| مرزا سودا مرزا سودا: اردو کے اس مایہ ناز شاعر کے نام پر جناب شاہد میاں کے پر زور اصرار پر اس حصے کا اجرا کیا گیا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 13
کمائي: 370
شکریہ: 8
10 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مقدور نہیں اس کی تجلّی کے بیاں کا
جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا پردے کو تعیّن کے درِ دل سے اٹھا دے کھلتا ہے ابھی پل میں طلسماتِ جہاں کا ٹک دیکھ صنم خانہء عشق آن کے اے شیخ جوں شمعِ حرم رنگ جھمکتا ہے بتاں کا اس گلشنِ ہستی میں عجب دید ہے، لیکن جب چشم کھلے گُل کی تو موسم ہوں خزاں کا دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کے بازار لیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنسِ گراں کا قطعہ سودا جو کبھی گوش سے ہمّت کے سنے تُو مضمون یہی ہے جرسِ دل کی فغاں کا ہستی سے عدم تک نفسِ چند کی ہے راہ دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب جناب
َََََََََ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 13
کمائي: 370
شکریہ: 8
10 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ زین صاحب, شانی اور حنا صاحبہ
|
|
|
|