|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ڈاکٹر نے پاگل خانے میں نئے آنے والے مریض کا معائنہ کیا تو وہ مریض ڈاکٹر کو دماغی صحت مند دکھائی دیا۔
ڈاکٹر۔ ’’کیوں میاں یہاں کیسے پہنچے؟‘‘ مریض(ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے) ’’ دراصل کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک بیوہ سے شادی کرلی تھی ۔ اس عورت کی ایک جوان بیٹی تھی ۔ اتفاق سے وہ لڑکی میرے باپ کو پسند آگئی ۔ میرے باپ نے اس سے نکاح کرلیا۔ یوں میری بیوی میرے باپ کی ساس بن گئی کچھ عرصہ بعد میرے باپ کے گھر بچی پیدا ہوئی یہ رشتے میں میری بہن ہوئی کیونکہ میں اس کے باپ کا بیٹا تھا۔ دوسری طرف وہ میری نواسی بھی لگتی تھی کیونکہ میں اس کی نانی کا خاوند تھا۔ گویا میں اپنی بہن کا نانا بن گیا۔ پھر کچھ مدت بعد میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ ایک طرف وہ لڑکی میرے بیٹے کی سوتیلی بہن لگتی تھی ، کیونکہ وہ بچہ اس کی ماں کا بیٹا تھا اور دوسری طرف وہ اس کی دادی بھی لگتی تھی کیونکہ وہ میری سوتیلی ماں تھی ۔ چنانچہ میرا بیٹا اپنی دادی کا بھائی بن گیا اور میں اپنے بیٹے کا بھانجا ‘‘ ڈاکٹر صاحب نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا اور چیخ کر کہا۔ ’’چپ ہو جاؤ ورنہ میں پاگل ہوجاؤں گا‘‘۔
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,984
کمائي: 56,116
شکریہ: 3,009
1,427 مراسلہ میں 3,187 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ! ہی ہی! بہتخوب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|