واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > میرا پاکستان




پاکستان کو درپیش مسائل کی وجوہات میں ہم پاکستانیوں کا کردار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-07-10, 02:37 AM   #1
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 192
کمائي: 6,380
شکریہ: 149
181 مراسلہ میں 615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پاکستان کو درپیش مسائل کی وجوہات میں ہم پاکستانیوں کا کردار

پاکستان کو درپیش مسائل کی وجوہات میں ہم پاکستانیوں کا کردار

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ !

معزز قارئین کرام
ہم سب نے مختلف فورم پر ، مختلف محفلوں میں ،مختلف جگہوں پر ،میڈیا پر ،ٹاک شوز میں ،اخبارات میں پاکستان کو درپیش شدید مسائل پر گرما گرم مباحثے کرتے ،اپنے اپنے خیالات کا اظہار ، خدشات کا اظہار یا تجاویز پیش کرتے دیکھا یا سنا ہوگا۔

بس یوں سمجھ لیجیے کہ اسی طرح ہم نے بھی کچھ عرصے پہلے ایک فورم پر ’’پاکستان کے مسائل یا بیماریوں میں ہم پاکستانیوں کا کردار" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جو لکھتے لکھتے طویل ہوتا گیا جس کے بعد ہم نے اس کو دیگر فورم پر سلسلہ وار تحریر ترتیب دے کر پوسٹ کیا ۔
ہم اپنی اس سلسلہ وار تحریر کو یہاں بھی پوسٹ کررہے ہیں
آپ تمام قارئین کرام کی قیمتی آراء کے منتظر رہیں گے

والسلام

ناصر نعمان

ہم اس سلسلہ کی ایک پوسٹ کو حذف کرکے دوسری پوسٹ سے شروع کررہے ہیں:

پاکستان کو درپیش شدید مسائل میں کہیں ہمارا حصہ بھی شامل تو نہیں ؟؟
آئیے اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہیں

ہمارے ملک میں کسی بھی شعبے سے وابستہ کوئی بھی فرد ہو
چاہے وہ معمولی دوکاندار ہو یا بہٹ بڑا ہول سیلر
چاہے معمولی سا ٹافیاں بیچنے والا ہو یا ملک کے مایہ ناز امپورٹرایکسپورٹر ہوں
چاہے کسی سرکاری یا پرائیوٹ ادارے کا معمولی سا چپڑاسی ہو یا کوئی منسٹر یا مل ،کمپنی یا کسی ادارے کے مالکان ہوں
آپ اپنی ایماندارے سے سوچیں کہ ہمارے ملک میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو کرپشن میں ملوث نہیں ?

شاید آپ کو اس کا جواب آٹے میں نمک کے برابر ہی ملے

لیکن ہم میں سے بہت بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ
کرپشن صرف اوپر والے طبقہ تک ہی محدود ہے اور بس
سرکاری افسران سے لے کر منسٹر تک لوگ کرپشن میں ملوث ہیں

لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جب ایک چپڑاسی کسی سے 10 روپے رشوت لیتا ہے تو وہ بھی کرپشن میں ملوث ہوجاتا ہے

یا کوئی دوکاندار کسی کو دھوکہ دے کر زائد نفع لیتا ہے تو وہ بھی تو کرپشن میں ملوث ہوجاتا ہے

یا کوئی امپورٹ ایکسپورٹ کرنے والا انڈر انوائسنگ کر کے یا کسٹم ڈیوٹی میں ہیر پھیر کر کے وہ بھی تو ملک کو نقصان پہنچاتا ہے

یا کوئی شخص گیس بجلی چوری کرکے بھی تو کرپشن میں ملوث ہورہا ہے

یا کسی پرائیوٹ ادارے یا سرکاری ادارے کا ملازم اپنے مینجریا ڈائیرکٹر سے بچ بچا کر حاظری لگا کسی اور جگہ نوکری کرنے والا یا دفاتر میں موجود ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت کر اپنے مینجر اور سرپرست کو جھوٹی سچی کہانیاں سنا کو مطمئن کرنے والا بھی تو کرپشن میں ملوث ہے

کسان ہے یا زمیندار درزی ہے یا لوہار گوشت والا ہے یا موٹر مکینک سنار ہے یا مزدور ٹیکسی ڈرائیور ہو یا بس کا ڈرائیور یا کنڈ یکٹر غرض یہ کہ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو

تقریبا 80 یا 90 فیصد لوگ موقعہ ملتے ہی زائد نفع لینے سے یا کسی کو دھوکہ دے کر کچھ زیادہ پیسے لے کر یا سرکاری ٹکسز کی ادائگی سے غفلت برت کر کسی نہ کسی لیول پر کرپشن میں ملوث ہں

اس چھوٹی سی تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ملک کے تقریبا 80 یا 90 فیصد لوگ کسی نہ کسی کرپشن میں ملوث ہیں بس فرق اتنا ہے کہ کوئی بڑے پیمانے پر ہے تو کوئی چھوٹے پیمانے پر ہے

اب یہ سب سے اہم بات سمجھیں کہ

سمجھ لیں کہ ہمارا ملک پاکستان ایک جیتا جاگتا جسم ہے
اور ہم سترہ کروڑ پاکستانی عوام اس جسم کے خون میں شامل کروڑوں ذرات ہیں

تو جب سترہ کروڑ خون کے ذرات میں سے پندرہ کروڑ خون کے ذرات میں کرپشن کے جراثیم ہوں گے

تو یہ پاکستان کا جسم کیسے صحت مند ہوسکتا ہے ؟؟؟

پاکستان کے جسم میں شامل خون کا 80 یا 90 فیصد حصہ کرپشن کے جراثیم سے آلودہ ہے تو پھر پاکستان کا دل و دماغ(سرکار) ہاتھ(قانون نافذ کرنے والے ادارے) پیر (معیشت) حتی کے نس نس (سرکاری و نیم سرکاری ادارے)کیسے تندرست ہوکر ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں

جب خون کا 80 یا 90 فیصد حصہ جراثیم سے آلودہ ہو تو یہی خون دل میں پہنچ رہا ہے اور دماغ میں بھی اور ہاتھ میں بھی تو پیر میں بھی بلکہ نس نس میں پہنچ رہا ہے

اور سارا بدن شدید بیماری اور شدید تکلیف کا شکار ہے

تو خون کہ یہ کروڑوں ذرات(عوام) کیوں دل و دماغ(سرکار) کو الزام دیتے ہیں کہ اس دل و دماغ یا ہاتھ(قانون نافذ کرنے والے ادارے) پیر(معیشت) کی وجہ سے پورے جسم کو تکلیف آئی ہوئی ہے

ہم سب کو تو یہ سوچنا چاہیے کہ دل و دماغ اور ہاتھ پیروں میں جراثیم سے آلودہ خون کے ذرات کس کے ہیں ?

اس جسم کے دل و دماغ ہاتھ پیروں میں جراثیم سے آلودہ خون کس نے پہنچایا ہے ?

سوچیں ضرور سوچیں

سلسلہ جاری ہے

Last edited by ناصر نعمان; 22-07-10 at 11:50 AM.
ناصر نعمان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (23-07-10)
پرانا 22-07-10, 11:37 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,100
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,363 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام و علیکم
جزاک اللہ ناصر بھائی
بہت اچھے خیالات ہیں
یہ خیالات ہر انسان میں خود احتسابی کے جذبے کے ساتھ ہونا چاہیئں
چراغ سے چراغ جلتا ہے
اچھے خیالات کی ابتداہ ایک انسان سے ہوتی ہے
پھر دوسرے اس سے سیکھ کر پھیلاتے ہيں
تب کہیں جا کر اس کے ثمرات ہمیں واپس آکر ملتے ہيں ۔


اور ایک مشورہ ہے کہ اپنے مراسلے میں نستعلیق فونٹ کا استعمال کریں
تو بڑی آسانی ہوگی
آپ غالباً Tohama فونٹ استعمال کرتے ہيں
اردو کو نستعلیق (علوی یا جمیل نوری) میں پڑھنے کی ہم سب کو عادت ہے
اور اس سے مطالعہ میں روانی آتی ہے
امید ہے آپ توجہ فرمائیں گے ۔
جزاک اللہ
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
ناصر نعمان (22-07-10), مرزا عامر (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 06:37 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 192
کمائي: 6,380
شکریہ: 149
181 مراسلہ میں 615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

یم نے اپنی پچھلی تحریر میں پاکستان کو درپیش مسائل کی وجوہات میں انفرادی طور پر پاکستانیوں کے کردار کی مختصر نشادہی کی تھی
اور اس حصہ میں ہم پاکستان کے مسائل کے غلط علاج اور اس سے پیدا ہوانے والے نقصانات کے حوالے سے مختصر عرض کرنا چاہیں گے۔

کسی بھی مسئلہ کی درست تشخیص کے لئے ہمیں ایک دفعہ اس مسئلہ کی ابتداء کی طرف جانا یوتا ہے ۔۔۔۔ کہ فلاں مسئلہ شروع کہاں سے ہوا اور اس کے اسباب کیا تھے ۔۔۔۔ اس کے بعد اُن اسباب کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی اُس مسئلہ کا یقینی اور مستقل حل کیا جاسکتا ہے

اسی طرح ہمیں پاکستان کے مسائل کی درست تشخیص کے لئے ہمیں ایک دفعہ اپنے ماضی کی طرف جانا ہوگا۔
اگر آپ پاکستان کی ہسٹری سے تھوڑی بہت بھی واقفیت رکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان کے کیا حالات تھے ،پاکستان کو دنیا کے نقشہ پر اُبھرے کچھ ہی وقت ہوا تھا ۔
اس وقت ترقیاتی اعتبار سے اور بہت ساری دیگر اعتبار سے اتنا مضبوط ملک نہیں تھا ۔لیکن جیسا بھی تھا مگر ایک بات ضرور تھی کہ لوگوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت بھائی چارہ اور خلوص کی دولت سے مالامال تھا۔اس کی زبردست مثال 1965 میں سامنے آتی ہے ۔جب حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اس قوم کے بے مثال جانثاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر انڈیا کی ناک کو زمین سے رگڑنے پر مجبور کیااور تاریخ میں سنہرے حرفوں سے اپنی جرات اور بہادری کی داستانیں رقم کر کے اس قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔
اور اس سنہرے حرفوں سے لکھے ہوئے واقعہ کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس واقعہ کے شہیدوں میں نہ کوئی بنگالی تھا ،نہ کوئی مہاجر تھا ،نہ پنجابی تھا ،نہ سندھی تھا ،نہ پٹھان تھا ،نہ بلوچی تھا۔

بلکہ صرف اور صرف قابل فخر ”پاکستانی“ تھے۔

اس کے بعد جب 1970 کی دہائی آئی تو سب سے پہلے ہمیں کسی نے احساس دلایا کہ ہم پاکستانی ہونے کے علاوہ بنگالی ،پنجابی ،پٹھان ، بلوچی ،سندھی بھی ہیں ۔
اور اس طرح بنگالی پاکستان سے الگ ہوگئے ۔

اگر چہ نفرت کا بیچ بو دیا گیا تھا لیکن پھر بھی اس کے اثرات محدود تھے۔ کیوں کہ اس وقت بھی بلوچی،سندھی،پنجابی،پٹھان، مہاجر کم تعداد میں تھے اور ”محب وطن پاکستانیوں“ کی اکثریت زیادہ تھی۔

وہ لوگ سمجھتے تھے کہ سب کے خون کا رنگ لال ہی ہے ۔سب کی ماﺅں کے سینے میں ایک ہی ممتا کا دل دھڑکتا ہے۔سب کے باپ وہ ہی اپنے بچوں سے ایک جیسی شفقت کرنے والے ہوتے ہیں ۔سب کے بھائی اور بہنیں ایک نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والی زبانیں رکھتے ہیں۔
وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہمارا دشمن ہمیں مارتے وقت تمیز نہیں کرتا ہے کہ یہ سندھی ہے یا پنجابی ہے یا پٹھان ہے یا بلوچی ہے۔

1980 کی دہائی آئی تو ایک بار پھر ان پاکستانیوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ تم لوگ بلوچی،پنجابی،پٹھان،سندھی اور مہاجر ہو۔

اس احساس کے جاگنے سے پاکستان کے نہ ختم ہونے والے مسائل پیدا ہوانے شروع ہونے لگے ۔
1990 کی دہائی آئی توایک طرف پاکستانیوں میں”قومیت“ کے احساس میں شدت آگئی تھی۔
تو دوسری طرف وہ دور بھی شروع ہوچکا تھا جس کا پاکستان کی تباہی اور بربادی میں بڑا ہاتھ ہے۔ یعنی آنے والی نسلوں کی تعلیم اور تربیت میں شدید کوتاہی بھی شروع ہوچکی تھی ۔

جرائم کی شرح میں شدید اضافہ ہونے لگا تھا۔
انڈین ثقافت اپنے پیر جمانے لگی تھی ۔ہمارا معاشرہ اس ثقافت کی رنگینیوں میں کھونے لگا تھا۔
کرپشن پوری طرح اپنے پیر جما رہی تھی۔
اور لوگ محبت ،خلوص ،بھائی چارے اور پاکستانی ہونے کے احساس کو کھونے لگے تھے۔
ہر شخص اپنے خود ساختہ مسائل میں الجھتا گیا۔

پھر جب مختلف حکومتیں بدلنے لگیں اور نت نئے مسائل ،کرپشن اورجرائم کی شرح میں شدید اضافہ ہوتا گیا۔
یکلخت تیزی سے پورے پاکستان کا منظر ہی تبدیل ہوگیا۔
صرف اور صرف پچیس ،تیس سال کے قلیل عرصے میں پاکستان کی قوم (1965) میں ایک متحد جاں نثاراور آپس میں محبت کرنے والی پاکستانی قوم سے تبدیل ہوکرپنجابی ،پٹھان ،بلوچی ،سندھی اور مہاجر بن کر ایک دوسرے کی جانی دشمن بن چکے تھے۔

اتنے قلیل عرصے میں ایسا کیا کیا ہوا جو حالات اتنی تیزی سے بدلتے چلے گئے ؟

اس اہم بات پر اگر ہم لوگ غور کر لیتے تو شاید صورت حال اتنی خراب نہ ہوتی۔
لیکن ہمارے ملک کے ذمہ دار وں نے بجائے ان وجوہات پر غور کرنے کے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مختلف تجربات کرنے شروع کردیئے ۔

کہیں غیرقانونی اسلحہ ختم کرنے کے لئے ملک میں آپریشن کیا گیا۔
کہیں کرپشن کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اینٹی کرپشن بنائی گئی ۔
کہیں کسی بڑے ایشو پر عدالتی کمیشن بنا کر مسئلہ حل کر نے کی کوشش کی گئی۔
کہیں احتساب کرنے کے نام پر ”نیب“ کا ادارہ بنایا گیا۔
کہیں جرائم کے خاتمے کے لئے نت نئی فورسز(ایگل اسکواڈ،ایلیٹ فورس ،محافظ وغیرہ )بنائی گئیںتو کہیں رینجرز کی تعیناتی اور افواج پاکستان سے مدد لینے کی کوشش کی گئی۔
تو کہیں آئین اور قانون میں ترامیم کرکر کے ملک و قوم کے مسائل حل کر نے کی ناکام کوششیں کیں۔

اور مرض بڑھتا رہا جوں جوں دوا کی کے مصداق بجائے مریض (پاکستان )کوآرام آنے کے(مسائل حل ہونے کے)مریض کی حالت دن بدن بدتر ہوتی گئی۔
اور نتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے ۔

کبھی آپ نے سوچا کیا وجہ ہے کہ ملک کے دانشوروں اور قانون سازوں کے ان تمام تر لائحہ عمل کے باوجود مسائل حل ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتے ہی گئے ؟

ملک کی اس بگڑی ہوئی صورتحال کا سب سے بڑاسبب مسائل کی درست تشخیص نہ ہونا اور غلط دوائیوں کا استعمال کرنا تھا۔

اگر آپ کہیں کہ ان تمام قانون اور لائحہ عمل کے باوجود مسائل نہ حل ہونے کی وجہ فلاں ہے یا فلاں ہے یا فلاں ہے۔

ہم دل کو تسلی دینے کے لئے پاکستان کو درپیش مسائل پر ظاہری وجوہات پرکتنا بھی ڈسکس کرلیں اور کتنا ہی قانون سازی کر لیں کتنے لائحہ عمل بنالیں لیکن ہم ان مسائل پر قابو نہیں پاسکتے بلکہ دن بدن مریض (پاکستان ) کی حالت مزید خطرات کی طرف لے جائیں گے

کیوں کہ یہ مسائل کا حقیقی اور مستقل حل نہیں ہیں۔

اور اس کی دلیل یہ ہے کہ موجودہ حالات آپ کے سامنے ہیں ۔مسائل حل ہونے کے بجائے شدید سے شدید ترخراب ہوتے گئے۔

پھر پاکستان کو درپیش شدید مسائل کا حقیقی اور مستقل حل کیا ہے ؟

یہ جاننے کے لئے اس سلسلہ وار تحریر کو پڑھتے رہیئے
ناصر نعمان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (23-07-10), مرزا عامر (23-07-10)
پرانا 23-07-10, 11:48 PM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,902
کمائي: 73,149
شکریہ: 26,780
3,502 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ۔ لطف آ رہا ھے پڑھ کر
مرزا عامر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (24-07-10), ناصر نعمان (24-07-10), عبداللہ آدم (31-07-10)
پرانا 31-07-10, 05:18 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 192
کمائي: 6,380
شکریہ: 149
181 مراسلہ میں 615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
ہمارے سلسلے ”پاکستان کے مسائل یا بیماریوں میں ہم پاکستانیوں کا کردار“کا اگلا حصہ حاضر ہے۔

جیسا کہ ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ”ملک کو درپیش شدید مسائل کے حل کے لئے مختلف حکومتوں کے اقدامات ملک کو لاحق مسائل کا مستقل اور حقیقی حل نہیں تھے جس کی دلیل یہ ہے کہ بجائے مریض (پاکستان)کو آرام آنے کے(مسائل حل ہونے کے) مریض (پاکستان) کی حالت بہتر ہونے کے بجائے دن بدن بد سے بدتر ہوتی گئی ۔اور نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔
ہم لوگ پاکستان کے مسائل نہ حل ہونے کی وجوہات پر کتنے ہی دانشوروں کو بیٹھا لیں ،کتنی ہی لمبی لمبی ڈسکشن کرلیں کتنی ہی وجوہات سامنے رکھ لیں اور ان وجوہات کے حل کے لئے کتنے ہی مزید بھی اقدامات اور لائحہ عمل تیار کرلیں،اوران لائحہ عمل اور اقدامات پر پیسہ بھی پانی کی طرح بہا لیں ،نت نئی فورسز بنالیں،اور فورسز کو جدید سے جدید تر سہولتیں مہیا کر لیں۔

لیکن آپ مانیں یا نا مانیں یہ سب کچھ ان مسائل کا مستقل اور حقیقی حل نہیں۔

ان شا ءاللہ تعالیٰ ہم ایک ایک دلیل دے کراپنا دعوی درست ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔۔ اور ساتھ ہی جب ہم ان مسائل کا حقیقی اور مستقل حل پیش کریں گے تو ان شاءاللہ تعالیٰ آپ اپنے انفرادی مسائل سے لے کر اجتماعی مسائل کے حل ان مستقل اور حقیقی لائحہ عمل میں ڈھونڈ سکتے ہیں اور آپ سے غور و فکرکی درخواست ہے کہ کیا ہمارا پیش کیا ہودعوی درست تھا یا نہیں؟

معزز قارئین کرام!
یہاں سے ہماری تحریر کا رخ بالکل تبدیل ہوجائے گا ۔لیکن آپ لوگوں سے گذارش ہے کہ آپ اس سلسلہ کا مطالعہ فرماتے رہیں اور ان شاءاللہ تعالیٰ آنے والی تحریر کی کڑیاں خود بخود ہماری پچھلی تحریر کڑیوں سے جڑتی جائیں گی۔ اور آپ لوگوں کو پاکستان اور پاکستانیوں کو انفرادی سے لے کر اجتماعی مسائل تک ایک ایک مسئلہ کا یقینی ،مستقل اور حقیقی حل سمجھ آجائے گا۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔

یوں تو دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں ۔لیکن دنیا کے چند بڑے مذاہب میں اور دیگر چھوٹے مذاہب میں ایک بات جو مشترک نظر آتی ہے ۔ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا رب کائنات ہونے کا اقرار ہے جوتقریبا ہرچھوٹے بڑے مذہب میں (کسی نہ کسی نام سے) موجود ہے۔
لیکن عقائد اور اعمال کے اعتبار سے مختلف مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں۔
آج سے تقریبا ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب اللہ رب العزت نے اپنے سب سے محبوب پیغمبر نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنا کر اس دنیا کی طرف بھیجا ،اور قرآن پاک کا نزول فرمایا۔
اس کے باوجود کہ بہت سے مذاہب اللہ تعالیٰ کو کائنات کا رب ماننے والے تھے لیکن پھر بھی بہت سے لوگوں نے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار کردیا۔ لوگوں نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بے شمار معجزات بھی دیکھے اور سب سے عظیم معجزہ قرآن پاک بھی دیکھا لیکن جس نے ایمان نہ لانا تھا وہ ایمان نہ لایا ۔ اور جواز میں مختلف حیلے بہانے گھڑتے رہتے تھے ۔کبھی کہتے کہ یہ قرآن پاک(معاذاللہ) خود سے گھڑا ہوا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(وَمَا كَانَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٣٧﴾ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ )یونس 37،38 پارہ 11
(ترجمہ :یہ قرآن ایسا کلام نہیں کہ اللہ کے سوا اور کی طرف گھڑا ہوا ہو بلکہ یہ تو اپنے پہلے سی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے اور تفصیل ہے شریعت کی کتاب کی جس کے اللہ رب العالمین کی طرف سے ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اسی نے اسے گھڑ لیا ہے؟تو جواب دے کہ پھر تم بھی تو اس کی کسی سورت کی مثال بنا کر لاﺅ ، ہاں تم اللہ کے سوا جس جس کو چاہو بلا بھی لینااگر تم سچے ہو)
ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اعجاز کا اور قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا بیان ہورہا ہے کہ کوئی اس کا بدل اور مقابلہ نہیں کرسکتا ،اس جیسا قرآن بلکہ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی کسی کے بس کی نہیں ۔یہ بے مثل قرآن بے مثل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔اس کی فصاحت و بلاغت ،اس کی وجاہت و حلاوت ،اس کے معنوں کی بلندی ،اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بے نظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے ،جس کی ذات بے مثل ،صفتیں بے مثل ،جس کے اقوال بے مثل ،جس کے افعال بے مثل ،جس کا کلام اس سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہو سکے ۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے ،نہ کوئی اور اسے بنا سکے ،نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا ۔ مزید لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے ،تم اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہوکہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے ،جاﺅ تم سب مل کر ایک ہی سورة اس جیسی بنا لاﺅ اور کل جن اور انسانوں سے مدد بھی لے لو۔ یہ تیسرا مقام ہے جہاں کفار کو مقابلے پر بلا کر عاجز کیا گیا کہ وہ اگر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اس کے مقابلے میں اسی جیسا کلام پیش کریں ، لیکن یہ ناممکن ہے،مزیدلکھتے ہیں کہ یہ خبر بھی ساتھ ہی دے دی تھی کہ انسان اور جنات سب جمع ہوجائیں ،ایک دوسرے کا ساتھ دیں لیکن اس قرآن جیسا بنا کر پیش نہیں کر سکتے ۔اس پورے قرآن کے مقابلے سے جب وہ عاجز اور لاچار ثابت ہوچکے تو ان سے مطالبہ ہو ا کہ اس جیسی دس سورتیں ہی بناکر لاﺅ ،(سورہ ہود13)جب ان سے یہ بھی نہ ہوسکا آسانی کر دی گئی اور سورہ بقرة میں جو مدنی ہے ،فرمایا کہ اچھا ایک ہی سورة اس جیسی بنا کر پیش کرو ۔وہاں بھی ساتھ فرمادیا کہ یہ نہ تمہارے بس کی بات ہے نہ سارے مخلوق کے بس کی بات ہے۔

آج سینکڑوں برس گزرجانے کے بعد بھی آج تک کسی سے یہ نہ ہوسکا۔
اور ہوتا بھی کیسے بھلا کہاں اللہ کا کلام اور کہاں مخلوق؟

توجہ سے دیہان فرمائیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ کو کائنات کا رب ماننے کے باوجود،اور قرآن پاک کا عظیم معجزہ دیکھنے کے باوجود بھی نہ صرف چودہ سو سال پہلے بلکہ آج بھی سینکڑوں برس گذرجانے کے باوجود بھی پوری دنیا کے لوگ قرآن پاک کی ایک سورت بھی بنانے سے قاصر رہے ۔

تو مان لینا چاہیے تھا کہ بے شک یہ اس رب العالمین کا کلام ہے جس رب پر ہم سب(دنیا کے بیشتر مذاہب) ایمان رکھتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود بھی نہ تو قرآن پاک پر ایمان لائے نہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو تسلیم کیا۔اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناکام اور نامراد ہوئے ۔

معزز قارئین کرام!
اس مختصر سی تفصیل بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ پوری دنیا کے تمام انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں تمام لوگوں کے لئے قرآن پاک عظیم اور روشن دلیل ہے کہ قرآن پاک بلا شبہ اللہ رب العزت کا ہی سچا کلام ہے۔
اور دنیا کے جس شخص کو بھی رب العالمین کے سچے راستے کی رہنمائی درکار ہو اس کو قرآن پاک کے سوا کہیں بھی رہنمائی مل ہی نہیں سکتی۔

قرآن پاک اللہ رب العزت کا سچا کلام اورپوری دنیا کے سامنے روشن کھلی دلیل ہے ۔اور قرآن پاک کے احکامات پر اپنے قول اور عمل سے ایمان لانا ہی اللہ تعالیٰ کی فرما برداری کا دارومدار ٹہرا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ الخ)اٰ ل عمران 32 پارہ 3
(ترجمہ :کہدے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو)

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔
جو لوگ بھی اللہ رب العزت کے کائنات کا رب ہونے کااقرار کرنے والے ہیں وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ۔ان کے سامنے قرآن پاک کا عظیم معجزہ ہے۔اور تمام دنیا کے سامنے یہ روشن دلیل ہے کہ قرآن پاک، رب العالمین کا سچا کلام ہے۔
پھر جو رب پر ایمان لاتا ہے اس پر لازم ہے کہ
وہ اس قرآن پاک پر ایمان لائے۔
اور جو قرآن پاک پر ایمان لائے اس پر لازم ہے کہ
وہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی احادیث پاک پر بھی ایمان رکھے۔
اور حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے۔

اس کے بعد دنیا کا کوئی شخص بھی ،کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا اگر ان میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کرتا ہے ۔تو وہ کافر (یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات کا انکار کرنے والا )ہے۔
(یہ ہمارے پورے سلسلہ کا ایک اہم اور قیمتی نقطہ ہے آپ تمام حضرات سے گذارش ہے کہ آگے پورے سلسلہ میں اس نقطہ کو لازمی ذہن میں رکھیں )

الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ قرآن پاک ہمارے رب کا سچا کلام ہے ۔اور ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن پاک قیامت تک کے آنے والے تمام لوگوں کے لئے رہنمائی بھی ہے ۔
تو یقینا قرآن پاک ہمارے لئے بھی رہنمائی ہے ۔
اور ایسا نہیں ہے کہ قرآن پاک میں مسلمانوں کے لئے صرف دین کی ہی رہنمائی ہے بلکہ قرآن پاک میں ہمارے دنیاوی معاملات کی بھی رہنمائی ہے۔
اسی طرح سنت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں بھی ہمارے لئے دینی اور دنیاوی معاملات میں قدم قدم پر رہنمائی ہے۔

ہمارے معاشرے کے کچھ” دنیاوی پڑھے لکھے “حضرات اس دھوکہ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ دین اور دنیا علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں ۔

(ان شاءاللہ تعالیٰ ہم آگے دلائل سے ثابت کریں گے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے)

اس کی پہلی دلیل تو یہ ہے کہ قرآن پاک میں دنیاوی معاملات کی بھی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔اور احادیث پاک میں تو دنیاوی معاملات بہت ہی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ۔اخلاقیات ،لین دین ،وراثت ،رہن سہن ،حقوق العباد،عورتوں ،پڑوسیوں، رشتہ داروں کے حقوق سے لے کر حکومتی معاملات تک اورامراء( حکمرانوں)کے حقوق سے لے کر عام رعایا کے حقوق تک ، حتی کہ اٹھنا،بیٹھنا ،سونا ،جاگنا،چلنا ، پھرنا،کھانا پینا وغیرہ وغیرہ کہیں اجمالی تو کہیں تفصیلی ارشادات موجود ہیں۔

پھر یہ ”دنیاوی پڑھے لکھے حضرات “کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دین اور دنیا علیحدہ علیحدہ معاملات ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ لوگوں میں یہ سوچ پیدا ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟

اور لوگ قرآن اور سنت پر ایمان رکھنے کے باوجود قرآن اور سنت کے بتائے ہوئے راستوں سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اپنی عقل و فہم سے یا دیگردنیا(خاص طور پر مغربی دنیا) کے طور طریقوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے انفرادی سے لے کر اجتماعی مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوششوں میں سرگرداں رہتے ہیں ؟؟؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے حضرات کا بلکہ تقریباہم سب کاہی سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ الحمد اللہ ہمارا قرآن پاک پر ایمان ہے اوراحادیث پاک پر ایمان ہے۔
لیکن عملی طور پر ہمارا معاملہ بہت زیادہ کمزور ہے۔

ایمان صرف زبان سے کہہ لینے کا ہی نام نہیں بلکہ اپنے عمل سے کر دکھانے کا بھی نام ہے ۔
ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لغت میں” ایمان“ کہتے ہیں صرف سچا مان لےنے کو۔۔۔یعنی ”ایمان“ دل سے” یقین “لانے کو کہتے ہیں ۔

مثال کے طور پر اگر کوئی آپ کو کوئی کہے کہ تیس فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگا دیں اورپچاس ہزار روپے لے لیں۔

تو آپ یہ کام ہرگز نہیں کریں گے کیوں کہ آپ کو سو فیصد” یقین “ہے کہ تیس فٹ کی بلند ی سے چھلانگ لگانا ہماری جان بھی لے سکتا ہے اور اگر بالفرض جان بچ بھی جائے لیکن ہاتھ پیر ٹوٹ جانے یقینی ہے۔
تو تیس فٹ کی بلندی سے آپ کا چھلانگ نہ لگانے میں روکاوٹ کا سبب آپ کا سو فیصد”یقین“ ہوتا ہے۔
لیکن اگر ہم ایمان رکھتے ہوئے کہ کلام پاک اللہ تعالیٰ کا سچا کلام ہے ۔۔۔۔
اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہوئے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں ۔۔۔
ہمارے کے ایمان کا حصہ ہوتے ہوئے کہ قرآن اور سنت کی نافرمانی کی سزا جہنم کی آگ میں جلنابتایا گیا ہے ۔۔۔
اور اگر اس کے باوجود ہم قرآن اور سنت پر ایمان رکھتے ہوئے قرآن اور سنت کی تعلیمات سے دور ہیں ۔۔۔تو یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے

ایک طرف پچاس ہزار کا لالچ بھی ہمیں تیس فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے نہیں دیتا کیوں کہ ہمیں سو فیصد ” یقین“ ہے اور مشاہدہ ہے کہ یہ عمل ہمارے لئے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے ۔

احادیث پاک میں رشوت لینے اور دینے والے کو جہنمی بتایا گیا ہے ۔
تو دوسری طرف ایسے ہی کسی شخص کاکسی سے چند روپے یا چند ہزار روپے رشوت لینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا قرآن اور سنت پر ایمان کمزور ہے۔

کیوں کہ یہ بات آپ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ تیس فٹ کی بلندی سے گر ہاتھ پیر ٹوٹناجہنم کی اس آگ میں جلنے سے ہزاروں گنا ہلکا ہے جس آگ کے لئے رب کا فرمان ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ الخُ) التحریم 6 پارہ 28
(ترجمہ :اے لوگو جو ایمان لائے ہو بچاﺅ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس آگ کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے )
(اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔آمین)

لیکن اس کے باوجود ایک شخص ایسا کوئی کام پچاس ہزار کے لئے بھی نہیں کرتا جس میں معمولی ہی تکلیف کا( لیکن دل سے) سو فیصد”یقین“ ہو۔
مگر وہی شخص ایک ایسا کام با آسانی کر گذرتا ہے جس کا نفع بہت معمولی ہوتا ہے جبکہ اس کی سز اہزاروں گنا زیادہ دردناک بتائی گئی ہے ۔

یہ حال تقریبا ہم سب کا ہی ہے ۔تقریباہم سب کا ہی ایمان کمزور ہے۔
یہ ہماری سب سے پہلی اور سب سے بڑی بنیادی کوتاہی ہے۔ جو ہم سب کے انفرادی مسائل سے لے کر اجتماعی مسائل تک کی ”جڑ “ہے۔(ان شاءاللہ تعالیٰ آگے دلائل سے بھی ہم ثابت کریں گے)
ہم قرآن اور سنت پرزبانی ایمان تو لاتے ہیں لیکن ہمارے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہماراقرآن اور سنت پرایمان لانا ہمارے عمل میں نظر نہیں آتا۔
قارئین کرام!
ہماری پوسٹ کا یہ حصہ طویل ہوتا جارہا ہے اور ابھی اس حصہ کے موضوع کے کچھ اور اہم نکات باقی ہیں ۔۔۔۔ان شاءاللہ تعالیٰ ہم اپنے اگلے حصہ میں باقی رہ جانے والے کچھ اور اہم نکات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔
آپ تمام حضرات سے گذارش ہے کہ آپ کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کوتاہی نظر آئے تو ہمیں ضرور نشادہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کر لیں ۔جزاک اللہ
۔۔۔۔۔سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
ناصر نعمان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (31-07-10), عبداللہ آدم (31-07-10)
پرانا 31-07-10, 06:36 PM   #6
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یرا اتنے لمبے تھریڈ کم ہی کوئی پڑھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس بتن دبا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (31-07-10)
جواب

Tags
color, فورم, پوسٹ, پاکستان, لوگ, نوکری, مقصد, ملک, مسائل, اللہ, الزام, تحریر, جواب, حصہ, خون, دیکھا, دل, درپیش, شخص, شروع, عوام, عنوان, غفلت, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ریمنڈ کے ہاتھوں 2 پاکستانیوں کے قتل کے بعد لاہور میں امریکیوں کی سرگرمیاں ختم گلاب خان خبریں 0 25-02-11 06:52 AM
اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کنعان دیس ہوئے پردیس 4 13-12-09 12:55 AM
امريکی قوم سے صدر اوبامہ کا خطاب -افغانستان اور پاکستان میں پیش قدمی کا راستہ Fawad سیاست 12 04-12-09 06:47 PM
پاکستانی سیا ستدانوں کی پیروڈی راشد احمد سیاست 1 16-08-09 01:07 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 09:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger