا ہوں لیکن اس کو کوئی بہت جامع تبصرہ نہ سمجھیے گا کیوں کہ میں خود اس شعبے میں اناڑ ی ہوں کوتاہیوں اور خامیوں پر قبل از وقت معذرت کہانی میں جو بات سب سے پہلے اچھی لگی وہ ہے اصلاحی اور فلاحی پہلو بہت اچھے یہ بات ایک اچھی کہانی کی پہچان ہے ۔۔ کہانی کا حقائق کا قریب تر ہونا بہت ضروری ہے اس کہانی میں ایک بات حقیقت سے بہت نزدیک لگی اور ایک بات حقیقت سے دور جو بات حقیقت سے نزدیک لگی کہ کسی پر احسان کرنے کے بعد کوئی آپ کے نام جائداد کر دے جو کہ پرانی کہانیوں میں ہوا کرتا تھا خاص کر بچوں کی کہانیوں میں ۔ اقتباس:
ضروری نہيں کہ ایسا ہو مجھ جیسے بعض لوگ جب زندگی میں محنت کر کر کے کچھ حاصل ہونے سے نا امید ہو جاتے ہیں تو ایسے ہی خواب دیکھنے لگتے ہيں ۔ آپ نے اس احمقانہ امید کو بڑی آسانی سے رد کیا ہے بہت اچھے اور حقیقت سے دور جو بات ہے وہ یہ ہے اقتباس:
اور ہوتے ہيں تو وہ جوئے کی طرح ہوتے ہيں جیسے کاہل کو بیٹھے بیٹھے دولت مل جاتی ہے حالانکہ نہ تو وہ اخلاق کا اچھا ہوتا ہے اور نہ محنتی اور زندگی بھر محنت اور ایمانداری سے کام کرنے والے کو کچھ نہيں ملتا خواہ وہ صبر ہی کیوں نہ کر لے اسے یہ کہہ کر تسلی دی جاتی ہے کہ تمہیں اس کا صلہ اس دنیا میں نہیں تو اگلے جہاں میں مل جائے گا ۔ خیر یہ بھی ایک لمبا موضوع ہے جس پر بعض اوقات بولتے بولتے ہوئے میں میں بھی تلخ ہو جاتا ہوں اس قسم کے غیر معمولی اور خلاف توقع انجام والے واقعات بچوں کو سکھانے کے لیے تو بیان کیے جا سکتے ہيں تا کہ ان پر اچھی اور با اخلاق باتوں کا اثر ہو ۔ مگر ہم بڑوں کا وژن کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔ ہم زندگی کو حقائق کی نظر سے دیکھتے ہيں ۔ فی الحال اتنا ہی عرض کرنا چاہوں گا ۔ والسلام
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
||
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
شاہد بھائی مجھے یہ علم تو نہیں ہے کہ یہ واقعہ حقیقی ہے کہ نہیں ۔ بس میں نے کہیں سے سنا اور مجھے اچھا لگا سو میں نے اس کا زکر کردیا۔ لیکن میرے بلاگ پہ ایک بھائی نے بتایا ہے کہ یہی واقعہ جاوید چوہدری کے ایک کالم میںبھی بیان ہوچکا ہے ۔ جس کا مجھے قطعی علم نہیں تھا۔
جاوید چوہدری کا کالم -قدرت کا ہاتھ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (05-08-10) |
![]() |
| Tags |
| کوشش, پاک, پسند, نوکری, نظر, مکمل, موقع, موت, ممکن, ماں, معلوم, اللہ, انعام, امتحان, بچوں, تلاش, تحریر, جواب, جلد, خوش, دعائیں, رات, رشتے, زندگی, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تیرے ہاتھ الگ میرے ہاتھ الگ | راجہ اکرام | شعر و شاعری | 7 | 16-04-12 09:08 PM |
| ماں ساتھ ہے تو سایہ قدرت بھی ساتھ ہے | راجہ اکرام | شعر و شاعری | 24 | 09-06-11 02:36 PM |
| وکی لیکس کے ڈرون حملے جاری، دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی بمبارمنٹ، پول کھلنے لگے | جاویداسد | خبریں | 1 | 01-12-10 01:59 PM |
| افغانستان: فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور ترقیاتی کام کی بھی ضرورت ہے: ہلری کلنٹن | راجہ اکرام | خبریں | 1 | 01-02-10 05:25 PM |
| میرے ہاتھ میں تیرا ہاتھ | شیراز احمد | شاعری اور مصوری | 1 | 15-07-09 12:04 PM |