واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > نئے تخلیق کار



نئے تخلیق کار نئے تخلیق کار - لکھاری یہ سیکشن ادب کے حوالے سے کہانی اور افسانہ نگاری کے لیے ہے۔ شاعری کے لیے شاعروں‌کی بیٹھک میں‌لکھیں۔


خیر الناس من ینفع الناس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-02-10, 02:48 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default خیر الناس من ینفع الناس

خیر الناس من ینفع الناس

خیر الناس من ینفع الناس

غم بانٹنے کی چیز نہیں پھر بھی دوستو!
اک دوسرے کے حال سے واقف رہا کرو

اگر "انسان" کی زندگی دیکھی جائے تو " خیر الناس من ینفع الناس" سے خالی نہیں ہونی چاہے "انسان" سے مراد ایسا مسلمان جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ مذہب کوئی بھی ہو انسانیت کا درست تو ہر مذہب ہی دیتا ہے۔ تمام مذاہب کا یہ یکساں کارفرما اصول ہے کہ "جیسا کروگے ویسا بھروگے"۔ حقوق اللہ تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا لیکن انسانوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہونگے جب تک انسان خود معاف نہیں کرے گا۔ اور ہم میں سے کون ایسا ہے جو انسانوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔ حقوق کا خیال تو تب رکھا جائے جب ہمیں پتہ ہو کے انسانوں کے حقوق ہیں کیا۔ ہمیں تو اپنے سوا کوئی انسان نظر نہیں آتا ہم انسان ہیں چاہے ہم میں انسانیت نہیں، ہم مسلمان ہے چاہے ہم میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں، لیکن ہمارے علاوہ کون کون مسلمان اور انسان ہے اس بارے میں نا تو ہم جاننا چاہتے ہیں اور نا ہی ہمیں معلوم ہے اور اس کے بعد ہم یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہم پر رحم کیا جائے۔ "خیر الناس من ینفع الناس" کی گردان تو ہم کرتے رہتے ہیں عملی طور پر ہم اس پر کتنا عمل کرتے ہیں یہ ہم اور آپ سب جانتے ہیں اور اگر کوئی نہیں جانتا تو اپنے گریبان میں دیکھ لیے خود ہی پتہ چل جائے گا۔ آج انسان کیوں نقصان میں ہے۔ ہر طرف سے اس پر کیوں مشکلات نازل ہو رہی ہیں۔ میری کمزور عقل میں صرف یہ بات آتی ہے کہ ہم نے اپنے سوا دوسروں کو انسان تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہم خود تو سکون سے رہنا چاہتے ہیں لیکن کسی کو نہیں دیکھ سکتے، یا یوں کہیں کے ہم اپنی طرف سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ آج کل دہشت گردی کا عذاب ہے روز لاشیں دیکھتے ہیں ہزاروں زخمی دیکھتے ہیں ایک منٹ کے لیے افسوس کرتے ہیں اور اس کے بعد ایسے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ زندگی کا کام تو گزرنا ہے وہ تو گزر ہی جائے گی لیکن کیسے گزرے کی یہ بارے میں ہمیں سوچنا چاہے۔ زندگی ایک برف کی ماند ہے اگر برف کو پینے کے پانی میں رکھا جائے تو گرمیوں میں یہ برف ٹھنڈا پانی پینے کے کام آتی ہے اور اگر اسی برف کو زمین پر بلاوجہ رکھ دیا جائے یا پھیر کسی اور دوسرے بےمقصد کام کے لیے استعمال کیا جائے تو دونوں صورتوں میں برف نے پگلنا ہی ہے لیکن فائدہ اسی برف کا ہو گا جو پینے کے لیے ٹھنڈا پانی تیار کرے گی۔ ہم اپنے ہمسائے سے غافل ہیں، ہمسائے تو پھر ہمسائے ہم اپنے احباب جو غریب ہیں جو غریبی کی زندگی گزار رہے ہیں ہم ان سے لاعلم رہتے ہیں۔ ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اگر ہمارے احباب کو کوئی ضرورت ہے وہ ہم سے مانگے حالانکہ ہمیں خود احساس کرنا چاہے۔

زندگی اللہ کی عطا کی ہوئی ہے اور ایک دن ہم نے اللہ کے پاس ہی جانا ہے اور جواب دے ہونا ہے ہمیں انسانوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہے۔ دوسروں کی مدد کرنی چاہے اپنے سے کمزور کی مدد کرنی چاہے جس طرح ممکن ہو دوسروں کا خیال رکھنا چاہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں اللہ تعالیٰ ہماری ہر بات ماننے کو تیار ہے۔ ہم جب اللہ سے توبہ کریں گے ہم جب سچے دل سے معافی مانگے گے اللہ ہمیں معاف کر دے گا ابھی وقت ہے کہ ہم بھی مان جائیں اور اپنے لیے فائدہ کمائے لیکن اگر وقت گزر گیا تو پھر ہم ماننے کو تیار ہونگے اور اللہ نہیں مانے گا۔ ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم سمجھ جائیں کہ زندگی خیر الناس من ینفع الناس کی تفسیر ہے

خرم ابنِ شبیر
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
sahj (10-02-10), منتظمین (11-02-10), مباح (11-02-10), راجہ اکرام (10-02-10), رضی (12-02-10), سحر (10-02-10), عبداللہ حیدر (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 04:54 PM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,076
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (10-02-10), خرم شہزاد خرم (10-02-10), راجہ اکرام (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 05:10 PM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم
جزاک اللہ بھائی خرم

میں خرم صاحب کی اس بہترین تحریر کو " سرورق " کے لئے تجویز کرتا ھوں،

شکریہ

والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (11-02-10), خرم شہزاد خرم (10-02-10), راجہ اکرام (10-02-10)
پرانا 11-02-10, 10:50 AM   #4
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,960
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم برادران!
بہت اچھا پیغام دیا ہے خرم بھائی آپ نے جزاک اللہ خیرا

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے۔ عرض کیا گیا : یارسول اللہ! کوئی آدمی اپنے والدین پر کسطرح لعنت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی دوسرے آدمی کے والد کو گالی دیتا ہے تو وہ( جوابََا) اسکے والد کو گالی دیتا ہے اور جب کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ (جواَبا) اس کی ماں کو گالی دیتا ہے(یہ خود اپنے ماں باپ کو گالی دینا ہے)۔،،
ٌحدیث رقم:35اخرجہ البخاری فی الصحیح کتاب الادب باب:لا یسب لرجل والدیہ5/2227
__________________
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
(اقبال)
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (12-02-10), منتظمین (11-02-10), خرم شہزاد خرم (11-02-10)
پرانا 12-02-10, 01:07 AM   #5
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,667
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم برادران!
بہت اچھا پیغام دیا ہے خرم بھائی آپ نے جزاک اللہ خیرا

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے۔ عرض کیا گیا : یارسول اللہ! کوئی آدمی اپنے والدین پر کسطرح لعنت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی دوسرے آدمی کے والد کو گالی دیتا ہے تو وہ( جوابََا) اسکے والد کو گالی دیتا ہے اور جب کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ (جواَبا) اس کی ماں کو گالی دیتا ہے(یہ خود اپنے ماں باپ کو گالی دینا ہے)۔،،
ٌحدیث رقم:35اخرجہ البخاری فی الصحیح کتاب الادب باب:لا یسب لرجل والدیہ5/2227
اللٰہ رحم کرے آج کل تو یہ بری عادت ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے کہ ذرا سی بات پر گالیوں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 12-02-10, 11:06 AM   #6
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,960
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
اللٰہ رحم کرے آج کل تو یہ بری عادت ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے کہ ذرا سی بات پر گالیوں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔
اسلام علیکم برادران!
اللہ پاک ہم سب کی اصلاح فرمائے اور ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستوں میں بھیٹھنے سے بچتے رہنا۔ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہمیں ایسی جگہوں پر بھیٹھنے کے سوا چارہ کار نہیں کیوں کہ ہم بات چیت کرتےہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا (راستوں کی) مجالس میں بھیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کرو ۔ عرض کیا گیا یارسول اللہ! راستے کا حق کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کا راستے سے ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا(راستے کا حق ہے)۔''
الحدیث رقم20: اخرجہ البخاری فی الصحیح،کتاب:الاستئدان،باب( 2)،5/5875 ۔
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
پرانا 05-04-10, 08:55 PM   #7
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب کے پسند کرنے کا بہت شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, کرنی, وقت, نظر, ممکن, مسلمان, مسلمانوں, معلوم, آج, اللہ, انسان, جواب, حال, خود, دے, دل, زندگی, سچے, طور, عقل, عذاب, غافل, غریب, غریبی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:04 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger