واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > نئے تخلیق کار



نئے تخلیق کار نئے تخلیق کار - لکھاری یہ سیکشن ادب کے حوالے سے کہانی اور افسانہ نگاری کے لیے ہے۔ شاعری کے لیے شاعروں‌کی بیٹھک میں‌لکھیں۔


ادبی فرقہ بندی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-02-10, 09:08 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ادبی فرقہ بندی

ادبی فرقہ بندی

مجھے جب نیا نیا شاعری کا شوق پیدا ہوا تو میں نے پہلے کسی کو نہیں بتایا شرم کی وجہ سے ایک دفعہ اپنی ایک نظم جو والدین پر لکھی تھی ایک اخبار کو ارسال کی تو وہ شائع ہو گئی اور میں نے وہ اخبار بہت سے لوگوں کو دیکھائی۔ گھر والوں نے تو مانا ہی نہیں بھائیوں نے کہا “یار بس کر کسی دی چوری کیتی ہوسی آ” (بھائی بس کر کسی کی چوری کی ہو گئی) اسی طرح ہر کسی نے کوئی نا کوئی بات کی لیکن ایک شخص جن کا نام نذیر تھا انھوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور انھوں نے مجھے ایک ریسٹورنٹ بتایا جہاں ہر اتوار کو کچھ شاعر بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن میں وہاں نہیں جا سکا۔ پھر ایک دفعہ کالجوں میں غزلوں کا مقابلہ ہوا اور مجھ سے کسی نے کہا میں مقابلے کے لیے غزل لکھ کردوں وہ اپنے نام سے پڑھے گا میں نے لکھ دی اور بعد میں پتہ چلا وہ غزل تیسرے نمبر پر آئی ہے۔ اس وقت مجھے وزن کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ تھا اس کے بعد مجھے احساس ہوا کسی سے اس کی تعلیم لی جائے اس سلسلے میں ایک شاعر کے پاس گیا ان کی گفتگو کچھ یوں تھی

” بیٹا آپ کا کلام بے وزن ہے کچھ غزلوں پر اگر محنت کی جائے تو ان کو وزن میں لایا جاسکتا ہے آپ اچھے شاعروں کا کلام پڑھا کریں بہت کچھ سیکھیں گے اور ہاں علمِ عروض پر بھی کچھ نظر ڈال لیا کرو صرف اتنا کہ کم از کم تم اپنی غزل بحر میں کر سکو”

اس وقت مجھے علمِ عروض وغیرہ کا کچھ پتہ نہیں تھا میں غزل کو گا کر لکھتا تھا۔ خیر ان کی بات اس وقت تو مجھے سمجھ نہیں آئی اسی طرح پھر ایک محفل میں ایک اور صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے کچھ یوں کہا

” تم اس طرح کرنا اپنا کلام جو تم سمجھتے ہو اچھا ہے میرے پاس لیے آؤ میں تم کو اس کی اصلاح کر دوں گا”

میں اپنی کچھ غزلیں ان کے پاس لے گیا اور انھوں نےکچھ اصلاح کر دی کچھ الفاظ نکال دیے اور کچھ تبدیل کر دیے کہیں کہیں تو پورا شعر ہی بدل دیا اور کہیں تو پوری کی پوری غزل تبدیل کر دی یعنی میں نے سوچا اور کہا کچھ تھا لیکن اس اصلاح کےبعد کچھ سے کچھ ہو گیا ان کا کام ختم

پھر ایک صاحب سے اور ملاقات ہوئی کیا فرماتےہیں

” بیٹا تم کن چکروں میں پڑ گے ہو یہ علمِ عروض وغیرہ کچھ نہیں ہوتا شاعری تو دل کی آواز ہوتی ہے یہ خدا کی طرف سے عطا ہوتی ہے اب دیکھو نا جو کچھ تم تخلیق کرتے ہو کیا وہ سب بحر پر پورا نا اترنے کے بعد تم اس کو ختم کر دو گے بھول جاو گے میری مانوں تم لکھو اور جو تم بہتر سمھتے ہو وہ کروں یہ علمِ عروض کے چکر میں نا پڑو”

پھر اسی طرح مختلف حضرات سے ملاقات ہوتی رہی پھر ایک ڈرامے سے بھی ملاقات ہوئی ڈرامہ کچھ یوں تھا۔ ان دنوں مجھے ذوالفقار علی زلفی صاحب مل گے تھے جنوں نے میری بہت رہنمائی کی۔ اور اپنے ساتھ ساتھ مجھے ادبی حلقوں میں لے گے اختر رضا سلیمی صاحب اور اختر عثمان صاحب جیسے ادبی حضرات سے ملاقات کروائی جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اب آتا ہوں ڈرامے کی طرف۔

” ایک حضرت ملے جو دور، دور سے اور غلطی سے ہمارے رشتے دار ہی لگتے ہیں۔ ان کو پتہ چلا کہ میں بھی شاعری کرتا ہوں (جناب بھی اچھے شاعر ہیں اور ادبی حلقوں میں ان کا نام بھی ہے۔) تو راولپنڈی آنے پر مجھے اپنے گھر بُلایا اور کہا کچھ سناؤ ایک غزل جس کی اصلاح زلفی صاحب نے کی تھی وہ سنا دی پسند کی گئی اور پوچھنے لگے ادبی حلقوں میں بھی جاتے ہو کہ نہیں۔ میں نے بتا دیا جی زلفی صاحب کی مدد سے ان ان حضرات سے ملاقات ہے اور ہفتے میں ایک دن تنقیدی نشست بھی لگتی ہے وہاں بھی جاتا ہوں۔ جناب نے جواب دیا یہ تم کن لوگوں کے پاس جا رہے ہو یہ سب عروضی ہیں اپنے علاوہ کسی کےکلام کو پسند نہیں کرتے بس تنقید ہی کرتے رہتے ہیں کیوں اپنے آپ کو خراب کر رہے ہو اور ہاں کل اگر تم مشہور ہو گے تو یہ سب کہیں گے کل تک تو ہم سے سیکھتا تھا۔ میں نے کہا تو جناب اس میں کیا ہے سیکھ تو رہا ہوں ان سے۔ اگر ایسا کہیں گے تو ٹھیک ہی کہیں گے۔ اس پر جناب کا کچھ رنگ بدل گیا خیر پھر اس کے بعد جب بھی وہ راولپنڈی آئیں تو ملاقات ضرور ہوتی تھی۔”

اسی طرح بہت سے حضرات ملے کوئی عروضی، کوئی بے وزن، کوئی انگلوں پر گن کر شاعری کرتا، کوئی گا کر شاعری کرتا، کوئی کسی کی تنقید اور اصلاح قبول نا کرتا اور کوئی کسی کی اصلاح ہی نا کرتا ہر کوئی اپنے اپنے حلقے بنا کر بیٹھے رہے اور ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے مجھے زلفی صاحب ملے جنوں نے مجے بنیادی چیزیں بتائیں اور ان کے بعد اردو محفل پر محمد وارث صاحب اور اعجاز صاحب مل گئے


ایک فرقہ تو ایسا بھی ملا جو کہتا تھا جو دل میں آئے لکھو اور لکھتے جاؤ کسی کی پروا نا کرو کوئی جو کچھ مرضی کہے
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-02-10), کنعان (08-02-10), ھارون اعظم (08-02-10), نورالدین (08-04-10), منتظمین (05-04-10), راجہ اکرام (07-02-10), سحر (07-02-10)
پرانا 07-02-10, 10:46 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
ویسے تو شاعری کمال کی چیز ہے جس کو آ جائے، البتہ ابتدائی دور بہت مشکل ہوتا ہے جس کا بخوبی اندازہ آپ کی اس آپبیتی سے ہو رہا ہے۔
کیوں کہ اپنی فیلڈ میں نئے بندے کو برداشت کرنے کا حوصلہ بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے۔
بہر حال آپ کو ان صعوبتوں کا صلہ خوب ملا اور آپ کا کلام ماشاء اللہ نکھر گیا۔
جتنا میں نے پڑھا ہے مجھے بہت پسند آیا۔۔۔۔۔۔۔
البتہ یہ عروض اور قافیہ والا جو میدان اس کی اہمیت سے تو انکار نہیں، بلکہ شاعری اس کے بغیر ایسی ہے جیسے پتی کے بغیر چائے
لیکن مجھے تو جو پڑھنے میں باوزن لگے، وہی پسند ہے ۔ جو پڑھنے میں باوزن نہ لگے، مزا نہ دے وہ عروض و قافیہ کے مطابق ہونے کے باوجود مجھ سے پڑھی نہیں جاتی۔

بہت اچھی تحریری روداد ہے۔ اللہ آپ کے کلام میں نکھار پیدا کرے ۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-02-10), نورالدین (08-04-10), خرم شہزاد خرم (05-04-10)
پرانا 05-04-10, 09:01 PM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی بہت شکریہ پسند کرنے کا اور راے دینے کا اب تو آپ بھی اسی میدان میں ہیں لیکن آپ کی خوش قسمتی ہے
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کلام, گھر, پسند, وقت, نظر, مقابلہ, اللہ, اردو, بے, تعلیم, جواب, حضرات, خدا, دیکھو, ذوالفقار, رشتے, شاعری, شخص, شعر, علمِ, عثمان, عروض, غلطی, غزلیں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger