واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > مذہبی مسائل اور ان کا حل



مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں


من آنم کہ من دانم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-06-07, 08:54 PM   #1
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

من آنم کہ من دانم

محترم بھائیو! فورم کے ناظمین نے میرا تعارف کراتے وقت کچھ زیادہ ہی مبالغے سے کام لیا ہے۔ مجھے قرآن و حدیث سے کچھ واقفیت ضرور ہے لیکن اتنی نہیں کہ اپنے آپ کوعالم کہلا سکوں۔ مفتی اور عالم درحقیقت انبیاء کا وارث ہوتا ہے اور اس کے لیے جیسا کچھ علم و عمل درکار ہے اپنا دامن اس سے خالی نظر آتا ہے۔ شرعی مسئلے کا حل بتانا اتنی بڑی ذمے داری ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فتوٰی دینے میں جلدی کو ناپسند فرماتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کاش اس کے بجائے کوئی دوسرا شخص فتوٰی دے دے۔عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے عبد الرحمٰن بن ابی یعلیٰ کا قول بیان کیا ہے کہ میں نے مسجد نبوی میں ایک سو بیس صحابہ کرام کے دیدار کا شرف حاصل کیا ان کی احتیاط کا عالم یہ تھا کہ ان میں سے ہر حدیث بیان کرنے والے کی خواہش ہوتی کہ کاش وہ اس ذمے داری سے بچ جائے اور کوئی دوسرا شخص اس کو بیان کر دے۔ وجہ یہ ہے ہے کہ شرعی مسئلہ بتانا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا قانون بتانا ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کی سزا جہنم ہے۔ فرمایا:
قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون
" کہہ دیجیے، جو لوگ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔"
مزید فرمایا
فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنًا قلیلا
" ان لوگوں کے لیے تباہی (ویل) ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ۔۔۔۔"
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
قل انما حرم ربی الفواحش۔۔۔۔۔۔۔۔و ان تقولوا علی اللہ ما لا تعلمون
" کہہ دیجیے میرے رب سے حرام کیا بے حیائی کی باتوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ کہ تم اللہ پر وہ باتیں کہو جو تم نہیں جانتے۔"
ائمہ سلف اس بارے میں اس قدر محتاط تھے کہ امام مالک جب کوئی مسئلہ اپنے اجتہاد سے بیان کرتے تو ساتھ یہ آیت کہہ دیتے تھے۔" یہ محض ہمارا ظن ہے اور ہمیں یقین نہیں ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو منصب افتاء پر فائز کرے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ وجوہ قرآن، اسانید صحیحۃ اور سنن کا عالم ہو۔ کتاب اللہ اور اس کے ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہہ، تاویل و تنزیل، مکی و مدنی سورتوں اور ان کے معانی و مطالب سے آگاہ ہو۔ مختلف علاقوں کے اہل علم کے اختلاف کا بھی اس کو علم ہو۔ جو علماء کے اقوال کو جانتا ہو اور اسے معلوم ہو کہ ان اقوال کا ماخذ و مصدر کیا ہے۔ روایات کا حافظ، درایات سے واقف، طاعات کا محافظ اور شہوات و شبہات سے مجتنب ہو۔
اپنا حال تو یہ ہے کہ ان میں سے کسی شرط پر بھی میں پورا نہیں اترتا۔ مسئلہ بتانے کے لیے جس پائے کا علم و تقوٰی چاہیے میں اس سے تہی دامن ہوں۔ اور میں اس طرز عمل کو درست نہیں سمجھتا کہ نیم ملاؤں کی طرح خطرہ ایمان بنا جائے۔ جس چیز کا مجھےعلم ہو گا اس کے بتانے میں میں تامل نہیں کروں گا ان شاء اللہ اور کوشش ہو گی کہ اپنی طرف سے کوئی بات بتانے کی بجائے علماء اور پاک فورمز کے درمیان رابطے کا کردار ادا کروں۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 20-06-08 at 07:51 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فورم, فورمز, پاک, قرآن, لوگ, نظر, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, ایمان, اللہ, تعارف, جھوٹ, حل, حال, حدیث, شخص, صحابہ

« - | ایک سوال »

Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:52 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger