| نئے تخلیق کار نئے تخلیق کار - لکھاری یہ سیکشن ادب کے حوالے سے کہانی اور افسانہ نگاری کے لیے ہے۔ شاعری کے لیے شاعروںکی بیٹھک میںلکھیں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
نام : حالات اور مفاد پر منحصر ہے۔ ایک نام نہیں۔
رول نمبر: 9211 کالج : قومی اور صوبائی اسمبلیاں سوال نمبر 1: حکومت کرنے کے لیے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے یا نوٹوں کی جواب تفصیل سے لکھیں اور اگر ہو سکے تو ایک دو مثالیں بھی دیں۔ جواب: حکومت کرنے کے لئے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ووٹوں کے لئے نوٹوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر ٹھوس وعدے، ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تختیاں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ سوال نمبر 2: لوٹے کی تعریف کریں، نیز یہ بھی بتائیں کے لوٹے کی کتنی اقسام ہوتی ہیں جواب: لوٹا وہ ہوتا ہے جو ضرورت پڑنے پر ”قوم کے وسیع تر مفاد میں“ اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر عوام کی ”خدمت“ کرتا ہے۔ لوٹے کے بہت سارے اقسام ہیں، لیکن مشہور اقسام 2 ہیں۔ پہلی قسم، بغیر پیندے کا لوٹا، یہ وہ لوٹا ہوتا ہے جو ہر الیکشن کے بعد لڑھکتا ہے۔ پھر اگر اس کو اپنی قلابازیوں کا مناسب اور منہ مانگا معاوضہ، جیسے کہ وزارت وغیرہ، نہ ملے تو اور اگلے الیکشن سے پہلے دوبارہ بھی لڑھک سکتا ہے۔ دوسری قسم، ان لوٹوں کی ہے، جو کسی اشد ضرورت کے تحت ہی لڑھکتے ہیں۔ اپنی اس طرز عمل کو وہ عوام کی خدمت کے لئے ایک کوشش کا نام دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوٹے اول الذکر لوٹے سے ذرا کم قیمت کے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کو سیاسی شعبدہ بازی میں وہ مہارت حاصل نہیں ہوتا جو اول الذکر لوٹے کو ہوتا ہے۔ سوال نمبر 3: اچھی سے اچھی وزارت حاصل کرنے کےلیے جیل جانا ضروری ہے یا مکھن لگانا، اگر جیل جانا ضروری ہے تو کتنی دفعہ اور اگر مکھن لگانا ضروری ہے تو کتنا جواب: اچھی سے اچھی وزارت حاصل کرنے کے لئے مکھن لگانا جیل جانے سے زیادہ ضروری ہے۔ جیل جانے والے تو بے وقوف ہوتے ہیں جو سیاسی قیدی بن کر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مکھن لگانے کا ہنر وزارت حاصل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ مکھن کی مقدار کا تعین کرنا مشکل بھی ہے اور غیر ضروری بھی۔ جتنا زیادہ شکر ڈالوگے، چائے اتنی ہی میٹھی ہوگی۔ سوال نمبر 4: کسی صورت میں اگر حکومت ٹوٹ جائے تو سب سے پہلا فیصلہ کیاکرنا چاہے۔ وطن چھوڑ کر بھاگ جانا چاہے یاپھر وطن سے نکلنے کو ترجیح دینی چاہئے؟ جواب: حکومت ٹوٹنے کی صورت میں پہلی ترجیح تو یہ ہونی چاہییے کہ لوٹا کریسی کے ہنر سے کام لے کر نئے آنے والوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ وہ حضرات جن کی لوٹا بننے کی صلاحیت مضبوط نہ ہو، وہ ہرگز اس طریقے کو نہ آزمائیں۔ کیونکہ ناکامی کی صورت میں جیل میں چکی پیسنے کی نوبت آسکتی ہے۔ اس لئے ایسے حضرات پہلی فرصت میں بمعہ اپنے اہل وعیال کے، ملک سے بھاگنے کی کوشش کریں۔ اس صورت میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس فعل کو سیاسی جلاوطنی کا نام دے کر عوام کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ آم کے آم، گھٹلیوں کے دام۔ سوال نمبر 5: اپنی حکومت زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لیے کون سا ڈرامہ کرنا ضروری ہے؟ جواب: اپنی حکومت کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ایک ڈرامہ کافی نہیں۔ سیاستدان کو اداکاری کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیئے۔ اگر کسی مسئلے پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے، تو پہلے تو ان کو وعدوں کا لولی پاپ دے کر بہلانے کی کوشش کی جائے، جو اکثر اوقات کامیاب ہوجاتی ہے۔ اگر مسئلہ شدید نوعیت کا ہو، اور لولی پاپ سے کام نہ بنے تو پھر موجودہ مسئلے سے بڑا مسئلہ پیدا کرکے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرکے کہا جائے، ارے جناب، ہمارے ملک میں اس سے بڑے مسئلے بھی ہیں۔ امید ہے یہ حربہ کارگر ہوگا۔ سوال نمبر 6: چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نا جائے کی تعاریف کریں اور یہ بتائیں کہ اس سوال کا اس پرچے سے کیا تعلق ہے؟ جواب: یہ سوال ذرا ٹیڑھا ہے۔ اور جواب دینے کی صورت میں اندیشہ نقصِ امن کے تحت پرچہ نویس کو جیل کی ہوا کھانے کی نوبت آسکتی ہے۔ اس لئے معذرت۔ سوال نمبر 7: یہاں آپ کو اجازت دی جاتی ہے اپنی مرضی کا سوال لکھیں اور اپنی مرضی کا جواب لکھیں- سوالوں کے نمبر سیاست دان کی ذہانت کے مطابق وزارت کی شکل میں دیے جائیں گے۔ جواب: اس کے لئے میرا پسندیدہ سوال یہ ہوگا کہ ”کیا حکومت کے انتخاب کا طریقہ تبدیل ہونا چاہییے، اگر ہاں، تو آپ کے خیال میں متبادل طریقہ کیا ہونا چاہیئے؟“ میرا جواب یہ ہے، کہ ہم ہر 5 سال تو نہیں ۔۔۔۔ خیر، 3 سال بعد الیکشن پر خزانے کے اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ جو کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے ایک فضول خرچی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس اسراف سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک متبادل طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن سارے امیدواروں کو ایک میدان میں جمع کرکے ایک ٹرینڈ طوطے کو چھوڑ دے۔ طوطا جس کے سر پر بیٹھے گا، وہی وزیراعظم ہوگا۔ پھر وزیر اعظم اپنی کابینہ کی تشکیل کے لئے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر سارے امیدواروں کے اوپر جھاڑو کے تنکے پھینکے، جن لوگوں کے ہاتھ جتنے تنکے آئیں، ان کو الگ کرکے تنکوں کی تعداد کے لحاظ سے وزارتیں دی جائیں۔ نوٹ: اس طریقہ کار کے تحت الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کا کریمینل ریکارڈ اور سند یافتہ لوٹا ہونا ضروری ہے۔ شریف یعنی بدھو امیدواروں سے پیشگی معذرت۔ سوال نمبر 8: اپوزیشن میں رہ کر جس بات سے انکار کیا جاتا ہے حکومت میں آتے ہی اس بات کی حمایت کی جاتی ہے اس کی وجہ بیان کریں۔ جواب: اس کی وجہ آپ ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ حکومت ایک پہاڑی پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اپوزیشن زمین پر کھڑی ہے، اور عوام کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہے، اس لئے وہ ہوا میں معلق ہیں۔ اب اپوزیشن والوں کو عوام اپنے سے اوپر نظر آتے ہیں، تو ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے واویلا کرتے ہیں کہ دیکھو، کیا حالت کردی ہے عوام کی۔ جبکہ حکومت اوپر سے نیچے دیکھتی ہے تو اس کو عوام زمین پر ہی نظر آتی ہے۔ اس لئے اپوزیشن اور عوام کے احتجاج کو سیاسی کھیل قرار دیتی ہے۔ یہی سیاسی کھیل جب حکومت کا تختہ الٹ کر اسے اپوزیشن اور اپوزیشن کو حکومت بناتی ہے، تو وہی ہوتا ہے جو پہلے ہورہا ہوتا ہے۔ یعنی کل کی اپوزیشن آج کی حکومت ہوتی ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھی ہے۔ اب اس کو عوام زمین پر نظر آتی ہے۔ جبکہ کل کی حکومت جو آج کی اپوزیشن ہے، اس کو اب عوام ہوا میں معلق نظر آتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی واویلا کرتے ہیں۔ رہی عوام کی حالت، تو وہ پہلے بھی ناک سے آویزاں تھے، آج بھی ہیں۔ نوٹ: ناچیز بچپن سے ہی پڑھاکو واقع ہوا ہے۔ اس لئے ہر سوال کا جواب بہت تفصیل سے دینے کا عادی ہے۔ اگر ممتحن کے مزاج شریف کو ناگوار گزرے، تو ناک بھوں چڑھانے کی بجائے، اسے بندہ کی کمزوری سمجھ کر اچھے مارکس دئیے جائیں۔ نوازش ہوگی۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ Last edited by ھارون اعظم; 13-03-10 at 02:05 PM. |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | ملک بھائی (13-03-10), منتظمین (13-03-10), محمدعدنان (13-03-10), wajee (13-03-10), بزم خیال (14-03-10), خرم شہزاد خرم (13-03-10), راجہ اکرام (13-03-10), رضی (13-03-10), سحر (14-03-10), شاہ جی 90 (13-03-10), عامرشہزاد (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب جناب اگر اجازت ہو تو یہ میں اپنے بلاگ پر لگا دوں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یعنی آپ پوری طرح اہل ہیں سیاست دان بننے کے لیے ۔
آپ کے علاوہ کوئی اس پررچے کو حل کرنے کی ہمت نہیں کر سکا ۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (13-03-10), خرم شہزاد خرم (14-03-10), رضی (13-03-10), شاہ جی 90 (13-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ واہ ہارون بھائی
آپ کے اندر ایک پورا سیاست چھپا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ذرہ نوازی ہے آپ لوگوں کی۔ آپ لوگ کہیں تو اگلے الیکشن میں کھڑا ہو جاؤں؟
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہا ہا ہا
بے شک کھڑےہو جائیںلیکن بے ضمیری کہاں سے لائیں گے جو کہ ان کاموں کے لئیے ضرورئ ہوتی ہے |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (13-03-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسی لیئے تو کہا ہے کہ آپ کبھی کامیاب کیا ناکام سیاست دان بھی نہیں بن سکتے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (13-03-10), رضی (13-03-10) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ہمارے معاشرے میں بہت سارے سیاستدان ایسے بھی ہیں جو اپنی ضمیر کا سودا نہیں کر رہے۔ اسی لئے وہ لوگ آج کل ناکام ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا کہ سیاست گندے لوگوں کا کھیل ہے اور اس سے دور رہنا چاہیئے، ایک غلط نظریہ ہے۔ اگر ہم اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے، تو ہماری قسمت یہی ہوگی کہ بد عنوان لوگ ہمارے معاملات کے نگران بنیں گے۔
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو پھر ناکام سیاستدانوں کی خصوصیات پر بھی ایک پرچہ حل کر دیجئے ۔
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر آپ کے علم میں کوئی ایک بھی ہو تو نام بتا دیں بھیا شریف لوگوں کا سیاست کھیل ہی نہیں ہے ، |
|
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (14-03-10) |
![]() |
| Tags |
| color, فرض, کوشش, پاکستان, پسندیدہ, وزیراعظم, لوٹے, چور, نظر, موجودہ, آم, آج, احتجاج, بچپن, تنکے, جیل, جواب, حضرات, ذرا, سال, عوام, عادی, صوبائی, صلاحیت, صبر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|