| میر تقی میر میر تقی میر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہو سکے تو شمع ساں دیجے رگِ گردن جلا بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہِ نو دامن جلا کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں سے گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھی شاعری ہے جناب
شکریہ شئیر کرنے کا |
|
|
|