|
|
#16 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بالک صحیح کہا بھائی! میں خود بھی کافی کوشش کرتی ہوں۔ بچیوں کو ہوم ورک کروانے کیلئے طلحہ کو اسکے بابا کے حوالے کر دیتی ہوں تاکہ وہ اسے مصروف رکھیں اور میں پوری توجہ بچیوں کو دے سکوں۔اسکے علاوہ وہ چھوٹے ہونے کا فائدہ اٹھا جاتا ہے۔ بہنیں بھی اسکا رونا برداشت نہیں کر سکتیں۔ فوری طور پر اسکے لئے جگہ خالی کر دیتی ہیں۔ اسے بہت پیار کرتی ہیں۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | Abdul Monem Riaz (19-10-09), ایس اے نقوی (15-10-09), ابن جلال (15-10-09), رانا امر (18-10-09), شاہ جی 90 (16-10-09) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہن آپ کا لطیفہ بہت ہی اچھا ہے
بہن آپ سے ایک سوال پوچھ رہا ہو اور امید ہے کہ چھوٹا بھائی سمجھے کے معاف کردےگی بہن آپ کے دوتین جواب اوپر پڑھے تو سوال ذہن میں آگئے بہن آپ کو کبھی خیال آیا کہ آپ اپنے بچوں کا حق ان سے لے رہی ہے کیونکہ بچوں کاحق ہے کہ وہ اپنی ماں سے پوراپورا ٹائم لے شاید ان کی کتنی غلطیاں ان کی ماں سے اوچھل ہوگئی ہیں جو کل ان کی وہ غلطیاں ان کی کمزریاں بن جائے ان غلطیوںکا کون قصوروار ہو گا وہ بچے یا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ بہن ابھی اور کافی باتیں باقی ہے لیکن میں ابھی کام پرجا رہا ہوں باقی باتیں رات کو آکے لکھوں گا |
|
|
|
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#21 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہمیں اپنے بچے بہت اچھے لگتے ہیں لیکن ماں کے بغیر ایک دن میں کملا سے جاتے ہیں باپ لاکھہ چاہے ماں جیسا خیال نہیں رکھہ سکتا لیکن میرے خیال میں یہ فیصلہ بھی ماں کو ہی کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ آرام کیسے دے سکتی ہے |
|
|
|
|
|
|
#22 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#23 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری بات کہ بچوں کا اپنی ماں کے وقت پر حق۔ یہ تو بر حق ہے، لیکن کون عورت چاہے گی کہ وہ گھر میں بچوں کے ساتھ آرام سے وقت گزار سکتی ہو پھر بھی باہر کی سختیاں جھیلنے کیلئے اپنا آرام قربان کر دے اور بچوں کا وقت انہیں نہ دے۔کیا آپ باہر کی دنیا کو عورت کیلئے آسان سمجھتے ہیں؟یہ ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے کہ باہر کی دنیا میں اپنا پردہ اور احترام قائم رکھتے ہوئے روزی کما نا کتنا مشکل کام ہے۔ایک ماں جو کچھ بھی کرتی ہے اپنے بچوں کیلئے کرتی ہے۔ایک پڑھی لکھی ماں اگر اپنے بچوں کیلئے کچھ کر سکتی ہے تووہ اپنی تعلیم اور اپنے ٹیلینٹ کو گھر بیٹھے کیوں ضائع کرے۔ میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ اگر کوئی عورت اپنے گھر اور نوکری کو ایک ساتھ مینیج نہ کر سکتی ہو تو وہ نوکری نہ کرے۔ جہاں تک بچوں کے نظر سے اوجھل ہونے کا تعلق ہے تو ماؤں کی نظروں میں خاص سکینر لگے ہوتے ہیں۔ وہ وہ سب بھی دیکھ لیتی ہیں جو بچے انہیں نہیں دکھاتے۔ بہرحال یہاں بات پھر وہی مینیجمنٹ کی اتی ہے۔ میری ٹائمنگ 5 بجے تک ہے۔ بچوں کی ٹائمنگ 2 بجے تک۔وہ بیچ کا تین گھنٹے کا وقت میں نے انکے لئے فارغ نہیں چھوڑا۔ وہ اس درمیان بچیوں کے مدرسے جاتی ہیں اور دینی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ چھوٹا تو ابھی بہت چھوٹا ہےبعد کا ٹائم انکا ہے۔ میں ٹیوشن پر بھروسہ کی قائل نہیں خود انہیں پڑھاتی ہوں۔میں مانتی ہوں کہ اگر میںگھریلو خاتون ہوتی تو میری اور بچوں کی زندگی زیادہ آسان ہوتی لیکن میرے بھائی یہ حالات کا تقاضا ہے اور آجکل مجبوری بھی۔ ایک ہی بندے کے کاندھوں پر تمام بوجھ ڈالنا زیادتی ہے۔ امید ہے آپ میرا موقف سمجھ گئے ہونگے۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#24 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کچھہ تو بات یہ ہے کہ ہماری والدہ بھی ٹیچر تھیں اور زوجہ محترمہ بھی ٹیچر ہی ہیں اور ہمیں خوب اندازہ ہے کہ کن حالات میں کیسے اچھا وقت گزارا جا سکتا ہے ۔ پھر بھائی ہوں تو بہنوں کو فکر کم کم ہی ہونی چاہئیے یہ ہمارا اپنا مقولہ ہے |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ٹھیک کہا بھائی! بھائیوں کے ہوتے بہنوں کو کیا فکر؟
اب میں اپنے موقف پر بھی رائے جاننا چاہتی ہوں۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#26 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور یہی کہیں گے کہ خیالات ہمارے بھی کچھہ ایسے ہی ہیں بس ہمیں اتنے پیارے انداز میں بیان کرنا شاید ناممکن ہوتا ۔ بچوں کو کیسے مطمعن کرنا ہے یہ ایک ماں ہیبہتر جانتی ہے ، اور میری دلی دعا ہے کہ اللہ آپ کو آپ کا سارا وقت آپ کے بچوں کے ساتھہ گزارنے کا موقع خوشی ، خوشحالی اور دلی سکون کے ساتھہ عطا فرمائے آمین |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| پوسٹ, لطیفہ, نظر, مکمل, ماں, محبت, آج, اللہ, بھائی, بیوی, جھوٹ, جواب, حال, خواتین, خوش, خان, دوست, سال, سالگرہ, شوہر, شادی, شخص, عورت, عقلمند |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|