| میر تقی میر میر تقی میر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاد وہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا لطف اگر یہ ہے بتاں صندلِ پیشانی کا حسن کیا صبح کے پھر چہرۂ نورانی کا کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے حسن زنار ہے تسبیحِ سلیمانی کا درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں سَیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا تنگ احوال ہے اس یوسفِ زندانی کا کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں ہے بڑا حیف ہمیں اپنی اپنی بھی نادانی کا وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب ہم نے سرنامہ کیا کاغذِ افشانی کا اس کا منھ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں معتقد کون ہے میرؔ ایسی مسلمانی کا
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شاعری ہے جناب
شکریہ شئیر کرنے کا |
|
|
|