واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > مطالعہ حدیث




حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور صحبتِ صالحین کے اجر کا بیان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-06-10, 02:21 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور صحبتِ صالحین کے اجر کا بیان

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور صحبتِ صالحین کے اجر کا بیان

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ : مَتَي السَّاعَةُ؟ قَالَ : وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ : لَا شَيئَ (وفي رواية أحمد : قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ کَثِيْرِ عَمَلٍ لَا صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ) إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ صلي الله عليه وآله وسلم . فَقَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ. قَالَ أَنَسٌ : فَمَا فَرِحْنَا بِشَيءٍ فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ. قَالَ أَنَسٌ : فَأَنَا أُحِبُّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم وَأَبَابَکْرٍ وَعُمَرَ وَأَرْجُوْ أَنْ أَکُوْنَ مَعَهُمْ بِحُبِّي إِيَاهُمْ وَ إِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 35 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب عمر بن الخطاب أبي حفص القرشي العدوي، 3 / 1349، الرقم : 3485، وفي کتاب : الأدب، باب : ما جاء في قول الرجل ويلک، 5 / 2285، الرقم : 5815، ومسلم في الصحيح، کتاب : البر والصلة والآداب، باب : المرء مع من أحب، 4 / 2032، الرقم : 2639، والترمذي في السنن، کتاب : الزهد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم باب : ما جاء أن المرء مع من أحب، 4 / 595، الرقم : 2385، وقال أبو عيسي : هذا حديث صحيح، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : إخبار الرجل الرجل بمحبته إياه، 4 / 333، الرقم : 5127، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 129، الرقم : 352، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 104، 168، 178، الرقم : 12032، 12738، 12846، وابن حبان في الصحيح، 10 / 308، الرقم : 105، وأبو يعلي في المسند، 5 / 372، الرقم : 3023، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 254، الرقم : 8556.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے متعلق سوال کیا کہ (یا رسول اﷲ!) قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا : میرے پاس تو کوئی تیاری نہیں۔ (امام احمد کی روایت میں ہے کہ اس نے عرض کیا : میں نے تو اس کے لئے بہت سے اعمال تیار نہیں کیے، نہ بہت سی نمازیں اور نہ بہت سے روزے) سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم (قیامت کے روز) اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت رکھتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں (یعنی تمام صحابہ کو) کبھی کسی خبر سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی خوشی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمانِ اقدس سے ہوئی کہ تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما سے محبت کرتا ہوں لہٰذا امید کرتا ہوں کہ ان کی محبت کے باعث میں بھی ان حضرات کے ساتھ ہی رہوں گا اگرچہ میرے اعمال تو ان کے اعمال جیسے نہیں۔‘‘
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), اویسی (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 02:22 AM   #2
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ أَعْرَابِيًا قَالَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَتَي السَّاعَةُ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ لَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ : حُبَّ اﷲِ وَرَسُوْلِهِ. قَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ.

الحديث رقم 36 : أخرجه البخاري في صحيح، کتاب : الأدب، باب : علامة الحب في اﷲ، 3 / 1349، الرقم : 3485، ومسلم في الصحيح، کتاب : البر والصلة والآداب، باب : المرء مع من أحب، 4 / 2032، الرقم : 2639، والترمذي في السنن، کتاب : الزهد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء أن المرء مع من أحب، 4 / 595، الرقم : 2385.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا : (یا رسول اﷲ!) قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا : اﷲ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت (یہی میرا سرمایہ حیات ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), اویسی (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 02:24 AM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَالنَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم خَارِجَانِ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَقِيَنَا رَجُلٌ عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مَتَي السَّاعَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ فَکَأَنَّّ الرَّجُلَ اسْتَکَانَ ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا کَبِيْرَ صِيَامٍ وَلاَ صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَکِنِّي أُحِبُّ اﷲَ وَ رَسُوْلَهُ قَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 37 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الأحکام، باب : القَضَاءِ وَالفُتْيَاَ في الطَّرِيْقِ، 6 / 2615، الرقم : 6734، وفي کتاب : الأدب، باب : ماجائَ في قول الرّجُلِ ويلَکَ، 5 / 2282، الرقم : 5815، وفي کتاب الأدب، باب : علامًةِ حُبِّ اﷲِ عزوجل لقولِهِ : (وَإِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِي يُحْبِبْکُمُ اﷲُ)، (آل عمران : 31)، 5 / 2285، الرقم : 5816 - 5819، وفي کتاب : فضائل أصحاب النّبِي صلي الله عليه وآله وسلم، باب : مناقب عُمَرَ بنِ الْخطَّابِ، 3 / 1349، الرقم : 3485، ومسلم في الصحيح، کتاب : البرو الصلة والآداب، باب : المرء مع من أحبَّ 4 / 2032. 2033، الرقم : 2639، والترمذي نحوه في السنن، کتاب : الزهد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء أن المرء مع من أحب، 4 / 595، الرقم : 2385 وَصَحَّحَهُ، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 465 الرقم : 12715، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 149، الرقم : 1796، وابن حبان في الصحيح، 1 / 182، الرقم : 8، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 267، الرقم : 7465، والطيالسي في المسند، 1 / 284، الرقم : 2131، وأبويعلي في المسند، 5 / 372، الرقم : 3023، والبيهقي في شعب الإيمان، 1 / 387، الرقم : 498.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میں ایک مرتبہ مسجد سے نکل رہے تھے کہ مسجد کے دروازے پر ایک آدمی ملا اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ وہ آدمی کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے اس کے لئے (فرائض سے) زیادہ روزہ، نماز اور صدقہ وغیرہ (اعمال) تو تیار نہیں کئے لیکن (اتنا ہے کہ) میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), اویسی (21-06-10), احمدنواز (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 02:26 AM   #4
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ : يَارَسُوْلَ اﷲِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَسْتَطِيْعُ أَنْ يَعْمَلَ کَعَمَلِهِمْ قَالَ : أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ : فَإِنِّي أُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ قَالَ : فَإِنَّکَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ. قَالَ : فَأَعَادَهَا أَبُوْذَرٍّ فَأَعًادَهَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ جَيِدٍ.

الحديث رقم 38 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الأدب، باب : أخبار الرجل الرجل بمحبته إليه، 4 / 333، الرقم : 5126، والبزار في المسند، 9 / 373، الرقم : 395، وابن حبان في الصحيح، 2 / 315، الرقم : 556، والدارمي في السنن، 2 / 414، الرقم : 2787، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 156، الرقم : 61416، 21501، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 128، الرقم : 351، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 15، الرقم : 4598.

’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ایک آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر! تو اس کے ساتھ ہو گا جس سے تجھے محبت ہے۔ انہوں نے عرض کیا : میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا : اے ابوذر! تو یقیناً ان کے ساتھ ہو گا جن سے تجھے محبت ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا سوال دہرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسے دہرا کر بیان فرمایا۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), اویسی (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 02:27 AM   #5
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مُغَفَّلٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، وَاﷲِ إِنِّي لَأُحِبُّکَ. فَقَالَ : انْظُرْ مَاذَا تَقُوْلُ. قَالَ : وَاﷲِ إِنِّي لَأُحِبُّکَ. فَقَالَ : انْظُرْ مَاذَا تَقُوْلُ. قَالَ : وَاﷲِ إِنِّي لَأُحِبُّکَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. فَقَالَ : إِنْ کُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَي مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَي مُنْتَهَاهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 39 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الزهد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في فضل الفقر، 4 / 576، الرقم : 2350، وابن حبان في الصحيح، 7 / 185، الرقم : 2922، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 173، الرقم : 1471، والروياني في المسند، 2 / 88، الرقم : 872، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 620، الرقم : 2505، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 292، الرقم : 777، والمزي في تهذيب الکمال، 12 / 398.

’’حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا : یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سوچو! کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے پھر عرض کیا : اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (پھر) سوچو! کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے پھر عرض کیا : اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ اس نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو مجھ سے محبت کرتا ہے تو فقر کے لیے تیار ہوجا کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جتنی تیزی سے سیلاب اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), اویسی (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 02:28 AM   #6
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ : لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّي يَکُوْنَ اﷲَ وَرَسُوْلُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَحَتَّي يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَعُوْدَ فِي الْکُفْرِ، (وفي رواية : أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًا أَوْ نَصْرَانِيًا) بَعْدَ أَنْ نَجَّاهُ اﷲُ مِنْهُ، وَلَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّي أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

الحديث رقم 40 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 207، الرقم : 13174، 3 / 278، الرقم : 13991 - 13992، 3 / 230، الرقم : 13431، وابن حبان في الصحيح، 1 / 473، الرقم : 237، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 394، الرقم : 1328، وابن منده في الإيمان، 1 / 433، الرقم : 283، وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 33.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے باقی ہر ایک سے محبوب تر نہ ہوجائیں، اور اس وقت تک جب کہ وہ کفر سے نجات پانے کے بعد دوبارہ (حالت) کفر (اور ایک روایت میں ہے کہ یہودیت اور نصرانیت) کی طرف لوٹنے کو وہ اس طرح ناپسند کرتا ہو کہ اس کے بدلے اسے آگ میں پھینکا جانا پسند ہو۔ اور تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اُس کی اولاد اور اس کے والد (یعنی والدین) اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), اویسی (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 02:30 AM   #7
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ عَائشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَي رَسُوْلِ اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! إِنَّکَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَإِنَّکَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي، وَإِنِّي لَأَکُوْنُ فِي الْبَيْتِ، فَأَذْکُرُکَ فَمَا أَصْبِرُ حَتَّي آتِيَکَ فَانْظُرُ إِلَيْکَ وَإِذَا ذَکَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَکَ عَرَفْتُ أَنَّکَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِيْنَ، وَأَنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ حَسِبْتُ أَنْ لَا أَرَاکَ، فَلَمْ يَرُدَّ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم شَيْئًا حَتَّي نَزَلَ جِبْرِيْلُ عليه السلام بِهَذِهِ الْآيَةِ : (وَمَنْ يُطِعِ اﷲَ وَالرَّسُولَ فَأُولٰئِکَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اﷲُ عَلَيْهِمْ. . . ) (النساء، 4 : 69) فَدَعَا بِهِ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْنُعَيْمٍ.

الحديث رقم 41 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 152، الرقم : 477، وفي المعجم الصغير، 1 / 53، الرقم : 52، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 4 / 240، 8 / 125، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 7، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 524، والسيوطي في الدر المنثور، 2 / 182.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان اور میرے اہل و عیال اور میری اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ جب میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو بھی آپ کو ہی یاد کرتا رہتا ہوں اور اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک حاضر ہو کر آپ کی زیارت نہ کرلوں۔ لیکن جب مجھے اپنی موت اور آپ کے وصال مبارک کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ آپ تو جنت میں انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ بلند ترین مقام پر جلوہ افروز ہوں گے اور اگر میں جنت میں داخل ہوں گا تو خدشہ ہے کہ کہیں آپ کی زیارت سے محروم نہ ہو جاؤں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کے جواب میں سکوت فرمایا : یہاں تک کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت مبارکہ کو لے کر اترے : ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روز قیامت) اُن (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے (خاص) انعام فرمایا ہے۔‘‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اسے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), اویسی (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 02:31 AM   #8
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه قَالَ : خَدِرَتْ رِجْلُ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : اذْکُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْکَ. فَقَالَ : (يَا) مُحَمَّدَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ.

الحديث رقم 42 : أخرجه البخاري في الأدب المفرد، 1 / 335، الرقم : 964، وابن الجعد في المسند، 1 / 369، الرقم : 2539، وابن سعد في الطبقات الکبري، 4 / 154، وابن السني في عمل اليوم والليلة، الرقم : 168، 170، 172، والقاضي عياض في الشفا، 1 / 498، الرقم : 1218، ويحيي بن معين في التاريخ، 4 / 24، الرقم : 2953، والمناوي في فيض القدير، 1 / 399، والمزي في تهذيب الکمال، 17 / 142.

’’حضرت عبدالرحمن بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کا پاؤں سن ہوگیا تو ایک آدمی نے ان سے کہا کہ لوگوں میں سے جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہو اسے یاد کریں، تو انہوں نے یا محمد (صلی اﷲ علیک وسلم) کا نعرہ بلند کیا۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), محمدمبشرعلی (21-06-10), اویسی (21-06-10)
پرانا 21-06-10, 03:43 AM   #9
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,401
کمائي: 20,634
شکریہ: 2,607
975 مراسلہ میں 2,112 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Lightbulb

نیز محبت بھی حقیقی ہونی چاہیے نہ کہ قولی۔ ۔ ۔
محمدمبشرعلی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), کنعان (21-06-10), اویسی (21-06-10), خرم شہزاد خرم (21-06-10)
جواب

Tags
کوئی, کتاب, کرتے, گے, وآلہ, وسلم, ما, متعلق, محبت, آدمی, اللہ, اتنی, احمد, باب, تعالیٰ, جتنی, حضور, حضرات, خبر, روایت, رسول, سوال, عرض, صالحین, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::::: اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کیجیے ::::::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 16 23-08-11 01:39 AM
بھروسہ فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 10 28-04-11 06:39 PM
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین آبی ٹوکول عمومی بحث 2 31-03-11 08:11 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عبداللہ حیدر عقیدہ رسالت 6 11-03-09 12:35 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger