| متفرقات متفرقات |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | عارف اقبال (09-03-10) |
|
|
#31 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ کے رسول (ص) سے اپ لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا مولا کہیں گئے ؟
دراصل اپ ہی لوگ اسی اتیں لکھوا کر بھیٹے ہیں ۔۔۔۔۔ اور اب تشہیر کررہے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے کسی کو اپنا مولا کہا ۔۔۔۔ Last edited by حیدر Rehan; 31-05-10 at 05:31 PM. |
|
|
|
|
|
#32 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
بنو ہاشم کے فضائل ایک الگ موضوع ہے، آپ چاہیں تو اس پر مواد فراہم کر سکتا ہوں۔ آپ نے بنوہاشم سے دشمنی کی بات کی ہے تو یہ بھی سن لیجیے کہ خود میرا تعلق اسی خاندان سے ہے (ہمارے خاندان کی صدیوں پرانی دستاویزات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا سلسلہ نسب موسیٰ کاظم رحمہ اللہ کے ذریعے امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ سے جا کر ملتا ہے، و اللہ اعلم)۔ یاد رکھیے کہ آل بیت ہونے پر کسی خاص گروہ کی اجارہ داری نہیں ہے، نہ انہیں کسی نے اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہیں دین بنا کر پیش کرتے رہیں۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (14-03-10) |
|
|
#33 |
|
Senior Member
![]() |
بات کہیں سے کہیں جارہی ہے ۔۔۔
Last edited by حیدر Rehan; 14-03-10 at 01:04 AM. |
|
|
|
|
|
#34 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ(سورۃ التحریم4) "جان رکھو کہ اللہ ان (نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کا مولا ہے اور جبریل اور تمام صالح اہلِ ایمان بھی۔ اور اس کے بعد ملائکہ بھی ان کے مدد گار ہیں۔ یہاں مولا بمعنی مددگار ہے۔ آپ نے جس حدیث کو معاذ اللہ "بکواس" قرار دیا ہے اس میں محض ایک جلیل القدر صحابی کو "مولا" کہا گیا تھا۔ لیکن اس آیت میں تو جبریل اور تمام اہل ایمان کو مولا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پر بھی اپنے جذبات سے آگاہ کیجیے۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (14-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#35 |
|
Senior Member
![]() |
ایسے لوگ بھی موجود ہیں جناب جو قرآن کو بھی غلطیوں سے بھرا کہتے ہیں ، کیا کہیں گے آپ ان بد بو دار لوگوں کو؟؟؟ بے ایمان یا مومن؟؟؟
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | عبداللہ آدم (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#36 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جو قرآن میں شک کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (مٰیں ترجمہ اور اعراب کی بات نہی کررہا) ورنہ اپ کے اوپن برھان میں ہی کئی علمائے کرام کا ترجمے میں فرق ہے کوئ کہہ دے گا کہ میں نے ان کو کہا ہے ۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#37 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اور سرخ عبارت جو آپ نے لکھی ھے اس میں اپنے ھاتھ سے ایسی تحریر لکھ دی ھے جو ان بدبودار لوگوں پر فٹ آتی ھے جو ان گنت کتابوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت ازواج مطھرات اور علی رضی اللہ عنہ اور تمام اہل بیت کی شان میں بدترین گستاخیاں کر چکے ہیں ، یقینًا وہ ملوانے یہودیوں سے بھی بدتر ہیں ، اور ہاں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر بھونکے اور انہیں گالیاں دے وہ یہودی نہیں اس سے بھی بدتر بلکہ کائنات کا بدترین اور غلیظ ترین جانور ھے، میں کیا کروں مجھے دشمنان صحابہ سے نفرت ھے شکریہ |
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
صالح مومنین کی بات کی ہے قرآن نے اور ساتھ ساتھ فرشتوں کی بات کی ہے جو کہ مددگار ہیں ایک دوسرے کے ۔ ۔ عام کلمہ پڑھنے والے کی بات نہی ہورہی اور کوئی ہو جتنا بھی مقدس یا مقدم (لوگوں کی نظر میں ) قرآن نے کچھ اور مومنین کی بات کی ہے۔ وہی مومنین جن کو صاحب امر کہا گیا ہے۔(قرآن میں) صاحب امر وہ ہوتا ہے جس پر اللہ کا امر آئے سورہ انزلنا پڑھتے ہیں فرشتے اترتے ہیں اللہ کا امر لے کر ۔ ۔ ۔ سلامتی ہے یہ رات طلوع صبح تک ۔ ۔ ۔ وہ صاحب امر پر اترتے ہیں کسی عام کہلائے جانے والے مومن پر نہی اترتے ۔ اور جب فرشتے عام مومن پر اترتے ہیں تو پھر روح قبض کرکے ہی واپس جاتے ہیں یعنی عام مومن کہلائے جانے والے پر ایک بار ہی اترتے ہیں قرآن پر صرف قرآن ہی رکھا جاسکتا ہے پارے پر پارہ ہی رکھ سکتے ہیں کوئی اور عام کتاب نہی رکھ سکتے ۔ ۔ ۔اتنا تو عام مسلمان بھی جانتا ہے |
|
|
|
|
|
|
#39 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
1۔ مسند احمد مسند العشرۃ المبشرین بالجنہ مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ 2۔ السنن الکبریٰ امام البیہقی جلد 5 ص 127 3۔ شرح مشکل الآثار امام طحاوی جلد8 ص90 بتحقیق شعیب الارنؤوط ناشر موسسۃ الرسالۃ الطبعۃ الاولی 4۔ صحیح ابن حبان کتاب السیر باب الموادعۃ و المھادنۃ 5۔ المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ قصۃ اعتزال محمد بن مسلمۃ الانصاری رضی اللہ عنہ //////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////// رہی یہ بات کہ ایسا کس موقع پر فرمایا گیا تھا تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمرۃ القضاء کے موقع پر سید الشھداء حمزہ رضی اللہ عنہ کی کمسن بیٹی کی سرپرستی کا معاملہ سامنے آیا تو علی رضی اللہ عنہ، جعفر رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ تینوں کی خواہش تھی کہ یہ ذمےداری ان کے حوالے کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے جعفر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ فرمایا کیونکہ ان کی اہلیہ اس بچی کی خالہ تھیں پھر علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انت منی و انا منک "تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں" اور جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اشبھت خلقی و خلقی "تمہاری شکل اور اخلاق مجھ سے ملتے جلتے ہیں" اور زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا انت اخونا و مولانا "تم ہمارے بھائی اور مولا (دوست) ہو" والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 14-03-10 at 02:51 AM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (14-03-10), عبداللہ آدم (14-03-10) |
|
|
#40 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#41 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,105
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
میرے بھائیو ہم سب آپس میں بھائی ہیں میرا خیال میں گفتگو کا رخ کچھ کروٹ بدل رہا ھے اسی لئے جب کہیں خطرہ محسوس ہو تو پھر اس گفتگو کو اگر چھوڑ دیا جائے تو اچھا ہوتا ھے باقی آپ سب خود سمجھ دار ہیں آخری فیصلہ آپکا ہی ہو گا۔ ریحان حیدر بھائی آپ نے جو حدیث غدیر بیان کی ھے سر آنکھوں پہ اور اہل بیت کا احترام میرے دل میں ہمیشہ سے ھے، اور عبداللہ حیدر بھائی نے جو حدیث پیش کی ھے وہ اسکی تشریح صحیح طرح بیان نہیں کر پائے اور پھر آپ کے جواب پر وہ شائد عزت کی خاطر دوبارہ اس پر روشنی نہیں ڈال سکے، خیر کوئی بات نہیں لفظ "مولٰی" پر میں آپ کے ساتھ کچھ معلومات شیئر کروں گا اس میں جو حدیث پر آپ نے عبداللہ حیدر بھائی سے مکمل حوالہ مانگا ھے اس پر بھی میں لکھوں گا۔ آپ سب سے گزارش ھے کہ اس کا غور سے اور علمی نوعیت سے ٹھنڈے دماغ سے مطالعہ کیجئے شکریہ ----------------------------- قرآن کریم میں ”مالک“ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے‘ اور یہی لفظ جہنم کے نگران فرشتہ کے لئے بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے‘ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ” وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ “ (الزخرف: ۷۷) ترجمہ:۔ ”اور وہ (داروغۂ جہنّم کو) پکاریں گے اے مالک! آپ کا رب ہمیں موت دے دے (تو اچھا ہے)۔“ ۳:… اسی طرح قرآن و حدیث اور لغت عرب میں ”مولٰی“ کے بھی کئی معنی آئے ہیں: "رب" - "مالک" - "مدد گار" - "کارساز" - "آقا" - "سردار" - "آزاد کرنے والا" - "غلام" - "آزاد کردہ غلام" اور "دوست" وغیرہ۔ ۴:… لغت عرب کے لحاظ سے لفظ ”مولا“ ادنیٰ اور اعلیٰ دنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے‘ لیکن ہمارے عرف میں دین دار عوام‘ مشائخ اور اکابرین اسلام نے دین و شریعت کا علم حاصل کرنے والوں کی عزت و احترام کے لئے اس لفظ کو علماء دین کے لئے اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے کہ اب یہ لفظ ان کی پہچان اور قریب قریب ان کے لئے مختص ہو گیا ہے‘ حتی کہ جب بھی ”مولانا“ کا لفظ کہا جاتا ہے تو ایک عامی آدمی کا ذہن بھی فوراً اس طرف جاتا ہے کہ یہ شخص قرآن و حدیث‘ فقہ اور ان سے متعلقہ علوم کا ماہر یا ان کو جاننے والا عالم دین ہی ہو گا۔ چونکہ ایسے دین بیزار طبقہ کا مقصد قرآن کو سمجھنا اور اپنے آپ کو قرآن کے تابع بنانا نہیں ہوتا بلکہ ان کا منشور دین کے مسلمہ اصولوں سے انحراف اور الحاد ہوتا ہے‘ چاہے انہیں اس کے لئے قرآن کریم میں تحریف و تلبیس کرنا پڑے یا ایک آیت کو اپناکر قرآن کریم کی دوسری آیات سے اعراض وانکار کرنا پڑے‘ یہ لوگ اس سے بھی دریغ نہیں کرتے‘ حالانکہ مفسرین کا اصول ہے کہ: ” القرآن یفسر بعضہ بعضاً “ کہ قرآن کریم کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام عربی گرامر کے اصول و قواعد کی روشنی میں ہر لفظ کا معنی‘ مفہوم اور مصداق وہی متعین کرتے ہیں جو اس مقام کے مناسب ہوتا ہے۔ بے شک حقیقی "مولٰی" اللہ تعالیٰ ہے‘ اور کمال ولایت اسی کو زیبا ہے‘ جس معنی میں اللہ تعالیٰ کو "مولٰی" کہا جاتا ہے‘ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو ”مولٰی“ یا ”مولانا“ کہنا جائز نہیں، لیکن دوسرے معنی کے لحاظ سے غیر اللہ کو "مولٰی" کہنا جائز ہے‘ کیونکہ قرآن و حدیث میں یہ لفظ اللہ کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے : مثلاً : قرآن کریم میں ارشاد ہے: ۱:۔ ”وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ (النساء:۳۳) ”اور ہم نے سب کے لئے ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے چھوڑے ہوئے مال میں حق دار (یعنی وارث) مقرر کر دیئے ہیں،“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے میت کے ورثاء کو ”موالی“ فرمایا ہے‘ جو ”مولٰی“ کی جمع ہے۔ ۲:۔ ”وَضَرَبَ اللّهُ مَثَلاً رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لاَ يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلاَهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لاَ يَأْتِ بِخَيْرٍ “ (النحل:76) ”اور اللہ نے دو (ایسے) آدمیوں کی مثال بیان فرمائی ہے جن میں سے ایک گونگا ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے وہ (مالک) اسے جدھر بھی بھیجتا ہے کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، “ اس آیت میں غلام کے مالک کو ”مولٰی“ کہا گیا ہے۔ ۳:۔ ”وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا“ (مریم:۵) ”اور میں اپنے (رخصت ہوجانے کے) بعد (بے دین) رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں (کہ وہ دین کی نعمت ضائع نہ کر بیٹھیں) اور میری بیوی (بھی) بانجھ ہے“ اس آیت میں اپنے قرابت داروں کو ”موالی“ کہا گیا ہے جو ”مولیٰ“ کی جمع ہے۔ ۴:۔ ”فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ“ (الاحزاب:۵) ”پھر اگر نہ جانتے ہو ان کے باپ کو تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور رفیق ہیں۔“ اس آیت میں وہ مسلمان بھائی جن کے والد کا علم نہیں‘ ان کو "مولیٰ" یعنی دوست کہہ کر بلانے کا حکم ہے۔ ۵:۔ ”مَأْوَاكُمُ النَّارُ هِيَ مَوْلَاكُمْ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ“ (الحدید:۱۵) ”تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور یہی (ٹھکانا) تمہارا مولا (یعنی ساتھی) ہے، “ اس آیت میں کافروں سے کہا گیا کہ دوزخ کی آگ تمہارا ”مولی“ یعنی رفیق ہے۔ 6:۔ ’فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ“ (التحریم:4) ترجمہ:۔”اگر تم دونوں نے اس بات پر ایک دوسرے کی اعانت کی (تو یہ نبی مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے باعثِ رنج ہوسکتا ہے) سو بیشک اللہ ہی اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد (سارے) فرشتے بھی (اُن کے) مددگار ہیں“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ‘ حضرت جبریل اور نیک مسلمانوں کو پیغمبرِ اسلام کا مولیٰ یعنی دوست فرمایا گیا ہے‘ ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو مولا‘ یا مولانا کہنا صحیح اور درست ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی زبان مبارک سے اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو ”مولا “ اور ”مولانا “ فرمایا ہے‘ جیسا کہ کئی احادیث مبارکہ اس پر شاہد ہیں: ۱:۔ ”عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: مولی القوم من انفسہم۔“ (بخاری‘ ج:۲‘ص:۱۰۶۴) ترجمہ: ۔”حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم کا شمار ہوگا۔“ اس حدیث میں قوم کے آزاد کردہ غلام کو ”مولی“ کہا گیا ہے۔ ۲:۔ ”کان سالم مولی ابی حذیفة یؤم المہاجرین الاولین واصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔“ (ایضاً) ترجمہ: ”سالم جو ابو حذیفة رضی اللہ عنہ کے غلام تھے‘ مہاجرین اولین اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی امامت کراتے تھے۔“ اس حدیث میں صحابہ کرام نے حضرت سالم کو ”مولیٰ ابی حذیفہ“ کہا ہے۔ ۳:۔ امام بخاری نے باب مناقب بلال ابن رباح مولی ابی بکر کے عنوان سے باب قائم کیا ہے۔ (بخاری‘ ج:۱‘ ص:۵۳۰) ۴:۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو فرمایا: ”انت اخونا و مولانا۔“ (بخاری ج:۱‘ ص:۵۲۸) یعنی آپ ہمارے بھائی اور آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان تمام آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ سے صراحتاً یہ ثابت ہوا کہ اگرچہ حقیقی ”مولیٰ“ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ وہی کامل و اکمل مولیٰ ہے‘ لیکن اس کے باوجود قرآن و حدیث میں مولیٰ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں پر بھی کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ قرآن و حدیث اور اجماع امت سے اللہ کے علاوہ دوسروں کو ”مولانا“ کہنے کا جواز ثابت ہوتا ہے ------------------------------------------------------ الحديث رواه البخاري في صحيحه - ( 2552 ) – وليس فيه تلك اللفظة المنكرة التي استدل بها الصوفية على رقصهم . ونص روايته : " ... فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَحَقُّ بِهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي ، وَقَالَ جَعْفَرٌ : ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي ، وَقَالَ زَيْدٌ : ابْنَةُ أَخِي ، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ : ( الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ ) وَقَالَ لِعَلِيٍّ : ( أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ) وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : ( أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ) وَقَالَ لِزَيْدٍ : ( أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا ) . انتهى --------------------------------------------------------- «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا» (You are our brother and our freed servant.) This Hadith contains a number of rulings, the most important of which is that the Prophet ruled according to the truth, and that he sought to appease all the disputing parties. His saying to Zayd, may Allah be pleased with him «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا» میرے لئے آپ دونوں قابل احترام ھیں یہ میں نے کچھ معلومات شیئر کی ھے اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو مجھے اس سے اگاہ کر سکتے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#42 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
السلام علیکم بھائی کنعان مراسلہ نمبر انتالیس 39 دیکھ لیں اور ٹائم پر بھی نظر رکھئے گا، کیوں کہ یہ عبارت آپ نے بھائی عبداللہ حیدر کے جواب کے دو گھنٹے بعد لکھی ھے۔۔۔؟ میرے خیال میں جو بات آپ نے بعد میں لکھی ھے حدیث سے متعلق وہ بھائی عبداللہ پہلے ہی لکھ چکے تھے ، بحرحال شکریہ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | کنعان (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#43 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میں اپنی سعادت سمجھتا ھوں کہ پاک نیٹ پر پہلے دن سے ہی آپ کی عزت کرنے کا جی چاھتا تھا ، مجھے سمجھ نہیں تھی کہ اس کی وجہ کیا ھے ، الحمداللہ آج آپ کی تحریر دیکھ کر دل میں ٹھنڈک محسوس کرتا ھوں کہ میں نے انجانے میں بھی اک سید زادے سے ہی محبت محسوس کی ، اور اللہ سے آپ کے علم و نیک عمل میں برکت و اضافہ کی دعا ھے ، آمین اور بھائی عبداللہ حیدر آپ سے درخواست ھے کہ مجھ کو کم ازکم اک بار اپنی خاص دعا میں ضرور یاد کرلیجئے گا ، یقینًا اللہ تعالٰی قبول فرمائیں گے، جزاک اللہ خیرا والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | کنعان (14-03-10), عبداللہ حیدر (14-03-10) |
|
|
#44 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللہ ساہج بھائی
بارک اللہ السید عبداللہ حیدر اللھم صل علٰی محمد و علی آل محمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#45 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (البقرۃ 206) "اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے خوف کر تو اس کی (عزت اور) غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے" میں نے جان بوجھ کر اس حدیث کی کوئی تشریح نہیں کی تھی کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس نکتے کو تدریج کے ساتھ سمجھایا جائے تو جلد سمجھ آ جاتی ہے، آپ نے کافی تفصیل لکھ دی ہے، اگرچہ اس کے تمام مندرجات سے مجھے اتفاق نہیں ہے لیکن زیربحث نکتےکو سمجھنے کے لیے اس میں کافی کچھ موجود ہے۔ جزاک اللہ خیرا والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, earth, mankind, over, remember, ہوتا, کوئی, کس, پہلے, پیارے, وسلم, قرآن, لوگ, نام, ماں, ایمان, اللہ, احمد, دوست, دعا, زندگی, سوال, شخص, عرش, صاف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 14-08-09 12:01 AM |