| مذہبی مسائل اور ان کا حل مذہب میں بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل ہمیں نہیں مل پاتا اس سکشن میں ہم انشاء اللہ ان تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشیش کریں گے جن کے جوابات آپ کے پاس نہیں ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم ،
مجھے معلوم کرنا ہے کہ 1۔حصور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کہ اورحضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نکاح کس شخصیت نے پڑھایا؟ 2۔ حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی تاریخ وفات اور۔حصور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وصال 3۔ کیا حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے تھے؟ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی رائٹ بھائی میں میں اپکوتیسرے سوال کا جواب دے سکتا ہوں۔
3- حضرت ابو طالب نے وفات کے وقت کملہ نہیں پڑھا تھا اگرچہ انھوں نے مسلمانوں بے شمار مواقع پر مدد کی۔ اور وہ کفر کی حالت میں فوت ہوئے۔ کسی بھی ایسے شخص کے لیے جو کفر کی حالت میں مرا ہو اس کے لیے رضی اللہ تعالی لکھنا اور کہنا کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔ باقی دو سوالوں کے جوابات شائد قسیم صاحب سکتے ہیں۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ابو کاشان (14-12-07), عبداللہ آدم (19-08-10) |
|
|
#3 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مشااللہ بہت اچھا جواب دیا آپ سب نے ، جزاک اللہ
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
حضرت ابوطالب اس دنیا سے مسلمان گءے تھے۔ نکاح حضرت ابوطالب نے پڑھا تھا۔ رضی اللہ اسکے لءے لکھا جاتا ہے جس سے خدا راضی ہو۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب میرے خیال میں یہ اختلافی سوال ہے
ان سوالوں کے جواب میں بہت سارے اختلاف ہے کچھ کا جواب کچھ ہے اور کچھ کا کچھ ہر شخص حدیث سے ثابت کر کے بتاتاہے لیکن مانے کس کی |
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو کاشان (14-12-07) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
1۔حصور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کہ اورحضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نکاح کس شخصیت نے پڑھایا؟
حضرت خدیجہ کے والد خویلد بن اسد حرب الفجار میں وفات پا چکے تھے، اس لیے آپ کے چچا عمرو بن اسد جو آپ کے سر پرست بھی تھے۔ ولی مقرر ہوے ۔ شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ تاریخ معین پر حضرت خدیجہ نے اپنے اعزہ کو بلا لیا اور رسول اللہ ۖ اپنے قریبی رشتہ داروں کو لے کر خدیجہ کے گھر پہنچ گۓ۔ آنحضرت کے اقربا میں ابو طالب اور حضرت حمزہ آپ کے ہمراہ تھے۔ حضرت ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا اور عمرو بن اسد کے مشورے سے پانچ سوطلائی مہر مقرر ہوا۔ یہ آنحضرت کی بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔ اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر چالیس برس کی تھی اور آنحضرت پچیس برس کے نوجوان تھے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
3۔ کیا حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے تھے؟
اس بات پر بھی بہت زیادہ مسلکی اختلاف ہے کچھ مسلک کے مطابق مرتے وقت حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے کلمہ پڑھ لیا تھا اور کچھ مسلک کہتے ہیں کہ انھوں نے کلمہ نہیں پڑھا تھا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (24-08-08), عرفان حیدر (12-03-08) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2۔ حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی تاریخ وفات
ہجرت سے تین سال پہلے 26 رجب کو رسول اکرم کے چچا اور حضرت علی کے والدحضرت ابو طالب کی ایسے وقت میں وفات ہوئی جب وہ دیگر مسلمانوں کے ہمراہ شعب ابی طالب میں مشرکین کے محاصرے میں تھے۔رسول اکرم اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے حضرت ابوطالب کے زیر کفالت تھے۔حضرت ابوطالب مشرکین قریش کے مقابلے میں رسول اکرم کے سب سے بڑے حامی اور محافظ تھے۔انہوں نے اس دارفانی سے کوچ کرنے سے قبل اپنے خاندان والوں اور دوستوں کو نصیحت کی کہ وہ اسلام کی پیروی اور رسول اکرم کا دفاع کریں۔جس سال حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی اسی سال رسول خدا کی با وفا اور خدمت گزار زوجہ حضرت خدیجہ نے بھی وفات پائی۔اس سال کو عام الحزن قرار دیا گیا۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
صحیح بخاری مستند ترین حدیث پر کتا ب ہے اور اس میں کسی کو اختلاف بھی نہیں ہو گا۔ شکریہ والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مسٹر رائٹ کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (03-12-07), عبداللہ آدم (19-08-10) |
|
|
#10 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 3
کمائي: 30
شکریہ: 1
2 مراسلہ میں 5 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Imam bukhari quated this hadith in "kitab ul janaez". See hadith no. 1280 of the Sahih.sahihalbukhari. com |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے qaseemhaider کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ،
میں چیک کروں گا۔ اس محنت کا اللہ آپ کو اجر دےگا ، انشا اللہ۔ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
میں اس میں تھوڑا سا اضافہ کروں گا کہ جب حضرت ابوطالب علیہ السلام کا انتقال ہوا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہجر ت فرماءی جب تک حضرت ابوطالب زندہ تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہجرت نہیں فراماءی کیونکہ اس وقت تک حضرت ابو طالب علیہ السلام کی شکل میں ایک مددگار موجود تھا۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ااس حدیث کا عربی متن یہ ہے:
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَالِبٍ " يَا عَمِّ، قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ ". فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيَعُودَانِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا وَاللَّهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ، مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ ". فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ} الآيَةَ. (حوالہ: صحیح البخاری کتاب الجنائز باب إِذَا قَالَ الْمُشْرِكُ عِنْدَ الْمَوْتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ) صفحہ نمبر اور حدیث نمبر اس لیے نہیں لکھا کہ کتابت اور گنتی کے طریقے میں فرق کی وجہ سے یہ مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ ترجمہ: "جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس آئے۔ پس انہوں نے ان کے پاس ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو موجود پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوطالب سے کہا "چچا جان کہیے لا الہ الا اللہ۔ ایسا کلمہ جس سے میں اللہ کے ہاں آپ کے لیے گواہی دوںگا"۔ اس پر ابوجہل اور عبدللہ بن ابی امیہ کہنے لگے "اے ابوطالب، کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل یہ بات پیش کرتے رہے اور وہ دونوںاپنی بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ آخری بات جو ابوطالب نے ان سے کہی یہ تھی کہ وہ ابوطالب کے دین پر ہیں اور لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی قسم، میں آپ کے لیے ضرور استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے (اللہ کی طرف سے ) منع نہ کر دیا جائے"۔ پس اللہ تعالٰٰی نے اس پر یہ آیت نازل فرمائی "نبی اور اہل ایمان کے شایانِ شان نہیںکہ وہ مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " (سورۃ التوبۃ) باقی تفصیل پھر سہی ان شاء اللہ۔ When the time of the death of abu talib approached, Allah's Apostle went to him and found Abu Jahl bin Hisham and 'Abdullah bin Abi Umaiya bin Al-Mughira by his side. Allah's Apostle said to abu talib, "O uncle! Say: None has the right to be worshipped but Allah, a sentence with which I shall be a witness (i.e. argue) for you before Allah. Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umaiya said, "O abu talib! Are you going to denounce the religion of Abdul Muttalib?" Allah's Apostle kept on inviting abu talib to say it (i.e. 'None has the right to be worshipped but Allah') while they (Abu Jahl and Abdullah) kept on repeating their statement till abu talib said as his last statement that he was on the religion of Abdul Muttalib and refused to say, 'None has the right to be worshipped but Allah.' (Then Allah's Apostle said, "I will keep on asking Allah's forgiveness for you unless I am forbidden (by Allah) to do so." So Allah revealed (the verse) concerning him (i.e. It is not fitting for the Prophet and those who believe that they should invoke (Allah) for forgiveness for pagans even though they be of kin, after it has become clear to them that they are companions of the fire (9.113). |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
یہاں پر میں کچھ سوال کرنا چاہوں گا۔ ۱۔جب تک جبرءیل امین پہل وحی لے کر نہیں اے تھے تب تک سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کس دین پر تھے؟ ۲۔۔کیا حضرت ابوطالب علیہ السلام نے کبھی بتوں کو سجدہ کیا؟ ۳۔جب حضرت ابو طالب علیہ السلام نے سرکار دوعالم کا نکاح پڑھا تو اس وقت انھوں کونسا طریقہ اور صیغے استعمال کیے تھے؟۔ ۴۔جب (نعوذبللہ)حضرت ابو طالب علیہ السلام کافر تھے توجناب فاطمہ بنت اسد کو ان سے جدا کیوں نہیں کیا گیا اور اسپر کسی نے اعتراض کیوں نہیں کیاخاص طور پر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے۔ ۵۔اگر حضرت عبد المطلب کا دین مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا توپھرلوگ خانہ کعبہ کا طواف کیوں کرتے تھے اور طواف کرتے وقت وہ کون سی دعاءیں پڑتے تھے؟ ۶۔سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیداءش کے وقت ان کی والدہ ماجدہ کا دین کیا تھا؟ ۷۔بار بار کیء دفعہ اشارے ملنے کے باوجود وہ (ابوطالب علیہ السلام)کیوں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حفاظت کیا کرتے تھے اور ان کی جگہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو سلاتے تھے؟ شکریہ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
چند باتیں۔
1۔ جب حضرت علی کی والدہ ماجدہ نے اسلام قبول کیا تب حضرت ابوطالب کو ان سے جدا کیوںنہیں کیا گیا۔؟ جب کہ اگر کوئی عورت یا مرد اسلام قبول کرلے تو اس کا نکاح فاسخ ہو جاتا ہے۔ 2۔ جب اماں جی فاطمہ بنت اسد علیہ السلام کا وصال ہوا۔ تو حضور صلٰٰی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھایا تھا۔ اور آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے خود قبر میں اتر کر جناب ابو طالب کی مدد سے حضرت فاطمہ کو لحد میں اتارا تھا۔ عبداللہ بھائی یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔ برائے کرم زرا وضاحت فرمادیں
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
Last edited by عبداللہ حیدر; 02-07-08 at 01:37 AM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| php, فورمز, کتابوں, گذارش, پوسٹ, پاک, قرآن, قران, لوگ, مکمل, معذرت, آبادی, ایمان, اللہ, انشا, اسلامی, بھائی, تلاش, ترک, جواب, جلد, حدیث, شخص, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|