|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,894
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 641 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ سال اچھا ہے؟,,,,
ہم اپنی خامیاں اور خرابیاں قارئین کو بتاتے رہتے ہیں لیکن ایک اہم خامی بتانا اب تک بھولے ہوئے تھے کہ اکثر ضروری کام ہمیں وقت گزرنے کے بعد یاد آتے ہیں مثلاً یہی دیکھ لیجئے کہ ابھی پرانا سال ختم نہیں ہوا تھا اور ہم تہیہ کر چکے تھے کہ ایک کالم نئے سال کے بارے میں ضرور لکھیں گے لیکن بھول گئے اور جنوری2009ء کے بھی اتنے دن گزر چکے ہیں تو اب یہ کام یاد آیا ہے مگر خیر اب کیا کیا جا سکتا ہے… دراصل کچھ دنوں سے ہماری طبیعت سخت ناساز ہونے کی وجہ سے ہم کچھ مزید خبط الحواس ہوگئے ہیں۔ غالب کو بھی ہماری طرح علم نجوم سے بہت گہرا شغف تھا۔ اسی لئے انہوں نے کئی برہمنوں سے دوستیاں کر رکھی تھیں جو انہیں چپکے سے نئے سال کے بارے میں بتا دیا کرتے تھے مثلاً وہ جو غالب نے ایک مصرعہ موزوں فرمایا تھا کہ…“ اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے یہ بھی اسی دوستی کی ذیل میں آتا ہے لیکن ہمارے ساتھ مشکل یہ رہی کہ برہمن تو بڑی بات ہے کسی شودر نے بھی ہم سے دوستی نہیں کی لہٰذا ہمیں مومن خاں مومن کی طرح خود ہی علم نجوم کا ماہر بننا پڑا۔ اس سلسلے میں ہمارا مطالعہ اس قدر وسیع ہے کہ کسی بھی ہفت روزے میں وہ صفحہ ضرور پڑھتے ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے… ”یہ سال کیسا گزرے گا“۔لڑکپن میں ہم اپنا جیب خرچ جمع کرکے نئے سال کے آغاز پر شائع ہونے والی موٹی موٹی جنتریاں ضرور خریدا کرتے تھے تاکہ پورے سال کے بارے میں آگاہی ہو سکے… یہ جنتریاں کیا تھیں یوں جانئے کہ معلومات کا انمول خرانہ تھیں، قابل مصنف یعنی منجم کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ نجوم کے علاوہ بھی ساری دنیا کا علم ان میں سمو دیا جائے مثلاً آکسیجن کے فوائد اور ہائیڈروجن بم کے نقصانات، سمہ سٹہ کے مشہور چورن سے بدہضمی کا شافی علاج، کولمبس نے امریکا کیوں دریافت کیا جبکہ وہ کوئی بہترکام بھی کر سکتا تھا۔ کیا سکندراعظم سمہ سٹہ سے گزرا تھا؟ اس جنتری میں ٹرینوں کے اوقات کو خصوصی اہمیت دی گئی تھی۔ سمہ سٹہ جنکشن سے کراچی کا یکطرفہ کرایہ اور روانگی کا وقت، خانیوال سے سمہ سٹہ تک بغیر ٹکٹ آنے کا جرمانہ، لسوڑے کا اچار بنانے کی ترکیب، قطب شمالی سے سمہ سٹہ کا صحیح فاصلہ،کالی کھانسی کا یونانی علاج، سمہ سٹہ کے حاذق حکیموں کے نام اور پتے، محبوبہ کو قدموں میں لوٹ پوٹ کرانے کا نقش، سمہ سٹہ میں پیدا ہونے والی عظیم شخصیات کی مختصر سوانح عمری جس میں پہلی سوانح عمری خود مصنف کی تھی جس کے لئے جنتری کے آدھے صفحات مختص کئے گئے تھے۔ باقی صفحات میں سیاروں کا حال اور ان کی چال کا بیان تھا۔ کبھی کبھی ہم سوچتے تھے کہ علم سیارگاں میں برج تو بارہ ہیں اور دنیا کی آبادی چھ ارب نفوس پر مشتمل ہے یعنی ہر برج میں پیدا ہونے والوں کی تعداد تقریباً پچاس کروڑ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پچاس کروڑ افراد پرکسی مخصوص مہینے کے مخصوص دن ایک ہی جیسی افتاد ہی پڑے گی یا ایک ہی جیسے حالات پیش آئیں گے؟ اس جنتری میں صرف ہولناک باتیں ہی نہیں امید افزا بشارتیں بھی ہوتی تھیں مثلاً برج سرطان میں پیدا ہونے والے بیروزگار نوجوانوں کے لئے نوید تھی کہ فروری کے مہینے کے آخری دنوں میں ان کے لئے یورپ یا امریکا جانے اور وہاں بیروزگاری الاؤنس وصول کرنے کے زریں مواقع موجود ہیں… خواتین کی دلچسپی کا بھی کافی سامان تھا مثلاً برج حمل میں پیدا ہونے والی شادی شدہ خواتین اگر شوہر سے تعلقات کشیدہ نہ رکھیں تو مارچ کے وسط میں بہت امکان ہے کہ وہ ایک پیارے سے نومولود کی حامل ہوں گی مگر بچے کا نام عین سے نہ رکھیں کیونکہ اس کے بعد غین آتا ہے، فاضل مصنف نے وجہ نہیں بتائی کہ غین آ جانے سے کیا ہو جائے گا؟ اس سلسلے میں کہ نام کا پہلا حرف بہت اہمیت رکھتا ہے، انہوں نے تمام حروف تہجی کو نحوست کا باعث سمجھا تھا اور آخر میں ایک ہی حرف بچتا تھا… یعنی ”ڑے“… خواتین کے سلسلے میں ایک خوش خبری یہ بھی تھی کہ ساس سے نالاں و بیزار بہوؤں کو جلد ہی ساس کے سوئم کی تقریب میں شمولیت کا خوشگوار موقع ملے گا؟ اس جنتری میں ایسی خوش خبریاں تقریباً ہر برج کے زیراثر موجود تھیں۔ شادی ہو جانے والی خوش خبری بھی تقریباً ہر برج کے زیراثر نمایاں تھی مثلاً مشہور شخصیات میں الزبتھ ٹیلرکے بارے میں لکھا تھا کہ دو مہینوں میں ان کی تین شادیاں ہوں گی یعنی ڈیڑھ شادی فی ماہ۔ لیکن ان کے برج پر برج زحل کا اثر ہے تو یہ امکان بھی ہے کہ انہیں چار طلاقیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ہم چکرا کر رہ گئے تھے کہ تین شادیوں کے بعد چار طلاقیں کیسے ہو سکتی ہیں۔ غالباً فاضل منجم کا خیال یہ تھا کہ کوئی ہیرو احتیاطاً چوتھی طلاق اپنی طرف سے اس لئے دیدے گا کہ اسے الزبتھ ٹیلر سے شادی نہ کرنے کے لئے ایک فالتو طلاق پیشگی ضروری ہے بھلا ایسی خاتون سے شادی کا کیا فائدہ جسے شادی کرنے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ اس زمانے میں ہمیں برج زحل سے بہت ڈر لگتا تھا کیونکہ کردار کے لحاظ سے وہ خاصہ لفنگا اور جھگڑالو نظر آتا تھا یعنی پوچھے بغیرکبھی کسی برج میں داخل ہو جاتا کبھی اورکسی برج کی حدود میں بڑھکیں لگاتا تھا۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ سیارہ زہرہ اور مشتری جیسی نیک اور باحیا خواتین کے برج میں بھلا اس جیسے نامحرم کا کیا کام تھا کہ ان کے برجوں کے پھیرے لگایا کرتا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ شمس اور عقرب جیسے جیالے بھی زحل کی ان حرکات ناشائستہ پر خموشی اختیار کئے رکھتے تھے اور تو اور مریخ بھی ایک بار زحل سے مارکھا کرکوئی اعتراض کرنے سے اس قدر تائب ہو چکا تھا کہ سیاست دانوں کی طرح بولنے کے موقع پر چپ رہنے کو غنیمت جانتا تھا۔ اس جنتری میں سال بھرکے دوران چاند گرہن اور سورج گرہن ہونے کی تاریخیں بھی درج تھیں۔ آفات سماوی کا بیان بھی تھا کہ کس ملک میں کس مہینے زوردار زلزلہ آنے کا اندیشہ ہے۔ سیلابوں پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی تھی اور لکھا تھا کہ جولائی تا اگست ایک بڑے سیلاب کا خدشہ ہے جو کئی مشہور شہروں میں تباہی کا باعث ہوگا لیکن قابل صد اطمینان بات یہ ہے کہ یہ سیلاب سمہ سٹہ جنکشن کے بائی پاس تک پہنچتے ہی رخ پھیرے گا اور بخیریت گزر جائے گا۔ یہ سال اچھا ہے؟,,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان
|
|
|
|
| Wahid Mahmood کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (09-01-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سال کا تو نہیں پتہ البتہ جنتری اور برجوں کے بارے میں خاصی معلومات دی ہے موصوف نے
اچھی شیئرنگ ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | Wahid Mahmood (10-01-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, کراچی, پیارے, نقصانات،, نظر, موقع, ممکن, آبادی, انمول, جلد, حال, خواتین, خوش, خصوصی, دریافت, زلزلہ, سیاست, سیر, سورج گرہن, سال, صفحہ, صفحات, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|