|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
کیسی تیری تقدیر ہے
پاوں میں رسموں کی زیجیر ہے وہ گھر ہی پرایا ہے جہاں تونے جنم لیا ہے جن درودیوار میں تیرے قہقے رچے ہیں وہی درودیوار اک دن تجھ کو چھوڑنے ہیں جس آنگن میں تو نے چلنا سیکھا ہے اسی آنگن کی مٹی پرائی ہے جن بہن بھائیوں پہ تو جان دیتی ہے اُنہی سے جدا ہونا ہے بابل کے گھر سے تجھے اک دن وِدا ہونا ہے کتنے ارمانوں سے تیری شادی کی تیاریاں ہوں گی خوشی خوشی سب رسمیں ہوں گی مگر وقتِ رخصت عجب عالم ہوگا کتنا خوش تیرا ساجن ہوگا لیکن بہنوں کی آنکھوں میں آنسوہوں گے بھائی خاموش کھڑے ہوں گے ماں باپ کے لبوں پہ دعا ہو گی یوں تیری زندگی کی شروعات ہو گی نیا سفر ہوگا نئے ہمسفر ہوں گے نئے لوگ، نئے ہوں گے مگر پرانے رشتے بھی بھول نہ پاو گی ان شاءاللہ ماں باپ کی دعا سے ہمیشہ سکھی رہو گی ہمیشہ سہاگن رہوگی اپنے پیا کے گھر کو جنت بناو گی میری پیاری بہن اک دن ہم سے جدا ہو جاو گی پیا کے گھر کو جاو گی بابل کے گھر سے وِدا ہو جاو گی شاعر "محمد یاسرعلی" Last edited by محمد یاسرعلی; 07-05-11 at 09:49 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت اچھے بھائی بہت اچھے بھائی بہت اچھے بھائی بہت اچھے بھائی
|
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد یاسرعلی (03-10-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
خلیل بھائی اور ثوبیہ آپی آپ دونوں کا بہت شکریہ
|
|
|
|