| قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net) قران پراجیکٹ http://quran.pak.net/ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | farhanshandy (29-05-11), Student (11-12-09), S_S_G_Commando (02-12-09), فرحان دانش (26-11-09), گلز (21-11-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), مرزا عامر (14-07-10), اویسی (03-06-10), بلال اویسی (14-07-10), بزم خیال (27-11-09), حسنین ایوب (25-12-09), شاہد جمیل حفیظ (25-11-09) |
| کمائي نے خرم شہزاد خرم کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 14-07-10 | بلال اویسی | کنزالایمان کا مکمل شیئر کرنے پرمجھے اجازت اتنی کمائی دینے کی ہے | 150 |
|
|
#46 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۸۰) اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵۴)
(۸۱) اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵۶) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں، (۸۲) تو جو کوئی اس (ف۱۵۸) کے بعد پھرے (ف۱۵۹) تو وہی لوگ فاسق ہیں (ف۱۶۰) (۸۳) تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱۶۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۶۲) خوشی سے (ف۱۶۳) سے مجبوری سے (ف۱۶۴) (۸۴) اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱۶۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں (۸۵) اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے، (۸۶) کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱۶۶) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱۶۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱۶۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا (۸۷) ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی، ( ۸۸) ہمیشہ اس میں رہیں ، نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۸۹) مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱۶۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۹۰) بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے، (۹۱) وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (۹۲) تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے، (۹۳) سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو(ف۱۷۳) (۹۴) تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۷۴) تو وہی ظالم ہیں، (۹۵) تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے، (۹۶) بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷۶) (۹۷) اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے (ف۱۸۱) (۹۸) تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں، (۹۹) تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸۴) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بے خبر نہیں، (۱۰۰) اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے(ف۱۸۵) (۱۰۱) اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا، (۱۰۲) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان، (۱۰۳) اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ، (۱۰۴) اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲) (۱۰۵) اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹۴) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے، (۱۰۶) جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹۶) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ، (۱۰۷) اور وہ جن کے منہ اونجالے ہوئے (ف۱۹۷) وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، (۱۰۸) یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا(ف۱۹۸) (۱۰۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے، (۱۱۰) تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر ، (۱۱۱) وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی، (۱۱۲) ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰۴) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰۶) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نا فرمانبردار اور سرکش تھے، (۱۱۳) سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹) (۱۱۴) اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں، (۱۱۵) اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱) (۱۱۶) وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳) (۱۱۷) کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱۴) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، (۱۱۸) اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱۶) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸) (۱۱۹) سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات، (۱۲۰) تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲۴) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں، (۱۲۱) اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲۶) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۲۲) جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۲۳) اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے (ف۲۲۹) تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو، (۱۲۴) جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر، (۱۲۵) ہا ں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰) (۱۲۶) اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے (ف۲۳۱) اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے (ف۲۳۲) (۱۲۷) اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے (ف۲۳۳) یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں، (۱۲۸) یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں، (۱۲۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان، (۱۳۰) اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے، (۱۳۱) اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵) (۱۳۲) اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳۶) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ ، (۱۳۳) اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے (۱۳۴) (ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں، (۱۳۵) اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲۴۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲۴۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں، (۱۳۶) ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲۴۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲۴۴) (۱۳۷) تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲۴۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲۴۶) (۱۳۸) یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے، (۱۳۹) اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ (ف۲۴۷) تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو، (۱۴۰) اگر تمہیں (ف۲۴۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲۴۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو، (۱۴۱) اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳) (۱۴۲) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی(ف۲۵۴) (۱۴۳) اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے، (۱۴۴) اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵۶) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا، (۱۴۵) اور کوئی جان بے حکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲۶۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲۶۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲۶۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں، (۱۴۶) اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲۶۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں، (۱۴۷) اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲۶۴) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲۶۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے(ف۲۶۶) (۱۴۸) تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا (ف۲۶۷) اور آخرت کے ثواب کی خوبی (ف۲۶۸) اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۴۹) اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (۲۶۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱) (۱۵۰) بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار، (۱۵۱) کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا، (۱۵۲) اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷۴) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷۶) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے، (۱۵۳) جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے، (۱۵۴) پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸۴) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے (ف۲۸۶) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے(ف۲۹۲) (۱۵۵) بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹۴) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۱۵۶) اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹۶) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے اتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۱۵۷) اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے، (۱۵۸) اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰) (۱۵۹) تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰۴) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۶۰) اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰۶) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۶۱) اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا، (۱۶۲) تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی، (۱۶۳) وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں (ف۳۱۰) اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے، (۱۶۴) بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱۴) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱۶) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے(ف۳۱۷) (۱۶۵) کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (۱۶۶) اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی، (۱۶۷) اور اس لئے کہ پہچان کرادے ، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲۴) اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ (ف۳۲۶) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے ، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں (ف۳۲۸) (۱۶۸) وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو(ف۳۳۱) (۱۶۹) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳) (۱۷۰) شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳۴) اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم، (۱۷۱) خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا(ف۳۳۶) (۱۷۲) وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے، (۱۷۳) وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳۴۰) (۱۷۴) تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳۴۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳۴۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳۴۳) (۱۷۵) وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳۴۴) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳۴۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳۴۶) (۱۷۶) اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳۴۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳۴۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے، (۱۷۷) وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳۴۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۸) اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے، (۱۷۹) اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵۴) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے |
|
|
|
|
|
#47 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۸۰) اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵۴)
(۸۱) اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵۶) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں، (۸۲) تو جو کوئی اس (ف۱۵۸) کے بعد پھرے (ف۱۵۹) تو وہی لوگ فاسق ہیں (ف۱۶۰) (۸۳) تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱۶۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۶۲) خوشی سے (ف۱۶۳) سے مجبوری سے (ف۱۶۴) (۸۴) اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱۶۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں (۸۵) اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے، (۸۶) کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱۶۶) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱۶۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱۶۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا (۸۷) ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی، ( ۸۸) ہمیشہ اس میں رہیں ، نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۸۹) مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱۶۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۹۰) بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے، (۹۱) وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (۹۲) تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے، (۹۳) سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو(ف۱۷۳) (۹۴) تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۷۴) تو وہی ظالم ہیں، (۹۵) تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے، (۹۶) بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷۶) (۹۷) اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے (ف۱۸۱) (۹۸) تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں، (۹۹) تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸۴) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بے خبر نہیں، (۱۰۰) اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے(ف۱۸۵) (۱۰۱) اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا، (۱۰۲) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان، (۱۰۳) اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ، (۱۰۴) اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲) (۱۰۵) اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹۴) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے، (۱۰۶) جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹۶) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ، (۱۰۷) اور وہ جن کے منہ اونجالے ہوئے (ف۱۹۷) وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، (۱۰۸) یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا(ف۱۹۸) (۱۰۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے، (۱۱۰) تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر ، (۱۱۱) وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی، (۱۱۲) ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰۴) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰۶) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نا فرمانبردار اور سرکش تھے، (۱۱۳) سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹) (۱۱۴) اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں، (۱۱۵) اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱) (۱۱۶) وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳) (۱۱۷) کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱۴) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، (۱۱۸) اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱۶) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸) (۱۱۹) سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات، (۱۲۰) تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲۴) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں، (۱۲۱) اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲۶) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۲۲) جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۲۳) اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے (ف۲۲۹) تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو، (۱۲۴) جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر، (۱۲۵) ہا ں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰) (۱۲۶) اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے (ف۲۳۱) اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے (ف۲۳۲) (۱۲۷) اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے (ف۲۳۳) یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں، (۱۲۸) یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں، (۱۲۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان، (۱۳۰) اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے، (۱۳۱) اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵) (۱۳۲) اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳۶) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ ، (۱۳۳) اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے (۱۳۴) (ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں، (۱۳۵) اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲۴۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲۴۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں، (۱۳۶) ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲۴۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲۴۴) (۱۳۷) تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲۴۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲۴۶) (۱۳۸) یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے، (۱۳۹) اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ (ف۲۴۷) تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو، (۱۴۰) اگر تمہیں (ف۲۴۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲۴۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو، (۱۴۱) اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳) (۱۴۲) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی(ف۲۵۴) (۱۴۳) اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے، (۱۴۴) اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵۶) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا، (۱۴۵) اور کوئی جان بے حکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲۶۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲۶۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲۶۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں، (۱۴۶) اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲۶۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں، (۱۴۷) اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲۶۴) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲۶۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے(ف۲۶۶) (۱۴۸) تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا (ف۲۶۷) اور آخرت کے ثواب کی خوبی (ف۲۶۸) اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۴۹) اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (۲۶۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱) (۱۵۰) بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار، (۱۵۱) کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا، (۱۵۲) اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷۴) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷۶) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے، (۱۵۳) جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے، (۱۵۴) پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸۴) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے (ف۲۸۶) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے(ف۲۹۲) (۱۵۵) بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹۴) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۱۵۶) اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹۶) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے اتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۱۵۷) اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے، (۱۵۸) اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰) (۱۵۹) تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰۴) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۶۰) اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰۶) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۶۱) اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا، (۱۶۲) تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی، (۱۶۳) وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں (ف۳۱۰) اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے، (۱۶۴) بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱۴) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱۶) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے(ف۳۱۷) (۱۶۵) کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (۱۶۶) اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی، (۱۶۷) اور اس لئے کہ پہچان کرادے ، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲۴) اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ (ف۳۲۶) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے ، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں (ف۳۲۸) (۱۶۸) وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو(ف۳۳۱) (۱۶۹) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳) (۱۷۰) شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳۴) اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم، (۱۷۱) خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا(ف۳۳۶) (۱۷۲) وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے، (۱۷۳) وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳۴۰) (۱۷۴) تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳۴۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳۴۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳۴۳) (۱۷۵) وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳۴۴) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳۴۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳۴۶) (۱۷۶) اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳۴۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳۴۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے، (۱۷۷) وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳۴۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۸) اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے، (۱۷۹) اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵۴) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے |
|
|
|
|
|
#48 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۸۰) اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵۴)
(۸۱) اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵۶) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں، (۸۲) تو جو کوئی اس (ف۱۵۸) کے بعد پھرے (ف۱۵۹) تو وہی لوگ فاسق ہیں (ف۱۶۰) (۸۳) تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱۶۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۶۲) خوشی سے (ف۱۶۳) سے مجبوری سے (ف۱۶۴) (۸۴) اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱۶۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں (۸۵) اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے، (۸۶) کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱۶۶) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱۶۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱۶۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا (۸۷) ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی، ( ۸۸) ہمیشہ اس میں رہیں ، نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۸۹) مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱۶۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۹۰) بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے، (۹۱) وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (۹۲) تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے، (۹۳) سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو(ف۱۷۳) (۹۴) تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۷۴) تو وہی ظالم ہیں، (۹۵) تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے، (۹۶) بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷۶) (۹۷) اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے (ف۱۸۱) (۹۸) تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں، (۹۹) تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸۴) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بے خبر نہیں، (۱۰۰) اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے(ف۱۸۵) (۱۰۱) اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا، (۱۰۲) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان، (۱۰۳) اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ، (۱۰۴) اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲) (۱۰۵) اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹۴) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے، (۱۰۶) جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹۶) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ، (۱۰۷) اور وہ جن کے منہ اونجالے ہوئے (ف۱۹۷) وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، (۱۰۸) یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا(ف۱۹۸) (۱۰۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے، (۱۱۰) تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر ، (۱۱۱) وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی، (۱۱۲) ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰۴) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰۶) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نا فرمانبردار اور سرکش تھے، (۱۱۳) سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹) (۱۱۴) اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں، (۱۱۵) اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱) (۱۱۶) وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳) (۱۱۷) کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱۴) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، (۱۱۸) اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱۶) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸) (۱۱۹) سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات، (۱۲۰) تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲۴) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں، (۱۲۱) اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲۶) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۲۲) جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۲۳) اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے (ف۲۲۹) تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو، (۱۲۴) جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر، (۱۲۵) ہا ں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰) (۱۲۶) اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے (ف۲۳۱) اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے (ف۲۳۲) (۱۲۷) اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے (ف۲۳۳) یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں، (۱۲۸) یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں، (۱۲۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان، (۱۳۰) اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے، (۱۳۱) اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵) (۱۳۲) اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳۶) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ ، (۱۳۳) اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے (۱۳۴) (ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں، (۱۳۵) اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲۴۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲۴۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں، (۱۳۶) ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲۴۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲۴۴) (۱۳۷) تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲۴۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲۴۶) (۱۳۸) یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے، (۱۳۹) اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ (ف۲۴۷) تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو، (۱۴۰) اگر تمہیں (ف۲۴۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲۴۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو، (۱۴۱) اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳) (۱۴۲) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی(ف۲۵۴) (۱۴۳) اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے، (۱۴۴) اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵۶) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا، (۱۴۵) اور کوئی جان بے حکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲۶۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲۶۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲۶۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں، (۱۴۶) اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲۶۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں، (۱۴۷) اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲۶۴) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲۶۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے(ف۲۶۶) (۱۴۸) تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا (ف۲۶۷) اور آخرت کے ثواب کی خوبی (ف۲۶۸) اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۴۹) اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (۲۶۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱) (۱۵۰) بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار، (۱۵۱) کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا، (۱۵۲) اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷۴) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷۶) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے، (۱۵۳) جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے، (۱۵۴) پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸۴) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے (ف۲۸۶) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے(ف۲۹۲) (۱۵۵) بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹۴) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۱۵۶) اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹۶) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے اتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۱۵۷) اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے، (۱۵۸) اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰) (۱۵۹) تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰۴) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۶۰) اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰۶) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۶۱) اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا، (۱۶۲) تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی، (۱۶۳) وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں (ف۳۱۰) اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے، (۱۶۴) بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱۴) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱۶) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے(ف۳۱۷) (۱۶۵) کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (۱۶۶) اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی، (۱۶۷) اور اس لئے کہ پہچان کرادے ، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲۴) اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ (ف۳۲۶) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے ، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں (ف۳۲۸) (۱۶۸) وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو(ف۳۳۱) (۱۶۹) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳) (۱۷۰) شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳۴) اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم، (۱۷۱) خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا(ف۳۳۶) (۱۷۲) وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے، (۱۷۳) وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳۴۰) (۱۷۴) تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳۴۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳۴۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳۴۳) (۱۷۵) وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳۴۴) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳۴۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳۴۶) (۱۷۶) اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳۴۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳۴۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے، (۱۷۷) وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳۴۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۸) اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے، (۱۷۹) اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵۴) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے |
|
|
|
|
|
#49 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۸۰) اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵۴)
(۸۱) اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵۶) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں، (۸۲) تو جو کوئی اس (ف۱۵۸) کے بعد پھرے (ف۱۵۹) تو وہی لوگ فاسق ہیں (ف۱۶۰) (۸۳) تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱۶۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۶۲) خوشی سے (ف۱۶۳) سے مجبوری سے (ف۱۶۴) (۸۴) اور اُسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱۶۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں (۸۵) اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے، (۸۶) کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱۶۶) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱۶۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱۶۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا (۸۷) ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی، ( ۸۸) ہمیشہ اس میں رہیں ، نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۸۹) مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱۶۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۹۰) بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے، (۹۱) وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (۹۲) تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے، (۹۳) سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوبؑ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو(ف۱۷۳) (۹۴) تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۷۴) تو وہی ظالم ہیں، (۹۵) تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے، (۹۶) بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷۶) (۹۷) اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے (ف۱۸۱) (۹۸) تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں، (۹۹) تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸۴) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بے خبر نہیں، (۱۰۰) اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے(ف۱۸۵) (۱۰۱) اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا، (۱۰۲) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان، (۱۰۳) اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ، (۱۰۴) اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲) (۱۰۵) اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹۴) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے، (۱۰۶) جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹۶) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ، (۱۰۷) اور وہ جن کے منہ اونجالے ہوئے (ف۱۹۷) وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، (۱۰۸) یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا(ف۱۹۸) (۱۰۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے، (۱۱۰) تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر ، (۱۱۱) وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی، (۱۱۲) ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰۴) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰۶) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نا فرمانبردار اور سرکش تھے، (۱۱۳) سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹) (۱۱۴) اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں، (۱۱۵) اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱) (۱۱۶) وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳) (۱۱۷) کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱۴) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، (۱۱۸) اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱۶) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸) (۱۱۹) سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات، (۱۲۰) تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲۴) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں، (۱۲۱) اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲۶) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۲۲) جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۲۳) اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے (ف۲۲۹) تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو، (۱۲۴) جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر، (۱۲۵) ہا ں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰) (۱۲۶) اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے (ف۲۳۱) اور مدد نہیں مگر اللہ غالب حکمت والے کے پاس سے (ف۲۳۲) (۱۲۷) اس لئے کہ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے (ف۲۳۳) یا انہیں ذلیل کرے کہ نامراد پھر جائیں، (۱۲۸) یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں، (۱۲۹) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان، (۱۳۰) اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳۴) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے، (۱۳۱) اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵) (۱۳۲) اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳۶) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ ، (۱۳۳) اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے (۱۳۴) (ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں، (۱۳۵) اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲۴۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲۴۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں، (۱۳۶) ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲۴۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲۴۴) (۱۳۷) تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲۴۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲۴۶) (۱۳۸) یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے، (۱۳۹) اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ (ف۲۴۷) تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو، (۱۴۰) اگر تمہیں (ف۲۴۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲۴۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو، (۱۴۱) اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳) (۱۴۲) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی(ف۲۵۴) (۱۴۳) اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے، (۱۴۴) اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵۶) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا، (۱۴۵) اور کوئی جان بے حکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲۶۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲۶۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲۶۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں، (۱۴۶) اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲۶۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں، (۱۴۷) اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲۶۴) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲۶۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے(ف۲۶۶) (۱۴۸) تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا (ف۲۶۷) اور آخرت کے ثواب کی خوبی (ف۲۶۸) اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۴۹) اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (۲۶۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱) (۱۵۰) بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار، (۱۵۱) کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا، (۱۵۲) اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷۴) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷۶) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے، (۱۵۳) جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے، (۱۵۴) پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸۴) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے (ف۲۸۶) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے(ف۲۹۲) (۱۵۵) بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹۴) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۱۵۶) اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹۶) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے اتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۱۵۷) اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے، (۱۵۸) اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰) (۱۵۹) تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰۴) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں، (۱۶۰) اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰۶) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے، (۱۶۱) اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا، (۱۶۲) تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی، (۱۶۳) وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں (ف۳۱۰) اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے، (۱۶۴) بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱۴) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱۶) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے(ف۳۱۷) (۱۶۵) کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (۱۶۶) اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی، (۱۶۷) اور اس لئے کہ پہچان کرادے ، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲۴) اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ (ف۳۲۶) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے ، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں (ف۳۲۸) (۱۶۸) وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو(ف۳۳۱) (۱۶۹) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳) (۱۷۰) شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳۴) اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم، (۱۷۱) خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا(ف۳۳۶) (۱۷۲) وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے، (۱۷۳) وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان س ے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳۴۰) (۱۷۴) تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳۴۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳۴۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳۴۳) (۱۷۵) وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳۴۴) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳۴۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳۴۶) (۱۷۶) اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳۴۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳۴۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے، (۱۷۷) وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳۴۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۸) اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے، (۱۷۹) اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵۴) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے |
|
|
|
|
|
#50 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
،
(۱۸۰) اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے، (۱۸۱) بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب، (۱۸۲) یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا، (۱۸۳) وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳) (۱۸۴) تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے (۱۸۵) ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶) (۱۸۶) بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، (۱۸۷) اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲) (۱۸۸) ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۸۹) اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۱۹۰) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶) (۱۹۱) جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، (۱۹۲) اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۱۹۳) اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱) (۱۹۴) اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا، (۱۹۵) تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے، (۱۹۶) اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵) (۱۹۷) تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا، (۱۹۸) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶) (۱۹۹) اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، (۲۰۰) اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو، سورة سورہ نساء ۔۴ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں (۱) اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، (۲) اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے (۳) ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰) (۴) اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲) (۵) اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴) (۶) اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، (۷) مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷) (۸) پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰) (۹) اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳) (۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے، (۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے، (۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے، (۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی، (۱۴) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰) (۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) (۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵) (۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹) (۱۹) اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵) (۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) (۲۱) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰) (۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳) (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۵) اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۶) اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۷) اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸) (۲۸) اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰) (۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے (۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، (۳۱) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، (۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۳۳) اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵) (۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸) (۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷) (۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے، (۳۸) اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے، (۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے، (۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے، (۴۱) تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴) (۴۲) اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵) (۴۳) اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے، (۴۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ، (۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار، (۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷) (۴۷) اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے، (۴۸) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا، (۴۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳) (۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ ، (۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں، (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵) (۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں، (۵۴) یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹) (۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲) (۵۶) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے، (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴) (۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے، (۵۹) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا، (۶۰) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰) (۶۱) اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں، (۶۲) کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳) (۶۳) ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴) (۶۴) اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷) (۶۵) تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸) (۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا (۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے، (۶۹) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ، (۷۰) یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا، (۷۱) اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو (۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا، (۷۳) اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرو ر کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا، (۷۴) تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے، (۷۵) اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے، (۷۶) ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲) (۷۷) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸) (۷۸) تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے، (۷۹) اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷) ْ (۸۰) جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا (۸۱) اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو، (۸۲) تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳) (۸۳) اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور اُن سے اُ س کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳) (۸۴) تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست) (۸۵) جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۸۶) اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱) (۸۷) ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲) (۸۸) تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳۴) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا، Last edited by خرم شہزاد خرم; 16-02-08 at 06:49 AM. |
|
|
|
|
|
#51 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
،
(۱۸۰) اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے، (۱۸۱) بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب، (۱۸۲) یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا، (۱۸۳) وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳) (۱۸۴) تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے (۱۸۵) ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶) (۱۸۶) بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، (۱۸۷) اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲) (۱۸۸) ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۸۹) اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۱۹۰) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶) (۱۹۱) جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، (۱۹۲) اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۱۹۳) اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱) (۱۹۴) اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا، (۱۹۵) تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے، (۱۹۶) اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵) (۱۹۷) تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا، (۱۹۸) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶) (۱۹۹) اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، (۲۰۰) اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو، سورة سورہ نساء ۔۴ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں (۱) اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، (۲) اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے (۳) ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰) (۴) اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲) (۵) اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴) (۶) اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، (۷) مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷) (۸) پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰) (۹) اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳) (۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے، (۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے، (۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے، (۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی، (۱۴) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰) (۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) (۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵) (۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹) (۱۹) اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵) (۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) (۲۱) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰) (۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳) (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۵) اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۶) اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۷) اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸) (۲۸) اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰) (۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے (۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، (۳۱) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، (۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۳۳) اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵) (۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸) (۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷) (۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے، (۳۸) اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے، (۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے، (۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے، (۴۱) تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴) (۴۲) اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵) (۴۳) اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے، (۴۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ، (۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار، (۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷) (۴۷) اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے، (۴۸) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا، (۴۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳) (۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ ، (۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں، (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵) (۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں، (۵۴) یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹) (۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲) (۵۶) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے، (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴) (۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے، (۵۹) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا، (۶۰) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰) (۶۱) اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں، (۶۲) کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳) (۶۳) ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴) (۶۴) اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷) (۶۵) تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸) (۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا (۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے، (۶۹) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ، (۷۰) یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا، (۷۱) اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو (۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا، (۷۳) اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرو ر کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا، (۷۴) تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے، (۷۵) اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے، (۷۶) ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲) (۷۷) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸) (۷۸) تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے، (۷۹) اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷) ْ (۸۰) جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا (۸۱) اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو، (۸۲) تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳) (۸۳) اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور اُن سے اُ س کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳) (۸۴) تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست) (۸۵) جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۸۶) اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱) (۸۷) ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲) (۸۸) تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳۴) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا، |
|
|
|
|
|
#52 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
،
(۱۸۰) اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے، (۱۸۱) بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب، (۱۸۲) یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا، (۱۸۳) وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳) (۱۸۴) تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے (۱۸۵) ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶) (۱۸۶) بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، (۱۸۷) اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲) (۱۸۸) ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۸۹) اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۱۹۰) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶) (۱۹۱) جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، (۱۹۲) اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۱۹۳) اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱) (۱۹۴) اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا، (۱۹۵) تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے، (۱۹۶) اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵) (۱۹۷) تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا، (۱۹۸) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶) (۱۹۹) اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، (۲۰۰) اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو، سورة سورہ نساء ۔۴ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں (۱) اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، (۲) اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے (۳) ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰) (۴) اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲) (۵) اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴) (۶) اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، (۷) مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷) (۸) پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰) (۹) اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳) (۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے، (۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے، (۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے، (۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی، (۱۴) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰) (۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) (۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵) (۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹) (۱۹) اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵) (۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) (۲۱) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰) (۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳) (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۵) اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۶) اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۷) اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸) (۲۸) اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰) (۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے (۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، (۳۱) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، (۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۳۳) اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵) (۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸) (۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷) (۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے، (۳۸) اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے، (۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے، (۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے، (۴۱) تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴) (۴۲) اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵) (۴۳) اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے، (۴۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ، (۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار، (۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷) (۴۷) اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے، (۴۸) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا، (۴۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳) (۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ ، (۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں، (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵) (۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں، (۵۴) یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹) (۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲) (۵۶) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے، (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴) (۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے، (۵۹) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا، (۶۰) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰) (۶۱) اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں، (۶۲) کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳) (۶۳) ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴) (۶۴) اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷) (۶۵) تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸) (۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا (۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے، (۶۹) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ، (۷۰) یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا، (۷۱) اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو (۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا، (۷۳) اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرو ر کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا، (۷۴) تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے، (۷۵) اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے، (۷۶) ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲) (۷۷) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸) (۷۸) تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے، (۷۹) اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷) ْ (۸۰) جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا (۸۱) اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو، (۸۲) تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳) (۸۳) اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور اُن سے اُ س کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳) (۸۴) تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست) (۸۵) جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۸۶) اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱) (۸۷) ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲) (۸۸) تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳۴) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا، |
|
|
|
|
|
#53 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
،
(۱۸۰) اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے، (۱۸۱) بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب، (۱۸۲) یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا، (۱۸۳) وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳) (۱۸۴) تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے (۱۸۵) ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶) (۱۸۶) بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، (۱۸۷) اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲) (۱۸۸) ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۸۹) اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۱۹۰) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶) (۱۹۱) جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، (۱۹۲) اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۱۹۳) اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱) (۱۹۴) اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا، (۱۹۵) تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے، (۱۹۶) اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵) (۱۹۷) تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا، (۱۹۸) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶) (۱۹۹) اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، (۲۰۰) اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو، سورة سورہ نساء ۔۴ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں (۱) اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، (۲) اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے (۳) ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰) (۴) اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲) (۵) اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴) (۶) اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، (۷) مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷) (۸) پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰) (۹) اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳) (۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے، (۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے، (۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے، (۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی، (۱۴) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰) (۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) (۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵) (۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹) (۱۹) اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵) (۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) (۲۱) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰) (۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳) (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۵) اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۶) اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۷) اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸) (۲۸) اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰) (۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے (۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، (۳۱) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، (۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۳۳) اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵) (۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸) (۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷) (۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے، (۳۸) اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے، (۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے، (۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے، (۴۱) تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴) (۴۲) اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵) (۴۳) اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے، (۴۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ، (۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار، (۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷) (۴۷) اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے، (۴۸) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا، (۴۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳) (۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ ، (۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں، (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵) (۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں، (۵۴) یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹) (۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲) (۵۶) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے، (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴) (۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے، (۵۹) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا، (۶۰) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰) (۶۱) اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں، (۶۲) کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳) (۶۳) ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴) (۶۴) اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷) (۶۵) تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸) (۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا (۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے، (۶۹) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ، (۷۰) یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا، (۷۱) اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو (۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا، (۷۳) اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرو ر کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا، (۷۴) تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے، (۷۵) اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے، (۷۶) ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲) (۷۷) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸) (۷۸) تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے، (۷۹) اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷) ْ (۸۰) جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا (۸۱) اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو، (۸۲) تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳) (۸۳) اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور اُن سے اُ س کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳) (۸۴) تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست) (۸۵) جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۸۶) اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱) (۸۷) ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲) (۸۸) تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳۴) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا، |
|
|
|
|
|
#54 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
،
(۱۸۰) اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے، (۱۸۱) بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب، (۱۸۲) یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا، (۱۸۳) وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳) (۱۸۴) تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے (۱۸۵) ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶) (۱۸۶) بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، (۱۸۷) اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲) (۱۸۸) ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۸۹) اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۱۹۰) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶) (۱۹۱) جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، (۱۹۲) اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۱۹۳) اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱) (۱۹۴) اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا، (۱۹۵) تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے، (۱۹۶) اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵) (۱۹۷) تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا، (۱۹۸) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶) (۱۹۹) اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، (۲۰۰) اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو، سورة سورہ نساء ۔۴ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں (۱) اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، (۲) اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے (۳) ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰) (۴) اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲) (۵) اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴) (۶) اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، (۷) مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷) (۸) پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰) (۹) اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳) (۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے، (۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے، (۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے، (۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی، (۱۴) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰) (۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) (۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵) (۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹) (۱۹) اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵) (۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) (۲۱) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰) (۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳) (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۵) اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۶) اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۷) اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸) (۲۸) اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰) (۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے (۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، (۳۱) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، (۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۳۳) اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵) (۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸) (۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷) (۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے، (۳۸) اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے، (۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے، (۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے، (۴۱) تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴) (۴۲) اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵) (۴۳) اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے، (۴۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ، (۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار، (۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷) (۴۷) اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے، (۴۸) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا، (۴۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳) (۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ ، (۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں، (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵) (۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں، (۵۴) یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹) (۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲) (۵۶) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے، (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴) (۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے، (۵۹) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا، (۶۰) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰) (۶۱) اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں، (۶۲) کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳) (۶۳) ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴) (۶۴) اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷) (۶۵) تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸) (۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا (۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے، (۶۹) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ، (۷۰) یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا، (۷۱) اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو (۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا، (۷۳) اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرو ر کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا، (۷۴) تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے، (۷۵) اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے، (۷۶) ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲) (۷۷) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸) (۷۸) تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے، (۷۹) اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷) ْ (۸۰) جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا (۸۱) اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو، (۸۲) تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳) (۸۳) اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور اُن سے اُ س کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳) (۸۴) تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست) (۸۵) جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۸۶) اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱) (۸۷) ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲) (۸۸) تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳۴) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا، |
|
|
|
|
|
#55 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
،
(۱۸۰) اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے، (۱۸۱) بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب، (۱۸۲) یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا، (۱۸۳) وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳) (۱۸۴) تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے (۱۸۵) ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶) (۱۸۶) بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، (۱۸۷) اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲) (۱۸۸) ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۸۹) اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۱۹۰) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶) (۱۹۱) جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، (۱۹۲) اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۱۹۳) اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱) (۱۹۴) اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا، (۱۹۵) تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے، (۱۹۶) اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵) (۱۹۷) تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا، (۱۹۸) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶) (۱۹۹) اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، (۲۰۰) اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو، سورة سورہ نساء ۔۴ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں (۱) اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، (۲) اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے (۳) ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰) (۴) اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲) (۵) اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴) (۶) اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، (۷) مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷) (۸) پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰) (۹) اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳) (۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے، (۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے، (۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے، (۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی، (۱۴) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰) (۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) (۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵) (۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹) (۱۹) اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵) (۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) (۲۱) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰) (۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳) (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۵) اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۶) اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۷) اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸) (۲۸) اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰) (۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے (۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، (۳۱) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، (۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۳۳) اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵) (۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸) (۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷) (۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے، (۳۸) اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے، (۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے، (۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے، (۴۱) تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴) (۴۲) اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵) (۴۳) اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے، (۴۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ، (۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار، (۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷) (۴۷) اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے، (۴۸) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا، (۴۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳) (۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ ، (۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں، (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵) (۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں، (۵۴) یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹) (۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲) (۵۶) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے، (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴) (۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے، (۵۹) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا، (۶۰) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰) (۶۱) اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں، (۶۲) کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳) (۶۳) ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴) (۶۴) اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷) (۶۵) تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸) (۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا (۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے، (۶۹) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ، (۷۰) یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا، (۷۱) اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو (۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا، (۷۳) اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرو ر کہے گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا، (۷۴) تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے، (۷۵) اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے، (۷۶) ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲) (۷۷) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو ان میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا، تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے (ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لئے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸) (۷۸) تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے (ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے، (۷۹) اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷) ْ (۸۰) جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا (۸۱) اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو، (۸۲) تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے (ف۲۱۳) (۸۳) اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں (ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور اُن سے اُ س کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲) مگر تھوڑے (۲۲۳) (۸۴) تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کڑا (زبردست) (۸۵) جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۸۶) اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱) (۸۷) ا لله کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲) (۸۸) تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے (ف۲۳۳) اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا (ف۲۳۴) ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب (ف۲۳۵) کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا، |
|
|
|
|
|
#56 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
، (۱۸۰) اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵۶) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے، (۱۸۱) بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳۶۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳۶۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب، (۱۸۲) یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا، (۱۸۳) وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آ گ کھائے (ف۳۶۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو(ف۳۶۳) (۱۸۴) تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳۶۴) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳۶۵) لے کر آئے تھے (۱۸۵) ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے(ف۳۶۶) (۱۸۶) بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳۶۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳۶۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳۶۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، (۱۸۷) اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲) (۱۸۸) ہر گز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۸۹) اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷۴) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۱۹۰) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷۶) (۱۹۱) جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، (۱۹۲) اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۱۹۳) اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱) (۱۹۴) اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا، (۱۹۵) تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گء ے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸۴) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے، (۱۹۶) اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵) (۱۹۷) تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا، (۱۹۸) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸۶) (۱۹۹) اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، (۲۰۰) اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو، سورة سورہ نساء ۔۴ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں (۱) اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، (۲) اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف۶) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے (۳) ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰) (۴) اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲) (۵) اور بے عقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱۴) (۶) اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، (۷) مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷) (۸) پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰) (۹) اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳) (۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں (ف۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے، (۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲۶) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھا ئی ہو ں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳۴) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے، (۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳۶) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے، (۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی، (۱۴) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف۴۰) (۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف۴۳) (۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف۴۴) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف۴۵) (۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف۴۶) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب م یں نے توبہ کی (ف۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف۴۹) (۱۹) اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵۴) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے(ف۵۵) (۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵۶) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) (۲۱) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں(ف۶۰) (۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی (ف۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف۶۳) (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف۶۴) اور بیٹیاں (ف۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف۶۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں (ف۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان (ف۷۴) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے (ف۷۵) نہ پانی گراتے (ف۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں (ف۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۵) اور تم میں بے مقدوری کے باعث جن کے نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں نہ ہوں تو ان سے نکاح کرے جو تمہارے ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان والی کنیزیں (ف۷۸) اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے (ف۸۰) اور حسب دستور ان کے مہر انہیں دو (ف۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف۸۲) جب وہ قید میں آجائیں (ف۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے (ف۸۴) یہ (ف۸۵) اس کے لئے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے لئے بہتر ہے (ف۸۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۶) اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے (ف۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، (۲۷) اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ (ف۸۸) (۲۸) اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے (ف۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف۹۰) (۲۹) اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ (ف۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے (۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے، (۳۱) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے (ف۹۴) تو تمہارے اور گناہ (ف۹۵) ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، (۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی (ف۹۶) مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ (ف۹۷) اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۳۳) اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا (ف۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف۹۹) اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی(ف۱۰۰) اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے (ف۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں (ف۱۰۲) جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے(ف۱۰۵) (۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو (ف۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے (ف۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف۱۰۸) (۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف۱۰۹) اور ماں باپ سے بھلائی کرو (ف۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف۱۱۲) اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (ف۱۱۳) اور کروٹ کے ساتھی (ف۱۱۴) اور راہ گیر (ف۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے (ف۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا (ف۱۱۷) (۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں (ف۱۱۸) اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائيں (ف۱۱۹) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے، (۳۸) اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں (ف۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے اللہ اور نہ قیامت پر ، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے، (۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے (ف۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے، (۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے، (۴۱) تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں (ف۱۲۳) اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں (ف۱۲۴) (۴۲) اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے ، اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے (ف۱۲۵) (۴۳) اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ (ف۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں (ف۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو (ف۱۲۹) یا تم نے عورتو ں کو چھوا (ف۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف۱۳۱) تو پاک مٹی سے تیمم کرو (ف۱۳۲) تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے، (۴۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے ایک حصہ ملا (ف۱۳۴) گمراہی مول لیتے ہیں (ف۱۳۵) اور چاہتے ہیں (ف۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے بہک جاؤ، (۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو (ف۱۳۷) اور اللہ کافی ہے والی (ف۱۳۸) اور اللہ کافی ہے مددگار، (۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے پھیرتے ہیں (ف۱۳۹) اور (ف۱۴۰) کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا اور (ف۱۴۱) سنیئے آپ سنائے نہ جائیں (ف۱۴۲) اور راعنا کہتے ہیں (ف۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے لئے (ف۱۴۵) اور اگر وہ (ف۱۴۶) کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں تو ان کے لئے بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو یقین نہیں رکھتے مگر تھوڑا (ف۱۴۷) (۴۷) اے کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے اتارا تمہارے ساتھ والی کتاب (ف۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف۱۵۰) اور خدا کا حکم ہوکر رہے، (۴۸) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے (ف۱۵۱) اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا، (۴۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے ہیں (ف۱۵۲) بلکہ اللہ جسے چاہے ستھرا کرے اور ان پر ظلم نہ ہوگا دانہ خرما کے ڈورے برابر (ف۱۵۳) (۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھا رہے ہیں (ف۱۵۴) اور یہ کافی ہے صریح گناہ ، (۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ راہ پر ہیں، (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جسے خدا لعنت کرے تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے گا (ف۱۵۵) (۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے (ف۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں، (۵۴) یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں (ف۱۵۷) اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۱۵۸) تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف۱۵۹) (۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف۱۶۰) اور کسی نے اس سے منہ پھیرا (ف۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے بھڑکتی آگ(ف۱۶۲) (۵۶) جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے، (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے جہاں سایہ ہی سایہ ہوگا (ف۱۶۴) (۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (ف۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے، (۵۹) اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں (ف۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۹) یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا، (۶۰) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے (ف۱۷۰) (۶۱) اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں، (۶۲) کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے (ف۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۷۲) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف۱۷۳) (۶۳) ان کے دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے تو تم ان سے چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے معاملہ میں ان سے رسا بات کہو (ف۱۷۴) (۶۴) اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷۶) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں(ف۱۷۷) (۶۵) تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں (ف۱۷۸) (۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف۱۷۹) تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے (ف۱۸۰) تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا (۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے، (۶۹) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (ف۱۸۱) اور صدیق (ف۱۸۲) اور شہید (ف۱۸۳) اور نیک لوگ (ف۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ، (۷۰) یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے جاننے والا، (۷۱) اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو (۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی ا |