|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
|
’’’’کوئی بھی ملک ایک مضبوط فضائیہ کے بغیر کسی نہ کسی جارحانہ طاقت کے رحم و کرم پر ہو تاہے .پاکستان کو اپنی فضائی فوج کی جس قدر جلد ممکن ہو تعمیر کرنا ہوگی.اس کے لئے ایک ایسی موثر قوت بننا لازمی ہے جو کسی کے مقابلے میں فروتر نہ ہو‘‘‘‘(’’’’قائداعظم محمد علی جناح‘‘‘‘ .مارچ 1941ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا ء سے خطاب کا ایک اقتباس)
ان شآ اللہ عزوجل آپ کی خدمت میں پاکستان کی فضائیہ کے حوالے سے کچھ تحریر کرنے کی کوشش کروں گا .اس سے پہلے ’’’’JF-17جے ایف سیونٹین‘‘‘‘کے نام سے ایک دھاگہ میں ارادہ کیا تھا کہ JF-17 جے ایف سیونٹین کے بارے میں مزید معلومات پیش کروں گا اُن میں سے کچھ کو میں یہاں شامل کر رہا ہوں. 1947ء میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد جب پا ک فضائیہ کی بنیاد رکھی گئی تو اُس وقت پا ک فضائیہ کو ملنے والے طیاروں کی تعداد بہت کم تھی .علاوہ ازیں ان طیاروں کو سنبھالنے اورا نہیں اڑانے والا عملہ بھی صرف چند نفوس پر مشتمل تھا.جبکہ کہ الحمد للہ آج پاک فضائیہ 400کے لگ بھگ لڑاکاطیاروں اور 45000اشخاص پر مشتمل ہے . جغرافیائی لحاظ سے پاک فضائیہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے .جن میں شمال میں پشاور ہیڈ کوارٹر .مرکز میں سرگودھا اور جنوب میں مسرور جو کراچی میں واقع ہے . پاک فضائیہ کا سب سے پرانا فضا ئی ’’مستقر ‘‘ ہے جسے جنگ عظیم دوم میں برطانوی فضائیہ نے بھی استعمال کیا تھا. پاک فضائیہ کے اہم فضائی مستقرو ں کی تعداد 9ہے جن میں چکلالہ(راولپنڈی).رفیقی(شورک وٹ).پشاور (پشاور).مسرور(کراچی).رسالپور (رسالپور).سرگودھا(سرگودھا)س نگلی(کوئٹہ).فیصل (کراچی)اور کامرہ (کامرہ) شامل ہیں.یہ فضائی مستقر زمانہ امن و جنگ میں بھر پور طریقہ سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں .جبکہ اگلے فضائی مستقروں (فاروڈ بیسز ) کی تعداد 11 ہے جنہیں جنگ کی صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے .مزید یہ کہ 340کلومیٹر طویل موٹروے کو بھی طیاروں کے لئے بطور رن وے استعمال کیا جا سکتا ہے . اس وقت پاک فضائیہ 22عدد کامبیٹ اسکواڈز پر مشتمل ہے جن میں 6اسکواڈرنزائیر اسپا شیال ایلویٹIIIہیلی کاپٹروں کے ذریعے تلاش .بچاو اور مخلوط نقل و حرکت (کمپوزٹ ٹرانسپورٹ) کے فرائض انجام دے رہے ہیں .علاوہ ازیں ’’’’پاکستان نیول ایوی ایشن ‘‘‘‘جو کہ پاک بحریہ کا فضائی بازو ہے .پی تھری سی اور این .فرنچ اٹلانٹک .فوکر ایف27.سی کنگ ایم کے 45سی . ویسٹ لینڈ لنکس(Lynx).ایچ اے ایس تھری .اور ایلویٹ تھری ہیلی کاپٹر استعمال کر رہا ہے .’’’’پاک آرمی ایوی ایشن ‘‘‘‘ پاک بری افواج کا فضائی شعبہ ہے جس میں فکسڈ ونگ اور روٹری ونگ دونوں طرح کہ طیارے شامل ہیں یہ طیارے زمینی حملوں کے دوران قریبی معاونت (Close Support)فراہم کرتے ہیں . تاہم بری فوج کی اہم آتشیں قوت اے ایچ ون ایس کوبرا ہیلی کاپٹر ہیں جو دشمن کے ٹینکوں اور بکتر بند دستوں کا قلع قمع کرنے کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں. تقسیم ہند سے لے کر آج تک پاکستان اور ہندوستان کم از کم تین بار ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہو چکے ہیں .ایک امن پسند ملک ہونے کے حیثیت سے پاکستان نے کبھی اپنے حریف پر حملہ کرنے میں پہل نہیں کی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پا ک فوج نے ہندوستان کی طرف سے کسی بھی جارحانہ کاروائی کو روکنے کے لئے خود کو بہتر بنا نے کی کوشش ضرور کی ہے اگر پاک فضائیہ کا موازنہ ہندوستانی فضائیہ سے کیا جائے تو پا ک فضائیہ کے ایک لڑکا طیارے کے مقابلے پر پانچ ہندوستانی طیارے آتے ہیں .اور آج تا دم تحریر اس تناسب میں مزید اضافہ ہو چکا ہے . اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی فضائیہ مختلف ممالک سے جدید ترین لڑاکا و بمبار طیارے حاصل کررہی ہے .ان میں روسی ساختہ جدید ترین لڑاکا طیارہ سخوئی ایس یو 30اور فرانس سے خریدا گیا میراج 2000ایچ شامل ہیں .یہ دونوں طیارے سخت اور مشکل ترین اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحت سے لیس ہیں. پاک فضائیہ کے پاس ان دونوں طیارو ں کے مقابلے کے لئے ایف 16.میراج IIIاور میراجVطیارے موجود ہیں . اگر چہ پاک فضائیہ کے پاس چینی ساخت کے ایف سیون پی .ایف سیون پی جی .اور اے فائیو بمبار طیارے بھی ہیں لیکن موجودہ دور کے لحاظ سے یہ متروک تصور کئے جاتے ہیں .علاوہ ازیں ہندوستانی فضائیہ کو پاک فضائیہ پر یہ برتری بھی حاصل ہے کہ اُس کے پاس ہمہ قسم کے فضا سے فضا میں ما ر کرنے والے دور مار میزائل بھی موجود ہیں بد قسمتی سے پاک فضائیہ کا کوئی بھی لڑاکا طیارہ اس قسم کے میزائل سے لیس نہیں ہے .علا وہ ازیں حضوصی ہتھیاروں کی بڑھی تعداد .ناقابلِ تسخیر نگرانی و جاسوسی نظام کی صلاحیت مختلف طرز کے زمین سے فضا اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل .حملہ آور ہیلی کاپٹر وں کی ایک بڑی تعداد بار برداری کی بہتر صلاحیت .مصنوعی سیاروں سے جا سوسی حتی کہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی بھی ہندوستان کے پاس موجود ہے . جاری ہے ...... |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔ اسے جاری رکھیے۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
دوسرا حصہ کہاں ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وسلام |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت اچھا لکھا ہے بھائی
مزید کا انتظاررہے گا |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
مقبول
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
|
حصہ دوئم
سرد جنگ کے دوران ہندوستان سویت بلاک میں شامل تھا جبکہ پاکستان کے دوست ممالک میں امریکہ اور فرانس شامل تھے . چنانچہ انہی تعلقات کے نتیجے میں فرانس سے میراج طیارے خریدے گئے .بعدازاں 1970ء میں مزید طیاروں کا آرڈر بھی دیا گیا. میراج IIIہر طرح کے موسم اور دور فاصلے تک کاروائی کرنے والا انٹر سیپٹر /فائٹر/ بمبار طیارہ ہے .اس کی قدرے تبدیل شدہ شکل میراجvکہلاتی ہے . جو زمینی حملوں میں استعمال ہوتی ہے . 1990ء میں پاک فضائیہ کے لئے آسٹر یلیا سے 43عدد استعمال شدہ میراج IIIطیارے خریدے گئے تھے جبکہ 1996ء میں میراجIIIاور میراجvکی کچھ تعداد فرانس سے حاصل کی گئی تھی. 1980ء کی دہائی میں امریکہ سے 40عدد ایف 16اے/بی طیارے خریدے گئے .1990ء میں ان طیاروں کی مزید کھیپ حاصل کرنے کے لئے امریکہ کو آرڈر دیا گیا اور رقم بھی ادا کر دی گئی لیکن پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر ان طیاروں کی فراہمی روک دی گئی اور یہ کیفیت ہنوز برقرار ہے . حالیہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستان کے لئے اٹھائیس عددایف 16سی/ڈی (بلاک 40) طیارے بنانے کا باضابطہ حکم نامہ لاک ہیڈ مارٹن کو جاری کر دیا ہے .یاد رہے کہ لا ک ہیڈ مارٹن ہی وہ ادارہ ہے جو ایف 16طیارے بناتا ہے .علاوہ ازیں یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ایف 16اے/بی کی تیاری 1986ء میں روک دی گئی تھی اس وقت ایف 16کا سب سے پرانا ورژن ’’’’ایف 16سی /ڈی (بلاک 40)‘‘‘‘ ہے . ’’’’پاکستان بمقابلہ بھارت‘‘‘‘ بات ہو پاکستان کے دفاع کی تو پھرپاکستان کے لاڈلے چہیتے دوست جگری یار بھارت کی بات نہ ہو مزا نہیں آتا. ![]() ایک دفاعی تجزیئے کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے پاس 40کے قریب نیوکلیائی ہتھیار موجود ہیں .مزید برأں دونوں ممالک کم اور دور فاصلوں تک ضرب لگانے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں بھی ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی پوریجدو جہد کر رہے ہیں تا کہ ممکنہ جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کے علاقے میں دور تک حملہ کر سکیں.ہندوستان کے بیلسٹک میزائلوں میں پرتھوی اور اگنی وغیرہ شامل ہیں جبکہ پاکستان کے پاس غوری اور شاہین بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ بابر کروز میزائل بھی موجود ہے جس کا تبدیل شدہ ورژن ’’رعد‘‘ہے . اُدھر ہندوستان نے بھی روس کے تعاون سے ’’براہموس‘‘ کے نام سے ایک کروز میزائل بنایا ہے جس کی رینج 300کلو میٹر بتائی جاتی ہے اور جو آواز سے تیز رفتار (سپر سانک)پرواز کر سکتا ہے . حال ہی میں اس میزائل کا فضا سے داغا جانے والا ورژن تیار کیا گیا ہے جسے سخوئی ایس یو30لڑاکا بمبار طیارے سے چھوڑا جاسکتا ہے .پاک فضائیہ کے کم از کم دولڑاکا طیاروں کے بارے میں یہ رائے دی جاتی ہے کہ یہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار لے جا سکتے ہیں بلکہ ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں گرا بھی سکتے ہیں.اگر چہ دونوں ممالک ایٹم بم استعمال نہ کرنے کے معاہدے پر پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں .لیکن ہندوستان نے روایتی ہتھیاروں کی خریداری مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے .اس کے برعکس پاکستان مختلف ممالک سے جدید ٹیکنالوجی کے حامل گائیڈڈ ہتھیار حاصل کرنے کے جانب زیادہ توجہ دے رہاہے . پاکستان کی طرح ہندوستان بھی اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے .کچھ عرصہ قبل روسی ساختہ مگ21اور مگ27طیاروں کو مقامی طور پر اپ گریڈ کرکے اُنہیں گائیڈڈ ہتھیار لے جانے کا قابل بنایا دیا گیا ہے . علاوہ ازیں زمینی حملوں کے لئے ہونے والے برطانوی جیگوار لڑاکا طیاروں کو جد ت طرازی کے مراحل سے گزار کر اُنہیں بحری جہاز شکن میزائلوں سے لیس کر دیا گیا ہے . اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو ہندوستانی فضائیہ کے پاس چار ایسے طیارے ہیں جن کا پا ک فضائیہ سے بار بار واسطہ پڑے گا . یہ مگ29/ایس یو 30ایم کے آئی/ جیگوار / میراج 2000ہیں ان طیاروں کا سامنا کرنے کے لئے پاک فضائیہ ایف 16/ایف سیون پی /پی جی اور کسی حد تک جے ایف 17تھنڈر طیاروں کا استعمال کرے گی جو کے چین کے تعاون سے تیار کئے جا رہے ہیں آپ کو بتاتا چلوں کے اس وقت تک پاکستان کے پاس 8عدد جے ایف 17تھنڈر طیارے موجود ہیں( حال ہی میں 19مارچ 2008ء کو 6عددمزیدطیارے حاصل کئے گئے تھے.) جاری ہے ۔۔۔۔ Last edited by S_S_G_Commando; 02-04-08 at 03:56 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
مقبول
|
حصہ سوئم
پا ک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل تنویر محمود کا کہنا ہے ’’’’گزشتہ برسوں کے دروان پاک فضائیہ کئی طرح کی مشکلا ت کا شکار رہی ہے .بالخصوص اُس دور کی ٹیکنالوجی ہماری دسترس سے باہر رہی اور وسائل کی کمی نے ہمارے کئی منصوبوں کا آگے نہیں بڑھنے دیا .چنانچہ ہم نے کوشش کی کہ جو چیز جہاں سے دستیاب ہو سکے اُسے مقامی طور پر بنایا جائے .لہذا مغرب کی طرف سے عارضی پابندیوں کا سامنا کرنے کے بعد پاک فضائیہ نے اپنی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد شروع کر دی.اس کے نتیجے میں ہمیں طیاروں اور دیگر ہتھیاروں کے حصول کے لئے چین کی جانب رُخ کرنا پڑا. چین ہماراقابل اعتماد دوست ملک ہے . ہم چینی ساختہ ایف 7سمیت کئی طرح کے چینی دفاعی نظام اور ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں‘‘‘‘ ایف 7دراصل روسی ساختہ مگ21’ فش بیڈ‘ طیارہ ہے جسے چین میں لائسنس کے تحت تیار کیا جا رہا تھا. اس کی جدید شکل’’ ایف 7پی جی ‘‘ہے جو اوسط درجے کی ٹیکنالوجی کا حامل طیارہ ہے . ہندوستا ن گزشتہ کئی سال سے مقامی طور پر لڑاکا طیارے .ہیلی کاپٹر.بیلسٹک میزائل.زمین سے فضاء میں مار کرنے والے (سام)میزائل . بغیر پائلٹ کے طیارے اور بحری جنگی جہازاور آبدوز بنانے کی جانب زیادہ توجہ دے رہا ہے .(جبکہ کے اُس کی ایٹمی آبدوز تقریباً آخری مراحل میں ہے )تا کہ وہ اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک پر کم سے کم انحصار کرسکے . علاوہ ازیں روس اور دیگر ممالک سے جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری .پیشگی خبردار کرنے والے طیارے . فضا سے فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے طیارے .فضائی نگرانی کے لئے غباروں پر مشتمل ریڈار.یواے ویز کے ذریعے بروقت جاسوسی کی صلاحیت .حد نظر سے دور (BVR) مار کرنے والے ہتھیار .اور بار بار فریکوئنسی بدلنے والے (فریکوئنسی ہوپنگ)محفوظ ریڈیائی رابطہ آلات کی خریداری بھی ہندوستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں .لیکن پاکستان اپنی مدد آپ کے تحت ان تمام نظاموں کو چین اور دیگر ممالک کے تعاون سے مقامی طور پر (خودپاکستان میں ہی) بنانے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے بھر پور کوشش کر رہاہے. ’’’’بہتر میزائلوں کا حصول‘‘‘‘ پاکستانی انجینئروں نے جنوبی افریقہ سے حاصل کردہ .فضا سے فضا میں مار کرنے والے ٹی ڈارڈر میڈیم رینج ایکٹیوریڈار گائیڈڈ میزائل کو مزید بہتر بنا کر اُسے 120کلو میٹر دور تک مار کرنے کا قابل بنا لیا ہے .اس میزائل کا نیانام ’’ایچ4بی وی آر‘‘ رکھا گیا ہے.آج سے کچھ عرصہ قبل اس میزائل کی آزمائش کی گئی تھی .میراج طیارے کے ذریعے داغے گئے اس میزائل نے سمند ر پر محو پرواز درون کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا. اس میزائل کی ایک اور شکل ایچ2ہے .یہ ایچ4میزائل سے قدرے کم وزن ہے اور طیارے کے انجن سے خارج ہونے والی حرار ت سے رہنمائی لے کر اُس طیارے کی سمت لپکتا ہے .اس کی حد ضرب 60 کلومیٹر بتائی جاتی ہے .سرِدست یہ دونوں میزائل میراج طیارے سے ہی فائر کئے جا سکتے ہیں .تاہم پا ک فضائیہ فطری طور پر چاہے گی کہ ان میزائلوں کو پاک فضائیہ کے زیرِ استعمال دیگر لڑاکا طیاروں .خصوصاً جے ایف 17تھنڈر سے بھی داغے جانے کے قابل بنایا لیاجائے .جنوبی افریقی ساختہ یہ میزائل اپنے زُمرے (کیٹگری ) کے لحاظ سے اسرائیل کے پائتھون فور اور روس کے ’’اے اے 12‘‘ایڈرایکٹیوگائیڈڈ ایئر ٹو ائیر میزائلوں میں شمار کئے جاتے ہیں .ایڈر میزائل ہندوستانی فضائیہ کے پاس بھی موجود ہیں تاہم جلد ہی پاک فضائیہ چینی ساختہ ایس ڈی 10بی وی آر (’’بی وی آر‘‘ حد نظرسے دور تک مار کرنے والی ٹیکنالوجی ہے)اور امریکی آمرام(AMRAAM)میزائلوں سے لیس ہوجائے گی.اگر چہ پاکستانی کروز میزائل ’’بابر ‘‘ کے بارے میں مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے چین یا یوکرائن کی مدد سے بنایا گیا ہے تاہم وہ اسے بھارت کے’’ براہموس ‘‘ میزائل سے بہتر قرار دیتے ہیں.بابر ایک آواز سے کم رفتار(سب سانک)اور کم بلندی پر رہتے ہوئے پرواز کرنے والا میزائل ہے جو دشمن ریڈار کی زد سے باہر رہتے ہوئے 500کلومیٹر دور کسی بھی ہدف کو با آسانی تباہ کر سکتا ہے اسے روایتی یا غیر روایتی کسی بھی قسم کے ہتھیاروں سے کیا جا سکتا ہے .یہ میزائل آبدوز سے چھوڑا جا تا ہے مگر پاکستان بابر کروز میزائل کو آبدوز کے علاوہ لڑاکا طیاروں کے ذریعے فضا سے زمین پر مارکرنے کے قابل بھی بنا رہا ہے تاہم ابھی آپ اس خبر کو اپنے تک ہی رکھیے گا کیونکہ کہ ابھی تک اس کی تصدیق یا تردیدسامنے نہیں آئی. مجھے لگتا ہے آپ پڑھ پڑھ کے تھک چکے ہیں ..................نہیں.......... تو نہ سہی میں تو لکھ لکھ کے تھک چکا ہوں باقی اگلی قسط میں جاری ہے۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (04-04-08), عرفان حیدر (04-04-08) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,183
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپ نے بہت ہی عمدہ معلومات فراہم کی ہیں ۔ خاص طور پر اسلحے کے معاملے میںاپ واقعی ہی کافی کچھ جانتے ہیں۔۔۔۔
میری طرف سے اپکو 250 کمائی کے پوائنٹس تحفے میںملتے ہیںقبول کریں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | S_S_G_Commando (04-04-08), عرفان حیدر (04-04-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
|
حصہ چہارم
’’افرادی قوت اور جدید آلات‘‘ پاک فضائیہ کے ہوابازوں کی بہتر تربیت کے لئے ’’پی اے سی ‘‘کامرہ اہم کردار ادا کر رہا ہے .یہ ادارہ گزشتہ کئی برسو ں سے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے . یہاں ہوابازوں کی ابتدائی تربیت کے لئے مشاق اور سپر مشاق طیارے اور فضائی جنگ سے روشناش کرانے کے لئے چین کے تعاون سے ’’کے 8‘‘ قراقرم جیٹ ٹرینر تیارکئے جاتے ہیں .پاکستان کی جانب سے سپر مشاق طیارے (جو مشاق کی نسبتاً بہتر شکل ہے ) اور’’ کے8‘‘ طیارے دیگر ایشائی ممالک کو بھی فروخت کئے جا رہے ہیں .پاک فضائیہ میں جلد ہی مزید 27عدد ’’کے 8‘‘طیارے شامل کئے جائیں گے جو کہ پہلے سے موجود 12عدد ’’کے 8‘‘ طیاروں کے بیڑے میں شمولیت اختیار کر لیں گے.مستقبل میں پاک فضائیہ ہوابازوں کی حربی تربیت کے لئے پاکستان اور چین کے مشترکہ ’’جے ایف 17تھنڈر‘‘ طیاروں کے دو نشستی ماڈل بھی استعمال کر گی . جے ایف 17لڑاکا طیاروں کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتا ہے . پاک فضائیہ کہ سربراہ ائیر چیف مارشل تنویر محمود احمد کے مطابق پاک فضائیہ 150سے 250جے ایف 17طیارے حاصل کرے گی جو ایف 7اور میراج اور اے 5طیاروں کی جگہ لیں گے .جدید ترین نظاموں اور ڈیجیٹل فلائی بائی وائر کنٹرول سسٹم سے لیس یہ طیارہ ماک 1.8رفتار تک پہنچ سکتا ہے .اگرچہ یہ ایف 16سے کم رینج کا حامل ہے لیکن ایف 16کی طرح یہ بھی فضائی معرکوں اور خراب موسم میں بھی حملے کی صلاحیت رکھتاہے .ان طیاروں کی پہلی کھیپ میں .جوکہ 50طیاروں پر مشتمل ہوگی چینی ساختہ کے ایل جے7ملٹی موڈ پلس ڈوپلر ریڈار نصب ہوگا .تاہم بعد میں ملنے والے طیاروں کو فرانسیسی یادیگر ممالک سے حاصل شدہ ریڈار نظاموں میں سے کسی ایک سے لیس کر دیا جائے گا. پاک فضائیہ ان طیاروں میں الیکٹرونیکلی اسکینڈ ایرے (AESA)ریڈار نصب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے .علاوہ ازیں جے ایف 17طیاروں کو ری فیولنگ پروب .انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم اور جدید ترین الیکٹرک کاونٹر میژر(ECM) نظام سے بھی لیس کیا جائے گا.ابتدائی طور پر یہ طیارے چینی ساختہ میزائل اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے دوسرے ہتھیار لے جا سکیں گے بعد ازاں انہیں جد ت طرازی کے مراحل سے گزار کر اس قابل بنادیا جائے گا کہ یہ مغربی ممالک کے تیار کردہ ہتھیاروں کو بھی استعمال کرسکیں. پاک فضائیہ اپنے انجینئر وں اور ہوابازوں کو مسلسل بہتر سے بہتر بنانے کی طرف توجہ دے رہی ہے اور جلد ہی طیارہ سازی کے میدان بھی عبور حاصل کر لے گی .(ان شآاللہ عزوجل )پاک فضائیہ کا یہ قدم دفاعی ضروریات میں خود انحصاری اور پاکستانی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا.یہ نہ صرف پاک فضائیہ کی پالیسی بھی ہے بلکہ ہماری قوم کی بھی یہی آرزو ہے . 11ستمبر 2001ء کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے امریکہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد امریکہ نے پاکستان کوایف 16طیاروں سمیت دوسرے کچھ جدید ہتھیار وں کی فراہمی کی منظوری دے دی تھی .اس کے باوجود امریکی حکمرانوں پر پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کا خوف چھایا ہوا ہے .لہذا کئی مواقع ایسے بھی آئے کہ جب صدر برش نے پاکستان پر دہشت گردوں کو تربیت دینے کا الزام بھی عائد کیا اور فوجی امداد روکنے کی دھمکی تک دی . مگر پھر بھی پاکستان نے انکل سام کا ہاتھ تھامے رکھا کوئی بعید نہیں کہ امریک نے جن ایف 16کی فراہمی کا اعلان کیا ہے مستقبل میں کوئی بہانہ بنا کر اس عمل کو موخر کردیا جائے یا ان طیاروں کی فراہمی پھر ایک بار ٹال دی جائے .بحثییت پاکستانی ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی حکومتوں کا رویہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جب بھی وہ پاکستان کو فوجی امداد دیتی ہے تو اس کی آڑ میں وہ اپنا کوئی نہ کوئی بڑا مفاد ضرور پورا کرواتی ہے .......خواہ وہ پاکستان کی سلامتی اوراستحکام کے خلاف ہی کیوں نہ ہو. |
|
|
|
| S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا گیا | عرفان حیدر (07-04-08) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
|
حصہ پنجم (آخری)
’’متبادل طیارے اور فضائی نگرانی ‘‘ پاک فضائیہ ایف 16طیاروں کے علاوہ چینی ساختہ ’’جے 10‘‘طیارے بھی حاصل کرے گی .وزن او جسامت میں ایف 16سے قدرے بڑا ہونے کے باوجود جے 10میں کم و بیش وہی خصوصیات ہیں جو ایف 16کا خاصہ تصور کی جاتی ہیں .ماک 2کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے پرواز کے قابل یہ طیارہ دورِحاضر کے جدید ترین ایویانکس نظام اور گائیڈڈ ہتھیاروں سے لیس ہے یہ طیار ہ2008ء یا 2009ء تک پاک فضائیہ میں شامل کر لیا جائے گا. پاک فضائیہ نگرانی کرنے والے نظاموں کی بھی خریداری کر رہی ہے .چنانچہ سویڈن سے ایک معاہد کیا ہے جس کے تحت سویڈن سے پیشگی خبردار کرنے والے 6عدد ایری آئی اواکس طیارے خریدے جائیں گے . پاک فضائیہ کو یہ قدم اس لئے اٹھانا پڑا کیونکہ بھارت نے اسرائیل سے فیلکن اواکس طیارے خرید لئے ہیں اور بھارت کے پاس ان کی موجودگی کم از کم پاکستان کے لئے شدید تشویش کا باعث ہے . اسرائیل میں بنایا گیا فلیکن ریڈار نظام .روسی ساختہ کے آئی ایل 76باربردار طیارے پر نصب ہوگا ان طیارو ں کی فراہمی کا آغاز اسی سال سے ہو گا . ’’’’ذکر کچھ بھارت کی کلابازیوں کا ‘‘‘ اگر چہ بھارت نے اس سے قبل مقامی طور پر اواکس طیارے بنانے کی کوشش کی تھی تاہم آزمائش کے دوران شدید حادثہ ہو گیا جس کی وجہ سے نہ صرف بھارتی فضائیہ کا وہ ٹرانسپورٹ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا کہ جس پر ریڈار نصب کیا گیا تھا بلکہ وہ بھارتی ماہرین بھی اپنی جانوں سے ہاتھ کیا بلکہ اپنا پورا جسم دھو بیٹھے جو اس آمازئش کے دوران طیارے پر سوار تھے اور یوں بھارت کا یہ منصونہ ستیا ناس ہو گیا اور کوئی پیش رفت کئے بغیر ہی ختم ہو گیا.(کر لو گل پلا توسی اک ادھا بند جاز دے وچ بٹھاو سارے ای بٹھا دیتے جاز نے تے فر ڈگھنا ای سی) اور کچھ یہی کہانی بھارت کے ارجن ٹینک. آکاش سام میزائل.ناگ ٹینک شکن میزائل اور ’’لائٹ کومبیٹ ائیر کرافٹ‘‘ (ایل سی اے )کی بھی ہے .حالانکہ ایل سی اے سمیت بھارت کو کئی منصوبوں میں بڑے بڑے شیطانوں اسرائیل فرانس اور امریکہ کی معاونت حاصل رہی لیکن یہ تمام منصونے اس میعار تک نہ پہنچ سکے جس کی بھارت کو توقع تھی . بھارت کی دن بدن بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے جواب میں پاکستان نے بھی اپنی افواج کو مضبوط سے مضبوط تر اور جدید تضاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے .مقامی طور بری فوج .بحریہ اور فضائیہ کے لئے مختلف اقسام کے ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان تیار کئے جا رہے ہیں. اب سے کچھ عرصہ قبل پاک فضائیہ میں فرانسیسی کمپنی سیگم (Sagem)کے تعاون سے اپ گریڈ کئے گئے’’ میراج IIIای ایف‘‘طیارے شامل کئے گئے ہیں جدت طرازی کے بعد یہ طیارے انتہائی نیچی پرواز کرتے ہوئے جدید ترین ہتھیاروں سے حملہ آور ہو سکیں گے.ان طیاروں میں گھپ اندھیرے میں بھی اپنے ہدف کو شناخت کرنے اور اُسے موثر طریقے سے تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس مقصد کے لئے سگیم کا تیار کردہ ’’انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم‘‘ ان طیاروں میں نصب کیا گیا ہے .علاوہ ازیں طیارے کے کاکپٹ کو دورِحاضر کے جدید ایویانکس نظاموں سے بھی لیس کیا گیا ہے ان نظاموں میں رِنگ لیزر جائرو. ایک عدد وائڈاینگل ہولوگرافک ہیڈاپ ڈسپلے .دوعددکثیر المقاصد ہیڈ ڈاون ڈسپلے.ریڈار ورننگ ریسیور .الیکٹرک کاونٹر میژر. چاف فلئیرڈسپنسر.اور اینٹی جیمنگ سسٹم شامل ہیں .پاک فضائیہ کے ان طیاروں میں فرانسیسی ساختہ’’اے ایس ایس ایم ‘‘(فضا سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیاروں) کے علاوہ دیگر جدید ہتھیاروں کی تنصیب پر بھی غور کررہی ہے . حال ہی میں پاک فضائیہ میں شامل ہونے والے جے ایف 17تھنڈر طیاروں اور آئندہ ملنے والے اسی سلسلے کے دیگر طیاروں میں چینی ساختہ ہتھیاروں کے علاوہ فرانسیسی ساختہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے ’’ماتر امیکا‘‘میزائلوں کی تنصیب کا آپشن بھی موجود ہے یہ میزائل دو مختلف شکلوں میں دستیاب ہے .اس کی انفراریڈ سیکر سے لیس شکل کم اور درمیانی رینج کی حامل ہے جبکہ اس کا دوسرا ورژن ایکٹیو ریڈارگائیڈڈ ہے جو 50تا 70کلو میٹر دور کسی بھی فضائی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے. پاکستان نے سویڈن سے جو ایری اواکس نظام خریدنے کا معاہد ہ کیا ہے وہ اپنے جدید ریڈار نظام کی بدولت دشمن طیارو ں کو پرواز کے فوراً بعد ہی دیکھ سکتا ہے( جیسے منتظمین بھائی نئی آنے والی پوسٹ کو )ساب ایری اواکس طیارے بھی جلد ہی پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کر لیں گے. پاک فضائیہ اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے .ان شآاللہ عزوجل پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے ہماری فضائیہ اتنی مضبوط ہوجائے گی کہ ہمارا حریف پاک فضائیہ کی موجودگی میں اپنے جارحانہ عزائم سے باز رہے گا اُس کے منصونے خاک میں مل جائیں گے (ان شآ اللہ عزوجل ) پاکستان کے ماہرین اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ہر ناممکن کام کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں .بغیرپائلٹ کے طیارے .ٹینک شکن میزائل .سام میزائل .بکتر بند فوجی گاڑیاں . ٹینک .جے ایف 17 لڑاکا طیارے اورکئی دفاعی نظام آج وطن عزیز پاکستان میں ہی تیار کئے جا رہے ہیں جبکہ مختلف ممالک سے ہتھیار خریدنے کے ساتھ ساتھ اُن کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی جا رہی ہے . آج پاک فضائیہ جس مقام پر کھڑی ہے اس کے پیچھے پاکستانی ہنر مندوں کی انتھک محنت جدوجہد اور مہارت کابے حد عمل دخل ہے .وطن عزیز کے یہ مایہ ناز سپوت ہر مشکل آزمائش کے لئے تیار رہتے ہیں یہی و جہ ہے کہ ہمارے وہ دشمن جن کی میلی نگاہیںپاکستان پر مرکوز رہتی ہیں انہیں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا موقعہ نہیں مل پاتا . [SIZE="3"]آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمارے وطن عزیز کو رہتی دنیا تک شادو آباد رکھے .ہماری افواج کومزید طاقت او ر جوش ایمانی عطافرمائے اور پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کو نست و نابود فرمائے . (آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم )[/SIZE] پاکستان زندہ باد پاک افواج پائندہ باد
|
|
|
|
| S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا گیا | عرفان حیدر (07-04-08) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
مقبول
|
پاکستا ن نے ساب 2000حاصل کر لئے۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوئٹہ, کراچی, پاکستان, پسند, چین, موجودہ, ممکن, مخلوط, آج, ایٹم بم, اللہ, الزام, امریکہ, تلاش, تحریر, ترمیم, جواب, جلد, حکم, دوست, رفتار, زمانہ, علی, صلاحیت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|