| ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کمی وقت کے سبب معذرت کے ساتھ تصویر ارسال کر رہا ہوں
انشا اللہ آخری مضمون کے ساتھ مکمل پی ڈی ایف برقی کتابچہ بھی نتھی کر دوں گا اگر اُس کا حجم اجازت شدہ حد میں رہا تو ۔ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | وسیم (19-09-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
پہلے مضمون کا دوسرا حصہ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
پہلے مضمون کا تیسرا آخری حصہ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماہِ رمضان اور ہم 2
روزہ ، کیوں ،کیا اور دیگر مسائل : روزے کی اصل اور حقیقی حِکمت ' ( یآ اَیّھا الَّذین اَمَنُوا کُتِبَ عَلِیکُم الصَّیامَ کَما کُتِبَ عَلیٰ الذیِنَ مِن قَبلِکُم لعلَّکُم تَتَّقُونَ) ( اے لوگوں جو اِیمان لائے ہو ، تُم پر روزے لکھ دیے(یعنی فرض کر دیے) گئے ہیں ، جیسا کہ تُم سے پہلے والوں پر لکھے گئے ، تاکہ تُم تقویٰ اِختیار کرو)البقرہ ، آیت ١٨٣ اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان میں روزوں کی فرضیت کے حُکم کے ساتھ ساتھ اِس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ روزے کے ذریعے اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ترک کرنامطلوب ہے ، یہاں یہ بات بہت ہی اچھی طرح سے سمجھ کر یاد رکھنے کی ہے کہ صِرف بھوکا پیاسا رہنا ہی روزہ نہیں ، اور نہ ہی یہ مطلوب ہے کہ اللہ کی رضا مندی کے عِلاوہ کِسی اور مقصد کےلیے خود کو کھانے پینے سے روک لیا جائے، اگر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ علیہ الصّلاۃُ و السّلام کے احکامات کی پابندی نہ کی جائے تو اللہ کو کِسی کے بھوکے پیاسے رہنے کی ضرورت نہیں ہے ، رسول اللہ علیہ الصّلاۃُ و السّلام کا فرمان ہے ::: ( مَن لَم یَدعَ قولَ الزُورِ و العَملَ بِہِ فَلیس للّہِ حاجۃٌ اَن یَدَع طعامَہُ و شرابَہُ ) ( جِس نے جھوٹ بولنا اور اُس پر عمل نہیں چھوڑا اللہ کو اُس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ) صحیح البخُاری ، حدیث ١٩٠٣ حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری میں اِمام ابن بطال کا یہ قول نقل کیا '' اِس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ روزہ رکھنا چھوڑ دیا جائے ، بلکہ یقینا اِس کا معنیٰ جھوٹ بولنے اور اُس پر عمل کرنے سے روکنا ہے '' اور اِمام البیضاوی کا یہ قول نقل کیا '' اللہ کو اُسکی ضرورت نہیں'' سے مُراد اللہ کی طرف سے غیر مقبول ہونا ہے '' ابو ھُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ علیہ الصّلاۃُ و السّلام نے فرمایا( لَیسَ الصَّیامُ مِنَ الاکلِ و الشُّربِ ، اِنَّمَا الصَّیامُ مِنَ اللَّغُوِ والرَّفثِ ، فَاِن سَابَّکَ اَحَدٌ اَو جَھِلَ عَلِیکَ فَقُل اِني صائمٌ ) ( روزہ صِرف کھانے پینے کا نہیں ، بلکہ بلا شک روزہ فحش کلامی کرنے سے ہے ، اور اگر کوئی تُمہیں گالی دے یا تُمہارے ساتھ بدتمیزی کرے تو تُم کہو میں روزے میں ہوں ) مُستدرک الحاکم حدیث ، ١٥٧٠ ، اِمام الذہبی نے التلخیص میں اِمام الالبانی نے صحیح الجامع الصغیر ( ٥٣٧٦ ) میں اِس حدیث کو صحیح قرار دِیا ۔ ** کیا آپ اُن میں سے تو نہیں جِن کے روزہ رکھنے کی وجہ صِرف یہ نہیں ہوتی کہ اللہ کی طرف سے فرض ہے بلکہاُن کا مطمع نیت صحت کی بہتری ، کچھ دبلا ہونا وغیرہ بھی ہوتا ہے ؟ کیا آپ اُن روزہ داروں میں سے تو نہیں جو اپنے پیٹ کی خواہشات کو تو روک لیتے ہیں مگر نفس کی خواہشات پرکوئی روکاوٹ نہیں لگاتے ؟ ** کیا آپ اُن میں سے تو نہیں جو روزے کی وجہ سے اپنی زُبان کو کھانے پینے کے ذائقے سے تو باز رکھتے ہیں مگر،،،،جھوٹ ،غیبت ، چُغلی ، گالی گلوچ اور گندی واہیات باتوں سے باز نہیں رکھتے ؟ ** روزہ لگ رہا ہے ، ذرا وقت گزاری اور دہیان بدلنے کے لیے کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھ لیا جائے ، جِسم کا تو روزہ ہے روح کو ہی خوارک مہیا کی جائے، کوئی موسیقی گانا وغیرہ سُنا جائے ، اگر دین اور اِسلام کا خیال آ گیا تو موسیقی کی تال پر گائی ہوئی نعتیں ، قوالیاں ، کوئی عارفانہ کلام ، سُن لیا جائے **** کیا آپ اُن میں سے تو نہیں ہیں جو روزے کی شدت کو دور کرنے کے لیے آنکھوں اور کانوں کا زنا کرتے ہیں ؟ ( موسیقی کو روح کی خوراک کہہ کر شیطان نے بنی آدم کو اِس راہ پر لگا رکھاہے ، موسیقی والے درس میں اِس کا ذِکر تفصیل سے کیاگیا تھا ، اور وہ اب کتابی شکل میں بھی موجود ہے ) ** اگر آپ اِن میں سے ہیں تو آپ کی بھوک پیاس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ، اور اگر آپ اِن میں سے نہیں توپھر آپکی بھوک پیاس اِنشاء اللہ آپ کے لئیے فائدہ مند ہو گی ۔ ** ابوہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِذا دخَلَ شھرُ رمضانُ فُتِحت اَبوابُ السَّماءِ وغُلِّقت اَبوابُ جھنَّمَ و سُلسِلَت الشیٰطین )( جب رمضان داخل ہوتا ہے تو شیطانوں کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیںاور آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ) صحیح البُخاری حدیث ، ١٨٩٩ ، اور صحیح مُسلم کی ایک روایت میں جنت کے دروازے کُھلنے اور آگ کے دروازے بند ہونے کا ذِکر ہے اور دوسری روایتمیں رحمت کے دروازے کُھلنے اور جہنم کے دروازے بند ہونے کا ذِکر ہے ، ( حدیث ، ١٠٧٩ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور کوئی کام جو صحیح سند کے ساتھ ہم تک پُہنچا ہو اُس فرمان یا کا م کا انکار کرنا بِلا شک کُفرہے ، اور مذکورہ بالا حدیث بِلا شک صحیح ہے ، اب ذرا اِس صحیح حدیث کی روشنی میں غور فرمائیے کہ ::: ** رمضان میں شیاطین تو باندھ دیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی مُسلمان گناہوں میں ملوث نظر آتے ہیں اور بڑی کثرت سے نظر آتے ہیں !!! ** رحمت اور جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پھر بھی اِن کُھلے دروازوں پر داخلے کے خواہش مند کم کم ہی دِکھائی دیتے ہیں!!! ** آگ اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں پھر بھی اُن پر جم غفیر نظر آتا ہے !!! ** کون ہے جو اُنہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر مائل کرتا ہے ؟؟؟؟؟ ** کیا اُنکے دِلوں میں اِیمان اِنتہائی کمزور نہیں ہو چُکا ؟ ** کون ہے جو اُنہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر مائل کرتا ہے ؟؟؟؟؟ ** کیا اُنکے دِلوں میں اِیمان اِنتہائی کمزور نہیں ہو چُکا ؟ ** کیا وہ اِس وسوسے کا شکار نہیں کہ فجر سے مغرب تک بھوکا پیاسا رہنا ہی روزہ ہے ، باقی سب کُچھ حسبِ معمول جاری رہے تو کوئی حرج نہیں ؟ ** کیا اُنکے دِل و دماغ شیطان کے اتنے تابع فرمان نہیں ہو چکے کہ خود بخود ہی اُسکی راہ پر چلتے جا رہے ہیں ؟ ** کہیں آپ بھی تو اُن میں سے نہیں ؟ اللہ نہ کرے کہ اِس کا جواب ''' جی ہاں ''' ہو اور اگر ایسا ہے تو پھر رمضان توبہ کر کے اللہ کی مغفرت حاصل کرنے کا سُنہری موقع(Golden Chance )ہے ،اِس موقع سے فائدہ اُٹھائیے ۔ ( وَسَارِعُوا اِلَی مَغفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُم وَجَنَّۃٍ عَرضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالاَرضُ اُعِدَّتْ لِلمُتَّقِینَ ) ( اور جلدی بھاگو اللہ کی طرف سے مغفرت کی طرف اور جنّت (کی طرف ) جِس کی چوڑائی (تمام ) آسمانوں اور زمین کے برابر ہے (اور) جو تقویٰ والوں کے لیے تیار کی گئی ہے) آل عمران /آیت ١٣٣ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ::: ماہ رمضان اور ہم 2 ::: روزہ کیوں ؟ کیا؟ اور دیگر اہم مسائل
:::::: روزے کے فائدے :::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( الصِّیَامُ جُنَّۃٌ فلا یَرفُث ولا یَجہَل وَاِن امرُؤٌ قَاتَلَہُ اَو شَاتَمَہُ فَلیَقُل اِنی صَائِمٌ مَرَّتَینِ وَالَّذِی نَفسِی بیدہ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطیَبُ عِندَ اللَّہِ تَعَالَی من رِیحِ المِسکِ یَترُکُ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ وَشَہوَتَہُ مِن اَجلِی الصِّیَامُ لی واَنا اَجزِی بِہِ وَالحَسَنَۃُ بِعَشرِ اَمثَالِہَا )((١)روزہ (جہنم کے عذاب کے سامنے)ڈھال ہے ، لہذا روزہ دار نہ تو ہمبستری کرے اور نہ ہی جہالت (والا کوئی کام جیسا کہ ) اور اگر کوئی اُسکے ساتھ لڑائی کرے یا گالی دے تو روزہ دار دو دفعہ کہے میں تو روزے میں ہوں ، اور اُسکی قسم جِس کے ہاتھ میں میری جان ہے (٢)روزہ دار کے مُنہ کی بو اللہ کے ہاں مِسک کی خُوشبُو سے زیادہ پاکیزہ (یعنی محبُوب ) ہے (٣۔اللہ کہتا ہے ) روزہ دار میرے لیے اپنا کھانا ، پینا ، اور خواہشات چھوڑتا ہے ، روزہ میری خاطر ہے (تو ) میں ہی اُسکا ثواب دوں گا اور ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہے ) صحیح البُخاری،حدیث ١٧٩٥ /کتاب الصوم/باب٢ ، صحیح مُسلم ، حدیث ١١٥١ /کتاب الصیام /باب ٣٠ **** روزہ دار یعنی روزہ رکھنے والے کی عِزت **** سھل بن سعد رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِنَّ فی الجَنَّۃِ بَابًا یُقَالُ لہ الرَّیَّانُ یَدخُلُ منہ الصَّائِمُونَ یوم القِیَامَۃِ لَا یَدخُلُ منہ اَحَدٌ غَیرُہُم یُقَالُ اَینَ الصَّائِمُونَ فَیَقُومُونَ لَا یَدخُلُ منہ اَحَدٌ غَیرُہُم فاِذا دَخَلُوا اَُغلِقَ فلم یَدخُل منہ اَحَدٌ ) (بے شک جنّت میں ایک دروازہ ہے جِس کا نام الرّیّان ہے ، اُس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے اور اُن کے عِلاوہ کوئی بھی اور داخل نہیں ہو(سکے)گا ، ( اللہ کی طرف ) کہا جائے گا ، کہاں ہیں روزہ دار ؟، تو روزہ دار اُٹھ کھڑے ہوں گے ، اُس دروازے میں سے اُن روزہ داروں کے عِلاوہ کوئی بھی اور داخل نہیں ہوگا اور جب وہ روزہ دارداخل ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور (پھر ) کوئی اُس میں سے داخل نہیں ہو (سکے ) گا)صحیح البخاری ، حدیث ١٧٩٧/ کتاب الصوم /باب٤، صحیح مُسلم ، حدیث١١٥٣/ کتاب الصیام / باب ٣١ ۔ ۔۔۔۔۔ نفلی روزہ ہو یا فرض ، روزے کے فائدے اور عِزت و اِکرام ہر روزہ دار کے لیے ہے ،ہر اُس روزہ دار کے لیے جِس کا روزہ صِرف اللہ کی رضا کے لیے ہو اور جِس روزہ میں کوئی نافرمانی نہ ہو۔ **** بغیر جائز سبب کے روزہ خوری کرنے والے کا انجام **** ابی امامہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بَینا اَنا نَائمٌ اِذ اَتاَنی رَجُلان فاَخَذَا بضبُعَی َّ فاَتَیا بی جَبَلًا وَعْراً فَقالَا لی: اصعَدْ، فَقُلْتُ اِنی لَا اَطِیْقُہُ فَقَالاَ اِناَّ سَنَسْہِلُہُ لَکَ فَصْعدت حَتٰی اِذا کُنْتُ فی سَواء الْجبل اِذا اَنَا باَصواتٍ شَّدیدۃٍ فقُلتُ ما ہذہِ الاَصوات قالوا ہذا عُواءٍ اَہلِ النَّارِ ثُّمَ انطَلقَ بِیَّ فَاِذا اَنَا بِقومٍ مُعلِقِینَ بِعِراقِیبِہِم مُشَقَّقۃً اَشدَاقُہُم تَسِیلُ اَشدَاقُہُم دَماً قال قُلتُ مَن ہَؤلاءِ قال ہَؤُلاءِ الَّذِینَ یُفطِرُونَ قَبلَ تَحِلَّۃِ صَومِہِم) ( میں سو رہا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے اور مجھے بازوں سے تھام کر ایک مشکل چڑھائی والے پہاڑ کے پاس لے گئے اور کہا ::: اِس پر چڑھیے ::: میں نے کہا ::: میں نہیں چڑھ سکتا ::: اُنہوں نے کہا ::: ہم آپکے لیے سہولت مہیا کریں گے ::: لہذا میں چڑھ گیا ، جب چوٹی پر پہنچا تو شدید (چیخ و پکار کی ) آوازیں سنِیں ، میں نے پوچھا ::: یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ ::: اُنہوں نے کہا ::: یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے ::: پھر وہ مجھے لیکر چلے، تو میں ایسے لوگوں میں پہنچا جو اپنی ایڑیوں کے اوپر والے پٹھوں کے ذریعے اُلٹے لٹکے ہوئے تھے ( جیسے بکرے یا گائے وغیرہ کو ذبح کرنے کے بعد لٹکایا جاتا ہے ) اور اُن کے منہ پہلوں سے کٹے ہوئے تھے ، اور وہاں سے خُون بہہ رہا تھا ، میں نے پوچھا ::: یہ کون ہیں؟ ::: اُن دونوں نے جواب دِیا ::: یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ حلال ہونے سے پہلے ہی کھا پی لیتے تھے) المُستدرک الحاکم ، حدیث ١٥٦٨، تعلیقات الحسان علیٰ صحیح ابن حبان ، آخری حدیث ، صحیح ابن خُزیمہ ، حدیث ١٩٨٦ وہ لوگ جو افطار کے وقت سے پہلے خواہ ایک آدھ منٹ پہلے بغیر کسی جائز سبب کے روزہ کھول لیتے ہیں ، اور وہ جو بغیر کسی جائز سبب کے روزہ رکھتے ہی نہیں اُن کی سزا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دی ، اِس صحیح حدیث میں کچھ اور کاموں کا انجام بھی بتایا گیا ہے لیکن طوالت کے ڈر سے اور رواں موضوع تک محدود رہنے کے لیے اِس کو پورا نقل نہیں کر رہا ہوں ، |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ::: ماہ رمضان اور ہم 2 ::: روزہ کیوں ؟ کیا؟ اور دیگر اہم مسائل
**** رمضان کا روزہ چھوڑنے کا مسئلہ **** اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( شَہرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ اَُنزِلَ فِیہِ القُرآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الہُدَی وَالفُرقَانِ فَمَن شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہرَ فَلیَصُمہُ وَمَن کَانَ مَرِیضاً اَو عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّن اَیَّامٍ اَُخَرَ یُرِیدُ اللّہُ بِکُمُ الیُسرَ وَلاَ یُرِیدُ بِکُمُ العُسرَ وَلِتُکمِلُوا العِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُم وَلَعَلَّکُم تَشکُرُون) ( رمضان کا مہینہ (وہ ہے ) جِس میں قُران نازل کیا گیا (قُران )جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جِس میں ہدایت کی اورحق و باطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں ہیں ، لہذا تم میں سے جو کوئی اِس مہینے کو پائے تو اِسکے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ (صحت یاب ہونے یا سفر ختم ہونے کے بعد ، چھوڑے ہوئے روزوں کے بدلے ) اور دِنوں میں روزے رکھے ، اللہ تُم لوگوں کے لیے نرمی چاہتا ہے اور تُم لوگوں کے لیے سختی نہیں چاہتا اور (یہ)اِس لیے کہ تُم لوگ (رمضان کے روزے رکھنے میںاُن کی) گنتی پوری کر لو اور اللہ کی عطا فرمائی ہوئی ہدایت پر اُس کی بڑائی بیان کرو اور تا کہ تُم اللہ کا شُکر ادا کرو ) سورت البقرہ / آیت ١٨٥ کِسی بیماری کی وجہ سے یا سفر پر ہونے کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوڑنے کی اجازت ہے ، یہاں دو باتیں قابلِ غور ہیں (١) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( عَلَی سَفَر )یعنی جب تک سفر پر ہو سواری پر نہیں ، سفر صِرف سواری پر ہونے یا چلنے پھرنے کی حالت نہیں ، ایسی حالت کو فی سفرٍ کہا جاتا ہے ، پس اگر کوئی پورا مہینہ بھی سفر پر ہو تو وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتا ہے اور (٢) سفر ختم ہونے کے بعد جتنے روزے چھوڑے رکھنا فرض ہے، اور اُن کا کوئی کُفارہ نہیں۔ سفر کتنی مسافت کے بعد شروع ہوتا ہے یا کتنی مسافت طے ہونے کے بعد سفر کا حُکم ہو گا اِس معاملے میں بہت باتیں کی گئی ہیں لیکن سُنّتِ مُبارک میں ایسی کوئی کسوٹی نہیں ملتی جو مسافت یا فاصلے کو طے کرتی ہو بلکہ معاملہ نیّت پر منحصر ہے ، اِس موضوع پر بات پھر کبھی اِنشا اللہ تعالیٰ۔ **** مسافر رمضان کا روزہ چھوڑے یا رکھے ، چھوڑنے کی صُورت میں کوئی کُفارہ نہیں **** اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ حَمزہ بن عَمروْ الاسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ::: کیا میں سفر میں روزہ رکھوں ؟ ::: اور حمزہ بہت روزے رکھا کرتے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِن شِئتَ فَصُم و اِن شِئتَ فَاَفطِر ) ( اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو افطار کرو ) صحیح البخاری ، حدیث ١٨٤١ /کتاب الصوم / باب ٣٣ ، صحیح مسلم ، حدیث ١١٢١/ کتاب الصیام / باب ١٧ ابی سعید الخُدری رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ( ہم سولہ ١٦ رمضان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جِہاد کے سفر پر نکلے اور ہم میں سے روزہ دار بھی تھے اور بغیر روزے کے بھی ، لیکن نہ کِسی روزدار نے کِسی بغیر روزے والے پر اعتراض کیا اور نہ بغیر روزے والے نہ روزہ دار پر ) صحیح مُسلم ، حدیث ١١١٦ /کتاب الصیام / باب ١٥ ۔ **** حیض (ماہواری ) نفاس اور دودھ پلانے کی صورت میں روزے کا حُکم **** ابی سعید الخُدری رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اَلَیسَ اِذا حَاضَت لم تُصَلِّ ولم تَصُم فَذَلِکَ نُقصَانُ دِینِہَا ) ( کیا ایسا نہیں ہے ( یعنی ایسا ہی تو ہے ) کہ عورت جب حیض (ماہواری) میں ہوتی ہے تو نہ ہی نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہے ، اور اِس طرح یہ عورت کے دِین میں کمی ہے ) صحیح البخاری ، کتاب الصوم / باب ٤٠ ، اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اِس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ( کَان یُصِیبُنَا ذلک فَنُؤمَرُ بِقَضَاء ِ الصَّومِ ولا نُؤمَرُ بِقَضَاء ِ الصَّلَاۃِ ) ( (رسول اللہ کے ساتھ ) ہم میں سے کِسی کو یہ موقع پیش آتا تھا تو ہمیں روزوں کی قضاء کاحُکم تو دِیا جاتا تھا لیکن نماز کی قضاء کا نہیں ) صحیح مُسلم ، حدیث ٣٣٥ /کتاب الحیض / باب ١٥ ، انس ابن مالک الکعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِنَّ اللَّہَ عز وجل وَضَعَ عَن المُسَافِرِ شَطرَ الصَّلَاۃِ وَعَن المُسَافِرِ وَالحَامِلِ وَالمُرضِعِ الصَّومَ ) ( اللہ عز و جل نے مسافر کے لیے روزہ (سفر کے بعد ) رکھنے اور (دوران سفر ) نماز آدھی کرنے کی اجازت دی ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو (خطرے کی صورت میں) روزےنہ رکھنے کی چھوٹ دی ہے ) صحیح سنن الترمذی ، حدیث٥٧٥ ، حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت اگر اپنی یادودھ پینے والے بچے کی جان کے خطرے کے باعث روزہ چھوڑتی تو اُس پر قضاء نہیں ہے جیسا کہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ( اگر حاملہ عورتروزے کی وجہ سے اپنی جان پر خطرہ محسوس کرتی ہے اور دُدوھ پلانے والی اپنے بچے کے لیے خطرہ محسوس کرتی ہے تو روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے کِسی غریب کو کھانا کِھلائے اور اِن دونوں عورتوں پر کوئی قضاء نہیں ) امام الابانی نے کہا ـ''' یہ حدیث طبرانی نے روایت کی ہے اور اِس کی سند امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے ''' ، الاِرواءُ الغلیل، جلد ٤ ، صفحہ ١٩ ۔ **** ہو سکتا ہے کِسی ذہن میں خیال آئے کہ حیض اور نفاس میں روزے کی قضاء کیوں اورنماز کی قضا ء کیوں نہیں ، گو کہ اِس قسم کی باتوں کے جواب میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن اُمت کے اماموں نے بہت اچھی نصحیت کی ہے کہ منطق و فلسفہ کا جواب منطق و فلسفہ سے دینے کی بجائے قران اور صحیح حدیث سے دِیا جائے اور کوئی مانے یا نہ مانے ہم اِس کے ذمہ دار نہیں ، دِین کے احکامات قُبُول کرنے عقل و فلسفہ و منطق کی کسوٹی پر نہیں پرکھے جاتے بلکہ قُبُول کرنا فرض ہوتا ہے ، جی ہاں سمجھنے کے لیے اُنہیں کِسی بھی زاویے سے دیکھا جائے لیکن اِس شرط پر کہ اگر اپنی ناقص سمجھ میں نہ آ پائیں تو اُن کو غلط نہ جانا جائے بلکہ اپنی اصلاح کی جائے ، پس دِین کے احکامات عقل کے مُطابق قُبول نہیں کیے جاتے بلکہ قُران و صحیح سُنّت سے ثابت ہونے کی بنا پر قبول کیے جاتے ہیں اور اپنی عقل کو اُن کا تابع بنانا ہوتا ہے ، گو کہ یہ بات چلتے چلتے آ گئی لیکن جب آ ہی گئی تو ایک دو دلائل بھی ملاحظہ فرما بھی ہے کہ حیض والی عورت روزوں کی قضاء ادا کرے گی اور نماز کی نہیں''' ابو الزناد، عبداللہ بن ذکوان فقیہ مدینہ ، تابعی ہیں۔ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ، تمام پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ ابھی کوئی جواب یا ملاحظہ نہ ارسال کریں کیونکہ کچھ او اہم مسائل ارسال کرنا ہیں انشا اللہ دو چار دِن میں ارسال کر دوں گا اور بہت ہی مناسب ہو گا کہ ایک موضوع کے تمام مسائل ایک تسلسل میں دِکھائی دیں ، موضوع کے اختتام کے بعد ہر کوئی بھی پڑھنے والا اپنا مراسلہ ارسال کرے ۔ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،، السلام علیکم ، طلبگارِ دُعا ، عادل سہیل ظفر ۔ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماہ رمضان اور ہم 2 ::: روزہ کیوں ؟ کیا ؟ اور دیگر اہم مسائل:::
گذشتہ سے پیوستہ ::: بوڑھوں اور مریضوں کے روزوں کا حُکم ::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ( رُخِّصَ لِلشَّیخِ الکَبِیرِ اِن یُفِطرَ ویُطعِمَ عَن کُلِّ یَومٍ مَسکِینًا وَلا قَضَاءَ عَلِیہِ ) ( بوڑھے آدمی کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ( اِس صُورت میں کہ ) وہ ہر روزے کے بدلے میں کِسی غریب کو کھانا کِھلائے (اُسکے لیے اتنا ہی کافی ہے ) اور اُس پر کوئی قضاء نہیں ) المُستدرک الحاکم ، حدیث ١٦٠٧/کتاب الصوم ، اِمام الذہبی نے '' التلخیص '''کہا ، حدیث حسن ہے ، اللہ تعالیٰ کے فرمان ( وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَہُ فِدیَۃٌ طَعَامُ مِسکِینٍ) سورت البقرہ / آیت ١٨٤کی تفسیر میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ( لَا یُرَخَّصُ فی ہذا اِلا لِلَّذِی لَا یُطِیق ُ الصِّیَامَ اَو مَرِیضٍ لَا یُشفَی ) ( اِس معاملے میں (یعنی روزے رکھنے کی بجائے فدیہ دینا ) صِرف اُن کو اجازت دی جائے گی جو روزہ رکھنے کی (جسمانی ) طاقت نہ رکھتے ہوں یا ایسا مریض جِس کی بیماری ختم ہونے کی اُمید بھی نہ ہو) سُنن النسائی المجتبیٰ ، حدیث ٢٣١٦ / کتاب الصیام / باب ٦٣، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ، الاِرواءُ الغلیل، حدیث ٩١٢ کی تخریج و شرح ۔ ::: روزے کی حالت میں ہم بستری کا حُکم ::: اللہ تعالیٰ کا فرمان ( اُحِلَّ لَکُم لَیلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِِلَی نِسَآئِکُم ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُم وَاَنتُم لِبَاسٌ لَّہُنَّ ) ( رمضان کی راتوں میں تم لوگوں کے لیے اپنی عورتوں سے ہم بستری حلال کر دی گئی ہے وہ تمہارا لباس ہیں اور تُم اُنکا لباس ہو ) سورت البقرہ آیت ١٨٧ اللہ تعالیٰ نے اِس فرمان میں رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں (بیویوں ، باندیوں ، باندی یا لونڈی کا مطلب خادمہ یا نوکرانی نہیں ، بلکہ زر خرید عورت ہے یا جو کافر عورت میدانِ جِہاد میں مسلمانوں کے ہاتھ لگی ہو اور خلیفہ کی طرف سے کِسی کو دی گئی ہو) سے ہم بستری کرنے کی اجازت فرمائی ، ::: اِس آیت میں ایک اور معاملے کی بہت کھلی وضاحت ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے مکمل طور پر بے لباس ہو سکتے ہیں ، بہر حال یہ موضوع پھر کبھی انشا اللہ ، تو ، رمضان کی راتوں میں ہم بستری کرنا جائز ہے لیکن دِن میں یعنی روزے کی حالت میں ایسا کرنا گُناہ ہے اور اِ س سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے ، بَینَمَا نَحنُ جُلُوسٌ عِندَ النبی صلی اللَّہ عَلیہ وسلَّم اِِذ جَاء َہُ رَجُلٌ فقال یا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکتُ قال (ما لک )قال وَقَعتُ علی امرَاَتِی واَنا صَائِمٌ فقال رسول اللَّہِ صلی اللَّہ عَلیہ وسلَّم (ہل تَجِدُ رَقَبَۃً تُعتِقُہَا )قال لَا قال (فَہَل تَستَطِیعُ اَن تَصُومَ شَہرَینِ مُتَتَابِعَینِ) قال لَا فقال( فَہَل تَجِدُ اِِطعَامَ سِتِّینَ مِسکِینًا )قال لَا قال فَمَکَثَ النبی صلی اللَّہ عَلیہ وسلَّم فَبَینَا نَحنُ علی ذلک اُتِیَ النبی صلی اللَّہ عَلیہ وسلَّم بِعَرَقٍ فیہ تَمرٌ وَالعَرَقُ المِکتَلُ قال (اَینَ السَّائِلُ )فقال اَنا قال (خُذ ہذا فَتَصَدَّق بِہِ) فقال الرَّجُلُ اَعَلَی اَفقَرَ مِنِّی یا رَسُولَ اللَّہِ فَوَاللَّہِ ما بین لَابَتَیہَا یُرِیدُ الحَرَّتَینِ اَہلُ بَیتٍ اَفقَرُ من اَہلِ بَیتِی فَضَحِکَ النبی صلی اللَّہ عَلیہ وسلَّم حتی بَدَت اَنیَابُہُ ثُمَّ قال( اَطعِمہُ اَہلَکَ ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہا ::: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں مارا گیا ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ( کیا ہوا )اُس نے کہا ::: میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ( کیا تُم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو ؟ ) اُس نے کہا :: نہیں :: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ( کیا دو ماہ مسلسل روزے رکھ سکتے ہو ؟ ) اُس نے کہا :: نہیں :: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ( کیا ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلا سکتے ہو ؟ ) اُس نے کہا ::: نہیں :: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تشریف فرما رہے ، کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ( وہ سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ ) اُس نے کہا ::: جی میں حاضر ہوں ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( یہ کھجوریں لے جاؤ اور صدقہ کر دو ) اُس نے کہا ::: اے اللہ کے رسول کیا صدقہ اپنے سے زیادہ محتاجوں کو دوں ، اللہ کی قسم مدینہ میں کوئی گھر میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیے یہاں تک کہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑہیں مُبارک نظر آنے لگِیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اچھا چلو اپنے گھر والوں کو ہی کِھلا دو ) صحیح البخاری ، حدیث ١٨٣٤ / کتاب الصوم /باب ٣٠ ، ::: اپنی جنسی خواہش پر قابو رکھ سکنے والا بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے اور بغلگیر ہو سکتا ہے ::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ ( کان النَّبیُّ صَلی اللَّہُ عَلِیہ وَسلَّم یُقَبِّلُ وَیُبَاشِرُ وہو صَائِمٌ وکان اَملَکَکُم لِاِِربِہِ ) ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے (یعنی چومتے) اور بغلگیر ہوتے (یعنی گلے ملتے ) لیکن وہ سب سے زیادہ اپنی شہوت پر قابو پانے والے تھے ) صحیح البخاری ، حدیث ١٨٢٦ /کتاب الصوم/باب ٢٣۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ( کِسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کی حالت میں (بیوی یا لونڈی) سے بغلگیر ہونے کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اجازت دِی ، پھر ایک اور نے پوچھا تو اُسے منع فرما دِیا ، جِسے اجازت دِی تھی وہ بوڑھا آدمی تھا اور جِسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا )حدیث حسن، صحیح سنن ابو داؤد ، حدیث ٢٠٩٠۔ یعنی جو اپنی شہوت پر قابو نہیں رکھ سکتا اُسکے لیے روزے کی حالت میں بیوی یا لونڈی سے بغلگیر ہونا یا بوسہ لینا جائز نہیں۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::: اِن کاموں یا چیزوں سے روزہ کی درستگی پر کوئٰ فرق نہیں پرتا :::
(١) ::: بھول چوک سے کھا پی لینا ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِذَاَ نَسِیْ فَاَکَلَ وَشَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہ' فَاِنَّمَا اَطْعَمَہُ اللّٰہُ وَسَقَاہُ ) ( اگر کوئی بھول کر کھا پی لے تو اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے ) صحیح البخاری حدیث ١٨٣١ ، / کتاب الصوم / باب ٢٦ ، یعنی ایسا ہو جانے کی صورت میں روزہ خراب نہیں ہوتا۔ (٢) :::روزے میں مسواک کرنا :::عامربن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے (رَاَیْتَ النَبِّی صلی اللہ علیہ وسلم یَسْتَاکَ وَھُوَ صَائِمْ مَا لَا اُحْصِیْ اَوْ اَعُدُ) (میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں اتنی دفعہ مسواک کرتے دیکھا ہے کہ گن نہیں سکتا ) صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب ٢٧ کے عنوان میں ۔ (٣)::: سر میں تیل لگانا ، کنگھی کرنا::: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :'' جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں ہو تو اسے تیل کنگھی کر نا چاہیے ۔'' صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب ٢٥ (٤) ::: ناک میں دوائی وغیرہ ڈالنا اور سُرمہ لگانا ::: حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں '' روزہ دار کے لیے ناک میں دوا ڈال لینے میں کوئی حرج نہیں بشر طیکہ حلق تک نہ پہنچے ،نیز روزہ دار سرمہ بھی لگا سکتا ہے ۔'' صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب ٢٨ (٥) ::: ہنڈیا یا کوئی چیز چکھنا ::: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکا فرمان ہے '' روزہ دار ہنڈیا یا کسی دوسری چیز کا ذائقہ چکھ لے تو کوئی حرج نہیں '' صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب ٢٥ (٦) ::: اپنا تھوک نگلنا :::عطاء رحمۃ اللہ علیہ ، ( تابعی ہیں ) کا کہنا ہے ''روزہ دار اپنا تھوک نگل سکتا ہے '' صحیح البخاری / کتاب الصوم / باب ٢٥ (٧)::: روزہ دار کے اِرادے کے بغیر کِسی چیز کا حلق میں داخل ہو نا::: عطاء رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے ''اگر روزہ دار (وضو کرتے ہوئے ) ناک میں پانی داخل کرے اور کچھ پانی بغیر اُس کے اِرادے کے حلق میں چلا جائے تو کوئی حرج نہیں''، حسن رضی اللہ عنہ کہنا '' اگر مکھی روزے دار کے حلق میں چلی جائے تو کوئی حرج نہیں '' صحیح البخاری / کتاب الصوم /باب ٢٦ ، یہ معاملہ بغیر اِرادے کے چیز داخل ہونے کا ہے لہذا روزہ دار کو وضو کرتے ہوئے پانی ناک یا منہُ میں بہت احتیاط کے ساتھ داخل اور خارج کرنا چاہیئے ،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ::: لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے وضو کے بارے میں بتائیے ، تو اُنہوں نے فرمایا ( اَسبِغ الوُضُوء َ وَخَلِّل بین الاَصَابِعِ وَبَالِغ فی الِاستِنشَاقِ اِلا اَن تَکُونَ صَائِمًا ) ( وضو کو رنگ چڑھانے کی طرح کرو اور اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی چڑھایا کرو ، لیکن اگر روزے کی حالت میں ہو تو پھر ایسا نہیں کرو ) سنن ابو داؤد ، حدیث ١٢٤ /باب ٥٥ ، حدیث صحیح ، الاِرواءُ الغلیل ، حدیث ٩٣٥۔ ایسی دوائیاں جو ٹیکوں (انجکشنز) یا قطروں (ڈارپس) یا سونگھائی (ان ہیلنگ ) کے ذریعے استعمال کی جاتی ہیں ، یا منہُ کے اند ، دانت یا مسوڑھے یا زُبان وغیرہ پر لگائی جاتی ہیں اور جو حلق تک نہ پہنچتی ہوں اور نہ ہی پیٹ میں داخل ہوتی ہوں ، اور نہ ہی اُن کے داخلے کی وجہ سے جِسم کو غذائیت یا طاقت و توانائی پہنچتی ہو یا پیاس وغیرہ کو سہارا ملتا ہو ، کا حُکم بھی یہی ہے کہ اِن کے اِستعمال سے روزہ خراب نہیں ہوتا۔( بلا ضرورت ٹوتھ پیسٹ سے گریز کرنا بہتر ہے ، کیونکہ اِس سے روزہ دار کے منہُ کی بُو جو اللہ کو مسک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے جاتی رہتی ہے ، رہا مسواک کرنا تو وہ اللہ کی رضا کا سبب ہے )۔ (٨)::: گرمی کی شدت کی وجہ سے یا پیاس یا کسی اور سبب سے سر میں پانی ڈالنا ::: ابو بکر بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صحابی نے کہا ( لقد رَاَیْتُ النَبِی صلی اللَّہ عَلِیہ وسلم بِالعَرْجِ یَصُبٌ عَلَی رَاسِہِ المَاءَ وَھُوَ صَائِمٌمِنَ العَطَشْ اَوْ مِنَ الحَرِ) (میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے میں گرمی یا پیاس کی وجہ سے سر پر پانی بہا رہے تھے)سنن ابو داؤد ، حدیث٢٣٦٥/کتاب الصوم / باب ٢٧ ، صحیح ، المشکاۃ المصابیح ٢٠١١۔ (٩)::: بلا اِرادہ (احتلام یا کِسی اور سبب سے )منی یا مذی خارج ہونا ::: عبداللہ بن عباس اور ، عکرمہ رضی اللہ عنھم اجمعین کا کہنا ہے'' روزہ کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے جسم سے خارج ہونے سے نہیں ٹوٹتا ۔'' منی وہ سفید گاڑھا لیس دار مادہ ہے جو شہوت کی حالت میں قوت کے ساتھ شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے ، اور مذی سفید پتلا ہلکی لیس والا مادہ ہے جوپیشاب سے پہلے یا بعد میں شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے ۔ (١٠):::قے (اُلٹی) آنا ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مَن ذَرَعَہُ قَیء ٌ وہو صَائِمٌ فَلَیسَ علیہ قَضَاء ٌ وَاِِن استَقَاء َ فَلیَقضِ ) ( جِس روزہ دار کو خود قے ہو جائے تو اُس پر کوئی قضاء نہیں ، لیکن اگر وہ جان بوجھ کر قے کرے تو اُس روزے کی قضاء (ادا) کرے ) یعنی جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اُس کو قضاء کرنا پڑے گا یعنی پھر دوبارہ رکھنا ہوگا ۔صحیح ابو داؤد ، حدیث ٢٣٨٠۔ میں نے یہاںصرف اُن مسائل کو بیان کرنے پر اکتفاء کیا ہے جو عام طور پر پوچھے جاتے ہیں اور اکثر محض رائے کی بنیاد پر اُن کا جواب دیا جاتا ہے ۔ ماہ رمضان اور ہم 2 ::: روزہ کیوں ؟ کیا اور دیگر اہم مسائل ::: کا اختتام ہوا آگے انشاء اللہ ، سحری کے بارے میں بات ہو گی ۔ .................................................. .. میری والدہ شدید بیمار ہیں سب سے دُعا کی گذارش ہے ۔ السلام علیکم ورحۃُ اللہ و برکاتہُ ، عادَل سُہیل ظفر . |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماہ رمضان اور ہم ::: 3 ::: رمضان یا کوئی نیا مہینہ شروع کرنا :::
::: رمضان ( یا کِسی بھی اور اسلامی مہینے )کا آغاز کرنے کے لیے چاند کا دیکھا جانا ضروری ہے ::: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لَا تَصُو مُوا حَتَّی تَرَوُا الھِلاَلَ وَلَا تُفطِرُوا حَتَی تَرَوہُ فَاِن غُمَّ عَلَیکُم فَاقدُروُلَہُ )( چاند دیکھے بغیر روزے شروع نہ کرو اور چاند دیکھے بغیر رمضان ختم نہ کرو اگرموسم صاف نہ ہو تو مہینے کے تیس دن پورے کر لو) صحیح البخاری ، حدیث ١٨٠٧ / کتاب الصوم / باب ١١ ، صحیح مُسلم ، حدیث ١٠٨٠ / کتاب الصیام / باب ٢ ، ::: اسلامی مہینے کے دِن ٢٨ سے کم اور 30 سے زیادہ نہیں ہو سکتے ::: ( الشَّہرُ تِسعٌ وَعِشرُونَ لَیلَۃً فلا تَصُومُوا حتی تَرَوہُ فَاِن غُمَّ عَلَیکُم فَاکمِلُوا العِدَّۃَ ثَلَاثِینَ )( مہینہ ٢٩ رات کا ہوتا ہے ، لہذا جب تک تُم لوگ (چاند ) نہ دکھ لو روزہ مت رکھو اور اگر تُم لوگوں کو صاف نظر نہ آ سکے تو تیس (دِن ) کی گنتی پورے کرو ) صحیح البخاری ، حدیث ١٨٠٨ / کتاب الصوم / باب ١١ ، ::: صِرف ایک ایک مسلمان کی گواہی سے روزے شروع کیے جاسکتے ہیں ::: َ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ( تَرَآی اِنَّاسُ الھِلاَلَ فَاَخَبَرتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم انِیّ رَاَیتُہ ُ فَصَامَ وَامَرَ النَّاسَ بِصِیَامِہِ ) ( لوگوں نے چاند دیکھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے بھی چاند دیکھاہے چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ) صحیح ابو داؤد ، حدیث ٢٠٥٢۔ ::: چاند کے چھوٹا یا بڑا ہونے سے شک میں نہیں پڑنا چاہیے ::: عَن اَبِی البُختَرِیَّ رَضِیَ اللّٰہ ُ عَنہُ قَالَ خَرَجنَا لِلعُمرَہ ِ فَلَمَّا نَزَلنََا بِبَطنِ نَخلَتَہ تَرَاءَ ینَا الھِلَالَ فَقَالَ بَعضُ القَومِ ھُوَ ابنُ ثَلَاثِِِِِ وَقَالَ بَعضُ القَومِ ھُوَ ابنُ لَیلَتَینِ فَقَال َ فَلَقِینَا ابنَ عَبَاسِِ رَضِِیَ اللّٰہُ عَنھُمَا فَقُلنَا اِنَّا رَاَینَا الھِلاَلَ فَقَالَ بَعضُ الَقومِ ھُوَ ابنَ ثَلَاثِِ وَقَالَ بَعضُ القَوم ھُوَ ابنُ لَیلَتَینِ فَقَالَ اَیَّ لَیلَتہِِ رَاَیتُمُوہُ ؟ قَالَ قُلنَا لَیلَتہَ کَذَا کَذَا فَقَالَ ابنِ عَبَّاسِِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُ اِنَّ رَسُول َاللّٰہِ صلی اللَّہ علیہ وسلم قَالَ ( انَّ الٰلّٰہُ مَدَّہُ لَلرُّویَتہِ فَھُرَ لِلَیلۃٍ رَاَیتُمُوہُ ) ابو البختری (الطائی) رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ::: ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے جب نخلہ کے مقام پر پہنچے تو سب نے( نیا) چاند دیکھا ،کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ تو تیسری رات کا چاند لگتا ہے ( کیونکہ وہ بڑا نظر آ رہا تھا )کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ دوسری رات کا چاند لگتا ہے ،ہماری ملاقات عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ہم نے ان سے کہا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے کچھ لوگوں نے اسے تیسری رات کا کہا ہے اور کچھ نے دوسری رات کا ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا تم نے کون سی رات کا چاند دیکھا تھا ؟ ہم نے بتایا کہ فلاں فلاں رات دیکھا تھا تو کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے ( اللہ تعالی اس کو تمہارے دیکھنے کے لیے بڑا کر دیتا ہے) یعنی وہ اُسی رات کا چاند تھا جس رات تم نے اسے دیکھا ، کِسی اور رات کا گمان مت رکھو اور اُسی رات کو پہلی رات جان کر گنتی کرو ۔ صحیح مسلم ، حدیث١٠٨٨ / کتاب الصیام / باب٦ ۔ ::: نیا چاند دیکھنے کی دُعا ::: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہُما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تو فرمایاکرتے ( اللَّھُمَّ اھِلَّہُ عَلَینَا بِالیُمنِ وَالِایمَانِِ وَالسَّلَامۃِ وَالِاسلَامِ ، رَبَّی وَرَبُّکَ اللَّٰہ) ( اے اللہ ہم پر یہ چاند امن، اِیمان، سلامتی اور اِسلام کے ساتھ طلوع فرما ( اے چاند ) میرا اور تُمہارا رب اللہ ہے ) سلسہ الاحادیث الصحیحہ ١٨٣٤۔ اللہ تعالیٰ رمضان کا چاند ساری اُمت کے لیے امن ، اِیمان ، سلامتی اور اِسلام والا طلوع فرمائے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری والدہ شدید بیمار ہیں سب سے دُعا کی گذارش ہے ۔ السلام علیکم ورحۃُ اللہ و برکاتہُ ، عادَل سُہیل ظفر ۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماہِ رمضان اور ہم ::: 4 :::
سحری ::: فضیلت اور اہم مسائل :::: سحری کیوں کرنا چاہیئے ؟ :::: یُوں تو اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ روزہ رکھنا ہو تو سحری کے وقت کھانا بہتر ہے ، ذرا دِین داری کا خیال ہو تو کہا جاتا ہے کہ سُنّت ہے کہ سحر کے وقت کھایا جائے ، اور اگر پہلے کھا کر سو لیا جائے تو بھی کوئی خاص مُضائقہ نہیں ، آئیے ذرا اِن باتوں کا سُنّت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے ::: :::::: انس بن مالک رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تَسَحَّروا فَاِنَّ فی السَّحُورِ بَرکَۃٌ )( سحر ی کیا کرو ، کیونکہ سحری کرنے میں یقینا برکت ہے ) صحیح البُخاری/حدیث ١٩٢٣ /کتاب الصوم/باب٢٠، صحیح مُسلم حدیث ١٠٩٥ / کتاب الصیام/باب٩ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری میں برکت ہونے کی خبر دِی ہے اور اِسکو نہ چھوڑنے کی ترغیب دی ہے ، اِس لئیے یہ معاملہ مُضائقے یا غیر مُضائقے کا نہیں ، بلکہ اِس سے بڑھ کر ہے ،،، ::: کہیں آپ اُن میں سے تو نہیں جو اپنے آپ کو سحری کی برکت سے محرُوم رکھتے ہیں ؟ ::: عَمر بن العاص رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( فَصلُ مَا بَینَ صَیِامنا و صَیِام اَھلِ الکِتابِ ؛ اَکلَۃ السَّحَرِ )( ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں فرق کرنے والی چیز سحری کا کھانا ہے ) صحیح مُسلم ، حدیث ، ١٠٩٦ ۔ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے کھانے کے بارے میں فرمایا ( اِنَّھَا بَرکَۃٌ اَعطَاکُم اللَّہ ُ اِیَّاھَا ، فَلا تَدعُوہُ ) ( بے شک یہ برکت جو اللہ نے تُم لوگوں کو عطا کی ہے لہذا اسے چھوڑو نہیں ) سُنن النسائی/کتاب الصیام/باب ٢٤ ::: عبداللہ ابن عَمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ( تَسحَرُوا و لَو بِجُرعَۃِ مَاءٍ ) ( سحری ضرور کرو خواہ ایک گھونٹ پانی سے ہی کرو) صحیح ابن حبان/کتاب الصوم/باب السحور ، ::: عبداللہ ابن عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اِنَّ اللَّہ َ و الملائِکتہ ُ یَصَّلُونَ عَلیَ المُتسَحَرِینَ ) ( بے شک سحری کرنے والوں پر اللہ رحمت کرتا ہے اور اللہ کے فرشتے دُعا کرتے ہیں) صحیح ابن حبان/ کتاب الصوم/باب السحور ،سحری کا کھانا چھوڑنے والا نہ صرف اِن فائدوں سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی خلاف ورزی ، اور کافروں کی نقالی کا مُرتکب بھی ہو جاتاہے ۔ *** ذرا غور فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مُطابق مسلمانوں اور اہلِ کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوںکے روزوں میں سحری کا کھانا ہی فرق کرنے والی چیز ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کھانے کے بارے میں کتنی تاکید فرمائی ہے اور کتنی خوش خبریاں دی ہیں ، ****** کہیں آپ اُن میں سے تو نہیں جو رات گئے کھانا کھا کر لمبی تان کر سو جاتے ہیں تا کہ سحری کرنے میں نیند خراب نہ ہو ؟؟؟ سحری کی برکت بھی گئی ؛ کافر اور مسلمان کے روزے کا فرق بھی نہ رہا ؛ فجرکی نماز بھی گئی ؛ صِرف بھوکا پیاسا رہنا ہی تو روزہ نہیں !!! ::: سحری کا وقت کب تک ہے ؟ *** اللہ کا فرمان ہے ( وَکُلُوا وَ اشرَبُوا حَتَی یَتَبَیَّنَ لَکُم خَیطُ الابیضُ مِن الخَیطِ الاسودِ مِنَ الفَجرِ) (اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ فجر کے وقت میں سے تمہارے لئیے سفید دھاگہ کالے دھاگے میں سے واضح ہو جائے ) سُورت البقرہ /آیت ١٨٧ ۔ *** عدی بن حاتم رضی اللہ عنہُ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ::: یا رسول اللَّہ اِنی اجعَلُ تحت َ وسادَتی عِقالین ،عِقالاًابیض َ و عِقالاًاسودَاعرفُ اللیلَ مِن النَّھارِ فقال لہُ رسولُ اللَّہ صلی اللَّہ علیہ وسلم ( اِنَّ وَسادَتَکَ لَعَرِیضٌ، اِنَّمَا ھُوَ سَوَادُ اللَّیلِ و بَیَاضُ النَّھارِ) ::: اے اللہ کے رسول میں اپنے تکیے کے نیچے دو دھاگے رکھتا ہوں ، سفید دھاگہ اور کالا دھاگہ ، تا کہ دِن میں سے رات کو جان سکوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا ( تمہارا تکیہ بہت کُشادہ ہے ، وہ تو رات کا کالا پن اور دِن کی سُفیدی ہے ) ]] یعنی آیت سے مُراد کالے اور سفید دھاگے کا الگ الگ نظر آنا نہیں بلکہ رات اور دِن کا الگ الگ ہونا ہے ۔ صحیح مُسلم ، حدیث ١٠٩٠ ۔ *** زید بن ثابت رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے ( تَسَحَّرنَا مَع رسول ِاللَّہِ صلی اللَّہ علیہ وسلم ، ثُمَّ قُمنَا اِلیٰ الصَّلاۃِ ؛ قِیلَ ؛ کَم کان بینَھُمَا ؛ قال ؛ قدرُ خَمسِینَ آیَۃً ) ( ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی اور پھر نماز کے لئیے اُٹھے ، ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہُ سے ) پوچھا گیا ؛ نماز اور سحری کے درمیان کتنا وقت تھا ؛ اُنہوں نے جواب دِیا ؛ پچاس آیات کے برابر ) ( یعنی جتنا وقت پچاس آیات پڑہنے میںلگتا ہے ) صحیح البُخاری ، حدیث ، ١٩٢١ ، صحیح مُسلم ، حدیث ، ١٠٩٧ *** ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِذا سَمِعَ احدُکُم النِّدَاءَ وَالاِنِاءُ عَلیٰ یَدِہِ فَلا یَضَعہ ُ حَتَّی یَقضِی حاجَتَہ ُ مَنہ ُ ) ( جب تُم میں سے کوئی اذان سُنے اور کھانے کا برتن اُسکے ہاتھ میں ہو تو وہ برتن رکھے نہیں جب تک اُس میں سے اپنی ضرورت پُوری نہ کر لے ) سُنن ابو داؤد ، حدیث ، ٢٣٥٠ ، یعنی اگر سحری کھاتے کھاتے اذان شروع ہو گئی اور ابھی کھانے کی حاجت ہے تو جو کھانے کی چیز ہاتھ میں ہے اُسے چھوڑنے کی بجائے کھا لیا جائے ، لیکن اِسکا یہ مطلب ہر گِز نہیں کہ اذان سے کُچھ لمحات پہلے ہاتھوں میں چیزیں تھام لی جائیں تا کہ دیر تک کھایا جاسکے ۔ *** ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( نِعمَ سَحُورُ المؤمِن التمرُ ) ( اِیمان والے کے لئیے بہترین سحری کھجور ہے ) صحیح ابنِ حبان ، حدیث ، ٨٨٣ ، سلسلہ احادیث الصحیحہ ، حدیث ، ٥٦٢ ،سُنن ابو داؤد ، حدیث ، ٢٣٤٢ ۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ::::
: روزہ کی نیت کب اور کیسے ؟؟؟ ****** اِیمان والوں کی والدہ محترمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ، امیر المؤمنین خلیفہ دوئم بلا فصل عُمر رضی اللہ عنہُ کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ( مَن لَم یَجمَع الصَّیامَ قَبلَ الفَجرِ فَلا صیامَ لہُ ) ( جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیّت نہیں کی اُسکا روزہ نہیں ) سُنن ابو داؤد ، حدیث ، ٢٤٥٤ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں ( مَن لَم یُبَیِّتِ الصَّیامَ مِن اللَّیلِ فَلا صَیامَ لہُ) ( جس نے روزہ کی نیّت کے ساتھ رات نہیں گُزاری اُس کا روزہ نہیں ) سُنن الدارمی حدیث ١٦٩٨ ، سُنن النسائی ، احادیث ٢٣٣٠ تا ٢٣٣٩ ، اِمام الالبانی نے اِس حدیث کو صحیح قرار دِیا ، الاِرواء ُ الغلیل حدیث ، ٩١٤ ۔ عِلامہ شمس الحق عظیم آبادی نے '' عون المعبود '' میں اِس حدیث کی شرح میں اِمام الخطابی کا یہ قول نقل کیا [[ اِس حدیث میں اِس بات کی وضاحت ہے کہ جو پہلے وقت میں ہی روزے کی نیّت نہیں کرے گا اُس کا روزہ دُرست نہیں ہو گا ]] اِمام محمد بن اسماعیل الصنعانی رحمہُ اللہ نے '' سُبُلُ السَّلام '' میں اِس حدیث کی شرح میں لکھا [[ یہ حدیث اِس بات کی دلیل ہے کہ روزہ کی نیّت کے بغیر رات گُزارنے والے کا روزہ دُرست نہیں ہوتا ، اِس کا مطلب یہ ہے کہ رات کے کِسی بھی پہر میں آنے والے دِن کے روزے کی نیّت کرنا ضروری ہے ، نیّت کا پہلا وقت غرُوب کا ہے ، ،،،]] ********* یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نیّت کی جگہ دِل ہے ، کِسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اِرادہ نیّت کہلاتا ہے ، وہ کام دینی ہو یا دُنیاوی ، اِنسان کے ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی اِرادہ ہوتا ہے ، وہ اِرادہ اُس کے شعور میں ہو یا لا شعور میں ، ہوتا ضرور ہے ، عِبادت کےلئیے بھی اِسی طرح اِرادہ یا نیّت ہوتی ہے ، اِس کو الفاظ کی شکل میں ادا کرنا کِسی بھی عِبادت کے لئیے سُنّت سے ثابت نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف ہے ، لہذا یہ مت بُھولئیے کہ نہ تو روزہ رکھنے یا کھولنے کی کوئی ایسی نیّت ہے جو کہ پڑہی یا بولی جائے اور نہ ہی کِسی بھی اور عِبادت کی ، حج اور عُمرہ کا تلبیہ ایک اور چیز ہے اورنیّت اور چیز ، تلبیہ کو لفظی نیّت کہنا یا سمجھنا غلط فہمی ہے ، نیّت کرنے سے مُراد اپنے اِرادے کو حاضر کرنا اور پُختہ کرنا ہے ، اگر نیّت کرنے سے مُراد کوئی الفاظ ادا کرنا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے ہمیں نیّت کرنے کا بتایا اور اُس کرنے کا بتایااور اُس کی اہمیت کا عِلم دِیا ، ضرور الفاظ بھی سکھاتے جِن کے ذریعے نیّت کی جاتی ، مگر ہمیں سُنّت اور حدیث کے خزانوں میں صحابہ رضی اللہ عنہُم کے آثار میں ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ کی تعلیمات میں کہیں بھی کے الفاظ نہیں ملتے ، ابھی ذِکر کی گئی دونوں حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اِس بات کی واضح دلیل ہیں کہ نیّت کہنے کی نہیں کرنے کی چیز ہے کہیں اشارۃً بھی کِسی عِبادت کی کوئی نیّت کہنے کا ذِکر نہیں ، یہ طرح طرح کی نیّتں بہت بعد میں بنائی گئی ہیں ،لہذا یقینا دین کا حصہ نہیں ہے اور اللہ کے ہاں غیر مقبُول ہے براہِ مہربانی ایسے کاموں سے اپنے آپکو اور اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کو بچائیے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو جاننے اور اُس پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اُسی پر چلتے ہوئے ہمارے خاتمے فرمائے ۔ عام طور پر ایک روزے کی نیّت کے نام پر چند اِلفاظ ہمارے ہاں مشہور ہیں ، اور عجیب دُکھ کی بات ہے کہ حدیث کے طور پر مشہور ہیں ، '''' و بصومِ غَدٍ نویت مِن شھرِ َرمضان '''' جب کہ کہیں کِسی صحیح تو کیا کمزور حدیث میں بھی یہ ، یا کوئی بھی اور الفاظ نیّت کے لیے نہیں ملتے ، ہمارے جو بھائی اِن الفاظ کی تشہیر کرتے ہیں ، اُن پر شرعاً واجب ہیں کہ وہ نیّت کو الفاظ میں ادا کرنے اور پھر خاص خاص کاموں کے لیے خاص خاص نیّت کے اِلفاظ کی دلیل بھی پیش کریں ، اور اگر اُنکے پاس اِس کی کوئی دلیل نہیں اور یقینا نہیں ، تو پھر ایسی باتیں نشر کر کے اپنی اور دوسروں کی آخرت کی تباہی کا سبب بننے سے بچیں۔ اور اسی طرح افطار کی ''' دُعا ''' کے طور پر مشہور ہونے والے اِلفاظ کا بھی معاملہ کچھ عجیب ہی ہے ، اُس کا ذِکر اِنشاء اللہ تعالیٰ افطار کے موضوع میں کیا جائے گا ۔ ::::: نفلی روزے کے لیے پہلے سے نیّت کرنا ضروری نہیں ، اور نفلی روزہ کِسی بھی وقت توڑا جا سکتا ہے ::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور پوچھا (ہَل عِندَکُم شَئٍی؟)( کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ )ہم نے کہا ''نہیں '' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( فَاِنِی اِذَن صَائِم)( اچھا تو پھر میرا روزہ ہے)پھرکِسی اور دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے میں نے عرض کیا '' اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تحفے کے طور پر حیس (کاحلوہ) آیا ہے '' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اَرِینِیہِ فَلَقَد اَصبَحتُ صَائِماً ) ( تو لاؤ میں صبح سے روزے میں تھا ) اور پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلوہ کھا لیا ۔ صحیح مُسلم، حدیث ١١٥٤ ، کتاب الصیام / باب ٣٢ ::::: سحری کرنے کے لیے پاکیزگی کی حالت میں ہونا ضروری نہیں ؟؟؟ ' ابو بکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے عائشہ رضی اللہ عنھا نے بیان کیا کہ (اَشھَدُ عَلَی رَسُولِ اللّٰہ صَلی اللَّہ عَلِیہ وسلَّم اِن کانَ لَیُصبِحُ جُنَباً مِن جِمَاعٍ غَیرِ اِحتَلَام ثُمَّ یَصُومُہُ) ( میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے سبب سے نہیں بلکہ جماع کے سبب سے حالت جنابت میں صبح کرتے اور غسل کیے بغیر روزہ رکھتے)پھر ہم دونوں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے اور انہوں نے بھی یہی بات کی۔ صحیح البخاری ، حدیث ١٨٣٠ / کتاب الصوم / باب ٢٥۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اِس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں روزہ رکھ لیتے تھے اور یقینی بات ہے کہ نمازِ فجر سے پہلے غُسل فرما لیتے تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رمضان سے متعلقہ موضوعات میں دی گئی معلومات صرف چند اہم مسائل کے بارے میں ہیں ، کسی بھی قاری ( پڑھنے والے مرد و خاتون ) کے ذہن میں اگر کوئی سوال ہو تو بلا جھجک کرے ، انشا اللہ قران و ثابت شدہ سُنـت کے مطابق جواب دیا جائے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ((( فاِنما شفاء العی السوال ::: بے شک جہالت کی شفاء سوال کرنا ہے ))) صحیح الجامع الصغیر ، 4362 اور امام مجاہد کا فرمان ہے ’’’ لا یتعلم العلم المستحی و لا المکتبر ::: حیا کرنے والا اور تکبر کرنے والا علم سیکھ نہیں سکتا ))) Last edited by عادل سہیل; 28-03-08 at 06:07 PM. |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماہِ رمضان اور ہم ::: 5 :::
اِفطار ، کیوں ، کب ، اور دیگر مسائل ::::: افطاری کب کی جانی چاہئیے ؟؟؟ ::::: ***اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( وَ کُلُوا وَ اشرَبُوا حَتَی یَتَبَیَّنَ لَکُم خَیطُ الابیضُ مِن الخَیطِ الاسودِ مِنَ الفَجرِ ؛ ثُمّ اَتّمُوا الصَّیامَ اِلیٰ اللَیلِ ،،،،) ( اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ فجر میں سے تمہارے لیے سفید دھاگہ کالے دھاگے میں سے واضح ہو جائے ؛ پھر رات تک روزہ مُکمل کرو ،،،،،،) سُورت البقرہ ، آیت ، ١٨٧ ۔ *** عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِذَا اَقبَلَ اللَیلُ مِن ھٰھُنَا وَ اَدبَرَ النَّھَارُ مِن ھٰھُنَا وَ غَرَبَت الشَّمسُ فَاَفطَرَ الصَّائِمُ ) (جب رات وہاں ( یعنی سورج نکلنے والی جگہ ) سے آجائے اور دِن وہاں ( یعنی سورج غرُوب ہونے والی جگہ ) سے چلا جائے اور سورج غرُوب ہو جائے تو روزہ دار روزہ کھول لے ) صحیح البُخاری ، حدیث ، ١٩٥٤ ، صحیح مُسلم ، حدیث ، ١١٠٠، ***سہل بن سعد رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لَا یُزالُوا النَّاسُ بِخَیرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطرَ) (جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے خیر سے رہیں گے ) صحیح البُخاری ، حدیث ، ١٦ ١٩ ، صحیح مُسلم ، حدیث ، ١٠٩٨ ۔ ******جو لوگ افطار میں جلدی کرنے کی بجائے دیر کرتے ہیں اور تمام مُسلمانوں کی مخالفت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد کی روشنی میں اُن لوگوں کے بارے میں کم از کم یہ بات تو یقینی ہو جاتی ہے کہ وہ ہر گِز خیر پر نہیں ہیں ، اور یہاں بھی معاملہ فقہ کے اِختلاف کا نہیں بلکہ عقیدہ کے فساد کا ہے ، لہذا اِس سے بڑھ کر کہنے کی بھی اجازت ہے کیونکہ ، ***** ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لَا یَزالُ الدِّینُ ظَاہِراً مَا عَجَّلُ النَّاسُ الفِطرَ لِانَّ الیَھُودُ وَ النَّصَارَی یُؤَخِّرُونَ ) ( جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے دِین واضح اور غالب رہے گا ،کیونکہ یہودی اور عیسائی افطار میں دیر کرتے ہیں ) سُنن ابو داؤد ، حدیث ، ٢٣٥٠ /کتاب الصیام / باب ٢٠ ، حدیث صحیح ہے ۔ ***** اور اس حدیث کی وضاحت کے مُطابق پتہ چل جاتا ہے کہ افطار دیر سے کرنا کِن کی عادت ہے اور اب مُسلمانوں میں وہ کون لوگ ہیں جو اپنے روحانی بڑوں کی عادات کو پورا کر رہے ہیں مگر اُن کا نام لینے کی جُرات نہیں ہے اِس لئیے اپنی مُنافقت چُھپانے کے لئیے اور انجان لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیئے کہیں باطنی شریعت کا نام لیتے ہیں ، کہیں کِسی خاص فقہ کا ، کہیں کِسی خاص طریق کا پردہ کیا جاتا ہے ، مگر حقیقت یہی ہے کہ اِفطار میں تاخیر کرنا یہودیوں اور عیسائیوں کی عادت تھی اور ہے ، جو اِس عادت کو اپنائے ہوئے ہیں وہ اُنکے روحانی پیروکار ہیں خواہ اپنے آپ کو کُچھ بھی سمجھتے یا کہتے رہیں ، خود بھی دھوکے کا شکار ہو رہے ہیں اور لوگوں کے سامنے اپنے لیے طرح طرح کے نام اور القاب بنا بنا کر دھوکہ دے رہے ہیں ۔ یہ معاملہ کِسی ایک شخص کا نہیں بلکہ اَن گنت اشخاص کا ہے اور یہ عِبادت مُسلمانوں میں سے کوئی چند ایک نہیں بلکہ بہت بڑی تعداد کر رہی ہے ، اور یہ ایسی حقیقت ہے جِس کا انکار ممکن نہیں ، گو کہ عام طور انسان کا ازلی دشمن ایسی باتوں سے توجہ ہٹانے کے لیے فرقہ واریت کا نام دے اِس قِسم کی منافقت کو چھپانے کی کوشش کرواتا ہے ، لیکن ہمیں ہر ایسی چیز ،ایسے عقائد اور عِبادات جو قُران اور ثابت شدہ سُنّت کے مُطابق نہیں ، اُن کا واضح طور پر اظہار کرنا ہوتا ہے تا کہ ہمارا جو مسلمان بھائی یا بہن ایسی چیزوں کا شکار ہے تو اللہ تعالیٰ ہماری بات کو اُس کی ہدایت کا ذریعہ بنا دے اور وہ مسلمان اپنی جو صلاحیات ایسی بلا دلیل یا بغیر صحیح دلیل کی باتون پر عمل کرنے اور اُن کو نشر کرنے میں خرچ کر رہا ہے وہ اللہ کے سچے دِین کی خدمت میں خرچ ہوں ، ایسی چیزوں ( کاموں ، باتوں ، عقائد ) کے اظہار کے لیے بسا اوقات ضروری ہو جاتا ہے کہ نام بنام نشاندہی کی جائے ، اور اِس کا مقصد لوگوں کو حق و ناحق کی پہچان کروانا ہوتا ہے ،اور یہ کہ ، اگر اللہ چاہے تو ،سننے پڑھنے والوں کی غلط فہمیاں دُور ہوں اور وہ جان سکیں کہ جِسے وہ دِین سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں ، اور جِسے وہ دِین سمجھ کر اُس کی خدمت کر رہے اور اُس کی نشر و اشاعت و تبلیغ کرتے ہیں وہ دِین ہے بھی کہ نہیں؟ ::::: اِفطار کروانے کا اجر ؛؛؛ ::::: *** زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( مَن فَطَّرَ صائِماً کانَ لہُ مَثلُ اَجرِہِ غَیرَ اَنَّہُ لا یَنقُصُ مِن اَجرِ الصائِم شَیئًا ) ( جو روزہ دار کو افطار کرواتا ہے اُسکے لئیے روزہ دار کے اجر کے برابر اجر ہے اور روزہ دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی ) سُنن الترمذی حدیث ٨٠٧ ، سُنن ابن ماجہ حد یث ، ١٧٤٦ ۔ ***اگر کِسی کے پاس اِفطار کیا جائے یا کھانا کھایاجائے تو ، سُنّت کے مُطابق ، اُسکے لیے دُعا کے الفاظ یہ ہیں ::: انس رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ جب صلی اللہ علیہ وسلم کِسی کے پاس اِفطار کرتے تو کہتے ( اَفطَرَ عِندَکُم الصَّائِمُونََ وَ اَکَلَ طَعَامَکُم الاَبرارُ و صَلَّت عَلِیکُم الملائِکَۃُ ) ( روزے دار تمہارے پاس افطار کریں اور تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں ، اور فرشتے تمہارے ہاں اُترتے رہیں ) سُنن ابو داود ، حدیث ، ٣٨٤٨ ، سُنن ابن ماجہ ، حدیث ١٧٤٧ ۔ اِمام ا لالبانی نے '' آداب الزفاف / ص١٧١ '' کے حاشیے میں لکھا کہ '' یہ دُعا روزہ دار کے افطار کے لئیے خاص نہیں ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ ( افطر عندکم الصائمون ) خبر ہے بلکہ یہ کھانا کِھلانے والے کے لئیے دُعا ہے کہ اُس کے پاس روزہ دار افطار کریں تا کہ وہ اُن کا اجر حاصل کر سکے '' یہ بات تقریباً عربی کے ہر دُعائیہ فقرے میں اسی طرح ہوتی ہے ، کہ لغوی اعتبار سے ظاہری معنیٰ تو ماضی یعنی گذرے ہوئے زمانے کی خبر ہوتا ہے ، لیکن اُس کا مفہوم مستقبل یعنی آنے والے زمانے میں خواہش ہوتا ہے ، اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے اُسے ، دُعا ، بد دُعا یا محض خواہش کہا جاتا ہے ، مثلاً ، عام طور پر مر چکے مسلمانوں کے لیے'''رحمۃ اللہ علیہ'''::: لغوی معنیٰ :::اُس پر اللہ کی رحمت ہوئی ::: اور ''' رحمہُ اللہ ''' ::: لغوی معنیٰ ::: اللہ نے اُس پر رحم کِیا ::: اور ''' مرحوم، یعنی جِس پر رحمت کی گئی ''' یا ''' مغفور ، یعنی جِس کی بخشش کی گئی''' وغیرہ کہا جاتا ہے ، یہ تمام فقرے بظاہر ایسے کاموں کی خبر ہیں جو واقع ہو چکے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ، کیونکہ کِس کی مغفرت ہوئی اور کِس پر رحمت ہوئی یہ اللہ ہی جانتا ہے ، اگر اللہ کی طرف سے کِسی کے بارے میں کوئی خبر آئی ہو تو اُس کو صِرف اُسی کے لیے خبر ماننا ہو گا جِس کے لیے ہے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دِی کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اللہ پر صلاۃ کرتے ہیں ، (صلاۃ کی تشریح ایک دوسرے مضمون ''' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام ''' میں کی جا چکی ہے ) اور صبر کرنے والے اِیمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی ''صلاۃ '' ہونے کی اللہ نے خبر دی ، اور صحابہ کے بارے میں خبر دی ہے کہ اللہ اُن سے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں ، لہذا اگر اب کسی مسلمان کو ''' صلی اللہ علیہ ''' یا ''' رضی اللہ عنہُ '''کہا جائے گا تو ایسا کہنا اُس کے لیے دُعا ہو گی ، نہ کہ ایسا ہو جانے کی خبر ، عرب ہمیشہ سے فعل ماضی کے ایسے فقرے دُعا کے طور پر اِستعمال کرتے چلے آ رہے ہیں ، اور اِسلام میں بھی اِس اِستعمال کو برقرار رکھا گیا ہے ، کیونکہ مشرکین عرب اپنے تمام تر شرک کے باوجود اپنی لغت کو جانتے تھے اور ایسی غلط فہمیوں کا شکار نہیں تھے جِن کا شکار غیر عرب ہو تے ہیں ، لیکن ،،،، ہم ماضی کے فعل میں صادر ہونے والے فقروں کو خبر سمجھ کر اپنے مرنے والوں کے بارے میں بڑے عجیب عقیدے بنا لیتے ہیں ، اور اُنہیں کچھ کا کچھ بنا کر کہیں سے کہیں جا پہنچتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کرے اور ہماری اِصلاح فرمائے ، ::::: افطار کس چیز سے کرنا چاہئیے ؟؟؟ ::::: *** انس رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے ( کان رسولُ اللَّہُّ صلی اللہ علیہ وسلم یُفطِرُ عَلَی رُطَباتٍ قبل ان یُصّلِّیَ فَاِن لَم تَکُن رُطَباتٍ فَعَلیَ تَمَرَاتٍ فَاِن لَم تَکُن حَسا حَسَوَاتٍ مِن مَاءٍ ) ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے تازہ پکی رسیلی ھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے ، اگر یہ کھجوریں مُیسر نہ ہوتِیں تو کِسی بھی کھجور سے ، اور اگر وہ بھی مُیسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے ) سُنن ابو داؤد ، حدیث ، ٢٣٥٣ ،کتاب الصوم /باب ٢١ ، سُنن الترمذی ، حدیث ، ٦٩٦ ، سلسلہ الصحیحہ ، حدیث ٢٨٤٠۔ ***** اِس کے عِلاوہ کِسی اور چیز سے افطار کرنا اپنی ذاتی پسند یا عادت تو ہو سکتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت نہیں جیسا کہ کُچھ لوگ نمک سے افطار کرنے کے بارے میں اِس غلط فہمی کا شِکار ہیں کہ یہ سُنّت ہے تفصیل پھر کبھی انشاء اللہ۔ Last edited by عادل سہیل; 29-08-08 at 04:48 AM. |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ عادل صاحب اپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ اللہ اپکو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ ابھی اپ کی والدہ کی طبیعیت کیسی ہے؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گزشتہ سے پیوستہ
::::: افطاری کی دُعاء ؛؛؛ کب اور کیا ؟؟؟ ::::: ****** ابن عمر رضی اللہ عنھُما سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم افطار کیا کرتے تھے تو فرمایا کرتے تھے (ذھب الظماءُ وَ اَبتَلت العَرُوق وَ ثَبَتَ الاجر اِنشَاءَ اللَّہ) (پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر پکا ہوگیا ) سُنن ابو داؤد ، حدیث ، ٢٣٥٤ ، اِمام الالبانی رحمۃ اللہ نے اِس حدیث کو حسن قرار دِیا ، اِروا الغلیل ، حدیث ، ٩٢٠ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن الفاط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افطار کے بعد ادا کئیے جانے والے ہیں نہ کہ پہلے ، کیونکہ افطار سے پہلے نہ تو پیاس جاتی ہے ، نہ ہی رگیں تر ہوتی ہیں اور نہ ہی روزہ مُکمل ہوتا ہے کہ جِس کا اجر پکا ہو جائے ، پس یہ دُعا نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے شکر کا انتہائی خوبصورت انداز ہے ، اور اپنے اِیمان اور نیک عمل کے مطابق اللہ کی رحمت سے ثواب مل جانے کے یقین کا اظہار ہے ، کہیں کوئی دُعا نہیں ،لیکن ہم نے اِن اِلفاظ کو دُعا بنا کر بے وقت اور بے سمجھ اِستعمال کرنے کا ڈھنگ اپنا رکھا ہے ، کہ ہم لوگ اِسے روزہ کھولنے سے پہلے پڑھتے ہیں اور جو کچھ اِس میں ہے اُس کو عمل طور پر جھوٹ بناتے ہیں ، اِس کے عِلاوہ ایک دو احادیث ایسی ہیں جِن سے یہ دلیل لی جاتی ہے کہ روزہ دار کی حالتِ روزہ میں یا افطاری کے وقت دُعا قبول ہوتی ہے وہ احادیث صحیح نہیں ہیں ، سحری اور افطاری کی دُعاؤں کے موضوع پر حاصلِ کلام یہ ہے کہ اِن اوقات کے لیے کوئی خاص دُعا نہیں ہے ۔ چلتے چلتے ذرا اُن دو جملوں کا جائزہ لے لیا جائے ، جو افطاری کی دُعا کے طور پر مشہور ہیں ، ***** ( ١ ) ''' اللَّھُم لک صُمنَا ،و علیٰ رزقِکَ اَفطرنَا ، اللَّھُمَ تَقبل مِنا اِنَّکَ اَنت َ السَّمِیعُ العلِیم ''' ، اِمام ا لالبانی رحمہُ اللہ نے اِس حدیث کو ضعیف یعنی کمزور قرار دِیا ہے ، '' اِرواءَ الغلیل ، حدیث ٩١٩ '' اور ***** ( ٢ ) ''' بِسّمِ اللَّہ اللَّھُم لک صُمت ُ و علیٰ رزقِکَ اَفطرت ُ ''' حدیث ضعیف ، یعنی کمزور نا قابل حُجت ہے ، ''' الکلم الطیب للالبانی ،حدیث ١٦٦ ۔ یہ دو جملے عام طور پر افطاری کی دُعا کے طور پر مشہور ہیں ، اور دونوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں ، اب یہ فیصلہ کرنا تو قطعاً مشکل نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عِلاوہ کِسی اور کی سُنّت پر چلنے والے کہاں جائیں اور اُن کے اعمال کہاں جائیں گے ۔ السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، اگلے مضامین میں شب قدر کے بارے میں بات ہو گی انشاء اللہ ، میری والدہ کی صحت کے لیے تمام قارئین سے دُعا کی گذارش ہے ، |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ابو عمار (03-09-07), عبداللہ حیدر (11-09-08) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
عادل سہیل صاحب، ماشاءاللہ بہت خوبصورت کاوش ہے آپکی۔ اتنی مفید اور معلوماتی پوسٹ کا بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپکو اسکا اجر فرمائے اور ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, golden, فرض, پیاسا, نماز, نظر, مکمل, موقع, مسائل, معذرت, آدمی, اللہ, بھائی, ترک, تصویر, جھوٹ, جواب, حدیث, دعا, روزہ, رمضان, عورت, عمران, صحیح, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جواب: ماہ رمضان اور ہم 1::: ماہ رمضان کے فائدے ( فضیلتں)1 | عرفان حیدر | متفرقات | 1 | 26-08-08 02:07 AM |
| محمد کی میم کی فضیلتں | شاھد | اسلامی نظریہ حیات | 3 | 09-08-07 10:34 AM |