واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




کیا ایک اور تباہی آنے کو ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-07-09, 09:24 AM   #1
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا ایک اور تباہی آنے کو ہے؟

کیا ایک اور تباہی آنے کو ہے؟

آج سے کئی سو سال قبل جب متحدہ ہندوستان پر محمد شاہ عرف رنگیلا کی حکومت قائم ہوئی تو اس عیاش بادشاہ نے ملک کی تار و بود کو ہلا کر رکھ دیا۔اس کی عیاشیوں کا یہ عالم تھا کہ دربار میں ہر وقت شراب و دہن کی محفلیں برپا رہتیں۔قہقہوں میں اور خوش فعلیوں میں اس قدر مگن ہو گیا بادشاہ کہ اس کو کوئی سنجیدہ بات ناگوار گزرتی تھی۔ اس نے اپنی بادشاہت کو استحکام دینے کے لیے ایک وزیر کو متعین کیا لیکن اس وزیر نے بادشاہ کے متوازی اپنی حکموت قایم کر لی۔ اس کے پاس وزرا اور مشیروں کی فوج ظفر موج ہوا کرتی تھی جنکا کوئی کام نہ ہوا کرتا تھا سوائے اس کے کہ بادشاہ کو ہر وقت مگن کیے رکھیں۔ًمحلاتی سازشیں اس قدر بڑھ چکیں تھیں کہ بادشاہ اپنے ہر منظور نظر کو وزارت کی خلعت عطا کر دیتا تھا اور جس کو یہ خلعت نہ ملتی وہ مملکت کے خلاف بغاوت کر دیتا۔صؤرت حال یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ مرہٹے دہلی کے کئی علاقوں تک قبضہ کر چکے تھے۔ایک طرف سکھوں نے شورش برپا کر رکھی تھی اور بہت سے علاقے مغلیہ حکومت سے چھین لیے تھے۔۔ اکثر علاقے مغلیہ سلطنت سے آزادی یا خودمختاری کا اعلان کر چکے تھے۔ بادشاہ کی یہ جرات نہ تھی کہ وہ اپنے ہی محلات کے باغات سے باہر جا سکتا۔
وزرا کے کرپشن کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ کی طرف سے بھیجی جانے والی وہ رقوم کہ جو زیر انتظام صوبوں کے خرچ کے لیے بھیجی جاتی تھی، اس میں سے آدھی رقم تو محض ایک ہی وزیر ہڑپ کر جاتا تھا۔ باقی رقم کا کیا بنتا ہو گا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہی۔ سرکاری سر پرستی میں فحاشی و عریانی کے افعال سر انجام دیے جاتے۔
محلات میں برپا عیاشیوں نے عوام کا جینا اس قدر دوبھر کر دیا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان شرفا نے اپنے خاندانوں کے ساتھ اجتماعی خودکشیوں کی کوشش کی۔
واہی و تباہی کے اس عالم میں ایران سے نادر شاہ کا دھمکی آمیز خط آتا ہے تو بادشاہ اس کو شراب کے جام میں ڈبو دیتا ہے اور پھر وہ خود بھی اس قدر شراب میں ڈوب جاتا ہے کہ اس کو اس وقت ہوش آتا ہے جب نادر شاہ کی افواج بغیر کسی مزاحمت کے دارلخلافہ دہلئ پر قبضہ کر چکی ہوتی ہیں۔
تاریخ پڑہنے سے ہم کو اللہ کی ایک سنت کا پتا چلتا ہے کہ اللہ گناہوں کی سزا ان سب کو دیتا ہے جو ان برائیوں کے خلاف کسی قسم کا احتجاج نہیں کرتے۔ چناچہ نادر شاہ کے دہلئ کے قبضہ کے تھوڑا ہی عرصہ میں 150،000 سے زائد افراد قتل کر دئیے گئے۔ہزاروں عورتوں کی عزت لوٹ لی گئی، بچوں کو نیزوں پر لٹکا دیا گیا۔ لاشوں کے ہر طرف ڈھیر کے ڈھیر لگ گئے۔تعفن اس قدر بڑھ گیا کہ لاشوں کو بلا کسی نماز جنازہ کے دفن کرنے کے لیے بھی فوجوں کو تعینات کرنا پڑا اور یہ فریضہ ہندوستانی افواج نے ہی سر انجام دیا۔
میر تقی میر اور میر درد اسی دور کے شاعر ہیں،اور یہئ مناظر دیکھنے کی وجہ سے انکی شاعری دکھ اور یاسیت سے بھری پڑی ہے
"ہم رہنے والے ہیں اس اجڑے دیار کے"
نادر شاہ جاتے جاتے نہ صرف ہندوستان کی ساری دولت لوٹ کر لے گیا جس میں مشہور عالم تخت طاوس بھی شامل تھا۔ جاتے وقت اس نے رنگیلا شاہ کی پگڑی کھینچ کر زمین پر پھینک دی اور اس کو ذلت و رسوائی میں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
آپ کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اس وقت عوام کی غیرت و حمیت اس قدر ختم ہو چکی تھی کہ وہ ذلیل و رسوا بادشاہ ان پر مزید دس سال حکومت کرتا رہا۔ اور آخر دور میں اس کی بوالہواسی اس قدر پڑھ چکی تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ایک دن میں پانچ نئے وزرا بنائے جاتے، حتیٰ کہ ایک گھوڑے کو بھی وزارت کی خلعت عطا کی گئی ۔اور وہ گھوڑا دیگر وزرا کے ساتھ دربار میں ہی بیٹھا کرتا تھا۔

ان تمام واقعات کا پاکستان اور ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟
آُپ ان واقعات کو اپنے ارد گرد رونما ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ہمارے حکمران اور امرا ۔۔ رنگیلا شاہ کے دور سے کسی قدر بھی مختلف ہیں؟ ان کے کارناموں سے تو youtube بھری پڑی ہے۔ غربت اور افلاس میں پسی ہوئی قوم کے رہنما لندن اور نیو یارک میں لاکھوں روپے روزانہ کرایہ کے ہوتلز میں رہتے ہیں۔ جہاں دن میں 4 گھنٹے بجلی میسر نہ ہو، پانی، آتا کا بحران ہو وہاں کے وزرا باہر عیاشیاں کریں،ان پر ڈالرز نچھاور کیے جائےں ، اور وہ بھارتی رقاصوں پر ڈالرز نچھاور کریں۔
مزید آگے بڑھنے سے پہلے آپ ایک دل دہلا دینے والی خبر کا متن سن لیں
بی بی سی کی ایک رپورت کے مطابق پچھلے دنوں کراچی میں حکموت، اقوام متحدہ اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے "سیک ورکرز" کی ورکشاپ ہوئی جس میں سو سے زائد "سیکس ورکرز" نے شرکت کی۔اس ورکشاپ کے آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ اس ورکشاپ کے حوصلہ افزا نتایج کے بعد وہ عنقریب ایسی ہی ورکشاپش لاہور،اسلام آباد اور دیگر شہرون میں بھی کروائں گے۔ ان ورکشاپش میں شرکت کرنے والی "سیکس ورکرز" کا کہنا ہے کہ اب تک وہ معاشرے کے خوف سے آزاد نہ تھیں ،تاہم اب وہ بلا کسی خوف و جھجھک کے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اسی طرح ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ سے زائد "سیکس وکررز" موجود ہیں۔جبکہ لاہور میں انکی تعداد 75 ہزار تک بتائے جاتی ہے۔
جناب یہ "سیکس ورکرز" کی نئی اصطلاح انہی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جن کا نام لینا شریف گھرانوں میں باعظ ذلت سمجھا جاتا تھا،۔ جہاں رات کی تاریکی میں ڈھکے چھپے برایاں کی جا تی تھیں اور دن چڑہے جن برائیوں کا پتا نہیں ہتا تھا۔اب ان کے لیے ملک کے شہروں میں ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اب وہ کھل کر معاشرے میں کردار ادا کرنا چاہ رہی ہیں۔
کہیں ہم ایک معاشرتی تباہی کی طرف گامزن تو نہیں؟ ملک میں کس طرف سے، کس جگہ سے اس کے خلاف آواز اٹھی ہے؟ کیا وہ وقت آنے والا ہے کہ جب اس ملک کے شرفا بھی اپنے خاندانوں کے ساتھ اجتماعی خودکشی کی کوشش کریں گے؟
اس کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی غفلت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ملکی سر حدوں کو درپیش خطروں کا بھی اندازہ نہیں کر سک رہے۔ازلی دشمن بھارت کو اپنا دوست کہہ رہے ہیں اور اپنے شمالی علاقہ جات کے بھائیوں کو اپنا دشمن بنا رہے ہیں۔بلوچستان میں بھڑکتا آتش فشاں انکو کسی چنگاری جتنا بھی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا۔۔اایسے میں سری لنکن اخبار ایشین ٹریبیون کی خبر ملاحظہ کیجیے۔ اس اخبار کے مطابق را، CIAاور موساد نے پاکستانی تنظیم TTP(تحریک طالبان پاکستان( کے ساتھ مل کر پاکستانی ایٹمی اثاثوں پر حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس مقصد کے لیے ملک میں پھیلے کسی بھی چھوٹے یا بڑے ایٹمی مرکز پر طالبان حملہ کر سکتے ہیں۔پھر بے شک وہ حملہ پسپا کر دیا جائے گا لیکن پھر مغربی حکومتوں کی طرف سے پاکستان پر یہ دباو ڈالا جائے گا اب تمہارے ہتھیار خطرے میں تو یہ ہتھیار حفاظت کے لیے ہمارے پاس رکھوا دو۔اور پاکستانی انکار پر دوسرا مطالبہ یہ ہو گا کہ تھیک ہے پھر انکی حفاظر کے لیے ہمارے فوجیوں کو اپے ملک میں آنے دو۔ممکنہ طور اس سے بھی انکار پر تیسرا سٹیج یہ ہے طالبان کو ڈرٹی بم یعنی چھوٹے ایٹمی ہتھیار مہیا کر دیے گئے ہیں۔ممکنہ طور پر ان ہتھیاروں کی مدد سے پاکستان کی سر زمین سے کسی بھی ملک پر حملہ کیا جائے گا۔ اور شاید اسی طور پر پاکستان اور چین کے تعلقات بھی خراب کر دئے جائیں (یاد کریں کہ چین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کے مسلمان صوبے میں شورش فاٹا کے علاقے سے ہوتی ہے(
تو ایسا کوئی بھی حملہ ہونے کی صورت میں پاکستان پر اقوام متحدہ کی طرف سے سخت ترین پابندیاں لگا دی جائیں گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ متوقع طور پر پاکستان پر متحدہ افواج حملہ کر دیں۔
ماڈرن نادر شاہ یعنی امریکہ کا پروانہ طلبی عرف پاکستانی ہتھیاروں کی تحویل کا کا مطالبہ تو ہو ہی چکا ہے ۔ ۔ ۔ پاکستانی حکمران اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں پا رہے۔
ایسے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں برپا ہونے والی فحاشی و عریانی کی ورکشاپس پر پاکستانی عوام کی خاموشی کہیں کسی نئے عذاب الٰہی کی آمد کی طرف تو اشارہ نہیں کر رہیں؟ دہلی بھی اسلامی دارالخلافہ تھا، نادر شاہ بھی مسلمان تھا اور قتل عام میں مرنے والے بھی مسلمان۔
پھر کیا ہم پاکستانیوں نے اللہ سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے کہ ہم پر وہ عزاب نہیں دے گا جو وہ ہم سے پہلوں پر اتارتا رہا ہے؟
کیا بحیثیت قوم ہم اس عذاب کو روکنے کے لیے کوئی کوشش کر رہے ہیں؟

سید ابو اعلیٰ مودودی اپنی کتاب تجدید و احیا دین میں شاہ ولی اللہ کا تزکرہ کرتے ہیں کہ اس دور پر آشوب میں کہ جب مسلمانوں کی ہر امید ختم ہو چلی تھی، شاہ ولی اللہ کے نام کی ایک شخصیت نے اپنی توانا آواز سے ملت اسلامیہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔ وہ جو اپنے خاندانوں کے ساتھ خود کشیوں پر آمادہ تھے ان کو ایک نئی امید دی۔ بادشاہ وقت اس آواز سے اس قدر خوفزدہ ہوا کہ کبھی اس کو درباری علما سے کافر قرار دلوایا اور کبھی دہریا۔جب شاہ ولی اللہ نے قران کریم کا فارسی میں ترجمہ کیا تو بادشاہ نے شاہ ولی اللہ کو واجب القتل قرار دے دیا/لیکن اپنے اس ارادے سے محض اس ڈر سے خاموش رہا کہ اس کو خؤف تھا شاہ ولی اللہ اپنے وقت کا قطب ہے اور اس کی بد دعا سے شہر تباہ ہو جائے گا۔ وہی حضرت شاہ ولی اللہ اپنی کتاب میں امرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں جسکو سید مودودی اپنی کتاب میں یوں نقل کرتے ہیں۔
"میں امرا سے کہتا ہوں کہ تم کو خدا کو خوف نہیں آتا؟تم فانی لزتوں کی طلب میں مستغرق ہو گئےاور رعیت کو چھوڑ دیا کہ ایک دوسرے کو کھا جائے؟علانیہ شرابیں پی جا رہی ہیں اور تم نہیں روکتے؟ زنا کاری،شراب خوری اور قمار بازی کے اڈے سر بازار بن گئے اور تم ان کا انسداد نہیں کرتے؟اس عظیم الشان ملک میں مدت دراز سے کوئی حد شرعی نہیں لگائی گئی۔جس کو تم ضعیف پاتے ہو اس کو تم کھا جاتے ہو اور جس کو تم قوی پاتے ہو اس کو چھوڑ دیتے ہو۔کھانوں کی لزت، عورتوں کی ناز و انداز، کپڑوں اور مکانوں کی لطافت، بس یہ چیزیں ہیں جن میں تم ڈوب گئے ہو۔ کبھی خدا کا خیال تمہیں نہیں آتا۔ ۔ ۔ ۔
میں ان فوجی آدمیوں سے کہتا ہوں کہ تم کو اللہ نے جہاد کے لیے اعلائے کلمہ حق کے لیے،شرک و اعل شرک کا زور توڑنے کے لیے فوجی بنایا تھا ۔اسکو چھوڑ کر گھوڑ سواری اور ہتھیار بندی کو اپنا پیشہ بنا لیا۔اب جہاد کی نیت اور مقصد سے تمہارے دل خالی ہیں۔بھنگ اور شراب پیتے ہو،داڑھیاں منڈاتے ہو اور مونچھیں بڑھاتے ہو۔بندگان خدا پر طلم ڈھاتے ہو اور تمہیں کبھی اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ تم حرام کی روٹی کما رہے ہو یا حلال کی۔خدا کی قسم تم کو ایک روز دنیا سے جانا ہے اور پھر اللہ تم کو بتائے گا کہ تم کیا کر آئے ہو۔۔۔
Idea & theme Taken from:میرے مطابق "ڈاکٹر شاہد مسعود"جیو ٹیلی ویژن"

Last edited by حیدر; 14-07-09 at 09:44 AM.
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-09-09), فیصل ناصر (27-08-09), پاکستانی (08-09-09), ملک بھائی (14-07-09), منتظمین (14-07-09), wajee (14-07-09), ابرارحسین (01-03-10), اخترحسین (10-09-09), تفسیر حیدر (19-09-09), حسنین ایوب (18-09-09), رضی (14-07-09), سیلانی (19-07-09), سحر (14-07-09), شاہ جی 90 (16-07-09)
پرانا 14-07-09, 10:12 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہنوز دلی دور ہے
ـــــــــــــــــــــــــ
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-07-09, 01:18 PM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایک اور تباہی

اقتباس:
ہنوز دلی دور ہے
ہنوز دہلی دور است ۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (10-09-09)
پرانا 14-07-09, 01:42 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں

والسلام
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (20-09-09)
پرانا 14-07-09, 01:54 PM   #5
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیئے اپلائی کر دیا گیا ہے
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (10-09-09), حیدر (14-07-09)
پرانا 16-07-09, 06:31 AM   #6
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہی تو ہمارا اتنا بڑا المیہ ہے کہ پوری قوم بھی مل کر رو رو کر اللہ سے معافی مانگے اور کمر ہمت کس کر اصلاح احوال کے لئیے تیار ہو جائے تب ہی شاید اس متوقع تباہی سے بچا جا سکتا ہے لیکن آپ لوگوں نے نظام سقہ کے بارے میں بھی پڑھا ہو گا ۔ لگتا ہے کہ ہمارے نصیب میں بھی نظام سقے ہی رہ گئے ہیں چاہے وہ سابقہ ہو یا موجودہ فرق کوئی نہیں ہے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (10-09-09)
پرانا 10-09-09, 07:24 PM   #7
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو حالات دکھائی دئے جا رہے ہیں ان سے تو ایسا ہی لگ رہا ھے
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین (10-09-09)
پرانا 10-09-09, 10:24 PM   #8
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 36,971
شکریہ: 4,903
808 مراسلہ میں 1,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

--------------------------------------------------------------------------------

"کیا ایک اور تباہی آنے کو ہے؟


آج سے کئی سو سال قبل جب متحدہ ہندوستان پر محمد شاہ عرف رنگیلا کی حکومت قائم ہوئی تو اس عیاش بادشاہ نے ملک کی تار و بود کو ہلا کر رکھ دیا۔اس کی عیاشیوں کا یہ عالم تھا کہ دربار میں ہر وقت شراب و دہن کی محفلیں برپا رہتیں۔قہقہوں میں اور خوش فعلیوں میں اس قدر مگن ہو گیا بادشاہ کہ اس کو کوئی سنجیدہ بات ناگوار گزرتی تھی۔ اس نے اپنی بادشاہت کو استحکام دینے کے لیے ایک وزیر کو متعین کیا لیکن اس وزیر نے بادشاہ کے متوازی اپنی حکموت قایم کر لی۔ اس کے پاس وزرا اور مشیروں کی فوج ظفر موج ہوا کرتی تھی جنکا کوئی کام نہ ہوا کرتا تھا سوائے اس کے کہ بادشاہ کو ہر وقت مگن کیے رکھیں۔ًمحلاتی سازشیں اس قدر بڑھ چکیں تھیں کہ بادشاہ اپنے ہر منظور نظر کو وزارت کی خلعت عطا کر دیتا تھا اور جس کو یہ خلعت نہ ملتی وہ مملکت کے خلاف بغاوت کر دیتا۔صؤرت حال یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ مرہٹے دہلی کے کئی علاقوں تک قبضہ کر چکے تھے۔ایک طرف سکھوں نے شورش برپا کر رکھی تھی اور بہت سے علاقے مغلیہ حکومت سے چھین لیے تھے۔۔ اکثر علاقے مغلیہ سلطنت سے آزادی یا خودمختاری کا اعلان کر چکے تھے۔ بادشاہ کی یہ جرات نہ تھی کہ وہ اپنے ہی محلات کے باغات سے باہر جا سکتا۔
وزرا کے کرپشن کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ کی طرف سے بھیجی جانے والی وہ رقوم کہ جو زیر انتظام صوبوں کے خرچ کے لیے بھیجی جاتی تھی، اس میں سے آدھی رقم تو محض ایک ہی وزیر ہڑپ کر جاتا تھا۔ باقی رقم کا کیا بنتا ہو گا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہی۔ سرکاری سر پرستی میں فحاشی و عریانی کے افعال سر انجام دیے جاتے۔
محلات میں برپا عیاشیوں نے عوام کا جینا اس قدر دوبھر کر دیا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان شرفا نے اپنے خاندانوں کے ساتھ اجتماعی خودکشیوں کی کوشش کی۔
واہی و تباہی کے اس عالم میں ایران سے نادر شاہ کا دھمکی آمیز خط آتا ہے تو بادشاہ اس کو شراب کے جام میں ڈبو دیتا ہے اور پھر وہ خود بھی اس قدر شراب میں ڈوب جاتا ہے کہ اس کو اس وقت ہوش آتا ہے جب نادر شاہ کی افواج بغیر کسی مزاحمت کے دارلخلافہ دہلئ پر قبضہ کر چکی ہوتی ہیں۔
تاریخ پڑہنے سے ہم کو اللہ کی ایک سنت کا پتا چلتا ہے کہ اللہ گناہوں کی سزا ان سب کو دیتا ہے جو ان برائیوں کے خلاف کسی قسم کا احتجاج نہیں کرتے۔ چناچہ نادر شاہ کے دہلئ کے قبضہ کے تھوڑا ہی عرصہ میں 150،000 سے زائد افراد قتل کر دئیے گئے۔ہزاروں عورتوں کی عزت لوٹ لی گئی، بچوں کو نیزوں پر لٹکا دیا گیا۔ لاشوں کے ہر طرف ڈھیر کے ڈھیر لگ گئے۔تعفن اس قدر بڑھ گیا کہ لاشوں کو بلا کسی نماز جنازہ کے دفن کرنے کے لیے بھی فوجوں کو تعینات کرنا پڑا اور یہ فریضہ ہندوستانی افواج نے ہی سر انجام دیا۔
میر تقی میر اور میر درد اسی دور کے شاعر ہیں،اور یہئ مناظر دیکھنے کی وجہ سے انکی شاعری دکھ اور یاسیت سے بھری پڑی ہے
"ہم رہنے والے ہیں اس اجڑے دیار کے"
نادر شاہ جاتے جاتے نہ صرف ہندوستان کی ساری دولت لوٹ کر لے گیا جس میں مشہور عالم تخت طاوس بھی شامل تھا۔ جاتے وقت اس نے رنگیلا شاہ کی پگڑی کھینچ کر زمین پر پھینک دی اور اس کو ذلت و رسوائی میں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
آپ کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اس وقت عوام کی غیرت و حمیت اس قدر ختم ہو چکی تھی کہ وہ ذلیل و رسوا بادشاہ ان پر مزید دس سال حکومت کرتا رہا۔ اور آخر دور میں اس کی بوالہواسی اس قدر پڑھ چکی تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ایک دن میں پانچ نئے وزرا بنائے جاتے، حتیٰ کہ ایک گھوڑے کو بھی وزارت کی خلعت عطا کی گئی ۔اور وہ گھوڑا دیگر وزرا کے ساتھ دربار میں ہی بیٹھا کرتا تھا۔

ان تمام واقعات کا پاکستان اور ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟
آُپ ان واقعات کو اپنے ارد گرد رونما ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ کیا ہمارے حکمران اور امرا ۔۔ رنگیلا شاہ کے دور سے کسی قدر بھی مختلف ہیں؟ ان کے کارناموں سے تو youtube بھری پڑی ہے۔ غربت اور افلاس میں پسی ہوئی قوم کے رہنما لندن اور نیو یارک میں لاکھوں روپے روزانہ کرایہ کے ہوتلز میں رہتے ہیں۔ جہاں دن میں 4 گھنٹے بجلی میسر نہ ہو، پانی، آتا کا بحران ہو وہاں کے وزرا باہر عیاشیاں کریں،ان پر ڈالرز نچھاور کیے جائےں ، اور وہ بھارتی رقاصوں پر ڈالرز نچھاور کریں۔
مزید آگے بڑھنے سے پہلے آپ ایک دل دہلا دینے والی خبر کا متن سن لیں
بی بی سی کی ایک رپورت کے مطابق پچھلے دنوں کراچی میں حکموت، اقوام متحدہ اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے "سیک ورکرز" کی ورکشاپ ہوئی جس میں سو سے زائد "سیکس ورکرز" نے شرکت کی۔اس ورکشاپ کے آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ اس ورکشاپ کے حوصلہ افزا نتایج کے بعد وہ عنقریب ایسی ہی ورکشاپش لاہور،اسلام آباد اور دیگر شہرون میں بھی کروائں گے۔ ان ورکشاپش میں شرکت کرنے والی "سیکس ورکرز" کا کہنا ہے کہ اب تک وہ معاشرے کے خوف سے آزاد نہ تھیں ،تاہم اب وہ بلا کسی خوف و جھجھک کے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اسی طرح ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ سے زائد "سیکس وکررز" موجود ہیں۔جبکہ لاہور میں انکی تعداد 75 ہزار تک بتائے جاتی ہے۔
جناب یہ "سیکس ورکرز" کی نئی اصطلاح انہی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جن کا نام لینا شریف گھرانوں میں باعظ ذلت سمجھا جاتا تھا،۔ جہاں رات کی تاریکی میں ڈھکے چھپے برایاں کی جا تی تھیں اور دن چڑہے جن برائیوں کا پتا نہیں ہتا تھا۔اب ان کے لیے ملک کے شہروں میں ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اب وہ کھل کر معاشرے میں کردار ادا کرنا چاہ رہی ہیں۔
کہیں ہم ایک معاشرتی تباہی کی طرف گامزن تو نہیں؟ ملک میں کس طرف سے، کس جگہ سے اس کے خلاف آواز اٹھی ہے؟ کیا وہ وقت آنے والا ہے کہ جب اس ملک کے شرفا بھی اپنے خاندانوں کے ساتھ اجتماعی خودکشی کی کوشش کریں گے؟
اس کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی غفلت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ملکی سر حدوں کو درپیش خطروں کا بھی اندازہ نہیں کر سک رہے۔ازلی دشمن بھارت کو اپنا دوست کہہ رہے ہیں اور اپنے شمالی علاقہ جات کے بھائیوں کو اپنا دشمن بنا رہے ہیں۔بلوچستان میں بھڑکتا آتش فشاں انکو کسی چنگاری جتنا بھی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا۔۔اایسے میں سری لنکن اخبار ایشین ٹریبیون کی خبر ملاحظہ کیجیے۔ اس اخبار کے مطابق را، CIAاور موساد نے پاکستانی تنظیم TTP(تحریک طالبان پاکستان( کے ساتھ مل کر پاکستانی ایٹمی اثاثوں پر حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔اس مقصد کے لیے ملک میں پھیلے کسی بھی چھوٹے یا بڑے ایٹمی مرکز پر طالبان حملہ کر سکتے ہیں۔پھر بے شک وہ حملہ پسپا کر دیا جائے گا لیکن پھر مغربی حکومتوں کی طرف سے پاکستان پر یہ دباو ڈالا جائے گا اب تمہارے ہتھیار خطرے میں تو یہ ہتھیار حفاظت کے لیے ہمارے پاس رکھوا دو۔اور پاکستانی انکار پر دوسرا مطالبہ یہ ہو گا کہ تھیک ہے پھر انکی حفاظر کے لیے ہمارے فوجیوں کو اپے ملک میں آنے دو۔ممکنہ طور اس سے بھی انکار پر تیسرا سٹیج یہ ہے طالبان کو ڈرٹی بم یعنی چھوٹے ایٹمی ہتھیار مہیا کر دیے گئے ہیں۔ممکنہ طور پر ان ہتھیاروں کی مدد سے پاکستان کی سر زمین سے کسی بھی ملک پر حملہ کیا جائے گا۔ اور شاید اسی طور پر پاکستان اور چین کے تعلقات بھی خراب کر دئے جائیں (یاد کریں کہ چین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کے مسلمان صوبے میں شورش فاٹا کے علاقے سے ہوتی ہے(
تو ایسا کوئی بھی حملہ ہونے کی صورت میں پاکستان پر اقوام متحدہ کی طرف سے سخت ترین پابندیاں لگا دی جائیں گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ متوقع طور پر پاکستان پر متحدہ افواج حملہ کر دیں۔
ماڈرن نادر شاہ یعنی امریکہ کا پروانہ طلبی عرف پاکستانی ہتھیاروں کی تحویل کا کا مطالبہ تو ہو ہی چکا ہے ۔ ۔ ۔ پاکستانی حکمران اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں پا رہے۔
ایسے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں برپا ہونے والی فحاشی و عریانی کی ورکشاپس پر پاکستانی عوام کی خاموشی کہیں کسی نئے عذاب الٰہی کی آمد کی طرف تو اشارہ نہیں کر رہیں؟ دہلی بھی اسلامی دارالخلافہ تھا، نادر شاہ بھی مسلمان تھا اور قتل عام میں مرنے والے بھی مسلمان۔
پھر کیا ہم پاکستانیوں نے اللہ سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے کہ ہم پر وہ عزاب نہیں دے گا جو وہ ہم سے پہلوں پر اتارتا رہا ہے؟
کیا بحیثیت قوم ہم اس عذاب کو روکنے کے لیے کوئی کوشش کر رہے ہیں؟

سید ابو اعلیٰ مودودی اپنی کتاب تجدید و احیا دین میں شاہ ولی اللہ کا تزکرہ کرتے ہیں کہ اس دور پر آشوب میں کہ جب مسلمانوں کی ہر امید ختم ہو چلی تھی، شاہ ولی اللہ کے نام کی ایک شخصیت نے اپنی توانا آواز سے ملت اسلامیہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔ وہ جو اپنے خاندانوں کے ساتھ خود کشیوں پر آمادہ تھے ان کو ایک نئی امید دی۔ بادشاہ وقت اس آواز سے اس قدر خوفزدہ ہوا کہ کبھی اس کو درباری علما سے کافر قرار دلوایا اور کبھی دہریا۔جب شاہ ولی اللہ نے قران کریم کا فارسی میں ترجمہ کیا تو بادشاہ نے شاہ ولی اللہ کو واجب القتل قرار دے دیا/لیکن اپنے اس ارادے سے محض اس ڈر سے خاموش رہا کہ اس کو خؤف تھا شاہ ولی اللہ اپنے وقت کا قطب ہے اور اس کی بد دعا سے شہر تباہ ہو جائے گا۔ وہی حضرت شاہ ولی اللہ اپنی کتاب میں امرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں جسکو سید مودودی اپنی کتاب میں یوں نقل کرتے ہیں۔
"میں امرا سے کہتا ہوں کہ تم کو خدا کو خوف نہیں آتا؟تم فانی لزتوں کی طلب میں مستغرق ہو گئےاور رعیت کو چھوڑ دیا کہ ایک دوسرے کو کھا جائے؟علانیہ شرابیں پی جا رہی ہیں اور تم نہیں روکتے؟ زنا کاری،شراب خوری اور قمار بازی کے اڈے سر بازار بن گئے اور تم ان کا انسداد نہیں کرتے؟اس عظیم الشان ملک میں مدت دراز سے کوئی حد شرعی نہیں لگائی گئی۔جس کو تم ضعیف پاتے ہو اس کو تم کھا جاتے ہو اور جس کو تم قوی پاتے ہو اس کو چھوڑ دیتے ہو۔کھانوں کی لزت، عورتوں کی ناز و انداز، کپڑوں اور مکانوں کی لطافت، بس یہ چیزیں ہیں جن میں تم ڈوب گئے ہو۔ کبھی خدا کا خیال تمہیں نہیں آتا۔ ۔ ۔ ۔
میں ان فوجی آدمیوں سے کہتا ہوں کہ تم کو اللہ نے جہاد کے لیے اعلائے کلمہ حق کے لیے،شرک و اعل شرک کا زور توڑنے کے لیے فوجی بنایا تھا ۔اسکو چھوڑ کر گھوڑ سواری اور ہتھیار بندی کو اپنا پیشہ بنا لیا۔اب جہاد کی نیت اور مقصد سے تمہارے دل خالی ہیں۔بھنگ اور شراب پیتے ہو،داڑھیاں منڈاتے ہو اور مونچھیں بڑھاتے ہو۔بندگان خدا پر طلم ڈھاتے ہو اور تمہیں کبھی اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ تم حرام کی روٹی کما رہے ہو یا حلال کی۔خدا کی قسم تم کو ایک روز دنیا سے جانا ہے اور پھر اللہ تم کو بتائے گا کہ تم کیا کر آئے ہو۔۔۔
Idea & theme Taken from:میرے مطابق "ڈاکٹر شاہد مسعود"جیو ٹیلی ویژن"
__________________
بدرالزمان بلوچ
کوئٹـہ ۔ پاکستان "


یہ تو تھی تاریخ

ہم حال کا مشاھدہ کر رہے ہیں جو کسی طرح بھی یہ نہیں بتاتا کہ ہم نے یا کسی حاکم نے سبق سیکھا ھو


ایک اور چیز بھی ھے جس کو ہم مستقبل کہتے ہیں
مستقبل میں وہ سب کچھ ھونے جا رہا ھے جو ہمیں کسی طور بھی نہ تو قبول ھے اور نہ ہی ہم اس کو اچھا مان سکتے ہیں

وہ یہ کہ تمام " عالم کفریات" کا ٹارگٹ صرف پاکستان ہی ھے

وجہ جاننے کے لئے اپنی اسلامی تاریخ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مطالعہ کریں جو قیامت کی نشانیوں میں سے مانے جاتے ہیں اور ہمارے اس خطہ ارض جس کو احادیث میں "ھند" کا نام دیا گیا ھے
موجودہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو سمجھ میں آتا ھے کہ : ھند " میں ہمارہ پاکستان اور انڈیا تو مکمل شامل ھے۔
آخری معارکہ اسلام و کفر کا بھی یہیں ھونا ھے (حضرت مہدی کے آنے سے پہلے) اور مہدی محمد بن عبدللہ کے ساتھ شامل ھونے والا عظیم لشکر بھی یہیں سے جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخترحسین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
اخترحسین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (11-09-09)
پرانا 11-09-09, 12:46 AM   #9
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,147
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,715 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام،
بدر بھائی آپ کی یہ تحریر بھی پچھلی تحاریر کی طرح نہایت مسبوط اور مربوط ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی تحقیق تو بہحال لائق تحسین ہوتی ہی ہے مگر آپ کی انداز تحریر بھی خوب ہے!

مجھے یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کے آپ کی تحریر کو میں بغور مکمل پڑھتا ہوں۔
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (20-09-09), اخترحسین (11-09-09), حیدر (20-09-09), شاہ جی 90 (11-09-09)
پرانا 18-09-09, 09:40 PM   #10
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 39
کمائي: 1,099
شکریہ: 6
25 مراسلہ میں 58 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا ،
ہم کس کس کا رونا روئیں ۔ ایک صوبہ کی عدالت عالیہ چینی کی قیمت کر؂تی ھے اور یہ نام نہاد عوامی حکومت اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرتی ہے ۔ کیوں ؟؟؟؟
صرف اس لیے کہ تمام شوگر ملیں ان حکمرانوں کی ہیں جنہیں یہ جانور نما عوام زندہ باد کے نعرے لگا کر اقتدار میں لاتے ہیں
منیب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منیب کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-09-09), حسنین ایوب (18-09-09)
پرانا 18-09-09, 10:30 PM   #11
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,060
کمائي: 18,809
شکریہ: 1,697
620 مراسلہ میں 1,242 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم سب کو مل کر پاکستان کے لئے کچھ کرنا ہوگا ورنہ ہم پر یہ مثال بالکل فٹ‌ بیٹھے گی

اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیا چگ گئیں کھیت
حسنین ایوب آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (23-09-09)
پرانا 20-09-09, 03:16 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : hasnan_1983 مراسلہ دیکھیں
ہم سب کو مل کر پاکستان کے لئے کچھ کرنا ہوگا ورنہ ہم پر یہ مثال بالکل فٹ‌ بیٹھے گی

اب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیا چگ گئیں کھیت
ہم سب (مثال کے طور پراس فورم کے ملک کے لیے پریشان ہونے والے ممبرز) کیا کر سکتے ہیں؟
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (23-09-09)
پرانا 27-09-09, 12:37 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
ہم سب (مثال کے طور پراس فورم کے ملک کے لیے پریشان ہونے والے ممبرز) کیا کر سکتے ہیں؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بدر بھائی ہم یہاں سے دو کام تو کر سکتے ہیں ، اور اپنی اپنی جگہ پر بھی ، ایک تو یہ کہ پاکستان کے خلاف ہونے والے اندرونی بیرونی جس بھی کام کی خبر میسر ہو اپنے طور پر اس کی درستگی کا جائزہ لے کر اسے زیادہ سے زیادہ ہم وطنوں میں اسلامی حمیت اجاگر کرتے ہوئے ساتھ پھیلا جایا ،
اور دوسرا یہ کہ ہم خود بھی اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور اپنے رب سے خوب دُعائیں کریں اور ہر ایک کو اس طرف بلائیں یہاں تک کہ اللہ ہماری مشکلیں آسان فرما دے یا ہم اللہ کی بندگی میں رہتے ہوئے اور صرف اسی کی بندگی کی دعوت دیتے ہوئے اس کے سامنے جا حاضر ہوں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
حیدر (27-09-09), حسنین ایوب (27-09-09), شاہ جی 90 (05-10-09)
پرانا 27-09-09, 08:08 AM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کل ایک حدیث سنی جس کا مفہوم ہے کہ نبئی پاک رمضان المبارک میں اچانک منبر پر تشریف لائے اور لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ جب تم منکر ہوتے دیکھ کر اس پر خاموش رہو گے تب اللہ تم پر ایسے بادشاہ بھیجے گا جو تم پر ظالم ہوں گے۔ تم رو کر، گڑ گڑا کر ، عاجزی و انکساری کے ساتھ دعائیں مانگو گے تو وہ دعائیں تمہارے منہ پر مار دی جائیں گی۔ تمہارے بزرگ اور نیک لوگوں کی دعائیں قبول نہ کی جائیں گی وغیرہ (اللہ مجھے معاف کرے اگر مجھ سے اس حدیث کا مفہوم بیان کرنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو)

اس لیے میرا خیال ہے کہ اگر ہم صرف منکر کے خلاف آواز اٹھانے والے ہی بن جائیں تو بھی شاید مسئلہ حل ہو جائے۔ ورنہ ہم جتنی مرضی تدبیریں کر لیں ۔ ۔ ۔ میرا نہیں خیال کچھ اچھا ممکن ہو۔

اور اگر ہم اپنا حال دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ہم برائی کے خلاف آواز اٹھانے تو کجا ۔ ۔ ۔ اسکی حمایت کرنے میں کمر بستہ ہیں۔ میں نے الطاف حسین کے بیان کا متن نہیں پڑھا لیکن اگر اسکا بیان وہی ہے جو اخبارات وغیرہ کی ذینت بن رہا ہے تو اس کے ہمدردوں کا حال دیکھ لیں ۔ بجائے اپنے قائد کو سمجھانے کے الٹا اسکی کی تاویلیں کرتے ہیں۔ مسلم لیگ کا حال دیکھ لیں ۔ ۔ ۔ پیپلز پارٹی کا حال دیکھ لیں، سبھی کا حآل دیکھ لیں۔ کون ہے جو منکر کے خلاف جدوجہد تو کجا آواز بھی بلند کر رہا ہو۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
حسنین ایوب (29-09-09), شاہ جی 90 (05-10-09)
جواب

Tags
Islamabad, Nawaz sharif, pakistan, کمر, کراچی, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, قران, لندن, چین, نماز, نظر, موجودہ, متوقع, Zardari, آج, ایران, اقوام متحدہ, اللہ, امریکہ, احتجاج, بچوں, بادشاہت, خدا, دعا, شاعری, طالبان


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:25 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger