واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > میر تقی میر



میر تقی میر میر تقی میر


میر تقی میر کی برسی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 13-11-08, 03:54 PM   #1
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,982
کمائي: 56,028
شکریہ: 2,989
1,423 مراسلہ میں 3,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default میر تقی میر کی برسی

میر تقی میر کی برسی

خدائے سخن کی 198ویں برسی پر خصوصی مضمون


باتیں ہماری یاد رہیں، پھر باتیں ایسی نہ سنیئے گا


پرانے لکھنئو میں وزیر گنج کی جانب سے سٹی اسٹیشن کی طرف ایک سڑک سلطان المدارس کو جاتی ہے۔ وہیں پر بھیم کا اکھاڑہ کا قبرستان ہوا کرتا تھا جہاں 21ستمبر 1810ء کو خدائے سخن میر تقی میر کی تدفین ہوئی تھی۔ ویسے اب ان کی قبر کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ شاید سیٹی اسٹیشن کی توسیع اس قبرستان کو ہضم کر گئی تھی۔ یا پھرزمین کے حریصوں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ میر کو پہلے ہی اس کا اندازہ ہو گیا تھا:


مت تربتِ میر کو مٹاؤ
رہنے دو غریب کا نشاں تو

ان کی قبر کے سلسلہ میں معروف محقق مسعود حسین رضوی ادیب کا خیال ہے ”سٹی اسٹیشن سے ڈالی گنج جانے والی چھوٹی لائن کی پٹری کے کنارے ریل کے چھتے کے قریب ذرا بلندی پر کچھ پرانی قبریں تھیں۔ان میں ایک غیر معمولی سائز سے کچھ بڑی اور مستحکم تھی۔میں لڑکپن سے اسے میر کی قبر سنتا آیا ہوں۔ میرے لڑکپن میں بھی اسے بڑے بوڑھے میر کی قبر بتاتے تھے۔

1967ء میں لکھنئو کے ایک اہل ثروت اور ادب پرور مقبول احمد لاری کو میر تقی میر کا خیال آیا اور انہوں نے آل انڈیا میر اکادمی کی تشکیل کر کے قبرستان کے پاس میر کی یاد میں ایک بڑے سے قلم دوات کی شبیہ نصب کروا دی تھی۔ اسی زمانے میں انہوں نے میر کی شاعری پر ایک ضخیم کتاب”حدیث میر “شائع کی تھی۔ مگر چند سال قبل مقبول احمد لاری کا بھی انتقال ہو گیا اور قلم دوات کی شبیہ بھی خاک میں مل گئی۔ اس لئے اب وہاں میر کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ مگر اس سے کیا ہو تا ہے میر کا کلام تو ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے اور پورے عالم اردو میں اس پر بحث ہو رہی ہے۔ اس کا احساس خود میر کو بھی تھا۔ اسی لئے انہوں نے کہا:

جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہر گز
تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا

میر تقی میر 1722ء میں آگرہ کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہو ئے تھے۔ ان کے والد ایک صاحب کمال بزرگ تھے۔ لیکن جب میر تقی میر 4سال کے تھے اس وقت ان کے والد کے انتقال ہو گیا اور انہوں نے ساری زندگی کلفتوں میں گزاری۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی شاعری میں غم و الام بہت ہیں۔ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں:

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا

یا پھر یوں فرماتے ہیں:

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنئیے گا
کہتے کسی کو سنئے گا تو دیر تلک سر دھنئیے گا

میر کے بعد آنے والے تمام شعراء نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ غالب جیسا خود پسند شاعر بھی کہتا ہے:

ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آب بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں

اور دور جدید میں تو فراق گورکھپور ی میر کی شاعری کے اس قدر معتقد ہیں کہ ان کو دنیا کے بڑے شاعروں میں سے ایک مانتے ہیں۔
میر کا دور در اصل دور ابتلا تھا۔ انہوں نے نادر شاہ کے حملوں کے بعد محمد شاہ رنگیلا کے دور کا دلی کا قتل عام دیکھا تھا۔ اس وقت دلی ویران ہو چکی تھی۔ لیکن جب طبعی دنیا ویران ہوئی تب دل کی دنیا آباد ہوئی اور اسی سے میر تقی میر کی آفاقی اور لافانی شاعری وجود میں آئی اورمیر نے بجا طور پر کہا:

سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
میر تقی میر در بدری کی زندگی گزارنے کے بعد لکھنئو پہنچے تھے اور لکھنئو میں ان کا والہانہ استقبال ہوا تھا، کیوں کہ ان کی آمد سے قبل وہاں ان کی شہرت پہنچ چکی تھی۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ نواب آصف الدولہ کی دعوت پر وہاں تشریف لائے تھے۔ ان کی آمد کے بارے میں محمد حسین آزاد اپنی شہرہ آفاق کتاب ” آب حیات“ میں لکھتے ہیں:

”لکھنئو پہنچ کر جیسا کے مسافروں کا دستو رہے ایک سرا میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں ایک جگہ مشاعرہ ہے،رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی اور مشاعرے میں جا کر شامل ہو گئے۔ ان کی وضع قدیمانہ۔۔۔ کھڑکی دار پگڑی،پچاس گز کے گھیر کا پائجامہ،ایک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا ایک رومال،پٹری دار تہہ کیا ہوااس میں آویزاں مشروع کا پائجامہ جس کے عرض کے پائنچہ، ناک ہنی کی انی دار جوتی،جس کی ڈیڑھ بالش اونچی نوک،کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخلہ محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنئو کے نئے انداز، نئی تراشیں،بانکے ٹیڑھے جمع انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے اور میر صاحب مخاطب ہوئے:

کیا بود وباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
مجھ کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

میر تقی میر29برس تک لکھنئو میں رہے۔ لیکن لکھنئو کی زبان اور شاعری کے شاکی رہے۔ وہاں کی شاعری کو ”چوما چاٹی“ ہی کہتے رہے۔

گذشتہ دو سو برسوں میں میر تقی میر کی شاعری پر ہر دو رمیں کچھ نہ کچھ لکھا گیا ہے۔ تمام ناقدین نے اس پر توجہ کی ہے۔ مگر سب سے قابل ذکر کام شمس الرحمن فاروقی کا ”شعر شور انگیز ہے “۔ جسے انہوں نے چار جلدوں میں مکمل کیا اور تقریباً تین ہزار صفحات پر مشتمل اس تفہیم میں میر کے اشعار کے نئے زاوے پیش کئے گئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”میر کے آہنگ میں نرمی،ٹھہراؤ، دھیمے پن وغیرہ کے بارے میں نقادوں کی آرا ہم دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ آہنگ کو معنی سے الگ نہیں کر سکتے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ میر کے معنی محض محزونی، بے چارگی اور حرماں نصیبی جیسے الفاظ کے ذریعہ ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔۔۔ “

فاروقی مزید لکھتے ہیں:

’کہتے ہیں کہ میر 19ویں صدی کے شروع میں مرے تھے۔ ایسا نہ ہو کہ 21ویں صدی کے شروع ہو تے وقت بھی ان کا شعر ہمیں ملامت کرتا رہے۔ دیوان اول جس کا یہ شعر ہے 18 ویں صدی کے وسط ہی میں مکمل ہو گیا تھا:

گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میر جی بھی کمال رکھتے ہیں

اتنا تو ہم بھی مانیں گے کہ ڈھائی سو برس کا انتظار بہت ہو تا ہے۔اگر میر کے دیوان میں ہر جگہ شعر شو ر انگیز کے باعث قیامت کا سا ہنگامہ ہے تو اس شور قیامت کی ایک ٹھوکر ہم کو بھی لگ جائے تو اچھا ہو:

ہر ورق ہر صفحہ میں ایک شعر شو رانگیز ہے
عر صہٴ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا

یوں تو قدما نے میر کے دیوان میں بہتر نشتر بتائے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ان کا ہر شعر نشتر ہے۔ جو دل سے جاں تک اترتا چلا جاتا ہے:

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسا ن نکلتے ہیں

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

وجہ بے گانگی نہیں معلوم
تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں

جی میں آتا ہے کچھ اور بھی موزوں کیجئے
درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا

پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہمار یاں

جہاں سے دیکھیئے ایک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں

سر سری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہرجاں جہان دیگر تھا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی


بشکریہ: VOA نیوز
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny.
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-11-10), حیدر (03-12-10), شاہ جی 90 (09-11-10), شعبان نظامی (17-01-12), عارف اقبال (07-11-10), عروج (14-10-10)
پرانا 08-09-09, 08:14 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
عمر: 29
مراسلات: 14,897
کمائي: 5,560,008,130
شکریہ: 12,384
6,493 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ شئیر کرنے کا ۔
محمدعدنان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (03-12-10), شاہ جی 90 (09-11-10), عروج (14-10-10)
پرانا 09-09-09, 11:15 AM   #3
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,982
کمائي: 56,028
شکریہ: 2,989
1,423 مراسلہ میں 3,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
شاہ جی 90 (09-11-10), عروج (14-10-10)
پرانا 19-09-09, 10:37 PM   #4
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,430
شکریہ: 2
2,014 مراسلہ میں 3,239 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شیرنگ ھے آپ کی ۔۔۔۔
The Great آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے The Great کا شکریہ ادا کیا
Zullu230 (24-09-09), شاہ جی 90 (09-11-10)
پرانا 13-10-10, 07:55 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,831
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللّٰہ میرتقی کو کروٹ کروٹ جنت عطا کرے۔

آمین! میر تقی میر اپنی شاعری اور اسلوبِ بیان کی وجہ سےآسمانِ اردو شاعری کا رخشندہ ستارہ ہے ۔۔۔۔ جبتک اردو زبان زندہ ہے میر تقی میر بھی زندہ رہے گا۔

Last edited by Zullu230; 14-10-10 at 04:38 PM.
عروج آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
Zullu230 (14-10-10), شاہ جی 90 (09-11-10), عارف اقبال (07-11-10)
پرانا 07-11-10, 09:09 PM   #6
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,135
شکریہ: 1,882
725 مراسلہ میں 1,798 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ شئیر کرنے کا ۔

ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آب بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
عارف اقبال آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
Zullu230 (08-11-10), شاہ جی 90 (09-11-10), شعبان نظامی (17-01-12)
پرانا 08-11-10, 11:49 AM   #7
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,982
کمائي: 56,028
شکریہ: 2,989
1,423 مراسلہ میں 3,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پسندیدگی کا شکریہ بھائی۔
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (09-11-10)
پرانا 08-11-10, 01:20 PM   #8
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 8,447
کمائي: 263,823
شکریہ: 371
5,314 مراسلہ میں 12,093 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

اچھی شیئرنگ ہے
زارا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (09-11-10)
پرانا 09-11-10, 09:02 PM   #9
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,900
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اتنی اچھی شئیرنگ کے لیئے ہماری جانب سے مبارک باد قبول کیجئیے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
Zullu230 (10-11-10)
پرانا 10-11-10, 02:30 PM   #10
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,982
کمائي: 56,028
شکریہ: 2,989
1,423 مراسلہ میں 3,175 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پسندیدگی کا شکریہ بھائی۔ میر تقی میر سے میری عقیدت نے مجھے یہ تحریر شئیر کرنے کا موقع دیا۔ اردو غزل کو میرنے وہ مقام دیا جو نہ اُن سے پہلے کسی کے حصے میں آیا اور نہ ہی صدیوں تک میر کے مقام کو کیا اُ نکی ہوائوں کو بھی شاید کوئی چھو سکے۔
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
ہنگامہ, کمال, کمر, کرے۔, پسند, وزیر, نیوز, مکمل, میر تقی میر, معلوم, آج, اردو, استاد, اشعار, خصوصی, زندگی, سال, شور, شاعری, عالم, غم, غزل, صفحہ, صفحات, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سی آئی اے سمیت کسی غیر ملکی ایجنسی کو پاکستان میں آزادانہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی گلاب خان خبریں 0 28-02-11 06:13 AM
ایس سی او ٹول بار کسی بھی مہنگے سرچ انجن آپٹیمائزیشن سافٹ ویر سے بہتر یاسر عمران مرزا SEO and Marketing 15 28-11-10 01:55 AM
پی سی بی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی جاویداسد خبریں 0 18-08-10 10:28 PM
آئی سی ایل میں‌پاکستان کا نام کیوں ---- پی سی بی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرل محمدعدنان کرکٹ 1 16-04-08 11:27 AM
لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج عبدالقدوس خبریں 0 07-12-07 09:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger