واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




یہ تیرا گھر، یہ میرا گھر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-07, 11:07 PM   #1
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یہ تیرا گھر، یہ میرا گھر

یہ تیرا گھر، یہ میرا گھر

آج کل گھر گھر میں گھر کا چرچا ہے۔ بڑوں کے گھر کا، چھوٹوں کے گھر کا۔ گھر جو چھٹ گیا، گھر جس میں قید ہیں، گھر جس سے نکالا جا رہا ہے اور گھر جس سے کوئی نکلتا نہیں۔
یہ سچ ہے کہ جس گھر میں رہیں اس سے ایک انسیت سی ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ کرائے کا ہو یا اپنا اور ہر ایک کی یہی دعا ہوتی ہے۔

میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

لیکن لگتا ہے کہ صدر مشرف نے اس شعر کا مطلب کچھ اور ہی سمجھا ہے اور وہ اس آرمی ہاؤس کو جو کہ پہلے ایک ’مکان‘ تھا اب ایک لمبے عرصے کے بعد گھر بنانا چاہتے ہیں۔ اور نئے آرمی چیف اپنے گھر کا خود بندوبست کریں۔

ریٹائرڈ جنرل اور نئے صدر مشرف کے آرمی ہاؤس سے نہ جانے کی وجہ کوئی بھی ہو آرمی ہاؤس میں صدر کے رہنے کا چرچا بہت ہو رہا ہے۔ صدر کے ترجمان نے اس پر بات کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ سکیورٹی سے لے کر ایوانِ صدر کی سجاوٹ بناوٹ تک کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر ترجمان صاحب یا خود صدر صاحب اس کی کوئی بھی وجہ خود بتا دیتے تو لوگوں کے منہ بند ہو جاتے اور وہ نہ کہتے کہ

تم جو سوچو وہ تم جانو ہم تو اپنی بات کہیں
دیر نہ کرنا گر جانے میں ورنہ گھر کھو جائیں گے

بقول شاعر اگر وقت پر گھر یا مکان پر نہیں گئے تو وہ کھو سکتے ہیں یا آسان زبان میں وہ آپ کے ہاتھ سے چھوٹ سکتے ہیں۔ یہ شعر سب کے لیے ہے اب وہ اسے سمجھتے ہیں کہ نہیں یہ ان پر ہی چھوڑتا ہوں۔

دوسری طرف ہمارے پیارے پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے گھر یا مکان سرے سے ہیں ہی نہیں۔ اور کئی ایسے بھی ہیں جن کے کم از کم گھر کچھ دن پہلے تک تھے اور اب انہیں وہاں سے نکالا جا رہا ہے۔ مثال پاکستان کے ان ججوں کی ہے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ ایک دو نہیں بیسیوں ہیں۔ یہ وہ جج تھے جنہوں نے ضمیر کی آواز سنی اور غیر آئینی اقدام کو نہ مانتے ہوئے اس کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے اکثر کو ضمیر کی آواز سننے کی سزا کے طور پر گھر چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔
ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا
چراغ کو جو بچاتے تھے ان کا گھر بھی گیا

ان ’باضمیر‘ ججوں میں سے اکثر کے گھر نہیں ہیں اور شروع شروع میں تو جب یہ سب جج حضرات کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا تھا ایک جج جسٹس خلیل رمدے نے تو یہ تک کہا تھا کہ ’اچھا ہے کہ ہمیں گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے کیونکہ اگر یہ ہمیں گھروں سے باہر نکال دیتے ہیں تو ہم کہاں جائیں گے۔ ہمارے پاس تو کوئی گھر بھی نہیں ہے۔‘

تو لیجیئے ان کے گھر کا بھی ایک شخص نے انتظام کر دیا ہے۔ آج صبح ہی ایک شخص نے جس نے اپنا نام چوہدری رشید نصر اللہ بتایا بی بی سی لندن کو فون کر کے کہا کہ اس کے پاس لاہور میں آٹھ گھر ہیں اور وہ بے لوث جذبے کے تحت یہ گھر جج صاحبان کو پیش کرنا چاہتا ہے چاہے وہ ان میں تمام عمر رہیں۔ وہ پاکستان کے ان باضمیر ججوں کے لیے جان تک دینے کے لیے تیار ہے۔ میرے کہنے پر اس نے نہ صرف اپنا لندن میں ٹھکانا اور فون نمبر بتایا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس نے پاکستان میں اپنے سب رشتہ داروں سے مشورہ کرنے کے بعد یہ پیشکش کی ہے۔ رشید صاحب آپ کا جذبہ سر آنکھوں پر، ہم نے آپ کا پیغام آگے پہنچا دیا ہے اب آپ جانیے، جج صاحبان اور انکم ٹیکس والے۔ ہم نے اپنا کام کر دیا۔

بات آرمی ہاؤس سے شروع ہوئی تھی لندن تک چلی گئی۔ صدر صاحب جب جنرل تھے تو پاکستان کو برائیوں سے پاک کرنے کے لیے یہ پیارا گھر، پاکستان، سنوارنے آئے تھے۔ سنوارتے سنوارتے انہیں صدر بننے کی بھی ضرورت محسوس ہوئی، پھر دو عہدوں کے ساتھ سنوارتے رہے اور بالآخر اب صرف نئے صدر بن کر اسی کوشش میں مصروف ہیں اور وہ بھی آرمی ہاؤس میں ایوانِ صدر کی بھی کنجی اپنے پاس رکھ کر۔ اور یہ حزبِ اختلاف، انسانی حقوق اور میڈیا والے تو بس یوں ہی الاپ رہے ہیں کہ

آیا تھا گھر سنوارنے احسان کر گیا
بربادیوں کا اور بھی سامان کر گیا

بشکریہ بی بی سی
چاچا کمال آف لائن ہے   Reply With Quote
چاچا کمال کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (17-10-10)
پرانا 17-10-10, 06:38 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,837
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دنیا کے لیے اتنی محنت کرو جتنا اسمیں رھنا ھے آخرت کے لیے اتنی محنت کر وجتنا اسمیں رھنا ھے۔
عروج آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پیارے, ھے, ھے۔, پاکستان, قید, لندن, نظر, محنت, آج, آخرت, اللہ, اتنی, جتنا, حضرات, خلاف, خدا, دنیا, دعا, رھنا, شخص, شعر, صبح, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں تو لفظ لفظ تیری تیری ذات ہوں زارا شعر و شاعری 1 12-02-11 08:53 AM
گھریلو صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گیس کی بو ہو تو بجلی کے بٹن آن نہ کریں گلاب خان خبریں 1 08-01-11 01:29 PM
کرپٹ افسران کے خلاف شکنجہ تیار کرنے کی تیاری جاویداسد خبریں 1 27-07-10 01:14 PM
بے احتیاطی یا تیز رفتاری کا نتیجہ مسافر دلچسپ اور عجیب 3 02-10-09 02:03 PM
تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن عبدالقدوس خبریں 0 07-01-08 08:51 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:59 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger