|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
الامام سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
دعوت انبیاء کا مطالعہ کریں تو اﷲتعالیٰ سے تعلق پیدا کرلینے کے بعد اگر کسی اجتماعی فرض کا کوئی نقشہ آپ کے قلب وذہن میں بنتا ہے تو وہ ایک ’اصولی تحریک‘ کا قیام ہی کہلاسکتا ہے مگر واقعاتی دنیا میں آئیں تو آپ ششدر رہ جاتے ہیں کہ وہی اسلام جو عقیدہ اور عمل کا مجموعہ ہے اور جو موروثی فضیلت یا علاقائی برتری اور نسلی بالادستی کا سب سے بڑا مخالف اور اس کی میزان میں اتباع حق کے سامنے قومی مفاد کوئی وزن ہی نہیں رکھتا ۔۔۔آج وہ اسلام خود ایک ’قوم‘بنادیا گیا ہے عقیدہ وعمل کی کوئی شرط رکھے بغیر ایک وراثت کی طرح نسل درنسل منتقل ہوتا ہے ۔اور ایسی نسل کی ترقی ہی اسلام کی ترقی کہلاتی ہے مسلمان نام کی اس نسل کو دوسری اقوام پر فتح دلانا اب اسلام کی فتح ہے ۔جواسلام پوری انسانی زندگی کو اپنے نقشے پر بدل دینے کا مطالبے پر بضد رہا تھا اور باطل سے دست وگریباں رہنا دنیا میں اس کا امتیاز ہوا کرتا تھا اب نہ صرف وہ باطل نظاموں کے زیر سایہ ہنسی خوشی بس لیتا ہے بلکہ ان شرکیہ نظاموں کی خدمت وترقی کی غرض سے اپنے پیروکاروں کو ان سے صلح جوئی اور وفاداری کے سبق بھی دینے لگا ہے۔ اسلام کے معنی ومفہوم میں اس قدر بڑی حیرت انگیز تبدیلی جو بجا طور پر تاریخ اسلام کی چند بڑی بدعات اور عظیم ترین انحرافات میں سے ایک کہلاسکتی ہے ’’مسلم قومیت ‘‘کے نام سے منسوب ہوئی ۔یہی بدعت آگے چل کر وطنیت ،علاقائیت اور جمہوریت وغیرہ ایسی گمراہیوں کوجنم دیتی رہی ہے اسی نے پچھلے سوسال کے عرصے میں مسلم خون کی بھینٹ لی اور آئندہ بھی نظر آتا ہے کہ اس گمراہی کا علاج نہ کیا گیا تو اسلام کی راہ میں جو کچھ دیا جائے گا وہ اسی کو وصول ہوتا رہے گا ۔قومیت کا یہ بت توڑنا اس لیے آسان نہیں کہ اس نے عبائے اسلام باقاعدہ زیب تن کرکررکھی ہے مگر فرزندان اسلام کو اﷲوحدہ لاشریک کے آگے جھکانے کے لیے اس بدعت ضلالت کا پردہ چاک کردینا بہرحال ضروری ہے اور اس دور کا ایک بہت بڑا فریضہ ۔ ویسے تو امت اسلام کسی دور میں خیر سے یکسر محروم نہیں رہی مگر برصغیر میں قومیت کے اس بت کے خلاف ایک منظم اور مسلسل آواز آج سے ساٹھ ستر برس قبل اٹھائی گئی ہمارے علم میں اس بدعت ضلالت کے خلاف اس سے بہتر اور اس قدر واضح آواز برصغیر کی تاریخ میں نہیں سنی گئی مدیر ایقاظ)مسلم قومیت کی بدعت ’’’’ مسلمان کے نام سے جو یہ قوم اس وقت موجود ہے وہ خود بھی اس حقیقت کو بھول گئی ہے اور اس کے طرز عمل نے دنیا کو بھی یہ بات بھلادی ہے کہ اسلام اصل میں ایک تحریک کانام ہے جو دنیا میں ایک مقصد اور کچھ اصول لے کر اٹھی تھی اور مسلمان کا لفظ اس جماعت کے لیے وضع کیا گیا تھا ۔جو اس تحریک کی پیروی اور علمبرداری کے لیے بنائی گئی تھی تحریک گم ہوگئی اس کا مقصد فراموش کردیا گیا ۔اس کے اصولوں کو ایک ایک کرکے توڑا گیا ۔اور اس کا نام اپنی تمام معنویت کھودینے کے بعد اب محض ایک نسلی ومعاشرتی قومیت کے نام کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے حد یہ ہے کہ ان مواقع پر بھی بے تکلف استعمال کیا جاتا رہا ہے جہاں اسلام کا مقصد پامال ہوتا ہے ،جہاں اس کے اصول توڑے جاتے ہیں جہاں اسلام کے بجائے غیر اسلام ہوتا ہے ۔ جیل خانوں کا معائنہ کیجئے ’’مسلمان چوروں ‘‘، ’’مسلمان ڈاکوؤں ‘‘اور ’’مسلمان بدمعاشوں‘‘سے آپ کا تعارف ہوگا۔دفتروں اور عدالتوں کے چکرلگائیے رشوت خوری ،جھوٹی شہادت ،جعل ،فریب ،ظلم اور ہر قسم کے اخلاقی جرائم کے ساتھ آپ لفظ ’مسلمان ‘کا جوڑ لگاہوا پائیں گے سوسائٹی میں پھرئیے کہیں آپ کی ملاقات’’ مسلمان شرابیوں ‘‘سے ہوگی ،کہیں آپ کو ’’مسلمان قمار باز‘‘ملیں گے ۔کہیں’’ مسلمان سازندوں ‘‘اور ’’مسلمان گویوں‘‘ اور ’’مسلمان بھانڈوں‘‘ سے آپ دوچارہونگے۔ بھلا غور تو کیجئے یہ لفظ ’’مسلمان ‘‘کتنا ذلیل کردیا گیا ہے اور کن کن صفات کے ساتھ جمع ہورہا ہے ۔مسلمان اور زانی! مسلمان اور شرابی! مسلمان اور قمار باز! مسلمان اور رشوت خور! اگر وہ سب کچھ جو ایک کافر کرسکتا ہے وہی ایک مسلمان بھی کرنے لگے تو پھر مسلمان کے وجود کی دنیا میں حاجت ہی کیا ہے اسلام تو نام ہی اس تحریک کا تھا جو دنیا سے ساری بداخلاقیوں کو مٹانے کے لیے اٹھی تھی اس نے مسلمان کے نام سے ان چیدہ آدمیوں کی جماعت بنائی تھی جو خود بلند ترین اخلاق کے حامل ہو ں اور اصلاح اخلاق کے علمبردار بنیں ۔اس نے اپنی جماعت میں ہاتھ کاٹنے کی ،پتھر مارمار کرہلاک کردینے کی ،کوڑے برسابرسا کر کھال اڑا دینے کی ،حتی کہ سولی پر چڑھادینے کی ہولناک سزائیں اسی لیے تومقرر کی تھیں کہ جو جماعت دنیا سے زنا کو مٹانے اٹھی ہے خود اس میں کوئی زانی نہ پایا جائے جس کاکام شراب کا استیصال ہے وہ خود شراب خوروں کے وجود سے خالی ہو ۔جسے چوری اور ڈاکہ کا خاتمہ کرنا ہے خود اس میں کوئی چور اور ڈاکو نہ ہو ۔ اس کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ جنہیں دنیا کی اصلاح کرنی ہے وہ دنیا بھر سے زیادہ نیک سیرت ،عالی مرتبہ اور باوقار لوگ ہوں اسی لیے قمار بازی ،جعل سازی اور رشوت خوری تو درکنار اس نے تو اتنا بھی گوارانہ کیا کہ کوئی مسلمان سازندہ اور گویّا ہو ۔کیونکہ مصلحین اخلاق کے مرتبہ سے یہ بھی گری ہوئی چیز ہے جس اسلام نے ایسی سخت قیود اور اتنے شدید ڈسپلن کے ساتھ اپنی تحریک اٹھائی تھی اور جس نے اپنی جماعت میں چھانٹ چھانٹ کر بلند ترین کیریکٹر کے آدمیوں کو بھرتی کیا تھا اس کی رسوائی اس سے بڑھ کراور کیا ہوسکتی ہے کہ بھڑوے اور چور اور زانی تک کے ساتھ لفظ ’مسلمان ‘کا جوڑ لگ جائے ۔کیا اس قدر ذلیل اور رسواہوجانے کے بعد بھی ’اسلام‘ اور ’مسلمان‘کی یہ وقعت باقی رہ سکتی ہے کہ سر اس کے آگے عقیدت سے جھک جائیں اور آنکھیں اس کیلئے فرش راہ بنیں ؟جو شخص بازار بازار اور گلی گلی خوار ہورہا ہو کیا کبھی اس کے لیے بھی آپ نے کسی کو ادب سے کھڑے ہوتے دیکھا ہے ؟ یہ تو بہت ذلیل طبقہ کی مثال تھی اس سے اونچے تعلیم یافتہ طبقہ کی حالت اور زیادہ افسوس ناک ہے ۔یہاں یہ سمجھاجاتا ہے کہ اسلام ایک نسلی قومیت کا نام ہے اور جو شخص مسلمان ماں باپ کے ہاں پیدا ہوا ہے وہ بہرحال مسلمان ہے خواہ عقیدہ ومسلک اور طرز زندگی کے اعتبار سے وہ اسلام کے ساتھ کوئی دور کی مناسبت بھی نہ رکھتا ہو ۔سوسائٹی میں آپ چلیں پھریں تو آپ کو ہرجگہ عجیب وغریب قسم کے ’مسلمانوں ‘سے سابقہ پیش آئے گا ۔کہیں کوئی صاحب خدا اور رسالت اور آخرت کے قطعی منکر ہیں اور کسی مادہ پرستانہ مسلک پر پورا ایمان رکھتے ہیں مگر ان کے ’مسلمان ‘ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ایک تیسرے صاحب سود کھاتے ہیں اور زکوٰۃ کا نام تک نہیں لیتے مگر ہیں یہ بھی ’مسلمان‘ہی۔ ایک اور بزرگ بیوی اور بیٹی کو میم صاحبہ یا شریمتی جی بنائے ہوئے سنیما لیے جارہے ہیں ۔یا کسی رقص وسرور کی محفل میں صاحب زادی سے وائلن بجوارہے ہیں مگر آپ کے ساتھ بھی لفظ’مسلمان‘بدستور چپکا ہوا ہے ۔ ایک دوسرے ذات شریف نماز ،روزہ، حج ،زکوٰۃ ،تمام فرائض سے مستثنیٰ ہیں شراب،زنا،رشوت ۔جوا اور ایسی سب چیزیں ان کے لیے جائز ہوچکی ہیں حلال وحرام کی تمیز سے نہ صرف خالی الذہن ہیں بلکہ اپنی زندگی کے کسی معاملہ میں بھی ان کو یہ معلوم کرنے کی پرواہ نہیں ہوتی کہ اﷲکا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے خیالات ،اقوال اور اعمال میں ان کے اور ایک کافر اور مشرک کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا ۔مگر ان کا شمار بھی ’مسلمانوں ‘ہی میں ہوتا ہے ۔غرض اس نام نہاد مسلم سوسائٹی کا جائزہ لیں گے تو اس میں آپ کو بھانت بھانت کا’مسلمان‘نظر آئے گا مسلمان کی اتنی قسمیں ملیں گی کہ آپ شمار نہ کرسکیں گے۔یہ ایک چڑیا گھر ہے جس میں چیل کوے ،گدھ ،بٹیر ،تیتر اور ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ’چڑیا ‘ہے کیونکہ چڑیا گھر میں ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام سے انحراف کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان کا نظریہ اب یہ ہوگیا ہے کہ ’مسلمان‘جو کچھ بھی کرے وہ ’اسلامی ‘ہے حتی کہ اگر وہ اسلام سے بغاوت بھی کرے تو و ہ اسلامی بغاوت ہے یہ بینک کھولیں تو اس کانام ’اسلامی بینک ‘ہوگا ، یہ انشورنس کمپنی قائم کریں تو وہ ’اسلامی انشورنس کمپنی‘ہوگی ،یہ جاہلیت کی تعلیم کا ادارہ کھولیں تو وہ’ مسلم یونیورسٹی‘، ’اسلامیہ کالج‘ یا ’اسلامیہ اسکول‘ہوگا ،ان کی کافرانہ ریاست کو ’اسلامی ریاست ‘کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ )اس وقت دنیامیں ایسی اسلامی ریاستوں کی تعداد ۵۵تک پہنچتی ہے اﷲکرے زور حریت اور زیادہ(۔ ان کے فرعون اور نمرود ،’اسلامی بادشاہوں ‘کے نام سے یاد کئے جائیں گے ان کی جاہلانہ زندگی ’اسلامی تہذیب وتمدن ‘قرار دی جائے گی ۔ان کی موسیقی ،مصوری اور بت تراشی کو ’اسلامی آرٹ ‘کے معزز لقب سے ملقب کیا جائے گا ان کے زندقے اور اوہام لاطائل کو ’اسلامی فلسفہ‘کہا جائیگا ۔حتی کہ یہ سوشلسٹ بھی ہوجائیں تو ’مسلم سوشلسٹ‘کے نام سے پکاریں جائیں گے ان سارے ناموں سے آپ آشنا ہوں چکے ہیں اب صرف کسرباقی ہے کہ ’اسلامی شراب خانے‘ ، ’اسلامی قحبہ خانے‘ اور ’اسلامی قمار خانے ‘ جیسی اصطلاحوں سے بھی آپ کا تعارف شروع ہوجائے ۔مسلمانوں کے اس طرز عمل نے اسلام کے لفظ کو اتنا بے معنی کردیا ہے کہ ایک کافرانہ چیز کو ’اسلامی کفر‘یا’اسلامی معصیت‘کے نام سے موسوم کرنے میں اب کسی تناقض فی الاصطلاح Contradiction in termsکا شبہ تک نہیں ہوتا۔حالانکہ اگر کسی دکان پر آپ ’سبزی خوروں کی دکان گوشت ‘یا ولایتی سودیشی بھنڈار‘ کا بورڈ لگا دیکھیں یا کسی عمارت کا نام ’’موحدین کا بت خانہ‘‘سنیں تو شاید آپ سے ہنسی ضبط نہ ہوسکے گی ۔ جب افراد کی ذہنیتوں کا یہ حال ہے تو قومی اور قومی پالیسی کا اس تناقض سے متاثر نہ ہونا امرمحال ہے آج مسلمانوں کے اخباروں اور رسالوں میں ،مسلمانوں کے جلسوں اور انجمنوں میں مسلمان پڑھے لکھے طبقہ میں آپ ہر طرف کسی چیز کی پکار سنتے ہیں ؟بس یہی ناکہ سرکاری ملازمتوں میں ہمیں جگہیں ملیں ۔غیر الٰہی نظام حکومت کو چلانے کے لیے جس قدر پرزے درکار ہیں ان میں سے کم از کم اپنے پرزے ہم پر مشتمل ہوں شریعت سازمجلسوں (Lagislatives)کی نشستوں میں کم از کم ا تنا تناسب ہمارا ہو’’من لم یحکم بما انزل اﷲ ‘‘ میں کم سے کم اتنے ہی فیصدی ہم بھی ہوں ’’والذین یقاتلون فی سبیل الطاغوت‘‘میں غالب حصہ ہمارا ہی رہے اسی کی ساری چیخ وپکار ہے ۔اسی کانام اسلامی مفاد ہے اسی محور پر مسلمانوں کی قومی سیاست گھوم رہی ہے یہی گروہ عملاً اس وقت مسلم قوم کی پالیسی کو کنٹرول کررہاہے حالانکہ ان چیزوں کو نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اس کی عین ضد ہیں ۔غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر اسلام ایک تحریک کی حیثیت سے زندہ ہوتا تو کیا اس کا نقطہ نظر یہی ہوتا؟ کیا کوئی اجتماعی اصلاح کی تحریک اور کوئی ایسی جماعت جو خود اپنے اصول پر دنیا میں حکومت قائم کرنے کا داعیہ رکھتی ہو کسی دوسرے اصول کی حکومت قائم کرنے کا داعیہ رکھتی ہو کسی دوسرے اصول کی حکومت میں اپنے پیروؤں کو کل پرزے بننے کی اجازت دیتی ہے ؟کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ اشتراکیوں نے بینک آف انگلینڈ کے نظام میں اشتراکی مفاد کا سوال اٹھایا ہو یا فاشسٹ گرانڈ کو نسل میں اپنی نمائندگی کے مسئلہ پر اشتراکیت کی بقا وفنا کا انحصار رکھا ہو ؟اگر آج روسی کمیونسٹ پارٹی کا کوئی ممبر نازی حکومت کا وفادار خادم بن جائے تو کیا آپ توقع کرتے ہیں کہ ایک لمحہ بھر کیلئے بھی اسے پارٹی میں رہنے دیا جائے گا ؟اور اگر کہیں وہ نازی آرمی میں داخل ہوکر نازیت کو سربلند کرنے کی کوشش کرے تو کیا آپ اس کی جان کی سلامتی کی بھی امید کرسکتے ہیں ؟مگر یہاں آپ کیا دیکھ رہے ہیں اسلام جس روٹی کو زبان پر رکھنے کی اجازت بھی شاید انتہائی اضطرار کی حالت میں دیتااور جس کو حلو سے اتارنے کے لیے )غیرباغ ولا عاد(کی شرط لگاتا اور پھر تاکید کرتا کہ جس طرح سخت بھوک کی حالت میں جان بچانے کے لیے سور کھایا جاسکتا ہے اسی طرح بس یہ روٹی بھی بقدر سد رمق کھالو ۔یہاں اس روٹی کو نہ صرف یہ کہ ھنیئا ً مریئاً کرکے پورے انسباط کے ساتھ کھایا جاتا ہے ۔بلکہ اسی پر کفر اوراسلام کے معرکے سر ہوتے ہیں اور اسی کو اسلامی مفاد کا مرکزی نقطہ قرار دیا جاتا ہے ۔اس کے بعد تعجب نہ کیجئے اگر ایک اخلاقی و اجتماعی مسلک کی حیثیت سے اسلام کے دعوائے حکمرانی کو سن کر دنیا مذاق اڑانے لگے کیونکہ اسلام کی نمائندگی کرنے والوں نے خود اس کے وقار کواور اس کے دعوے کو اپنے معبود شکم کے چرنوں میں بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ماخوذ از ترجمان القرآن نومبر 1939( ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بشکریہ سہ ماہی" ایقاظ"
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (31-07-10), ھارون اعظم (31-07-10), محمد عاصم (31-07-10), مسلم بھائی (13-08-10), احمد بلال (31-07-10), راجہ اکرام (20-10-11), سحر (23-10-11), عبداللہ حیدر (31-07-10) |
|
|
#2 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
| ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (31-07-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بس پھر دیکھ لیں کہ الفاظ ہی میںکچھ بدلا ہو تو ہو عمل میں سب کچھ وہی اور ویسا ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | احمد بلال (31-07-10), عبداللہ حیدر (31-07-10) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اور آپ کو بتا دوں کہ وہ پاکستان بننے کے بعد بھی جمہوریت کو ایسا ہی سمجھتے اور کہتے رہے ہیں۔ جب ۷۳ء میں قرآن و سنت کی نام نہاد شق پاس ہوئی تو اس کو اسلامی کہنے لگے اور پھر خود بھی اس میں شریک ہوگے۔ ڈاکٹر اسرار صاحب نے ان سے علیحدگی بھی اسی وجہ سے کی تھی، اور پھر ڈاکٹر اسرار صاحب نے تنظیم اسلامی بنائی جس کا نعرہ ہی خلافت کو بحال کرنے کا تھا اور ماشاءاللہ ان کی وفات کے بعد بھی ان لوگوں نے جمہوریت کے گند میں شامل ہونا گوارہ نہیں کیا ہے اور آج بھی اس جماعت کا یہی منشور ہے نظامِ خلافت کا احیاء۔ اور آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ اللہ صرف دعویٰ ایمان کو قبول نہیں کرتا جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا جائے اگر یہ شق لگائی بھی گئی ہے تو یہ شق آج تک بےکار کیوں ہے اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ اور یہ طاغوت جب چاہیں اس شق کو ہی ختم کردیں پھر بتائیں آپ کیا جواز پیش کریں گے اس نظامِ باطل کو اسلامی کہنے کے لیے؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اگر اس شق پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کی جائے تو اس کے خلاف زیادہ ووٹ ہوں گے اور اس کو باآسانی ختم کرسکیں گے، مگر یہ طاغوت ایسا نہیں کریں گے ابھی کیونکہ پھر یہ اسلام پسندوں کو دھوکہ کیسے دیں گے؟
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | skjatala (20-10-11), مرزا عامر (26-08-10), مسلم بھائی (13-08-10), سحر (23-10-11), عبداللہ آدم (20-10-11) |
![]() |
| Tags |
| color, فرض, لوگ, نماز, نظر, منتقل, ماں, معلوم, آج, ایمان, اسلام, تعلیم, تعارف, جیل, خون, خلاف, خدا, زندگی, سیاست, شخص, علاج, صفات, صلح, صاحبہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا اچھی نیت سے بدعت نکالی جا سکتی ہے؟ | عبداللہ حیدر | ایمان | 7 | 09-03-11 10:44 PM |
| این آر او، سراج درانی کی بریت کیلئے سماعت نہ ہوسکی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 16-04-08 07:56 AM |
| 9اپر یل کا سانحہ آمر یت کے تحفظ کی گھناؤنی سازش ہے ،جماعت اسلامی کے تحت کا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 16-04-08 07:37 AM |
| بائیکاٹ نہ ہو تو چارٹر آف ڈیمانڈ کی 6 شرائط کی حمایت کرینگے، شجاعت | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 09:02 AM |
| نواز بینظیر ملاقاتوں سے کوئی فر ق نہیں پڑ تا،منشور مطالبات کا حشر میثاق جمہوریت سے بد تر ہو گا،شجاعت | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 06-12-07 10:02 AM |