|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پشاور ایک بار پھر آہوں اور سسکیوں میں ڈوب گیا۔ پورے شہر پر خؤف اور بے یقینی کے سائے چھائے ہوئے ہیں
معصوم بچوں کی مسخ شدہ لاشوں پر ماؤں کی آہ و بکا مینا بازار میں جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی چوڑیاں، مصنوعی زیور، بچوں کے کھلونے، جوتے،سکول بیگ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جسم کے اعضا بکھرے پڑے تھے۔ ![]() ![]() اہالیان پشاور کے لیے وہ دن قیامت کا نہیں تھا۔ کیوں کہ قیامت کا دن تو انصاف کا دن ہوتا ہے۔ وہ بے انصافی سے بھرا ہوا دن اپنے کاندھوں پر اس گناہ کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تھا، جس گناہ پر ان پہاڑوں کا سر شرم سے جھک گیا، جو پہاڑ اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ انسانوں کو سربلندی کا سبق سکھائیں۔ وہ معاشرہ اپنا منہ چھپاتا پھر رہا ہے کسی مجرم کی طرح جس کے معماروں نے جنگ کے ہتھیار طے کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں لیکن بچوں اور عورتوں کی حفاظت یقینی ہوگی۔ کل اس فیصلے کے سینے میں بارودی تیر اتارنے والے ہاتھ کس کے تھے؟ کس نے دیا اُس دہشت کی دیوی کو ایک سو دس معصوم انسانوں کی لاشوں کا تحفہ جو سات سمندروں پر اڑ کر اِس سرزمین پر آئی۔ یہ سر زمین جو اب سسک رہی ہے۔ موت کے سرد خوف کے باعث سکڑ رہی ہے۔جو سوچ رہی ہے کہ کاش اسکے پر ہوتے اور وہ اڑ جاتی کسی پرندے کی طرح' اس آسمان پر جس نے اپنی جلتی ہوئی آنکھ کے ساتھ اس دن کا منظر دیکھا،جب پشاور کے مینا بازار میں مائیں بچوں کی لاشوں پر اور بچے ماؤں کی لاشوں پر بین کرتے رہے۔ اور جب سورج کی جلتی ہوئی آنکھ اپنے آنسؤوں سے بجھ گئی، تب بام فلک ستاروں سے بھر گیا۔ وہ سب ستارے بےبس آنکھوں کی طرح آنسو بہاتے رہے۔اس بازار پر جہاں کھلونے اور کپڑے اس گرم راکھ کا ڈھیر ن گئے جس میں دبے ہوئے تھے معصوم ہاتھ اور چھوٹے چھوٹے پیر جو ٹانگؤں کے بغیر تھے۔ کیا اس سے بڑا سانحہ ممکن ہے کہ ایک جلے ہوئے کوئلے کو اس بچے کے نام سے پکارا جائے جس کے گال برف کے شربتی گولے گنڈے جیسے تھے۔ جس نے ابھی بولنا بھی نہیں سیکھا تھا۔جو صرف مسکراتا تھا۔ جس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر مسرت سے بھر جاتا تھا وہ خاندان، جو دن بھر بازار میں بھٹکتا رہا اور پھر شام کو ایک جلا ہوا لوتھڑا لے ایا۔ اور اسے سپرد کیا اس خاک کو جس کا سینہ قیامت تک ایک انگارے کی اذیت محسوس کرتا رہے گا۔ اب وہ خاندان اس افسوس میں رہے گا کہ اس نے کیوں تلاش کیا اس خواب کو جو بے خوابی کی بارودی آگ میں جل گیا۔ یہ شہر جو اب مقتل بن گیا ہے، کبھی محافظ تھا عظیم روایات کا! یہ شہر جو اب اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے کبھی میزبان تھا اس افغان خاندانوں کا جو جنگ کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ آئے تھے۔ انہیں اس شہر میں ملی تھی عزت،محبت اور حفاظت ! جو اب اس شہر کے باسیوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ ایک رپورٹر فائل کرنا چاہتا ہے اپنی وہ سٹوری جس کے بارے میں اسکو پتا ہے کہ کبھی شائع نہیں ہوگی۔ وہ لکھنا چاہتا ہے کہ بم دھماکے کے بعد انتظامیہ دیر تک مقتولوں کی فہرستیں بنانے میں مصرف رہی۔مگر ان لسٹوں میں ذکر نہ ہوگا ن ارمانوں کا جو سینوں کی قبروں میں دن ہو گئے۔ وہ محبت جو گمنام ہو کر مر گئی۔ اور وہ وعدے والی شام جو مر گئی اس کا ذکر بھی ان لسٹوں میں نہ ہوگا۔بارود کی بو کس طرح خوشبو کو نگل گئی اس کا ذکر بھی نہیں ہوگا۔ ایک لڑکی نے آدھی رات کو ٹیلی ویژن بند کیا اور ڈائری کھول کر لکھنا شروع کیا "پشاور کے مینا بازار میں گڑیا کو قتل کس نے کیا؟ وہ گڑیا جس نے پہنے تھے سفید کپڑے جو سرخ ہو گئے اپنی سہیلی کے خؤن میں! وہ گڑیا جس کے سونے جیسے بال جل کر راکھ ہوئے وہ راکھ جو اُڑتی رہی اس شہر میں'جہاں دھماکے کے بعد آہیں آسمان کو چھوتی رہییں اور پوچھتی رہیں "گڑیا کو قتل کس نے کیا؟" کیا جواب ہے کسی وزیر کے پاس اس شہر کے کسی امیر کے پاس جس شہر کی غریب گڑیا قتل ہوئی "کس جرم میں؟" کیا جرم ہے گڑیا ہونا؟ "رنگ اور روشنی کی پڑیا ہونا!" کیا میں بھی اس گڑیا کی طرح "قتل ہو جاؤں گی کسی روز؟" درد بھری انگلیوں سے پکڑے ہوئے قلم کی معرفت اس نے پوچھا اپنے آپ سے! اس نے لکھا نہیں مگر لکھنا چاہا اگر کسی روز میں بھی قتل کی جاؤں اس گڑیا کی طرح تو میری قبر کے کتبے پر لکھوانا "لکڑی جلی کوئلہ بھئی، کوئلہ جلا بھئیو راکھ میں برہن ایسی جلی نہ کوئلہ نہ بھئی راکھ" (لکڑی جلتی ہے تو کوئلہ کہلاتی ہے اور اور کوئلہ جل جائے تو راکھ کہلاتا ہے۔ لیکن میں تو ایسی جلی ہوں کہ نہ کوئلہ کہلا سکتی ہوں نہ راکھ) پتا نہیں آپ کو کیسا لگے یہ مضمون ۔ جب میں نے اس کو پڑھا تو میری آنکھیں بھیگ گئیں اپنے بھائیؤں کے غم سے۔ جب دوبارا پڑھا تو رونا آ گیا۔ جب دوبارا پڑھا تو زار و قطار رونا آیا اپنے پشاور کے غم میں۔ وہ پشاور جس کو کبھی نہ دیکھا نہ کبھی سوچا۔ اور جب اس کو ادھر لکھنے لگا تو ہر ہر حرف پر میرے آنسو بہے، دل فرط گم سے پھٹنے کو محسوس ہوا۔ کئی مرتبہ سکریں دھندلی ہوئی اور کئی مرتبہ اخبار گیلا ہوا۔ پتا نہیں آپ اس مضمون کے ایک ایک حرف میں چھپا وہ درد ، وہ خوف محسوس کر سکیں یا نہیں جو پشاور کے در و بام کو اپنے چنگل میں پھنسائے ہوئے ہے۔ مجھے محسوس ہوا۔ میں پشاور سے سیکڑوں کلومیٹر دور ایک نہایت پر امن شہر گھر کی چار دیواری کی محفوظ چھاؤں میں بیٹھا اپنے پشاور کے دکھ اور درد کو محسوس کر سکتا ہوں ، وہاں چھائے ہوئے خوف پر خوف زدہ ہو سکتا ہوں۔ پشاور مجھے تم پسند نہیں تھے نہ جانے کیوں ۔ لیکن اب مجھے تم سے محبت ہے۔ شاید دنیا کے ہر شہر سے بڑھ کر زیادہ محبت بشکریہ روزنامہ امت کراچی |
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی لڑکی (30-10-09), ھارون اعظم (30-10-09), یاسر عمران مرزا (30-10-09), نیلم خان (31-10-09), معظم (30-10-09), ایس اے نقوی (30-10-09), ابن جلال (30-10-09), احمد بلال (02-11-09), تانیہ رحمان ستارہ (30-10-09), راجہ اکرام (30-10-09), رضی (04-11-09), سحر (30-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عامرشہزاد (30-10-09) |
| کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 30-10-09 | ایس اے نقوی | کیا لکھوں الفاظ نہیں ہیں | 150 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
شکریہ بدر بھائی
بڑی مدت کے بعد میری آنکھیں کسی تحریر کو پڑھ کر بھیگی ہیں حالانکہ میں نے از خود ایسے واقعات کی موقع پر پہنچ کر رپورٹنگ کی ہے یہ ہمارے لئے شرم کا باعث ہے ہمارے ملک کو اللہ اپنی امان میں رکھے آمین الہی آمین موجودہ صورتحال پر میں یہ کہوں گا کہ کیا وقت آ گیا ہے کہ نہ ہمارے سرکاری ادارے محفوظ ہیں نہ سکول کالج یونیورسٹی اور نہ بازار افسوس صد افسوس |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | نیلم خان (31-10-09), حیدر (30-10-09), راجہ اکرام (30-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عامرشہزاد (30-10-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
انتہائی دکھ کی بات ہے۔
البتہ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ دہشت گردوں کا الزام انتطامیہ پر کیوں ڈالا گیا ہے؟ انتظامیہ ایک نظریاتی تبدیلی کو نہیں روک سکتی ہے۔ وہ صرف جرم ہونے کے بعد اس کی تفتیش کرکے مجرمان کو سزا دے سکتی ہے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق بھائی ۔ ۔ ۔آپ شاید پاکستان کی انتظامیہ کو امریکہ کی انتظامیہ سمجھتے ہیں کہ اگر سکییورٹی سخت کر دی گئی تو اسکا مطلب ہے انتہائی سخت سکیورٹی۔ اسکی مثال دیتا ہوں کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ کیا خود کش حملے کرنے والے سلیمانی ٹوپی پہن کر آتے ہیں جو کسی کو نظر نہیں آتے؟
میرا پچھلے دنوں لاہور جانا ہوا گاڑی پر۔ تو ہر روڈ پر ناکہ تھا۔ پولیس والے گاڑیوں کو روک روک کر بندوں اور گاڑی کی تلاشی لے رہے تھے۔ خود میری لاہور میں 8 گھنٹے قیام کے دورون 6 مرتبہ تلاشی لی گئی ۔میں نے کہا ہاں ایسے انتظامات ہوں تو کیسے خود کش حملہ ہو سکتا ہے۔ لیکن دوسرے دن خود کش حملہ نہیں حملے ہو گئے۔ اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود کیسے ہوئے؟ (کچھ واقعات / خامیاں نظر میں آئے تھے جو انشا اللہ ایک الگ ٹاپک کی صورت پوسٹ کروں گا) پشاور دہشت گردوں کا خواہ وہ نظریاتی ہوں یا کوئی اور ۔ ۔ ۔ پہلا ہدف ہے۔ اسکی سیکیورٹی سب سے سخت ہونی چاہیے۔ ہر روڈ پر ناکے بھی ہوں گے جیسا کہ وہاں موجود ایک دوست بھی بتاتا ہے کہ پیدل بھی جاؤ تو بھی کئی مرتبہ تلاشی ہوتی ہے اور مشکوک نگاہیں پیچھا کرتی ہیں۔ مگر پھر بھی ایک گاڑی جس میں کوئی ایک یا دو کلو بارود نہیں 150 کلو بارد بھرا ہوا تھا وہ شہر کے وسط تک پہنچتی ہے اور سیکڑؤں کے خون سے دھرتی کو لال کر دیتی ہے۔ کیسے ممکن ہے؟ پولیس، آرمی، رینجرز، ایف سی کے ہزاروں اہلکار سب سو جاتے ہیں اچانک ہی؟ چلیں پشاور میں تو کہیں پٹھان پٹھان کو نہیں روکتا ہو (ویسے ایسا ہے نہیں۔ انتہائی سختی ہے) مگر اسلام آباد اور لاہور میں یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟ کیا ان سب سیکیورٹی فورسز میں طالبان کے اتنے زیادہ حآمی موجود ہیں؟ یا کوئی بہت بڑی گیم کھیلی جا رہی ہے؟ میں ایک بات بار بار کہتا ہوتا ہئوں کہ امریکہ سے مخالفت اپنی جگہ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ اپنے شہریوں سے مخلص ہے۔ کیا وہاں نظریاتی دہشت گرد اپنی کوشش نہیں کرتے ہوں گے؟ کرتے ہوں گے یقینا۔ لیکن اامریکن ایجنسیز انکو پہلے ہی کاونٹر کر لیتی ہیں ۔ ادھر کیا مسئلہ ہے؟ خواہ نظریاتی دہشت گرد ہوں یا دیگر اگر نیت ہو تو کسی کو بھی روکنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ صرف دو باتیں سمجھ آتی ہیں۔ یا تو دہشت گردوں کے پاس سلیمانی ٹوپی ہے جسکو پہن کر وہ نظروں سے اوجھل ہو کر مطلوبہ مقام تک پہنچھ جاتے ہیں یا پھر گیم ہی کوئی اور ہے۔ انتظامیہ کے یا انتظامئہ کے اعلی عہدیداروں کے ملوث ہوئے بغیر ممکن نہیں۔میرے پاس ریفرنس نہیں ہے اس وقت اخبار کا مگر آج سے 3 یا 4 سال قبل یہ خبر آئی تھی کہ سوات میں اسلحے سے بھرا ایک ٹرک پکڑا گیا ۔ ۔ ۔ مگر رات کو ہی اسلام آباد سے آنے والے فون کال کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ کس کا رک تھا ، کس کے لیے تھا؟ کہاں جا رہا تھا؟ کس نے چھڑوایا؟ کیوں چھڑوایاِ؟ وہ اعلی شخصیت کون تھی؟ فاروق بھائی آپ امریکہ کو دیکھ کر پاکستان کا تجزیہ نہ کیا کریں ۔ امریکہ کی ہر حکومت خواہ جیسی بھی ہو وہ کم از کم اپنے شہریوں کے لیے مخلص ہے۔ ادھر پاکستان میں بہت اندھیر نگری ہے۔ بہت کچھ گڑ بڑ ہے جس کے بکھرے ہوئے اشارے تو ملتے ہیں لیکن ابھی کھل کر سامنے نہیں آئے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ایس اے نقوی (30-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عامرشہزاد (30-10-09), عادل سہیل (31-10-09) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,728
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب تو یہ بات کنفرم ہوچکی ہے کہ یہ دہشت گرد جو پاکستانی طالبان کے نام سے کام کررہے ہیں اصل میں سی آئی اے کے تربیت یافتہ اور ان کے کارکن ہیں اور ابھی تک ہم اسی بحث میں لگے ہوئے کہ یہ خودکش حملہ آور جہاد کررہے ہین یا نہیں
اب تو اس قوم کو کچھ عقل کے ناخن لینے چاہیے ۔ امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا مل کر ہم کو صفحہ ہستی کے مٹانے کے در پر ہیں اور ہماری بحث ہی ختم نہیں ہورہی ہے کہ یہ جہاد ہے یا نہیں میری سمجھ نہیں آتا فوج کے پاس امریکہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں کہ وہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کرارہی ہے یہ تو کھلم کھلا اعلان جنگ ہے پاکستان کے خلاف تو کیوں یہ قوم اور ہماری فوج چوڑیاں پہن کر بہن کر بیٹھ گئی ہے ۔ ہم اگر چاہیں تو امریکہ کو اچھی طرح سبق سکھا سکتے ہیں ۔ امریکہ کو افغانستان میں گھیر کر مارا جاسکتا ہے اس کے لیے ایمان اور ہمت کی ضرورت ہے ۔ |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ھارون اعظم (30-10-09), یاسر عمران مرزا (30-10-09), نیلم خان (31-10-09), ایس اے نقوی (30-10-09), احمد بلال (02-11-09), حیدر (30-10-09), راجہ اکرام (30-10-09), رضی (25-12-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عامرشہزاد (30-10-09), عادل سہیل (31-10-09) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
میں پورا پڑھ نہیں سکا۔ آنکھیں بھیگ گئیں۔ خدا ہماری حالت پر رحم کرے۔ آمین۔
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ایس اے نقوی (30-10-09), احمد بلال (02-11-09), تانیہ رحمان ستارہ (30-10-09), حیدر (30-10-09), راجہ اکرام (30-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عامرشہزاد (30-10-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی
اس مضمون کے لئے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔ جذبات کو الفاظ میں بیان کیا تو جذبات کی وقعت کم ہو جائے گی۔ فاروق بھائی کے تبصرے پر میری جانب سے خاموشی، البتہ بدر بھائی اور سحر بہنا کے ساتھ اتفاق ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ھارون اعظم (30-10-09), ایس اے نقوی (30-10-09), تانیہ رحمان ستارہ (30-10-09), حیدر (30-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عامرشہزاد (30-10-09) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بھائی دل میں ایک دکھ اور افسوس کا پہاڑ ہے، پتہ نہیں ان معصوموںکو کس جرم کی سزا ملی، کیا پاکستانی ہونا اتنا بڑا جرم ہے
سحر بہن ٹھیک فرما رہی ہیں، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکی ایجنٹ چاہے داڑھی رکھ کر یہ سب کر رہے ہیں پر وہ ہم میں سے نہیں، وہ ہمارے بھائی نہیں ہو سکتے پاکستانی فوج بھی بے غیرت اور حکومت بھی بے غیرت جو یہ سب کچھ کرنے میں امریکہ کی مدد کر رہی ہے
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ھارون اعظم (31-10-09), نیلم خان (31-10-09), ایس اے نقوی (30-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
سرورق کے لیے پیش کریں ۔۔۔۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی الفاظ نہیں ہے لکھنے کیلیئے دل خون کے آنسو روتا ہے
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چونکہ میرا اپنا تعلق پشاور سے ہے میں جانتی ہوں وہاں رہنے والوں کی کیا حالت ہوئی ہے اس وقت ۔ لیکن اس سے برا حال میرا یہاں یوکے میں ہے جب بھی رات کے کسی پہر فون کی گھنٹی بجتی ہے تو ڈر جاتی ہوں ۔ کہ یا خدا کوئی بری خبر نہ ہو ۔ میرے اپنے بھائی پہن رشتے دار سب وہی ہیں ۔ مجھ میں حوصلہ نہیں ہے کسی قسم کے صدمے کو برداشت کرنے کا اور میں سلام کرتی ہوں اس دھرتی میں رہنے والوں کو جو مقابلہ کرتے ہیں خونی درندوں کا ۔ ایسے لوگوں کے لیے بےغیرت کا لفظ بہت چھوٹا ہے کیونکہ جو پشاور کے غیور پٹھان ہیں وہ اپنی جان تو دے سکتے ہیں لیکن کسی کی جان لے نہیں سکتے ۔ اور پھر معصوم بن کھلے پھولوں کو کیسے مسل سکتے ہیں یہ تو ابھی کلیاں تھی ۔۔ بدر جی نے جو لکھا اسکے لیے تو الفاظ نہیں ہیں ۔ اتنا درد میں ڈوبا ہوا مضمون جس کو پڑھنے کے لیے بھی حوصلہ چاہے ۔ بدر جی میں معذرت چاہوں گی پورا مضمون میرے سے نہیں پڑھا جا رہا ۔۔۔
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ھارون اعظم (30-10-09), ایس اے نقوی (30-10-09), احمد بلال (02-11-09), حیدر (30-10-09), رضی (25-12-09) |
| کمائي نے تانیہ رحمان ستارہ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 30-10-09 | ایس اے نقوی | دستیاب نہیں | 0 |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
مجھ میں اس موضوع پر تبصرہ کرنے کی سکت نہیں۔۔ معذرت کے ساتھ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے معظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 320
کمائي: 7,969
شکریہ: 903
260 مراسلہ میں 772 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اناللہ وانا الیہ راجعون!
ان اللہ مع الصبرین! آنسو تو نہیںنکلےمگردل جاہ رہا کہ وہاں جاکے ان کے آنسو پونچھ لوں جنکے گڈے گڑیا اس آگ میں جل گئے اتنی آسانی سے ماں بچے چھن لئے قیامت سے پہلے قیامت! اللہ تو صبردینا کیاپتہ کل میرے لئے لکھا جارہا ہو معاذاللہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ایس اے نقوی (31-10-09), تانیہ رحمان ستارہ (01-11-09), حیدر (30-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09) |
![]() |
| Tags |
| color, com, کلومیٹر, کراچی, پسند, پشاور, وزیر, لڑکی, موت, ممکن, معاشرہ, انتظامیہ, امیر, بچوں, تلاش, جواب, دل, ستارے, شہر, شام, عورتوں, عظیم, غم, غریب, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|